29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

وعادًا وثمودًا وقد تبین لکم من مسکنھم وزین لھم الشیطن اعمالھم فصدھم عن السبیل اور ہم نے عاد وثمود کو بھی ہلاک کیا اور یہ امر تمہارے لئے ان کے مقامات سکونت (دیکھنے سے) واضح ہو رہا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظر میں آراستہ کردیا تھا اور ان کو راہ (حق) سے روک دیا تھا۔ وَعَادًا وَّثَمُوْدَ اس جگہ فعل محذوف ہے یعنی ہم نے عاد وثمود کو ہلاک کیا۔ وَقَدْتَبَیَّنَ لَکُمْ اور اے مکہ والو ! تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ‘ واضح ہیں۔ مِنْ مَسٰکِنِھِمْ ان کے کچھ مقامات سکونت ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جب ان کے ویران مقامات کی طرف جاتے ہو اور ادھر سے گزرتے ہو تو ان کے کھنڈروں سے تم پر ان کو تباہ ہوجانا واضح ہوجاتا ہے۔ اَعْمَالَھُمْ یعنی کفر اور گناہ۔ عَنِ السَّبِیْلِ یعنی پیغمبروں کے بنائے ہوئے جنت کے راستہ سے شیطان نے ان کو روک دیا۔ وکانوا مستبصرین . اور (ویسے دنیوی امور میں) وہ ہوشیار تھے۔ مقاتل ‘ قتادہ اور کلبی نے اس جملہ کی تشریح میں کہا کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو اور حق سے گمراہ ہونے کو پسند کرتے تھے اور اپنے آپ کو راہ راست پر خیال کرتے تھے۔ اسی تشریح کی بنا پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ وہ اپنی نظر میں (اپنے دین کے معاملہ میں) بڑے ہوشیار تھے۔ فراء نے مستبصر ہونے کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ وہ لوگ اہل دانش و ہوش تھے ‘ بصیرت مند تھے ‘ غور و فکر کرسکتے تھے لیکن انہوں نے غور و فکر سے کام نہیں لیا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان پر واضح کردیا گیا تھا کہ ان پر عذاب ضرور آئے گا۔ پیغمبروں کے اقوال سے ان پر ظاہر ہوچکا تھا کہ (اگر وہ تائب نہ ہوئے تو) ھ عذاب میں مبتلا ہوں گے لیکن وہ اپنے افکار واطوار پر جمے رہے اور نتیجہ میں تباہ کر دئیے گئے۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

وقارون و فرعون و ھامان . اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو ہلاک کردیا۔ قارون نسبی لحاظ سے فرعون و ہامان سے شریف تھا اس لئے قارون کا لفظ فرعون و ہامان سے پہلے ذکر کیا گیا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے اس امر کی طرف کہ اعلیٰ نسب والے سے کفر معصیت کا صدور بہت ہی برا ہے۔ ولقد جآء ھم موسیٰ بالنیت فاستکبروا فی الارض وما کانوا سبقین اور موسیٰ ان کے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر گئے (لیکن) اس سرزمین میں وہ لوگ مغرور ہوگئے
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

فکلا اخذنا بذنبہ (مگر) ہماری گرفت سے آگے نہ نکل سکے ہم نے ہر ایک کو اس کے جرم کی وجہ سے دھر پکڑا۔ یعنی ہماری گرفت سے چھوٹ نہ سکے بلکہ اللہ کے حکم عذاب نے ان کو آلیا۔ سَابِقِیْنَ بمعنی فاءِتِیْنَ ۔ سَبقَ طَالِبہٗ وہ اپنے طالب (یعنی پکڑنے والے) سے آگے نکل گیا (یعنی چھوٹ گیا ‘ ہاتھ نہ آیا) اَخَذْنَا ہم نے پکڑ لیا یعنی سزا دی۔ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا . پس ان کافروں میں سے کچھ تو وہ تھے جن پر ہم نے پتھریاں برسانے والی ہوا بھیج دی ‘ یعنی قوم لوط۔ ومنھم من اخذتہ الصیحۃ . اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چیخ نے دھر پکڑا ‘ یعنی قوم ثمود و مدین۔ ومنھم من خسفنا بہ الارض . اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ‘ یعنی قارون۔ ومنھم من اغرقنا . اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے غرق کردیا ‘ یعنی قوم نوح اور فرعون اور فرعون کی قوم۔ وما کان اللہ لیظلمھم . اور اللہ ایسا تو نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا یعنی ظالموں کی طرح ا سے برتاؤ کرتا اور بلاجرم ان کو سزا دیتا ‘ یہ اس کی عادت نہیں۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون . لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ‘ یعنی عذاب پانے کے درپے تھے۔
Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

مثل الذین اتخزوا من دون اللہ اولیآ کمثل العنکبوت اتخذت بیتًا . جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا رکھا ہے ‘ ان کی حالت ایسی ہے جیسے کسی مکڑی نے کوئی جالا بنایا ہو۔ یعنی جو کافر بتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور انہوں نے بتوں کو اپنا محل اعتماد قرار دے رکھا ہے ‘ ان کی مثال کمزوری ور ضعف کے لحاظ سے ایسی ہے جیسے کسی مکڑی نے اپنا جالا بنا لیا ہو۔ بلکہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ ان کا محل اعتماد کمزور ہے ‘ مکڑی کا جالا پھر بھی کوئی حقیقت رکھتا ہے اور اس کا کچھ فائدہ مکڑی کو پہنچتا ہے۔ بت پرستوں کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت پرستوں کے مذہب کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جن کافروں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز سمجھ رکھا ہے ‘ اہل توحید کے مقابلے میں ان کی حالتی ایسی ہے جیسے اس مکڑی کی جس نے اپنا گھر کسی آدمی کے گھر کے مقابلے میں بنایا ہو۔ لفظِ عَنْکَبُوْتِ کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی ‘ مذکر پر بھی اور مؤنث پر بھی۔ اس کی جمع عناکیب ‘ عکاب اور اعکب ہے۔ عَنْکَبُوْت کی ت طاغوت کی ت کی طرح ہے۔ 1 ؂ وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت . اور سب سے زیادہ کمزور گھر بلاشبہ مکڑی کا ہوتا ہے۔ یعنی مکڑی کے گھر سے زیادہ کمزور گھر اور کوئی نہیں ہوتا۔ نہ سردی سے بچاتا ہے ‘ نہ گرمی سے۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیء . (آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ) وہ جس چیز کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں (یعنی پوجتے ہیں) اللہ کو اس کا علم ہے۔ (اس ترجمہ پر مَا یَدْعُوْنَ میں لفظ مَا موصولہ ہوگا) مَا کو استفہامیہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے یعنی اللہ کے سوا وہ کس چیز کو پوجتے ہیں ‘ اللہ واقف ہے۔ یا مَا مصدر ہے یعنی اللہ ان کی عبادت غیر اللہ کو جانتا ہے۔ یا مَا نافیہ ہے یعنی اللہ واقف ہے کہ وہ کسی چیز کو اللہ کے سوا نہیں پکارتے۔ اس صورت میں کفار کی عبادت کو جو مذکورہ بالا عبارت میں خانۂ عَنْکَبُوْت سے تشبیہ دی اس کی تاکید اس جملہ سے ہوجائے گی اور کام میں کافروں کی جہالت کا اظہار ہوگا۔ وھو العزیز الحکیم . اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ سابق کلام کی علت ہے۔ ایک غالب حکیم ہستی کے ساتھ ایسی چیز کی عبادت میں شریک کرنا جو بالکل ہیچ اور بےمقدار ہیں ‘ انتہائی حماقت ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے ‘ ہر چیز پر اس کو قدرت تامہ حاصل ہے ‘ عالم کل بھی ہے ‘ اس کے مقابلہ میں بےجان جماد کوئی ہستی نہیں رکھتا بالکل معدوم کی طرح ہے۔ ایسا محیط کل علم رکھنے والا قادرمطلق یقیناً منکروں کو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اُسے تو اہلِ دانش ہی سمجھتے ہیں

وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون . اور ہم لوگوں (کی ہدایت اور ان کو سمجھانے) کے لئے یہ مثالیں بیان کرتے ہیں اور صرف اہل علم ہی ان کو سمجھتے ہیں ‘ جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور اشیاء کی حقائق کیفیات کو جانتے ہیں۔ بغوی نے عطا اور ابو الزبیر کی روایت بیان کی کہ حضرت جابر نے آیت وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا الاَّ الْعٰلِمُوْنَ تلاوت کی اور فرمایا : عالم وہ ہے جس کو اللہ کی طرف سے سمجھ ملی ہو اور سمجھنے کے بعد وہ اللہ کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے پرہیز رکھے۔ ثعلبی اور واحدی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ ابو داؤد بن حر نے کتاب العقل میں حارچ بن اسامہ کے طریق سے بھی روایت کو بیان کیا۔ ابن جوزی نے اس کا ذکر موضوعات میں کیا ہے۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

خلق اللہ السموت والارض بالحق . اس نے آسمان و زمین کو برحق (یعنی ٹھیک) پیدا کیا۔ اس کائنات کی تخلیق کی اصل غرض ہے افادۂ خیر اور اپنی ذات وصفات کا اظہار۔ ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین . اس تخلیق میں اہل ایمان کے لئے نشانی ہے اللہ کی ہستی اور توحید کی ‘ اس کے ہمہ گیر علم محیط کل قدرت اور ارادہ کی اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونے کی۔ اور چونکہ اہل ایمان ہی اس سے فائدہ اندوز اور (ہدایت یاب) ہوتے ہیں ‘ اس لئے انہی کے لئے یہ تخلیق رہنما ہے۔ (بیسواں پارہ ختم)
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے

اتل ما اوحی الیک من الکتب . جو کتاب آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اس کو پڑھئے۔ تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو ‘ نصیحت پذیری کا تحفظ ہو ‘ احکام کی نگہداشت ہو ‘ اس کی مثالوں سے عبرت حاصل ہو ‘ معانی قرآن کا انکشاف ہو ‘ کیونکہ بار بار غور کے کر پڑھنے سے ان معانی کا انکشاف ہوتا ہے جن کا انکشاف پہلی مرتبہ تلاوت کرنے سے نہیں ہوتا۔ اس پیہم تلاوت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا معانی قرآن کو سمجھ کر قرآن کے اوامرو نواہی کا پابند ہوجاتا ہے۔ واقم الصلوۃ . اور (فرض) نماز قائم کرو۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر . (کیونکہ) نماز بلاشبہ بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اَلْفَحْشَآءِ وہ بری بات جس کی برائی شرعاً اور عقلاً کھلی ہوئی ہو۔ نماز اللہ کی یاد دلاتی ہے اور نفس کے اندر خشیت (خوف عذاب) پیدا کرتی ہے اس لئے گناہوں سے روکتی ہے۔ بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک انصاری جوان رسول اللہ کے ساتھ پانچوں نمازیں پڑھتا تھا لیکن اس کے باوجود کوئی کھلا ہوا گناہ ایسا نہ تھا جس کا وہ ارتکاب نہ کرتا ہو۔ اس کی یہ حالت رسول اللہ سے عرض کی گئی تو حضور ﷺ نے فرمایا : کسی دن اس کی نماز اس کو (ان گناہوں سے) روک دے گی۔ چناچہ کچھ ہی مدت کے بعد اس نے توبہ کرلی اور اس کی حالت ٹھیک ہوگئی۔ اسحاق نے مسند میں اور بزار اور ابویعلی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : فلاں شخص رات کو نماز (یعنی تہجد) پڑھتا ہے پھر صبح کو چوری کرتا ہے۔ فرمایا : اس کی نماز اس کو روک دے گی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے فرمایا : نماز میں گناہوں سے بازداشت اور روکنے کی طاقت ہے اس لئے جس کی نماز اس کو بھلائی کا حکم نہ دے اور بری باتوں سے نہ روکے اس کی نماز اللہ سے دوری ہی پیدا کرتی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک صلوۃ سے مراد قرآن ہے جیسے ولا تَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ میں صلوۃ سے مراد ہے نماز میں قرآن پڑھنا۔ اور اس میں شک نہیں کہ قرآن ہر فحشاء اور منکر سے روکتا ہے۔ بغوی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں گزارش کی کہ ایک آدمی رات میں قرآن پڑھتا ہے اور صبح کو چوری کرتا ہے۔ فرمایا : عنقریب اس کا قرآن پڑھنا اس کو روک دے گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! فلاں شخص دن میں نماز پڑھتا ہے اور رات کو چوری کرتا ہے۔ فرمایا : عنقریب نماز اس کو روک دے گی۔ ولذکر اللہ اکبر . اور بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔ ابن عطا نے کہا : یعنی ہر گناہ سے بڑا ہے ‘ کسی گناہ کو باقی چھوڑنے والا نہیں ہے۔ زکر اللہ سے مراد ہے وہ نماز جو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ بجائے صلوۃ کے لفظ ذکر لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ نماز چونکہ ذکر خدا پر مشتمل ہوتی ہے اسی وجہ سے نیکیوں تک پہنچاتی ہے اور گناہوں سے روکتی ہے۔ فضائل ذکر ذکر کی فضیلت میں بہت احادیث آئی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں : حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے نزدیک سارے اعمال سے بہتر اور پاکیزہ اور ہر عمل سے زیادہ اونچے درجہ پر پہنچنے والا ‘ سونے چاندی کو راہ خدا میں خرچ کرنے سے تمہارے لئے بہتر اور (اس جہاد سے) تمہارے لئے افضل ہے جس میں دشمن کے مقابلہ میں تم دشمنوں کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں ؟ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں (ضرور فرمائیے) فرمایا : اللہ کا ذکر۔ امام مالک کے نزدیک یہ حدیث موقوف ہے (یعنی حضرت ابو درداء نے اس کو مرفوعاً ذکر نہیں کیا) ۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ سے دریافت کیا : کون سا ندہ سب سے افضل اور اللہ کے نزدیک اعلیٰ مرتبہ والا ہے ؟ فرمایا : بکثرت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہیں ؟ فرمایا : اگر مجاہد اپنی تلوار سے کافروں کو اتنا مارے کہ تلوار ٹوٹجائے اور خون سے رنگین ہوجائے تب بھی اللہ کی بکثرت یاد کرنے والے اس سے افضل درجہ والے ہیں۔ رواہ احمد والترمذی۔ ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن بسری راوی ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا آدمی سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا : خوشی ہو اس کے لئے جس کی عمر طویل اور اعمال اچھے ہوں۔ اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ فرمایا : (سب سے افضل یہ ہے) کہ تم دنیا سے ایسی حالت میں جاؤ کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تروتازہ ہو رہی ہو۔ رواہ احمد والترمذی۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ مکہ کے ایک راستہ پر جا رہے تھے۔ ایک پہاڑ کی طرف سے گزرے ‘ اس پہاڑ کا نام حمدان تھا۔ فرمایا : چلے چلو ‘ یہ حمدان ہے۔ اہل تفرید آگے بڑھ گئے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اہل تفرید سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر رب نہیں کرتا ‘ اس کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کے کچھ فرشتے اہل ذکر کی تلاش میں راستوں میں گھومتے رہتے ہیں۔ جب وہ کسی جماعت کو اللہ کا ذکر کرتے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکار کر کہتا ہے : آؤ ‘ تمہارا مقصد یہ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر آسمان تک ملائکہ ان لوگوں پر چھا جاتے ہیں۔ اللہ ان ملائکہ سے دریافت فرماتا ہے (باوجود یہ کہ وہ خود ہی خوف واقف ہے) میرے بندے کیا کہہ رہے تھے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : تیری پاکی بیان کر رہے تھے ‘ تیری بڑائی بیان کر رہے تھے ‘ تیری ثناء کر رہے تھے اور تیری بزرگی کا اظہار کر رہے تھے (یعنی الحمد اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ سبحان اللہ اور المجد اللہ کہہ رہے تھے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ ملائکہ کہتے ہیں : نہیں ‘ خدا کی قسم ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ؟ ملائکہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو تیری عبادت کرتے اور تیری بزرگی بیان کرتے میں اور زیادہ سرگرم ہوجاتے اور تیری پاکی اور زیادہ بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ کیا مانگتے ہیں ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے : کیا انہوں نے جنت دیکھ لی ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : خدا کی قسم ! انہوں نے جنت نہیں دیکھی۔ اللہ فرماتا ہے : اگر وہ دیکھ لیتے تو ان کی کیا حالت ہوتی ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو ان کو جنت کی خواہش اور طلب اور زیادہ شدت کے ساتھ ہوجاتی اور جنت کی رغبت بہت بڑھ جاتی۔ اللہ فرماتا ہے : وہ پناہ کس چیز سے مانگتے ہیں ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : وہ دوزخ سے پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے : کیا انہوں نے دوزخ دیکھی ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ‘ بخدا ! انہوں نے دوزخ نہیں دیکھی۔ اللہ فرماتا ہے : اگر وہ دوزخ کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ؟ ملائکہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ دوزخ کو دیکھ لیتے تو اس سے اور زیادہ بھاگتے اور بہت زیادہ اس سے ڈرتے۔ اللہ فرماتا ہے : تو میں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا۔ ان ملائکہ میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے : ان ذکر کرنے والوں میں فلاں شخص بھی موجود تھا جو ان میں سے نہیں تھا (یعنی ذکر میں شامل نہ تھا) کسی کام سے وہاں آیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔ رواہ البخاری۔ مسلم نے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے ‘ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : اے رب ! ان میں ایک بندہ غلطی سے شامل ہوگیا ‘ ادھر سے گزرا تھا کہ ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اللہ فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا (بھی) بدنصیب نہیں ہوتا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب تم جنت کے باغوں کی طرف سے گزرو تو وہاں چر لیا کرو (یعنی ان میں حصہ لیا کرو) صحابہ نے عرض کیا : جنت کے باغ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ذکر کے حلقے ‘ رواہ الترمذی۔ معاویہ کی روایت سے مسلم نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صحابہ کے حلقہ کی طرف سے گزرے تو فرمایا : یہاں کیسے بیٹھے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اور اس کی ثناء کر رہے ہیں کہ اس نے ہم کو مسلمان ہونے کی توفیق دی اور مسلمان بنا کر ہم پر احسان فرمایا : حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ ملائکہ پر تم کو بطور فخر پیش فرماتا ہے۔ امام مالک کا بیان ہے : مجھے اطلاع ملی کہ رسول اللہ فرمایا کرتے تھے کہ غافلوں میں (یعنی اللہ کی یاد سے غفلت کرنے والوں میں) اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے (کافروں کے مقابلہ سے) بھاگنے والوں میں (کافروں سے) لڑنے والا۔ اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے اندھیرے گھر میں روشن چراغ اور غافلوں کے اندر رہ کر اللہ کی یاد کرنے والے کو زندگی ہی میں اللہ جنت کے اندر اس کی جگہ دکھا دیتا ہے۔ اس کے اتنے گناہ گخش دئیے جاتے ہیں جتنی تعداد تمام بولنے والوں اور نہ بولنے والوں یعنی آدمیوں اور چوپایوں کی ہے ‘ رواہ زین۔ حضرت معاذ بن جبل کی روایت ہے کہ اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی عمل آدمی کو اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا نہیں ہے ‘ رواہ مالک والترمذی وابن ماجۃ۔ حضرت ابو سعید خدری نے شہادت دی کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو لوگ بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں (یعنی ان کے بیٹھنے کی غرض سوائے یاد الٰہی کے اور کچھ نہیں ہوتی) ان پر فرشتے چھا جاتے ہیں (فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں) اور رحمت ان کو ڈھانک لیتی ہے اور ان پر سکینہ (دل اور روح کا چین) نازل ہوتا ہے اور اللہ ان (ملائکہ) میں جو اس کے مقرب ہوتے ہیں ‘ ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے ‘ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : (ا اللہ نے ارشاد فرمایا) کہ بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میں اسی کے گمان کے پاس ہوتا ہوں۔ جب وہ میری یاد کرتا ہے تو میں۔۔ اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ میری یاد اپنے دل میں کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میری یاد جماعت کے ساتھ کرتا ہے (جماعت میں کرتا ہے) تو میں اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ متفق علیہ (یعنی فرشتوں کی جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں) ۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک وَلَذِکْرُ اللہ اَکْبَرُکا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو تمہارا ذکر کرتا ہے ‘ وہ اس ذکر سے زیادہ عظمت والا ہے جو تم اس۔۔ کرتے ہو (یعنی تم جو خدا کی یاد کرتے ہو اس سے بڑھ کر اللہ تمہارا ذکر کرتا ہے) مجاہد ‘ عکرمہ اور سعید بن جبیر سے یہی تفسیر منقول ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف سے بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں بحوالہ نافع آیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے رسول اللہ سے بھی مرفوعاً تفسیر نقل کی ہے۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ تم خدا کی یاد میں کمی نہ کرو ‘ کیونکہ جب تم خدا کی یاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا ذکر کرے گا اور اللہ جب تمہارا ذکر کرے تو اس کا درجہ تمہارے ذکر خدا کرنے سے بہت بڑا ہے۔ وا اللہ یعلم ما تصنعون . اور جو کچھ تم بناتے (یعنی کرتے) ہو اللہ اس کو جانتا ہے ‘ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں

ولا تجادلوآ اھل الکتب الا بالتیھی احسن . اور اہل کتاب سے مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ سے جو اچھا ہے۔ آیت میں خطاب رسول اللہ اور مؤمنوں کو ہے۔ یعنی قرآن اور آیات قرآن کے ذریعہ سے اللہ کی طرف آنے کی دعوت دو اور قرآن کے پیش کردہ دلائل پر متنبہ کرو۔ اس مطلب پر مستثنیٰ مفرغ ہوگا ‘ یا استثناء منقطع ہے اور مطلب یہ ہے کہ کافروں کی بداخلاقی کے مقابلہ میں تم نرم سے کام لو ‘ مباحثہ کے وقت وہ غضب ناک ہوجائیں تو تم تحمل کرو ‘ وہ شوروغل کریں تو تم ان کی خیرخواہی ظاہر کرو۔ چونکہ خیرخواہی اور نصیحت مجادلہ میں داخل نہیں ہے اس لئے مستثنیٰ منقطع ہوگا۔ الا الذین ظلموا منھم . مگر ان میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہو۔ یعنی معاہدہ کو توڑ دیا ہو یا جزیہ ادا کرنا قبول نہ کیا ہو تو ان سے مباحثہ نہ کرو بلکہ لڑو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں یا ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔ سعید بن جبیر نے یہی تشریح کی ہے اور کہا ہے کہ حربی کافر مستثنیٰ ہیں اور استثناء کے بعد جو لوگ باقی رہ گئے وہ ذمی کافر ہیں۔ ظاہر یہ ہے کہ حسن مجادلہ کا حکم جہاد کے حکم سے پہلے تھا (آیت قتال نازل ہونے سے منسوخ ہوگیا کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کا حکم مدینہ میں نازل ہوا) اس تقدیر پر اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا سے مراد ہوں گے وہ لوگ جو عناد اور دشمنی میں حد سے آگے بڑھ گئے تھے۔ کوئی خدا کا بیٹا مانتا تھا ‘ کوئی اللہ کے ہاتھ کو بندھا ہوا (یعنی کنجوس) کہتا تھا ‘ کوئی کہتا تھا اللہ محتاج ہے ‘ ہم مالدار ہیں۔ اس صورت میں سختی اور درشتی کے ساتھ ان سے مجادلہ جائز قرار پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قتادہ اور مقاتل نے اس آیت کو آیت قتال سے منسوخ قرار دیا ہے۔ وقولوآ اٰمنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم . اور کہہ دو کہ ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر بھی جو تمہاری طرف اتاری گئی۔ یہ حسن مجادلہ کا بیان ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اہل کتاب وہ باتیں کہیں جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں تو تم ان سے جھگڑا نہ کرو یعنی تکذیب نہ کرو ‘ ہاں ان میں سے جو لوگ بیجا باتیں کہیں اور ایسی باتوں کا اظہار کریں جو یقیناً (ان کی اصل) کتابوں میں نہیں ہیں اور جھوٹی ہیں جیسے ان کا دعویٰ کہ شریعت موسیٰ ہمیشہ رہے گی ‘ یا عیسیٰ کو قتل کردیا گیا ‘ یا مسیح خدا کے بیٹے تھے تو اس صورت میں ان کو جھوٹا قرار دینا واجب ہے اور مباہلہ ضروری ہے۔ ان سے کہہ دو کہ ہم اپنی اور تمہارے پاس بھیجی گئی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں (تمہاری ان غلط باتوں کو نہیں مانتے) ۔ والھنا والھکم واحد ونحن لہ مسلمون . اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے اطاعت گزار ہیں۔ اس میں تعریض ہے اس امر کی کہ اہل کتاب نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا رکھا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ اہل کتاب (یعنی یہودی) عبرانی میں توریت پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے سامنے اس کی تشریح عربی میں کرتے تھے ‘ اس لئے رسول اللہ نے فرمایا : تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو ‘ نہ تکذیب اور کہو ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر جو تمہاری طرف اتاری گئی الخ۔ رواہ البخاری۔ حضرت ابو نملہ انصاری کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک یہودی آیا اور اسی وقت ایک جنازہ بھی ادھر سے گزرا۔ یہودی نے کہا : محمد ! یہ میت کیا کلام کرتی ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم۔ یہودی بولا : یہ کلام کرتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ نے (صحابہ سے) فرمایا : اہل کتاب اگر تم سے کچھ بیان کریں (اور وہ تمہارے دین کے خلاف نہ ہو) تو تم نہ ان کی تصدیق کرو ‘ نہ تکذیب اور کہو اٰمَنَّا بِ اللہ ِ وَکُتُبہٖ وَرُسُلِہٖ (ہمارا ایمان اللہ پر اور اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبروں پر ہے) اب اگر وہ بات صحیح ہے تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی (اس لئے مجرم نہ ہو گے) اور اگر وہ بات غلط ہے تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی (اس لئے مجرم نہ ہو گے) ۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

وکذلک انزلنا الیک الکتب . اور ایسے ہی ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری یعنی جس طرح آپ سے پہلے کتابیں نازل کہیں ‘ اسی طرح آپ پر بھی کتاب نازل کی جو بذریعہ وحی آپ کے پاس پہنچی اور جو پچھلی ساری کتب الٰہیہ کو سچا بتاتی ہے۔ فالذین اتینھم الکتب یؤمنون بہ . پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان لوگوں سے مراد ہیں حضرت عبد اللہ بن سلام اور دوسرے لوگ جو قرآن پر ایمان لے آئے تھے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن کو ہم کے کتاب دی وہ بعثت رسول اللہ سے پہلے اس کتاب پر ایمان رکھتے تھے۔ ومن ھؤلآ من یؤمن بہ وما یحجد بایتنا الا الکفرون . اور ان میں سے (یعنی مکہ والوں میں سے ‘ یا عرب میں سے ‘ یا ان اہل کتاب میں سے جو رسول اللہ کے زمانہ میں موجود تھے) کچھ لوگ وہ ہیں جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔ یعنی صرف وہ لوگ انکار کرتے ہیں جو اللہ کے اور اللہ کی ساری کتابوں کے منکر ہیں کیونکہ قرآن کی جو شخص تکذیب کرتا ہے وہ حقیقت میں توریت و انجیل کی بھی تکذیب کرتا ہے ‘ اس لئے کہ توریت و انجیل نے قرآن کی تصدیق کی ہے۔ پس جو شخص قرآن کا منکر ہے اور توریت پر ایمان رکھنے کا مدعی ہے ‘ اس کا دعویٰ غلط ہے۔ قتادہ نے کہا : جحود پہچاننے کے بعد ہوتا ہے۔ اہل کتاب جانتے تھے کہ رسول اللہ سچے نبی ہیں اور قرآن حق ہے اس کے بعد انہوں نے انکار کیا ‘ یہ جحود ہوگیا۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے

وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا الارتاب المبطلون آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے ‘ نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت باطل پرست (یہ کافر) شک میں پڑجاتے۔ مِنْ قَبْلِہٖ اس کتاب کے نزول سے پہلے۔ بِیَمِیْنِکَ اپنے سیدھے ہاتھ سے۔ لکھنا تو ہاتھ سے ہی ہوتا ہے پھر اس لفظ کی صراحت بتارہی ہے کہ مجازی معنی اس جگہ مراد نہیں ہے (لکھنے سے مراد ہے کبھی لکھوانا بھی مجازاً ہوتا ہے۔ ایک بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو لکھا ‘ یعنی اپنے وزیر پیشی سے لکھوایا) یمین کے لفظ سے عدم تحریر کی زیادہ تصور کشی ہے (بائیں ہاتھ سے تو شاید کوئی لکھ لیتا ہو ‘ دایاں ہاتھ ہی عام طور پر لکھنے کے کام آتا ہے) ۔ اِذًا یعنی اگر گزشتہ کتابوں کو پڑھ لکھ سکتے۔ تو مُبْطِلُوْنَ یعنی اہل مکہ شک میں پڑجاتے کہ شاید آپ نے متقدین کی کتابوں سے انتخاب کرلیا ہو۔ قتادہ نے یہی تفسیری مطلب بیان کیا ہے۔ کافروں کو اہل باطل کفر کی یا شک میں پڑنے کی وجہ سے کہا۔ بکثرت معجزات کی موجودگی میں کوئی وجہ نہ تھی کہ کفر میں یا شک میں پڑتے۔ مقاتل نے کہا کہ مُبْطِلُوْنَ سے مراد ہیں اہل کتاب یعنی اہل کتاب چونکہ اپنی کتاب میں نبی آخرالزمان کی صفت اُمّی پاتے ہیں اس لئے ان کو کوئی شک نہ تھا۔ اس مطلب پر اہل کتاب کا مبطل ہونا واقعی ہے کیونکہ رسول اللہ اُمّی تھے اور ان کی کتابوں میں آخری نبی کا اُمّی ہونا ہی لکھا ہے۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

بل ھو اٰیٰت بینٰت فی صدور الذین اوتو العلم یہ قرآن رسول کا خود تراشیدہ اور خود مکتوبہ نہیں ہے بلکہ کھلی ہوئی آیات ہیں جو خود اپنی سچائی پر دلالت کر رہی ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا کیا گیا ہے۔ یعنی اہل ایمان کے دلوں میں جو قرآن کے عامل اور حافظ ہیں ‘ کوئی بھی ان آیات میں تغیر نہیں کرسکتا۔ قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی آیات کھلے ہوئے معجزات ہیں اور ہر تحریف و تبدیل سے محفوظ ہیں ‘ اللہ نے خود فرما دیا ہے : وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ پھر یہ قرآن اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ ہے ‘ اہل ایمان اس کے حافظ ہیں۔ اس کے برخلاف دوسری آسمانی کتابیں چونکہ معجزہ نہ تھیں اس لئے لوگوں نے ان کی آیات و الفاظ کو تبدیل کردیا تھا اور ان کو یاد سے نہیں پڑھا جاتا تھا بلکہ کتاب میں دیکھ کر پڑھا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ھُوَ سے مراد ہے رسول اللہ کی ذات اور اَلَّذِیْن اُوْتُوْ الْعَلْمِ سے مراد ہیں اہل کتاب۔ یعنی رسول اللہ کی شخصیت انہی واضح علامات کی حامل ہے جو اہل کتاب کے سینوں میں محفوظ ہیں یعنی رسول اللہ کے جو اوصاف ان کتابوں میں مذکور ہیں اور اہل کتاب ان سے واقف ہیں ‘ وہ اوصاف رسول اللہ کی شخصیت میں موجود ہیں۔ وما یجحد باٰیٰتنا الا الظلمون اور ہماری آیات کا انکار صرف ظالم ہی کرتے ہیں۔ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو بے محل رکھ دینا۔ آیات الٰہیہ ایک ایسا کھلا ہوا معجزہ ہیں جو اپنے الفاظ اور معانی کی سچائی واضح طور پر بتارہا ہے۔ ایسے کھلے ہوئے معجزہ کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے جو بےجا کوش اور جھگڑا لو ہو۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

وقالو لولا انزلہ علیہ ایت من ربہ اور انہوں نے کہا کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے معجزات کیوں نہیں اتارے گئے۔ یعنی ایسے محسوس معجزات کا نزول ان پر کیوں نہیں ہوا جیسے پچھلے انبیاء پر ہوا تھا۔ مثلاً حضرت صالح کی اونٹنی ‘ حضرت موسیٰ کی لاٹھی اور حضرت عیسیٰ کا آسمانی خوان۔ قل انما الایت عندا اللہ آپ کہہ دیجئے کہ سارے معجزات تو اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی اس کی قدرت میں ہیں ‘ اس کے ارادہ سے وابستہ ہیں۔ میرے قبضہ میں نہیں ہیں کہ تمہاری فرمائش کے مطابق پیش کر دوں۔ وانمآ انا نذیر مبین . اور میں تو صرف واضح طور پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میرا کام صرف مخالفت اور عذاب سے ڈرانا اور ان معجزات کو ظاہر کرنا ہے جو مجھے عطا کئے گئے ہیں۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا اُن لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیھم کیا یہ لوگ مزید معجزات طلب کرتے ہیں ؟ ان کے لئے یہ بات کافی ہے کہ (باوجود آپ کے اُمّی ہونے کے) ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے۔ اَوَ ہمزہ انکار اور زجر کے لئے یعنی کیا ان کے لئے نزول کتاب کافی نہیں ہے کہ کسی اور معجزہ کے طلب گار ہیں۔ حالانکہ یہ معجزہ اتنا قوی ہے کہ اس کی موجودگی میں دوسرے معجزات کی ضرورت نہیں ہے۔ اَلْکِتٰبَ یعنی ہم نے یہ کتاب نازل کی جو معجزہ بھی ہے اور تمام اعلیٰ علوم کو حاوی بھی ہے اور امور دینیہ میں پچھلی کتابوں کے موافق بھی ہے۔ لَمْ یَقتَرِ بزمَانٍ وَھِی تُخْبِرنَا عَنِ المَعَادِ وعَنْ عَادٍ وعَن اِرَمٍ دَامَتْ لَدَینَا وَفَاقَتْ کُلُّ مُعْجزَۃٍ مِنْ النَّبِیِّین اذجَاءَ تْ وَلَمْ تَدْمٍ رسول اللہ ﷺ اس سابق زمانہ میں نہیں تھے ‘ کتاب اللہ کی آیات ہی ہم کو قیامت کے متعلق اور قوم عاد و ارم کے متعلق خبر دے رہی ہیں۔ یہ آیات ہمارے پاس ہمیشہ سے موجود ہیں (یعنی وقت نزول سے اب تک موجود ہیں) اور پیغمبروں کے ہر معجزہ سے اعلیٰ وبالا ہیں کیونکہ یہ آیات کا معجزہ لازوال ہے۔ اور پیغمبروں کا کوئی معجزہ باقی نہیں رہا۔ ان فی ذلک لرحمۃً وذکرٰی لقومٍ یؤمنون اس میں بلاشبہ بڑی نعمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ فِیْ ذٰلِکَ اس میں یعنی قرآن میں جو کھلا ہوا دوامی معجزہ ہے۔ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ یعنی ان لوگوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے جن کا مقصد ایمان لانا ہے ‘ ہٹ دھرمی اور ضد مقصود نہیں ہے۔ مسند میں دارمی نے اور ابو داؤد نے مراسیل میں اور ابن جریر و ابن ابی حاتم نے بطریق عمرو بن دینار یحییٰ بن جعدہ کی روایت سے مرسلاً بیان کیا ہے کہ کچھ مسلمان شانہ کی ایک ہڈی لے کر آئے جس میں یہودیوں سے سنی ہوئی کچھ باتیں لکھی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کے گمراہ ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ جو کچھ ان کا نبی لے کر آیا ہو اس سے تو گریز کریں اور دوسروں کے لئے جو دوسرے انبیاء لے کر آئے ہوں اس کی طرف راغب ہوجائیں۔ اس پر آیت اَوَلَمْ یَکْفِھِمْ اَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْھِمْ نازل ہوئی۔ روایت میں آیا ہے کہ کعب بن اشرف نے کہا : محمد ! تمہارے رسول خدا ہونے کا کون شاہد ہے ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں

قل کفی باللہ بینی وبینکم شھیدًا یعلم ما فی السمٰوٰت والارض . آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ کافی ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ سب سے وہ واقف ہے۔ یعنی اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ والذین اٰمنوا بالباطل وکفروا باللہ اولئک ھم الخسرون اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا ‘ وہی لوگ تجارت میں گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ کہ انہوں نے حق کو چھوڑا ‘ باطل کو پسند کیا ‘ دوزخ کو جنت کے عوض خریدا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اَلْبَاطِلِ (سے مراد ہے) غیر اللہ یعنی وہ اللہ کے سوا دوسروں پر ایمان لائے۔ مقاتل نے کہا : یعنی شیطان کی پوجا کی۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا

ویستعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمیً لجاء ھم العذاب ولیاتینھم بغتۃً وھم لایشعرون اور یہ آپ سے عذاب جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر مدت معین نہ ہوتی تو عذاب ان پر آ چکتا۔ ان پر عذاب ضرور اچانک آئے گا اور ان کو پتہ بھی نہ ہوگا۔ نضر بن حارث نے کہا تھا : اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اے خدا ! اگر تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر اوپر سے پتھروں کی بارش کر دے۔ اس کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ اَجَلٌ مُّسَمّٰی کی تشریح میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ اگر آپ سے میرا وعدہ وہ وعدہ نہ ہوتا کہ آپ کی قوم کو عذاب نہیں دوں گا اور ان کی جڑ نہیں اکھاڑوں گا بلکہ قیامت تک کے لئے ان کے عذاب کو ملتوی رکھوں گا تو عذاب آ چکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے عذاب کے لئے مقرر ہے۔ ضحاک نے کہا : اَجَلٌ مُّسَمّٰی سے مدت عمر مراد ہے۔ جب وہ مرجائیں گے تو عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ بعض لوگوں نے کہا : جنگ بدر مراد ہے۔ لَجَآءَ ھُمُ الْعَذَاب یعنی ان پر عذاب فوراً آجاتا۔ لَیَاْتِیَنَّھُمْ کی ضمیر عذاب کی طرف راجع ہے یا اَجَل کی طرف۔ بَغْتَۃً ناگہاں۔ یعنی دنیا میں اچانک آجاتا۔ جیسے بدر کا واقعہ ہوا یا آخرت میں یعنی مرنے کے وقت۔ لَا یَشْعُرُوْنَ یعنی عذاب کے آنے کا ان کو پتہ بھی نہ ہوتا۔
Ayah 29:54

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کررہے ہیں۔ اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یستعجلونک بالعذاب اور وہ عذاب جلد آجانے کی آپ سے درخواست کرتے ہیں۔ اس جملہ کا دوبارہ ذکر تاکید کے لئے ہے۔ وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرنے والی ہے۔ یعنی جس روز عذاب آئے گا اس روز جہنم کافروں کو گھیر لے گی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس وقت بھی کافروں کو جہنم گویا گھیرے ہوئے ہے کیونکہ کفر اور معاصی ان کو گھیرے ہوئے ہیں اور یہ داخلہ جہنم کے موجبات ہیں تو گویا اس وقت بھی دوزخ ان کو گھیرے ہوئے ہے۔ اَلْکَافِرِیْنَ میں الف لام عہدی ہے اور بجائے ضمیر کے لفظ اَلْکَافِرِیْنَ کو صراحت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا تاکہ موجب احاطہ معلوم ہوجائے۔ یا الف لام جنسی ہے اور عام جنس کا حکم بیان کرکے خاص کافروں کے حکم پر استدلال کیا ہے (کیونکہ خاص اگر مخصوص الحکم نہ ہو تو عام کے ذیل میں آجاتا ہے ‘ مترجم) ۔
Ayah 29:55

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب اُن کو اُن کے اُوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) اُن کا مزہ چکھو

یوم یغشٰھم العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم جس روز کہ عذاب اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے ان کو گھیر لے گا یعنی ہر طرف سے احاطہ کرلے گا۔ ویقول . اور (ا اللہ یا اللہ کے حکم سے کوئی فرشتہ) کہے گا۔ ذوقوا ما کنتم تعلمون . جو کچھ تم کرتے تھے اس (سزا) کا مزہ چکھو۔
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون . اے میرے ایمان دار بندو ! میری زمین فراخ ہے سو خاص میری ہی عبادت کرو۔ اِیَّای فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی اُعْبُدُوْا اِیَّای اور فاعْبُدُوْن اس کی تاکید ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : اس آیت کا نزول ان کمزور مسلمانوں کے حق میں ہوا جو (کمزوری کی وجہ سے) مکہ میں رہ گئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ مکہ کے اندر رہ کر اگر تم ایمان کا اظہار نہیں کرسکتے ہو تو وطن چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی کے ساتھ اظہار ایمان کرسکتے ہو جیسے مدینہ وغیرہ کیونکہ میری زمین تنگ نہیں ہے۔ مجاہد نے کہا : میری زمین وسیع ہے ‘ ترک وطن کر کے چلے جاؤ اور وہاں پہنچ کر جہاد کرو۔ سعید بن جبیر نے کہا : جب کسی بستی میں گناہ کئے جاتے ہوں تو وہاں سے نکل جاؤ ‘ میری زمین وسیع ہے۔ عطا نے کہا : جب تم کو اپنی سرزمین میں گناہوں کا حکم دیا جاتا ہو تو وہاں سے بھاگ جاؤ ‘ میری زمین وسیع ہے۔ اگر کوئی ایسی بستی میں ہو جہاں گناہ کئے جاتے ہوں اور گناہوں سے بندش ممکن نہ ہو تو اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام پر چلا جانا واجب ہے جہاں اللہ کی عبادت کی تیاری کی جاسکے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی ‘ مکہ میں ہی رہ گئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم ہجرت کر جائیں تو بھوکے مرجانے کا خوف ہے (پردیش میں بھوکے مرجائیں گے) اللہ نے ان کا یہ عذر قبول نہیں فرمایا۔ مطرف بن عبد اللہ نے کہا : زمین فراخ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ میرا رزق وسیع ہے ‘ تم وطن چھوڑ دو (تمام کو رزق میں دوں گا) رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو کسی زمین سے اپنے دین کو لے کر دوسری زمین کی طرف بھاگا ‘ خواہ وہ ایک ہی بالشت بھاگ سکا ہو تب بھی جنت کا مستحق ہوگیا اور محمد ﷺ و ابراہیم کا رفیق (ساتھی) ہوگیا۔ رواہ الثعلبی من حدیث الحسن مرسلاً ۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

کل نفس ذآئقۃ الموت . ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یعنی جس طرح چکھنے والا کسی چیز کا مزہ چکھتا ہے ‘ اسی طرح موت کی تلخی اور تکلیف ہر شخص پائے گا۔ لہٰذا تم موت کے خوف سے شر کے مقام میں پڑے نہ رہو بلکہ اللہ کی عبادت کر کے موت کی تیاری کرو۔ ثم الینا ترجعون . پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ یعنی ہم تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے اس لئے تم اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ‘ اس کی جزاء ہم تم کو عنایت کریں گے۔
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو ہم بہشت کے اُونچے اُونچے محلوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلہ ہے

والذین امنوا وعملوا الصلحت لنبوئنھم من الجنۃ غرفًا . اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ‘ ہم ان کو جنت کے بلند وبالا محلوں میں ٹھکانہ دیں گے۔ تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا . جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ نعم اجر العلمین یہ بہت اچھا اجر ہے ان باعمل لوگوں کا
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون . جنہوں نے کافروں کی اذیت رسانی ‘ ہجرت اور دوسری تکلیفوں اور مصیبتوں پر محض اللہ کی خوشنودی کے لئے صبر کیا اور اپنے رب پر ہی وہ اعتماد رکھتے ہیں۔ یعنی اس بات پر ان کا اعتماد ہے کہ اللہ ان راستوں سے رزق پہنچائے گا جو ان کے گمان میں بھی نہ ہوں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ مؤمن مکہ میں رہ گئے تھے ‘ رسول اللہ نے ان کو حکم دیا کہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاؤ۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ وہاں نہ ہمارا گھر ہے ‘ نہ مال ہے ‘ ہمارے کھانے پینے کا انتظام وہاں کون کرے گا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وکاین من دابۃٍ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم . اور کتنے ہی جانور اپنی روزی اپنے اوپر اٹھانے نہیں پھرتے ‘ اللہ ہی ان کو بھی روزی دیتا ہے اور تم کو بھی۔ یعنی بہت سے چوپائے اور پرندے جو غذا کے محتاج ہیں اپنے ساتھ اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اور نہ کل کے لئے جمع کرتے ہیں۔ سفیان بن علی بن ارقم نے کہا : سوائے انسان اور چوہے اور چیونٹی کے اور کوئی مخلوق روزی جمع کرکے نہیں رکھتی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ چوپائے اور پرندے جو کمزور ہیں اور اپنی روزی جمع کر کے نہیں رکھتے ‘ ان کو بھی اللہ ہی روزی دیتا ہے اور تم طاقتور ہو ‘ رزق جمع کر کے رکھتے ہو ‘ اللہ ہی تم کو بھی روزی دیتا ہے۔ روزی ملنے کے معاملہ میں تم اور جانور سب برابر ہو۔ تم بھی رزق کھا کر جیتے ہو ‘ وہ بھی جہتے ہیں۔ تم بھی آخر مرجاتے ہو ‘ وہ بھی مرجاتے ہیں۔ پھر تمہاری کوشش بےکار ہے اس لئے ہجرت کرنے کی صورت میں معاش کی طرف سے تم کوئی اندیشہ نہ کرو۔ وھو السمیع العلیم . اور وہی سننے والا ‘ جاننے والا ہے۔ تمہاری باتوں کو سنتا ہے ‘ اس نے تمہارا یہ کلام سن لیا کہ ہجرت کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے۔ وہ واقف ہے کہ تمہارے دلوں کے اندر یقین و ایمان کا ضعف ہے۔ عبد بن حمید ‘ ابن ابی حاتم ‘ بیہقی اور ابن عساکر نے ضعیف سند سے نیز بغوی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت ابن عمر نے فرمایا : میں رسول اللہ کے ساتھ انصار کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا۔ رسول اللہ اپنے ہاتھ سے کھجوریں (تازہ خرمے) چن چن کر کھانے لگے اور فرمایا : ابن عمر ! تم بھی کھاؤ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے خواہش نہیں ہے۔ فرمایا : مجھے تو کھانے کی خواہش ہے۔ یہ چوتھی رات کی صبح ہے ‘ چار دن ہوگئے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا ‘ نہ مجھے ملا۔ میں نے کہا : اِنَّا لِلّٰہِ الْمُسْتَعَان۔ فرمایا : ابن عمر ! اگر میں اپنے رب سے مانگتا تو وہ مجھے کسریٰ اور قیصر کے ملک سے بھی کتنے ہی گنا زیادہ عنایت فرما دیتا لیکن میں ایک دن بھوکا رہتا ہوں اور ایک دن پیٹ بھرتا ہوں (یعنی ایک روز کھانا کھاتا ہوں) ابن عمر ! اگر تمہاری عمر ہوئی تو اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم ایسے لوگوں میں رہو گے جو سال بھر کا رزق چھپا کر رکھیں گے اور ان (کو اللہ کے رزاق ہونے) کا یقین کمزور ہوگا۔ حضرت ابن عمر کا بیان ہے : وا اللہ ! ہم وہاں سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ ہٹنے کا ارادہ کیا تھا کہ آیت وکاین من دابۃ الخ نازل ہوئی۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ دوسرے دن کے لئے کچھ جمع کر کے نہیں رکھتے تھے۔ رواہ الترمذی وصححہ۔ حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ فرما رہے تھے : اگر تم اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھتے تو تم کو اسی طرح رزق عطا فرماتا جس طرح پرندوں کو عطا فرماتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ حضرت ابن مسعود روای ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کوئی چیز تم کو جنت سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے دور رکھنے والی ایسی نہیں رہی کہ میں نے اس کو کرنے کا تم کو حکم نہ دے دیا ہو اور کوئی چیز دوزخ سے قریب کرنے والی اور جنت سے دور رکھنے والی ایسی نہیں رہی کہ اس کو کرنے کی تم کو ممانعت نہ کردی ہو۔ روح القدس (جبرئیل) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنا رزق پورا نہ کرلے گا ‘ ہرگز نہیں مرے گا۔ پس تم لوگ متنبہ ہوجاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور رزق کی طلب میں اچھائی اختیار کرو (یعنی پاک ذرائع سے کماؤ) رزق ملنے میں دیر ہوجانے سے تم کو گناہوں کے راستہ سے تحصیل رزق پر آمادہ نہ ہوجانا چاہئے کیونکہ اللہ کے پاس جو چیز ہے اس کو بغیر ان کی طاعت کے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ وذکرہ فی المعالم۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں

ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ . اور اگر آپ ان اہل مکہ سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے زبردستی کام پر لگایا تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ نے (ہی ایسا کیا ہے) یعنی وہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور چاند اور سوج کو کام میں لگایا ہے کیونکہ ہر عقل سلیم کی طرف فطری شہادت ہے کہ سلسلۂ ممکنات (کا ابتدائی کنارا) واجب الوجود ہستی پر ختم ہوتا ہے (ممکن ہستی جس کا اپنا وجود اپنا نہیں ‘ دوسرے ممکن کو وجود نہیں عطا کرسکتی اس لئے ہر ممکن کی علت موجدہ وہی ہستی ہے جو واجب الوجود ہے۔ جانب مبدء میں ممکنات کا غیرمتناہی سلسلہ ہونا محال ہے ‘ مترجم) ۔ فانی یؤفکون . پھر وہ کہاں پھرے جا رہے ہیں یعنی ان کے رب اور خالق ہونے کا اقرار کرتے ہوئے پھر توحید سے کس طرح ان کا رخ پھیرا جاسکتا ہے (حضرت مفسر نے اَنّٰی کی تفسیر لفظ کَیْفَ سے کی ہے ‘ مترجم) ۔
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ اللہ اللہ بکل شیء علیم . اللہ اپنے بندوں میں جس کا رزق (فراخ کرنا) چاہتا ہے ‘ فراخ کردیتا ہے اور (جس کا رزق تنگ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کا رزق) نپاتلا کردیتا ہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یہ بھی ترجمہ (حسب قول مفسر) ہوسکتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے ‘ رزق کبھی فراخ اور کبھی تنگ کردیتا ہے۔ ا اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے یعنی ہر چیز کی خوبیاں اور خرابیاں خوب جانتا ہے۔ حضرت انس کی روایت سے ایک طویل حدیث بغوی نے ذکر کی ہے جس کو ہم سورة شوریٰ میں بیان کریں گے ‘ اس حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے کچھ مؤمن بندے مجھ سے باب عبادت میں داخلہ کی دعا کرتے ہیں مگر میں باب عبادت میں داخل ہونے سے ان کو روک دیتا ہوں تاکہ ان میں اس سے غرور نہ آجائے جو ان کو تباہ کر دے۔ میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ دولت ہی ان کے ایمان کو درست رکھتی ہے ‘ اگر میں ان کو مفلس کر دوں تو افلاس ان کے ایمان کو بگاڑ دے اور میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو سنبھالے رکھنے والا صرف افلاس ہوتا ہے ‘ اگر میں ان کو دولت مند بنا دوں تو دولت ان کے ایمان کو بگاڑ دے اور میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ تندرست ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھنے والی ہے ‘ اگر میں ان کو بیمار کر دوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑ دے اور میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کی درستی صرف بیماری سے ہوتی ہے ‘ اگر میں ان کو تندرست کر دوں تو صحت ان کے ایمان کو بگاڑ دے۔ میں بندوں کے دلوں کی حالت جانتا ہوں اور اسی علم کے مطابق اپنے بندوں کا انتظام کرتا ہوں۔ بلاشبہ میں جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض من بعد موتھا لیقولن اللہ . اور اگر آپ ان (اہل مکہ) سے دریافت کریں کہ اوپر سے پانی کون اتارتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد پانی سے زندہ کون کرتا ہے تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ ہی ایسا کرتا ہے۔ یعنی اہل مکہ مقر ہیں کہ تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ موجودات بسیط ہوں یا عناصر کے مرکبات ‘ اصول ہوں یا فروع سب کا موجد اللہ ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی نہیں لیکن اس اقرار کے باوجود اللہ کی عبادت میں ایسی مخلوق کو شریک کرتے ہیں جو کچھ بھی اختیار نہیں رکھتی۔ قل الحمد اللہ آپ کہہ دیجئے : اللہ کا شکر ہے۔ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے آپ کو مشرکوں کی گمراہی سے محفوظ رکھا ہے ‘ یا اللہ کا شکر ہے کہ (کافر اس بات میں) آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ کی دلیل کو اللہ نے غالب کردیا ہے۔ بل اکثرھم لا یعقلون . بلکہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں کہ ان کا عمل کتنا برا ہے اور ان کے اپنے ہی اقوال میں اختلاف ہے۔ اللہ کو ہر چیز کا موجد بھی کہتے ہیں اور پھر اس کی عبادت میں پست ترین مخلوق کو شریک بھی بناتے ہیں۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے

وما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان . اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی مگر جی کا بہلاؤ اور کھیل اور دار آخرت ہی دارحیات ہے۔ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا یعن یہ حقیر دنیا (اسم اشارہ قریب کے لئے مفید تحقیر ہے) ۔ لَھْوٌ ہر شئے جو کسی مفید چیز سے باز رکھے (اور دل کو بہلا کر اپنی طرف مائل کرلے ‘ مترجم) ۔ دنیا میں مشغولیت آدمی کو ان چیزوں سے روک دیتی ہے جو ابدی زندگی میں کام آنے والی ہیں۔ لَعِبٌ بےکار ‘ کھیل۔ دنیا کو دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ فناپذیر اور قریب زوال ہے۔ ا اللہ کی ساری عبادتیں اور فرماں برداریاں دنیا میں شامل نہیں ‘ ان کا شمار تو امور آخرت میں ہے کیونکہ ان کا نتیجہ اور پھل آخرت میں حاصل ہوگا۔ حَیَوَان مصدر ہے ‘ اصل میں حَیَیَان تھا۔ حیات کے لفظ سے حیوان کا لفظ اپنے مفہوم یعنی حرکت پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔ لو کانوا یعلمون . اگر وہ جانتے ہوتے۔ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت لازوال ہے تو دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے (شرط کی جزا محذوف ہے ‘ مترجم) ۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں

فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الذین . (وہ باوجود یہ کہ شرک کرتے ہیں اور اہل توحید سے عناد رکھتے ہیں لیکن) جب کشی میں سوار ہوتے ہیں (اور ڈوبنے کا خطرہ ہوجاتا ہے) تو اللہ کو پکارتے ہیں خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے۔ یعنی جیسے مؤمن خالص طور پر اللہ کی ہی اطاعت کرتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا اسی طرح مشرک بھی ڈوبنے کے خطرہ کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اس مصیبت سے ان کو نہیں بچا سکتا ‘ اس وقت عبادت و اطاعت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔ فلما نجنھم الی البر اذا ھم یشرکون . لیکن جب اللہ ان کو مصیبت سے بچا کر خشکی تک لے جاتا ہے تو پھر وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ یک دم شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ دور جاہلیت والے جب سمندر میں سفر کرتے تھے تو اپنے بتوں کو ساتھ رکھتے تھے لیکن جب ہوا میں طوفان آجاتا تھا تو بتوں کو سمندر میں پھینک دیتے تھے اور پکارتے تھے : اے رب ! اے رب ! مطلب یہ کہ سخت مصائب کے وقت تو خالص طور پر دل سے اللہ کے اطاعت گزار ہوجاتے تھے اور شرک چھوڑ دیتے تھے اور نجات پا جاتے تو شرک کی طرف لوٹ آتے تھے۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے اُن کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب اُن کو معلوم ہوجائے گا

لیکفروا بما اتینھم . ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے (اب تو) وہ اس کا انکار کرتے رہیں۔ یہ امر بمعنی تہدید (کفر کا حکم دینا مقصود نہیں ہے بلکہ کفر کے برے نتیجہ سے ڈرانا مقصود ہے) جیسے اِعْمَلُوْا مَاشِءْتُمْ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ جو کچھ چاہو کرو میں تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو وہ اللہ کے اس احسان کا انکار کردیں کہ اللہ نے ان کو ڈوبنے سے بچا لیا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک لِیَکْفُرُوْا میں لام کا معنی ہے تاکہ (یعنی یہ لام بمعنی کَےْ ہے اور کَے کا معنی ہے تاکہ) یعنی وہ شرک اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ نے جو ان کو ڈوبنے سے نجات دے دی ‘ اس کا انکار کردیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ شرک کا نتیجہ صرف یہ ہے کہ اللہ کی نعمت کا انکار کردیں اور فوری طور پر اس دنیا میں کچھ تمتع اندوز ہوجائیں ‘ آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برخلاف محض اہل ایمان کی حالت ہے کہ اللہ جب ان کو نجات عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور نجات کو مزید طاعت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ولیتمتمعوا . اور (کچھ عارضی) مزے اڑا لیں۔ فسوف یعلمون . لیکن کچھ مدت کے بعد ان کو (اس کا برا انجام) معلوم ہوجائے گا۔