Ayah 43:41فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون۔ پس اگر ہم آپ کو (دشمنوں کو تباہ کرنے سے پہلے) دنیا سے اٹھا لیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں ‘
Ayah 43:42او نرینک الذی وعدنھم فانا علیھم مقتدرون
یا جس عذاب کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے (آپ کی زندگی ہی میں) ہم آپ کو دکھا دیں (تو کچھ بعید نہیں) ہم کو ان پر ہر طرح سے قدرت حاصل ہے۔
فَاِمَّا (اصل میں فَاِنْ مَا تھا ‘ اس) میں ان شرطیہ ہے اور مَا زائد برائے تاکید ‘ اسلئے نذھِبنّ میں نون تاکید ثقلیہ لانا ضروری ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو عذاب دینے سے پہلے اگر ہم آپ کو وفات دے دیں تو آپ کے بعد بلاشبہ ہم ان کو دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا کریں گے اور آخرت میں بھی ‘ یعنی آپ کچھ فکر نہ کریں ‘ ہم تو ان سے انتقام لینے والے ہی ہیں۔ اور آپ کی زندگی میں ہی ان پر عذاب موعود آجائے تو آپ کو تعجب نہ کرنا چاہئے ‘ ہم ان کو عذاب دینے پر بہرحال قدرت رکھتے ہیں ‘ یہ ہمارے قبضہ سے باہر نہیں ہیں۔ ہم جب چاہیں گے ‘ ان کو عذاب دے سکتے ہیں۔
آیت مندرجہ میں مشرکین مکہ مراد ہیں ‘ بدر کی لڑائی میں اللہ نے ان سے انتقام لے لیا۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔
حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ امت اسلامیہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تو امت مسلمہ کے درمیان آپس میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو حضور ﷺ کیلئے تکلیف دہ اور رنج کا باعث ہوتی ‘ لیکن حضور ﷺ کی وفات کے بعد امت محمدیہ شدید عذاب (باہمی جدال و قتال اور نفاق و شقاق) میں مبتلا ہوگئی۔
روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں وہ حوادث دکھا دئیے گئے جو امت کو آپ کے بعد پیش آنے والے تھے ‘ اس خواب کے بعد وقت وفات تک آپ کو کبھی خنداں وفرحاں نہیں دیکھا گیا۔
میں کہتا ہوں : شاید امام حسین کا شہید ہونا اور بنی امیہ کے آئندہ کرتوت حضور ﷺ کو خواب میں دکھا دئیے گئے تھے۔
عبدالرحمن بن مسعود عبدی کا بیان ہے کہ حضرت علی نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ کے نبی تو چلے گئے اور اللہ کا عذاب اس کے بعد دشمنوں کیلئے باقی رہ گیا۔
Ayah 43:43فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم تو آپ اس پر قائم رہئے جو آپ
کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا گیا ہے ‘ کیونکہ بلاشبہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں۔ یعنی وحی منطوق (قرآن مجید) اور غیر منطوق (جس کا مضمون وحی سے تعلق رکھتا ہو اور الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہوں) کی پابندی کیجئے اور اس پر عمل کیجئے ‘ کیونکہ آپ راہ راست پر ہیں ‘ جس میں کہیں کجی نہیں ہے۔
فَاسْتَمْسِکَ میں فَ سببیہ ہے اور جملہ کا ربط آیت انا جعلنا قراٰنا عربیًّا سے ہے ‘ دونوں کے درمیان تمام جملے معترضہ ہیں اور اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ کلام سابق کی علت ہے۔
Ayah 43:44وانہ لذکر لک ولقومک اور بلاشبہ یہ قرآن آپ کیلئے اور آپکی قوم (یعنی قریش) کیلئے عظیم الشان شرف ہے۔ 1
بغوی نے بروایت ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جب دریافت کیا جاتا کہ آپ کے بعد آپ کی بجائے کون ہوگا ؟ تو حضور ﷺ کوئی جواب نہیں دیتے تھے ‘ لیکن اس آیت کے نزول کے بعد جب آپ سے یہ بات دریافت کی تو فرمایا : یہ (جانشینی) قریش کو حاصل ہوگی۔ حضرت علی سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک دو آدمی بھی باقی ہوں گے یہ امر قریش کے ہاتھ میں ہوگا ‘ یا جب تک دو شخص یعنی مسلمان باقی ہوں یہ امر (خلافت) قریش کیلئے ہونا چاہئے۔ اول صورت میں جملہ خبریہ ہوگا اور دوسرے ترجمہ پر انشاء بصورت خبر ‘ مترجم۔
حضرت معاویہ کا بیان ہے : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ یہ امر قریش میں رہے گا۔ جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا ‘ اللہ اس کو منہ کے بل گرا دے گا ‘ جب تک وہ دین کو سیدھا رکھیں گے (یعنی دین پر قائم رہیں گے) ۔
مجاہد نے کہا : قوم سے مراد ہیں عرب ‘ قرآن عرب کی زبان میں نازل ہوا۔ عام عرب کو یہ شرف حاصل ہے ‘ پھر درجہ بدرجہ جس جس عرب میں خصوصیت بڑھتی گئی ‘ اس کیلئے شرف بھی خاص ہوتا گیا ‘ یہاں تک کہ یہ (خصوصی) شرف سب سے زیادہ قریش کو اور قریش میں بنی ہاشم کو حاصل ہوا۔
آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ شرف آپ کو اس وجہ سے حاصل ہوا کہ اللہ نے آپ کو حکمت عطا فرما دی اور آپ کی قوم یعنی مؤمنوں کو یہ شرف اس وجہ سے حاصل ہوا کہ اللہ نے ان کو (اسلام کی) ہدایت دے دی۔
وسوف تسئلون اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
یعنی قیامت کے دن تم سب سے قرآن کے متعلق باز پرس ہوگئی اور دریافت کیا جائے گا کہ قرآن کی پابندی جو تم پر لازم تھی ‘ تم نے کس قدر کی۔
Ayah 43:45وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون اور آپ ان
سب پیغمبروں سے (یعنی ان کی کتابوں سے اور تعلیم سے) جن کو آپ سے پہلے ہم نے بھیجا تھا ‘ پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے تھے کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو ؟
بغوی نے لکھا ہے : اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ آیت مذکورہ میں کن لوگوں سے دریافت کرنے کا حکم دیا گیا ہے (پیغمبروں سے یا پیغمبروں کی امتوں سے) عطاء کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو لے جایا گیا تو حضرت آدم اور آپ کی نسل میں جو انبیاء ہوئے ‘ سب کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے کیلئے بھیجا گیا۔ حضرت جبرئیل نے اذان اور اقامت کہی اور کہا : محمد ﷺ ! آگے بڑھ کر نماز پڑھاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی ‘ نماز سے فراغت کے بعد جبرئیل نے کہا : محمد ﷺ ! سل من ارسلنا قبلک من رسلنا (محمد ﷺ ! آپ سے پہلے جو انبیاء ہم نے بھیجے تھے ‘ ان سے دریافت کرو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں ‘ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
زہری ‘ سعید بن جبیر اور ابن زید کا قول بھی یہی ہے کہ شب معراج میں تمام انبیاء کو اللہ نے جمع کیا اور رسول اللہ ﷺ کو ان سے دریافت کرنے کا حکم دیا ‘ لیکن حضور ﷺ کو کوئی شک نہ تھا ‘ اسلئے آپ نے کسی سے کچھ سوال نہیں کیا۔
اکثر اہل تفسیر کا خیال ہے کہ مَنْ اَرْسَلْنَا سے پہلے اُمَم کا لفظ محذوف ہے ‘ یعنی گذشتہ انبیاء کی امتوں کے عالموں سے دریافت کرلو۔ علماءِ اُمم سے مراد ہیں وہ اہل کتاب جو ایمان لے آئے تھے (عطاء کے علاوہ) باقی تمام روایات میں حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ ‘ ضحاک ‘ سدی ‘ حسن اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں وَسْءَلِ الَّذِیْنَ اَرْسَلْنَا اِلَیْھِمْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَا (اور دریافت کرلیجئے ان لوگوں سے جن کے پاس آپ سے پہلے ہم نے اپنے پیغمبر بھیجے تھے) آیا ہے ‘ اس قرأت سے بھی حضرت ابن عباس وغیرہ کی مشہور تفسیر کی تائید ہوتی ہے۔
سوال کا مطلب (اپنے شک کا ازالہ نہیں بلکہ) مشرکین قریش کو یہ بتانا اور یقین دلانا مقصود ہے کہ ہر پیغمبر جو اللہ کی طرف سے بندوں کیلئے بھیجا گیا ‘ اس نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود قرار دینے کی ممانعت کی۔
Ayah 43:46ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا ‘ موسیٰ نے پہنچنے کے بعد کہا : میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں۔
Ayah 43:47فلما جاءھم بایتنا اذا ھم منھا یضحکون جب موسیٰ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ لوگ ان معجزات کی ہنسی بنانے لگے۔
حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کرنے سے مقصود ہے رسول اللہ ﷺ کو تسکین خاطر عطا کرنا اور کافروں کے قول لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ کو غلط قرار دینا اور حضرت موسیٰ کی دعوت توحید کو شہادت میں پیش کرنا۔
مِنْھَا یَضْحَکُوْنَ شروع میں جب فرعون اور اسکے دربار والوں نے معجزات کو دیکھا تو بغیر سوچے سمجھے ان کا مذاق اڑانے لگے۔
Ayah 43:48وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا واخذنھم بالعذاب لعلھم یرجعون اور ہم ان کو جو
نشانی دکھاتے تھے ‘ وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں۔
مِنْ اٰیَۃٍ یعنی عذاب کی نشانی جیسے کال ‘ طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ مینڈک ‘ خون وغیرہ۔ یہ سب حضرت موسیٰ کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔
مِنْ اُخْتِھَا یعنی اپنی ساتھ والی سابق نشانی سے بڑی ‘ مطلب یہ ہے کہ ہر معجزہ اعجاز کی چوٹی پر پہنچا ہوا تھا۔ ہر معجزہ کو دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ پہلے معجزہ سے بڑا ہے کیونکہ ہر معجزہ انتہائی بڑا تھا ‘ جیسے ایک شاعر کا شعر ہے
مَنْ تَلْقَ مِنْھُمْ فَقَدْ لاَ قَیْتَ سَیِّدَھُمْ
مثْلَ النُّجُوْمِ الَّتِیْ یَسْرِیْ بِھَا السَّارِیْ
ان میں سے جس سے تمہاری ملاقات ہو ‘ تم یہی سمجھو گے کہ ان کے سردار سے ملاقات ہوئی (یعنی ہر ایک کے اندر سرداری کے اوصاف کامل طور پر موجود ہیں) جیسے ستارے جن کی روشنی میں رات کا راہی چلتا ہے (اور ہر ستارہ اس کو دوسرے سے بڑھ چڑھ کر روشنی بخش دکھائی دیتا ہے) یا یوں کہا جائے کہ ہر معجزہ کی نوعیت اور خصوصیت دوسرے معجزہ سے ممتاز تھی۔
اَخَذْنَاھُمْ یعنی فرعونیوں کو ہم نے پکڑا۔ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ تاکہ وہ کفر سے لوٹ آئیں۔
Ayah 43:49وقالوا یا یہ السحر ادع لنا ربک بما عھد عندک اننا لمھتدون اور انہوں نے کہا : اے جادوگر !
اپنے رب سے وہ بات طلب کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے۔ ہم ضرور راہ پر آئیں گے۔
فرعونیوں نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ دعا کر کے عذاب کو ان سے دور کرا دیں اور لالچ یہ دیا کہ ہم آپ کی ہدایت پر چلیں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے ‘ لیکن اس (مجبوری کی) درخواست کے بعد بھی نبی نہیں کہا بلکہ حسب سابق جادوگر ہی کہا ‘ کیونکہ انکے دلوں میں کفر بھرا ہوا تھا اور انتہائی حماقت ان پر مسلط تھی (گویا وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ موسیٰ بڑا جادوگر ہے اور ہم مقابلہ سے عاجز ہیں۔ اگر اس نے عذاب کو ہمارے سروں سے دور کردیا تو ہم اسکا بڑا جادوگر ہونا مان لیں گے اور اسکے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں گے ‘ مترجم) ۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ تعظیم و توقیر کیلئے انہوں نے حضرت موسیٰ کو جادوگر کہا تھا ‘ کیونکہ انکے نزدیک جادو ایک عظیم الشان علم تھا ‘ گویا انہوں نے یوں کہا : اے عالم کامل اور ماہر علم۔
میرے نزدیک یہ تفسیر صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے معجزات کو سحر قرار دیا تھا اور حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں کہا تھا : اتقولون لحق لمّا جآئکم اسحر ھٰذا۔ ولا یفلح السّٰحرون۔
بعض نے کہا کہ یٰایھا الساحر کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اے وہ شخص جو جادو کے زور سے ہم پر غالب آگیا ہے (یہ مطلب اول مطلب کے قریب ہے) ۔
اُدْعُ لَنَا رَبَّکَ یعنی عذاب دور کرنے کی اپنے رب سے دعا کیجئے۔
بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ یعنی تم نے ہم سے کہا ہے کہ تم اگر دعا کرو گے تو تمہارا رب عذاب کو دور کر دے گا۔ اس نے تم سے اسکا وعدہ کرلیا ہے۔
اِنَّنَا لَمُھْتَدُوْنَ یعنی تمہاری دعا سے اگر عذاب دور ہوگیا تو ہم تمہاری ہدایت پر ضرور چلیں گے۔
حضرت موسیٰ نے دعا کی اور عذاب قبطیوں کے سروں سے ٹل گیا۔
Ayah 43:50فلما کشف علیھم العذاب اذا ھم ینکثون پھر جونہی ہم نے ان سے عذاب دور کردیا ‘ تب ہی انہوں
نے (اپنا) عہد توڑ دیا۔
یعنی حضرت موسیٰ کی دعا سے جب اللہ نے عذاب دور کردیا تو یکدم انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ توڑ دیا اور کفر پر جمے رہے۔
Ayah 43:51ونادی فرعون فی قومہ قال یقوم الیس لی ملک مصر وھذہ الانھر تجری من تحتی
افلا تبصرون اور فرون نے اپنی قوم میں منادی کرائی ‘ یہ بات کہی کہ اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت اور یہ نہریں جو میرے (محلات کے) نیچے بہہ رہی ہیں ‘ میری نہیں ہیں ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟
یعنی عذاب دور ہونے کے بعد فرعون نے قوم کے مجمع میں پکار کر کہا ‘ کیونکہ اسکو اندیشہ پیدا ہوا کہ کوئی شخص ایمان نہ لے آئے۔
وَھٰذِہِ الْاَنْھَار نیل سے متعدد نہریں نکلتی تھیں ‘ جن میں چار بڑی تھیں : نہر شاہی ‘ نہر طولون ‘ نہر دمیاط ‘ نہر تینس۔
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ یعنی میرے محلات کے نیچے جاری ہیں ‘ یا میرے زیر حکم بہہ رہی ہیں ‘ یا میرے سامنے باغوں میں جا رہی ہیں۔ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھ رہے ہو ؟
Ayah 43:52ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں جو حقیر ‘ ذلیل ہے اور
(اپنا مدعیٰ ) واضح طور پر بیان بھی نہیں کرسکتا۔
مَھِیْنٌ۔ مہانت سے مشتق ہے ‘ مہانت کا معنی ہے قلت ‘ اس سے مراد ہے حقیر ‘ کمزور ‘ ذلیل ‘ جو سردار ہونے کا اہل نہیں ہے۔
حضرت موسیٰ کی زبان صاف نہیں تھی ‘ توتلے تھے۔ آپ نے دعا کی تھی : اے اللہ ! میری زبان کی گرہ کھول دے کہ لوگ میری بات سمجھیں۔ دعا سے زبان کچھ کھل گئی (اتنی کہ لوگ بات سمجھنے لگے) پھر بھی کچھ بندش رہ گئی ‘ اسی کو فرعون نے نقص اور عیب قرار دیا۔ اَمْ منقطعہ ہے ‘ اس کے اندر ہمزۂ استفہام کا معنی ہے اور استفہام تقریری ہے (یعنی میں بہتر ہوں) ۔
بغوی نے لکھا ہے : اکثر مفسرین کے نزدیک اَمْ بمعنی بَلْ ہے۔ فراء کے نزدیک اَمْ متصلہ ہے اور اس پر وقف ہے اور کلام کا کچھ حصہ پوشیدہ ہے ‘ یعنی کیا تم یہ نہیں دیکھتے یا دیکھتے ہو ‘ اس صورت میں اَمْ کے بعد جدید کلام شروع ہوتا ہے۔ مسبب کو سبب کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ آیت کا معنی اس طرح ہوگا : تم جانتے ہو کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ بہتر ہونے کا علم مسبب ہے اور دیکھنا اسکا سبب ہے ‘ گویا یوں فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتے ‘ یا دیکھتے ہو اور دیکھنے کے بعد جانتے ہو کہ میں اس سے بہتر ہوں۔
Ayah 43:53فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین تو سونے کے کنگن اس پر کیوں
نہیں ڈالے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ پرا باندھ کر آئے ہوتے۔
مجاہد نے کہا : اہل مصر کا دستور تھا کہ جب کسی شخص کو اپنا سردار بناتے تھے تو اس کو سونے کے کنگن اور طوق پہناتے تھے۔ سردار ہونے کی یہ علامت تھی ‘ اسی لئے فرعون نے کہا کہ موسیٰ کے رب نے جب موسیٰ کو واجب الاطاعت سردار بنایا ہے تو اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے۔
اَوْجَآءَ مَعَہُ الْمَلآءِکَۃُ مُقْرِنِیْنَ ۔ مقرنین پے در پے ‘ یعنی موسیٰ کے ساتھ پے در پے ملائکہ کیوں نہیں آئے جو موسیٰ کی تصدیق اور مدد کرتے۔
Ayah 43:54فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین غرض اس نے (ایسی باتیں کر کے) اپنی قوم کو مغلوب کردیا اور وہ اس کے کہنے میں آگئے اور وہ لوگ کچھ پہلے ہی بدکار تھے۔
اسْتَخَفَ قَوْمَہٗ اپنی قوم یعنی قبطیوں کو جاہل پایا ‘ ان کو سبک سر اور جاہل ہونے پر آمادہ کیا۔ استخفاف رائے ‘ کسی کی رائے کو غلط بنانا اور صحیح راستہ سے ہٹا دینا۔ بعض علماء نے کہا : فرعون نے قوم سے اپنی اطاعت میں خفت (اور تیزی) کی خواہش کی ‘ چناچہ موسیٰ سے جو لوگوں نے ایمان کا وعدہ کیا تھا ‘ فرعون کے حکم کو مان کر اس وعدہ کو توڑ دیا۔
اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ بلاشبہ وہ سب فاسق تھے ‘ اسلئے انہوں نے فاسق کی اطاعت کی۔
Ayah 43:55فلما اسفونا انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین پھر جب انہوں نے ہم کو سخت غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو (نیل میں) ڈبو دیا۔
اٰسَفُوْنَا یعنی جب عناد اور نافرمانی میں وہ حد سے بڑھ گئے تو ان کی نافرمانی نے ہم کو غضبناک کردیا۔ اَسِفَ فُلاَنٌ فلاں شخص سخت غضبناک ہوگیا۔
Ayah 43:56فجعلنھم سلفا ومثلا للاخرین اور ہم نے ان کو آئندہ لوگوں کیلئے خاص طور پر سلف اور نمونۂ عبرت بنا دیا۔
سَلَفَ مصدر ہے ‘ یا سالِفٌ کی جمع ہے ‘ جیسے خدم ‘ خادم کی جمع ہے ‘ یعنی ہم نے ان کو متقدم بنا دیا تاکہ پچھلے لوگ ان سے نصیحت اندوز ہوں اور بعد والے لوگوں کیلئے وہ عبرت ہوجائیں۔
بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے : ہم نے ان کو اس امت کے کافروں کیلئے دوزخ کی جانب پیشرو بنا دیا اور جو لوگ ان کے بعد باقی رہے ‘ ان کیلئے عبرت و نصیحت کردیا۔ بعض نے کہا : مثلاً سے مراد یہ ہے کہ ان کے عجیب واقعہ کو کہاوت بنا دیا کہ کہاوت کی طرح اس کو بیان کیا جاتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے : تمہاری حالت ایسی ہے جیسے قوم فرعون کی۔
امام احمد نے صحیح سند سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے فرمایا تھا : اللہ کے سوا جس کسی کی پوجا کی جاتی ہے ‘ اس میں کوئی خیر نہیں۔ قریش نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰ نبی اور عبد صالح تھے اور (یہ ظاہر ہے کہ) ان کی پوجا کی جاتی ہے (تو کیا عیسیٰ میں کوئی خیر نہیں تھی) اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
Ayah 43:57ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون اور جب (عیسیٰ ) ابن مریم کے متعلق ایک عجیب
مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے) چلانے لگے۔
یعنی جب قریش نے عیسیٰ کا بطور مثال ذکر کیا۔ ابن مردویہ نے اور ضیاء نے مختار میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عبد اللہ بن زبعری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد ﷺ ! آپ کا خیال ہے کہ اللہ نے (آیت) اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ آپ پر نازل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! ابن زبعری نے کہا : تو چاند ‘ سورج اور ملائکہ اور عزیر کی پوجا کی جاتی ہے ‘ یہ سب بھی ہمارے معبودوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس پر آیت اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَا مُبْعَدوْنَ اور آیت وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنَ مَرْیِمَ مَثَلاً ... خَصِمُوْنَ تک نازل ہوئی۔
یَصِدُّوْنَ بعض لوگوں نے کہا : یَصِدُّوْنَ اور یَصُدُّوْنَ دونوں کا معنی ایک ہے۔ کسائی نے کہا : یہ لفظ دونوں طرح مستعمل ہے ‘ جیسے یَعْرِشُوْنَ اور یَعْرُشُوْنَ ۔
کسائی نے یہ بھی کہا : یَصِدُّوْنَ کا معنی ہے : وہ چیختے ہیں۔ سعید بن مسیب کا بھی یہی قول ہے۔ ضحاک نے کہا : یَصِدُّوْنَ یعنی تعجب کرتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : وہ بےصبر ہوجاتے ہیں۔ قرطبی نے کہا : وہ دل تنگ ہوجاتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یَصِدُّوْنَ یعنی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائی ‘ عیسیٰ کی پوجا کرتے ہیں ‘ اسی طرح ہم ان کو معبود بنا لیں اور ان کی پوجا کریں۔
Ayah 43:58وقالواء الھتنا خیر ام ھو اور انہوں نے کہا : کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ‘ یعنی محمد ﷺ کہ اپنے معبودوں کو ہم چھوڑ دیں اور ان کی عبادت و اطاعت کریں۔
ابن زید اور سدی نے کہا : اَمْ ھُو یا عیسیٰ (یعنی ھُوَ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے) یعنی کافروں نے کہا : محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ اللہ کے سوا جس کسی کی پوجا کی جائے گی تو وہ دوزخ میں جائے گا ‘ سو ہم راضی ہیں عیسیٰ ‘ عزیر اور ملائکہ کے ساتھ ہمارے معبود بھی جہنم میں چلے جائیں۔
ما ضربوہ لک الا جدلا ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے ‘ وہ محض جھگڑے کی وجہ سے ہے۔
یعنی حق کو باطل سے تمیز کرنے کیلئے نہیں بلکہ بیکار جھگڑا کرنے کیلئے انہوں نے عیسیٰ کی مثال پیش کی ‘ کیونکہ حقیقت میں وہ واقف ہیں کہ محمد ﷺ ہم سے اپنی پوجا کرانا اور معبود بننا نہیں چاہتے۔
یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ آیت مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ حَصَبُ جَھَنَّمَ میں مراد بت اور بےجان معبود ہیں (عیسیٰ ‘ عزیر اور ملائکہ مراد ہی نہیں ہیں۔ آیت میں مَا تَعْبُدُوْنَ کا لفظ اگرچہ عام ہے ‘ لیکن یہ عام مخصوص البعض ہے) ۔
بل ھم قوم خصمون بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔
خَصِمُوْنَ سخت جھگڑالو ‘ اڑ جانے کے حریص ‘ جھگڑے کے عادی۔
حضرت ابو امامہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہدایت پر ہونے کے بعد کوئی قوم گمراہ نہیں ہوئی ‘ مگر (اس وجہ سے کہ) انکو جدل (جھگڑا یا جھگڑے کرنے کی طاقت) دے گئی (یعنی جن ہدایت یافتہ لوگوں نے باہم جھگڑے کرنے شروع کئے ‘ وہ گمراہ ہوگئے) پھر آپ نے آیت ما ضربوہ لک الاّ جدلا بل ھم قوم خصمون تلاوت فرمائی ‘ رواہ البغوی واحمد وابن ماجۃ والحاکم فی المستدرک۔
Ayah 43:59ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل عیسیٰ تو محض ایک بندے ہیں ‘ جن پر ہم نے فضل کیا تھا اور بنی اسرائیل کیلئے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنایا تھا۔
اِنْ ھُوَ الاَّ عَبْدٌ یعنی عیسیٰ خدا کے بیٹے نہیں تھے ‘ بندے تھے۔
اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ یعنی نبوت اور قرب کی نعمت سے ہم نے ان کو نوازا تھا۔
وَجَعَلْنٰہُ مَثَلاً یعنی ہم نے ان کو عجیب انسان بنایا کہ دوسری کہاوتوں کی طرح ان کا قصہ بھی عجیب ہوا۔ اور بنی اسرائیل کیلئے ان کے واقعہ کو عبرت آفریں کردیا ‘ جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہوتی تھی کہ اللہ بغیر باپ کے پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 43:60ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے
کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے۔
لَجَعَلْنَا تم میں سے ‘ یعنی انسانوں میں سے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہم تم کو ہلاک کردیتے اور تمہاری جگہ ملائکہ کو مقرر کردیتے۔
یَخْلُفُوْنَ یعنی تمہارے قائم مقام ہوجاتے ‘ زمین پر آباد ہوجاتے اور میری عبادت و اطاعت کرتے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ بعض ‘ بعض کے جانشین ہوتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عیسیٰ کا واقعہ اگرچہ تعجب آگیں ہے ‘ لیکن ہم اس سے بڑھ کر اچنبھا پیدا کرنے والے واقعات پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فرشتے تم جیسی مخلوق ہیں ‘ ان کی پیدائش بسلسلۂ تولید و تناسل بھی ہوسکتی ہے (ایسا ممکن ہے) اور بطور ایجاد بھی (جیسا کہ اب ہے) ان کو استحقاق الوہیت کس طرح ہوسکتا ہے اور ان کی نسبی نسبت اللہ کی طرف ہونا کیسے ممکن ہے۔
Ayah 43:61وانہ لعلم للساعق فلا تمترن بھا واتبعون اور وہ (عیسیٰ ) قیامت کے یقین کا ذریعہ ہیں تو تم لوگ اس
(کی صحت) میں شک ہرگز نہ کرو اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔
یعنی حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی علامات میں سے ہے ‘ ان کے نزول سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوجائے گا۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا ‘ رواہ الشیخان فی الصحیحین۔
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری کا بیان ہے کہ ہم لوگ کچھ باہم گفتگو کر رہے تھے ‘ اتنے میں حضور ﷺ برآمد ہوئے اور فرمایا : تم لوگ کیا تذکرہ کر رہے تھے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا : قیامت سے پہلے جب تک دس نشانیاں دکھائی نہ دی جائیں گی ‘ قیامت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد آپ نے (دس چیزوں کا) ذکر کیا : (1) دھواں (2) دجال (3) دابۃ الارض (4) مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا (5) عیسیٰ ابن مریم کا نزول (6) یاجوج ماجوج کا خروج (7) زمین کا تین جگہ دھنسنا مشرق میں (8) مغرب میں (9) جزیرۃ العرب میں (10) ایک آگ کا یمن سے نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر میدان حشر کی طرف لے جائے گی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ دسویں علامت ایک ہوا ہوگی جو لوگوں کو سمندر میں جا پھینکے گی ‘ رواہ مسلم۔
حضرت نواس بن سمعان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ایک طویل بیان میں ذکر فرمایا۔ دجال کے قصہ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا ‘ آپ دمشق کے مشرقی جانب منارۂ بیضاء کے قریب دو زرد کپڑے پہنے ‘ دو فرشتوں کے بازوؤں کا سہارا لئے اتریں گے۔ جب سر نیچے جھکائیں گے تو پسینے کے قطرے چاندی کے موتیوں کی طرح ٹپکیں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو (بھی) چاندی کے موتی لڑھک کر گریں گے ‘ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! عنقریب تمہارے اندر عیسیٰ ابن مریم حاکم عادل ہو کر اتریں گے ‘ صلیب کو توڑ دیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جزیہ کو ساقط کردیں گے ‘ مال بہائیں گے ‘ یہاں تک کہ کوئی مال قبول نہیں کرے گا۔ اس وقت ایک سجدہ دنیا اور تمام سامان دنیا سے بہتر ہوگا (صحیحین) ۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن مریم حاکم عادل بن کر ضرور اتریں گے ‘ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ساقط کردیں گے اور اونٹنیوں کو (یونہی ناکارہ بنا کر) چھوڑ دیں گے ‘ ان سے کام نہیں لیا جائے گا ‘ آپس کا بغض دور کردیں گے اور مال لینے کیلئے لوگوں کو بلوائیں گے ‘ لیکن کوئی مال قبول نہیں کرے گا۔
مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارا امیر (عیسیٰ سے) کہے گا : آئیے ! آپ ہم کو نماز پڑھائیے۔ عیسیٰ اس امت کی عزت و عظمت کے پیش نظر کہیں گے : (آج) تم میں سے ہی بعض بعض کے امیر ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : حضرت عیسیٰ بیت المقدس جائیں گے ‘ اس وقت لوگ عصر کی نماز میں ہوں گے۔ امام (حضرت عیسیٰ کی آہٹ پا کر) پیچھے کو ہٹے گا ‘ لیکن حضرت عیسیٰ اسی کو آگے بڑھائیں گے اور شریعت محمدی کے مطابق (خود بھی) نماز پڑھیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ صلیب کو توڑیں گے ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کے عبادت خانوں کو منہدم کردیں گے اور سوائے ان لوگوں کے جو آپ پر ایمان لے آئیں گے ‘ باقی عیسائیوں کو قتل کریں گے۔
حسن اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ اِنّہ لعلم للسّاعۃ میں اِنّہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے ‘ یعنی قرآن علم قیامت ہے ‘ اس نے قیامت کے احوال اور ہولناکیاں تم کو بتائی ہیں۔
فَلاَ تَمْتَرُوْنَّ بِھَا یعنی جب عیسیٰ کی پیدائش قامت برپا ہونے پر دلالت کر رہی ہے تو اب تم کو وجود قیامت میں شک نہ ہونا چاہئے۔ حضرت ابن عباس نے تَمْتَرُوْنَّ بِھَا کا ترجمہ کیا : تم لوگ قیامت کی تکذیب نہ کرو۔
وَاتَّبِعُوْنَ (یہ اللہ کے کلام کا ہی حصہ ہے) یعنی میری ہدایت یا میری شریعت پر چلو ‘ یا میرے رسول کی اتباع کرو۔ بعض نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کا کلام ہے۔ اس صورت میں لفظ قُلْ محذوف ماننا پڑے گا ‘ یعنی آپ کہہ دیجے کہ میرا اتباع کرو۔
ھذا صراط مستقیم۔ یہ سیدھا راستہ ہے
Ayah 43:62ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین اور شیطان تم کو اس راستہ سے) نہ روکے (یعنی تم شیطان کے بہکانے سے اس راہ کو مت چھوڑو) بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
ھٰذَا یہ راستہ جس کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں۔
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ سیدھا راستہ ہے ‘ اس پر چلنے والا کبھی گمراہ نہ ہوگا۔
عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ کھلا ہوا دشمن ہے۔ تم کو جنت سے نکلوانے کا سبب بنا اور مصائب کے گھر میں تمہارے آنے کا موجب ہوا اور اب بھی اتباع حق سے تم کو روک رہا ہے اور جنت میں داخل ہونے سے رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
Ayah 43:63ولما جاء عیسیٰ بالبیت قال قد جئتکم بالحکمۃ ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ فاتقوا اللہ واطیعون۔ اور جب عیسیٰ معجزے لے کر آئے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا : میں تمہاری پاس سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں اور (اسلئے آیا ہوں) تاکہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو ‘ تم سے کھول کر بیان کر دوں ‘ سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
Ayah 43:64ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم
بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی ‘ تو تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
الْبَیِِّّنٰتِ یعنی معجزات ‘ یا انجیل کی آیات ‘ یا واضح احکام۔
الَّذِیْ تَختَلِفُوْنَ فِیْہِ حضرت موسیٰ کے بعد میل نفسانی کے زیر اثر یہودیوں کے اکہتر فرقے بن گئے۔ جب حضرت عیسیٰ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو غلط عقائد سے روکا اور راہ حق پر چلنے کی ہدایت کی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ‘ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ۔
زجاج نے کہا : حضرت عیسیٰ جو چیز انجیل میں لے کر آئے ‘ وہ یہودیوں کے اختلافی مسائل کا ایک حصہ تھا اور انجیل کے علاوہ جو کچھ آپ نے فرمایا (یعنی مواعظ) وہ وہی تھا جس کی یہودیوں کو ضرورت تھی۔
فَاتَّقُوْا اللہ - فَ سببیہ ہے ‘ حضرت عیسیٰ کا پر حکمت تعلیم کا لانا حصول تقویٰ کا سبب ہے۔
وَاَطِیْعُوْنَ یعنی اللہ کی طرف سے جو کچھ میں تم کو پہنچا رہا ہوں ‘ اس میں میری اطاعت کرو۔
فَاعْبُدُوْہُ اسی کی پوجا کرو ‘ کسی اور کی پرستش نہ کرو۔
ھٰذَا یعنی توحید اور شرعی احکام کی پابندی۔ یہ حضرت عیسیٰ کے کلام کا تتمہ ہے ‘ یا اللہ کا فرمان ہے۔
Ayah 43:65فاختلف الاحزاب من بینھم فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم سو مختلف گروہوں نے
(اس بارے میں) باہم اختلاف ڈال لیا ‘ سو ان ظالموں کیلئے ایک دردناک عذاب کی بڑی خرابی ہے۔
الْاَحْزَاب مختلف گروہ۔ مِنْم بَیْنِھِمْ یعنی امت عیسیٰ میں سے۔
مندرجۂ بالا حدیث میں بیان کردیا گیا ہے کہ امت عیسیٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئی۔ یا مِنْم بَیْنِھِمْ سے یہودیوں اور عیسائیوں کا مجموعہ مراد ہے۔ فَوَیْلٌ پس بڑی ہلاکت (اور خرابی) ہے۔
لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ان لوگوں کیلئے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کر کے اور کتاب و سنت کو ترک کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ یعنی آتش جہنم۔
حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قدم بقدم میری امت پر وہی بات آئے گی جو بنی اسرائیل پر آئی۔ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے علی الاعلان اپنی ماں سے زنا کیا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا کرے گا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے ‘ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی کہ سوائے ایک فرقہ کے سب فرقے دوزخ میں جائیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ (برحق نجات یافتہ) کونسا گروہ ہوگا ؟ فرمایا : جو اس راستہ پر چلتا ہوگا جس پر میں اور میرے صحابی ہیں ‘ رواہ الترمذی۔
احمد اور ابو داؤد نے بروایت معاویہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہتر فرقے دوزخ میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ‘ یہ فرقہ جماعت (کا) ہوگا۔
Ayah 43:66ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ وھم لا یشعرون۔ یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر دفعۃً آپڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 43:67الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین۔ تمام (دنیوی) دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ‘ بجز اللہ سے ڈرنے والوں کے (اہل ایمان کو حق تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوگی :)
Ayah 43:68یعباد لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون۔ اے میرے بندو ! تم پر آج کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو گے
Ayah 43:69الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین ‘ یعنی وہ بندے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور (ہمارے) فرمانبردار تھے۔
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی قریش یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ منتظر نہیں ہیں مگر قیامت کے ناگہاں آ پڑنے کے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت تو بہرحال یقیناً آئے گی ‘ اب گویا یہ لوگ اس کے آنے کے منتظر ہیں۔
اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ مگر وہ دوست جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ بغوی نے اس آیت کے ذیل میں حضرت علی کا ارشاد نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : دو دوست مؤمن اور دو دوست کافر ہوتے ہیں۔ ایک مؤمن مرجاتا ہے ‘ وہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! فلاں شخص مجھے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت کا مشورہ دیتا تھا ‘ مجھے نیک کام کرنے کا حکم دیتا تھا اور برے کام سے روکتا تھا۔ وہ مجھ سے کہتا تھا کہ ایک دن مجھے تیرے سامنے آنا پڑے گا۔ اے میرے رب ! میرے بعد تو اس کو گمراہ نہ کردینا اور جیسے تو نے مجھے راہ راست پر چلنے کی توفیق دی ‘ ایسے ہی اس کو بھی ہدایت پر قائم رکھنا اور جس طرح تو نے میری عزت افزائی کی ‘ اسی طرح اس کی بھی عزت افزائی کرنا۔ جب اس کا دوست مرجاتا ہے تو اللہ دونوں کو یکجا کر کے فرماتا ہے : ت مدونوں ایک دوسرے کی تعریف کرو۔ چناچہ ہر ایک دوسرے کے متعلق کہتا ہے : یہ اچھا بھائی ہے ‘ اچھا دوست ہے ‘ اچھا ساتھی ہے۔
اور جب دو کافر دوسوں میں سے ایک مرجاتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! فلاں شخص مجھے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے منع کرتا تھا ‘ برے کام کا مشورہ دیتا تھا اور اچھے کام سے روکتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کہ مجھے تیرے پاس نہیں آنا۔ وہ برا بھائی ‘ برا دوست اور برا ساتھی ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ فرمائے گا : میری عظمت و بزرگی کے ساتھ باہم دوستی کرنے والے کہاں ہیں ؟ آج میں ان کو اپنے سایہ میں لے لوں گا ‘ آج میرے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ‘ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ کے واسطے دو بندے باہم محبت کرنے والے ہوں ‘ ایک مشرق میں ہو اور ایک مغرب میں ‘ اللہ قیامت کے دن دونوں کو یکجا کر دے گا اور فرمائے گا : یہی وہ شخص ہے جس سے تو میرے لئے محبت کرتا تھا (رواہ البیہقی فی شعب الایمان) ۔
یٰعِبَادِ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یَقُوْلُ فعل محذوف ہے ‘ یعنی اللہ ان تقویٰ رکھنے والے دوستوں سے فرمائے گا : اے میرے بندو ! آج نہ تم کو کوئی خوف ہے ‘ نہ غمگین ہو گے۔
معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ‘ معتمر کے باپ نے کہا : میں نے سنا ہے کہ جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو ہر ایک گھبرایا ہوا ہوگا ‘ اس وقت (ا اللہ کی طرف سے) ایک منادی ندا دے گا : یٰعباد لا خوف علیکم الیوم ولآ انتم تحزنون یہ سن کر لوگوں کو کچھ امید بندھے گی ‘ لیکن فوراً ہی منادی اس کے بعد کہے گا : الذین اٰمنوا باٰیٰتنا وکانوا مسلمین یہ سن کر سوائے اطاعت گزار مؤمنوں کے سب مایوس ہوجائیں گے۔
Ayah 43:70ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم تحبرون تم اور تمہاری (ایماندار) بیبیاں خوش خوش جنت میں داخل ہوجاؤ۔
اَزْوَاجُکُمْ یعنی تمہاری مؤمن عورتیں۔
تُحْبَرُوْنَ یعنی اتنی خوشی پاؤ گے کہ اس کا اثر چہروں سے نمودار ہوگا۔ اس مطلب پر تحبرون ‘ حبار سے مشتق ہوگا اور حبار کا معنی ہے اثر ‘ نشان۔ یا تحبرون کا ترجمہ ہے : تم آراستہ کئے جاؤ گے ‘ سجائے جاؤ گے ‘ اس وقت تحبرون کا مادہ حبر ہوگا اور حبر کا معنی ہے زینت ‘ خوبصورتی ‘ یا اس کا ترجمہ ہے : تمہاری پوری پوری عزت افزائی کی جائے گی۔
Ayah 43:71یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب وفیھا ما تشتبھیہ الا نفس وتلذ الاعین وانتم فیھا خلدون ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو دل چاہے گا اور جن سے آنکھیں لذت یاب ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے
Ayah 43:72وتلک الجنۃ التی اور شتموھا بما کنتم تعلمون۔ اور (ان سے کہا جائے گا) یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دئیے گئے ‘ اپنے (نیک) اعمال کے بدلہ میں ‘
Ayah 43:73لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون اور تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں سے تم کھا رہے ہو۔
یُطَافُ عَلَیْھِمْ یعنی غلمان جو ہمیشہ ہی امرد رہیں گے ‘ اہل جنت کیلئے بڑے بڑے پیالوں اور کو زوں کا دور کریں گے۔
صِحَاف۔ صحفۃ کی جمع ہے ‘ صحفۃ بڑے پیالے کو کہتے ہیں۔ اکواب ‘ اکوب کی جمع ہے ‘ کو ب کوزہ یعنی ایسا گول برتن جس کا گلاس بھی مدور ہو اور قبضہ نہ ہو۔
یعنی ہر شخص کو جنت میں وہ چیز ملے گی جس کا وہ خواستگار ہوگا۔ صوفی طلبگار ہے ‘ ایسے وصل کا جس کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اور ایسے دیدار کا جو کبھی غائب نہ ہو ‘ چناچہ یہ نعمت حاصل ہوگی۔ صوفیہ کے علاوہ دوسرے لوگ جو جنت کی نعمتوں کے خواستگار ہوں گے ‘ ان کو وہ نعمتیں ملیں گی۔
بغوی نے حضرت عبدالرحمن بن سابط کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں ‘ کیا جنت میں گھوڑے ملیں گے ؟ فرمایا : اگر اللہ تم کو جنت میں داخل کر دے ‘ پھر تم چاہو کہ سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر اڑ کر جنت کے اندر جہاں جانا چاہو ‘ پہنچ جاؤ تو ایسا کرسکو گے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اونٹ کو پسند کرتا ہوں ‘ کیا جنت میں اونٹ ملیں گے ؟ فرمایا : اے اعرابی ! اگر اللہ تجھے جنت میں داخل کر دے تو تجھے وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تیرا دل چاہے گا اور آنکھوں کو جس سے فرحت حاصل ہوگی۔
ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابو بردہ کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے صحیح سند سے حضرت عبدالرحمن بن ساعدہ کی وساطت سے اور ترمذی نے حضرت ابو ایوب کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے ‘ لیکن اس روایت میں صرف گھوڑوں کا (سوال میں) تذکرہ ہے (اونٹوں کا نہیں ہے) ۔
وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلْآ اَنْ ھَدَانَا اللہ ُ ۔ یہ بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر شخص کا ایک گھر جنت میں اور ایک گھر دوزخ میں ہے۔ کافر کے جنت والے مکان کا مؤمن وارث ہوگا۔ یہی مطلب ہے (آیت) وَتَِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِشْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ کا۔
لَکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ بزار اور طبرانی نے بیان کیا کہ حضرت ثوبان نے فرمایا : میں نے خود حضور اقدس ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جنتی جس پھل کو توڑے گا ‘ اس کی جگہ ویسا ہی دوسرا پھل دوبارہ پیدا کردیا جائے گا۔
بزار نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے جب آدم کو جنت سے نکالا تو ان کو بطور توشہ کچھ جنت کے پھل بھی دے دئیے اور ہر ایک کے اوصاف بھی بتا دئیے۔ تو یہ تمہارے پھل جنت کے پھلوں سے ہیں ‘ فرق یہ ہے کہ یہ خراب ہوجاتے ہیں اور وہ تغیر پذیر نہیں ہیں۔
ابن ابی الدنیا کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود شام میں تھے۔ لوگوں نے جنت کا تذکرہ کیا ‘ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جنت کا ایک خوشہ (اتنا بڑا ہوگا جتنی مسافت) یہاں سے صنعاء (یمن) تک ہے۔
ابن ابی الدنیا نے کہا : حضرت ابن عباس نے فرمایا : جنت کے پھلوں میں سے ایک ایک پھل کی لمبائی بارہ ہاتھ ہوگی اور ان کے اندر گٹھلی نہیں ہوگی۔
Ayah 43:74ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون بیشک نافرمان (یعنی کافر) دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔
الْمُجْرِمِیْنَ یعنی پکے مجرم۔ مراد کافر ہیں ‘ کیونکہ مؤمنوں کے مقابل مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اسلئے مجرموں سے مراد کافر ہیں۔
Ayah 43:75لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون۔ انکے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور وہ عذاب میں پڑے ہوں گے (رہائی سے) ناامید ہوں گے
Ayah 43:76وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین اور ہم ان پر ظلم نہیں کریں گے بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔
Ayah 43:77ونادوا یملک لیقض علینا ربک قال انکم مکثون اور پکاریں گے : اے مالک ! تمہارا رب (موت دے کر) ہمارا کام ہی تمام کر دے۔ مالک کہے گا : تم ہمیشہ اسی حالت میں رہو گے۔
مٰلِک دوزخ کا درواغہ۔
لِیَقْضِ تیرا رب ہمارا کام تمام کردے ‘ یعنی ہم مرجائیں اور اس عذاب سے راحت پالیں۔
قَال اللہ فرمائے گا ‘ یا ایک ہزار برس کے بعد مالک کہے گا۔
اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ تم کو عذاب میں گرفتار رہنا ہے ‘ موت سے تم کو رہائی نہیں ملے گی (یعنی ہمیشہ عذاب میں رہو گے ‘ کبھی موت نہیں آئے گی) ۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ایک ہزار برس تک مالک ان کو جواب نہیں دے گا ‘ ہزار برس کے بعد کہے گا : اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْن۔
ہناد ‘ طبرانی ‘ ابن ابی الدنیا ‘ حاکم ‘ بیہقی اور عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کا قول نقل کیا ہے کہ دوزخی ‘ مالک کو پکاریں گے اور کہیں گے : یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ۔ مالک چالیس برس تک ان کو کوئی جواب نہیں دے گا ‘ یونہی چھوڑے رکھے گا ‘ پھر جواب دے گا تو کہے گا : اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْن۔ اس کے بعد وہ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے : رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ- رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے۔ اے ہمارے رب ! ہم کو اس سے نکال دے (اور دنیا میں بھیج دے) اگر ہم دوبارہ ایسی حرکت کریں تو بیشک مجرم ہیں۔ ان کو دنیا کی (عمر کی) دوگنی مدت کے برابر کوئی جواب نہیں دے ‘ پھر جواب دے گا تو فرمائے گا : اِخْسَءُوْا فِیْھَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنَ چناچہ وہ لوگ پھر کوئی بات نہیں کریں گے۔
سعید بن منصور اور بیہقی نے محمد بن کعب کی روایت سے بیان کیا کہ دوزخی پانچ بار دعائیں کریں گے ‘ چار بار دعاؤں کا تو اللہ جواب دے دے گا اور پانچویں دعا کے بعد پھر وہ کبھی کوئی کلام نہیں کریں گے۔ دوزخی کہیں گے : رَبَّنَآ اَثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ اس کے جواب میں اللہ فرمائے گا : ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللہ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ۔ پھر اہل جہنم کہیں گے : رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ۔ اللہ جواب میں فرمائے گا : فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَآ اِنَّا نَسِیْنٰکُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ پھر دوزخی کہیں گے : رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلآی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۔ اللہ جواب میں فرمائے گا۔ اَوَلَمْ تَکُوْنُوْٓا اَقْسَمتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ ۔ پھر دوزخی کہیں گے : رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ ۔ اللہ جواب میں فرمائے گا : اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَکُمُ النَّذِیْرُفَذُوْقُوْا فَمَا للظَّلِمِیْنَ مِنْم بَصِیْرٍ ۔ پھر دوزخی کہیں گے : رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضآلِّیْنَ ۔ اللہ جواب دے گا : اِخْسَءُوْا فِیْھَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنَ ۔ اس کے بعد وہ کوئی بات نہیں کریں گے۔
Ayah 43:78لقد جئنکم بالحق ولکن اکثرکم للحق کرھون ہم نے سچا دین تمہارے پاس پہنچایا ‘ لیکن تم میں سے اکثر آدمی سچے دین سے نفرت کرتے تھے۔
بِالْحَقِّ یعنی پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر دین حق تم کو پہنچایا۔
اگر قال کی ضمیر اللہ کی طرف راجع قرار دی جائے تو یہ آیت اللہ کے مقولہ کا تتمہ ہوگی ‘ ورنہ یہ اللہ کی طرف سے دوزخیوں کو جواب ہوگا ‘ گویا فرشتوں کے جواب کے بعد اللہ خود یہ فرمائے گا۔
کٰرِھُوْنَ یعنی سچا دین اور اسکا اتباع تمہارے نفسانی میلان کے خلاف تھا ‘ اسلئے تم میں سے اکثر لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔
Ayah 43:79ام ابرموا امرا فانا مبرمون ہاں ‘ کیا انہوں نے کوئی انتظام درست کیا ہے ؟ سو ہم نے بھی ایک انتظام درست کیا ہے۔
اِمْ بمعنی بَلْ کے ہے اور منقطعہ ہے۔
اَبْرمُوْا یعنی رسول اللہ ﷺ کے خلاف کوئی مضبوط خفیہ تدبیر کی ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ حق کی تکذیب و تردید کی کوئی پوشیدہ اسکیم بنا رکھی ہے اور صرف حق سے نفرت پر بس نہیں کیا ہے۔
فَاِنَّ مُبْرِمُوْنَ یعنی ہم نے بھی ان کو سزا دینے کی تدبیر درست کرلی ہے۔
ابن جریر نے محمد بن قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان تین آدمی جمع ہوئے ‘ دو قریشی تھے ایک ثقفی ‘ یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی۔ ایک بولا : تم لوگوں کے خیال میں کیا اللہ ہمارا کلام سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب تم چلا کر بات کرو تو سنتا ہے اور چپکے چپکے بات کرو تو نہیں سنتا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 43:80ام یحسبون انا لا نسمع سرھم ونجوھم بلی ورسلنا لدیھم یکتبون کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے
ہیں ہیں کہ ان کی (دلوں میں) چھپی ہوئی باتیں اور سرگوشیاں نہیں جانتے ‘ حالانکہ ہمارے بھیجے ہوئے کارندے ان کے پاس (ہر وقت موجود) ہیں ‘ لکھ رہے ہیں۔
اَمْ یَحْسَبُوْنَ- اَمْ منقطعہ بمعنی بَلْ ہے ‘ انکار اور کلام سابق سے اعراض کو ظاہر کر رہا ہے۔
سِرَّھُمْ یعنی دل کی باتیں۔ نَجْرٰں ھُمْ یعنی باہم سرگوشیاں کرنا۔
رُسُلْنَا یعنی ملائکہ جو (آدمیوں کے اقوال و اعمال و اسرار کی) نگہداشت کرنے پر مامور ہیں۔
لَدَیْھِمْ یعنی ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں ‘ الگ نہیں ہوتے۔