Ayah 29:67اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم . کیا ان اہل مکہ نے نہیں دیکھا کہ ہم
نے مکہ کو پر امن حرم بنا دیا ہے (کہ مکہ والوں کو کوئی مکہ کے اندر نہیں لوٹتا ‘ ہر طرح کی غارت گری سے وہ محفوظ ہیں اور قتل و قید سے امن میں ہیں۔ نہ کوئی قتل کرتا ہے ‘ نہ گرفتار کر کے باندی غلام بناتا ہے) حالانکہ ان کے گرداگرد لوگ اچک لئے جاتے ہیں (لوٹے جاتے ہیں ‘ مارے جاتے ہیں) ۔
افبالباطل یؤمنون وبنعمۃ اللہ یکفرون . کیا باطل پر تو وہ یقین رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا ہی انکار کرتے ہیں ؟
یعنی اللہ تو ان پر یہ احسان کرتا ہے اور وہ اس کی کھلی ہوئی نعمت کے بعد باطل پر یعنی بتوں پر یا شیطان پر ایمان رکھتے ہیں۔
اَلْبَاطِلِ سے مراد اللہ کے سوا ہر چیز ہوسکتی ہے (اس وقت باطل کا ترجمہ ہوگا بےحقیقت ‘ بےاصل۔ مترجم) رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے اچھا قول لبید کا ہے۔
اَلاَ کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلا اللہ بَاطِلٌ متنبہ ہوجاؤ کہ اللہ کے سوا ہر چیز بےحقیقت ہے۔
ا اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں کیونکہ دوسروں کو عبادت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ بعض عطماء کے نزدیک نِعْمَۃِ اللہ ِسے مراد ہے رسول اللہ کی ذات اقدس یا قرآن۔
Ayah 29:68ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا . اور کون شخض زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے اللہ پر دروغ تراشی
کی۔ یعنی اللہ کا شریک قرار دیا۔
اوکذب بالحق لما جاء ہ . یا حق (یعنی رسول اللہ یا قرآن) کی تکذیب جب حق اس کے پاس آگیا۔ یعنی جوں ہی حق ان کے پاس آیا ‘ فوراً بلا سوچے اور بغیر غور کئے سنتے ہی تکذیب کردی۔
الیس فی جھنم مثوی للکفرین . کیا جہنم کے اندر کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے ؟ یعنی ضرور ہے ‘ یہ استفہام تقریری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اللہ پر دروغ بندی کی اور حق کی تکذیب کردی تو کیا جہنم کے اندر یہ قیام وقرار کے مستحق نہیں ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کو معلوم نہیں کہ جہنم کے اندر کافروں کی قرار گاہ ہے کہ تکذیبِ حق اور اللہ پر افتراء پردازی کی ان کو جرأت ہوئی۔ پہلے مطلب پر تقریر قیام ہوگی اور دوسرے مطلب پر تقریر جرأت۔
Ayah 29:69والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا . اور جن لوگوں نے اپنے مقدور بھر ہماری خوشنودی طلب کرنے ‘
ہمارے دین کی مدد کرنے اور ہمارے اوامرو نواہی کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی ہم ان کو اپنے راستے بتا دیتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ جَاھَدُوْا جہاد کا معنی ہے مقدور بھر کوشش کرنا۔ مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی انتہائی طاقت بھر کافروں سے لڑنے اور نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنے کی کوشش کی۔
فِیْنَا ہمارے اندر یعنی ہماری مرضی کی طلب ‘ ہمارے دین کی مدد اور ہمارے اوامرو نواہی کی تعمیل کرنے میں۔
سُبْلَنَا اپنے راستوں کی یعنی اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستوں کی۔ اللہ کی بارگاہ تک رسائی بےکیف ہے (اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی) یا یہ معنی ہے کہ ہم نیکی کے راستے ان کو دکھا دیتے ہیں اور ان راستوں پر چلنے کی توفیق عنایت کردیتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ اھْتَدَوْا زَادَھُمْ ھُدًی اور جو لوگ ہدایت پالیتے ہیں اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ کردیتا ہے۔
حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : فرمان کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ اپنے جانے ہوئے راستوں پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو (آگے) وہ راستے بتا دیتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتے۔
عطا نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جو لوگ ہماری رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنے عطا کردہ ثواب کے راستے بتا دیتے ہیں۔
جنید نے کہا : جن لوگوں نے توبہ کی کوشش کی ہم ان کو اخلاص کے راستے بتا دیتے ہیں۔
سفیان بن عیینہ نے کہا : جن لوگوں میں اختلاف ہو تو تم سرحد والوں کو دیکھو (یعنی ان کے راستوں پر چلو) کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (گویا آپ کے نزدیک آیت میں جہاد سے مراد کفار سے جہاد کرنا ہے) ۔
حسن نے کہا : سب سے اعلیٰ جہاد نفسانی خواہشات کی مخالفت ہے۔
سہیل بن عیاض نے کہا : جن لوگوں نے طلب علم میں جہاد کیا ہم ان کو علم کے مطابق عمل کرنے کے راستے بتا دیتے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن لوگوں نے سنت کو قائم کرنے کی کوشش کی ہم ان کو جنت کے راستے بتا دیتے ہیں۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص عمل کرتا ہے اس پر جس کو وہ جانتا ہے تو اللہ نامعلوم چیز کا علم اس کو عطا فرما دیتا ہے۔
وان اللہ لمع المحسنین اور بلاشبہ اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ کی مدد اور اعانت اور
آخرت میں ثواب اور مغفرت نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
صوفیہ نے کہا : اہل احسان کے ساتھ اللہ ہے لیکن اس کی معیت کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ اہل بصیرت ہی اس کو وجدانی طور پر جانتے ہیں۔
بجائے ضمیر کے لفظ اَ اللہ کی صراحت مفید تاکید ہے۔ وا اللہ اعلم۔
بحمد اللہ تفسیر مظہری کا سورة عنکبوت کی تفسیر کا حصہ 9/ رجب 1206 ھ کو ختم ہوا۔ اللہ کریم کا شکر ہے اور اسی کے لئے حمد سزاوار ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے سورة عنکبوت کی تفسیر مظہری کا ترجمہ
پورا کرنے کی توفیق عنایت فرمائی اور 3/ ذی الحجہ 1390 ھ کو یہ حصہ ختم ہوا۔