Ayah 51:41وَفِیْ عَادٍ : یعنی قوم عاد کو ہلاک کردینے میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی چھوڑدی۔
الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ : ایسی ہوا جس میں کوئی خیر و برکت نہ ہو۔ نہ بارش کو لے کر آئے ‘ نہ درختوں کو فائدہ پہنچائے۔
یہ ہوا پچھوا تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پروا ہوا بھیج کر میری مدد کی گئی اور پچھوا ہوا سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔
Ayah 51:42کَالرَّمِیْمِ : رمیم کا لفظ رمٌّ سے مشتق ہے۔ رمٌّ کے معنی بوسیدہ ‘ فرسودہ اور ریزہ ریزہ ہوجانا۔ یعنی پچھوا ہوا جس چیز پر لگی ‘ اس کو راکھ بنا دیا (سب کو جلا ڈالا ‘ تباہ کردیا) ۔
Ayah 51:43وفی ثمود اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین
Ayah 51:44فعتوا عن امر ربھم فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون . اور ثمود کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ان سے کہا گیا اور تھوڑے دن چین کرلو سو (اس ڈرانے پر بھی) ان لوگوں نے
اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ اس (عذاب کو) دیکھ رہے تھے۔
وَفِیْ ثَمُوْدَ : یعنی قوم ثمود کو ہلاک کرنے میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) نشانیاں چھوڑی۔
اِذْ قِیْلَ لَھُمْ : یعنی جب انہوں نے اونٹنی کو قتل کردیا تو حضرت صالح نے ان سے کہا۔
تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ : یعنی اپنے گھروں میں صرف تین روز تک مزے اڑاتے رہو۔
فَعَتَوْا : یعنی انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے سرتابی کی اور صالح پر ایمان لانے اور ان کے کہے پر چلنے سے غرور کے ساتھ گریز کیا۔
فَاَخَذَتْھُمُ الصّٰعِقَۃُ : یعنی تین دن گزرنے کے بعد صاعقہ نے ان کو آپکڑا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : صاعقہؔ‘ موت ‘ ہر مہلک عذاب اور عذاب کی چیخ اور صعق کا معنی ہے آواز کی کڑک۔
وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ : اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اپنے گھروں کے اندر زمین سے چمٹ کر بیٹھ گئے۔
Ayah 51:45فما استطاعوا من قیام وما کانوا منتصرین . سو نہ تو کھڑے ہی ہو سکے اور نہ ہم سے بدلہ لے سکے۔
فَمَا اسْتَطَاعُوْا : یعنی نزول عذاب کے بعد بھاگنے کے لیے کھڑے بھی نہ ہو سکے۔ قتادہ ؓ نے کہا : زمین سے اٹھ بھی نہ سکے۔
وَمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ : یعنی عذاب سے محفوظ نہ رہ سکے یا منتصرین کا معنی ہے ‘ انتقام لینے ولے۔
Ayah 51:46وقوم نوح من قبل انھم کانوا قوما فسقین .
اور اس سے پہلے قوم نوح کو ہم ہلاک کرچکے تھے۔ بلاشبہ وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔
مِّنْ قَبْلُ : یعنی قوم لوط ‘ فرعون ‘ عاد اور ثمود سے پہلے۔
فَاسِقِیْنَ : یعنی کفر و معاصی کے مرتکب ہونے کی وجہ سے وہ راہ راست سے باہر نکل گئے تھے۔
Ayah 51:47والسمآ نبی نھا باید وانا لموسعون
اور ہم نے آسمانوں کو اپنی قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں
وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم قدرت اور طاقت والے ہیں ‘ یہ لفظ وسع سے ماخوذ ہے اور وسع کے معنی ہے طاقت۔ اللہ نے فرمایا ہے : لاَ یُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا الاَّ وُسْعَھَا۔ ضحاک نے ترجمہ کیا : ہم غنی ہیں ‘ بےاحتیاج ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم اپنی مخلوق کے لیے رزق کو وسیع کرنے والے ہیں۔ بعض علماء نے اس طرح ترجمہ کیا : ہم آسمان و زمین کے درمیان وسعت کرنے والے ہیں۔
Ayah 51:48والارض فرشنھا فنعھم الماھدون . اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایاسو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں۔
بِاَیْدٍ : قوّت سے ‘ قدرت سے۔
فَرَشْنٰھَا : ہم نے زمین کو بچھایا تاکہ لوگ اس پر سکون سے رہ سکیں۔
Ayah 51:49ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون .
اور ہم نے ہر چیز کو دو ‘ دو قسم بنایا تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید) کو سمجھو۔
زَوْجَیْن : یعنی دو صنفیں (نر و مادہ ‘ اچھا برا ‘ اونچانیچا ‘ روشن تاریک ‘ رات دن ‘ متحرک ساکن ‘ جامدنامی ‘ عقلمند بیوقوف ‘ عالم جاہل ‘ وغیرہ۔ مترجم)
میں کہتا ہوں دو صنفوں سے مراد ہیں متعدد (دو عدد مراد نہیں ہیں) اللہ نے ہر مخلوق کی ایک سے زیادہ قسمیں پیدا کیں بلکہ ہر اکائی میں بھی دو رخ رکھے ہیں۔ اچھا ‘ برا ‘ معدوم بالذات ‘ واجب بالغیر ‘ عاجز بالذات ‘ قادر بالغیر (ہر ممکن اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم ہے لیکن واجب بالغیر بھی ہے) الشی ءُ متٰی یجب لَم یوجَد : مسلّمہ مسئلہ ہے۔
اسی طرح ہر ممکن اپنی ذات کے لحاظ سے عاجز ہے ایسا کہ اپنے وجود میں بھی موجد کا محتاج ہے لیکن قادر بالغیر ہے (اس کی قدرت عارضی اور عطا کردہ ہے اور عجز ذاتی ‘ مترجم)
لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ : تاکہ تم سمجھو اور جان لو کہ تعدد (اور دوئی مترجم) ممکنات کی خصوصیت ہے ‘ واجب بالذات ہر تعدد اور انقسام سے پاک ہے ‘ اس کا وجود ناقابل عدم اور اس کی قدرت ہر کمزوری اور عجز سے پاک۔
Ayah 51:50ففروا الی اللہ انی لکم منہ نذیر مبین .
سو تم اللہ کی (توحید کی) ہی طرف دوڑو میں تمہارے (سمجھانے کے) لیے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا (ہو کر آیا) ہوں۔
یعنی ممکنات کے احوال اور واجب کی خصوصیت کو سمجھنے اور جاننے کا تقاضا ہے کہ تم ہر چیز سے منہ موڑ لو اور بھاگو اور اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کرلو۔ اسی کی محبت میں ڈوب جاؤ ‘ اسی کے احکام کی تعمیل میں غرق ہوجاؤ تاکہ ہر نقص اور شر سے آزاد ہوجاؤ اور ہر خیر وسعادت کے حامل بن کر قرب و کمال کے زینہ پر چڑھتے چلے جاؤ۔
اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہّ نَذِیْرٌ : یعنی میں اللہ کے عذاب سے تم کو ڈرا رہا ہوں ‘ اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سرکشی سے اللہ سے دوری ہوتی ہے اور اس کا غضب آتا ہے اور اس کے غضب کا نتیجہ عذاب کی شکل میں نازل ہوتا ہے۔
مُّبِیْنٌ : یعنی اللہ کی طرف سے معجزات کی روشنی میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں یا مبین کا معنی ہے کھول کر ڈرانے والا۔
Ayah 51:51ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر انی لکم منہ نذیر مبین . اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود مت قرار دو ‘ میں تمہارے واسطے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔
یعنی واجب الوجود ہونے میں یا استحقاق معبودیت میں یا مقصود اصلی اور محبوب ذاتی ہونے میں کسی کو اس کا شریک مت بناؤ۔
اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ : اس جملہ کی تکرار تاکید کیلئے ہے یا پہلے جملہ میں خواص کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا نہ کسی دوسرے سے محبت کریں ‘ نہ اپنا رخ کسی اور کی طرف کریں اور اس جملہ میں عوام کو حکم دیا کہ شرک اور گناہوں سے اجتناب رکھیں۔ کلام کی رفتار بھی اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے یعنی ہر چیز سے اگر تم فرار نہیں کرسکتے تو (کم سے کم) عبادت اور تعمیل احکام خداوندی میں تو کسی کو شریک نہ قرار دو ۔
کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون اتوا صوبہ بل ھم قوم طاغون . اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر
یا مجنون نہ کہا ہو۔ کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے ہیں (نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں۔
Ayah 51:52اسی طرح جو کافر لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا مجنون نہ کہا ہو۔ کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے ہیں نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں
کَذٰلِکَ : یعنی آپ ﷺ کی امت کے کافروں کی جو حالت اور جو قول آپ ﷺ کے ساتھ ہے ایسا ہی گزشتہ پیغمبروں کے ساتھ ان کی (کافر) امتوں کا حال اور قول رہا ہے۔
Ayah 51:53کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے ہیں نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں
اَتَوَا صَوْابِہٖ : یعنی کیا اگلے پچھلے کافر باہم اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں۔ ہمزۂ سوالیہ انکار اور تنبیہ کے لیے ہے۔
بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ : باہم وصیت کرنے سے یہ اضراب ہے یعنی ان لوگوں نے ایک دوسرے کو نصیحت نہیں کی تھی۔ ہر امت کا زمانہ الگ الگ تھا۔ باہم فاصلہ بہت تھا بلکہ خود ہی یہ سب لوگ سرکش تھے۔ ذاتی طغیان نے ان ہی سب کو سرکشی پر آمادہ کیا تھا۔ اس کلام میں رسول اللہ ﷺ کے لیے پیام تسلی ہے۔
Ayah 51:54فتول عنھم فما انت بملوم
سو آپ انکی طرف التفات نہ کیجئے اپ پر کسی طرح کا الزام نہیں
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ : یعنی جب آپ بار بار ان کو دعوت اسلام دے چکے اور انہوں نے بغض وعناد کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا تو اب ان سے جھگڑا نہ کیجئے ‘ ان کی طرف توجہ نہ کیجئے۔
فَمَا اَنْتَ بِمَلُوْمٍ : جب آپ ﷺ ان کو بقدر امکان دعوت دے چکے اور اپنی طاقت کے موافق کوشش کرچکے تو اب ان کی طرف سے روگردانی اور اعراض سے آپ قابل ملامت نہیں قرار دیئے جاسکتے۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن منیع ‘ ابن راہویہ ‘ ابن ہیثم بن کلیب نے بروایت مجاہد حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : فَتَوَلَّ عَنْھُمْ فَمَا اَنْتَ بِمَلُوْمٍ نازل ہوئی تو ہم میں سے ہر شخص کو ہلاک ہونے کا یقین ہوگیا کیونکہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو لوگوں کی طرف سے بےرخی اختیار کرنے کا حکم دے دیا ‘ اسکے بعد جب وَ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ نازل ہوئی تو ہم سب خوش اور مطمئن ہوگئے۔
ابن جریر نے لکھا ہے کہ قتادہ نے کہا ہم سے ذکر کیا گیا کہ جب آیت : فَتَوَلَّ عَنْھُمْ نازل ہوئی تو صحابہ کو اس کا نزول بڑا شاق ہوا اور انہوں نے کہا : اب وحی منقطع ہوگئی اور عذاب کا آنا یقینی ہوگیا۔ اس پر اللہ نے آیت : وَذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی ..... نازل فرمائی۔ کذا ذکر البغوی قول المفسرین .
Ayah 51:55و ذکر فان الذری تنفع للمومنین .
اور سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا ‘ ایمان والو کو (بھی) نفع دیگا۔
فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ : یعنی اللہ نے جس کے لیے ایمان مقدر کردیا ہے اس کو آپ کی نصیحت سے ضرور فائدہ پہنچے گا خواہ کافروں کے لیے مفید نہ ہو اس لیے آپ نصیحت ضرور کریں یا یہ مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں ‘ آپ کی نصیحت سے مؤمنوں کو ضرور فائدہ پہنچے گا۔ ان کی بصیرت میں اضافہ ہوگا (دِل کی روشنی بڑھے گی) ۔
Ayah 51:56فما خلقت الجن والانس الا لیعبدون . اور میں نے جن اور انسان کو اسلئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔
ایک شبہ
ظاہر آیت کا اقتضاء ہے کہ اللہ کی مراد یہی ہے کہ جن و انس اس کی طاعت کریں اور فرمانبردار ہوں اور مراد خداوندی کے خلاف کچھ ہو نہیں سکتا۔ پھر بہت سے جن و انس کیوں کفر و شرک کرتے ہیں اور کیسے نافرمان ہوسکتے ہیں۔
اس شبہ کو دور کرنے کے لیے حضرت علی ؓ نے آیت کا تفسیری ترجمہ اس طرح کیا ہے ‘ میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا ‘ مگر صرف اس لیے کہ ان کو اپنی عبادت کا حکم دوں۔ یعنی اپنے احکام کو مکلّف بناؤں۔ اسی مفہوم کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : وَمَآ اُمِرُوْٓا الاَّ لِیَعْبُدُوْا اِلٰھًا وَّاحِدًا : یعنی ان کو صرف ایک معبود کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کذا ذکر البغوی : قول علی ؓ ۔
مجاہد نے ” لیعبدون “ کا ترجمہ کیا ہے : ” لیعرفون “ مجھے پہچانیں اور کافر بھی اللہ کے وجود کو تو پہچانتے ہی ہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہ : اگر آپ ان (مشرکوں) سے دریافت کریں کہ تم کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے۔
بعض علماء نے ” لیعبدون “ کا ترجمہ کیا میرے سامنے عاجزی کریں۔ منقاد و مطیع بن جائیں۔ عبادت کا لغوی معنی ہے عاجز ہونا اور خضوع کرنا۔ یہی معنی یہاں مراد ہے کافر ہو یا مؤمن ہر مخلوق فیصلۂ خداوندی کے سامنے عاجز ہے۔ جس مقصد کے لیے جس کو پیدا کیا گیا ہے کوئی بھی اس سے سرتابی نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ خود بھی اپنی تخلیق کے مقصد سے خارج نہیں ہوسکتا۔
بعض اہل تفسیر نے کہا : عبادت سے مراد ہے اقرار توحید یعنی اپنی توحید کے لیے تمام جن و انس کو پیدا کیا۔ مؤمن تو ہر دکھ ‘ سکھ اور تکلیف و راحت میں تنہا اللہ کو پکارتا ہی ہے لیکن کافر پر بھی جب ناقابل تدبیر دکھ آتا ہے تو خدا ہی کو پکارتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ : صاحب مدارک نے کہا ہے سارے کافر بھی آخرت میں توحید کا اقرار کرلیں گے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ اِلَّا اِنْ قَالُوْا وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ : اگر کفار دنیا میں توحید کے منکر ہوں تب بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ توحید کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے (کیونکہ قیامت کے دن تو توحید کا اقرار سب ہی کرلیں گے) ۔
میں کہتا ہوں صحیح قول حضرت علی کا ہے باقی دوسرے اقوال کمزور ہیں۔ معترضین نے اپنے شبہ کو قوّت پہنچانے کے لیے ایک آیت اور ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ : ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جن و انس کو پیدا کیا ہے۔
حدیث مبارک ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کُلٌّ مَّیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ : ہر ایک کے لیے وہ کام آسان کردیا جاتا ہے (یعنی اس کام کی توفیق دی جاتی ہے) جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔
کلبی ‘ ضحاک اور سفیان ثوری ؓ نے اعتراض مذکور سے بچنے کے لیے کہا کہ آیت مذکورہ میں خاص افراد یعنی کامل طاعت والے جن و انس مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس کی قرأت سے اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس کی قراءت اس طرح ہے : مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنَِ ۔
میرے نزدیک آیت کا تفسیری صحیح مطلب اس طرح ہے : میں نے جن و انس کو (یعنی تمام جن و انس کو) عبادت کرنے کے قابل پیدا کیا۔ یعنی ہر شخص میں اداء عبادت کی صلاحیت اور استعداد پیدا کردی۔ اس تفسیر کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں ‘ باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے جانور کا بچہ صحیح وسالم پیدا ہوتا ہے کیا تم کسی چوپائے کو ناک ‘ کان کٹا (پیدا ہوتا) دیکھتے ہو پھر حضور ﷺ نے آیت : فِطْرَۃَ اللہ الَّتِیْ فِطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہ تلاوت فرمائی۔ (رواہ ابوہریرہ ؓ یہ تاویل حضرت علی ؓ کی تفسیر کے مناسب ہے۔ اس آیت کا مقتضی کافروں کی مذمت ہے کہ ان کو فطرت سلیمہ عطا کی گئی مگر انہوں نے اصل فطرت کو ضائع کردیا۔
Ayah 51:57ما ارید منھم من رزق وما ارید ان یطعمون
میں ان سے (مخلوق کو) رزق (رسانی) کی درخواست نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کچھ کھلایا کریں
مَآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ..... مقصد یہ ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں سے تعلق ایسا نہیں ہے جیسے دوسرے آقاؤں کا اپنے غلاموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ آقا چاہتے ہیں کہ ان کے غلام ان کو کما کر کھلائیں۔ ان کے مالک ہونے کی یہی غرض ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ سے کمائی کرائیں اور خود لے لیں۔ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔
بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میں بندوں سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ دو سروں کو یا خود اپنے آپ کو رزق پہنچائیں یا میری مخلوق میں سے کسی کو کھانا کھلائیں۔ اس مطلب پر ایک شبہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے طعام کی نسبت اپنی طرف کی ہے (اور فرمایا ہے ‘ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں) اور یہ نہیں فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری مخلوق میں سے کسی کو کھانا کھلائیں۔
1 س شبہ کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ مخلوق اللہ کی عیال ہے جو اللہ کی عیال کو کھانا دیتا ہے وہ گویا خدا کو دیتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے : ” اللہ فرمائے گا ‘ اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا پر تو نے مجھے کھانا نہیں دیا ‘ بندہ کہے گا : اے میرے ربّ ! میں تجھے کھانا کیسے دیتا تو تو رب العالمین ہے۔ اللہ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا پر تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا ‘ اگر تو اس کو کھانا دے دیتا تو مجھے اس کے پاس (موجود) پاتا۔ (رواہ مسلم من حدیث ابی ہریرہ ؓ
اِس حدیث کی دوسری روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے ‘ میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہیں کی ‘ میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہیں پلایا۔
میں کہتا ہوں اس قول میں خدا کی طرف رزق کی نسبت مجازی ہے اور مخلوق کو رزق دینا مبنی بر حقیقت ہے (اور اس صورت میں آیت کا معنی صحیح نہ ہوگا) اس پر یہ اعتراض وارد ہوسکتا ہے کہ اللہ نے سب لوگوں کو غریبوں کے لیے اداء زکوٰۃ کا حکم دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور اہل و عیال کو بھی کھلاؤ اور جن لوگوں کا خرچ تم پر واجب ہو ان کو بھی دو ‘ جب یہ بات ہے تو پھر یہ قول کیسے صحیح ہوگا کہ میں نہیں چاہتا کہ لوگ میری مخلوق کو کھلائیں ‘ اس اعتراض کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ زکوٰۃ کو واجب کرنے کا اصل مقصد تعمیل حکم اور فعل اداء ہے۔ رزق پہنچانا اصل مقصد نہیں ہے۔ اسلئے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک نابالغ بچے اور دیوانے کے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے (کیونکہ وہ اداء کے اہل نہیں ہیں) لیکن یہ جواب درست نہیں ہے۔ عُشر ‘ خراج ‘ باپ ‘ اولاد اور بیوی کے تمام مصارف کا اصل مقصد ہی ہے۔ بندگان خدا کو رزق پہنچانا ‘ اسلئے ان مصارف میں نیابت جاری ہوتی ہے اور بچہ کے ولی کے اداء کرنے سے یہ واجبات ادا ہوجاتے ہیں۔
Ayah 51:58ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین .
‘ اللہ خود ہی (سب کو) رزق دینے والا ‘ مضبوط قوّت والا ہے۔
ھُوَ الرَّزَّاقُ : یعنی ساری مخلوق کو اللہ ہی رزق پہنچانے والا ہے اور خود رزق سے بےنیاز ہے۔
ذُوالْقُوَّۃِ : رزق پہنچانے پر بلکہ ہر مراد پر بڑی قدرت رکھنے و الا ہے۔
اَلْمَتِیْن : بڑی قدرت والا۔
بعض علماء نے آیت مذکورہ میں لفظ قل کو محذوف قرار دیا ہے اور مطلب اس طرح بیان کیا ہے : ” اے محمد ! آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں سے رزق کا طلبگار نہیں ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کھانا کھلائیں۔ “ آیت : لَا اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا۔ اسی مضمون کی تائید کر رہی ہے۔
ایک شبہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنَِ : رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ” قُلْ “ صیغہ خطاب محذوف نہیں ہوسکتا۔
ازالہ عام محاورہ ہے کہ بادشاہ اپنے قاصد سے کہتا ہے تم جا کر کہہ دو کہ میں تم کو فلاں کام کا حکم دیتا ہوں۔ سفیر جا کر یہی کہہ دیتا ہے کہ میں تم کو فلاں کام کا حکم دیتا ہوں۔ یہ حقیقت میں بادشاہ کے قول کی نقل ہوتی ہے۔ سفیر اپنی طرف حکم دینے کی نسبت نہیں کرتا۔
Ayah 51:59فان للذین ظلموا ذنوبا مثل ذنوب اصحبھم فلا یستعجلون
سو ان ظالموں کی (سزا کی) بھی باری (علم الٰہی میں) مقرر ہے جیسے ان کے گزشتہ ہم مشربوں کی
(سزا کی) باری مقرر تھی۔ سو مجھ سے (عذاب) جلدی طلب نہ کریں۔
ظَلَمُوْا : یعنی شرک و معاصی کا ارتکاب کر کے اور فطرت سلیمہ کو ضائع کر کے اور بجائے عبادت کے جس کا ان کو مکلف کیا گیا تھا اور جس کی تخلیقی صلاحیت ان کو دی گئی تھی کفران نعمت کر کے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
ذَنُوْبًا : عذاب کا ایک حصہ۔ ذنوب کا لغوی معنی ہے بڑا ڈول۔ مجازاً مراد ہوتا ہے۔ پانی کا وہ حصہ جو ڈولوں سے پانی پلانے والے باہم تقسیم کر کے لے لیتے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے کہ ذنوب کا لغوی (حقیقی) معنی ہے حصہ۔
مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِھِمْ ۔ اصحٰبھم سے مراد ہیں گزشتہ کافر قومیں جیسے عاد ‘ ثمود ‘ قوم فرعون ‘ قوم لوط ‘ قوم نوح وغیرہ۔
فَلاَ یَستعجلون : یعنی جب کافروں کے متعلق آپ نے میری وعید سن لی تو وہ آپ کی تسلی کے لیے کافی ہے اس لیے کافروں کو عذاب جلد دینے کی مجھ سے مسلمان درخواست نہ کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافروں نے جو کہا تھا : مَتٰی ھٰذَا الْوَعَدُ اِنْ کُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ : اللہ نے اس کا یہ جواب دے دیا ‘ اس صورت میں یہ خطاب کافروں کو ہوگا۔
Ayah 51:60فویل للذین کفروا من یومھم الذین یوعدون .
یَّوْمِھِمْ : سے مراد ہے روز قیامت بعض کے نزدیک یوم بدر مراد ہے۔
الحمد اللہ سورة الذاریات کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہو 1
فشکرًا اللہ م قبل ومن بعد