36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا الیل سابق النھار وکل فی فلک یسبحون نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ (اگلی) رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں (اپنے اپنے) دائرے میں تیر رہے ہیں۔ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا یعنی سورج کیلئے صحیح نہیں ‘ ممکن نہیں۔ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ یعنی چاند کی تیزرفتاری کو سورج نہیں پہنچ سکتا۔ یہ تشریح بیضاوی نے کی ہے اور اس تشریح کی بناء فلاسفہ کے اس نظریہ پر ہے کہ چاند کی رفتار سورج کی رفتار سے بہت تیز ہے۔ چاند کا دورہ ایک ماہ میں پورا ہوجاتا ہے اور سورج کا دورہ ایک سال میں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک واقعہ اس کے برعکس ہے ‘ آئندہ ہم اس کی تفصیل بیان کریں گے۔ بہتر اور صحیح مطلب یہ ہے کہ چاند کی جو مخصوص رفتار ہے سورج اس کو پا نہیں سکتی ‘ یعنی دونوں کی رفتار متحد نہیں ہوسکتی۔ اس سے نباتات کی پیدائش و افزائش اور حیوانات کی آسائش و زندگی میں خلل پڑجاتا (نظام بگڑ جاتا) ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آثار و منافع میں سورج چاند کو نہیں پاسکتا ‘ یا اس کی جگہ اور مقام اور دائرۂ عمل میں نہیں اتر سکتا کہ اس کے نور کو مٹا دے۔ میں کہتا ہوں : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورج سے مراد دن ہو اور چاند سے مراد رات ‘ اس صورت میں تقابل صحیح ہوجائے گا ‘ یعنی دن رات سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے ‘ بلکہ ایک مقرر حساب کے ساتھ ایک کے بعد دوسرا آتا ہے ‘ کوئی اپنے وقت سے پہلے نہیں آتا۔ بغوی کے کلام سے یہی مطلب مستفاد ہوتا ہے۔ وَکُلٌّ اور دونوں میں سے ہر ایک۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ کُلٌّ سے تمام سورج اور چاند مراد ہیں۔ چونکہ احوال مختلف ہیں اور اختلاف احوال سے سورجوں اور چاندوں کا فی الجملہ تعدد ہوجاتا ہے ‘ یا سورج و چاند کے ذیل میں چونکہ ستاروں کا بھی ذکر آگیا ‘ اسلئے کواکب کی طرف ضمیر راجع ہے۔ فِیْ فَلَکٍ یعنی ایک آسمان میں ‘ اس سے مراد آسمان دنیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحِ _ یَسْبَحُوْنَ یعنی مچھلی کی طرح تیرتے ہیں۔ آیت صراحۃً بتارہی ہے کہ چاند ‘ سورج اور ستارے آسمان میں (قسری یعنی ملائکہ کے زور) سے ‘ یا بلا ارادہ چل رہے ہیں ‘ کیلوں کی طرح جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ ایسا نہیں کہ آسمان کی حرکت سے ان کی حرکت ہو رہی ہو اور حرکت وضعی ہو (یعنی تمام سیاروں کی حرکت اینی اور مکانی ہے ‘ حرکت وضعی نہیں ہے) فلاسفہ ستاروں کی حرکت وضعی کے قال ہیں ‘ کیونکہ سیاروں کی حرکت اینیہ سے فلک کا پھٹنا اور جڑنا لازم آئے گا اور آسمان میں خرق والتیام محال ہے۔ فلاسفہ ‘ کواکب کی حرکات کے تعدد سے افلاک کے تعدد کو ثابت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ کواکب کی جتنی حرکات ہیں ‘ اتنے ہی افلاک ہیں۔ چناچہ افلاک کی تعداد انہوں نے نو بتائی اور پیاز کے چھلکوں کی طرح ہر فلک کو دوسرے فلک سے پیوستہ ‘ چسپاں اور محیط کہا ہے۔ بالا ترین نویں آسمان (فلک الافلاک محدد جہات) کو وہ محیط کل قرار دیتے ہیں جو مشرق سے مغرب کی طرف ایک منطقہ اور دو قطبوں پر حرکت کر رہا ہے ‘ اس کا چکر ہر رات دن میں تقریباً ایک بار پورا ہوجاتا ہے۔ باقی آسمانوں کی دو قسم کی حرکات ہیں : ایک حرکت تو حرکت قسری ہے جو فلک الافلاک کی حرکت کے تابع ہے ‘ یعنی مشرق سے مغرب کی طرف فلک الافلک کے ساتھ یہ حرکت کررہے ہیں۔ ان کی دوسری حرکت ذاتی اور طبعی ہے جو مغرب سے مشرق کی جانب ہے ‘ اس حرکت کا منطقہ بھی فلک الافلاک کی حرکت کے منطقہ سے جدا ہے اور قطبین بھی دوسرے ہیں چاروں قطب ‘ یعنی دو قطب فلک الافلاک کے اور دو قطب فلک ثوابت (آٹھویں فلک) کے باہم تقاطع کرتے ہیں اور سورج فلک ثواب کے منطقہ کا تابع ہے۔ فلک ثواب کو فلک البروج بھی کہتے ہیں ‘ کیونہ فلک ثوابت کے منطقہ کے بارہ حصے ہیں ‘ ہر حصے کو برج کہا جاتا ہے۔ چونکہ سبعہ سیارہ (قمر ‘ عطارد ‘ زہرہ ‘ شمس ‘ مریخ ‘ مشتری ‘ زحل) کے علاوہ باق کواکب کی نسبت نہیں بدلتی ‘ جتنا ان کا اہم قرب و بعد ہے ‘ وہ برابر قائم رہتا ہے اور ایک دن رات میں ان کا دورہ پورا نہیں ہوتا ‘ کچھ کم رہ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ کمی بہت ہی خفیف ہوتی ہے ‘ مگر ہوتی ضرور ہے ‘ اسلئے سیارات کے علاوہ باقی کواکب کو وہ ایک فلک (یعنی فلک ثوابت) میں جڑا ہوا اور کیلوں کی طرح گڑا ہوا مانتے ہیں۔ یہ مشاہدہ ہے کہ سبعہ سیارہ کا دورہ ایک رات دن میں پورا نہیں ہوتا۔ چاند کا مکمل دورہ 30 یا 29 دن میں ہوتا ہے اور سورج کا پورا چکر 365 یا 364 دن میں ہوتا ہے اور اسی طرح دوسرے سیاروں کے دورے کی حالت ہے ‘ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ساتوں سیاروں کی رفتار مغرب سے مشرق کی طرف ہے ‘ اسلئے ایک رات دن میں ان کی رفتار پورے چکر سے کسی قدر کم ہوتی ہے۔ اب یہ بات چونکہ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ فلک قمر کا چکر مشرق سے ایک ماہ میں پورا ہوجاتا ہے ‘ اسلئے فلک قمر کی رفتار کو علماءِ ہیئت زیادہ تیز مانتے تھے اور فلک شمس کا چکر تین سو پینسٹھ دن میں پورا ہوتا ہے ‘ اسلئے چاند کے مقابلہ میں سورج کی رفتار کو سست قرار دیتے تھے۔ باقی سیاروں کی رفتار کی بھی یہی حالت ہے۔ پانچ سیاروں کو خمسۂ متحیرہ کہا جاتا ہے : عطارد ‘ زہرہ ‘ مشتری ‘ مریخ ‘ زحل۔ ان پانچوں کی رفتار کبھی پورے دائرہ سے زائد ہوتی ہے ‘ کبھی دائرہ سے کم اور کبھی پورا ایک چکر ‘ نہ دائرہ سے کم نہ زیادہ ‘ اسلئے ان کو خمسۂ متحیرہ کہا جاتا ہے۔ برقول علماءِ ہیئت ‘ ان کی تددیرات ہیں ‘ بالا تددیر کی رفتار زیریں تددیر کی رفتار کے مخالف ہے۔ یہ سب اقوال اہل ہیئت کے ہیں جن کو علماء ہیت نے اپنے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ لیکن قرآن کی نصوص قطعیہ بتارہی ہیں کہ آسمان سات ہیں ‘ اس سے زائد نہیں ہیں ‘ اس کا منکر کافر ہوجاتا ہے۔ ہر آسمان کا پھٹنا اور جڑنا جائز ہے ‘ بلکہ آسمان ضرور پھٹے گا ‘ اس کا منکر کافر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ - اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ - اِنْشَقُ الْقَمَرُ وغیرہ۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ آسمان باہم چسپاں ہیں ہیں ‘ بلکہ ہر آسمان دوسرے آسمان سے بہت دور ہے۔ جو شخص آسمانوں کو باہم چسپاں کہتا ہے ‘ وہ فاسق ہے (اخبار احاد کا منکر فاسق ہوتا ہے اور نصوص قطعیہ کا منکر کافر) ۔ امام احمد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت بیان کی ہے ‘ حدیث طویل ہے جس میں یہ بھی فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آسمانوں کی درمیانی مسافت کا ذکر کیا اور فرمایا : ہر آسمان کی دوسرے آسمان سے دوری پانچ سو برس کی (راہ) ہے۔ ترمذی اور ابو داؤد نے حضرت ابن عباس کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین سے آسمان تک کا فاصلہ اور ہر آسمان کی دوسرے آسمان سے دوری اکہتر یا بہتر یا تہتر برس کی (راہ کے برابر ہے۔ شاید اس عددی اختلاف کا چلنے والوں کی رفتار کی تیزی اور سستی کی بناء پر ذکر فرمایا (از مفسر قدس سرہٗ ) ۔ آیات و احادیث مذکورہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ علماء ہیئت کے مفروضات غلط ہیں۔ جو شخص ان کو صحیح خیال کرتا ہے ‘ اس کے کافر ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ جب آسمان کا پھٹنا اور جڑنا جائز قرار پایا تو اب کہا جاسکتا ہے کہ سب کواکب آسمان دنیا میں ہیں (اس قول سے کوئی امر مانع نہیں رہا) اللہ نے خود فرمایا ہے : وَزَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحِ اور دوسری آیت میں فرمایا : کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اکثر ستاروں کی رفتار کی مقدار تقریباً برابر ہے ‘ یعنی پورا دائرہ (یعنی مکمل دورہ کا وقت تقریباً برابر ہے) اور یہ امر بھی ماننے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی کہ حسب مشاہدہ سبعہ سیارہ کی رفتار کی مقدار مختلف ہو اور خمسۂ متحیرہ کی رفتار کبھی زائد ہو اور کبھی کم۔ انہی پانچ سیاروں کو (جن کی رفتار میں کبھی کمی ‘ کبھی بیشی ہوتی ہے) آیت میں الخنس الجوار الکنس کہا گیا ہے۔ وا اللہ اعلم۔
Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشخون۔ اور (ا اللہ کی قدرت کی) ان کیلئے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور پیدا کیا ہم نے ان کے لیے اس کی مثل دوسری سواریاں بظاہر ذریت سے مراد لڑکے ہیں جو تجارتی سفر میں ساتھ جاتے ہیں ‘ یا بچے اور عورتیں مراد ہیں جن کو لوگ اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے ہیں۔ ذریت کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت کو مقتول پا کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو لڑنے کی اہل نہ تھی۔ خالد سے جا کر کہہ دو کہ ذریت کو اور مزدوروں کو قتل نہ کرے۔ چونکہ عورت کو مقتول پا کر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا ‘ اسلئے ذریت سے مراد عورتیں ہی ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا تھا : ذریت کے ساتھ حج کرو ‘ ان کی روزی نہ کھاؤ اور نہ ان کی گردنوں میں پڑی ہوئی رسیاں چھوڑو (گلے میں پڑی ہوئی رسیوں سے مراد (فریضۂ حج ہے) یعنی عورتوں کو ساتھ لے کر حج کرو ‘ کذا فی النہایہ۔ الفلک سے مراد ہیں کشتیاں ‘ جہاز۔ ذریت کا خصوصی ذکر اسلئے کیا کہ کشتیوں میں جم کر اور استقرار کے ساتھ بیٹھ کر ان کیلئے نہایت دشوار ہوتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ الفلک سے مراد حضرت نوح کی کشی ہے اور ذریت سے مراد ہیں آباؤ اجداد۔ ذریت کا اطلاق جیسے اولاد پر ہوتا ہے ‘ اسی طرح آباء پر بھی ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اگر کشتی نوح مراد ہو تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے نوح کی کشتی میں ان کے آباء کو اس وقت سوار کیا جب ساری ذریت ان کی پشت پر تھی۔ اس وقت ذریت کا خصوصی ذکر اسلئے کیا گیا کہ ایجاز اور اختصار عبارت کے ساتھ کامل منّت نہی اور تعجب کا پرزور اظہار ہوجائے۔ مِنْ مِثْلِہٖ یعنی عام کشتیوں کی طرح یا کشتی نوح کی طرح۔ مَا یَرْکَبُوْنَ اللہ نے سواریاں پیدا کردیں۔ سواریوں سے مراد ہیں اونٹ ریگستان کے جہاز ہوتے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ کشتی نوح کی شکل کی اللہ نے دوسری کشتیاں اور ڈونگے پیدا کر دئیے۔
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے

وان نشاء نغرقھم . اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبو دیں۔ فلا صریخ لھم . پھر ان کا کوئی فریاد رس بھی نہ ہوگا جو غرق ہونے سے بچا سکے ‘ یا چیخ سے مراد ہے استغاثۂ فریاد ‘ یعنی فریاد بھی نہ کرسکیں گے۔ ولاھم ینقذون اور نہ (ڈوبنے سے) وہ نجات پاسکیں گے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کوئی بھی ان کو میرے عذاب سے نہ بچا سکے گا۔
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں

الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین . مگر ہماری رحمت سے اور ایک مقرر وقت تک فائدہ اٹھانے کیلئے۔ حِیْنٍ سے مراد ہے مدت زندگی جو اللہ نے مقرر کردی۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

واذا قیل لھم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈور جو تمہارے آگے ہے اور اس عذاب سے بھی جو تمہارے پیچھے ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ سے مراد ہے آخرت اور مَا خَلْفَکُمْ سے مراد ہے دنیا ‘ یعنی آخرت کیلئے عمل کرو اور دنیا سے محتاط رہو ‘ اس پر فریفتہ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ سے مراد ہیں وہ بربادی اور تباہی کے واقعات جو گذشتہ امتوں کو پیش آئے اور مَا خَلْفَکُمْ سے مراد ہے عذاب آخرت۔ بعض نے کہا : حوادث سماوی و ارضی مراد ہیں۔ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے : اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۔ بعض نے کہا : اول سے مراد عذاب دنیا ہے اور دوسرے سے مراد عذاب آخرت۔ بعض نے اس کے برعکس کہا ہے۔ بعض نے کہا : اگلے پچھلے گناہ مراد ہیں۔ لعلکم ترحمون . تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی تاکہ تم اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوجاؤ۔ اِذَا قِیْلَکا جواب محذوف ہے ‘ یعنی جب ان سے یہ بات کہی جاتی ہے تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں ‘ پرواہ نہیں کرتے۔ اگلی متصل آیت اس جواب کو محذوف قرار دینے کا قرینہ ہے۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وما تاتیھم من ایۃ من ایات ربھم الا کانوا عنھا معرضین . اور ان کے رب کی آیات میں سے کوئی آیت ان کے سامنے نہیں آتی ‘ مگر یہ اس کی طرف سے روگرداں ہوجاتے ہیں۔ یہ آیت سابق آیت کی علت کے طور پر ذکر کی گئی ہے ‘ یعنی جب ان سے ڈرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو وہ رخ پھیر لیتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ رب کی ہر آیت سے وہ اعراض کرتے ہیں ‘ یعنی اعراض کرنے اور رخ پھیرنے کے عادی ہیں۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ تم تو صریح غلطی میں ہو

واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ قال الذین کفروا للذین امنوا نطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو مال تم کو عطا فرمایا ہے ‘ اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرو تو یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں : کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانے کو دیں کہ اگر اللہ چاہے تو ان کو کھانے کو دے دے ؟ اَنْفِقُوْا یعنی غریبوں کو دو ۔ اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللہ اَطْعَمَہْٓ یعنی اللہ نے باوجود قدرت رکھنے کے ان کو کھانے کو نہیں دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت ہی نہیں ہے کہ ان کو کھانے کو دیا جائے ‘ اسلئے اللہ کی مشیت کے موافق ہم بھی ان کو کچھ نہیں دیتے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ غریب مسلمانوں نے کفار قریش سے جب کچھ مانگا تو انہوں نے یہ جواب دیا (اخرجہ ابن ابی حاتم عن الحسن وابن المنذر وعبد بن حمید عن اسماعیل بن خالد) کافروں کا یہ قول غلط تھا۔ اللہ نے بعض لوگوں کو مالدار بنایا ہے اور بعض کو نادار۔ غریب کو مالدار اسلئے نہ کیا کہ نعوذ باللہ خدا بخیل ہے ‘ بلکہ مال دار کا امتحان مقصود ہے۔ اللہ غنی کا محتاج نہیں ہے لیکن اس نے بطور آزمائش مالداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ کچھ مال غریبوں کو دیں۔ اللہ کی مشیت کو بہانہ بنانا اور اس پر اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے۔ فعل الٰہی کی حکمت کاملہ تک عقل کی رسائی نہیں ہے (مترجم کہتا ہے کہ کافروں نے اللہ کے حکم اور مشیت میں فرق نہیں کیا۔ بندہ اس کا مکلف نہیں ہے کہ مشیت خدا کے موافق کام کرے ‘ کیونکہ اس کو مشیت کا علم ہی نہیں ہے ‘ بلکہ بندہ احکام کا مکلف ہے ‘ حکم کی تعمیل اس پر فرض ہے۔ بیشک مال داری اور ناداری اللہ کی مشیت کے تابع ہیں لیکن غریبوں کی مدد کرنے کا اللہ نے مال داروں کو حکم دیا ہے ‘ اسلئے مال داروں پر محتاجوں کی امداد فرض ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ مفلسوں کو غریب رکھنا ہی خدا کی مشیت ہے ‘ ممکن ہے مال داروں سے غریبوں کی امداد کرنا بھی اس کی مشیت میں ہو۔ مشیت کو بہانہبنا کر تعمیل حکم سے گریز کرنا علامت کفر ہے) ۔ ان انتم الا فی ضلل مبین . (یہ قول بھی اگر کافروں کا مانا جائے تو ترجمہ اس طرح ہوگا : اے مسلمانو ! تم جو ہم کو غریبوں کی مدد کا مشورہ دے رہے ہو) تم کھلی ہوئی صریح گمراہی میں میں پڑے ہوئے ہو۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ کافروں کے قول کا تتمہ نہ ہو ‘ بلکہ اللہ کی طرف سے کافروں کی بات کا جواب ہو ‘ یا جو جواب مسلمانوں نے کافروں کو دیا تھا اس کا بیان ہو۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟

ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین . اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت آنے کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر سچے ہو تو اس کے آنے کا وقت بتاؤ۔ کافروں کا یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے تھا۔
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی

ما ینظرون الا صحیۃ واحدۃ تاخذہھم وھم یخصمون . یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں جو ان کو آپکڑے گی ایسی حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً سے حضرت ابن عباس کے نزدیک پہلی بار صور پھونکاجانا مراد ہے۔ ایک شبہ : کافروں کا تو صور پھونکے جانے کا عقیدہ ہی نہ تھا ‘ پھر نفخۂ صور کا انتظار کرنے کا کیا معنی۔ الزالہ : انتظار کرنے سے مراد ہے گناہوں کو اس وقت تک ترک نہ کرنا کہ موت آجائے ‘ یا اچانک قیامت واقع ہوجائے۔ جب انہوں نے ساری عمر گناہ ترک نہ کئے تو درپردہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دینے کیلئے گویا وہ صور کی آواز کے منتظر ہیں۔ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ یعنی ایسی حالت میں صور کی آواز آجائے کہ وہ دنیوی کاروبار میں مشغول ہوں ‘ لین دین ‘ کھیتی باڑی اور دوسرے معاملات میں باہم جھگڑ رہے ہوں اور دل میں قیامت برپا ہونے کا کوئی خیال بھی نہ ہو۔ شیخین نے صحیحین میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت ایسی حالت میں آجائے گی کہ دو آدمی (بائع اور مشتری) کپڑا پھیلائے ہوئے خریدو فروخت میں مشغول ہوں گے ‘ نہ عقد کو ختم کرچکے ہوں گے ‘ نہ کپڑے کو لپیٹ چکے ہوں گے (کہ اچانک صور کی آواز سنائی دے گی) اور قیامت ایسی حالت میں آجائے گی کہ آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر واپس آ رہا ہوگا اور کھانے نہ پائے گا اور قیامت ایسی حالت میں آجائے گی کہ آدمی نے لقمہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا ہوگا اور کھا نہ سکے گا (کہ قیامت برپا ہوجائے گی) رواہ ابوہریرہ۔ فریابی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت ایسی حالت میں برپا ہوجائے گی کہ لوگ بازاروں میں خریدو فروخت کر رہے ہوں گے ‘ کپڑے ناپ رہے ہوں گے ‘ اونٹنیاں دوہ رہے ہوں گے اور دوسرے کاموں میں مشغول ہوں گے۔
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے

فلا یستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون . پھر وہ کوئی وصیت بھی نہ کرسکیں اور نہ اپنے گھروں کے پاس لوٹ پائیں گے۔ عبدا اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حضرت زبیر بن عوام کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت ایسی حالت میں برپا ہوجائے گی کہ (کوئی) آدمی کپڑا ناپ رہا ہوگا اور (کوئی) آدمی اونٹنی کو دوہ رہا ہوگا ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلآی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ بعض لوگ اپنے کسی معاملہ میں وصیت بھی نہ کرسکیں گے اور گھر بھی لوٹ نہ پائیں گے کہ گھر والوں کی حالت دیکھ سکیں ‘ بلکہ صور کی آواز سنتے ہی مرجائیں گے۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الی ربھم ینسلون . اور (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا سو وہ سب یکدم قبروں سے نکل نکل کر اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ چونکہ صور کا پھونکا جانا یقینی ہے ‘ اسلئے نُفِخَ ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ یعنی لوگ مرجائیں گے ‘ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلی اور دوسری مرتبہ نفخۂ صور کے درمیان چالیس سال کا فصل ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں نفخوں میں چالیس کی مدت ہوگی۔ حاضرین نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا : کیا چالیس دن کی ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : مجھے (اس کو ماننے سے) انکار ہے۔ لوگوں نے کہا : تو کیا چالیس ماہ کی مدت ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : مجھے اس سے بھی انکار ہے۔ لوگوں نے (آخر میں) کہا : چالیس سال مراد ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں یہ بھی نہیں مانتا (یعنی حضور ﷺ نے کوئی تعیین نہیں کی ‘ اسلئے مجھے نہیں معلوم کہ دن مراد ہیں ‘ یا مہینے ‘ یا سال) الحدیث۔ لیکن ابن ابی داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جو مرفوع حدیث روایت کی ہے اس میں چالیس سال کا لفظ ہے۔ اَلْاَجْدَاث جدث کی جمع ہے ‘ جدث بمعنی قبر۔ یَنْسِلُوْنَ نکل پڑیں گے۔ نسل کا اصل لغوی معنی ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہوجانا۔ نسل الوبر من البعیر اونٹ سے اون جدا ہوگئی۔ اولاد کو نسل اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ باپ سے ہی جدا ہوتی ہے۔ بعض اہل علم نے ینسلون کا ترجمہ کیا تیز دوڑیں گے۔ قاموس میں ینسل اور ینسِلُ وہ تیز دوڑتا ہے۔ نسل ‘ نسیل اور نسلان مصدر ہے۔
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

قالوا یویلنا من بعثنا من مرقد نام . وہ کہیں گے : ہائے ہماری کم بختی ! ہم کو ہماری خوابگاہ سے کس نے اٹھا دیا۔ یعنی کافر کہیں گے۔ یقینی ہونے کی وجہ سے مستقبل کی جگہ قالُوْا ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ ویل مصدر ہے ‘ اس سے فعل مشتق نہیں ہوتا۔ صاحب قاموس نے ویل کا معنی حلول شر لکھا ہے۔ بعض اہل تحقیق کا قول ہے کہ لغت میں اس معنی کیلئے ویل کا لفظ وضع نہیں کیا گیا ‘ بلکہ یہ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ بیہقی ‘ ابن ابی الدنیا اور ہنّاد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ویل جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس میں کافر چالیس برس تک (نیچے کو) تہہ تک پہنچنے سے پہلے لڑھکتا چلا جائے گا (یعنی چالیس برس تک لڑھکتا ہوا تہہ میں پہنچے گا) ۔ سعید بن منصور ‘ ابن المنذر اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے : ویل جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس میں دوزخیوں کا کچ لہو بہہ کر آتا ہے۔ یہ وادی اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کیلئے بنائی گئی ہے۔ ابن جریر نے حصرت عثمان بن عفان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ویل دوزخ کے اندر ایک پہاڑ ہے۔ بزار نے ضعیف سند سے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں ایک پتھر (یعنی پہاڑ) ہے جس کو ویل کہا جاتا ہے۔ اس پر عرفاء چڑھیں گے اور اتریں گے۔ مَنْم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا حضرت ابن عباس اور قتادہ نے فرمایا : کافروں کے اس قول کی وجہ یہ ہوگی کہ دونوں نفخوں کی درمیانی مدت ان پر سے عذاب اٹھا لیا جائے گا اور وہ سو جائیں گے۔ دوسری مرتبہ نفخ صور کے بعد جب اٹھیں گے تو یہ بات کہیں گے۔ معتزلہ عذاب قبر کے منکر ہیں ‘ ان کے قول کی تردید حضرت ابن عباس کی تفسیر سے ہو رہی ہے۔ معتزلہ نے اس آیت سے عذاب قبر کی نفی پر استدلال کیا ہے (کیونکہ آیت میں لفظ مرقد آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر مرنے کے بعد سو جاتا یا سوتے ہوئے آدمی کی طرح ہوجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول سے اس کی تردید ہو رہی ہے ‘ کیونکہ آپ نے مدت خواب دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کو قرار دیا جو چالیس سال کو ہوگا۔ مترجم) اہل حقیقت کہتے ہیں کہ کافر جب جہنم کے گوناگوں عذاب کو دیکھیں گے تو عذاب جہنم کے مقابلہ میں ان کو قبر کا عذاب ‘ خواب کی طرح محسوس ہوگا۔ اس وقت کہیں گے کہ ہم کو خواب سے کس نے اٹھایا۔ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون . یہ وہی ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ کافروں کی طرف سے اس وقت وجود قیامت (اور صداقت انبیاء) کا اقرار ہے ‘ لیکن بےسود۔ بعض نے کہا : یہ قول ملائکہ کا ہوگا ‘ ملائکہ کافروں کے کلام کا جواب دیں گے۔ مجاہد نے کہا : کافروں کی بات کا یہ جواب مؤمن دیں گے۔ کلام مذکور میں طرز جواب اختیار نہیں کیا ‘ اس سے مقصود ہوگا ان کو کفر کی یادددہانی کرنی اور اس بات پر تنبیہ کرنی کہ زندہ کرکے اٹھانے والا کون ہے۔ یہ سوال بیکار ہے ‘ اصل اہمیت اس کی ہے کہ وہ یہ دریافت کریں کہ کیا ان کو زندہ کر کے اٹھا دیا گیا ؟ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے جو تم سے دوبارہ زندہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ اس نے پورا کردیا اور پیغمبروں نے جو کچھ تم سے کہا تھا ‘ وہ سچ کہا تھا۔ واقعی تم کو زند کر کے اٹھا دیا گیا ‘ تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم کو نیند سے جگایا گیا ہے۔ یہ بعث اکبر ہے جو کثیر ہولناکیوں کا حامل ہے۔ کس نے زندہ کیا ‘ یہ سوال فضول ہے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

ان کانت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم جمیع لدنیا محضرون وہ بس ایک چیخ ہوگی ‘ فوراً سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے۔ یعنی حشر کا واقعہ بڑا ہولناک ہوگا۔ دنیا میں تو بغیر اسباب کے کچھ نہیں ہوتا ‘ لیکن قیامت کے دن بعث و حشر کیلئے اسباب کی ضرورت نہیں ہوگی۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

فالیوم لا تظلم نفس شیءًا ولا تجزون الا ما کنتم تعلمون . سو اس روز کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور اسی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ قیامت کے دن جو بات ان سے کہی جائے گی ‘ اس کو نقل کیا گیا تاکہ اللہ نے جو کچھ وعدہ کیا ہے ‘ اس کی تصویر کشی ہوجائے اور دلوں میں اس کا تصور جم جائے۔
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے

ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون اہل جنت اس دن بلاشبہ (اپنے) مشغلوں میں خوش دل ہوں گے۔ شغل سے کیا مراد ہے ‘ اہل تفسیر کا اس میں اختلاف ہے۔ دوشیزہ عورتوں سے صحبت مراد ہے (حضرت ابن عباس) یا سماع مراد ہے (وکیع بن جراح) شغل سے مراد یہ ہے کہ دوزخیوں کی اور ان کے احوال کی ان کو پرواہ نہ ہوگی ‘ وہ دوزخیوں کو یاد بھی نہیں کریں گے (کلبی) جنت کی نعمتوں اور راحتوں میں ایسے مشغول ہوں گے کہ دوزخیوں کے عذاب کا ان کو خیال بھی نہ ہوگا (حسن) سب اللہ کی مہمانی میں ہوں گے اور باہم ملاقاتیں کریں گے (ابن کیسان) اولیٰ یہ ہے کہ (کوئی خاص مشغلہ نام زد نہ کیا جائے بلکہ یوں) کہا جائے کہ اپنے اپنے پسندیدہ مرغوب کاموں میں مشغول ہوں گے۔ صوفیہ کا مقصود سوائے ذات خداوندی کے اور کچھ نہیں ‘ اسلئے اپنے اپنے درجات کے مطابق یہ گروہ اللہ کی ذاتی نور پاشیوں میں غرق ہوں گے (جنت کی اور کوئی نعمت سوائے تجلیات ذاتیہ کے اپنی طرف ان کو مائل نہ کرسکے گی) دوسرے اہل جنت کے مشاغل مختلف ہوں گے کھانا پینا ‘ گانا سننا ‘ عورتوں سے قربت اور خواہشات کے مطابق دوسرے مشاغل میں انہماک ان کا پسندیدہ عمل ہوگا ابونعیم نے ہمارے شیخ طریقت بایزید بسطامی کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کے کچھ خاص بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ اگر اوٹ کرلے گا تو جس طرح دوزخی ‘ دوزخ سے نکلنے کیلئے فریاد کریں گے ‘ اسی طرح وہ جنت کے اندر حجاب دیدار سے نکلنے کیلئے فریاد کریں گے۔ شُغَلٍ میں تنوین تنکیر اظہار عظمت کیلئے ہے ‘ یعنی جنت کے اندر اہل جنت کیلئے عظیم الشان خوشی اور لذت ہوگی اتنی کہ نہ وہ احاطۂ فہم کے اندر آسکتی ہے ‘ نہ اس کی حقیقت کو الفاظ میں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ فٰکِھُوْنَ فکاہیت سے مشتق ہے ‘ یعنی وہ مزے اور عیش میں ہوں گے۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : جن نعمتوں میں ہوں گے ‘ اترانے کی حد تک خوش ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ خوشی میں پھولے نہ سمائیں گے۔
Ayah 36:56

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے

ھم وازواجھم ظلل علی الا رآئک متکؤن . وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ظِلٰلٍ ظل کی جمع ہے ‘ جہاں دھوپ نہ پڑے اس کو ظل کہتے ہیں (یعنی سایہ) یا ظُلَّۃٌ کی جمع ہے۔ ظلہ (سائبان) دھوپ سے بچانے والی چیزکو کہتے ہیں جیسے ڈیرہ ‘ خیمہ۔ اَرَآءِکَ اریکہ کی جمع ہے ‘ پردے دار مسہریاں۔ بغوی نے ثعلب کا قول بیان کیا ہے کہ اریکہ بغیر پردہ کی مسہری کو نہیں کہتے۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ سریر (تخت ‘ مسہری) جب تک پردہ کے اندر نہ ہو اس وقت تک لفظ اریکہ اس کیلئے نہیں بولا جاتا۔ بغیر پردہ کا سریر اریکہ نہیں ہوتا اور اگر صرف پردہ ہی ہو ‘ اندر سریر نہ ہو اس کو بھی اریکہ نہیں کہا جاتا۔ سریر مع پردہ کے ہو تو اس کو اریکہ کہتے ہیں۔ بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ وہ مسہریاں موتی اور یاقوت کی ہوں گی۔
Ayah 36:57

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا)

لھم فیھا فاکھۃ ولھم ما یدعون . ان کیلئے وہاں (ہر قسم کے) میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے وہ ان کو ملے گا۔ یعنی اپنے لئے جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا۔ اس ترجمہ پر لفظ یدعون دعاء (طلب) سے ماخوذہو گا۔ مَا یَدَّعُوْنَ - اِدَّعَ عَلَیَّ مَا شِئت سے ماخوذ ہے ‘ یعنی جس چیز کی ان کو تمنا ہوگی ان کو ملے گی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جس جنت اور مراتب جنت کی آرزو اور طلب تھی وہ ان کو ملے گی۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)

سلمٌ قولا من رب رحیم . ان کو رحمت والے رب کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا۔ یعنی اللہ براہ راست ان کو سلام فرمائے گا ‘ یا ملائکہ کے ذریعہ سے اللہ کا سلام ان کو پہنچے گا اور یہی ان کا مقصود اور تمنا ہوگی۔ ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ اجری اور دارقطنی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت اپنے عیش میں ہوں گے ‘ اسی اثناء میں ایک نور ان پر جلوہ انداز ہوگا۔ اہل جنت سر اٹھا کر دیکھیں گے تو اور سے باری تعالیٰ جلوہ ڈالتا نظر آئے گا اور فرمائے گا : اے اہل جنت ! تم پر سلام ہو۔ یہی (بیان ہے آیت) سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ (میں ہے) حضور ﷺ نے فرمایا : اہل جنت اس کی طرف دیکھیں گے اور وہ اہل جنت کا نظارہ کرے گا۔ ایسی حالت میں جنت والے کسی اور چیز کی طرف گوشۂ چشم سے بھی نہیں دیکھیں گے۔ اسی کی طرف دیکھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ خود اوٹ کرلے گا ‘ لیکن اس کا نور اور برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔ سیوطی نے کہا : اللہ کا جھانکنا حلول اور مکان سے پاک ہے (یعنی کسی آدمی کے دیکھنے کیلئے کسی مقام کی اور حلول مکانی کی ضرورت ہے ‘ لیکن اللہ ہر جسمانیت اور لوازم جسمانیت سے پاک ہے اسلئے جھانکنے کیلئے اس کو نہ مقام کی ضرورت ہے نہ حلول کی۔ اسلئے مترجم نے اشراف اور اطلاع یعنی جھانکنے کا ترجمہ جلوہ انداز ہونا کیا ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رب کی طرف سے فرشتے اہل جنت کو سلام پہنچائیں گے۔ مقاتل نے کہا : جنت کے ہر دروازہ سے ملائکہ یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے : اے اہل جنت ! تم پر تمہارے ربِّ رحیم کی طرف سے سلامتی ہے ‘ دوامی سلامتی ہے۔
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو! آج الگ ہوجاؤ

وامتازوا الیوم ایھا المجرمون . اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ مقاتل ‘ سدی اور زجاج نے کہا : یعنی صالحین سے الگ ہوجاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کو جنت کی طرف اور مجرموں کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ضحاک نے کہا : ہر کافر کا دوزخ میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ داخل ہوجائے گا اور داخلہ کے بعد آگ کے دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائے گا ‘ نہ (اندر سے باہر) دیکھ سکے گا ‘ نہ اس کو دیکھا جاسکے گا۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب دوزخ کے اندر ان لوگوں کو جو ہمیشہ وہاں رہنے والے ہیں ‘ ڈال دیا جائے گا تو (اس کی صورت یہ ہوگی کہ) ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کر کے صندوقوں میں لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی ‘ پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کردیا جائے گا ‘ پھر ان کو جحیم کی تہہ میں پھینک دیا جائے گا۔ کوئی کافر بھی اندر سے سوائے اپنے کسی اور کو عذاب پاتے نہیں دیکھ پائے گا (اس کا گمان ہوگا کہ بس مجھے ہی عذاب دیا جا رہا ہے ‘ اس طرح دوسرے کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر کسی قسم کی تسلی حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا) ۔ ابونعیم اور بیہقی نے سوید بن علقمہ کی روایت سے بھی حضرت ابن مسعود کا بیان اسی طرح نقل کیا ہے۔
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین۔ اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ‘ وہ تمہارا صریحی دشمن ہے
Ayah 36:61

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی سیدھا رستہ ہے

وان اعبدونی ھذا صراط المستقیم۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا ‘ یہی سیدھا راستہ ہے
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟

ولقد اضل منکم جبلاً کثیرًا افلم تکونوا تعقلون . اور یقیناً وہ تم میں سے کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے ‘ سو کیا تم نہیں سمجھتے تھے ؟ یعنی کیا پیغمبروں کی زبانی تم کو تاکید نہیں کردی تھی ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار ‘ اثبات ہوتا ہے ‘ اسلئے مطلب یہ ہوا کہ میں نے تاکید کردی تھی۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے ‘ یعنی مؤمنوں سے الگ ہوجانے کا ‘ اسلئے حکم دیا گیا کہ تم کو میں نے تاکید کردی تھی۔ لاَ تَعْبُدُوْا یعنی شیطان کے کہنے میں آکر اللہ کی نافرمانی نہ کرنا۔ اِنَّہٗ لَکُمْ الخ یہ حکم سابق کی علت ہے ‘ یعنی اسلئے شیطان کے کہنے میں آکر گناہ نہ کرنا کہ وہ تمہارا صریحی دشمن ہے۔ ھٰذَا صِرَاطٌ یہ یعنی شیطان کی عبادت نہ کرنے کی تاکیدی ممانعت یا اللہ کی عبادت ‘ سیدھا راستہ ہے۔ صراطٌ کی تنوین مبالغہ کیلئے ہے ‘ یا اظہار عظمت کیلئے ‘ یا تبعیض کیلئے کیونکہ توحید سیدھے راستے پر چلنے کا ایک حصہ ہے (تکمیل تو تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب کامل سے ہوتی ہے) ۔ جِبِلاً مخلوق یا جماعت جن کو پوری سمجھ اور کامل دانش حاصل ہے ‘ ان کیلئے یہ جملہ شیطان کی انسانوں سے دشمنی کا ثبوت ہے ‘ اس کی عداوت کا اظہار اور گمراہ کنی کی توضیح ہے۔ شیطان ‘ انسان کو بےحیائی کی باتوں اور برے کاموں کا مشورہ دیتا ہے۔ وہ خالق و رازق جس کے دست قدرت میں ہر نفع و ضرر ہے ‘ اس کی عبادت کو چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا کی ترغیب دیتا ہے جن کو نہ نفع رسانی کی طاقت حاصل ہے ‘ نہ ضرر رسانی کی اور اس ناصح بہی خواہ نبی کے اتباع و اطاعت کو ترک کر کے خواہشات نفس کے پیچھے پڑجانے کا حکم دیتا ہے جس کی تصدیق منجانب اللہ معجزات سے ہو رہی ہے۔ اَفَلَمْ تَکُوْنَوا الخ یعنی شیطان کی عداوت بالکل واضح ہے ‘ اتنی کھلی ہوئی دشمنی کو کیا تم جانتے نہ تھے ؟ یہ استفہام بمعنی زجر و توبیخ ہے۔
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (دوزخ کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان سے کہا جائے کہ یہ جہنم ہے جس سے تم کو ڈر ایا جاتا تھا
Ayah 36:64

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے ہو اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

اِصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ آج اس میں چلے جاؤ (اور اس کی آگ کا مزہ چکھو) اس کفر کی پاداش میں جو (دنیا میں) تم کرتے تھے
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

الیوم نختم علی افواھھم تکلمنا ایدیھم وتشھدا رجلھم بما کانوا یکسبون . اس روز ہم ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور جو کچھ وہ دنیا میں کرتے تھے ‘ اس کی شہادت ان کے پاؤں دیں گے۔ حضرت انس کا بیان ہے : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے ‘ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرا رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ فرمایا : مجھے اس بات پر مسکراہٹ آئی کہ ایک بندہ اپنے رب سے کہے گا : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم کرنے سے پناہ نہیں دے رکھی ہے (یعنی کیا تو نے یہ نہیں فرما دیا ہے کہ کسی پر قیامت کے دن ظلم نہیں کیا جائے گا) ۔ اللہ فرمائے گا : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرے گا : تو میں اپنے خلاف کسی کی شہادت نہیں مانوں گا سوائے اس گواہ کے جو میرے ہی بدن کا حصہ ہو۔ اللہ فرمائے گا : آج تیرا نفس اور کراماً کاتبین (اعمالنامے لکھنے والے فرشتے) تیرے خلاف شہادت دینے کیلئے کافی ہیں۔ پھر اللہ اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اعضاء کو حکم دے گا : تم بولو۔ حسب الحکم اعضاء ‘ بندہ کے اعمال کے متعلق بولیں گے۔ اس کے بعد بندے کو (زبان سے) گویائی کی اجازت دے دی جائے گی اور وہ اپنے اعضاء سے کہے گا : تم مرجاؤ ‘ مٹ جاؤ ‘ تمہاری طرف سے ہی تو میں دفاع کر رہا تھا (مسلم) ۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ فرمایا : دوپہر کے وقت جب کہ کوئی بدلہ نہ ہو ‘ تم کو سورج کے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : چودھویں کی رات کو جبکہ کوئی ابر نہ ہو ‘ تم کو چاند کے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم کو اپنے رب کے دیکھنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی ‘ مگر اتنی جتنی سورج اور چاند کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ پھر اللہ بندے سے فرمائے گا : اے فلاں شخص ! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ کیا تجھے سردار نہیں بنا دیا تھا ؟ کیا تجھے تیرا جوڑا نہیں دیا تھا ؟ کیا گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے حکم کا تابع نہیں بنا دیا تھا ؟ کیا تجھے سیادت (سرداری) نہیں دی تھی ؟ کیا تجھے مال غنیمت کی چوتھائی کا مستحق نہیں بنایا تھا ؟ بندہ عرض کرے گا : کیوں نہیں ‘ اے میرے رب ! (تو نے یہ سب کچھ مجھے دیا تھا) اللہ فرمائے گا : کیا تیرے گمان یہ تھا کہ مجھ سے آکر ملے گا ؟ بندہ عرض کرے گا : نہیں۔ اللہ فرمائے گا : جس طرح تو مجھے بھولا رہا ‘ اسی طرح میں بھی تجھے (دوزخ میں ڈال کر) بھولا بسرا کر دوں گا۔ پھر اللہ دوسرے بندے سے ملاقات کرے گا اور اس سے بھی یہی فرمائے گا اور وہ یہی جواب دے گا ‘ پھر تیسرے سے ملاقات کرے گا اور اس سے بھی یہی فرمائے گا ‘ وہ عرض کرے گا : میں تجھ پر ‘ تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں ‘ روزے رکھے تھے ‘ زکوٰۃ دی تھی ‘ غرض جس قدر کرسکے گا ‘ اپنی تعریف کرے گا۔ اس سے کہا جائے گا : کیا ہم تیرے خلاف گواہ کھڑا کردیں ؟ وہ شخص اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے خلاف کس کو گواہ بنایا جائے گا۔ پھر اللہ اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اس کی راہ سے فرمائے گا : تو بات کر۔ حسب الحکم اس کی ران ‘ گوشت اور ہڈی اس کے اعمال جو کچھ ہوں گے ‘ بتائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ شخض منافق ہوگا جو اپنی طرف سے (جھوٹے) عذر پیش کرے گا اور اسی پر اللہ کا غضب ہوگا (مسلم) ۔ طبرانی نے اور امام احمد نے کھری سند سے حضرت عقبہ بن عامر کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جس روز منہ پر مہر لگا دی جائے گی ‘ اس روز سب سے پہلے جو ہڈی کلام کرے گی وہ بائیں ٹانگ کی راہ ہوگی۔ احمد اور نسائی اور حاکم اور بیہقی نے معاویہ بن حیدہ کی روایت سے بیان کی ہے کہ قیامت کے دن تم ایسی حالت میں آؤ گے کہ تمہارے منہ پر مہیرا (وہ ان بند) چڑھا ہوگا اور سب سے پہلے آدمی کی ران اور ہتھیلی بات کرے گی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے : قیامت کے دن ‘ مؤمن کو حساب کیلئے طلب کیا جائے گا اور اس کا رب تخلیہ میں اس کے اعمال اس کے سامنے لائے گا۔ مؤمن اقرار کرے گا اور عرض کرے گا : میرے رب ! میں نے (ایسا) کیا تھا ‘ میں نے ایسا کیا تھا۔ اللہ اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دے گا اور معاف فرما دے گا اور روئے زمین پر اس کے کسی گناہ کی کسی مخلوق کو اطلاع نہ ہوگی اور اس کی نیکیاں لوگوں پر ظاہر ہوں گی ‘ سب لوگ نیکیاں ہی دیکھیں گے اور کافر و منافق کو جب حساب کیلئے طلب کیا جائے گا اور اس کا رب اس کے عمل سامنے لائے گا تو وہ ان اعمال کا انکار کر دے گا اور عرض کرے گا : اے میرے رب تیری عزت کی قسم ! اس فرشتہ نے میرے خلاف وہ اعمال لکھ دئیے ہیں جو میں نے نہیں کئے تھے۔ اللہ فرمائے گا : تو نے فلاں (فلاں) عمل فلاں (فلاں) جگہ کیا تھا۔ کافر و منافق کہے گا : تیری عزت کی قسم ! میں نے نہیں کیا۔ جب وہ اس طرح انکار کر دے گا تو اللہ اس کے منہ پر مہر لگا دے گا۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا : میرے خیال ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا :) سب سے پہلے اس کی سیدھی ران بولے گی۔ پھر آپ نے آیت اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَھِھِمْ الخ تلاوت فرمائی۔ ابویعلٰی اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو کافر کو اس کے اعمال پر عار دلائی جائے گی۔ وہ انکار کرے گا اور جھگڑا کرے گا۔ حکم دیا جائے گا کہ قسم کھاؤ۔ کافر قسمیں کھائیں گے ‘ پھر اللہ ان کو خاموش کر دے گا اور انہی کی زبانوں سے ان کے خلاف شہادت دلوائے گا ‘ پھر ان کو دوزخ میں ڈال دے گا۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر یہ رستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

ولو نشآء لطمسنا علی اعینھم فاستبقوا الصراط فانی یبصرون اور اگر ہم چاہتے تو (دنیا میں ہی) ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیتے پھر وہ (دیکھے ہوئے) راستہ کی طرف دوڑتے پھرتے ‘ مگر ان کو (دیکھا ہوا راستہ بھی) کہاں دکھائی پڑتا۔ یعنی ان ظاہری آنکھوں کو ایسا مٹا دیتے کہ نہ پپوٹہ کا نشان رہتا ‘ نہ آنکھوں کا شگاف ‘ طمس کا یہی معنی ہے الصراط یعنی وہ راستہ جس پر چلنے کے وہ عادی ہیں۔ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ان کو راستہ نہ سوجھتا۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ تفسیر حسن اور سدی نے کی ‘ لیکن حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور عطاء (کے نزدیک اعین سے مراد ہیں گمراہی کی آنکھیں اور طمس اعین سے مراد ہے ان آنکھوں کا نکال دینا اور گمراہی کی آنکھوں کو ہدایت کی طرف پھیر دینا۔ ان بزرگوں) کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کی گمراہی کی آنکھوں کو نکال باہر کردیتے اور گمراہی کی طرف سے ان کو نابینا کردیتے اور ضلالت سے ہدایت کی طرف ان کی نگاہوں کو پھیر دیتے ‘ پھر ان کو ضلالت کا راستہ نہ سوجھتا لیکن ہم نے ایسا کرنا نہ چاہا ‘ اب کہاں راہ ہدایت ان کو نظر آسکتی ہے۔
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

ولو نشآء لمسخنھم علی مکانتھم فما استطاعوا مضیًا ولا یرجعون . اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر (باقی رکھتے ہوئے) ان کی صورتیں بدل ڈالتے پھر وہ نہ (آگے) چل سکتے ‘ نہ (پیچھے) لوٹ سکتے۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں کے اندر ہی ان کو سوروں اور بندروں کی شکل پر کردیتے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ ہم ان کو بےجان پتھر کردیتے کہ گھروں کے اندر پڑے رہتے (حرکت بھی نہ کرسکتے) ۔ وَلاَ یَرْجِعُوْنَ یعنی اس جگہ سے نہیں لوٹ سکتے۔ بعض نے کہا : واپس نہ لوٹنے سے مراد ہے تکذیب سے تصدیق کی طرف رجوع نہ کرنا۔ بر تفسیر حسن اس آیت اور سابقہ آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ عہدشکنی اور کفر کی وجہ سے یہ لوگ مستحق تو اسی بات کے تھے کہ ان کی شکلیں مسخ کردی جاتیں ‘ لیکن اللہ کی عمومی رحمت نے دنیا میں ان کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور اس نے باقتضاء حکمت ان کو مہلت دے رکھی۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون . اور ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اس کو طبعی حالت میں الٹا کر دیتے ہیں۔ سو کیا یہ لوگ (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ؟ یعنی جس کی عمر ہم دراز کرتے ہیں ‘ اس کو سرنگوں کردیتے ہیں۔ سرنگوں کردینے سے یہ مراد ہے کہ شروع میں وہ برابر روبہ ترقی تھا ‘ قوت مسلسل بڑھ رہی تھی ‘ پھر کمزوری آتی رہی اور مرنے کے وقت تک ضعف میں اضافہ ہوتا رہا۔ اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ان کو اتنا جاننا اور سمجھنا چاہئے کہ جو خدا اتنے عظیم الشان تغیر پر قادر ہے ‘ وہ آنکھوں کو نابود کرنے اور صورتوں کو مسخ کرنے پر بھی قادر ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ یہ تغیرات تدریجی ہوتے ہیں (اور اگر مسخ ہوتا تو یکدم ہوتا) ۔ بغوی نے حسب قول کلبی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کفار مکہ شاعر قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد جو کلام بناتے ہیں ‘ یہ شعر ہیں۔ اس کی تردید میں آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے

وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ . اور ہم نے ان کو (یعنی محمد ﷺ کو) شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری ان کے شایان شان ہے۔ یعنی قرآن کی تعلیم دی جو نہ مقفّٰی ہے ‘ نہ موزوں ہے (نہ اس کی قافیہ کی پابندی ہے ‘ نہ وزن کی) نہ اس کے اندر وہ تخیلات کاذبہ ہیں (جو شاعری کا معنوی اثاثہ ہیں) نہ اس کا مقصد غط طور پر جذبات نفرت ورغبت کو برانگیختہ ہے (جو شاعری کا اصل مقصد ہے) نہ شعر سازی میں اور وزن و قافیہ کی تلاش میں وقت عزیز کو ضائع کرنے ان کیلئے زیبا ہے۔ ایک شبہ : بخاری و مسم نے صحیحین میں حضرت براء بن عازب کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کیا ہے : اَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُّطْلِبْ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ‘ میں عبدالمطلب کا بیٹا (یعنی پوتا) ہوں (یہ شعر ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ساختہ پرداختہ ہے) ۔ حضرت جندب بن ابی سفیان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ھَلْ اَنْتَ الاَّ اِصْبُحٌ رُمِیْتِ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَا لَقِیْتِ (یہ بھی شعر حضور ﷺ کا ہے) تو صرف ایک انگلی ہے جو تیر سے زخمی ہوئی ہے اور جو دکھ تو نے پایا وہ اللہ ہی کی راہ میں پایا ہے۔ ازالہ : یہ شعر بلا ارادہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکل گئے ‘ آپ نے ان کو بنانے کا نہ ارادہ کیا ‘ نہ سوچنے میں وقت ضائع کیا (گویا بالارادہ آپ نے ان کی ساخت پرداخت نہیں کی) اور بلا ارادہ اتفاقاً اگر زبان سے کوئی مقفّٰی ‘ موزوں جملہ یا عبادت نکل جائے تو ایسے شخص کو شاعر نہیں کہا جاتا۔ یہ وزن و قافیہ تو نثر میں بھی بکثرت آجاتا ہے۔ بلکہ خلیل نے تو رزمیہ رجز کو شعر نہیں مانا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے دونوں شعر رجز ہی تھے (جو معرکۂ جنگ میں کہے گئے تھے) ۔ اس کے علاوہ بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لاَ کَذِبٌ اور ابن عبدالمطلب پڑھا تھا ‘ یعنی بسکون باء نہیں پڑھا تھا ‘ دونوں جگہ ب کو متحرک پڑھا ‘ اسلئے قافیہ بدل گیا اور یہ شعر نہیں رہا اور دوسرے شعر میں رُمِیْتِ پڑھا ‘ رُمیتٖ اشباع کے ساتھ نہیں پڑھا ‘ یقیتْ بسکون تاء پڑھا ‘ بکسر (تِ ) نہیں پڑھا ‘ اس طرح اختلاف قافیہ ہوگیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی شعر ٹھیک نہیں پڑھ سکتے تھے ‘ اگر کوئی شعر پڑھتے بھی تھے تو اس طرح کہ شعر کا وزن ٹوٹ جاتا تھا۔ حسن کی روایت سے بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ شعر بطور مثل پڑھا : کفٰی بالْاِسْلاَمِ وَالشَّیْبِ لِلْمَرْءِ نَاھِیًا (اسلام اور بالوں کی سفیدی آدمی کو گناہوں سے روکنے کیلئے کافی ہے) حضرت ابوبکر نے عرض کیا : اے اللہ ! کے نبی ‘ شاعر نے تو اس طرح کہا ہے : کفی الشیب والاسلام بالمرء ناھیا آپ نے دوبارہ پڑھا تو پھر بھی پہلے ہی کی طرح پڑھا ‘ اس پر حضرت ابوبکر نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ۔ 1 ؂ مقدام بن شریح کے والد کا بیان ہے : میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ بطور مثل کبھی کوئی شعر پڑھتے تھے ؟ ام المؤمنین نے جواب دیا : ہاں ‘ عبد اللہ بن رواحہ کا شعر اس طرح بطور مثل پڑھتے تھے : وَیَاتِیْکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدِیْ معمر کا بیان ہے : مجھ سے قتادہ نے کہا کہ حضرت عائشہ سے کسی شخص نے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ کوئی شعر بطور مثل کبھی پڑھتے تھے ؟ ام المؤمنین نے فرمایا : شعر سے رسول اللہ ﷺ کو ہر کلام سے زیادہ نفرت تھی۔ آپ کوئی شعر بطور مثل نہیں پڑھتے تھے ‘ مگر (قبیلۂ ) قیس بن طرف کے شاعر کا یہ شعر بطور مثل پڑھتے تھے : سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاھِلاً وَیَاتِْکَ بالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدی لیکن اس شعرکو آپ نے اس طرح پڑھا تھا وَیَاتِْکَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّد بالاخبار حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یہ شعر اس طرح نہیں ہے۔ فرمایا : میں شاعر نہیں ہوں اور نہ (شاعری) میرے لئے سزاوار ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا : لہٗ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے ‘ یعنی قرآن کا شعر ہونا صحیح نہیں ہے (یعنی قرآن کو شعر کہنا غلط ہے) ۔ ان ھو الا ذکر وقراٰن مبین . وہ تو محض نصیحت ہے اور ایسا قرآن ہے جو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔ ذِکْرٌ یعنی نصحت اور ہدایت۔ مُبِیْنٌ بیان کرنے والا ‘ ظاہر کرنے والا۔ یعنی فرائض ‘ حدود ‘ احکام ‘ ماضی کی خبریں بیان کرنے والا ‘ آئندہ ہونے والے واقعات کی اطلاع دینے والا۔ شاعر ایسا نہیں کرسکتا ‘ بلکہ کسی شخص سے ایسے کلام کا صدور ممکن نہیں ہے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

لینذر من کان حیًا ویحق القول علی الکفرین تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجائے۔ یعنی ہم نے محمد کو رسول بنایا اور قرآن نازل کیا ‘ اس غرض سے کہ مؤمنوں کو یہ رسول یا قرآن ڈرائے۔ زندہ سے مراد مؤمن ہے ‘ کیونکہ مؤمن ہی کا دل زندہ ہوتا ہے ‘ وہی حقائق اشیاء سے صحیح طور پر واقف ہوتا ہے۔ حیات لازوال ایمان سے ہی حاصل ہوتی ہے ‘ ایمان کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے۔ کافر تو مردہ ہوتا ہے ‘ اس کو قرآن سے کوئی فائدہ اور زندگی کا نفع حاصل نہیں ہوتا۔ اس کو اچھے کا ‘ برے سے امتیاز نہیں ہوتا۔ وہ پتھروں کی پوجا اور شیطان کی پیروی کو اچھا سمجھتا ہے اور خالق کائنات کی عبادت اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ناصح کے اتباع کو براجانتا ہے ‘ اسلئے آخرت میں اس کی حالت ایسی ہوگی کہ نہ مرے ‘ نہ جیے گا۔ یہ بتانے کیلئے کہ کافر حقیقت میں مردہ ہے ‘ زندوں کے مقابلے میں الکافرین کا لفظ استعمال کیا۔ یَحِقَّ الْقَوْلِ ‘ القول سے مراد ہے کلمۂ عذاب (عذاب کی حجت) ۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں

اولم یروا انا خلقنا لھم مما علمت ایدنیا انعاما فھم لھا ملکون۔ کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے نفع کیلئے اپنے ہاتھ کی ساختہ چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے ‘ پھر یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں
Ayah 36:72

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

وذللنھا لھم فمنھا رکوبھم ومنھا یاکلون۔ اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کا تابع بنا دیا ہے سو ان میں سے بعضے تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں
Ayah 36:73

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟

ولھم فیھا منافع ومشارب افلا یشکرون . اور ان میں ان لوگوں کیلئے اور بھی منافع ہے ‘ اور پینے کی چیزیں (دودھ ‘ مٹھا ‘ دہی وغیرہ) بھی ہیں۔ سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے ؟ اَوَلَمْ یَرَوْا میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی دیکھ رہے ہیں اور اقرار کر رہے ہیں۔ اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ کہ ہم نے ہی پیدا کئے اور ان کے نفع کیلئے پیدا کئے ‘ کوئی دوسرا اس تخلیق میں شریک نہیں ہے۔ مِمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَا ہمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ‘ بنانے کی نسبت ہاتھوں کی طرف بطور استعارہ ہے جس سے تخلیق میں انفرادیت خداوندی اور بلاشرکت ‘ اللہ کے ساتھ ساری چیزوں کی پیدائش کی وابستگی پرزور طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔ اَنْعَامًا چوپایوں کے اندر فطرت کے پرندرت مظاہر اور نفع کی کثرت ہے ‘ اسلئے خصوصیت کے ساتھ چوپایوں کا ذکر کیا۔ فَھُمْ لَھَا مٰلِکُوْنَ یعنی ہم نے ان کو مالک بنا دیا تو وہ مالک بن گئے ‘ یا ہم نے چوپایوں کو ان کے تابع کردیا تو وہ ان پر قابو یافتہ ہوگئے اور ان سے کام لینے لگے۔ وَذَلَّلْنٰھَالَھُمْ اور ہم نے چوپایوں کو ان کا تابع بنا دیا۔ یَاْکُلُوْنَ یعنی ان کا گوشت کھاتے ہیں۔ وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ یعنی کھالیں ‘ بال اور دوسرے منافع جیسے زمین جوتنا ‘ بوجھ اٹھانا ‘ جو جانوروں سے ان کو حاصل ہوتے ہیں۔ وَمَشَارِبُ اور پینے کی چیزیں یعنی دودھ۔ مشارب ‘ مَشْرَبَۃٌ کی جمع ہے اور مَشْرَبَۃٌ ظرف مکان ہے یا مصدر میمی۔ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ سوال انکاری ہے اور فعل محذوف پر اس کا عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا یہ انکار کرتے ہیں اور شکر نہیں کرتے ؟ یعنی انکار نہیں کرتے ‘ اقرار کرتے ہیں ‘ پھر کفران نعمت کرتے ہیں۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

واتخذوا من دون اللہ الھۃ لعلھم ینصرون۔ اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں ‘ اس امید پر کہ ان کو مدد ملے
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہرگز) طاقت نہیں رکھتے۔ اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کیے جائیں گے

یا یستطیعون نصرھم وھم لھم جند محصرون (لیکن) وہ ان کی کچھ مدد کر ہی نہیں سکتے اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک (مخالف) فریق ہوجائیں گے جو حاضر کئے جائیں گے۔ وَاتَّخَذُوْا الخ یعنی اللہ کی پیہم نعمتیں اور محیط کل قدرت کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اللہ تنہا اس قدرت کاملہ اور ربوبیت عامہ کا مالک ہے ‘ دوسروں کو عبادت میں انہوں نے شریک کر رکھا ہے۔ بیہقی اور حکیم نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا : میرا معاملہ اور جن و انس کا ایک عجیب معاملہ ہے۔ میں پیدا کرتا ہوں اور دوسروں کی عبادت کی جاتی ہے ‘ میں رزق دیتا ہوں اور شکر دوسروں کا کیا جاتا ہے۔ لَعَلَّھُمْ یُنْصَرُوْنَ یعنی اس امید پر کہ وہ معبود ان کی مدد کریں گے ‘ حالانکہ نتیجہ اس کے برعکس ہوگا۔ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ وہ عذاب سے بچانے کی طاقت ہی نہ رکھتے ہوں گے۔ وَھُمْ لَھُمْ جُنْدٌ یعنی کفار اپنے معبودوں کیلئے فریق بنے ہوئے دنیا میں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی نگرانی کیلئے تیار رہتے ہیں باوجودیکہ وہ معبود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے ‘ نہ کسی شر سے ان کو بچاتے ہیں۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے معبودوں کو طلب کیا جائے گا ‘ ان کے ساتھ ان کے پرستاروں کو بھی لایا جائے گا گویا وہ سب ایک فوج ہوں گے جن کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔