34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم پھر انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر عرم کا سیلا چھوڑ دیا۔ یعنی انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے : ہم تو اس کو خدا کی عطا کردہ نعمت کو نہیں جانتا (یہ تو ہماری زمین کی پیداوار اور ہمارے لگائے ہوئے باغوں کے پھل ہیں ‘ مترجم) تم اپنے رب سے کہہ دو کہ اگر وہ اس نعمت کو روک سکتا ہے تو روک لے۔ اس ناشکری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے (بند توڑ کر) ایک عظیم الشان سیلاب جس کو سیل عرم کہا جاتا ہے ‘ ان پر چھوڑ دیا۔ الْعَرِمِ امر صعب ‘ سخت مصیبت۔ عَرِمَ الرَّجُلُ وہ شخص سخت بدخلق ہوگیا ‘ یا سیل العرم سے مراد ہے سخت بارش کا سیلاب۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ اللہ نے سرخ پانی کا سیلاب ان پر چھوڑ دیا تھا۔ بعض نے عرم کا ترجمہ وادی کیا ہے۔ یہ لفظ عرامۃٌ سے مشتق ہے ‘ عرامۃٌ کا معنی ہے شدت ‘ قوت۔ بعض نے کہا : عرم کا معنی ہے پانی کو روکنے کا بند۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرم جنگلی چوہے کو کہتے ہیں۔ بلقیس نے پانی کو روک کر جمع رکھنے کیلئے ایک بند باندھا تھا ‘ جنگلی چوہے نے اس میں سوراخ کردیا تھا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : عَرِمَۃٌ بروزن فَرِحْۃٌ‘ وہ بند جو وادی کا پانی روکنے کیلئے باندھا جائے۔ عَرِمَۃٌ کی جمع عَرِم آتی ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ عَرِم ہے تو جمع لیکن اس کا واحد کا صیغہ (اس لفظ) سے نہیں آتا (جیسے نسوۃ اور نساء جمع ہے لیکن اس کا واحد اس لفظ سے نہیں آتا بلکہ امرأۃٌ آتا ہے) یا عَرِم کا معنی ہے وہ رکاوٹیں اور بندشیں جو وادیوں میں (مختلف مقامات پر) بنا دی جاتی ہیں ‘ یا عَرِم کا معنی ہے نرموش دشتی یا سخت بارش ‘ یا وادی۔ سیل العرم کی تفسیر ہر معنی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہب وغیرہ نے بیان کیا کہ عرم ایک بند تھا جو بلقیس نے بنوایا تھا۔ بات یہ تھی کہ وادی کے پانی پر قوم سبا والے آپس میں لڑتے تھے ‘ بلقیس نے (دفع شر کیلئے) ایک عرم یعنی بند بنوانے کا حکم دیا تھا۔ حمیری لغت میں عرم کا معنی بند ہے ‘ چناچہ پتھروں سے اور تارکول سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بند بنا دیا گیا اور پانی نکلنے کی اس حوض میں بارہ موریاں بنائی گئیں ‘ ہر موری ایک دریا کے دہانے پر کھلتی تھی۔ ضرورت کے وقت جس موری کو چاہتے تھے ‘ کھول لیتے تھے اور جب سینچائی کی ضرورت پوری ہوجاتی تھی تو اس کو بند کردیتے تھے۔ بارش کا پانی یمن کی ساری وادیوں کا یہاں جمع ہوجاتا تھا اور بند کے اندر ہی رک جاتا تھا۔ اس وقت بلقیس باہر کی کھڑکی کھلواتی تھی ‘ کھڑکی سے پانی نکل کر حوض میں آجاتا تھا۔ پھر ضرورت ہوتی تو درمیانی کھڑکی بھی کھول دی جاتی ‘ پھر اگر ضرورت ہوتی تو نچلا دریچہ بھی کھول دیا جاتا۔ اس طرح بند کے اندر کا پانی ختم نہ ہونے پاتا کہ دوسرے سال کی برسات کا پانی آکر جمع ہونے لگتا۔ یہ بند طویل مدت تک قائم رہا ‘ لیکن جب اس قوم نے اللہ سے سرکشی اور ناشکری کی تو اللہ نے ایک جنگلی چوہے کو جس کو گھونس کہا جاتا ہے ‘ ان کی تباہی پر مسلط کردیا۔ گھونس نے بند کے نچلے حصہ میں سوراخ کردیا ‘ پانی پھٹ پڑا اور سارے کے سارے باغ ڈوب گئے اور زمین تباہ ہوگئی۔ وہب نے کہا : ان لوگوں کو کسی کاہن نجومی نے بتادیا تھا کہ اس بند کو ایک چوہا برباد کر دے گا ‘ اس لئے ہر دو پتھروں کی دراڑ (شگاف) کے پاس ایک بلی باندھ دی تھی۔ لیکن جب بربادی کا وقت آیا اور اللہ نے ان کو تباہ کرنا چاہا تو ایک بڑا سرخ چوہا آیا اور بلی پر جھپٹا ‘ بلی پیچھے دبکی اور اس شگاف میں داخل ہوگئی جو قریب ہی موجود تھا اور بند میں گھس گئی۔ چوہا (بلی کے تعاقب میں) بند کو کھودنے لگا۔ اوپر پانی کے ریلے کی وجہ سے بند کمزور ہوتا گیا اور کسی کو اس کا علم نہ ہونے پایا۔ آخر سیلاب آگیا اور شگاف میں گھس کر بند کو پھا ڑدیا۔ پانی بہہ نکلا اور ان کے سارے مال و متاع کو غرق کردیا ‘ گھر ریت میں دفن ہوگئے۔ غرض سب ڈوب گئے اور کچھ ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ قوم سبا کی بربادی ایک مثال بن گئی۔ عرب کسی قوم کی تباہی کو بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں : صاربنو فلان ایدی سبا (یا) ایادی سبا۔ وبدلنھم بجنتیھم جنتین ذواتی اکل خمط واثل وشیء من سدر قلیل اور ہم نے ان کو دونوں باغوں کے بدلہ میں دو باغ دوسرے دئیے جو بدمزہ پھل اور جھاؤ اور تھوڑی سی بیری والے تھے۔ اُکُلِ ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے : اکل بالضم اور اکل بضمتینپھل اور رزق۔ خمطاکل کی صفت ہے ‘ خمطکا معنی ہے ترش یا تلخ۔ مراد اراک کا پھل یا اراک کا درخت۔ خمط ہر اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کا مزہ تلخ ہو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : خمط ہر ترش یا تلخ چیز ‘ ہر وہ بوٹی جس کے مزہ میں تلخی ہو۔ اور ایک درخت (بھی ہوتا ہے) جس کی بو ‘ بیری کی طرح ہوتی ہے اور ایک قاتل درخت بھی ہوتا ہے اور ہر اس درخت کو بھی کہتے ہیں جس میں کانٹے نہ ہوں اور اراک کے پھل کو بھی خمط کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک درخت اراک کو بھی خمط کہا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اکل پھل ‘ خمط اراک (پیلو) اور پیلو کا پھل جس کو بریر کہا جاتا ہے۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ مبرد کا قول ہے : خمط ہر وہ بوٹی ہے جس کا مزہ تلخی لئے ہوئے ہو۔ ابن اعرابی کا قول ہے : خمط ایک درخت کا پھل ہوتا ہے قسوۃ الصمغ کہتے ہیں ‘ یہ خشخاش کی شکل کا ہوتا ہے جو جھڑ جاتا ہے ‘ کسی کام نہیں آتا۔ اَثْلٍ جھاؤ یا جھاؤ نما ‘ ایک درخت جو جھاؤ سے بڑا ہوتا ہے۔ قَلِیْلٍ ‘ سِدْرٍ کی صفت ہے۔ چونکہ بیر ایک عمدہ پھل ہوتا ہے ‘ جس کا مزہ عمدہ ہوتا ہے اس لئے اس کو باغوں میں لگایا جاتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ اس کی قلت کی صراحت کی۔ بغوی نے کہا : یہ (باغوں میں لگائی جانے والی بیری) مراد نہیں ‘ بلکہ جنگلی بیری مراد ہے جو کسی کام نہیں آتی ‘ نہ اس کے پتے کسی کام کے ہوتے ہیں۔ مذکورۂ بالا پھل دار باغوں کے عوض بیکار درختوں کے جھنڈ کو بھی صرف ہم شکل ہونے کی بناء پر جنتین فرمایا اور اس سے استہزاء بھی مقصود ہے۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں

ہم نے یہ سزا ان کو ناشکری (یا پیغمبروں کا انکار) کرنے کی وجہ سے دی اور ہم (ایسی) سزا بڑے نا سپاس ہی کو دیا کرتے ہیں۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف وخطر چلتے رہو

وجعلنا بینھم وبین القری التی برکنا فیھا قری ظاہرہ وقدرنا فیھا السری سیروا فیھا لیالی وایامًا امنین . اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن کے اندر ہم نے برکت (پھول پھل کی کثرت اور دریاؤں کی بہتات) کر رکھی تھی ‘ بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان دیہات کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا اور کہہ دیا تھا کہ بےخوف و خطر امن کے ساتھ چلو۔ وَجَعَلْنَا کا عطف بَدَّلْنَا پر اگرچہ واقع میں تبدیل مؤخر تھی ‘ واؤ اس جگہ صرف عطف ذکری کیلئے ہے ‘ ترتیب کیلئے نہیں ہے۔ بَیْنَھُمْ اہل سبا کے درمیان۔ بَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا یعنی ملک شام کی بستیاں جہاں بکثرت دریا اور درخت تھے اور وہاں ان کے باشندوں کو وسعت رزق حاصل تھی۔ قَدَّرْنَا فِیْھَا السَّیْرَ یعنی ان بستیوں میں چلنے کا ایک خاص انداز ہم نے مقرر کردیا تھا ‘ رات ایک بستی میں گذاری اور دوپہر کو دوسری بستی میں پہنچ گئے ‘ کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لینے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ بستیاں سبا سے شام تک تھیں۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ یہ دیہات چار ہزار سات سو مسلسل متصل تھے (کہیں لق و دق بیابان اور ویرانہ نہ تھا) قتادہ نے کہا کہ عورت تکلا ہاتھ میں لے کر (خالی) ٹوکرا سر پر رکھے راستہ سے گزرتی تھی اور آدھے راستے تک نہیں پہنچتی تھی کہ (راستہ کے دونوں کناروں کے درختوں سے اتنے پھل ٹوٹ کر ٹوکرے میں جمع ہوجاتے تھے کہ) ٹوکرا پھلوں سے بھر جاتا تھا۔ یمن اور شام کے درمیان سارے راستے کی یہی کیفیت تھی۔ سیروا فیھا یعنی ہم نے ان کو اجازت دے دی تھی اور کہہ دیا تھا ‘ یا قول سے مراد قول حالی یعنی اس راستہ کا حال ہی یہ تھا۔ لَیَالِیَ وَاَیَّامًا رات دن یعنی جب چاہو۔ اٰمِنِیْنَ امن کے ساتھ۔ نہ دشمن کا کوئی خوف ‘ نہ کسی درندے کا ڈر ‘ نہ بھوکے پیاسے رہنے کا اندیشہ۔ اہل سبا اپنی خوش عیشی پر مغرور ہوگئے ‘ بجائے شکر ادا کرنے کے سرکش ہوگئے اور کہنے لگے : (ایسے پھلوں کا کیا مزہ جن کی اتنی کثرت ہے) اگر ہمارے باغوں کی درمیانی مسافت لمبی ہوجائے ( اور سفر میں دشواری ہو) تو ہمارے لئے زیادہ مناسب ہوگا ‘ اس لئے
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں

فقالوا ربنا بعدبین اسفارنا . کہنے لگے : اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کی دوری بڑھا دے۔ یعنی یمن اور شام کے درمیان بیابان اور چٹیل میدان بنا دے تاکہ ہم زاد راہ ساتھ لے کر اونٹوں پر سوار ہو کر سفر کو جائیں اور (مشقت سفر کے بعد جو مال خرید کر لائیں اس میں) ہم کو تجارتی فائدہ ہو اور ہم دوسروں پر فخر کرسکیں (کہ بڑی بڑی مشقتیں اور صعوبتیں اٹھا کر ملک شام تک ہو آئے ہیں) اللہ نے ان کی یہ دعا بہت جلد قبول فرما لی۔ وظلموا انفسھم . اور انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ یعنی اترانے اور سرکشی کرنے کی وجہ سے خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ وجعلنھم احادیث سو ہم نے ان کو افسانہ بنا دیا۔ لوگ تعجب کے ساتھ ان کے قصے بیان کرتے ہیں اور ان کی بربادی ایک کہاوت بن گئی ہے (جب کوئی قوم بالکل تباہو برباد ہوجائے تو) لوگ کہتے ہیں : تَفَرَّرقُوْا اَیْدِیَ سَبَا۔ ومزقنھم کل ممزق . اور ان کو بالکل تتر بتر کردیا۔ یعنی مختلف ملکوں میں پراگندہ کردیا۔ شعبی کا بیان ہے : جب ان کی بستیاں ڈوب گئیں تو لوگ مختلف ملکوں میں منتشر ہوگئے ‘ غسان ‘ شام میں آکر آباد ہوگئے ‘ ازد ‘ عمان کی طرف ‘ خزاعہ تہامہ کی جانب ‘ جزیمہ عراق کی سمت اور اوس و خزرج یعنی بنی انمار یثرب کی طرف چلے گئے۔ مدینہ میں سب سے پہلے عمرو بن عامر انماری آیا ‘ یہی اوس و خزرج کا جداعلیٰ تھا۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور . بلاشبہ اس (واقعہ) میں ہر صابر و شاکر (مؤمن) کیلئے بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔ صبّار گناہوں سے اپنے نفس کو روکنے والا ‘ مصیبتوں پر صبر کرنے اور طاعت پر جما رہنے والا۔ شکورنعمتوں کا بڑا شکرگذار۔ مقاتل نے صبّار و شکور سے اس امت کے مؤمن مراد ہیں جو مصیبتوں پر صبر کرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کے بڑے شکرگذار ہیں۔ مطرف کا بھی یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں : مؤمن ہمیشہ بڑا صابر و شاکر ہوتا ہے۔ دنیا امتحان گاہ ہے ‘ یہاں کی راحت و نعمت بھی ایک امتحان ہے جس میں بندۂ مؤمن مبتلا کیا جاتا ہے اور آزمائش کی جاتی ہے کہ وہ شکر کرتا ہے ‘ یا نہیں کرتا۔ مؤمن کیلئے موت بھی امتحان ہے اور زندگی بھی ‘ اللہ نے فرمایا : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عِمَلاً اللہ نے موت اور زندگی کو تمہاری آزمائش کرنے کیلئے پیدا کیا کہ تم میں سے کس کے عمل سب سے اچھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مؤمن ہمیشہ گناہوں سے اپنے آپ کو روکتا ہے ‘ مصائب پر صابر اور طاعات پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اس کیلئے ہر مصیبت گناہوں کا کفار ہوجاتی ہے ‘ اس لئے مصیبت کا لازمی تقاضا جس طرح صبر ہے ‘ اسی طرح شکر بھی ہے کہ صبر کی توفیق بھی تو اللہ کی ایک نعمت ہے ‘ جس کا شکر واجب ہے۔ حضرت مجدد نے فرمایا : محبوب کی طرف سے دی ہوئی مصیبت انعام سے زیادہ لذیذ ہوتی ہے ‘ مصیبت کا شکر تو اور بھی ضروری ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے : وصال کی حالت میں میں اپنے نفس کا ادنیٰ غلام ہوں اور فراق کی حالت میں تمام آقاؤں کا آقا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے دو حصے ہیں : آدھا ایمان صبر میں ہے اور آدھا شکر میں۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ میں کہتا ہوں : مؤمن ہمیشہ کامل الایمان ہوتا ہے ‘ ایمان کے دونوں حصوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ صرف آدھے ایمان پر بس نہیں کرتا ‘ بلکہ دوسرا آدھا بھی اس کے پاس ہوتا ہے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے

ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقا من المؤمنین . اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا کہ یہ سب سوائے مؤمنوں کے ایک گروہ کے ‘ اس کی راہ پر ہو لئے۔ بعض اہل تفسیر نے علیہم کی ضمیر اہل سبا کی طرف راجع کی ہے (ہم نے ترجمہ میں اسی قول کو اختیار کیا) یعنی اہل سبا میں سے جو کافر تھے ‘ ان کے متعلق شیطان کا گمان صحیح نکلا۔ مجاہد نے کہا : عام انسانوں کی طرف ضمیر راجع ہے۔ ابلیس نے اللہ کے سامنے اپنا یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ فبغرتک لاغوینھم اجمعین تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کروں گا۔ یہ بھی ابلیس نے کہا تھا : ولا تجد اکثرھم شاکرین تو ان میں سے اکثر کو شکرگذار نہیں پائے گا۔ چناچہ اس نے اپنا یہ گمان سچ کر دکھایا ‘ یا صحیح پایا اور سوائے گروۂ مؤمنین کے ‘ سب اس کی راہ پر لگ گئے۔ ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ جب ابلیس نے مہلت مانگی اور اللہ نے اس کو مہلت دے دی تو اس نے کہا کہ لَاُضِلَّنَّھُمْ میں ان کو ضرور گمراہ کر دوں گا۔ لَاُغْوِیَنَّھُمْ میں ان کو ضرور کج راہ بنا دوں گا۔ لیکن ابلیس کو اس بات کے کہنے کے وقت یہ یقین نہ تھا کہ اس کی بات پوری بھی ہو سکے گی ‘ صرف گمان تھا۔ لیکن اہل سبا جب اس کی راہ پر لگ لئے اور اس کے کہنے پر چلنے لگے تو اس کا گمان صحیح ثابت ہوگیا۔ مِّنْ الْمُؤْمِنِیْنَ میں الْمُؤْمِنِیْنَ سے مراد یا تو قوم سبا کا ایماندار گروہ ہے ‘ یا عام انسانوں میں سے جو مؤمن ہیں ‘ وہ مراد ہیں۔ سدی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اصل دین میں کسی مؤمن نے شیطان کا اتباع نہیں کیا۔ اللہ نے فرما دیا تھا : اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ یعنی میرے (مؤمن) بندوں پر تیرا تسلط نہ ہوگا۔ اس تفسیر پر مّنْ الْمُؤْمِنِیْنَ میں مِنْ بیانہ ہوگا۔ بعض کے نزدیک مّنْ تبعیضیہ ہے ‘ یعنی بعض مؤمنوں کا گروہ مستثنیٰ ہے جو اللہ کے اطاعت گذار ہیں ‘ نافرمان نہیں۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

وما کان لہ علیھم من سلطن الا لنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شک اور ان لوگوں پر ابلیس کا جو تسلط (بطور اغواء) تھا ‘ وہ بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں تھا کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ‘ ان لوگوں سے الگ کرنا ہے جو اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں۔ یعنی ابلیس کو کوئی قدرت نہ تھی کہ وہ ان کو بہکا سکتا اور دلوں میں جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں پیدا کرتا۔ مگر جب ہم نے اس کو مسلط کردیا اور اس سے کہ دیا : وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ وَعِدْھُمْ تو اس میں قدرت پیدا ہوگئی۔ حسن نے کہا : ابلیس نے ان پر تلوار نہیں سونتی ‘ نہ تلوار سے کسی کو مارا ‘ نہ کسی کے کوڑے مارے (یعنی تسلط سے مراد جبر اور ماردھاڑ نہیں) بلکہ ان سے جھوٹے وعدے کئے اور ان کی امیدیں بندھوائیں جس کی وجہ سے وہ فریب کھا گئے اور دھوکہ میں آگئے۔ الاّ لنعلم مگر اس لئے کہ ہم جان لیں ‘ یعنی الگ الگ چھانٹ دیں۔ ایک شبہ : آیت الاّ لنعلم سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کا علم حادث ہے ‘ پہلے نہیں تھا ‘ پھر شیطان کے تسلط اور لوگوں کے گمراہ ہونے کے بعد اس کو علم ہوا کہ کون آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کون شک میں پڑا ہوا ہے۔ جواب : ان کا علم تو قدیم ہے (یعنی ہمیشہ سے ہے) البتہ علم کا معلوم سے تعلق حادث ہے ‘ آیت میں علم سے مراد معلوم سے علم کا تعلق ہے۔ اس توجیہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ علم کا جب تک معلوم سے تعلق نہ ہو ‘ عالم کو معلوم کا انکشاف نہیں ہوتا۔ معلوم سے تعلق کے قبل تو علم بالقوۃ تھا ‘ بالفعل نہیں تھا۔ جب معلوم سے بالفعل تعلق ہوا تو بالفعل انکشاف ہوا۔ مطلب یہ ہوا کہ جب تک معلوم سے تعلق نہیں ہوا ‘ اس وقت تک اللہ کو علم نہ تھا۔ جواب : حادث کے موجود ہونے سے پہلے بھی اللہ کے علم کا تعلق حادث سے تھا ‘ اللہ حادث کے موجود ہونے کو جانتا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وجود حادث سے پہلے اللہ وجود حادث سے جاہل تھا ‘ جاہل نہ تھا ‘ ہاں وجود حادث سے پہلے اللہ کے علم کا تعلق عدم حادث سے تھا۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وجود شئ سے پہلے جس طرح ہمارے علم کا تعلق شئ معدوم سے تھا ‘ وجود ایمان و کفر کے بعد ہمارے علم کا تعلق موجود کفر و ایمان سے ہوگیا۔ مزید شبہ : اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ اللہ کی ذات محل تغیر ہوگئی (پہلے عدم شئ کی عالم تھی ‘ پھر وجود شئ کی عالم ہوگئی) مناسب اور صحیح جواب یہ ہے کہ زمانہ مع اپنے تمام اجزاء ماضی ‘ مستقبل اور حال کے اور مع ان تمام موجودات کے جن کا وجود کبھی ہوا ‘ یا ہے ‘ یا ہوگا ‘ اللہ کے سامنے حاضر ہے۔ علم خدا کا تعلق ہمیشہ اس سے رہا ہے اور ہے گا اور رہے گا (علم خدا میں کوئی تعاقب ‘ تجزی اور عدم و وجود کا تغیر نہیں ہے بلکہ) تعاقب ‘ زمانہ کے اجزء (اور موجودات) زمانہ میں ہوتا ہے۔ زید کبھی معدوم تھا ‘ پھر موجود ہوا ‘ پھر معدوم ہوگیا (یہ تعاقب و تغیر زید کے عدم و وجود کا ہوا) لیکن ہر حالت میں زید ‘ اللہ کے سامنے حاضر ہی ہے۔ سابقیت و مسبوقیت تو اجزاء زمانہ میں اور ان چیزوں میں ہوتی ہے جو زمانہ کے اندر محدود ہیں ‘ جس طرح موجودات کے اختلافات مکانی کا اثر اللہ کے علم پر نہیں پڑتا (زید ایک مقام پر پہلے نہ تھا ‘ پھر ہوگیا ‘ پھر اس مقام کو چھوڑ گیا) اللہ کے سامنے تو ہر مقام مع اپنے اجزاء اور موجودات کے حاضر ہے ‘ اس لئے اللہ کے علم میں اس سے کوئی تغیر نہیں آتا۔ اللہ تو ہر مقام کو محیط ہے ‘ اونچا نیچا ہونا تو اس چیز کی صفت ہے جس کا وجود کسی مقام پر ہو اور کوئی مقام اس کو گھیرے ہوئے ہو ‘ اللہ تو زمان و مکان کا خالق ہے اور خود زمانیت و مکانیت سے پاک ہے۔ آیت سے تو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ علم معلوم کے تابع ہے اور کسی معلوم کا حدوث اس بات کا مقتضی نہیں ہے کہ اس کا علم بھی حادث ہو ‘ معلوم تو تعاقب زمانہ سے گھرا ہوا ہے اور علم زمانہ کو محیط ہے ‘ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ وربک علی کل شیء حفیظ اور آپ کا رب ہر چیز کا نگراں ہے۔ یعنی زمانہ ہو یا زمانہ کے اندر کی چیزیں ‘ مؤمن یا کافر سب کا نگراں ہے ‘ کسی چیز کی طرف سے غافل نہیں ہے ‘ اس لئے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق بدلہ دے گا۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

قل . اے محمد ﷺ ! آپ (کفار مکہ سے) کہہ دیجئے۔ ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض وما لھم فیھما من شرک وما لہ منھم من ظھیر . کہ جن کو تم سوائے خدا کے (اپنے معبود اور کارساز) سمجھ رہے ہو ‘ ان کو پکار کر دیکھو ‘ وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ ان دونوں (کے پیدا کرنے اور انتظام قائم رکھنے) میں ان کی کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی (کسی کام میں) اللہ کا مددگار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حصول منفعت یا دفع مصیبت کیلئے تم ان کو پکار کر دیکھو ‘ اگر (ان کی الوہیت و حکمرانی کے متعلق) تمہارا قول صحیح ہے تو وہ تمہاری مدد کریں گے (یہ قیاس استثنائی شرطیہ ہے) لیکن وہ تو چھوٹی چیونٹی کے برابر آسمان و زمین میں ہونے والے خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے ‘ اسلئے تمہاری دعا قبول نہیں کرسکتے اور نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔ حاصل یہ کہ تمہارا یہ (مخلوق کے معبود اور شریک ہونے کا) خیال ہی غلط ہے۔ آسمان و زمین کا ذکر عموم عرفی کی وجہ سے کیا ‘ یا یہ وجہ ہے کہ کافروں کے معبود کچھ سماوی تھے ‘ جیسے ملائکہ اور ستارے اور کچھ ارضی تھے ‘ جیسے بت۔ یا ان دونوں کے ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ خیر و شر کے ظاہری اسباب کچھ آسمانی ہوتے ہیں اور کچھ زمینی۔ مِنْ ظَھِیْرٍ یعنی تمہارے معبودوں میں سے کوئی آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ان کا انتطام کرنے میں اللہ کا مددگار نہیں ہے۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ . اور اللہ کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کیلئے کام نہیں آئے گی ‘ ہاں اس کیلئے (کام آئے گی) جس کیلئے (سفارش کرنے کی سفارش کرنے والے کو) اللہ اجازت دے گا۔ یعنی شفیع کو اجازت دے گا ‘ یا جس کیلئے شفاعت کئے جانے کی اجازت دے گا۔ لہٗکے دونوں معنی ہوسکتے ہیں ‘ شفیع کی طرف بھی ضمیر راجع ہوسکتی ہے اور جس کی سفارش کی جائے اس کی طرف بھی۔ کافر (ہار کر) آخر درجہ پر کہتے تھے کہ ہم مانتے ہیں کہ ملائکہ اور بت خود کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور یہ اللہ کے شریک نہیں ہیں ‘ لیکن ہم ان کی پوجا تو اس لئے کرتے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں یہ ہماری شفاعت کریں گے۔ اس کی تردید میں آیت مذکورہ نازل ہوئی اور اللہ نے فرمایا کہ بغیر اذن الٰہی کے کوئی کسی کی سفارش نہیں کرے گا۔ بت تو ظاہر ہے بےجان ہیں ‘ اس امر کے قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو شفاعت کرنے کی اجازت ملے۔ اب رہے وہ لوگ جن کی سفارش کا امکان ہے ‘ ان میں کافر اپنی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی اور طغیانی کی وجہ سے شفاعت پانے کے مستحق نہیں ہیں ‘ اس لئے انبیاء (اولیاء) اور ملائکہ کو صرف مؤمنوں کی شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ حتی ازا فزع عن قلوبھم قالو ماذا قال ربکم قالوا الحق وھو العلی الکبیر یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ کہتے ہیں (فلاں) حق بات فرمائی اور وہ عالیشان ‘ سب سے بڑا ہے۔ فُزِّعَ (تفزیع سے ماضی مجہول) تفزیع کا معنی ہے فزع ‘ گھبراہٹ دور کردینا جیسے تمریض مرض کو زائل کردینا۔ پہلے کلام سے شفاعت کرنے والے اور وہ جن کی شفاعت ہوسکتی ہے ‘ دونوں سمجھے جاتے ہیں ‘ اس لئے قلوبہم کی ضمیر شافعین اور مشفوع لہم دونوں کی طرف راجع ہے اور حتیٰ اذا فزع عن قلوبہم کا تعلق ایک محذوف جملہ سے ہے ‘ جو سابق کلام سے سمجھا جا رہا ہے ‘ سابق کلام سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ شفاعت کرنے والے اور جن کیلئے شفاعت کی جائے گی ‘ وہ سب گھبرائے ہوئے اذن شفاعت کے منتظر ہوں گے ‘ ان کو خوف نہ ہوگا کہ کہیں شفاعت کی اجازت نہ ملے ‘ یا یوں کہا جائے کہ جب شفاعت کی اجازت ہوجائے گی تو اللہ کا کلام سننے سے ان پر غشی کی کیفیت طاری ہوجائے گی ‘ وہ اللہ کی جلالت شان اور عظمت سے خوفزدہ ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : اسی طرح جب اللہ کوئی حکم جاری فرماتا ہے تو فرشتوں پر گھبراہٹ کی وجہ سے غشی طاری ہوجاتی ہے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جب آسمان میں کوئی حکم جاری فرماتا ہے تو عاجزی سے ملائکہ اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں (اس کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے پتھر کی چٹان پر کوئی زنجیر ماری جائے ‘ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو باہم پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے ملائکہ کہتے ہیں : حق فرمایا اور وہ عالیشان ‘ سب سے بڑا ہے۔ یہ بات چوری سے سننے والے (جنات) اور پھر (ان کے نیچے) چوری سے سننے والے سن پاتے ہیں ‘ اس طرح نیچے والے ‘ اوپر والوں سے سنتے چلے جاتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھ کو ذرا ترچھا کر کے ترتیب وار انگلیوں کو الگ الگ کر کے بتایا کہ اس طرح اوپر نیچے جنات لگے ہوتے ہیں ‘ اوپر والا وہ بات سن پاتا ہے تو نیچے والے کو القاء کردیتا ہے ‘ پھر وہ اپنے نیچے والے کو القاء کرتا ہے ‘ اس طرح وہ بات (ساحر یا کاہن تک پہنچا دی جاتی ہے) پھر ساحر و کاہن کی زبان پر آجاتی ہے۔ کبھی نیچے والے کو القاء کرنے سے پہلے ہی اوپر والے پر ایک انگارہ آپڑتا ہے (اور اس کو جلا ڈالتا ہے) اور کبھی القاء کے بعد انگارہ آ لگتا ہے۔ ساحر یا کاہن (کو جب اس بات کا علم ہوجاتا ہے تو وہ اپنی طرف سے اس میں) سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے (جب وہ ایک بات صحیح ہوجاتی ہے) تو کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں دن کاہن یا ساحر نے ہم سے ایسا نہیں کہا تھا ؟ چناچہ آسمان سے سنی جانے والی اس ایک بات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ مسلمنے بوساطت حضرت ابن عباس ایک انصاری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک (طویل) حدیث میں فرمایا : ہمارا رب تبارک اسمہٗ (اس کا نام بابرکت ہے) جب کوئی حکم نافذ کرتا ہے تو حاملین عرش (عرش کو اٹھانے والے ملائکہ) تسبیح پڑھتے ہیں ‘ پھر ان سے متصل آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں۔ بالآخر وہ حکم اسی طرح اس آسمان دنیا پر رہنے والوں تک پہنچ جاتا ہے اور وہ تسبیح پڑھتے ہیں۔ وہ ملائکہ جو حاملین عرش کے متصل ہیں ‘ حاملین عرش سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ حاملین عرش اللہ کا فرمان بیان کردیتے ہیں۔ اسی طرح (نچلے) آسمان والے (اونچے) آسمان والوں سے پوچھتے چلے جاتے ہیں (اور وہ بیان کرتے چلے جاتے ہیں) بالآخر یہ سلسلۂ (سوال و جواب) اس دنیوی آسمان تک پہنچتا ہے ‘ یہاں سے کوئی جن اس بات کو جھپٹ کر سن پاتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف پھینک دیتا ہے (یعنی جلدی سے کہہ دیتا ہے) پھر ان پر انگارے مارے جاتے ہیں ‘ سو جن اگر وہ بات صحیح صحیح پہنچا دیتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے ‘ لیکن وہ اس میں زیادتی کردیتے ہیں۔ بغوی نے حضرت نواس بن سمعان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب اللہ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے تو وحی کے ذریعہ سے کلام کرتا ہے ‘ جس کو سن کر اللہ کے خوف سے آسمان لرز جاتے ہیں۔ جب آسمانوں والے اس کلام کو سنتے ہیں تو بےہوش ہوجاتے ہیں اور سب سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جبرئیل (سجدہ سے) سر اٹھاتے ہیں۔ اللہ جو کچھ چاہتا ہے ‘ ان کو وحی کلامی کرتا ہے۔ پھر جبرئیل ملائکہ کی طرف سے گذرتے ہیں اور جس آسمان سے گذرتے ہیں ‘ وہاں کے ملائکہ ان سے دریافت کرتے ہیں : ہمارے رب نے کیا فرمایا ؟ جبرئیل جواب دیتے ہیں : اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے ‘ وہ حق ہے اور اللہ عالیشان ‘ بڑی عظمت والا ہے۔ یہ سن کر سب ملائکہ وہی بات کہتے ہیں جو جبرئیل کہتے ہیں۔ آخر جہاں وحی پہنچانے کا حکم اللہ نے دیا ہوتا ہے ‘ جبرئیل وہاں وحی پہنچا دیتے ہیں۔ قَالُوْا یعنی اذن شفاعت حاصل ہونے سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ دور ہونے کے بعد انہوں نے کہا۔ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ یعنی شفاعت کے متعلق تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ قَالُوْا یعنی بعض نے بعض سے کہا ‘ الْحَقِّ یعنی اس نے حق فرمایا۔ یعنی شفاعت کی اجازت جن مؤمنوں کے متعلق دی گئی ہے ‘ وہ حق ہے۔ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرِ وہی بڑے بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے ‘ کوئی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل بغیر اذن کے اس کے سامنے بول نہیں سکتا۔ بغوی نے لکھا ہے : فرشتے قیامت برپا ہوجانے کے خوف سے گھبرا جائیں گے۔ مقاتل ‘ سدی اور کلبی نے کہا : حضرت عیسیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی درمیانی مدت 550 برس اور بقول بعض 600 برس کی تھی۔ یہ انقطاع وحی کا زمانہ (فترۃ) تھا ‘ اس مدت میں ملائکہ نے کوئی وحی کی آواز نہیں سنی۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور فرشتوں نے وحی کی آواز سنی تو انہوں نے خیال کیا کہ قیامت آگئی ہے ‘ کیونکہ آسمان والوں کو اس کا علم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت قیامت کی علامت ہے ‘ پس جب وحی کی آواز سنی تو قیامت برپا ہونے کے خوف سے بےہوش ہوگئے۔ جب ابتداء وحی کے موقع پر حضرت جبرئیل (بارگاۂ الٰہی سے) نیچے اترے تو جس آسمان کی طرف سے گذرے تو وہاں کے باشندوں نے سر اوپر اٹھائے اور ایک نے دوسرے سے پوچھا : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسروں نے جواب دیا : حق فرمایا۔ حق سے مراد وحی ہے۔ ایک شبہ : مقاتل اور کلبی وغیرہ کی تفسیر پر آیت حتی اذا فزع عن قلوبھمکا ربط گذشتہ کلام سے کس طرح ہوگا (کیونکہ گذشتہ کلام میں تو شفاعت کا بیان تھا اور اس آیت میں نزول وحی کے وقت بےہوشی طاری ہوجانے اور پھر گھبراہٹ دور ہونے کے بعد سوال و جواب کرنے کا بیان ہے) شفاعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ازالہ : ارتباط کی توجیہ اس طرح کی جاسکتی ہے کہ آیت وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ھُوَ الْحَقُّ وَیَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ سے ہے اور الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ سے مراد ہیں ملائکہ۔ ان دونوں آیتوں کے درمیان کی عبارت بطور معترضہ ہے اور پورا مطلب اس طرح ہوگا کہ ملائکہ جانتے ہیں کہ جو قرآن آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ‘ وہ حق ہے اس لئے نزول قرآن کے وقت قیامت برپا ہوجانے کے خوف سے وہ گھبرا جاتے ہیں ‘ کیونکہ نزول قرآن قیامت کی علامت ہے ‘ یہاں تک کہ جب ان کی گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو وہ کہتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں : حق فرمایا (یعنی کلمات وحی ارشاد ہوئے) اور وہ بڑی شان والا ‘ عظمت والا ہے۔ اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ آیت مذکورہ میں مشرکوں کی حالت بیان کی ہے۔ حسن اور ابن زید نے کہا کہ نزول موت کے وقت مشرکوں کو جو گھبراہٹ ہوتی ہے ‘ حجت پوری کرنے کیلئے جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور کردی جاتی ہے تو مشرک کہتے ہیں : پیغمبروں کی زبانی تمہارے رب نے دنیا میں کیا فرمایا تھا ؟ دوسرے مشرک کہتے ہیں : (جو کچھ فرمایا) حق فرمایا۔ گویا مشرک ایسے وقت قرآن کی صداقت کا اقرار کرتے ہیں جو ان کیلئے مفید نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں : اس تفسیر کی بناء پر آیت زیربحث کا ربط آیت ھُوَ مِنْھَا فِیْ شَکِّسے ہوجائے گا ‘ یعنی موت تک مشرک شک میں پڑے رہتے ہیں ‘ آخر مرنے کے بعد ان کا شک دور ہوتا اور (شہودی) یقین پیدا ہوجاتا ہے تو اقرار کرتے ہیں ‘ مگر بےسود۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے رستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

قل من یرزقکم من السموت والارض . آپ ان سے سوال کیجئے کہ آسمانوں سے (بصورت بارش) اور زمین سے (بصورت سبزہ) کون رزق عطا فرماتا ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی بصورت سوال مخاطب کو آمادہ کرنا مقصود ہے کہ وہ اللہ کے رازق ‘ لاشریک ہونے کا اقرار کرے۔ اس جملہ میں آیت لا یملکون کے مضمون کی تاکید ہے اور اس جملہ کا تعلق قُلِ ادْعُوْاسے ہے۔ قل اللہ . آپ (اس سوال کے جواب میں خود ہی) کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تم کو رزق عطا فرماتا ہے (کیونکہ اس سوال کا جواب سوائے اس کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا) ۔ آیت میں ایماء ہے اس امر کی طرف کہ اگر وہ اقرار مجرم بن جانے کے خوف سے جواب دینے میں تامل کریں اور خاموش رہیں تو آپ (ان کی بجائے) جواب دے دیجئے۔ وانا او ایاکم یعلی ھدی او فی ضلل مبین . اور (یہ بھی کہہ دیجئے) کہ ہم یا تو ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔ یعنی ہم اہل توحید یا تم اصحاب شرک راہ راست پر ہیں ‘ یا ہم میں سے کوئی گمراہی میں ہیں۔ توحید کا معنی ہے نفی شرک۔ توحید ‘ شرک کی نقیض ہے جس طرح ضلال اور ہدایت کے درمیان تناقض ہے کیونکہ ضلال نفی ہدایت کا نام ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دونوں باتیں (توحید و شرک اور گمراہی و ہدایت) صحیح ہوں یا دونوں میں کوئی صحیح نہ ہو۔ آیت سابقہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ روزی دینے والا صرف اللہ ہے ‘ کوئی اور رازق نہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل توحید ہدایت پر ہیں اور مشرک کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پورا منطقی استدلال اس طرح ہوا کہ اہل توحید یا ہدایت پر ہیں یا گمراہی میں ہیں اور ان کا ہدایت پر ہونا تو یقینی ہے۔ کیونکہ رازق سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ‘ تنہا وہی رازق ہے ‘ اس لئے اہل توحید گمراہی پر نہیں ہیں ‘ یا صورت استدلال اس طرح قرار دی جائے کہ اہل توحید یا ہدایت پر یا گمراہی پر ہیں ‘ لیکن ان کا گمراہی میں نہ ہونا یقینی ہے ‘ اس لئے وہی ہدایت پر ہیں ‘ یا یوں قیاس استثنائی کو ترتیب دیا جائے کہ مشرک یا ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گمراہی میں اور چونکہ وہ ہدایت پر نہیں ہیں ‘ اس لئے لازمی طور پر گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ یا یوں کہا جائے کہ چونکہ رازق اللہ کے سوا کوئی نہیں ‘ اس لئے مشرک گمراہ ہیں اور گمراہ ہیں تو ہدایت پر نہیں ہیں۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

قل لا تسئلون عما اجر منا ولا نسئل عما تعملون آپ کہہ دیجئے کہ (اگر ہم نے کوئی جرم کیا ہوگا تو) ہمارے جرائم کی تم سے بازپرس نہیں ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے بازپرس ہوگی۔ یعنی میں جو تم کو توحید کے ماننے اور شرک چھوڑ دینے کا حکم دے رہا ہوں ‘ یہ محض تمہاری خیرخواہی کے پیش نظر ہے ورنہ کسی کو دوسرے کے عمل سے ضرر نہیں پہنچے گا ‘ نہ مجھے نہ تمہیں۔ اس کلام میں توحید کے ماننے کی ترغیب ہے۔ اجرمناکے لفظ میں ارتکاب جرم کی اپنی طرف نسبت کی اور تعملونکے لفظ میں (جرم کی نسبت مخاطب کی طرف نہیں کہ بلکہ) عمل کی نسبت مخاطبوں کی طرف کی۔ یہ تقاضائے تہذیب کا مظاہرہ اور خیرخواہی کا اظہار ہے جو ہر قسم کے تعصب سے آزاد طرز بیان ہے۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے گا۔ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا بالحق وھو الفتاح العلیم . آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا رب ہم کو (یعنی مجھے اور تمہیں قیامت کے دن) جمع کرے گا ‘ پھر ہمارے درمیان فیصلۂ حق کر دے گا ‘ اور وہی بڑا فیصلہ کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔ یَفْتَحُ فیصلہ کر دے گا ‘ حکم دے دے گا۔ بِالْحَقِّ یعنی ہم میں سے جو کوئی جس بدلہ کا مستحق ہوگا ‘ اللہ وہی بدلہ اس کو دے دے گا۔ حق پرستوں کو جنت میں اور باطل پرستوں کو دوزخ میں داخل کر دے گا۔ الفتّاح حاکم اور لاینحل معاملات کا فیصلہ کرنے والا۔ العلیم یعنی فیصلہ کیا ہونا چاہئے ‘ اس کو خوب جاننے والا۔ آیت سابقہ میں کفار کی مذمت کا اظہار بطور مناظرہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد مذمت بطور خیرخواہی ہے اور اس آیت میں بطور تنبیہ کفار کی مذمت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کا فیصلہ اللہ کے حکم سے ہوگا (یعنی کافروں کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا) ۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

قل ارونی الذین الحقتم بہ شرکآء . آپ کہہ دیجئے : مجھے ذرا وہ تو بتاؤ جن کو تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے ؟ اَرُوْنِیْ (مجھے دکھاؤ) سے مراد ہے مجھے بتاؤ۔ الحاق سے مراد ہے استحقاق الوہیت میں اللہ کے ساتھ ملا دینا۔ مطلب یہ ہے کہ کس صفت کی وجہ سے تم نے اپنے معبودوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ؟ کیا وہ کوئی چیز پیدا کرتے ہیں ‘ یا کسی کو نفع و ضرر پہنچا سکتے ہیں ‘ یا روزی دیتے ہیں ؟ جب ان اوصاف میں سے کوئی وصف ان کے اندر نہیں تو ان کو شریک خدا قرار دینے کی وجہ جواز نہیں ‘ اتمام حجت اور مدلل ثبوت کے بعد پھر وجہ شرک کا استفسار حقیقت میں لاجواب بنانے کی تکمیل ہے۔ کلا . ہرگز نہیں۔ جب ظاہر ہوگیا کہ کسی صفت الوہیت میں کوئی اللہ کا شریک نہیں تو اب اس لفظ سے بازداشت فرمائی کہ ہرگز کسی کو الوہیت میں اللہ کے ساتھ نہ ملاؤ۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم . بلکہ وہ (یعنی مستحق عبودیت) اللہ ہی ہے جو بڑے غلبہ اور حکمت والا ہے۔ یعنی عزت قاہرہ اور حکمت کاملہ اللہ ہی کو حاصل ہے ‘ کسی صفت میں کوئی اس کا ساجھی نہیں۔ پھر کس طرح اس کی معبودیت میں ان جمادات کو شریک قرار دینا جائز ہوگا جو ممکنات (مخلوقات) میں بھی سب سے نچلے درجہ پر ہیں اور علم وقدرت سے (بلکہ حرکت و نمو سے بھی) یکسر محروم ہیں۔ ھُوَ ضمیر مستحق عبادت کی طرف راجح ہے اور جملہ کی ساخت مفید حصر ہے یعنی مستحق عبادت اللہ کے سوا کوئی نہیں۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کیلئے بھیجا ہے (جنت کی) بشارت دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا۔ کَآفَّۃً موصوف محذوف کی صفت ہے ‘ یعنی ارسالۃً کافۃً اور کافۃً کا معنی ہے عام جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ سب لوگوں کیلئے آپ کو رسالت عامہ دے کر ہم نے بھیجا ہے ‘ کوئی شخص کے آپ کے دائرۂ رسالت سے باہر نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافۃً میں ت مبالغہ کی ہو ‘ یعنی ہم نے آپ کو ایسی حالت میں بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو اپنے دائرۂ رسالت میں جمع کرنے والے ہیں۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں (خصوصیت کے ساتھ) عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : (نمبر 1) مجھے یہ بات دی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت پر میرا رعب (دشمنوں کے دلوں میں) ڈالا گیا (نمبر 2) تمام زمین کو میرے لئے مسجد اور حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ‘ لہٰذا میری امت میں سے جس کسی کیلئے نماز کا وقت آپہنچے وہ (جس جگہ پاک پر) نماز پڑھنا چاہے (وضو کر کے اور پانی کے فقدان کی صورت میں مٹی سے تیمم کر کے) نماز پڑھ لے (نمبر 3) میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے ‘ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کیا گیا (نمبر 4) مجھے شفاعت (کبریٰ ) عطا کی گئی (نمبر 5) ہر نبی کو صرف اس کی قوم کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا ‘ لیکن مجھے سب لوگوں (کی ہدایت) کیلئے بھیجا گیا ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ کو چھ چیزیں عطا فرما کر (دوسرے انبیاء پر) فضیلت دی گئی : (نمبرا) مجھے جوامع الکلم (الفاظ جامعہ ‘ مختصر جو زیادہ معانی کو حاوی ہوں) دئیے گئے (نمبر 2) (دشمن پر) رعب (ڈال کر اس) کے ذریعہ سے میری مدد کی گئی (نمبر 3) میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا (نمبر 4) زمین کو میرے لئے مسجد اور ذریعۂ طہارت بنا دیا گیا (نمبر 5) مجھے سب لوگوں کی طرف (ہدایت کیلئے) بھیجا گیا (نمبر 6) مجھ پر (سلسلۂ ) انبیاء کا خاتمہ کردیا گیا۔ آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے آپ کو روکنے والا بنا کر بھیجا کہ کافروں کو کفر سے دنیا میں اور دوزخ میں گرنے سے آخرت میں آپ روکتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلا رکھی ہو۔ جب چاروں طرف آگ کی روشنی پھیل گئی ہو تو پتنگے اور یہ کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔ وہ شخص کتنا ہی ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہو مگر پتنگے اس میں زبردستی گر رہے ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیچھے تمہاری کمر پکڑ کر آگ میں گھسنے سے روک رہا ہوں مگر تم آگ میں گھسے پڑتے ہو۔ حدیث متفقہ علیہ ہے ‘ الفاظ بخاری کے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافۃً الناس سے حال ہو اور اہمیت بتانے کیلئے حال کو مقدم کردیا ہو ‘ یعنی ہم نے تم کو سب لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیجا۔ گورے ‘ کالے ‘ سب تمہارے دائرۂ تبلیغ میں داخل ہیں۔ اکثر علماء نحو کے نزدیک یہ ترکیب ناجائز ہے کیونکہ معمول مجرور کا جار پر تقدم صحیح نہیں۔ بَشِیْرًا اہل ایمان کو جنت کی بشارت دینے والا۔ نَذِیْرًا کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ (یعنی کافر) نہیں جانتے (یعنی یقین نہیں کرتے) بلکہ آپ کی رہنمائی کو مخالفت اور عداوت سمجھتے ہیں۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا

ویقولون متی ھذا الوعد اور (انتہائی جہالت کی وجہ سے بطور استہزاء و تکذیب) کہتے ہیں کہ یہ (ڈرانے اور بشارت دینے کا) وعدہ کب آئے گا (یعنی کب پورا ہوگا) یا وعدہ بمعنیء موعود ہے ‘ یعنی جس عذاب وثواب کا تم وعدہ کر رہے ہو ‘ وہ کب آئے گا۔ ان کنتم صدقین . اگر تم سچے ہو (تو معین وقت بتاؤ) یہ خطاب کافروں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تھا۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھو گے

قل لکم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون . آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے (حساب و کتاب اور عذاب وثواب) کیلئے ایک (خاص) دن کا وعدہ مقرر ہے ‘ جس سے نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔ مِیْعَادُ یَوْمٍ یعنی (مقرر خاص) دن کا وعدہ یا وعدہ کا وقت ‘ یوم سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ضحاک نے کہا : موت کا وقت مراد ہے۔ آگے پیچھے نہ ہٹنے سے مرادیہ ہے کہ مدت عمر میں نہ زیادتی ہوسکتی ہے ‘ نہ کمی۔ اس کا سوال استہزائی اور انکاری تھا ‘ اسی کے مطابق جواب بھی تہدید آمیز دیا گیا۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

وقال الذین کفروا لن نومن بھذا القران ولا بالذی بین یدیہ . اور کافروں نے کہا : ہم ہرگز نہ اس قرآن کو مانیں گے اور نہ اس سے پہلے والی (توریت و انجیل) کو۔ کافروں نے اہل کتاب سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کیا (کہ کیا یہ نبی ہیں) اہل کتاب نے بتایا : ان کے اوصاف ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ اس پر مشرک غضبناک ہوگئے اور یہ بات کہی جو آیت ذیل میں بیان کی گئی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہو۔ ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے روز قیامت اور جنت و دوزخ مراد ہے (یہ سب چیزیں مستقبل میں آنے والی ہیں) ۔ ولو تری اذا لظلمون موقوفون عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول . اور اگر آپ ان کی اس وقت کی حالت دیکھیں گے تو ہولناک منظر آپ کو دکھائی دے گا۔ جب ان ظالموں کو (حساب کیلئے) ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا (یعنی روکا جائے گا) ایک دوسرے پر بات ڈالتا ہوگا۔ تَرٰیکا مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں ‘ یا مخاطب عام ہے کوئی ہو۔ یَرْجِعُ باہم گفتگو کو لوٹ پلٹ کرتے ہوں گے ‘ ایک دوسرے پر بات ڈال رہا ہوگا۔ چنانچہ یقول الذین استضعفوا للذین استکبروا لولا انتم لکنا مومنین . ادنیٰ درجہ کے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے : اگر تم نہ ہوتے تو ہم مؤمن ہوگئے ہوتے (اس پر)
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

وقال الذین استکبروا للذین استضعفوا انحن صددنکم عن الھدی بعد اذجائکم بل کنتم مجرمین . وہ بڑے لوگ ‘ ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے (ہدایت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے) تم کو زبردستی روک دیا تھا ‘ بعد اس کے کہ ہدایت تم کو پہنچ گئی تھی ؟ (نہیں) بلکہ تم خود ہی قصور وار ہو۔ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا سے مراد ہیں نچلے طبقہ والے ‘ یعنی پیروی کرنے والے۔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا سے مراد ہیں سردارن قوم۔ لَوْلاَ اَنْتُمْ یعنی اگر تم ہم کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے نہ روکتے اور کفر کی دعوت نہ دیتے۔ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ تو ہم پیغمبر پر ضرور ایمان لے آتے ‘ تم نے ہی ہم کو عذاب میں ڈالا۔ اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ہم نے تم کو نہیں روکا تھا۔ اس آیت سے اس امر کو ثابت کیا کہ ادنیٰ درجہ کے لوگوں نے خود اپنے آپ کو ایمان سے روکا ‘ بےدلیل کافروں کی پیروی اور اتباع کو اختیار کیا اور رسول اللہ ﷺ کی متابعت ترک کی جس کے دعوے کی تصدیق معجزات سے ہوتی ہے۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا

وقال الذین استضعفوا للذین استکبروا بل مکر الیل والنھار . (اس کے جواب میں) کم درجہ کے لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے (ہم یہ نہیں کہتے کہ تم نے ہم پر زبردستی کی تھی) بلکہ تمہاری رات دن کی پرفریب تدبیروں نے (روکا تھا) ۔ بعض علماء نے کہا : رات دن کے مکر سے مراد ہے : زمانہ کا فریب ‘ طویل آرزو اور طول سلامتی۔ اذ تامروننا ان نکفر باللہ ونجعل لہ اندادا . جب کہ تم ہم کو مشورہ دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں (یعنی اللہ کے ایک ہونے کے انکار کریں) اور اس کے شریک بنائیں۔ اَنْ نَّکْفُرَ میں ان مفسرہ ہے یا مصدریہ ‘ مؤخر الذکر صورت میں ب محذوف مانی جائے گی۔ واسروا الندامۃ لما راوا العذاب جب وہ (دونوں فریق ‘ سردار اور ان کے پیرو) عذاب کو دیکھ لیں گے تو (دلوں کے اندر گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے پر پشیمان ہوں گے اور اس) پشیمانی کو (ہر فریق والے دوسرے فریق سے) چھپائیں گے تاکہ ایک فریق دوسرے فریق پر طنز نہ کرسکے ‘ یا اَسَرُّوْا میں ہمزہ سلب ماخذ کیلئے ہے جیسے اشکیۃ میں نے اس کی شکایت زائل کردی ‘ اس صورت میں اَسَرُّوْا کا معنی ہوگا اَظْہَرُوْا یعنی وہ ندامت ظاہر کریں گے۔ وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا اور (دوزخ کے اندر) ہم کافروں کے گلوں میں طوق ڈالیں گے۔ بجائے ضمیر کے الَّذِیْنَ کَفَرُوْا صراحت کے ساتھ کہنے سے طوق ڈالنے کی اصل علت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ھل یجزون الا ما کانوا یعملون ان کو سزا نہیں دی جائے گی ‘ مگر ان ہی اعمال کی جو وہ کرتے تھے۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بوساطت سفیان عاصم کی روایت سے ابو زرین کا بیان نقل کیا ہے کہ دو آدمی شریک تھے ‘ جن میں سے ایک ملک شام کو چلا گیا ‘ دوسرا (مکہ میں ہی) رہا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو مقیم شخص نے مسافر کو یہ خبر لکھ کر بھیجی۔ مسافر نے مقیم کو لکھا کہ اس شخص (جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے) کیا بنا ؟ مقیم نے جواب میں لکھا کہ قریش میں سے صرف نچلا طبقہ اور غریب لوگ اس کے پیرو ہیں۔ جونہی یہ تحریر مسافر کو ملی ‘ وہ اپنی تجارت چھوڑ کر اپنے ساتھی (مقیم شخص) سے آکر ملا اور کہا : مجھے اس شخص کا پتہ بتادو۔ یہ مسافر شخص (سابقہ آسمانی) کتابیں پڑھ کرتا تھا۔ غرض رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور سوال کیا : آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : فلاں فلاں (اوامرو نواہی) کی۔ یہ سنتے ہی وہ بول اٹھا : میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ آپ ان کے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے کیسے جانا ؟ کہنے لگا : جو نبی بھی مبعوث ہوا (پہلے پہلے) نچلا طبقہ اور غریب لوگ ہی اس کے پیرو ہوئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے قائل نہیں

وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا انا بما ارسلتم بہ کفرون . اور ہم نے کسی بستی میں ڈرانے والا (یعنی پیغمبر) نہیں بھیجا ‘ مگر (جب بھیجا تو) وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا : جو کچھ (احکام) تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ‘ ہم ان کے منکر ہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو کہلا بھیجا کہ تمہارے قول کی تصدیق اللہ نے نازل فرمائی۔ مترفین ‘ خوش حال لوگ۔ خوش حال لوگوں کا خصوصی تذکرہ انکار رسالت کیلئے کیا کہ عموماً غرور اور دنیوی دولت مندی پر فخر اور لذت اندوزی میں انہماک اور غریبوں کو ذلیل جاننا ‘ انکار رسالت کا موجب ہوت ہے ‘ اسی لئے منکروں نے تکذیب کے ساتھ استہزاء اور فخر کو بھی ملا دیا۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

وقالوا نحن اکثر اموالا واولادا . اور انہوں نے کہا : ہم تم سے زیادہ مال و اولاد والے ہیں۔ یعنی اللہ نے یہ سب کچھ تم سے زیادہ ہم کو دے رکھا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں اس لئے جس بات کے تم مدعی ہو اس کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔ وما نحن بمعذبین . اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (اول تو) عذاب (ثواب) ہی نہ ہوگا اور اگر عذاب ہوا تو ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا ‘ کیونکہ اللہ نے (دنیا میں) ہم کو عزت عطا کی ہے (اس لئے آخرت میں) ذلیل نہیں کرے گا۔ مشرکوں کے اس خیال کو رد کرنے کیلئے فرمایا
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر . آپ کہہ دیجئے : بلاشبہ میرا رب جس کی روزی (دنیا میں بطور امتحان تنگ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کی روزی) نپی تلی کردیتا ہے۔ یعنی روزی کی تنگی وفراخی ‘ تحقیر و اعزاز کا معیار نہیں ہے۔ دنیا امتحان گاہ ہے ‘ دارالجزاء نہیں ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے احوال (دولت و افلاس کے لحاظ سے) مختلف ہوتے ہیں باوجودیکہ اوصاف و خصوصیات (علمی و جسمانی) ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ (یعنی کافر) اس حقیقت کو نہیں جانتے اس لئے ان کا خیال ہوتا ہے کہ مال و اولاد کی کثرت عزت افزائی کا موجب ہے۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔ ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالاخانوں میں بیٹھے ہوں گے

وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا اور تمہارے اموال و اولاد ایسی چیز نہیں جو درجہ میں تم کو ہمارا مقرب بنا دے ‘ مگر ہاں جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے۔ اخفش نے کہا : زلفٰی (یعنی تقرب) اسم مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے مال و اولاد کے ساتھ (تمہارے اندر) ایسی خصلت نہیں ہے جو تم کو اللہ کے قرب میں پہنچا دے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بالَّتِی میں ب زائد ہو ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ تم کے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو قرب الٰہی میں پہنچا دے۔ اِلاَّ مِنْ اٰمَنَ الخ میں استثناء منقطع ہے۔ مطلب یہ ہوگا : لیکن جو نیکوکار مؤمن ہو ‘ اس کا ایمان اور عمل قرب الٰہی میں پہنچا سکتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہی تفسیر منقول ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استثناء متصل ہو اور تُقَرِّبُکُمْ کی کُمْ ضمیر مفعول سے استثناء کیا گیا ہو ‘ مطلب اس طرح ہوگا کہ مال و اولاد کسی کو اللہ کے قرب میں نہیں پہنچا سکتا ‘ مگر مؤمن صالح کو پہنچا دے گا جو راہ خدا میں اپنا مال صرف کرتا ہے ‘ اولاد کی صحیح تربیت کرتا ہے اور اس کو نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا سے پہلے مضاف محذوف ہو ‘ مطلب اس طرح ہوگا : مگر مؤمن صالح کی اولاد و مال قرب خدا میں پہنچا دے گا۔ فاولئک لھم جزآء الضعف سو ایسے لوگوں کیلئے دوگنا ثواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہی لوگوں کو نیکیوں کا ثواب کئی گنا دیا جائے گا۔ ایک نیکی کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک اور اس سے بھی زیادہ غیر محدود ملے گا۔ بما عملواوھم فی الغرفت امنون . اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔ الغرف کسی چیز کو اوپر اٹھانا۔ جنتیوں کے غرفات سے مراد ہیں اونچے اونچے بالا خانے۔ غرفات کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ‘ سورة الفرقان کی آیت اولٰٓءِکَ یَجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْاکی تفسیر کے ذیل میں ہم نے نقل کردی ہیں۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

والذین یسعون فی ایتنا معجزین اولیک فی العذاب محضرون اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق ان کے ابطال کی کوشش کر رہے ہیں نبی کو ہرانے کیلئے ‘ ایسے لوگ عذاب میں لائے جائیں گے۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا۔ اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی روزی کشاہ کرنا چاہتا ہے ‘ کشادہ کرتا ہے اور (تنگ کرنا چاہتا ہے تو) تنگ کرتا ہے۔ یعنی ایک ہی شخص کی روزی کبھی تنگ کرتا ہے کبھی فراخ کرتا ہے۔ آیت میں ایک ہی شخص کی (مختلف زمانوں میں) روزی فراخ اور تنگ کرنے کا ذکر کیا ہے اور سابق آیت میں دو شخصوں کے متعلق فرمایا ہے کہ ایک کی روزی فراخ کرتا ہے اور دوسرے کی روزی تنگ کرتا ہے۔ صاحب سجرمواج نے لکھا ہے : سابق آیت میں تو کافروں کے غرور مال کی تردید کی تھی اور اس آیت میں ان کے بخل کی تردید فرمائی۔ وما انفتتم من شیء فھو یخلفہ وھو خیر الرزقین . اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تو اللہ اس کا عوض دے گا اور وہ سب سے اعلیٰ روزی دینے والا ہے۔ یعنی اللہ اس کا بدلہ عطا فرمائے گا دنیا میں فوراً یا آخرت میں جنت کے اندر ‘ پھر راہ خدا میں مال خرچ نہ کرنے اور کنجوسی کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا کوئی اگرچہ بظاہر روزی رساں نظر آتا ہے تو حقیقت میں وہ (خداداد) روزی رسانی کا ایک مجازی ذریعہ ہے ‘ حقیقی رازق نہیں ہے۔ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ کے لفظ سے یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ اللہ جب رزاق حقیقی ہے اور دوسروں پر لفظ رزاق کا اطلاق مجازی ہے تو ایک ہی لفظ سے ایک ہی وقت میں حقیقی اور مجازی دونوں معنی مراد ہوں گے جو ناجائز ہے ایسا نہیں ہے بلکہ الرازقین کا اطلاق عموم مجاز کے طور پر ہے۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے

ویوم یحشرھم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھولاء ایاکم کانو یعبدون . اور یاد کرو اس دن کو جب ا اللہ ان سب کو جمع کرے گا اور فرمائے گا : کیا یہ سب تمہاری پوجا کرتے تھے۔ جَمِیْعًا یعنی مغرور سرداروں اور نچلے طبقہ والوں کو سب کو ھٰٓؤُلَآء یعنی یہ کافر جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔ ملائکہ سے یہ خطاب مشرکوں کو ذلیل کرنے اور شفاعت ملائکہ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا (کافروں کے معبود تو اور بھی ہیں ‘ اصنام و کواکب وغیرہ کی بھی وہ پوجا کرتا ہیں لیکن) خصوصیت کے ساتھ ملائکہ کو خطاب اس لئے کیا جائے گا کہ خطاب کیصلاحیت انہی میں ہے ‘ پھر وہ دوسرے فرضی شرکاء سے افضل بھی ہیں نیز مبدء شرک بھی انہی کی عبادت ہے (ملائکہ غیبیہ اس کائنات کے منتظم ہیں اور ان کا منتظم ہونا اصل سبب ہے کافروں کے کفر اور مشرکوں کے شرک کا۔ مشرک سمجھتے ہیں کہ یہی دیوتا معبود اور بارگاہ خداوندی کے مقربین ہیں اس لئے باامید شفاعت ان کی پوجا کرتے ہیں ‘ مترجم) ۔