Ayah 43:81قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین آپ کہہ دیجئے کہ اگر (خدائے) رحمن کے کوئی اولاد ہو تو سب
سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں۔
اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ یعنی تم سے پہلے میں اسکی عبادت کرنے والا ہوں۔ نبی خوب واقف ہے کہ اللہ کیلئے کونسا وصف زیبا ہے اور کونسی صفت نامناسب ہے اور کس کی تعظیم واجب ہے ‘ اس کا علم پیغمبر سے زیادہ کسی کو نہیں ہوسکتا ‘ پس اگر خدا کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے پیغمبر اس کی تعظیم کرتا۔ جو شخص والد کی تعظیم کرتا ہے ‘ وہ والد کی اولاد کی بھی تعظیم ضرور ہی کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اس کو بےچین کرتی ہے ‘ مجھے بھی بےچین کردیتی ہے۔
دوسری روایت میں آیا ہے : جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا ‘ رواہ البخاری عن مسعود۔
آیت میں بلیغ ترین اسلوب ادا کے ساتھ خدا کے صاحب اولاد ہونے اور (مفروضہ) اولاد کے معبود ہونے کی نفی کی گئی ہے ‘ آیت سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا (بلکہ مترشح بھی نہیں ہوتا) کہ خدا کا بیٹا ہونا جائز ہے اور خدا زادے کا معبود ہونا ممکن ہے کیونکہ محال ‘ محال کو مستلزم ہوسکتا ہے ‘ اس نظریہ کے تحت خدا کا بیٹا ہونا چونکہ محال ہے ‘ اسلئے اس کا معبود ہونا بھی ضروری الاستحالہ ہے۔ اسی طرح دوسری آیت میں آیا ہے : لَوْ کَانَ فِیْھَمَآ اٰلِھَۃٌ الاَّ اللہ لَفَسَدَتَا۔ دونوں آیتوں میں فرق یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ لَوْ ہے جو شرط و جزا دونوں کی نفی کر رہا ہے اور آیت مندرجۂ بالا میں لفظ اِنْ ہے جو محض شرط کیلئے ہے ‘ اس سے طرفین (یعنی آیت کے جزء اول اور جزء دوئم) کی نہ نفی پر دلالت ہو رہی ہے ‘ نہ اس کے خلاف (یعنی ثبوت طرفین) پر۔
آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو خدا کے صاحب اولاد ہونے کا انکار کر رہے ہیں تو اس انکار کی بنیاد کوئی ذاتی مخالفت نہیں (کہ خدا کے بیٹے سے آپ کو عناد ہو ‘ اسلئے آپ انکار کر رہے ہوں) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی خدا زادہ ہوتا تو آپ اس کا اعتراف سب سے پہلے کرتے۔
سدی نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے خیال میں اللہ کی اولاد ہے (تو ہوا کرے) میں تمام مکہ والوں سے پہلے صرف اللہ کی عبادت کرنے والا اور اس کی توحید کا قائل ہوں ‘ یعنی جیسا تم گمان کرتے ہو ‘ اس کا میں قائل نہیں ہوں۔
بعض نے کہا : عابدین کا معنی ہے آنفین (ناک چڑھانے والے) انکار کرنے والے ‘ یعنی میں تمہارے خیال کا سب سے پہلے منکر ہوں۔
بعض نے کہا : عَبَدٌ کا معنی ہے سخت غصہ۔ یعنی میں (تمہارے عقیدہ اور قول سے) سخت ناراض ہوں ‘ مجھے اس بات پر غصہ آتا ہے کہ کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جائے۔ قاموس میں ہے : عَبَدٌ سخت غصہ ‘ سخت لڑائی ‘ ندامت ‘ نفس کی ملامت ‘ حرص ‘ انکار۔ عَبِدَ بروزن فَرِحَ (باب سَمِعَ ) کے بھی یہ تمام معانی آتے ہیں۔ اس مقام کے مناسب معنی ہیں انکار اور سخت غصہ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا کہ رحمن کی کوئی اولاد نہیں ہے ‘ میں سب سے پہلے اس کی شہادت دیتا ہوں۔ یعنی اِنْ شرطیہ نہیں ہے بلکہ نافیہ ہے اور عابدین کا معنی ہے گواہی دینے والے۔
Ayah 43:82سبحن رب السموت والارض العرش عما یصفون آسمانوں کا اور زمین کا مالک جو عرش کا بھی مالک ہے ‘ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (مشرک) لوگ بیان کرتے ہیں۔
یعنی یہ بڑے اجسام اپنے طول بقاء کی وجہ سے جب ان کیفیات و لوازم سے خالی ہیں جو دوسرے (سریع التغیر چھوٹے) اجسام کی خصوصیات ہیں تو وہ اللہ جو ان سب کا خالق و موجد ہے ‘ کس طرح ان آلائفوں سے پاک نہ ہوگا۔
Ayah 43:83فذرھم یخرضوا ویلعبوا حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون پس آپ ان کو اسی شغل و تفریح میں
رہنے دیجئے ‘ یہاں تک کہ ان کو اپنے اسی دن سے سابقہ پڑجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
یَغُرْضُوْا یعنی بیہودگیوں میں گھسے رہیں۔
یَلْعَبُوْا یعنی دنیوی لہو و لعب میں مشغول رہیں۔
یَوْمَھُمْ الخ یعنی روز قیامت کو پالیں۔
آیت دلالت کر رہی ہے کہ مشرکوں کا قول جہالت اور نفس پرستی پر منبی تھا اور انکے دلوں کی سرشت میں جہالت اور باطل پرستی داخل تھی۔
Ayah 43:84وھو الذین فی السماء الہ وفی الارض الہ وھو الحکیم العلیم اور وہی ذات ہے جو آسمان میں
بھی قابل عبادت ہے اور زمین میں بھی قابل عبادت ہے اور وہی بڑی حکمت اور بڑے علم والا ہے۔
یعنی آسمان و زمین میں اسی کی عبادت کی جاتی ہے ‘ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔
الْحَکِیْمُ یعنی انتظام کائنات حکمت کے ساتھ کرنے والا اور مخلوق کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے۔ یہ دونوں لفظ ثابت کر رہے ہیں کہ اللہ ہی معبود ہے ‘ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔
Ayah 43:85وتبرک الذی لہ ملک السموت والارض وما بینھما وعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون
اور بڑا عالی شان ہے وہ (خدا) جس کی حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور ان دونوں کی درمیانی کائنات پر ہے اور اسی کو قیامت کی بھی خبر ہے اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعِۃِ یعنی قیامت برپا ہونے کا وقت اسی کو معلوم ہے۔
Ayah 43:86ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ الا من شھد بالحق وھم یعلمون اور اللہ
کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے ہیں ‘ وہ (ان کی) شفاعت کا اختیار نہیں رکھیں گے ‘ ہاں جن لوگوں نے (کلمۂ ) حق (یعنی ایمان) کا اقرار کیا تھا اور تصدیق بھی کرتے تھے (ان کو شفاعت کا اختیار ہوگا) ۔
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یعنی بت جن کو کافر پکارتے ہیں (اور ان کی پوجا کرتے ہیں) ۔
مَنْ دُوْنِہٖ اللہ کے سوا ‘ یعنی کافر جو خیال کرتے ہیں کہ بت ان کی شفاعت کریں گے ‘ ایسا نہیں ہوگا ‘ بتوں کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا۔
اِلاَّ مَنْ شَھِدَ بالْحَقِّ جو لآ الٰہ الاّ اللہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس مطلب پر استثناء منقطع ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ استثناء متصل ہو اور الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ میں ملائکہ بھی داخل ہوں کیونکہ بعض مشرک ‘ ملائکہ کو بھی پوجتے تھے اور ان کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Ayah 43:87ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یؤفکون اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ جواب دیں گے : اللہ نے ‘ پھر یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں۔
وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ یعنی ان کافروں سے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرتے ہیں ‘ اگر آپ سے دریافت کریں۔
لَیَقُوْلُنَّ اللہ یعنی بت تو خالق ہو ہی نہیں سکتے ‘ ایسا کہنا تو ممکن نہیں ‘ اسلئے وہ لامحالہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے ہم کو پیدا کیا۔
فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ یعنی جب یہ اقرار ہے کہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا تو پھر اللہ کی عبادت سے رخ موڑ کر دوسروں کی پوجا کی طرف کیسے جا رہے ہیں۔
Ayah 43:88وقیلہ یرب ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون۔ اور اس کو رسول (ا اللہ ﷺ کے کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب ! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے
Ayah 43:89فاصفح عنھم وقل سلم فسوف یعلمون تو آپ ان سے پہلو موڑ لیجئے اور کہہ دیجئے : تم کو سلام۔ عنقریب یہ جان لیں گے۔
وَقِیْلِہٖ ۔ قیلہ کا عطف السّاعۃِ پر ہے یعنی اللہ کو قیامت کا اور نبی ﷺ کے اس قول کا علم ہے کہ اے میرے رب ! مکہ کے یہ کافر ایمان نہیں لاتے۔
فَاَصْفَحْ یعنی ان کے ایمان لانے اور مؤمن ہوجانے کی آس توڑ دو ‘ ان کو ایمان کی دعوت دینے سے رخ پھیر لو۔
وَقُلْ سَلٰمٌ اور کہہ دو کہ ہمارا تم کو سلام ‘ یعنی ہمارا تمہارا کوئی رابطہ نہیں۔ ہم نے تم کو چھوڑ دیا ‘ تم ہم کو چھوڑ دو ۔
فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ عنقریب ان کو اپنے غلط اور باطل قول و عمل کی سزا مل جائے گی۔ مقاتل نے کہا : آیت جہاد نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کردیا۔
الحمد اللہ سورة الزخرف کی تفسیر 24/ربیع الاوّل بروز چہار شنبہ 1208 ھ کو ختم ہوئی
انشاء اللہ اس کے بعد سورة الدخان کی تفسیر آئے گی۔
والحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ
محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین