36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں۔ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

فلا یحزنک قولھم انا نعلم ما یسرون وما یعلنون . سو ان لوگوں کی باتیں آپ کو آزردہ خاطر نہ بنائیں ‘ ہم سب جانتے ہیں جو کچھ یہ دل میں رکھتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ فَلاَ یَحْزُنْکَسببیت کیلئے ہے ‘ یعنی آپ نے کافروں کیلئے عذاب کی وعید سن لی تو اب آپ کو ان کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہونا چاہئے۔ اللہ کے معاملہ میں وہ جو الحاد کی باتیں کرتے ہیں اور آپ کی تکذیب و توہین کرتے ہیں ‘ اس سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں۔ اِنَّا نَعْلَمُ الخ اپنے دلوں میں جو آپ سے عداوت اور غلط عقائد چھپائے ہوئے ہیں ‘ ہم ان سب سے واقف ہیں اور جو بری باتیں کہتے اور برے اعمال ظاہراً کرتے ہیں ‘ ان کو بھی ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو اس کی سزا دیں گے اور یہی کافی ہے ‘ آپ کو غمگین اور فکرمند نہ ہونا چاہئے۔ حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : محمد ﷺ ! اس کی حالت جو میں دیکھ رہا ہوں ‘ کیا اس کے بعد بھی خدا اس کو زندہ کر کے اٹھائے گا ؟ حضور نے فرمایا : بیشک اللہ اس کو بھی زندہ کر کے اٹھائے گا ‘ تم کو بھی مردہ کرے گا پھر جہنم میں داخل کرے گا۔ اس پر آیات ذیل (آخر سورة تک) نازل ہوئیں۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ‘ سو وہ اعلانیہ اعتراض کرنے لگا
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟

وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ قال من یحییٰ العظام وھی رمیم . اور اس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا اور اپنی اصل خلقت کو بھول گیا ‘ کہتا ہے کہ ہڈیوں کو (خاص طور پر) جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں ‘ کون زندہ کرے گا ؟ الْاِنْسَان یعنی عاص بن وائل۔ ابن ابی حاتم نے متعدد اسناد سے مجاہد ‘ عکرمہ ‘ عروہ بن زبیر اور سدی کی روایت سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو مالک کی روایت سے نیز بغوی نے بیان کیا ہے کہ ان آیات کا نزول ابی بن خلف جمحی کے حق میں ہوا۔ یہی ایک بوسیدہ ‘ کہنہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور انکار بعث و حشر کر کے حضور سے جھگڑا کر رہا تھا۔ اسی نے کہا تھا کہ اس قدر بوسیدہ ہوجانے کے بعد اس کو کون زندہ کرسکتا ہے ؟ حضور اقدس نے فرمایا : اللہ تجھے (بھی) زندہ کر کے اٹھائے گا اور جہنم میں داخل کر دے گا۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا۔ اَوَلَمْ یَرَ میں استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا انسان دوبارہ زندہ کرنے پر ہمارے قادر ہونے کا انکار کرتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ ہم نے اس کو نفطہ سے پیدا کیا الخ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ‘ اذامفاجاتیہ ہے۔ اچانک ‘ یکدم یعنی علی الاعلان ‘ واضح طور پر جھگڑا کرنے لگتا ہے ‘ تحقیق حق نہیں چاہتا ‘ جانتا ہے اور اپنی ابتدائی تخلیق کا معترف بھی ہے اس کے باوجود دوسری تخلیق کا جو پہلی تخلیق سے کہیں آسان ہے ‘ انکار کرتا ہے۔ اس کلام میں مکرر پیام تسلی ہے یہ بتا کر کہ کافر جو انکار حشر کرتے ہیں ‘ اس کے مقابلے میں آپ کے متعلق ان کا قول کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اس عبارت میں بلیغ مذمت بھی ہے کہ اللہ کی نعمت کے مقابلہ میں یہ کفر کرتے ہیں اور کفر سے بڑھ کر اور کوئی برائی نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی (کتنی بڑی) نعمت ہے کہ اس نے ذلیل ترین اور نہایت حقیر چیز سے ایک باعزت ‘ حامل شرف انسان کو پیدا کیا۔ بعض علماء نے فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ کا یہ مطلب بیان کیا کہ ایک ذلیل پانی سے پیدا ہونے کے بعد اللہ نے اس کو حامل تمیز و شعور اور ایسا سلیس البیان بنایا کہ اس کو جھگڑنے (اور مقابلہ کرنے) کی قدرت حاصل ہوگئی اور اپنے دل کی بات کو بیان کرنے لگا ‘ لہٰذا وہ اپنی اصلی کمینگی اور ابتدائی حقارت پر آگیا اور اللہ کی زندگی بخشنے والی قدرت کا منکر بن گیا اور اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے درپے ہوگیا۔ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً اور ہمارے متعلق ایک تعجب انگیز بات کہنے لگا۔ امر عجیب یہ کہ اللہ زندہ کرنے پر قادر نہیں اور مخلوق سے خالق کو تشبیہ دینے لگا کہ جس چیز سے مخلوق عاجز ہے ‘ اس سے خالق بھی عاجز ہے اور بھول گیا کہ ہم نے اس کو ایک قطرہ سے پیدا کیا۔ نطفہ سے جاندار کو پیدا کرنا تو ہڈیوں کو زندہ کرنے سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ رَمِیْم کہنہ ‘ فرسودہ ہڈیاں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ آیت بتارہی ہے کہ ہڈیوں میں زندگی ہوتی ہے ‘ پھر ان پر موت اثر انداز ہوجاتی ہے ‘ دوسرے اعضاء کی بھی یہی حالت ہے۔ بیضاوی کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح مردار کے دوسرے اعضاء نجس ہوتے ہیں ‘ اسی طرح مردار کی ہڈی بھی نجس ہوتی ہے۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ ابن جوزی نے التحقیق میں امام احمد کی طرف بھی اسی قول کی نسب کی ہے ‘ لیکن مؤلف (رح) نے لکھا ہے : صحیح بات یہ ہے کہ امام احمد کی نزدیک مردار کے دانت اور پر اور ہڈیاں پاک ہیں۔ مردار کی ہڈی کو نجس کہنے والوں نے آیت مذکورہ سے استدلال کیا ہے۔ ایک حدیث کو بھی انہوں نے ہڈی کے نجس ہونے کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردار کی کسی چیز سے نفع اندوز نہ ہو۔ یہ حدیث ابوبکر شامی نے اپنی سند سے بوساطت ابوزبیر ‘ حضرت جابر کی روایت سے بیان کی ہے۔ مؤلف المغنی اور صاحب تنقیح التحقیق نے کہا ہے کہ اس کی سند حسن ہے۔ یہ حدیث ابن وہب نے مسند میں زمعہ بن صالح کی روایت سے بحوالۂ ابوالزبیر از جابر بن عبد اللہ ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ مردار کی کسی چیز سے نفع اندواز نہ ہو ‘ اور میت سے فائدہ اندوز نہ ہو۔ مؤلف التنقیح نے لکھا ہے : زمعہ (کے ثقہ ہونے) میں کلام ہے اور حدیث معلول ہے۔ ابن معور وغیرہ نے علت ذکر کی ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : مردار کے بالوں اور ہڈیوں میں زندگی نہیں ہوتی۔ صاحب ہدایہ کی مراد یہ ہے کہ (جب ان دونوں چیزوں میں زندگی نہیں ہوتی تو) ان پر موت بھی نہیں آتی ‘ لہٰذا مردار کا لفظ ان کو شامل ہی نہیں ہے اور حدیث میں مردار سے انتفاع کی ممانعت کی گئی ہے ‘ لیکن آیت مذکورہ دلالت کر رہی ہے کہ ہڈی میں زندگی ہوتی ہے ‘ اسلئے صاحب ہدایہ کا قول غلط ہے۔ (احناف کی طرف سے) بہترین توجیہ یہ بیان کی جاسکتی ہے کہ نجس کرنے والی چیز سیال خون ہے اور ہڈی ‘ بال اور پٹھے میں سیال خون نہیں ہوتا اگرچہ ان میں زندگی ہوتی ہے ‘ اسی لئے جس جانور میں سیال خون نہ ہو ‘ وہ اگر پانی میں مرجائے تو پانی نجس میں ہوتا۔ حضرت سلمان فارسی راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کھانے پینے کی چیز میں کوئی ایسا کیڑا مکوڑا (مکھی ‘ بھنگا وغیرہ) گر کر مرجائے جس میں خون نہ ہو تو اس چیز کا کھانا پینا اور اس سے وضو کرنا جائز ہے ‘ رواہ الدارقطنی۔ دارقطنی نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ سعید بن سعیدزبیدہ سے صرف بقیہ نے اس کو نقل کیا ہے اور کسی نے نقل نہیں کیا اور سعید مجہول ہے اور ابن عدی نے سعید کو مجہول کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی کے برتن میں اگر مکھی گرجائے تو پوری مکھی کو اس میں غوطہ دے کر پھر نکال کر پھینک دے کیونکہ مکھی کے ایک بازو میں شفاء اور دوسرے بازو میں بیماری ہوتی ہے ‘ رواہ البخاری۔ ہماری دلیل حضرت ابن عباس کی روایت کردہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردار بکری کو دیکھ کر فرمایا : تم اس کی کھال کو کیوں کام میں نہیں لاتے ؟ حاضرین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ مردار ہے۔ فرمایا : اس کا کھانا حرام ہے ‘ متفق علیہ۔ دارقطنی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مردار کے گوشت کو حرام کیا ہے کھال ‘ بال اور اون میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن مسلم ہے جس کو دارقطنی نے ضعیف کہا ہے ‘ لیکن ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ ابن ہمام نے کہا : یہ حدیث درجۂ حسن سے تو گری ہوئی نہیں ہے ‘ تعجب ہے کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو مردار کے بال اور اون کی طہارت کے ثبوت میں تو پیش کیا لیکن مردار کی ہڈی کی طہارت پر اس سے استدلال نہیں کیا ‘ اور ہڈی کی نجاست کے ثبوت میں رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کو پیش کیا کہ مردار کی کسی چیز سے نفع اندوز نہ ہو ‘ بال اور پر (اون) کی نجاست پر اس حدیث سے استدلال نہیں کیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان ‘ مردار کی کسی چیز سے نفع اندوز نہ ہو ‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز کھائی جاتی ہے ‘ مردار کی اس چیز سے نفع اندوز نہ ہو ‘ کیونکہ سیال خون اس میں شامل ہوتا ہے اور بال ‘ اون اور ہڈی میں چونکہ سیال خون مخلوط نہیں ہوتا ‘ اسلئے ان میں کوئی ہرج نہیں ہے اور مردار کی کھال میں بھی کوئی خرابی نہیں رہتی بشرطیکہ اس کی دباغت کرلی جائے اور رطوبت زائل کردی جائے۔ اس مبحث کی احادیث اور بھی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں : دارقطنی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : سن لو ! مردار کی ہر چیز حلال ہے ‘ سوائے اس چیز کے جو کھائی جاتی ہے۔ کھال ‘ بال ‘ اون اور ہڈی سب حلال ہیں ‘ کیونکہ اس کو ذبح کرنے سے پاکی حاصل نہیں ہوتی (بلکہ یہ مرتی ہی نہیں اسی لئے مردار کا حکم اس پر لاگو نہیں ہوتا) اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے جس کو دارقطنی نے متروک اور غندر نے کذاب کہا ہے اور یحییٰ و علی نے کہا : یہ کچھ نہیں ہے۔ دارقطنی نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ نے فرمایا : میں نے خود حضور ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : مردار کی کھال میں اگر اس کی دباغت کرلی جائے تو کوئی ہرج نہیں اور نہ مردار کے بال ‘ اون اور سینگوں میں کوئی حرج نہیں ہے اگر ان کو پانی سے دھو لیا جائے۔ دارقطنی نے کہا : یہ حدیث صرف یوسف بن سفر نے روایت کی ہے اور یوسف متروک ہے ‘ جھوٹ کہتا ہے۔ ابو ذرعہ اور نسائی نے بھی اس کو متروک کہا ہے اور رحیم نے کہا : یہ کچھ نہیں ہے۔ ابن حبان نے کہا : اس کی حدیث سے کسی حالت میں استدلال جائز نہیں ہے۔ ابن جوزی نے بطریق ابویعلٰی از حمید شامی از سلیمان بروایت حضرت ثوبان بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حصرت فاطنہ کیلئے تانت کا ایک ہار اور عاج (ہاتھی دانت) کے دو کنگن خریدے۔ ابن جوزی نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ حمید اور سلیمان دونوں مجہول ہیں۔ امام احمد نے فرمایا : میں حمید سے واقف نہیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا : میں سلیمان کو نہیں جانتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ عاج سے اس جگہ مراد زبل ہے (زبل سمندری یا خشکی کے کچھوے کی کھال) ابن قتیبہ نے کہا : یہاں عاج سے وہ عاج مراد نہیں جس کو عام لوگ جانتے ہیں اور ہڈی یا دانت سے چھیل کر بناتے ہیں ‘ یہ تو مردار ہے جس کی ممانعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ کیلئے اس کے کنگن کیسے خرید سکتے تھے۔ عاج سے مراد تو زبل ہے۔ اصمعی نے یہی کہا ہے۔ ابن ہمام نے کہا : اصمعی نے جو یہ کہا کہ عاج وہ نہیں ہے جس کو عام لوگ جانتے ہیں ‘ اس سے دھوکہ ہوتا ہے کہ شاید لغت میں اس کو عاج نہیں کہا جاتا ‘ لیکن یہ خلاف واقعہ ہے۔ المحکم میں ہے کہ عاج ہاتھی دانت کو کہتے ہیں اور ناب (نوکیلے دانت) کے علاوہ عاج نہیں ہوتا۔ جوہری نے لکھا ہے کہ عاج ‘ عاجۃ کی جمع ہے ‘ عاجۃ ہاتھی کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ اصمعی کا چونکہ خیال تھا کہ ہاتھی کی ہڈی ناپاک ہے ‘ اسلئے انہوں نے کہا کہ حدیث میں وہ عاج مراد نہیں ہے جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ عاج کا لفظ مشترک ہے ‘ زبل کو بھی کہتے ہیں اور ہاتھی کی ہڈی کو بھی۔ جزری نے نہایہ میں یہ لکھا ہے اور زبل بحری و بری کچھوے کی کھال کو کہتے ہیں ‘ یا ایک سمندری جانور کی پشت کی ہڈی کو جن سے کنگن بنائے جاتے ہیں۔ کذا فی القاموس۔ بیہقی نے بحوالۂ بقیہ بوساطت عمرو بن خالد بروایت قتادہ ‘ حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عاج کا کنگھا استعمال کرتے تھے۔ بیہقی نے کہا کہ بقیہ کی روایت نامعلوم راویوں کی وساطت سے ضعیف ہے۔ ابن ہمام نے کہا : یہ احادیث خواہ (سند کے لحاظ سے) ضعیف ہوں ‘ لیکن متن کے لحاظ سے حسن ہیں اور ان میں بعض احادیث تو (سند کے لحاظ سے بھی) حسن سے کم درجہ کی نہیں ہیں اور صحیحین میں ان کا اول شاہد موجود ہے۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

قل یحییھا الذی انشآھا اول مرۃٍ وھو بکل خالق علیم . آپ کہہ دیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے۔ قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْ الخ پیدا کرنے والے کی قدرت میں کوئی تغیر نہیں ‘ وہ بحالہ باقی ہے اور مادّہ بالذات قابلیت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ دوبارہ زندہ کر دے گا۔ بِکُلِّ خَلْقٍ خلق سے مراد ہے مخلوق۔ عَلِیْم یعنی مخلوقات کی تفصیل اور کیفیت تخلیق کو جانتا ہے۔ وہ اجسام کے منتشر ‘ متفرق اجزاء کے اصول ‘ مواقع اور امتیاز کے طریقوں اور سابق کے طور پر ان کو باہم جوڑنے اور گذشتہ اعراض اور قوتوں کو لوٹا کر لانے یا ازسرنو پیدا کرنے سے واقف ہے۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

الذی جعل لکم من الشج الاخضر نارا فاذا انتم منہ تو قدون . وہی ہے جس نے تمہارے فائدے کیلئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس سے اور آگ سلگاتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : دو قسم کے درخت ہیں : ایک کو مرخ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عفار ‘ دونوں درختوں کی مسواک کی دوہری شاخیں اتنی ہری کہ ان سے پانی ٹپکتا ہو ‘ کاٹ لی جائیں پھر مرخ کو عفار سے رگڑا جائے تو ان سے آگ نکلتی ہے۔ عرب کہتے ہیں : ہر درخت میں آگ ہے اور مرخ ‘ عفار میں گھس جاتی ہے۔ علماء کہتے ہیں : سوائے عناب کے ہر درخت میں آگ ہے۔ فَاِذآا اَنْتُمْ مِنْہُ تُوْقِدُوْنَ یعنی آگ سلگانے کے وقت تم کو شک نہیں رہتا کہ ہرے درخت میں آگ نکلتی ہے۔ آگ میں اور پانی میں کیفیت کا تضاد ہے ‘ لیکن تضاد کیفیت کے باوجود پانی ٹپکتے ہوئے ہرے درخت سے اللہ آگ پیدا کردیتا ہے تو جو ذات اتنی بڑی قادر ہے وہ اس خشک ‘ بوسیدہ چیز کو جو پہلے تروتازہ تھی ‘ پھر تروتازہ کرسکتی ہے۔
Ayah 36:81

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں۔ اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے

اولیس الذی خلق السموت والارض بقدر علی ان یخلق مثکھم بلی وھو الخلق العلیم اور جس نے آسمان کو ‘ زمین کو پیدا کیا ‘ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو (دوبارہ) پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں ‘ وہ بڑا پیدا کرنے والا (اور) خوب جاننے والا ہے۔ استفہام انکاری ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور تم کو اس بات کا اقرار بھی ہے تو جس نے اتنے عظیم الشان اجرام پیدا کئے ‘ وہ ان آدمیوں کی طرح پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ مِثْلَھُمْ یعنی جتنے بڑے آسمان و زمین ہیں ‘ اتنے ہی چھوٹے یہ آدمی ہیں یا مثل ہونے سے مراد ہے اصول وصفات میں ایک جیسا ہونا۔ وَھُوَ الْخَلّٰقُ وہ بہت بڑا خالق ہے ‘ ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق پیدا کرتا ہے۔ الْعَلِیْمُ یعنی تمام ممکنات کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 36:82

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون . وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کا معمول یہ ہے کہ وہ اس سے کہہ دیتا ہے ہوجا ‘ وہ فوراً ہوجاتی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ ایک تشبیہ ہے۔ جس طرح کوئی حاکم محکوم کو حکم دے اور وہ فوراً بلاتوقف حکم بجا لائے ‘ اسی طرح اللہ کی قدرت کا اثر مراد الٰہی پر ہوتا ہے۔ کسی چیز کو کرنے کیلئے اللہ کو نہ عملی مشق کی ضرورت ہے ‘ نہ آلات کو استعمال کرنے کی (اگر مزاولت یا آلات کی ضرورت ہوتی تو احتیاج کا شبہ ہوجاتا) شبہ کے مادہ کو جڑ سے کاٹ دینے کیلئے یہ تمثیل ذکر فرمائی ‘ قدرت مخلوق پر قدرت خدا کا قیاس غلط ہے۔
Ayah 36:83

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

فسبحن الذیبیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون . سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ فَسُبْحٰنَ سبحان مصدر ہے ‘ یہ محذوف فعل کا مفعول مطلق ہے اورسببیت کیلئے ہے ‘ یعنی جب تم کو معلوم ہوگیا کہ انسان کو نطفہ سے پیدا کیا گیا اور اللہ بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ عطا کرنے پر قدرت رکھتا ہے اور وہ جب کسی چیز کو کرنا چاہتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا ‘ وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے تو اب اس خدا کی پاکی بیان کرو جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے۔ ملکوت بمعنی ملک ہے اور ملک سے مراد ہے اقتدار۔ ملکوت میں واؤ اور تاء کو مبالغہ کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ چونکہ مالک الملک اور بااقتدار ہے ‘ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے ‘ اسلئے ان تشبیہات و تمثیلات سے پاک ہے جو کفار اس کیلئے کرتے ہیں۔ اور تعجب ہے کہ اس کی شان میں کفار ایسی بات کہتے ہیں۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اس میں مؤمنوں کیلئے ثواب کا وعدہ اور منکروں کیلئے عذاب کی وعید ہے۔ حضرت معقل بن یسار کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے مردوں کیلئے یٰسٓ پڑھا کرو۔ رواہ احمد و ابوداؤد وابن ماجہ وابن حبان والحاکم۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : یٰسین قرآن کا دل ہے ‘ جو شخص اللہ اور دار آخرت کیلئے اس کو پڑھے گا ‘ اس کو بخش دیا جائے گا۔ اس کو اپنے مردوں کیلئے پڑھا کرو۔ جزری نے حصن حصین میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ذکر کی ہے : سورة یٰسین کو جو شخض اللہ اور دار آخرت کی طلب میں پڑھے گا اس کو ضرور بخش دیا جائے گا۔ اس کو اپنے مردوں کیلئے پڑھا کرو۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل یٰسین ہے۔ جو شخض (ایک بار) یٰسین پڑھے گا اللہ اس کیلئے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دے گا۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ رواہ الترمذی 1 ؂ الحمد اللہ تفسیر مظہری کی سورة یٰسین کی تفسیر آخر ربیع الاول 1207 ھ ؁ کو ختم ہوئی بعونہ تعالیٰ تفسیر مظہری سورة یٰسین کا ترجمہ مع اضافت تشریحی 15/ ذی الحجہ 1391 ھ ؁ کو ختم ہوا و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ وسلم