34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

قالوا سبحنک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مؤمنون فرشتے عرض کریں گے : تو پاک ہے (یعنی تجھے ہر شرک سے ہم پاک سمجھتے ہیں اور تیری پاکی کا اقرار کرتے ہیں) ہمارا تعلق تو تجھی سے ہے نہ کہ ان سے بلکہ یہ لوگ شیاطین کو پوجتے تھے ‘ ان میں سے اکثر لوگ انہی کے معتقد تھے۔ یعنی ہمارا رشتۂ عبدیت و معبودیت تجھی سے ہے ‘ ان سے ہمارا کوئی رشتۂ موالات نہیں ہے۔ اس جواب سے گویا فرشتوں نے ظاہر کردیا کہ ہم ان کی عبادت کو پسند نہیں کرتے تھے ‘ ہم اس (جرم) سے بیزار ہیں۔ اَلْجِنَّ اس سے مراد ہیں شیاطین جنہوں نے کافروں کو اغواء کر کے فرشتوں کی پوجا کو ان کی نظر میں مستحسن بنا دیا تھا۔ بعض علماء نے کہا : شیاطین خود بھیس بدل کر ان کے سامنے آتے تھے اور ان کے خیال میں یہ بات ڈالتے تھے کہ وہ (شیاطین) ملائکہ ہیں ‘ اس خیالی تصویر کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اَکْثَرُھُمْ یعنی اکثر لوگ۔ اس سے مراد ہیں مشرک ‘ یا اکثر سے مراد ہیں سب۔ اس مطلب پر ھُمْ کی ضمیر مشرکوں کی طرف راجع ہوگی ‘ یعنی سب مشرک۔ بِھِمْ ان جنات کے معتقد تھے (جنات پر ایمان رکھتے تھے) ۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا . اس روز نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھے گا نہ ضرر پہنچانے کا۔ یعنی کوئی مخلوق جن ہو یا انسان یا ملائکہ ‘ دوسرے کو نفع پہنچانے یعنی ثواب دینے یا شفاعت کرنے کا اختیار رکھے گا نہ عذاب دینے کا کیونکہ (اس روز) یہ سارے معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ ونقول للذین ظلموا ذوقوا عذاب النار التی کنتم بھا تکذبون . اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ (اب) آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو (دنیا میں) تم جھوٹ قرار دیتے تھے۔ (ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو بےمحل رکھنا یا بےمحل استعمال کرنا) کافر عبادت کا عمل بےمحل کرتے ہیں (ان کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے ہیں) اس لئے ان کو ظالم کہا۔
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قالوا ما ھذا الا رجل یرید ان یصدکم عما کان یعبد اباؤکم وقالوا ما ھذا الا افک مفتری اور جب ان (اہل مکہ) کے سامنے ہماری (قرآنی) آیات (رسول اللہ ﷺ کی زبانی) کھلی کھلی پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ (شخص یعنی رسول اللہ ﷺ مگر ایک ایسا آدمی جو تم کو ان چیزوں (کی پوجا) سے روکنا چاہتا ہے جن کی پوجا تمہارے اسلاف کرتے تھے اور یہ (قرآن) محض خود تراشیدہ جھوٹ ہے۔ یعنی محمد (رسول اللہ ﷺ نے خود بنا کر اللہ کی طرف نسبت کردی ہے (یہ خدا کا کلام نہیں ہے) ۔ وقال الذین کفروا للحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحر مبین . اور یہ امر حق جب ان کے پاس پہنچ گیا تو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو بس جادو ہے (جادو کے سوا کچھ نہیں ہے) ۔ حق سے مراد ہے نبوت یا سلام یا قرآن ‘ یعنی قرآن یا امر نبوت یا اسلام جب ان کے پاس پہنچا تو بغیر سوچنے اور غور کرنے کے اس کو کھلا ہوا جادو کہنے لگے۔ باعتبار معنی کے کافروں نے قرآن کو خود تراشیدہ جھوٹ کہا اور الفاظ و اعجاز ترکیب کی وجہ سے جادو قرار دیا۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

وما اتینھم من کتب یدرسونھا وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر . اور ہم نے ان کو (یعنی کفارمکہ کو) کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کسی پیغمبر کو بھیجا۔ مِّنْ کُتُبٍ یعنی ایسی کتابیں نہیں دی تھیں جن میں شرک کو صحیح قرار دیا گیا ہو۔ مِنْ نَّزِیْرٍ اور نہ کوئی ایسا پیغمبر بھیجا تھا جس نے ان کو شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر عذاب سے ڈرایا ہو ‘ پھر شرک کے مدعی یہ کہاں سے بن بیٹھے اور قرآن کو جھوٹ کہنے اور جادو قرار دینے اور نبی پر خودساختگی اور افتراء بندی کا الزام رکھنے کی اجازت ان کو کس نے دی۔ اس آیت میں مشرکوں کی جہالت و سبک سری کا اظہار ہے۔ اس سے آگے تہدید عذاب کیلئے فرمایا۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا

وکذب الذین من قبلھم اور ان سے پہلے والوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی تھی۔ یعنی عاد ‘ ثمود ‘ قوم ابراہیم ‘ قوم لوط ‘ اہل مدین اور ایکہ والوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ وما بلغوا معشارما اتینھم . اور جو کچھ (سروسامان ‘ طول عمر اور دولت و مال) ہم نے ان کو (گذشتہ امتوں) کو دیا تھا اس کے دسویں حصہ کو بھی یہ (کفار مکہ) نہیں پہنچے۔ فکذبوا رسلی . پھر انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ یعنی انہوں نے میرے پیغمبروں کی تکذیب کی تو میرا عذاب ان پر آ پہنچ اور ان کو تباہ کردیا۔ فکیف کان نکیر . سو (دیکھ لو) میرا عذاب ان پر کیسا آیا۔ نَکِیْرِ یعنی عذاب اور تباہی کی شکل میں میری ناراضگی کیسا رنگ لائی۔ یہ سوال توبیخی ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی اس قسم کی تکذیب سے احتراز کرنا چاہئے۔ پہلے کَذَّب سے کثرت تکذیب مراد ہے اور دوسری بار کَذَّبُوا میں کثرت تکذیب مراد نہیں ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اول کذَّب کا مفعول مذکور نہیں ہے ‘ تکذیب مطلق اور مجمل ہے اور دوسرے کَذَّبُوا کے بعد مفعول مذکور ہے اور تکذیب مقید ہے (گویا) یہ اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ مؤلف سجرمواج نے لکھا ہے کہ کَذَّبُوا کی ضمیر کفار مکہ کی طرف راجع ہے (کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے تمام سابق انبیاء کو سچا بتایا تھا ‘ اس طرح کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر کے تمام پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ مترجم) ۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا اللہ مثنی وفرادی ثم تتکفروا مابصاحبکم من جنۃ (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو صرف ایک بات سمجھاتا ہوں (وہ) یہ کہ تم محض اللہ کے واسطے دو دو اور ایک ایک (یعنی اجتماعی شکل میں یا الگ الگ تنہائی میں) کھڑے ہوجاؤ ‘ پھر سوچو کہ تمہارے اس ساتھی کو کس طرح کا جنون نہیں ہے۔ کھڑے ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ نہ بیٹھو نہ لیٹو ‘ کھڑے ہوجاؤ بلکہ مراد ہے تیار ہوجانا ‘ آمادہ ہوجانا۔ آیت اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتَامٰی بالْقِسْطِ میں بھی اسی معنی کیلئے لفظ اَنْ تَقُوْمُوْا استعمال یا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے تعصب ‘ ہٹ اور اسلاف کی تقلید کو چھوڑ کر محض اللہ کیلئے غور کرنے کیلئے تیار ہوجاؤ۔ مَثْنٰی وَفُرَادٰی یعنی زیادہ ہجوم نہ ہو جس سے فکر کی یکسوئی ختم ہوجائے ‘ بلکہ دو دو مل کر یا ایک ایک الگ الگ ہو کر رسول اللہ ﷺ کے معاملہ میں سوچو ‘ پھر ہر شخص اپنے خیال کا دوسرے سے اظہار کرے اور وہ انصاف و عدل کے ساتھ غور کرے یا تنہائی میں ہر ایک انصاف کے ساتھ سوچے تاکہ تصور حق سامنے آجائے اور سمجھ لے کہ تمہارے اس ساتھی کو کسی طرح کا جنون نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ ان کی عقل صحیح ہے ‘ فہم سلیم ہے ‘ فکر درست ہے۔ ان کے صحیح الدماغ ہونے کا انکار وہی کرسکتا ہے جو خود پاگل ہو یا محض عناد کا مظاہرہ کر رہا ہو اور یہ بھی بدیہی حقیقت ہے کہ کوئی عقلمند ‘ صحیح الدماغ شخص کوئی اتنا عظیم الشان کام جس سے سارے لوگ دشمن ہوجائیں اور وہ خود اکیلا ‘ تہی دست ‘ بےیارو مددگار رہ جائے ‘ اس وقت تک نہیں کرتا جب تک اس کو اپنی حقانیت کا یقین مضبوطی عقلی دلائل کی روشنی میں نہ ہوجائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ دانشمند آدمی جب اتنے بڑے کام کا بیڑہ اٹھاتا ہے تو بےمقصد اور فضول نہیں اٹھاتا ‘ اس کے پیش نظر یا حصول منفعت ہوتا ہے یا دفع مضرت اور رسول اللہ ﷺ کے پیش نظر ان دونوں دنیوی مقاصد میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ حصول منفعت دنیوی کی تو ان کو ممانعت کردی گئی ہے ‘ وہ خود کہتے ہیں : مَا سَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ میں تم سے جو کچھ مانگوں ‘ وہ تم ہی لے لو ‘ مجھے ضرورت نہیں۔ رہا دفع مضرت کا مقصد تو یہ بھی ان کے پیش نظر نہیں ہے ‘ ان کے دعوے سے تو سارے لوگ دشمن اور درپئے آزار ہوگئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے پیش نظر آخرت کی مضرت کا دفع اور آخرت کے نفع کا حصول ہے۔ ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید وہ تو تم کو بس ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں۔ یعنی اس دنیا سے آگے دوسرے جہان میں جو سخت عذاب آنے والا ہے ‘ اس سے وہ تم کو ڈرا رہے ہیں۔ دلیل مذکور کے مقدمات (جو یقینی ہیں ‘ مترجم) بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی واجب ہے ‘ پھر اس دلیل کی ساتھ کثیر معجزات کو بھی ملا دیا جائے تو وجوب اتباع اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرِبَیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قبائل قریش کو (نام بنام) پکارنا شروع کیا اور فرمایا : اے بنی فہر ! اے بنی عدی ! ندا سن کر سب لوگ جمع ہوگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا : اگر میں تم کو اطلاع دوں کہ (پہاڑ کے پار) کچھ سوار موجود ہیں اور تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو بتاؤ کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ حاضرین نے کہا : ہمارے تجربہ میں آپ کا کوئی جھوٹ نہیں آیا (اس لئے سچا سمجھیں گے) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : تو میں تم کو آگے آنے والے سخت عذاب سے پہلے ہی ڈرا رہا ہوں۔ یہ سن کو ابولہب بولا : تجھے ہمیشہ کیلئے موت آجائے ‘ کیا اس لئے تو نے ہم کو جمع کیا تھا ؟ اس پر آیت تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ نازل ہوئی ‘ متفق علیہ۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے) ۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

قل ما سالتکم من اجر فھو لکم . آپ کہہ دیجئے کہ (رسالت کا) جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں ‘ وہ تمہارا ہی ہے (تم اپنے پاس رکھ لو ‘ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے) یعنی میں تم سے کسی معاوضہ کا طلبگار نہیں ہوں۔ بعض اہل علم نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جو تم سے کہا ہے : مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ الاَّ مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ الِیٰ رَبِّہٖ سَبِیْلاً اور یہ بھی میں نے تم سے کہا ہے : لاَ اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرً الاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی تو میری یہ طلب تمہارے ہی فائدہ کیلئے ہے ‘ راہ خدا اختیار کرنا تمہارے ہی لئے مفید ہے اور میری تمہاری قرابت ایک ہی ہے۔ میں کہتا ہوں : رسول اللہ ﷺ کے قرابتدار علماء ظاہر و باطن ہیں ‘ خواہ اہل بیت میں سے ہوں یا دوسرے لوگ ہوں ‘ علماء کی مودت قرب خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ان اجری الا علی اللہ . میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے۔ یعنی اگلی دنیا میں میں اللہ سے اس اجر کا خواستگار ہوں اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو میں یہ مشقت نہ برداشت کرتا ‘ اس لئے میرا اتباع تم پر لازم ہے۔ تم ایسے عمل کرو کہ حسب وعدہ اپنی مہربانی سے اللہ تم کو اجر عنایت فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ حضرت معاذ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے۔ فرمایا : بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ اسی کی عبادت کریں ‘ کسی اور کو اللہ کا شریک قرار نہ دیں اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو شرک نہ کرتا ہو ‘ اللہ اس کو عذاب نہ دے ‘ متفق علیہ۔ وھو علی کل شیء شھید . اور وہی ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ پس ہر شخص کو اس کے اعمال اور عقیدے کے موافق بدلہ دے گا۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

قل ان ربی یقذف بالحق آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق (یعنی اسلام) کو (باطل یعنی کفر پر) غالب کر رہا ہے۔ یَقْذِفُ یعنی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر کے اس پر حق کو نازل فرماتا ہے اور وحی بھیجتا ہے ‘ یا یہ معنی ہے کہ حق کی چوٹ باطل پر لگاتا ہے اور باطل کو چکناچور کردیتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ حق کو اطراف عالم میں پھیلائے گا۔ اس صورت میں یہ اسلام کو غالب کرنے کا وعدہ ہوگا۔ امام احمد کی روایت ہے کہ حضرت مقداد نے بیان کیا : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : روئے زمین پر کوئی گھر مٹی کا ہو یا اون کا (خیمہ) ایسا نہ بچے گا جس کے اندر ‘ اللہ ‘ کلمۂ اسلام داخل نہ کر دے خواہ عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ قبول کرلیں گے اللہ ان کو عزت والا کر دے گا اور جو نہیں مانیں گے ان کو ذلیل کر دے گا اور (ذلیل ہو کر) وہ کلمۂ اسلام کی اطاعت کریں گے۔ علام الغیوب وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی وہی جانتا ہے کہ کون وحی و رسالت کیلئے منتخب ہونے کا اہل ہے اور وہی واقف ہے کہ اسلام کا مآل کیا ہوگا۔ اطراف عالم میں کفر کو مغلوب اور اسلام کو غالب کر دے گا۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

قل جآء الحق . آپ کہہ دیجئے کہ حق (یعنی قرآن یا اسلام) آگیا۔ وما یبدئ الباطل وما یعید اور باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا۔ یعنی باطل (شرک) فنا ہوگیا ‘ نابود ہوگیا اور باطل کا کوئی حصہ ایسا باقی نہیں رہا جو کسی چیز کو ابتداءً نمودار کرسکے یا اعادہ کرسکے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : بَلْ یَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِل فَیَدْ مَغُہٗ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌ۔ قتادہ نے کہا : باطل سے مراد ابلیس ہے ‘ جو نہ کسی کی ابتدائی تخلیق کرتا ہے نہ دوبارہ قبروں سے اٹھا سکے گا۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ بعض کے نزدیک باطل سے بت مراد ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مکہ کے کافر رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے : تم گمراہ ہوگئے ہو ‘ تم نے اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ دیا۔ اس پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر (بالفرض) میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی مجھی پر وبال ہوگی اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو یہ اس قرآن کی وجہ سے ہوگی جو میرا رب میرے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیج رہا ہے۔ یعنی جو دین میں نے اختیار کیا ہے ‘ اگر وہ گمراہی ہے تو گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا اور ظاہر ہے کہ میں دیوانہ نہیں ‘ نہ اس سے مجھے کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہوگا ‘ پھر گمراہی کے وبال کو میں اپنے لئے کیسے اختیار کرسکتا ہوں اور اگر یہ دین (مبنی بر) ہدایت ہے تو میری طرف سے نہیں ہے (یعنی میرا ساختہ پرداختہ نہیں ہے) نہ اس شہر میں میں نے کسی سے سیکھا ہے کیونکہ میرا اُمِّیْ ہونا ظاہر ہے ‘ نہ مجھے لکھنا آتا ہے نہ پڑھنا (میں لکھا پڑھا نہیں ہوں) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دین خدا کا بھیجا ہوا ہے اور اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے اس لئے تم کو بھی میرے طریقہ پر چلنا چاہئے تاکہ جس طرح میں نے ہدایت پائی ‘ تم بھی ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔ اس تفسیر پر اس آیت میں ثبوت نبوت پر استدلال ہوگا اور یہی دونوں شرطوں میں مقابلہ کی وجہ قرار پائے گی ‘ لیکن دونوں شرطوں میں مقابلہ کی یہ توجیہ کی ہے کہ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَا اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْج کا مطلب یہ ہے کہ میری گمراہی کا وبال میرے ہی نفس پر پڑے گا کیونکہ نفس ہی کے سبب سے گمراہی ہوگی ‘ وہی بالذات گمراہ اور آمادہ بالسؤ ہے اور اگر میں ہدایت پر ہوں گا تو اللہ کی راہنمائی سے مجھے ہدایت ملے گی۔ دوسری آیت میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے : مَٓا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَٓا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ۔ انہ سمیع قریب . بلاشبہ وہ سب کچھ سننے والا ‘ بہت قریب ہے۔ ہر گمراہ اور ہدایت یافتہ کے قول و فعل کو جانتا ہے ‘ خواہ کوئی کتنا ہی چھپائے۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

ولو تری اذ فزعوا فلا فوت واخذوا من مکان قریب اور تو (اے مخاطب ! حیرت سے) دیکھے گا جبکہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ پھر نکل بھاگنے کی کوئی راہ نہ ہوگی اور اس وجہ سے پاس ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ فَزِعُوْا یعنی مرنے کے وقت کافر گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ لَوْ شرط ہے ‘ جزا محذوف ہے یعنی اگر تو کافروں کے گھبرانے کا منظر دیکھے گا تو ہولناک منظر تیرے سامنے ہوگا۔ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ یعنی زمین کے اوپر سے پکڑ کر زمین کے اندر لے جائے جائیں گے (یہ تفسیر اس وقت ہوگی جب فزع سے مراد فزع موت ہو ‘ مترجم) یا مؤقف حساب سے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے۔ ضحاک نے کہا : بدر کا دن مراد ہے جبکہ کفار گھبرائے ہوئے تھے اور پاس کے مکان سے عذاب دنیوی میں ان کو پکڑا گیا تھا۔ ضحاک کی یہ تشریح آئندہ جملہ سے مناسبت نہیں رکھتی ‘ کیونکہ آگے آیا ہے۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

وقالوا امنا بہ . اور وہ کہیں گے : ہم اس پر (یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ اور بدر کے دن کافروں نے اَمَنَّا بِہٖ نہیں کہا تھا ‘ بلکہ ابوجہل جب زخمی ہو کر گرا ‘ کچھ آخری سانس باقی تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دشمن خدا کو رسوا کیا۔ ابوجہل نے کہا : میری رسوائی کس طرح ہوئی ؟ کیا جس شخص کو اس کی قوم والے ہی قتل کردیں اس کی رسوائی ہوتی ہے ؟ کافر تو اس وقت اَمَنَّا بِہٖ کہتے ہیں جب سکرات موت میں مبتلا ہوتے ہیں اور آس ٹوٹ جاتی ہے ‘ یا اس وقت ایمان لائیں گے جب قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے اور دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے۔ وانی لھم التناوش من مکان بعید . اور (اتنی) دور جگہ سے (ایمان کا) ہاتھ آنا ان کیلئے کہاں ممکن ہے۔ نوش ہاتھ سے لینا ‘ طلب کرنا ‘ چلنا ‘ تیزی سے اٹھنا۔ کذا فی القاموس۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا حصول تو اس وقت ممکن تھا جب (دنیا میں) آدمی مکلف تھا اور وہ مقام تکلیف بالایمان تو دور ہوگیا۔ اگر رہائی کے وقت اور موقع فوت ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں رہائی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی مفہوم کو بطور تشبیہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کفار دنیا کی طرف واپسی کی درخواست کریں گے لیکن دور کے مقام یعنی آخرت سے دنیا میں ان کا لوٹنا کہاں ہو سکے گا۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

وقد کفروا بہ من قبل . اور اس سے پہلے (دنیا میں) انہوں نے اللہ کا (یا اللہ کے رسول کا ‘ یا قرآن کا ‘ یا عذاب کا) انکار کیا تھا (ضمیر کا مرجع پہلے کلام میں ہونا ضروری ہے ‘ خواہ صراحۃً اس کا ذکر کیا گیا ہو یا ضمناً ) اللہ کا کر تو صراحۃً پہلے موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر آیت مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّہٍ میں کردیا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن کا ذکر آیت جاء الحق میں آیا ہے اور اُخِذُوْا کے لفظ کے اندر عذاب کا مفہوم موجود ہے۔ ویقذفون بالغیب من مکان بعید . اور بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ اور آخرت کے معاملہ میں بلاتحقیق شبہات کرتے تھے۔ جو شخص بن دیکھی چیز پر دور سے تیر چلائے اور نشانہ پر لگنے کا خیال کرنے گے ‘ ایسے شخص سے ان کافروں کو تشبیہ دی ہے جو بلاتحقیق رسول اللہ ﷺ اور آخرت کے معاملہ پر رائے زنی کرتے تھے۔ مجاہد نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کو انہوں نے بلاتحقیق نشانہ بنا رکھا تھا۔ شاعر کہتے تھے ‘ جادوگر کہتے تھے ‘ بہت بڑا دروغ گو کہتے ہیں۔ تکلم بالغیب سے یہی مراد ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ اپنے گمان کے تیر چلاتے تھے ‘ ان کا قول تھا کہ نہ قیامت ہوگی ‘ نہ جنت ‘ نہ دوزخ۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

وحیل بینھم وبین ما یشتھون . اور ان میں اور ان کی مطلوب چیزوں میں آڑ کردی جائے گی۔ مَا یَشْتَھُوْنَ سے مراد ہے ایمان کا نفع ‘ دوزخ سے نجات ‘ دنیا کی طرف واپسی یا وہ تمام ماکولات و مشروبات وغیرہ مراد ہیں جو دنیا میں حاصل تھے اور جن کی طرف ان کی طبعی رغبت ہوگی۔ کما فعل باشیاعھم من قبل انھم کانوا فی شک مریب . جیسا کہ ان کو ہم مشرب لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا جو ان سے پہلے تھے کیونکہ یہ سب بڑے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ اَشْیَاع یعنی اقوام گذشتہ کے ان جیسے کافر۔ فِیْ شَکٍّ یعنی قیامت اور نزول عذاب کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے تھے۔ مُرِیْبٍ شک پیدا کرنے والا یا شک والا۔ مُرِیْب شک کی صفت ہے جو مبالغہ کے طور پر ذکر کی گئی ہے۔ الحمد اللہ سورت السبا کی تفسیر 20/محرم 1207 ھ ؁ کو ختم ہوئی اس کے بعد انشاء اللہ سورت ملائکہ (فاطر) کی تفسیر آئے گی بعونہ تعالیٰ : تفسیر مظہری سورة سبا کا ترجمہ مع اضافات تشریحی 3/ذی الحجہ 1391 ھ ؁ کو ختم ہوا۔ فَالحمد لہ من قبل ومن بعد وھو الموفق والمعین