Ayah 42:23ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا وعملوا الصلحت یہی ہے وہ جس کی بشارت اللہ اپنے
بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی (اے محمد ﷺ ! ) آپ (ان سے) کہہ دیجئے
کہ بجز رشتہ داری کی دوستی کے ‘ میں تم سے اس (ہدایت) کی کوئی اجرت (نفع) نہیں چاہتا۔ یعنی صرف اتنا چاہتا ہوں کہ قرابت دار ہونے کے ناتے سے تم مجھ سے مودّت رکھو۔
بخاری نے صحیح میں طاؤس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس سے المودۃ فی القربٰی کا مطلب پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے کہا : القربٰی (سے مراد) آل محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے (جواب دینے میں) جلدی کی۔ بات یہ تھی کہ ہر بطن میں رسول اللہ ﷺ کا رشتۂ قرابت تھا ‘ اسلئے حضور ﷺ نے فرمایا : میں تم لوگوں سے کوئی معاوضۂ تبلیغ نہیں چاہتا ‘ بس اتنا چاہتا ہوں کہ میرے تمہارے درمیان .... جو قرابتداری ہے ‘ اس کو جوڑے رکھو (منقطع نہ کرو) ۔
بغوی نے شعبی کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ مودت فی القربٰی سے مراد یہ ہے کہ تم میری قرابت کا لحاظ کرو ‘ مجھ سے (حسب تقاضاء قرابت) مودت کرو اور میرے رشتۂ قرابت کو جوڑے رکھو۔ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ مقاتل ‘ سدی اور ضحاک نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : مطلب یہ ہے کہ میں تم سے دعوت و تبلیغ کی کسی اجرت کا طلبگار نہیں ہوں ‘ صرف اتنا چاہتا ہوں کہ میرے تمہارے درمیان جو قرابت ہے ‘ اس کی پاس داری کرو۔ آیت کا وہ مطلب نہیں ہے جو بڑے جھوٹے کاذب بیان کرتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں : یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ اس کا نزول تو مکہ میں ہوا تھا ‘ مکہ میں مشرکین رسول اللہ ﷺ کو دکھ پہنچاتے تھے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ سے مودت رکھنے اور رشتۂ قرابت کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ‘ پھر مکہ سے ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ مدینہ میں پہنچے ‘ اور انصار نے آپ کو اپنے پاس جگہ دی اور ہر طرح آپ کی مدد کی تو اللہ نے یہ بات پسند کی کہ جو حکم دوسرے انبیاء کو دیا تھا ‘ وہی حکم آپ کو بھی دے دیا اور (پچھلا حکم منسوخ کر کے) فرمایا : وَمَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہی بات تمام انبیاء نے اپنی امتوں سے کہی تھی ‘ رسول اللہ ﷺ کو بھی مختلف آیات میں یہی کہنے کا حکم دیا گیا۔ ضحاک بن مزاحم اور حسین بن فضل نے آیت الا المودۃ فی القربٰی کو منسوخ مانا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ قول ناپسندیدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور ہر دکھ کو حضور ﷺ سے دور کرنا اور آپ کے اقارب سے بھی محبت کرنا تو دینی فرائض میں سے ہے۔
میں کہتا ہوں : اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اور آپ کے اقارب سے محبت تو فرض محکم ہے ‘ جو منسوخ نہیں ہوسکتا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی (اس وقت تک) مؤمن نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کی نظر میں اس کے باپ ‘ اولاد اور سب لوگوں سے محبوب (نہ) ہوں۔
یہ بھی حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین باتیں ہیں ‘ جس کے اندر یہ تین باتیں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی لذت پائے گا : (1) اس کو اللہ اور رسول ﷺ کی محبت تمام ماسوا سے زیادہ ہو۔ (2) اگر اس کو محبت کسی شخص سے ہو تو محض اللہ کے واسطے ہو۔ (3) اللہ نے جب اس کو کفر سے نجات دے دی ہو تو پھر دوبارہ کفر میں داخل ہونے کو وہ اتنا ہی ناگوار سمجھتا ہو جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ‘ رواہما الشیخان فی الصحیحین ‘ اسی پر اجماع امت ہے۔
ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کیلئے اجرت طلبی کا حکم منسوخ کردیا گیا ہو۔
اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی کی تفسیر بروایت مجاہد ‘ حضرت ابن عباس سے اس طرح منقول ہے کہ تم اللہ سے محبت کرو اور طاعت کے ذریعہ سے اس کا قرب حاصل کرو۔ حسن کا بھی یہی قول ہے ‘ حسن نے کہا کہ قربٰی سے قرب خدا مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طاعت اور عمل صالح کے ذریعہ سے تم اللہ کے مقرب اور محبوب ہوجاؤ۔ بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میں تم سے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ میرے قرابت داروں سے اور میری اولاد سے تم محبت کرو اور ان کے معاملہ میں میرا لحاظ کرو۔ یہ قول سعید بن جبیر اور عمرو بن شعیب کا ہے۔ ابن ابی حاتم ‘ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کے قرابت داروں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا : علی اور فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے۔
فرقۂ شیعہ نے اس حدیث کی روشنی میں اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ تینوں سابق خلفاء کی خلافت صحیح نہ تھی ‘ خلیفہ صرف حضرت علی تھے کیونکہ اللہ نے اس آیت میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی مذکورہ تشریح میں حضرت علی کی محبت فرض قرار دی ہے اور حضرت علی کے سوا دوسروں کی محبت واجب نہیں ہے اور محبت کا لازمی تقاضا ہے کہ محبوب کی طاعت واجب ہو ‘ اسلئے حضرت علی کے سوا کسی کی خلافت صحیح نہیں ہوئی۔ فرقۂ شیعہ کا یہ استدلال بوجوہ ذیل غلط ہے :
نمبر 1: حدیث مذکور کی سند میں ایک راوی حسین اشعری ہے جو سخت شیعی ہے ‘ اسلئے یہ حدیث ہی صحیح نہیں ہے ‘ پھر آیت مکی ہے اور مکہ میں حضرت سیدہ کا کوئی لڑکا ہوا ہی نہ تھا۔
نمبر 2: یہ تسلیم ہے کہ حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ اور دونوں صاحبزادوں کی محبت واجب ہے ‘ لیکن اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ دوسروں کی محبت واجب نہ ہو۔ دیکھو ! ابن عدی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر و عمر سے محبت رکھنی ایمان ہے اور ان دونوں سے بغض رکھنا کفر ہے۔ یہ بھی حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ابوبکر و عمر کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض کفر ہے اور انصار کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض کفر ہے اور عرب کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے دشمنی کفر ہے ‘ اور جس نے میرے صحابہ کو گالی دی ‘ اس پر اللہ کی لعنت ‘ اور جو ان کے معاملہ میں میرا لحاظ رکھے گا ‘ میں قیامت کے دن اس کا لحاظ رکھوں گا ‘ رواہ ابن عساکر عن جابر۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار سے محبت ایمان کی نشانی اور انصار سے عداوت نفاق کی علامت ہے ‘ رواہ النسائی عن انس۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریش سے محبت کرنی ایمان ہے اور ان سے دشمنی کرنا کفر ہے ‘ عرب کی محبت ایمان ہے اور ان سے عداوت کفر ہے۔ جس نے عرب سے محبت کی ‘ اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عرب سے عداوت کی ‘ اس نے مجھ سے عداوت کی ‘ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس۔
پھر فرقۂ شیعہ کا یہ قول کہ جس کی محبت واجب ہے ‘ وہی امام (خلیفہ) ہوگا اور اس کی طاعت واجب ہوگی ‘ غلط ہے۔
بعض علماء کے نزدیک القربٰی سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ قرابت دار جن کیلئے زکوٰۃ لینی ناجائز تھی ‘ یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب۔ بنی مطلب ‘ بنی ہاشم سے جاہلیت کے دور میں بھی الگ نہ تھے اور اسلام کے بعد بھی علیحدہ نہیں ہوئے۔
بعض نے کہا : حضرت علی ‘ حضرت عقیل ‘ حضرت جعفر اور حضرت عباس کی نسل مراد ہے ‘ انہی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جاؤں گا : اول اللہ کی کتاب جس کے اندر ہدایت اور نور ہے ‘ اس کو لو اور مضبوطی سے پکڑے رہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ سے مسلمانوں کو کتاب اللہ کے موافق عمل کرنے پر برانگیختہ کیا اور ترغیب دی ‘ پھر فرمایا : (وویم) میرے اہل بیت ہیں ‘ اپنے اہل بیت کے معاملہ میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں ‘ میں اپنے اہل بیت کے معاملہ میں تم کو اللہ کی یاددہانی کرتا ہوں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت زید بن ارقم سے دریافت کیا گیا : رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کون تھے ؟ فرمایا : علی ‘ عقیل اور عباس کی اولاد۔
ایک شبہ : تبلیغ دین رسول اللہ ﷺ پر فرض تھی اور اداء فرض کی اجرت طلب کرنی جائز نہیں بلکہ نفل عبادت کی اجرت کی طلب بھی کسی طرح درست نہیں ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کا اپنے قرابتداروں کی محبت کو تبلیغ رسالت کا اجر قرار دینا اور اس کا حکم دینا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ آیت مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَالَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْب کی تفسیر میں نے ہم نے اسکی تشریح کردی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کردیا ہے کہ جو آخرت کا عمل دنیا کیلئے کرے گا ‘ اسکا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
ازالہ : مودت کو تبلیغ کا اجر قرار دینا حقیقی نہیں مجازی ہے ‘ اجرت جیسی شکل ہونے کی وجہ سے مودت کو اجر کہا گیا ‘ کیونکہ حقیقی اجرت تو وہ ہوتی ہے جو اجرت کے طلبگار کیلئے مفید ہو اور وہ خود اس سے فائدہ اندواز ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی اور اپنے اقرباء کی مودت طلب کی اور اللہ نے آپ کو مودت طلب کرنے کا حکم دیا ‘ وہ صرف مودت کرنے والوں کیلئے فائدہ رساں ہے (رسول اللہ ﷺ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا) رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے کا محبت کرنے والے کو فائدہ پہنچتا ہے ‘ وہ اللہ کا محبوب ‘ مقرب اور دوست ہوجاتا ہے اور اس محبت سے اس کو کمال ایمان کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے میرے نزدیک آیت مذکورہ میں مودت فی القربٰی کی یہی تفسیر زیادہ صحیح ہے کہ میں تم سے بس یہ چاہتا ہوں کہ میرے اقرباء ‘ میرے اہل بیت اور میری اولاد سے محبت کرو۔ رسول اللہ ﷺ تو آخری نبی تھے ‘ اپ کے بعد اور کوئی نبی ہونے والا نہ تھا ‘ آپ کے بعد فرض تبلیغ کو ادا کرنے والے علماء امت ہی ہیں ‘ علماء ظاہر ہوں یا علماء باطن (یعنی فقہاء اور محدثین ہوں یا ائمۂ تصوف) اللہ نے اپنے نبی کو اسی لئے حکم دیا ہے کہ آپ امت کو اپنے اہل بیت سے محبت رکھنے کی تبلیغ کریں کیونکہ امام المسلمین حضرت علی اور ائمۂ اہل بیت جو آپکی نسل سے ہوئے ‘ کمالات ولایت کے قطب تھے ‘ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہر (میں داخل ہونے) کا درواز ہیں ‘ رواہ البزار والطبرانی عن جابر۔ اس روایت کی تائیدی شواہد وہ حدیثیں بھی ہیں جن کے راوی حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت علی ہیں۔ حاکم نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ‘ یہی باعث ہے کہ اکثر مشائخ کے سلسلے ائمۂ اہل بیت تک پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں۔ سادات عظام میں بہت کثرت سے اولاء ہوئے ہیں ‘ جیسے غوث الثقلین محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی حسنی حسینی اور شیخ بہاء الدین نقشبند اور سید مودود چشتی اور سید معین الدین چشتی اور سید ابو الحسن شاذلی وغیرہ۔ یہی مراد ہے حدیث مبارک انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی کی۔ اکثر علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ الاَّ الموّدۃ فی القربٰی میں استثناء منقطع ہے اور (الاّ کا معنی ہے لٰکن اور) اجر اپنے حقیقی معنی پر ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کسی معاوضہ کا بالکل طلبگار نہیں ‘ لیکن میری قرابت جو تم سے ہے ‘ اس کی یاددہانی کرتا ہوں اور مودت قرابت چاہتا ہوں۔ حضرت زید بن ارقم کی روایت کردہ حدیث اذکرکم اللہ فی اھل بیتی میں اسی مطلب کا اظہار کیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی اور اپنے اہل بیت کی محبت رکھنے کا حکم امت کو دیا ‘ تاکہ امت کو فائدہ پہنچے ‘ اس کی تائید آئندہ آیت سے ہو رہی ہے۔ فرمایا ہے :
ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا اللہ اللہ غفور شکور اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ‘ ہم اس میں
اور خوبی بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا (اور) بڑا قدردان ہے۔
حَسَنَۃً سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل اور نائبوں کی محبت ‘ ورنہ سابق عبادت اور اس جملہ میں کوئی ربط نہ ہوگا البتہ لفظ حسنہ عام ہے ‘ ہر نیکی کو شامل ہے۔ اللہ حسنۃ میں اور خوبی بڑھا دیتا ہے ‘ اسکی وجہ یہ ہے کہ آل رسول یعنی مشائخ طریقت سے محبت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھ جاتی ہے اور محبت رسول کی ترقی سے محبت خدا میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے مشائخ صوفیہ کہتے ہیں کہ صوفی کو پہلے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل ہوتا ہے ‘ پھر فنا فی الرسول کا اور آخر میں فنا فی اللہ کا۔ فنا سے مراد ہے ایسی شدت محبت کہ محبوب کی یاد کے وقت نہ اپنا پتہ رہے ‘ نہ کسی دوسرے کا ‘ سوائے محبوب کے ہر نشان مٹ جائے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں ہوا۔ بخاری نے صحیح میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اہل بیت رسول کے معاملہ میں محمد ﷺ کا لحاظ کرو۔
اِنَّ اللہ غَفُوْرٌ یعنی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اولیاء سے جو شخص محبت رکھتا ہے ‘ اللہ اسکے گناہ معاف کرنے ولا ہے۔ شاید یہی مطلب ہے آیت لِیَغْفِرَلَکَ اللہ مَا تَقَدْمَ مِنْ ذَنْبِکَم وَمَا تَأخَّرَ کا۔ ما تأخّر سے مراد اس جگہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والوں اور آپ کے دوستوں کے گناہ ہیں۔
شَکُوْرٌ یعنی طاعت و محبت کرنے والوں کی طاعت و محبت کا قدردان ہے۔
Ayah 42:24ام یقولون افتری علی اللہ کذبا کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے) اللہ پر دروغ بافی کی ہے ؟ یعنی کفار مکہ معاوضۂ رسالت تو ادا نہیں کرتے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اللہ پر بہتان تراشی کی ہے کہ نبوت کا مدعی بن بیٹھا ہے ‘ یا قرآن کو اللہ کی کتاب کہتا ہے۔
فان یشا اللہ یختم علی قبلک سو اللہ اگر چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے۔ یعنی محمد ﷺ جیسے شخص
سے کذب تراشی اور بہتان بندی کا صدور بعید (ازعقل) ہے۔ دروغ بندی کی جرأت تو وہی کرسکتا ہے جس کے دل پر اللہ کی طرف سے گمراہی کی مہر لگ چکی ہو اور اپنے رب کو پہچانتا نہ ہو ‘ لیکن جو صاحب بصیرت اور خدا شناس ہو وہ ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ گویا حاصل مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ آپ کو بےمدد چھوڑنا چاہتا تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتا کہ آپ اللہ پر دروغ بندی کرنے لگتے۔
مجاہد نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا : اگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر صبر کی مہر لگا دے گا کہ پھر آپ کیلئے کافروں کی طرف سے اذیت رسانی شاق نہیں رہے گی اور کافر جو آپ کو تہمت تراش کہہ رہے ہیں ‘ اس سے آپ کو دکھ نہ ہوگا۔ قتادہ نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے : اگر اللہ چاہتا تو آپ کے دل پر چھاپ لگا دیتا کہ آپ کو قرآن فراموش ہوجاتا۔ آپ ان کو بتا دیجئے کہ اگر میں اللہ پر کذب تراشی کرتا تو اللہ میرے دل پر نسیان کی چھاپ لگا دیتا۔
ویمع اللہ الباطل ویحق الحق بکلمتہ ان علیم بذات الصدور اور اللہ باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق
کو اپنے احکام سے ثابت کیا کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ دلوں کی باتیں جاننے والا ہے۔
یہ جملہ استینافیہ ہے جو (مدلل طریقہ سے) نفی افترا کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول افترا پرداز ہوتے تو ان کے افترا کو اللہ مٹا دیتا ‘ کیونکہ اللہ کا دستور یہی ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو وحی کے ‘ یا فیصلے کے ذریعہ سے ثابت کرتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ باطل کو مٹائے گا اور حق کو قرآن یا فیصلے کے ذریعہ سے ثابت کرے گا ‘ اس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا ‘ باطل کو مٹا دیا اور کافروں کے مقابلہ میں اپنے احکام بھیج کر اسلام کا بول بالا کردیا۔
اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَات الصُّدُوْرِ بغوی نے اور طبرانی نے کمزور سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب آیت قُلْ لَّآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا الاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی نازل ہوئی تو کچھ لوگوں کے دلوں میں ایک شیطانی خیال یہ پیدا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بعد اپنے اقرباء کے اتباع پر ہم کو اس طرح آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت جبرئیل آئے اور رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ کچھ لوگوں کے دلوں میں آپ کے متعلق اس طرح کے جھوٹے خیال پیدا ہوئے ہیں اور اللہ نے آیت اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَات الصُّدُوْرِ نازل فرمائی۔ جب حضور ﷺ نے یہ آیت لوگوں کو سنائی تو غلط خیال رکھنے والوں نے توبہ کی اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور سچے ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 42:25وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیات ویعلم ما تفعلون اور وہ ایسا (رحیم) ہے
کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور تمام (گذشتہ) گناہ معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اس (سب) کو جانتا ہے۔
عَنْ عِبَادِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اپنے اولیاء اور طاعت گذار بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : قبلت منہ الشیء میں نے اس سے وہ چیز لے لی اور قبلت عنہ الشیء میں نے وہ چیز اس سے الگ کردی۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ توبہ کے معنی ہیں دل سے معاصی کو ترک کرنے کا پکا ارادہ کرنا اور عملاً گناہ کو ترک کرنا اور دل سے طاعت کی پختہ نیت کرنا اور عملاً طاعت کرنا۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : توبہ سے مراد ہے برے احوال کو چھوڑ کر اچھے احوال کی طرف منتقل ہوجانا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : گذشتہ گناہوں سے توبہ کرنے کے چھ معانی ہیں : (ا) فرائض کے ضائع کردینے پر پشیمانی۔ (2) فرائض کو دوبارہ ادا کرنا۔ (3) حقوق لوٹا کر دے دینا۔ (4) جس طرح نفس کو گناہوں میں گھلایا ہو ‘ اسی طرح نفس کو طاعت میں پگھلانا۔ (5) جیسے پہلے نفس کو گناہوں کی لذت چکھائی ہو ‘ اسی طرح نفس کو طاعت کی تلخی چکھانا۔ (6) جیسے پہلے ہنستا رہا تھا ‘ اسی طرح اب رونا۔
بغوی نے شرح السنۃ میں حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے : ندامت ‘ توبہ ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔
فصل : حارث بن سوید کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اللہ کی عیادت کرنے گیا ‘ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : اگر کوئی شخص ہلاکت آفریں صحرا میں ہو اور اس کی اونٹنی بھی اس کے ساتھ ہو ‘ جس پر اس شخص کے کھانے پینے کا سامان ہو ‘ پھر یہ شخص ایک جگہ اتر کر سو جائے اور اونٹنی کسی طرف کو چلی جائے۔ جب یہ شخص بیدار ہو تو اونٹنی موجود نہ ہو۔ یہ شخص اونٹنی کی تلاش میں (دور دور) گھومتا پھرے ‘ یہاں تک کہ سخت پیاس لگنے لگے (مگر پانی نہ ملے) آخر وہ فیصلہ کرلے کہ اب مجھے اسی مقام پر جا کر مرجانا چاہئے جہاں اونٹنی تھی ‘ یہ سوچ کر وہ واپس آجائے اور (مرنے کیلئے) آنکھیں بند کرلے۔ کچھ دیر کے بعد جو آنکھیں کھلیں تو اس کو اپنے پاس ہی اونٹنی کھانے پانی سے لدی ہوئی مل جائے۔ ایسے آدمی کو جتنی خوشی ہوتی ہے ‘ اللہ کو اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے ‘ رواہ البغوی۔
مسلم نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی ویران بیابان میں ہو اور اس کی اونٹنی بھی ساتھ ہو ‘ جس پر اس آدمی کا کھانا پانی لدا ہو ‘ پھر اونٹنی گم ہوجائے (یعنی یہ شخص کہیں اتر کر سو جائے اور اونٹنی کسی طرف چلی جائے اور ہرچند تلاش کرے مگر اونٹنی نہ ملے) آخر ناامید ہو کر کسی درخت کے سایہ میں جا کر لیٹ رہے اور (جب آنکھ کھلے تو) اونٹنی کو اپنے پاس کھڑا پائے ‘ اونٹنی کو دیکھتے ہی اس کی مہار پکڑ لے اور شدت مسرت سے غلطی سے بول اٹھے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں (یعنی مسرت سے اتنا مغلوب ہوجائے کہ اس کو ہوش ہی نہ رہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں) یہ شخض جتنا اونٹنی کے ملنے سے خوش ہوگا ‘ اللہ اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب (گناہ کا) اقرار کرتا ہے ‘ پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
یہ بھی مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب کی جانب سے سورج برآمد ہونے سے پہلے جو توبہ کرے گا ‘ اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔
ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گناہ سے توبہ کرلینے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔
وَیَغْفُوْ عَنِ السَّیِّاٰتِ یعنی صغیرہ اور کبیرہ گناہ سب معاف کردیتا ہے ‘ خواہ گناہگار نے توبہ کی ہو یا نہ کی ہو ‘ اگر اللہ چاہتا ہے تو معاف فرما دیتا ہے۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی تھا جس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا۔ جب وہ مرنے لگا تو اس نے گھر والوں کو وصیت کردی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا (کر خاکستر کر) دینا ‘ پھر آدمی خاک خشکی میں اور آدھی دریا میں اڑا دینا ‘ کیونکہ خدا کی قسم ! اگر اللہ نے (مجھ پر ( قابو پا لیا تو وہ عذاب دے گا کہ کسی آدمی کو ایسا عذاب نہیں دے گا۔ غرض جب وہ مرگیا تو گھر والوں نے وہی کیا جیسا اس نے کہا تھا۔ اسکے بعد اللہ نے سمندر کو حکم دیا ‘ سمندر نے وہ خاک جمع کردی جو اس کے اندر تھی اور خشکی نے بھی حسب الحکم جو راکھ اس میں تھی ‘ وہ سمیٹ کر یکجا کردی ‘ پھر اللہ نے اس سے فرمایا : تو نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس شخص نے عرض کیا : اے میرے رب ! تیرے خوف سے ایسا کیا تھا ‘ تو خوب واقف ہے۔ اللہ نے اس کو بخش دیا۔
حضرت ابو درداء کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور میں نے خود سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن (جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کیلئے دو جنتیں ہوں گی) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے دوبارہ بھی یہی فرمایا : ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن۔ میں نے دوبارہ یہی عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے پھر تیسری بار بھی ولمن خاف مقام ربہ جنّتٰن فرمایا۔ میں نے بھی تیسری بار یہی کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو ؟ فرمایا : ابو درداء ناک مٹی میں رگڑے (تب بھی اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرنے والوں کیلئے دو جنتیں ہوں گی) رواہ احمد۔
ویعلم ما تفعلون اس میں خطاب مشرکوں کو ہے۔
Ayah 42:26ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ والکفرون لھم عذاب شدید
اور ان لوگوں کی (عبادت یا دعا) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں ‘ ان کیلئے سخت عذاب ہے۔
وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یعنی اللہ نیکوکار ایمان داروں کی دعا قبول کرتا ہے۔ الّذین سے پہلے لام محذوف ہے ‘ اصل میں لِلّذین تھا جیسے آیت وَاِذَا کَالُوْھُمْ میں محذوف ہے ‘ اصل میں وَاِذَا کَالُوْالَھُمْ تھا۔
بروایت عطاء ‘ حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یستجیب کا معنی ہے میثیب ‘ یعنی اللہ ثواب دیتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : استجابت کا معنی ہے طاعت کا ثواب دینا کیونکہ طاعت بھی دعا اور درخواست کی طرح ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارک ہے : اعلیٰ ترین دعا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہے ‘ اخرجہ الترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان من حدیث جابر۔ روایت میں آیا ہے کہ ابراہیم بن ادہم سے کسی نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہی مگر ہماری دعا قبول نہیں ہوتی ؟ ابراہیم نے جواب دیا : اسلئے قبول نہیں ہوتی کہ اللہ نے تم کو (طاعت کی) دعوت دی اور تم نے اس کی دعوت قبول نہیں کی۔
وَیَزِیْدُھُمْ یعنی ان کی دعا یا استحقاق سے زائد دیتا ہے۔ ابو صالح کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : یعنی ان کے بھائیوں (دوستوں) کیلئے ان کی سفارش قبول فرمائے گا اور زیادہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بھائیوں اور دوستوں کے حق میں بھی ان کی شفاعت قبول کرے گا۔
لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ یعنی مؤمنوں کو جتنا ثواب ملے گا ‘ کافروں کو اس کے مقابلہ میں اتنا ہی سخت عذاب ہوگا۔
Ayah 42:27ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبادہ خبیر
بصیر اور اگر اللہ اپنے (سب) بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگے ‘ لیکن وہ اندازے کے مطابق جتنا (رزق) چاہتا ہے ‘ اتارتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں (کے مصالح) کو جاننے والا ‘ دیکھنے والا ہے۔
وَلَوْ بَسَطَ اللہ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت خباب بن ارت نے فرمایا : یہ آیت ہمارے حق میں اتری تھی۔ ہم نے دیکھا کہ بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور بنی قینقاع بڑے کشادہ حال ہیں ‘ ان کو دیکھ کر ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
لَبَغَوْا یعنی دولت کے غرور میں آجاتے اور ملک میں تباہی مچاتے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ایک دوسرے سے اونچا ہوتا اور اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بغٰی کا یہ معنی ہے کہ ایک مکان کے بعد دوسرے مکان کے ‘ اور ایک سواری کے ملنے کے بعد دوسری سواری کے ‘ اور ایک لباس کے بعد دوسرے لباس کے طلبگار ہوتے۔ بغٰی کا اصل معنی یہ ہے کہ جو چیزیں مقدار اور کیفیت کے لحاظ سے کم و بیش ہوسکتی ہوں ‘ ان کی طلب میں نقطۂ اعتدال سے تجاوز نہ کرنا۔
وَلٰکِنُ یُّنْزِّلُ لیکن وہ رزق نازل فرماتا ہے۔
بِقَدَرٍ اندازہ کے ساتھ ‘ یعنی جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔
بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ یعنی اللہ اپنے بندوں کے پوشیدہ احوال اور نتائج کو جانتا ہے۔
حضرت علی نے فرمایا : اس آیت کا نزول اصحاب صفہ کے حق میں ہوا تھا۔ اصحاب صفہ (وہ غریب لوگ جو علم دین حاصل کرنے کیلئے مدینہ میں مسجد نبوی سے باہر ایک چبوترہ پر اقامت گزیں تھے) کے دلوں میں مالدار ہونے کی تمنا پیدا ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا : کاش ہمارے پاس بھی مال ہوتا ‘ اخرجہ الحاکم وصححہ۔ طبرانی نے حضرت عمروابن حریث کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
بغوی نے حضرت انس بن مالک کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحوالۂ جبرئیل ‘ باری تعالیٰ کا یہ قول بیان فرمایا ہے کہ جو میرے کسی ولی کی توہین کرتا ہے ‘ وہ مجھ سے جنگ کرنے کیلئے میرا مقابلہ کرتا ہے۔ میں اپنے اولیاء (کی حمایت) کیلئے ایسا غضبناک ہوں جیسا غضبناک شیر غضب میں آجاتا ہے۔ میرا مؤمن بندہ میرا مقرب (اور کسی طریقہ سے) اتنا نہیں ہوتا جتنا میرا مقرر کردہ فریضہ ادا کرنے سے ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے میرا مؤمن بندہ برابر میرا مقرب ہوتا چلا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں ا سے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر میں اس کے کان اور آنکھیں اور ہاتھ ہوجاتا ہوں اور اس کا مددگار بن جاتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں اور مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں۔ جس کام کو میں کرنے والا ہوتا ہوں ‘ اس کے کرنے میں مجھے ایسا تردد نہیں ہوتا جتنا اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مرنے کو ناگوار جانتا ہو تو مجھے اس کو دکھ دینا پسند نہیں ہوتا ‘ مگر مرنے کے بغیر اس کیلئے کوئی چارہ نہیں ہوتا (اسلئے قبض روح کی تکلیف اس کو دیتا ہوں) میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے باب عبادت (کھولنے) کی درخواست کرتے ہیں لیکن میں ان کو اس سے روک دیتا ہوں ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اندر غرور پیدا ہوجائے اور اس سے ان کی حالت بگڑ جائے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جن کے ایمان کو صرف مال ہی درست رکھ سکتا ہے ‘ اگر میں ان کو محتاج بنا دوں تو ان کا ایمان بگڑ جائے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ افلاس ہی ان کے ایمان کو درست رکھ سکتا ہے ‘ اگر میں ان کو غنی کر دوں تو مال ان کے ایمان کو خراب کرے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو صرف جسمانی تندرستی ہی صحیح رکھ سکتی ہے ‘ اگر میں ان کو بیمار کر دوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑ دے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ بیماری ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھ سکتی ہے ‘ اگر میں ان کو تندرست کر دوں تو صحت ان کے ایمان کو خراب کر دے۔ میں اپنے بندوں کے کاموں کا اپنے علم کے مطابق انتظام کرتا ہوں ‘ مجھے ان کے دلوں کی حالت معلوم ہے ‘ میں بخوبی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
Ayah 42:28وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ وھو الولی الحمید اور وہ ایسا ہے
جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی (سب کا) کارساز ‘ مستحق ستائش ہے۔
الْغَیْثَ مفید بارش ‘ جو کال کے وقت مخلوق کی فریاد رسی کرتی ہے۔
رَحْمَتَہٗ رحمت سے مراد یا مینہ ہے یا وہ خداداد رزق جو میدانوں میں اور پہاڑوں پر پیدا ہوتا ہے ‘ یعنی نباتات اور جانور۔
الْوَلِیُّ کارساز ‘ بندوں پر احسان کرنے والا ‘ ذمہ دار۔
الْحَمِیْدُ مستحق ستائش۔ جس کی ذات فی نفسہٖ بھی مستحق حمد ہے اور چونکہ وہ محسن ہے ‘ اسلئے بھی مستحق ستائش ہے۔
Ayah 42:29ومن ایتہ خلق السموت والارض ومابث فیہمامن دابۃ وھو علی جمعھم اذا یشاء قدیر
اور منجملہ اس کی نشانیوں کے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان جانداروں کا پیدا کرنا جن کو اس نے آسمان و زمین میں پھیلا رکھا ہے اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے پر قادر ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِہٖ اور اللہ کے وجود ‘ وحدانیت ‘ قدرت اور صفات کاملہ کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کو پیدا کرنا بھی ہے۔ آسمان و زمین کی ذات ‘ کیفیات اور حالات اللہ کے وجود پر اور خالق و صانع اور قادر و دانا ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔
مِنْ دَآبَّۃً ‘ دابّہ سے مراد ہے جاندار (دابۃ کا لغوی معنی ہے رینگنے والا اور زندگی ہی رینگنے کا سبب ہے) پس مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے۔ اس ترجمہ پر لفظ دابۃ تمام جانداروں کو شامل ہوگا ‘ ملائکہ ہوں یا جن و انس یا جانور۔ یا دابۃ سے مراد ہیں زمین پر چلنے والے جانور ‘ اس صورت میں فیھما کی ضمیر تثنیہ اگرچہ آسمان و زمین کی طرف راجع ہے ‘ لیکن مراد زمین ہے کیونکہ زمین میں جو چیز موجود ہوگی ‘ وہ زمین و آسمان کے مجموعہ میں ضرور موجود ہوگی۔
وَھُوَ عَلٰی جَمْعِھِمْ الخ اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ پس قیامت کے دن جمع کرے گا۔
Ayah 42:30وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر اور (اے گناہگارو ! ) تم کو جو مصیبت
پہنچتی ہے ‘ وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگذر ہی فرماتا ہے۔
فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے۔
مَآ اَصَابَکُمْ میں مَا شرطیہ ہے یا موصولہ ‘ جس کے اندر شرط کا معنی ہے۔
وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ اس جملہ کا عطف سابق جملۂ اسمیہ ہے ‘ یا جملہ معترضہ ہے۔
حسن نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم نے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی لکڑی کی چبھن اور کسی قدم کی لغزش اور کسی رگ کی پھڑک بغیر گناہ کے نہیں ہوتی اور بہت سے گناہ تو وہ ہوتے ہیں جن سے اللہ درگذر فرماتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے ‘ رواہ الحاکم فی المستدرک ‘ والبیہقی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : کیا میں تم کو کتاب اللہ کی بہت بڑھیا آیت بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمائی تھی ؟ وہ آیت ہے : وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرِ ۔ میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں : وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ یعنی کوئی بیماری یا عذاب یا کوئی دنیوی بلاء۔ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (دنیا میں پاداش عمل کے بعد) اللہ آخرت میں دوہری سزا نہیں دے گا ‘ اس کی شان اس سے برتر ہے اور جس جرم سے دنیا میں درگذر فرما دی تو معافی کے بعد پھر لوٹ کر اس کی آخرت میں سزا نہیں دے گا ‘ وہ احکم الحاکمین ہے۔ رواہ احمد وغیرہ۔
بیضاوی نے لکھا ہے : آیت میں خطاب مجرموں کو ہے اور مجرموں ہی کیلئے آیت کا حکم خاص ہے کیونکہ جو گناہگار نہ ہوں ‘ ان پر مصیبت دوسری وجوہ سے آتی ہے۔ مثلاً یہ مقصد ہوتا ہے کہ مؤمن صبر کرے تاکہ اجر عظیم کا مستحق ہوجائے۔
بغوی نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے : بندہ کے جو ذرا سی کھرونچ لگ جاتی ہے ‘ وہ یا تو اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اللہ اس کے بغیر اسکا گناہ معاف کرنے والا نہیں ہوتا ‘ یا کسی مرتبہ پر پہنچانے کیلئے ہوتی ہے کہ بغیر اس دکھ کے اللہ اس مرتبہ پر اس کو پہنچانے والا نہیں ہوتا (یعنی یا اس سے کوئی گناہ معاف کیا جاتا ہے ‘ یا ترقئ درجہ حاصل ہوتی ہے) ۔
Ayah 42:31وما انتم بمعجزین فی الارض وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر اور تم زمین میں (پناہ
لے کر) اس کو ہرا نہیں سکتے اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا حامی و مددگار نہیں۔
وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ یعنی جن مصائب کا فیصلہ تمہارے لئے کردیا گیا ‘ اس سے تم چھوٹ نہیں سکتے (بچ نہیں سکتے) اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی حامی نہیں جو تم کو بچا سکے ‘ نہ کوئی مددگار ہے کہ مصائب کو دفع کرسکے۔
Ayah 42:32ومن ایتہ الجوار فی البحر کالاعلام۔ اور منجملہ اسکی نشانیوں کے وہ جہاز ہیں جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
Ayah 42:33ان یشا یسکن الریح فیظلن رواکد علی ظھرہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور۔ اگر اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور نتیجہ یہ نکلے کہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بلاشبہ اس میں ہر صابر و شاکر (مؤمن) کیلئے (قدرت خداوندی کی) بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 42:34او یوبقھن بما کسبوا ویعف عن کثیر یا (اگر اللہ چاہے تو) جہازوں کو ان کے (بد) اعمال کی وجہ سے تباہ کر دے اور (ان میں) بہت سے آدمیوں سے درگذر کر جائے۔
الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔ کَالْاَعْلاَمِ ایسے جہاز جو پہاڑوں کی طرح (دکھائی دیتے) ہیں۔ رَوَاکِدَا رکے ہوئے۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ سمندر کی پشت پر (یعنی سطح پر) صَبَّارٍ شَکُوْرٍ یعنی مؤمن کیلئے۔ مصیبت اور سختی پر صبر اور راحت و آسائش کے وقت شکر مؤمن کا شیوہ ہے ‘ اسلئے صبار شکور سے مؤمن مراد ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے دو حصے ہیں ‘ آدھا صبر میں ہے اور آدھا شکر میں ‘ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس۔
اَوْیُوْبِقْھُنَّ یا جہازوں کو تباہ کر دے ‘ اس جملہ کا عطف فَیَظْلَلْنَ پر ہے ‘ یا اِنْ یَّشَایُسْکِنِ الرِّیْحَ پر ‘ یعنی ہوا کو روک دے اور روکے رہے کہ جہازوں کے مسافر ہلاک ہوجائیں ‘ جہاز ڈوب جائیں۔ بعض نے کہا : یسکن الریح پر عطف ہے ‘ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور جہاز کھڑے کھڑے رہ جائیں ‘ یا طوفان پیدا کر دے اور جہازوں کو ڈبو دے۔
وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْر یہ جملہ معترضہ ہے ‘ یعنی بہت آدمیوں سے درگذر کرے اور ان کو بچا لے۔
یا یہ جملہ معطوفہ ہے ‘ سابق کلام پر اس کا عطف ہے ‘ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے کہ جہاز کھڑے رہ جائیں یا طوفان بھیج دے کہ جہاز تباہ ہوجائیں اور آدمی ڈوب جائیں ‘ یا موافق ہوائیں چلاتا رہے ‘ اور کثیر لوگوں سے درگذر فرمائے۔
Ayah 42:35ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا ما لم من محیص اور (اس تباہی کے وقت) ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں ‘ معلوم ہوجائے کہ (اب) ان کیلئے کہیں بچاؤ نہیں۔ یعنی اگر اللہ چاہے تو ہواؤں کو روک دے ‘ تاکہ جہاز کے مسافروں سے انتقام لے لے اور جو لوگ آیات خداوندی کی تکذیب کرتے اور ان کو باطل قرار دیتے ہیں ‘ ان کو معلوم ہوجائے کہ اب عذاب سے رہائی ممکن نہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی تکذیب کرتے اور آیات خداوندی سے سبق اندوز نہیں ہوتے ‘ قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے جائیں تو ان کو معلوم ہوجائے کہ عذاب سے بھاگنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔
Ayah 42:36فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا وعلی ربھم
یتوکلون سو جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے ‘ وہ (محض چند روزہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے اور (آخرت میں) جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے ‘ وہ بدرجہا بہتر اور زیادہ پائیدار ہے (اور یہ) ان لوگوں کیلئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
فَمَآ اُوْتِیْتُمْ یعنی دنیا میں جو کچھ تم کو دیا گیا ہے۔
فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ سو وہ دنیوی زندگی میں برتنے کا سامان ہے ‘ اس زندگی میں اس سے فائدہ اندوز ہوسکتے ہو ‘ لیکن دنیوی زندگی فناپذیر ہے ‘ یہ سامان آخرت کیلئے توشہ نہیں ہے ‘ اسلئے تو بقدر ضرورت اس میں سے لے لو اور جو چیز آخرت سے غافل بنائے اسکو چھوڑ دو ۔
وَمَا عِنْدَ اللہ یعنی آخرت میں جو ثواب اللہ کے پاس ہے۔
خَیْرٌ بہتر ہے۔ مقدار ‘ کیفیت ‘ فائدہ ہر لحاظ سے بہتر ہے ‘ وہ سراسر فائدہ ہی فائدہ ہے۔
لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ حضرت علی کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے اپنا سارا مال خیرات کردیا ‘ کچھ لوگوں نے اس فعل پر آپ کو ملامت کی ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اس آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ ہر انسان کیلئے مؤمن ہو یا کافر ‘ دنیا متاع حیٰوۃ ہے۔ دونوں اس سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں ‘ لیکن آخرت میں جو ثواب اللہ کے پاس ہے ‘ وہ مؤمنوں کیلئے بہمہ جہات بہتر ہے۔
Ayah 42:37والذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش اور جو کبیرہ گناہوں سے اور (ان میں سے خصوصاً ) بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔
وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کا عطف اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ پر ہے ‘ یعنی ثواب آخرت ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ فواحش بھی کبیرہ گناہ ہی ہوتے ہیں۔ سدی نے کہا : اس سے مراد زنا ہے۔ مقاتل نے کہا : کبائر وہ گناہ ہیں جن کی شرعاً جسمانی سزا مقرر ہے۔ سورة نساء میں ہم نے کبائر کی تفصیل بیان کردی ہے۔
واذا ما غضبوا ھم یغفرون۔ اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
Ayah 42:38والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوری بینھم اور (ان لوگوں کیلئے) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا (ہر) کام (جس میں کوئی خاص نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔
وَاِذَا مَا غَضِبُوْا اس کا عطف بھی یَجْتَنِببُوْنَ پر ہے ‘ اور ھُمْ یَغْفِرُوْنَ میں لفظ ھُم سے یہ بتانا ہے کہ وہی غصہ کے وقت (بھی) معاف کردینے کے اہل ہیں۔
وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا اور انہوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ‘ یعنی رب کے حکم پر چلے۔
وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی ‘ شورٰی مصدر ہے جیسا فتینا۔ شورٰی کا معنی ہے باہم مشورہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان کی اپنی رائے ہوتی ہے ‘ اس پر عمل کرنے میں جلدی نہیں کرتے ‘ بلکہ دوسروں سے مشورہ کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی مؤمن دوسرے مؤمن سے کسی معاملہ میں مشورہ کرتا ہے تو وہ وہی مشورہ دیتا ہے جس سے مشورہ لینے ولے کو دونوں جہان میں بہبودی حاصل ہو۔ اچھا کام کا حکم دیتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ وہ امانت دار (یعنی خیرخواہ) ہو (خیانت کار یعنی بدخواہ نہ ہو) رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ والترمذی عن ام سلمۃ وابن ماجۃ عن ابن مسعود۔
طبرانی نے اولاوسط میں حضرت علی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ وہ امین ہو۔ وہی مشورہ دے جو اپنے لئے اختیار کرنے والا ہو۔ یعنی جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو ‘ ویسا ہی مشورہ وہ طلب کرنے والے کو دے۔ مطلب یہ ہے کہ خیرخواہ ہو ‘ ایسا نہ ہو کہ اپنے لئے تو ایک بات پسند کرتا ہو اور دوسروں کو اس کے خلاف مشورہ دے۔
طبرانی نے الکبیر میں حضرت سمرۃ بن جندب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے ‘ اس کو امانتدار ہونا چاہئے ‘ خواہ مشورہ دے یا نہ دے۔
Ayah 42:39والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم (کسی کی طرف سے) واقع ہوجاتا ہے تو برابر کا بدلہ لیتے ہیں
Ayah 42:40وجزؤ سیءۃ سیءۃ مثلھا فمن عفاواصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظلمین اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ‘ لیکن جو شخص معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ اللہ ظالوں کو پسند نہیں کرتا۔
اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ‘ البغی ظلم ‘ زنادتی۔ یَنْتَصِرُوْنَ یعنی برابر برابر انتقام لیتے ہیں ‘ زیادتی نہیں کرتے۔
ابن زید نے کہا : اللہ نے مؤمنوں کی دو قسمیں قائم کی ہیں : ایک وہ جو ظالموں سے ان کے ظلم کے برابر بدلہ لیتے ہیں ‘ دوسری قسم ان مؤمنوں کی ہے جو ظالموں کے ظلم کو معاف کردیتے ہیں۔ آیت میں اول الذکر صنف کا بیان ہے۔
اس آیت کی تشریح میں ابراہیم نے کہا : یہ لوگ ذلت کو پسند نہیں کرتے ‘ ذلیل ہونے سے ان کو نفرت ہے ‘ لیکن اگر ان کو قدرت حاصل ہوجائے اور قابو پالیں تو درگذر کرتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں۔ عطاء نے کہا : ان سے وہ مؤمن مراد ہیں جن کو مکہ سے ظلم و زیادتی کر کے نکالا گیا ‘ یعنی بےقصور ان کو دیس نکالا دیا گیا۔ ان کا قصور اگر تھا تو بس یہ تھا کہ وہ کہتے تھے : ہمارا رب اللہ ہے۔ پھر اللہ نے ان کو ملک میں اقتدار عطا فرمایا ‘ یہاں تک کہ ظالموں سے انہوں نے انتقام لے لیا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے ان مؤمنوں کے تمام اصول فضائل کا اس جگہ ذکر فرمایا ہے۔ ذلت کو ناپسند کرنا (اور انتقام لینا) لیکن اللہ نے مغفرت و عفو کی صفت سے بھی ان کو موصوف قرار دیا ‘ اس سے بیان میں تضاد و اختلاف پیدا نہیں ہوتا ‘ کیونکہ عفو کرنا تو بتارہا ہے کہ جب ان کو قابو حاصل ہوجاتا ہے اور ظالم ان کے مقابلہ سے عاجز ہوجاتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں اور انتقام کا لفظ بتارہا ہے کہ دشمن ان سے مقابلہ کرتا ہے اور یہ اپنے دشمن سے مقابلہ کر کے انتقام لیتے ہیں۔ عاجز سے درگذر کنا قابل ستائش فعل ہے اور مقابلہ کرنے والے سے درگذر کرنا مذموم ہے ‘ اس سے تو اسکی جرأت میں اضافہ ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر ظالم ‘ اللہ کی بھی حق تلفی کرتا ہے اور جمہور اہل اسلام کی بھی تو اس صورت میں افضل بلکہ واجب ہے کہ اس سے بدلہ لیا جائے اور فتنہ کا دروازہ بند کردیا جائے اور کسی خاص شخص پر ظالم ظلم کرتا ہے تو بقدر ظلم بغیر زیادتی کے انتقام لینا جائز ہے ‘ لیکن معاف کردینا اور صلح کرلینا بہتر ہے ‘ برائی کو بھلائی کر کے دفع کرنا افضل ہے۔ 1
جَزَاءُ سَیِّءَۃٍ سَیِّءَۃٌ مِثْلُھَا برائی کے بدلے کو برائی کہنا محض ظاہری مشابہت کی وجہ سے ہے ‘ یا اس وجہ سے سیءۃ کہا جاتا ہے کہ انتقام سے ظالم کو ناگواری ہوتی ہے اور برائی محسوس ہوتی ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ عفو سے انتقام برا ہے۔
مقاتل نے کہا : جزاء سیءۃ سے مراد ہے قتل اور زخمی کرنے کا بدلہ۔ مجاہد اور سدی نے کہا : برے الفاظ کا بدلہ مراد ہے۔ مثلاً کسی نے کہا : اخزک اللہ (ا اللہ تجھے رسوا کرے) اسکے جواب میں دوسرا شخص بھی یہی لفظ کہہ دے ‘ یا کسی نے گالی دی تو اسکے جواب میں ویسی ہی گالی بغیر زیادتی کے دے دے۔ 2
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری سے کہا : آیت جزاء سیء ۃٍ سیء ۃٌ مثلھا کا کیا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی تم کو گالی دے تو تم بھی اس کو گالی دو ‘ یا جو عمل کوئی تمہارے ساتھ کرے تم بھی ویسا ہی عمل اس کے ساتھ کرو ؟ ثوری نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ہشام بن حجیرہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا : (مراد یہ ہے کہ) اگر زخمی کرنے والا زخمی کر دے تو اس سے بدلہ لیا جائے ‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر وہ تم کو گالی دے تو تم بھی اس کو گالی دو ۔ ہشام کے اس قول کی تائید رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ دو شخص جو باہم گالی گلوچ کرتے ہیں ‘ دو شیطان ہیں جو بیہودہ ‘ جھوٹی بکواس کرتے اور جھوٹے کہتے ہیں۔ رواہ احمد والبخاری بسند صحیح عن عیاض بن حمار۔
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بکثرت لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ (گذشتہ امتوں پر) شہادت دینے والے ہوں گے ‘ نہ (کسی کی) سفارش کرنے والے (یعنی نہ ان کی شہادت قبول ہوگی ‘ نہ شفاعت) رواہ مسلم و ابوداؤد عن ابی الدرداء۔
رسول اللہ ﷺ نے دو باہم گالی گلوچ کرنے والوں کے متعلق جو فرمایا (اس سے دونوں کی برائی برابر ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے) دونوں میں جو ابتدا کرنے والا ہے ‘ وہ بڑا مجرم ہے ‘ البتہ مظلوم اگر اس (برابری کی حدود) سے تجاوز کر جائے تو وہ بھی ویسا ہی ہوجائے گا۔ رواہ احمد و مسلم و ابوداؤد عن ابی ہریرۃ۔ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ ابتدا کرنے والا بڑا مجرم ہے ‘ اور جواب دینے والے کو (برابر کا) جواب دینے کی ایک طرح سے اجازت ہے۔
فَمَنْ عَفَا یعنی جو ظلم و حق تلفی کرنے والے کو معاف کر دے گا۔
وَاَصْلَحَ یعنی ظالم سے صلح کرلے گا۔
فَاَجْرُہٗ عَلَی اللہ تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے ‘ یعنی اللہ اس کو ضرور اجر دے گا (ا اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ کسی کا اللہ پر کوئی حق نہیں ‘ اسلئے شبہ کیا جاسکتا تھا کہ پھر اللہ کے ذمہ ہونے کا کیا مطلب ہے۔ اس کا جواب حضرت مفسر نے یہ دیا کہ اللہ کی ذمہ داری کا یہ معنی ہے کہ اللہ اس کو ضرور اجر دے گا) ۔
بغوی نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا دے گا : جس کا کوئی ثواب اللہ کے ذمہ ہو تو وہ کھڑا ہوجائے۔ اس ندا کو سن کر صرف وہی شخص کھڑا ہوگا جس نے (اپنے حق تلفی کرنے والے سے) درگذر کی ہوگی۔ یہ بیان سن کر حسن نے یہی آیت پڑھی۔
اِنَّہٗ لاَ یُحْبُّ الظَّلِمِیْنَ یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو دوسروں کو گالی دینے کی ابتدا کرتے ہیں ‘ یا انتقام لینے میں برابری کی حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ظلم کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔
Ayah 42:41ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل اور جو اپنے اوپر ظلم ہو چکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
بَعْدَ ظُلْمِہٖ ان کے مظلوم ہونے کے بعد۔ ظلم کی اضافت مفعول کی جانب ہے ‘ یعنی بعد اس کے کہ ظالم نے اس پر ظلم کیا ہو۔
مَا عَلَیْھِمْ یعنی انتقام لینے والوں کے خلاف کوئی راہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ ان کو برا کہا جائے گا ‘ نہ ان سے مؤخذاہ ہوگا۔
Ayah 42:42انما السبیل علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق اولئک لھم
عذاب الیم اخروی عذاب اور دنیوی سرزنش و مؤاخذہ کی راہ تو صرف ان لوگوں کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ناحق زمین پر سرکشی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے دردناک عذاب ہے۔
اِنَّمَا السَّبِیْلُ یعنی آخرت کی سزا اور دنیوی سرزنش و مؤاخذہ تو ان لوگوں کیلئے ہے جو لوگوں کو ضرر پہنچانے کی ابتدا کرتے ہیں اور لوگوں کو جان و مال اور آبرو کا دکھ پہنچاتے ہیں۔
وَیَبْغُوْنَ قاموس میں ہے : بَغٰی (ماضی) یَبْغِیْ (مضارع) بَغْیًا (مصدر) تکبر کیا ‘ غلبہ حاصل کیا ‘ ظلم کیا ‘ حق سے تجاوز کیا۔
Ayah 42:43ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے (تو وہ افضل ہے)
یہ البتہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ یعنی جس نے ظالم کے ظلم پر صبر کیا ‘ انتقام نہیں لیا ‘ معاف کردیا تو یہ صبر و عفو ان امور میں سے ہے جو شرعاً مطلوب ہیں۔ عزم بمعنی معزوم ہے اور معزوم کا مطلب ہے مطلوب ‘ مراد مطلوب شرعی ‘ ایسا آدمی افضل الناس ہے۔
زجاج نے کہا : صابر کو صبر کا ثواب دیا جائے گا اور ثواب کی طلب مکمل طلب ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی ان امور میں سے ہے جن کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
Ayah 42:44ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ اور جس شخص کو اللہ گمراہ کر دے تو اس شخص کا دنیا میں کوئی چارہ ساز نہیں۔
یعنی اللہ جب کسی کو بےمدد چھوڑ دے تو اس کے بعد ایسے شخص کا کوئی مددگار نہیں جو ہدایت یاب بنانے اور عذاب کو دفع کرنے کا ذمہ دار ہو سکے۔
وتری الظلمین لما راوا العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل اور تو ان ظالموں کو دیکھے گا ‘ جس وقت یہ عذاب کا مشاہدہ کریں گے ‘ کہتے ہوں گے : کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت ہے ؟
Ayah 42:45وترھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی اور (نیز) تو ان کو اس حالت میں دیکھے گا کہ وہ دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے ‘ مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے ‘ سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
وَتَرٰی یعنی اے مخاطب ! تو دیکھے گا۔
لَمَّا اَوُ الْعَذَاب یعنی جب وہ عذاب کو دیکھیں گے۔ چونکہ آئندہ قیامت کے دن عذاب کو دیکھنا یقینی ہے ‘ اسلئے بجائے مستقبل کے ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔
ھَلْ اِلٰی مَرَدٍّ بظاہر لفظ لحاظ سے ہَلْ استفہامیہ ہے ‘ لیکن حقیقت میں یہ درخواست ہے۔ عذاب کو دیکھ کر دنیا میں لوٹ جانے کی درخواست کریں گے۔
عَلَیْھَا یعنی آگ پر ان کی پیشی ہوگی۔ خٰشِعِیْنَ خوفزدہ ‘ عاجزی اور فروتنی کرنے والے۔
مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ پوشیدہ ‘ چوری کی نظر سے دیکھیں گے ‘ جیسے وہ شخص جو رسیوں سے بندھا اور جکڑا ہوا ہو ‘ خوفزدہ ہو کر عاجزی کے ساتھ چوری کی نظر سے جلاد کی تلوار کو دیکھتا ہے۔ بعض کے نزدیک مِنْ (ابتدائیہ) بَ (سببیہ) کے معنی میں ہے۔
وقال الذین امنوا الخسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم یوم القیمۃ الا ان الظلمین
فی عذاب مقیم اور (اس وقت) ایمان والے کہیں گے کہ پورے خسارہ والے وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں اور اپنے متعلقین کے تعلق سے (آج) قیامت کے روز خسارے میں پڑے۔ یاد رکھو کہ ظالم (یعنی مشرک اور کافر) دائمی عذاب میں رہیں گے۔
وَاَھْلِیھِمْ یعنی وہ لوگ جنہوں نے کفر میں ان کی پیروی کی ‘ وہ بھی دوامی عذاب کے روبرو لائے جائیں گے (اور اس طرح وہ بھی خسارہ میں پڑجائیں گے) بعض اہل تفسیر کے نزدیک اہل سے مراد حوریں ہیں۔ اگر کافر ایمان لے آتے تو ان کو وہ حوریں مل جاتیں جو جنت میں ان کیلئے مقرر کردی گئی ہیں ‘ لیکن کفر کی وجہ سے وہ ان حوروں تک نہیں پہنچ سکے اور اس طرح خسارے میں رہے۔
یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یعنی قیامت کے دن خسارہ میں رہیں گے ‘ یا قیامت کے دن مؤمین یہ بات کہیں گے۔
فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ لازوال عذاب۔ یہ مؤمنوں کے قول کا جزء تکمیلی ہے ‘ یا اللہ کی طرف سے تصدیق ہے۔
Ayah 42:46وما کان لھم من اولیاء ینصرونھم من دون اللہ ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل اور (وہاں)
ان کے کوئی مددگار نہ ہوں گے کہ اللہ سے الگ ہو کر ان کی مدد کرسکیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کیلئے (نجات کا) کوئی راستہ نہیں۔
یَنْصُرُوْنَھُمْ یعنی عذاب کو دفع کرسکیں۔
فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ یعنی دنیا میں حق تک پہنچنے اور آخرت میں جنت تک رسائی کا کوئی راستہ نہیں ‘ اس کیلئے خیر کے سارے دروازے بند ہیں۔
Ayah 42:47استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ ما لکم من ملجا یومئذ وما لکم
من نکیر تم اپنے رب کا حکم مانو قبل اس کے کہ ایسا دن آجائے جس کیلئے اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ اس روز تم کو کوئی پناہ ملے گی اور نہ تمہارے بارے میں (ا اللہ سے) کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے۔
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ یعنی محمد ﷺ جو اللہ کی طرف بلانے والے ہیں ‘ تم ان کی نافرمانی نہ کرو۔
لاَ مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہ یعنی اللہ جب اس روز کے آنے کا حکم دے چکے گا تو پھر اس حکم کو واپس نہیں لے گا۔ اس مطلب پر مِن اللہ کا تعلق لَا مرَدّ سے ہوگا۔ بعض کے نزدیک اس کا تعلق یَأتِی سے ہے ‘ یعنی وہ دن جب آئے گا تو اس کا لوٹانا ناممکن ہوگا۔
یَوْمٌ سے مراد ہے مرنے کا دن ‘ یا قیامت کا دن۔
مَّلْجَاٍ مفر (بھاگنے کی جگہ) جہاں پناہ پکڑ سکو۔
مَا لَکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ یعنی تم نے جو کچھ کیا ہے اس کا انکار نہ ہو سکے گا ‘ کیونکہ اعمال ناموں میں اس کا اندارج ہوگا اور تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ پاؤں وغیرہ بھی تمہارے اعمال کی شہادت دیں گے ‘ یا (نکیر بمعنی منکر ہے) مطلب یہ ہے کہ جو برائیاں اور بداعمالیاں تمہارے ساتھ ہوں گی ‘ ان کے سوا اور کوئی برا سلوک تمہارے ساتھ نہ ہوگا۔