Ayah 42:48فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظا ان علیک الا البلغ پھر اگر وہ لوگ (یہ سن کر بھی)
اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان کا نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے ‘ آپ کے ذمہ تو صرف حکم پہنچانا ہے۔
یعنی اگر وہ آپ کا حکم ماننے سے روگرداں ہوں تو روگرداں ہونے دیجئے ‘ کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ ہم نے تو آپ کو ان کا نگراں ‘ ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ ان کی روگردانی اور اعراض کی بازپرس اور مؤاخذہ آپ سے کیا جائے ‘ آپ کا فرض تو (احکام خدا) پہنچانا ہے اور تبلیغ حکم آپ کرچکے ہیں۔
وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تصبھم سیءۃ بما قدمت ایدیھم فان
الانسان کفور اور ہم جب اس قسم کے انسان کو اپنی عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے اور اگر ایسے لوگوں پر اللہ کے اعمال کے بدلے میں جو پہلے وہ اپنے ہاتھوں سے کرچکے ہیں ‘ کوئی مصیبت آجاتی ہے تو آدمی ناشکری کرنے لگتا ہے۔
الْاِنْسَانَ سے جنس انسان مراد ہے۔ رَحْمَۃً یعنی دنیوی نعمت۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : دولت اور صحت۔ سَیِّءَۃٌ یعنی قحط ‘ مفلسی ‘ بیماری۔
بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ یعنی ان گناہوں کی وجہ سے جو سابق زندگی میں وہ کرچکے ہیں۔ اکثر کام ہاتھوں سے ہوتے ہیں ‘ اسلئے قَدَّمَتْ ایدیھم فرمایا۔
کَفُوْرٌ سخت ناشکرا۔ تھوڑا سا دکھ آجاتا ہے تو گذشتہ تمام نعمتیں بھول جاتا ہے اور سب کا انکار کرنے لگتا ہے ‘ بار بار مصیبت کا ذکر کرتا ہے اور غور نہیں کرتا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ یہ حکم اگرچہ ایسے مجرموں کیلئے مخصوص ہے ‘ لیکن سارے مجرم اور گناہگار بھی انسانی جنس میں داخل ہیں ‘ اسلئے جنس مراد لینا غلط نہیں ہے۔
اِذَا (جب) عربی زبان میں اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی بات ثابت شدہ اور محقق ہو۔ نعمت عطا فرمانا اور اس کا مزہ چکھانا اللہ کی رحمت ذاتیہ کا اقتضاء اور اس کا معمول ہے ‘ کسی شک کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے ‘ اسلئے اَذَقْنَا کے ساتھ اِذَا استعمال کیا۔ لیکن مصیبت کا آنا بتقاضاء رحمت نہیں ‘ نہ اللہ کا یہ دستور ہی ہے کہ (بےوجہ ‘ بغیر جرم کے) مصیبت میں مبتلا کر دے ‘ اسلئے تُصِبْھُمْ کے ساتھ لفظ اِنْ (اگر ‘ جو شک کیلئے آتا ہے) استعمال کیا۔
Ayah 42:49اللہ ملک السموت والارض یخلق مایشاء یھب لمن یشاء اناثاویھب لمن یشاء الذکور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی ‘ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے ‘
Ayah 42:50او یزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشاء عظیما ان علیم قدیر یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ بیشک وہ بڑا جاننے والا (اور) بڑی قدرت والا ہے۔
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ جب ساری کائنات پر اسکی حکومت ہے تو اسی کو اس میں جیسا چاہے تصرف کرنے کا حق ہے ‘ نعمت دے یا جرم کا انتقام لے۔
یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ یہ کلام سابق کی علت ہے۔
یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا بعض اہل علم نے کہا کہ یہ آیت یخلق ما یشاء کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعض لوگوں کو لڑکیاں عطا فرماتا ہے ‘ ان کے کوئی لڑکا نہیں ہوتا اور بعض کو لڑکے دیتا ہے ‘ ان کے کوئی لڑکی نہیں ہوتی۔ آیت میں لڑکی عطا کرنے کا ذکر چونکہ پہلے ہے ‘ اس سے بعض علماء نے استنباط کیا ہے اور کہا ہے کہ عورت کی یہ برکت ہے کہ سب سے اول اس کے لڑکی پیدا ہو۔
اَوْ یُزَوِّجُھُمْ یعنی بعض کو دونوں دیتا ہے ‘ لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی۔
وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا بعض کو بانجھ کردیتا ہے ‘ ان کے نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے نہ لڑکا۔
اِنَّہٗ عَلِیْمٌ یعنی جو کچھ پیدا کرتا ہے ‘ اس کو جانتا ہے۔ قَدِیْرٌ جس چیز کو چاہتا ہے اس پر قدرت بھی رکھتا ہے ‘ پس ہر کام اپنی مصلحت و اختیار کے ماتحت کرتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : موسیٰ نے تو اللہ سے کلام کیا اور اس کی طرف دیکھا بھی تھا ‘ اگر آپ نبی ہیں تو آپ نے خدا سے کلام کیوں نہیں کیا اور اس کو کیوں نہیں دیکھا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 42:51وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآئ حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ
ما یشاء اور (حالت موجودہ میں) کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے ‘ مگر (تین طریقوں سے ‘ یا تو) الہام سے ‘ یا پردے کی آڑ سے ‘ یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ کو منظور ہو ‘ پیام پہنچا دے۔
وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ یعنی کسی انسان کیلئے جائز نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے۔
وَحْیًا لغت عربی میں وحی کا معنی ہے تیزی کے ساتھ اشارہ کرنا۔ اس جگہ وہ پوشیدہ کلام مراد ہے جو بسیط ہو ‘ حروف مقطعات سے مرکب نہ ہو اور پیغمبر کے دل میں بیداری میں یا خواب میں ڈال دیا جائے (اس کو پیغمبر) کا الہام بھی کہا جاتا ہے۔ وحی کی دو قسمیں ہیں : (1) رو در رو کلام ‘ جیسا کہ حدیث معراج میں آیا ہے اور آخرت میں دیدار خداوندی کے سلسلے میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ (2) غیبی آواز سنائی دے ‘ جیسے حضرت موسیٰ نے وادی طویٰ اور طور پر سنی ‘ لیکن آگے مِنْ وراء حجاب آگیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ وحی سے مراد ہوگی وحی کی اول قسم۔ اور مِن وراء حجاب سے مراد ہوگی وحی کی دوسری قسم ‘ اس تشریح کی بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ آیت سے نفی رویت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ‘ بلکہ اس آیت سے تو ثبوت رویت ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں : بغوی نے آیت کا جو سبب نزول لکھا ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وحی کے وقت دنیا میں اللہ کی طرف نظر کرنا ناممکن ہے ‘ اس صورت میں وحیًا سے مراد ہوگا دل میں بسیط کلام کا القاء اور من وراء حجاب سے مراد ہوگا بغیر فرشتہ کی وساطت کے اور بغیر معاینہ کے سنا جانے والا کلام جیسے حضرت موسیٰ نے وادی طویٰ اور کوہ سینا پر سنا تھا ‘ کذا قال البغوی۔
اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلاً رسول یعنی فرشتہ ہو۔ جبرئیل ہوں یا کوئی اور۔
فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ پھر وہ فرشتہ بحکم خدا جو کچھ خدا کو منظور ہو ‘ القاء کر دے۔ نافع نے فیوحی (بضم لام کلمہ) پڑھا ‘ اس قرأت پر اللہ کے کلام کرنے کی دو قسمیں ہوں گی : بوساطت فرشتہ اور بلا وساطت فرشتہ۔
حضرت عائشہ راوی ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟ ارشاد فرمایا : کبھی تو اس طرح آتی ہے جیسے گھنٹی کی جھنجھناہٹ ‘ یہ وحی میرے لئے بڑی سخت ہوتی ہے۔ کچھ دیر کے بعد وحی ٹوٹ جاتی ہے اور جو بات وہ کہتا ہے ‘ مجھے یاد ہوجاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا اور بات کرتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے ‘ مجھے یاد ہوجاتا ہے۔
حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی ‘ دن بہت سخت سردی کا تھا۔ وحی ٹوٹی تو میں نے دیکھا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ کر نکل رہا ہے ‘ متفق علیہ۔
حضرت عبادہ بن صامت کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ بےچین ہوجاتے تھے اور چہرہ کا رنگ پھیکا پڑجاتا تھا ‘ رواہ مسلم۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ (نبی ہونے کے بعد) رسول اللہ ﷺ پندرہ برس مکہ میں رہے۔ سات برس تک تو آپ آواز سنتے تھے ‘ روشنی بھی نظر آتی تھی ‘ لیکن کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی ‘ اور آٹھ برس آپ کے پاس وحی آتی رہی ‘ پھر مدینہ میں دس سال قیام فرما رہے اور وفات کے وقت آپ کی عمر 65 سال تھی ‘ متفق علیہ۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کیلئے وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا (آپ شروع میں سوتے میں سچے خواب دیکھا کرتے تھے) الحدیث ‘ متفق علیہ۔
انہ علی حکیم یعنی اللہ مخلوق کی صفات سے بالا ہے اور حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت کا جیسا تقاضا ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا
ہے۔ کبھی بوساطت کلام کرتا ہے ‘ کبھی بغیر وساطت کے۔
Ayah 42:52وکذلک اوحیناالیک روحامن امرنا ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ
نورا نھدی بہ من نشاء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی یعنی اپنا حکم بھیجا۔ آپ کو خبر نہ تھی کہ کتاب (ا اللہ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال) کیا ہے ‘ لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ‘ ہدایت کرتے ہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ آپ ایک سیدھے راستے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
وَکَذٰلِکَ اور اسی طرح ‘ یعنی جس طرح ہم نے دوسرے انبیاء کے پاس وحی بھیجی ‘ اسی طرح آپ کے پاس بھی بھیجی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح ہم نے آپ سے بیان کردیا ‘ اسی طرح ہم نے آپ کو وحی بھیجی۔
رُوْحًا روح سے مراد ہے کتاب یعنی قرآن مجید ‘ کذلک قال الکلبی ومالک بن دینار۔ سدی نے کہا : جس طرح روح سے بدن کی زندگی ہوتی ہے اسی طرح قرآن دلوں کو زندہ کرتا ہے ‘ اسلئے قرآن کو روح فرمایا۔ ربیع نے کہا : روح سے مراد ہیں جبرئیل اور اَوْحَیْنَا کا معنی ہے اَرْسَلْنَا یعنی ہم نے جبرئیل کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : روح (سے مراد) نبوت ہے۔ حسن نے کہا : رحمت مراد ہے ‘ ان دونوں سے مراد بھی قرآن ہی ہے ‘ نبوت اور رحمت کا نشان قرآن ہی ہے۔
مَنْ اَمْرِنَا اپنے حکم سے ‘ یعنی اپنے حکم سے ہم نے وحی بھیجی ‘ یا یہ مطلب کہ روح ہمارے امر سے ہے (ہمارے امر کا نتیجہ ہے) ۔
مَا کُنْتَ تَدْرِیْ یعنی وحی سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے۔
وَلاَ الْاِیْمَان اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے ‘ یعنی ان احکام و شرائع سے واقف نہ تھے جن کو جاننے کا طریقہ (عقلی نہیں بلکہ) محض نقلی ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا : اس جگہ ایمان سے نماز مراد ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : ما کان اللہ لیضیع ایمانکم اللہ ایسا نہیں کہ تمہاری (گذشتہ) نمازوں کو اکارت کر دے۔ اس تفسیر کی بناء اہل علم کے اس متفق علیہ خیال پر ہے کہ انبیاء کا اللہ پر ایمان (فطری) الہامی ہوتا ہے۔ وہ فطری طور پر بالہام خداوندی اس عالم کا ایک صانع جو تمام نقائص سے پاک اور تمام صفات کمالیہ سے موصوف ہے ‘ مانتے ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ وحی سے پہلے رسول اللہ ﷺ دین ابراہیمی پر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ یہ قول خلاف درایت ہے اور روایت سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ تو اُمّی تھے ‘ آپ نے کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی اور سارا ماحول بت پرستوں کا تھا (پھر رسول اللہ ﷺ کو دین ابراہیمی سے واقفیت وحی سے پہلے کیسے ہوگئی ؟ ) ہاں ‘ یہ بات ضرور ہے کہ وحی سے پہلے رسول اللہ ﷺ خلوت پسند تھے ‘ تنہائی کی طرف راغب تھے۔ میں کہتا ہوں : یہ کہا جاسکتا ہے کہ وحی سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ مؤمن کامل تھے ‘ حقیقت ایمان کا یقین رکھتے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ اس حالت کا نام ایمان ہے۔
وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا حضرت ابن عباس نے فرمایا : لیکن اس ایمان کو نور بنا دیا۔ سدی نے کہا : قرآن کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ یعنی اس قرآن کو نور بنا دیا۔ نور سے مراد ہے جہالت کی تاریکی کو دور کرنے والی روشنی۔
تَّھْدِیْ بِہٖ یعنی دنیا میں قرآن کے ذریعہ سے صحیح عقیدہ تک اور آخرت میں جنت اور مقام قرب تک ہم جس بندہ کو چاہتے ہیں ‘ پہنچا دیتے ہیں۔
وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ تمام لوگوں کو سیدھے راستہ پر چلنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ سیدھے راستہ سے مراد ہے اسلام جو جنت میں پہنچانے والا ہے۔ اس جملہ میں ہدایت سے مراد ہے راستہ دکھانا ‘ راہنمائی۔
Ayah 42:53صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیر الامور یعنی اللہ کے
راستہ کی طرف کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ے۔ سن لو کہ اللہ ہی طرف (براہ راست) تمام امور جائیں گے۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ ہی کی مملوک اور اسی کی مخلوق ہے۔
الْاُمُوْرُ یعنی مخلوق کے تمام امور براہ راست ‘ بلاواسطہ قیامت کے دن اللہ ہی کے پاس منتقل ہوں گے ‘ تمام درمیانی تعلقات اور وسائط ختم ہوجائیں گے۔
اس آیت میں اطاعت گذاروں کیلئے (اچھے انجام کا) وعدہ اور مجرموں کیلئے (عذاب کی) وعید ہے۔ وا اللہ اعلم
بحمد اللہ تفسیر سورة الشوریٰ شنبہ کے دن 13/ربیع الاوّل 1208 ھ کو ختم ہوئی
اس کے بعد انشاء اللہ سورة الزخرف کی تفسیر آئے گی۔
وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین