Ayah 22:54ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیومنوا بہ فتخبت لہ قلوبہم
اور تاکہ جن لوگوں کو فہم (صحیح) عطا ہوا ہے وہ زیادہ یقین کرلیں کہ یہ (جو نبی نے پڑھا ہے) بلاشک و شبہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے اور اس یقین کی وجہ سے ایمان پر (اور زیادہ) قائم ہوجائیں پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جائیں۔
لِیَعْلَمَ کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی ہم نے جو شیطان کو القاء کی قدرت عطا فرمائی پھر القاء شیطانی کو نابود کردیا اور اپنی آیات کو مضبوط کردیا اس کی دو وجوہ ہیں ایک سبب تو یہ ہے کہ القاء شیطانی کو بیمار دل والے منافقوں اور مشرکوں کے لئے فتنہ بنا دینا مقصود ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اہل علم کے علم میں ایمانی پختگی پیدا کرنا مقصود ہے تاکہ بلاشک و شبہ وہ یقین کرلیں کہ یہ حق ہے اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے اور اس مستحکم ایمان کے بعد ان کے دل اللہ کی طرف عاجزی کے ساتھ اور جھک جائیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لیعجل اور لیعلم میں لام عاقبت کا ہو یعنی اللہ کے اس فعل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کافروں کے لئے فتنہ اور اہل ایمان کے لئے استحکام ایمان ہوجائے گا۔ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے۔ فَالْتَقَطَہٗ اٰلَ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًاموسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعون کے گھر والوں نے پا لیا ‘ تاکہ مآل کار یہ نتیجہ نکلے کہ موسیٰ ان کے دشمن اور موجب رنج ہوجائیں۔
اُوْتُوا الْعِلْمَسے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے احکام سے واقف ہیں۔ سدی نے کہا باطل اور القاء شیطانی کو نابود کردینے کی جو لوگ تصدیق کرتے ہیں وہ مراد ہیں۔
اِنَّہٗیعنی جن آیات کو اللہ نے محکم اور مضبوط کردیا ہے وہ حق ہیں ‘ یا شیطان کو انسان کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی طاقت دینا حق ہے حضرت آدم کی تخلیق کے وقت سے دستور خداوندی یہی رہا ہے۔
فَیُؤْمِنُوْا بِہٖپس وہ قرآن پر (مزید پختہ) ایمان رکھیں اور دل میں گرہ باندھ لیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ وہ اللہ پر (مستحکم ترین) یقین کرلیں۔ فَیُؤْمِنُوْا بِہٖ پر فلانا اور یعلم پر اس کا عطف کرنا اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف جان لینے کا نام ایمان نہیں ہے بلکہ ایمان صرف عطاء الٰہی اور موہبت خداوندی ہے جو اکثر اہل علم کو علم کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
فَتُخْبِتَ پس عاجزی کریں یعنی ان کے دلوں میں خشیت پیدا ہوجائے اور وہ مطیع حکم ہوجائیں اور ان کے دلوں میں اطمینان و سکون کی کیفیت پیدا ہوجائے۔
وان اللہ لہاد الذین امنوا الی صراط مستقیم۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ایمان والوں کو اللہ ہی راہ راستہ دکھاتا ہے۔
صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ یعنی اسلام کا سیدھا راستہ اور صحیح اعتقاد۔ مراد یہ ہے کہ شبہات کے موقع پر جب سیدھا راستہ مشتبہ ہوجاتا ہے تو اللہ ہی اہل ایمان کو سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔
Ayah 22:55ولا یزال الذین کفروا فی مربۃ منہ حتی تاتیہم الساعۃ بغتۃ او یاتیہم عذاب یوم عقیم
اور کافر لوگ اس (پڑھے ہوئے حکم) کی طرف سے برابر شک میں ہی پڑے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ ان پر اچانک مقررہ ساعت آجائے یا بےبرکت دن (یعنی روز قیامت) کا عذاب (اللہ کی طرف سے) ان پر آجائے۔
مِرْیَۃٍ شک مِنْہُ قرآن یا رسول یا اہل ایمان کی طرف سے ان کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے یا رسول اللہ ﷺ کے خیال میں القاء شیطانی سے جو کچھ وسوسہ پیدا ہوتا ہے اس سے کافروں کے دل شک میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے پہلے تو بتوں کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کیا پھر لوٹ گئے۔
السَّاعۃُموت کا وقت اور یوم عقیم سے مراد ہے قیامت کا دن۔ عکرمہ اور ضحاک نے یوم عقیم کی تشریح میں فرمایا ایسا دن جس کی رات نہ ہوگی (یعنی روز قیامت) بعض کے نزدیک الساعۃ سے مراد روز قیامت اور یوم عقیم سے مراد بدر کا دن ہے کیونکہ اس روز کافروں کو کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔
لغت میں عقیم بمعنی ممنوع آتا ہے ریح عقیم بغیر بارش کی ہوا یہ بھی ممکن ہے کہ الساعۃ اور یوم عقیم دونوں سے مراد قیامت کا دن ہو۔ ہولناکی کی تصویر کشی کے لئے دوبارہ یوم عقیم کہا گیا ہو 1 ۔
Ayah 22:56الملک یومئذ للہ یحکم بینہم (جس روز کافروں کا شک دور ہوجائے گا) اس روز حکومت صرف اللہ کی ہوگی وہی ان کے درمیان بصورت جزا و سزا (عملی) فیصلہ کر دے گا۔
فالذین امنوا عملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ پس جن لوگوں نے مان لیا اور نیک کام کئے وہ عیش کے باغوں میں ہوں گے
Ayah 22:57والذین کفروا وکذبوا بایتنا والئک لہم عذاب مہین۔ اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھوٹا قرار دیا سو انہیں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔
فَاُولءِکَمیںکا استعمال بتارہا ہے کہ مؤمنوں کا جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا (اعمال داخلہ کے موجب نہیں ہیں) اور کافروں کا جہنم میں داخلہ ان کے اعمال کی وجہ سے ہوگا (کافروں کے اعمال موجب عذاب ہیں) اسی لئے لَہُمْ عَذَابٌ (خاص طور پر انہی کے لئے عذاب ہوگا) فرمایا ہُمْ فِیْ عَذَابٍ (وہ عذاب میں ہوں گے) نہیں فرمایا (اور اہل جنت کے متعلق فرمایا ‘ وہ عیش کے باغوں میں ہوں گے یعنی اللہ کی مہربانی سے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا آپ کے اعمال بھی (موجب نجات نہ ہوں گے) فرمایا ‘ نہ میں (اپنے اعمال کی وجہ سے مستحق نجات ہوں گا) مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین۔
صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت بھی آئی کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا سیدھی چال چلتے رہو اور خوش ہوجاؤ کیونکہ کسی کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ بھی (اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائیں گے) فرمایا ‘ اور نہ میں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے گا۔ مسلم میں حضرت جابر کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث ہے امام احمد نے حضرت ابو سعید کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابن ابی موسیٰ شریک بن طارق اسامہ بن شریک اور اسد بن کرز کی روایات سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
ایک شبہ اللہ نے فرمایا ہے (اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) تم اپنے کئے ہوئے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کی وجہ سے ہوگا۔
جواب جنت کے مختلف درجات اور مراتب ہیں جن پر رسائی اعمال کی وجہ سے ہوگی (جیسا عمل ہوگا ویسا ہی درجہ ملے گا) لیکن اصل داخلہ اور جنت کے اندر ہمیشہ رہنا محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا۔ ہناد نے الزہد میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا تم لوگ عفوِ الٰہی کی وجہ سے پل صراط سے پار ہو گے اور اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگئے اور اپنے (اپنے) اعمال کی وجہ سے مرتبے پاؤ گے۔ ابو نعیم نے عون بن عبداللہ کی روایت سے بھی یہ اثر نقل کیا ہے۔
Ayah 22:58والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ما توا لیرزقنہم اللہ رزقا حسنا وان اللہ لہو خیر الرزاقین۔ اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے اللہ ان کو اچھی روزی ضرور ضرور عطا
فرمائے گا اور کوئی شبہ نہیں کہ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
ہَاجَرُوْا یعنی اعزا و اقارب اور وطن کو چھوڑ دیا۔ اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔
مَاتُوْا یعنی اپنی موت (بغیر قتل و قتال کے) سے مرگئے۔
لَیَرْزُقَنَّہُمُ اللّٰہُیعنی جنت کے اندر اللہ ان کو رزق عطا فرمائے گا۔
رِزْقًا حَسَنًا یعنی عیش و راحت دوامی بےمثال۔
اللہ بہترین رزاق ہے کیونکہ وہ بےحساب روزی عطا فرماتا ہے۔
Ayah 22:59لیدخلنہم مدخلا یرضونہ بیشک ان کو ایسے مقام میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے یعنی جنت کے اندر داخل فرمائے گا جہاں ہر دل پسند چیز باصرہ نواز ہوگی ‘ ایسی جس کو (اس سے پہلے) نہ کسی آنکھ نہ دیکھا ہوگا نہ کان نے سنا ہوگا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آئے گا۔
وان اللہ لعلیم حلیم۔ اور بیشک اللہ (ان کے اور ان کے دشمنوں کے احوال سے) خوب واقف ہے (اور) بڑے تحمل والا کہ فوری سزا نہیں دیتا۔
Ayah 22:60ذلک بات یہی ہے یا یہ بات حق ہے۔
ومن عاقب بمثل ما عوقب بہ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ ان اللہ لعفو غفور۔
اور جو شخص (دشمن کو) اسی قدر تکلیف پہنچائے جس قدر (اس دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی (اور) پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس شخص کی ضرور مدد کرے گا ‘ اللہ بڑا معاف کرنے والا کثیر المغفرت ہے۔ یعنی ظالم سے اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس نے ظلم کیا ہے پھر دوبارہ اس پر ظلم کیا جائے تو اللہ یقیناً اس مظلوم کی مدد کرے گا۔ ابتدائی ظلم کو بھی عقاب کہا گیا۔ حالانکہ عقاب (بدلہ) وہ ہوتا ہے جو ظلم کے بعد بطور عوض دیا جائے۔ ایسا صرف ہم شکل ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ (ابتدائی ظلم ہو یا ظلم کا بدلہ دونوں کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے اگرچہ علت فعل میں اختلاف ہوتا ہے) اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ یعنی انتقام لینے والا ‘ جذبات نفسانیہ کے زیر اثر ہی انتقام لیتا ہے اور نفسانی جھکاؤ سے متاثر ہونا ایک طرح کا جرم ہے۔ (اس لئے انتقام لینا بھی ایک قسم کی نفسانی خباثت ہی ہے) لیکن اللہ مظلوم کو معاف کرنے والا ہے ‘ وہ اگر بدلہ لے لے تو اللہ اس کی گرفت نہیں کرے گا۔
یا یوں کہا جائے کہ اللہ نے درگزر کرنے اور صبر کرنے کو اس کے لئے زیادہ مناسب اور اولیٰ قرار دیا تھا۔ اللہ نے فرما دیا تھا وَلَمَنْ صَبَرََ وَغَفَر اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ بلاشبہ بڑے عالی حوصلگی کا کام ہے) اور اس نے انتقام لے کر خلاف اولیٰ کیا (اور یہ ایک طرح کی غلط روی ہے) ۔ اس کو اللہ معاف فرما دے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ آیت میں معاف کردینے کی ترغیب ہے۔ اللہ باوجود قادر مطلق ہونے کے جب معاف فرما دیتا ہے تو جس بندے کی حق تلفی کی گئی ہو (اس میں تو انتقام لینے کی قدرت بھی پوری پوری نہیں ہے اس لئے) اس کو بدرجۂ اولیٰ معاف کردینا چاہئے۔ لفظ عَفُوٌّسے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ سزا دینے پر قادر ہے عَفُوٌّکہتے ہی ہیں اس کو جس میں سزا دینے کی قدرت ہو۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حسن نے آیت مذکورہ کی تفسیر اس طرح کی ہے۔ مَنْ عَاقَبَجو مشرکوں سے لڑا۔ بَمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖجیسا مشرک اس سے لڑے۔ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِپھر اس پر زیادتی کی گئی کہ اس کو وطن سے نکال دیا گیا تو اللہ اس کی مدد کرے گا۔
بعض اہل روایت نے کہا ہے کہ کچھ مشرک مسلمانوں کی ایک جماعت پر 28 محرم کو لڑنے کے لئے چڑھ آئے مسلمانوں نے (ماہ حرام کے احترام کی وجہ سے) لڑنا مناسب نہ سمجھا اور مشرکوں سے درخواست کی کہ محرم میں جنگ نہ کرو ‘ لیکن مشرکوں نے یہ درخواست رد کردی اور مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ یہ مشرکوں کی طرف سے مسلمانوں پر زیادتی ہوئی۔ مسلمان اپنی جگہ قائم رہے اور اللہ کی طرف سے ان کی مدد ہوئی۔
میں کہتا ہوں اس مطلب پر عَفُوٌّ غَفُوْرٌسے یہ مراد ہوگی کہ ماہ حرام میں جو مسلمانوں کو لڑنا پڑا اللہ اس کو معاف کردینے والا ہے۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل کی تفسیر بھی اسی طرح نقل کی ہے۔
Ayah 22:61ذلک بان اللہ یولج الیل فی النہار ویولج النہار فی الیل (اللہ کی یہ مدد) اس لئے ہے کہ
اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یعنی وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کا دستور یہ ہے کہ متضاد اشیاء میں ادل بدل کرتا رہتا ہے رات کا دن میں اور دن کا رات میں داخلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جتنا ایک کو بڑھاتا ہے اتنا ہی دوسرے کو گھٹا دیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ روشنی کی جگہ غروب آفتاب کی وجہ سے تاریکی لے آتا ہے اور رات کی تاریکی جگہ طلوع آفتاب کی وجہ سے روشنی کردیتا ہے۔
وان اللہ سمیع بصیر۔ اور اس وجہ سے بھی اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یعنی بدلہ لینے والے کے اور جس سے
بدلہ لیا جائے اس کے اقوال کو سنتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اہل ایمان کی دعاؤں کو سنتا اور ان کو قبول فرماتا ہے اور دونوں کے عمل کو دیکھتا ہے۔ پس کسی کے عمل کو ناکارہ نہیں چھوڑے گا (اور مطابق عمل سزا و جزا دے گا) ۔
Ayah 22:62ذلک بان اللہ ہو الحق وان ما یدعون من دونہ ہو الباطل وان اللہ ہو العلی الکبیر۔
یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے اور جن چیزوں کی اللہ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں وہ بالکل ہی بےحقیقت ہیں اور اللہ ہی عالیشان اور (سب سے) بڑا ہے۔
اَلْحَقُّ یعنی موجود بنفسہٖ اور تنہا واجب لذاتہٖ ہے اس کے واجب الوجود اور واحد و لاشریک ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ساری کائنات کا سرچشمۂ وجود ہو ‘ ہر ایک ہی ہستی اس کی عطا کردہ ہو وہ عالم بالذات بھی ہو اور دوسری ہر چیز کا عالم ہو اور تمام صفات کمالیہ اس کی ذات میں موجود ہوں۔ کیونکہ جب تک اس کی قدرت کاملہ ‘ علم ہمہ گیری اور سماعت و بصارت محیط کل نہ ہو وہ مستحق الوہیت نہیں ہوسکتا۔
اَلْبَاطِلُ یعنی معدوم۔ ذاتی طور پر ممتنع الوجود ہے (یعنی کسی کا وجود ذاتی نہیں اور نہ وجود ذاتی ہوسکتا ہے۔ ممکن کہتے ہیں اس کو جس کی ذات کی نسبت وجود و عدم سے برابر ہو جو اپنے وجود میں واجب کا محتاج ہے) یا باطل سے مراد ہے باطل الالوہیت یعنی اللہ کے سوا ہر چیز کی الوہیت باطل اور بےحقیقت ہے۔
الْعَلِیُّوہ برتر وبالا ہے اس بات سے کہ اس کا کوئی شریک ہو۔
الْکَبِیْرُوہ عظیم الشان اور عالی مرتبہ ہے ایسا کہ اس کا کوئی مثل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 22:63اَلَمْ تَرَکیا تو نے نہیں دیکھا یا کیا تجھے معلوم نہیں (اوّل ترجمہ پر رویت سے مراد ہوگا آنکھوں سے دیکھنا اور دوسرا ترجمہ اس وقت ہوگا جب دیکھنے سے مراد ہوگا دل سے دیکھنا اور جاننا) استفہام انکاری یعنی دیکھ اور جان لے۔
ان اللہ انزل من السمآء مآء فتصبح الارض مخضرۃ کہ اللہ اوپر سے پانی اتارتا ہے (جس سے
سبزہ پیدا ہوتا ہے) پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔
اس جملہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کی قدرت کامل اور علم محیط کل ہے۔
ان اللہ لطیف خبیر۔ بیشک اللہ لطف والا (اور) مکمل باخبر ہے۔ لطیف سے مراد یا لطیف العلم ہے یعنی اس کا علم دقیق ہے ہر ذرہ کا علم اس کو ہے یا لطیف کا معنی ہے مہربان یعنی اس کی مہربانی ہر چھوٹے بڑے کے شامل حال ہے۔ خبیر ہے یعنی ہر طرح کی ظاہری باطنی تدابیر ‘ بندوں کے تمام احوال اور ان کی ضروریات رزق وغیرہ سے باخبر ہے۔
Ayah 22:64لہ ما فی السموت وما فی الارض وان اللہ لہو الغنی الحمید۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں
ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے (یعنی وہی سب کا خالق اور مالک اور حاکم ہے) اور بلاشبہ اللہ (اپنی ذات میں) ہر چیز سے بےنیاز ہے اور مستحق ستائش ہے۔ یعنی اس کی صفات و افعال مستحق ستائش ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بذات خود محمود ہے خواہ حمد کرنے والا اس کی ذات کے سوا کوئی اور موجود نہ ہو۔
Ayah 22:65الم تر ان اللہ سخر لکم ما فی الارض والفلک تجری فی البحر بامرہ کیا آپ نے نہیں
دیکھا کہ جو کچھ زمین میں ہے اس کو تم لوگوں کے کام پر اللہ نے لگا دیا ہے اور کشتیوں کو (تمہارے کام پر لگا دیا ہے) جو سمندر میں اللہ کے حکم سے چلتی ہیں۔ مسخر کردیا ‘ یعنی تمہارے کام پر لگا دیا ‘ تمہارے منافع کے لئے تیار کردیا۔ بعض نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ زمینی یعنی خشکی پر جو سواری کے جانور ہیں ان کو تمہارے تابع بنا دیا تاکہ تم ان پر سوار ہو اور سمندر میں سوار ہونے کے لئے کشتیوں کو تمہارے زیر اختیار کردیا۔
ویمسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے
ہوئے ہے (ہاں) مگر اسی کا حکم ہوجائے تو خیر۔
آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ فلکی اجسام بھی ارضی اجسام کی طرح بالطبع نیچے گرنے کی طرف مائل ہیں مگر اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے۔ بیضاوی نے تھام رکھنے کا مطلب یہ لکھا ہے کہ اللہ نے آسمانوں کی نوعی صورتیں ہی ایسی رکھی ہیں جو اوپر ہی رکھی رہنے کی خواستگار ہیں بیضاوی نے لکھا ہے کہ زمین پر آسمانوں کو گرنے کی اجازت قیامت کے دن ہوگی۔
میں کہتا ہوں قیامت کے دن آسمانوں کا زمین پر گرنا تو کہیں ثابت نہیں ہاں پھٹنا اور شگافتہ ہونا اور تیل کی تلچھٹ کی طرح ہونا اور کاغذ کی طرح لپیٹ دیا جانا تو ضرور آیا ہے۔
اولیٰ یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے کہ استثناء نہ مستثنیٰ کے وجود کو چاہتا ہے نہ عدم کو اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اذن کے بغیر آسمان زمین پر نہیں گر سکتا لیکن کیا کبھی زمین پر گرنے کی اس کو اجازت ہوگی یا نہیں یہ جملہ سے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
ان اللہ بالناس لرء وف رحیم۔ بیشک اللہ لوگوں کے حال پر بڑی شفقت اور رحمت فرمانے والا ہے ‘ کہ اس نے حصول منافع کے دروازے کھول دیئے طرح طرح کی مصیبتوں کو دفع کردیا اور (اپنی وحدانیت کو) سمجھانے کے لئے اسباب فراہم کردیئے۔
Ayah 22:66وہو الذی احیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم اور وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی عطا کی پھر تم کو مردہ
کر دیتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا۔ یعنی تم پہلے جمادی حالت میں تھے پھر غذا سے اس نے نطفہ بنایا پھر نطفہ کو بستہ کر کے لوتھڑا بنایا پھر بوٹی بنا دی پھر جسم بنا دیا پھر اس میں جان ڈال دی ‘ پھر جب تمہاری مدت حیات پوری ہوجائے گی تو تمہارے بدن سے جان کھینچ لے گا ‘ پھر دوبارہ جسم بنا کر اسی میں جان ڈال دے گا۔ یہ زندگی آخرت میں ملے گی۔
ان الانسان لکفور۔ بیشک انسان (یعنی مشرک) بڑا منکر نعمت ہے اللہ کی نعمتیں سامنے ہیں پھر بھی انکار کرتا ہے ‘ نہ ابتدائی پیدائش کی نعمتوں کا اقرار کرتا ہے نہ مرنے کی نعمت کا حالانکہ یہ موت دوسری مقررہ زندگی سے قریب کردیتی ہے نہ آخرت کی زندگی کی نعمت کا اس کو اعتراف ہے جو مقصود (بقاء دوام) تک پہنچانے والی ہے۔ (خلاصہ یہ کہ موت بھی ایک نعمت ہے اگر موت نہ ہوتی تو دوسری زندگی کے دروازے میں داخلہ کیسے ملتا اور دوسری زندگی نہ ہوتی تو جنت کا داخلہ اور مقام قرب کا حصول کیسے ممکن ہوتا) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے وجود ‘ وحدانیت ‘ ربوبیت اور کمال قدرت و علم کے دلائل موجود ہیں پھر بھی مشرک انکار کرتا ہے اور اپنے رب کی وحدانیت کو نہیں مانتا۔
Ayah 22:67لکل امۃ جعلنا منسکاہم ناسکوہ فلا ینازعنک فی الامر (جتنی صاحب شریعت امتیں
گزری ہیں ان میں سے) ہر امت کے لئے ذبح کا طریقہ مقرر کردیا تھا جس پر وہ ذبح کیا کرتے تھے سو ان لوگوں کو چاہئے کہ ذبح کے معاملے میں آپ سے (خواہ مخواہ کا) جھگڑا نہ کریں۔
اس جملہ کا گزشتہ سے پیوستہ جملوں سے معنوی بعد تھا اس لئے حرف عاطف ذکر نہیں کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر اس طرح فرمائی ‘ ہم نے ہر امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی تھی جس پر وہ چلتے تھے۔ بعض نے منسک کا ترجمہ تیوہار کیا ہے ‘ مجاہد اور قتادہ نے قربانی کا مقام ترجمہ کیا ہے جس میں وہ قربانی کرتے تھے۔ بعض کے نزدیک منسک سے مراد ہے عبادت گاہ۔ بعض نے کہا (میلہ) مرکز انس جس سے وہ مانوس تھے۔ عربی میں منسک اس مقام کو کہتے ہیں جہاں کسی اچھے یا برے کام کے لئے لوگ جمع ہونے کے عادی ہوں۔ مناسکِ حج کو مناسک اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ لوگ حج کے مقامات پر ہر سال آتے اور جمع ہوتے ہیں۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے نسک ‘ عبادت۔ اَرِنَامَنَاسِکَنَا ہم کو ہماری عبادت کے مقامات بتادے۔ منسک کا معنی نفس ذبح ہے اور مقام ذبح بھی۔ نسیکۃ ‘ ذبیحہ۔ نسک میلہ کا مقام ‘ منسک بیٹھنے کی جگہ۔
اَلْاَمْرسے مراد ہے امر دین یا ذبح کے طریقے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ یا جاہل ہیں یا منادی جھگڑالو اگر عالم ہوتے اور منادی نہ ہوتے تو آپ ﷺ سے جھگڑا ہی نہ کرتے کیونکہ آپ کے دین کی صداقت ناقابل نزاع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول بدیل بن ورقا ‘ یزید بن خنیس اور بشر بن سفیان کے متعلق ہوا ان لوگوں نے صحابۂ کرام ؓ سے کہا تھا اس کی کیا وجہ ہے کہ جس جانور کو تم اپنے ہاتھوں سے قتل (ذبح) کرتے ہو اس کو تو کھاتے ہو اور جس کو خدا براہ راست مار دیتا ہے اس کو نہیں کھاتے (اس کو مردار سمجھتے ہو) ۔
زجاج نے کہا بظاہر نزاع کی ممانعت مشرکوں کو ہے لیکن حقیقت میں ممانعت کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ عرب کہتے ہیں فلاں شخص تم سے جھگڑا نہ کرے یعنی تم اس سے جھگڑا نہ کرو۔ لیکن ایسا ان افعال میں ہوتا ہے جو طرفین سے صادر ہوں (لیکن اگر فعل کا صدور ایک ہی شخص کی طرف سے ہو تو مذکورۂ بالا اسلوب بیان نہیں اختیار کیا جاسکتا) ۔
پس لاَ یَضْرِ بَنَّکَ زَیْدٌکایہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ تم زید کو نہ مارو۔ ہاں لاَ یُضَارِ بَنَّکَ زَیْدٌ (زید تم سے مار پیٹ نہ کرے) کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تم زید کو نہ مارو۔
مخاصمت اور نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہوتا ہے صرف ایک شخص سے (نزاع بین الطرفین کا صدور نہیں ہوسکتا) جب ایک نزاع ترک کر دے تو وجود مخاصمت باقی نہیں رہتا۔ (صرف یک طرفہ خصومت باقی رہتی ہے) ۔
وادع الی ربک انک لعلی ہدی مستقیم۔ اور (لوگوں کو) اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ آپ
بلاشک و شبہ سیدھے راستے پر ہیں۔ یعنی اپنے رب کی توحید و عبادت کی طرف بلکہ اس کی ذات اور بلا کیف قرب کی طرف بلائیے آپ بلاشبہ اس سیدھے راستے پر ہیں جو حق اور مراتب قرب تک پہنچاتا ہے۔
Ayah 22:68وان جادلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون۔ اور (ظہورِ حق اور لزوم حجت کے بعد بھی) وہ آپ
سے خواہ مخواہ جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے 1 ۔ یعنی تمہارے اس صحیح غلط جھگڑے کا وہی بدلہ دے گا۔ اس آیت میں وعید ہے مشرکوں کو لیکن نرم لہجے میں۔ یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے۔
Ayah 22:69اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے دمیان (عملی) فیصلہ کرے گا ‘ یعنی مؤمنوں اور کافروں کا فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ حق و باطل کا اس روز فیصلہ ہوجائے گا۔ مؤمنوں کو ثواب ملے گا اور کافروں پر عذاب ہوگا (یہ عملی فیصلہ ہوگا) یوں فیصلہ تو دلائل وبراہین کے ساتھ دنیا میں بھی کردیا گیا ہے۔
فیما کنتم فیہ تختلفون۔ ان (دینی) امور کا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ اختلاف کا معنی ہے دو جھگڑا کرنے والوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے خلاف جانا۔
Ayah 22:70الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے یہ (سب) بلاشبہ ایک کتاب میں (درج)
ہے۔ یقینی طور پر یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ استفہام تقریری ہے (یعنی آپ ضرور جانتے ہیں) کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے اللہ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا (پس ان مشرکوں کے ہر کردار و گفتار واطوار کا اندراج بھی لوح محفوظ میں موجود ہے) اس لئے آپ ان کے کردار اور خصومتوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ اللہ اس سب سے واقف ہے اور یہ سارے امور علم خداوندی میں محفوظ ہیں اور یہ علمی احاطہ یا لوح محفوظ میں درج کرنا یا قیامت کے دن جزا و سزا کا فیصلہ کرنا اللہ کے لئے کچھ دشوار نہیں کیونکہ ہمہ گیر علم تقاضۂ ذاتی ہے اس لئے (گزشتہ ہوں یا آئندہ) تمام معلومات کی نسبت اس کی طرف برابر ہے۔
Ayah 22:71ویعبدون من دون اللہ ما لم ینزل بہ سلطنا وما لیس لہم بہ علم اور (مذکورہ دلائل توحید کے
بعد بھی یہ مشرک) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن (کی پرستش کے جواز) کی اللہ نے کوئی دلیل (اپنی کتابوں میں) نازل نہیں کی اور نہ ان کے پاس ان چیزوں کی عبادت کی کوئی (عقلی) دلیل ہے۔
سلطان یعنی جواز عبادت کی کوئی حجت یا دلیل۔
عِلْمٌ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا علم نہیں جو ہدایت عقلی یا فطری استدلال سے حاصل ہوا ہو یا کسی سچے خبر دینے والے کی خبر سے ملا ہو جس کی صداقت پر کوئی برہان دلالت کرتی ہو یا متواتر خبر ہو جو حواس خمسہ میں سے کسی ایک کے ذریعہ سے حاصل ہوئی ہو۔
وما للظلمین من نصیر۔ اور ان ظالموں کے لئے (یعنی ان مشرکوں کے لئے جنہوں نے ایسی بےجا
حرکتوں کا ارتکاب کیا ہے) کوئی مددگار نہ ہوگا (جو اللہ کے عذاب سے ان کو بچا سکے) ۔
Ayah 22:72واذا تتلی علیہم ایتنا بینت تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر اور جب ان کے
سامنے ہماری کھلی کھلی آیات (یعنی جن کے مضامین کی حقانیت واضح ہے) پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے آثار پہچان لیں گے۔
اٰیٰتُنَا یعنی قرآن کی آیات۔
بَیِّنٰتٍیعنی جن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا کھلا ہوا ہے۔ یا صحیح عقائد پر جن کی دلالت واضح ہے۔
الْمُنْکَرَیعنی غصہ و ناگواری و ترش روئی کی وجہ سے آثار انکار ان کے چہروں پر نمودار ہوجاتے ہیں۔
وُجُوْہِہِمْکی جگہ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا صراحت کے ساتھ کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ انکار کا باعث سوائے شدت کفر کے اور کوئی نہیں یا منکر سے مراد ہے وہ شرارت جو مؤمنوں کے ساتھ وہ کرنی چاہتے ہیں۔
یکادون یسطون بالذین یتلون علیہم ایتنا ایسا لگتا ہے کہ ان کے سامنے ہماری آیات کی جو لوگ
تلاوت کرتے ہیں ان پر یہ حملہ کر بیٹھیں گے۔
یَسْطُوْنَپکڑ لیں گے یا ضرر پہنچانے کے لئے تلاوت کرنے والوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ گھوڑا جب دو ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور اگلے دونوں پاؤں اوپر اٹھا دیتا ہے۔ خواہ شدت نشاط کی وجہ سے یا اکڑ اور غرور کی وجہ سے یا مادہ پر کودنے کی غرض سے تو کہا جاتا ہے سطا الفرس (باب نصر)
قاموس میں ہے۔ سطا علیہ اور سطابہٖ (دونوں ہم معنی ہیں) سَطْوٌاور سَطْوَۃٌ مصدر۔ اس پر حملہ کیا یا پکڑنے کے لئے جبر کیا۔
یَتْلُوْنَ عَلَیْہِمْیعنی محمد ﷺ اور صحابہ ؓ جو آیات پڑھتے ہیں۔
قل افانبئکم بشر من ذلکم النار وعدہا اللہ الذین کفروا وبئس المصیر
(اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کیا میں اس سے بھی زیادہ ناگوار چیز تم کو بتاؤں وہ دوزخ ہے اللہ کافروں سے (اس کے اندر داخل کرنے کا) وعدہ کرلیا ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
بَشَرٍّیعنی جو تمہارے لئے زیادہ بری اور زیادہ ناگوار ہوگی۔
ذٰلِکُمْاس قرآن سے یا تمہارے اس غصہ و غضب سے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے سے بری یا اس اکتاہٹ اور ملال سے بری جو تلاوت قرآن سن کر تمہارے اندر پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 22:73یایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ اے لوگو ! ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو۔
مَثَلٌعجیب حالت یا عجیب قصہ۔
فَاسْتَمِعُوْا لَہٗیعنی اس مثال کو کان لگا کر اور غور کے ساتھ سنو۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے ‘ آیت کا مطلب یہ ہے کہ میری (مثل دوسروں کو قرار دیا گیا ہے ‘ یعنی کافروں نے استحقاق عبادت میں اللہ کی طرح دوسروں کو قرار دے رکھا ہے۔ اللہ مستحق عبادت ہے انہوں نے بتوں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔ سو ان کی حالت سنو اور خود فیصلہ کرو کہ اللہ کی مثل کسی کو قرار دینا کیا جائز ہے اس کے بعد اگلی آیت میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (وہ یہ ہے کہ) جن کی خدا کے
سوا تم پوجا کرتے ہو وہ ایک (حقیر) مکھی کو بھی پیدا نہیں کرسکتے گو اس (کام) کے لئے سب جمع ہوجائیں (اور اجتماعی طاقت صرف کردیں۔ پھر تمہاری کیا حاجت روائی کرسکیں گے) یعنی اے کافرو جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اور ان کو معبود کہہ کر پکارتے ہو تو وہ ایک مکھی کو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اتنی حقیر ذلیل اور بےمقدار چیز کو بھی نہیں بنا سکتے۔
ذباب کی جمع قلت اذبَّۃٌاور جمع کثرت ذُبّان ہے۔ جیسے غراب کی جمع اغربتہ اور غربان آتی ہے۔ ذباب کا لفظ ذبٌّ سے مشتق ہے ذب کا معنی ہے دفع کرنا مکھی کو بھی ہر شخص دفع کرتا ہے اس لئے اس کو ذباب کہا جاتا ہے۔ (گویا ذباب بمعنی مذبوب ہے) ۔
وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ اگرچہ وہ سب بت مل کر ایک مکھی کو پیدا کرنے کے لئے جمع ہوجائیں۔ مقصود یہ ہے کہ وہ سب مل کر بھی تخلیق ذباب پر قادر نہیں ہوسکتے۔ انفرادی طور پر قادر نہ ہونے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
وان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنفذوہ منہ اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو وہ مکھی
سے چھڑا نہیں سکتے۔ مشرکین بتوں پر زعفران کا لیپ کرتے تھے اور ان کے سامنے کھانا رکھتے تھے۔ مکھیاں کھانے پر گرتی تھیں اور اس میں سے کچھ لے اڑتی تھیں۔ مگر بت ان سے چھین نہ سکتے تھے۔ اسی مضمون کا آیت مذکورہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے یہ دونوں حالتیں بیان کر کے کافروں کی انتہائی جہالت کا اظہار کیا ہے۔ اوّل تو یہ ظاہر کیا کہ وہ اللہ جس کے قبضہ میں ساری کائنات ہے اور وہ سب کا خالق و موجد ہے اس کے ساتھ مشرک ایسی چیزوں کو شریک بناتے ہیں جو حقیر ترین اور ذلیل مخلوق کو پیدا کرنے کی نہ اجتماعی قوت رکھتے ہیں نہ انفرادی ! دوئم یہ کہ وہ چیزیں جن کو معبود قرار دیا گیا ہے اتنی بےبس اور عاجز ہیں کہ حقیر ترین مخلوق بھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ چھڑا نہیں سکتیں اور اپنی طرف سے اس کا دفاع بھی نہیں کرسکتیں۔
ضعف الطالب والمطلوب۔ طالب اور مطلوب (دونوں) کمزور ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘
طالب سے مراد ہیں مکھی جو اس چیز کی طلبگار ہوتی ہے جس کو وہ بت سے چھینتی ہے اور مطلوب سے مراد ہے بت۔ جس سے مٹھائی وغیرہ مکھی طلب کرتی ہے۔ طالب کمزور اور مطلوب بالکل ہی بےبس۔ بعض نے اس کے برعکس تفسیر کی ہے۔ طالب بت اور مطلوب مکھی۔ لیکن بت تو بےجان ہے وہ کسی چیز کی بھی طلب نہیں رکھتا۔ اس لئے اس کو طالب قرار دینا صرف ظاہری صورت کے لحاظ سے کہا جائے گا اور طالب استنقاد فرض کرلیا جائے گا۔ ضحاک نے کہا ‘ طالب سے مراد بت پرست اور مطلوب سے مراد بت ہے۔
Ayah 22:74ما قدور اللہ حق قدرہ ان اللہ لقوی عزیز انہوں نے اللہ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا
کرنا چاہئے تھا بیشک اللہ بڑی قوت والا (اور سب پر) غالب ہے۔ یعنی اللہ کی جیسی تعظیم کرنی چاہئے تھی ویسی تعظیم انہوں نے نہیں کی اور اللہ کو ویسا نہیں پہچانا جیسا مناسب تھا ‘ اور نہ اس کی صفات کا صحیح اندازہ کیا۔ اسی لئے حقیر ترین چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک قرار دے لیا۔
قوی ہے یعنی تمام ممکنات کی تخلیق پر قدرت رکھتا ہے۔
عزیز ہے ‘ یعنی وہ سب پر غالب ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں اور دوسرے معبود ‘ عاجز ‘ بےبس ہیں حقیر ترین مخلوق بھی ان پر غالب ہے وہ ادنیٰ چیز سے بھی اپنا دفاع نہیں کرسکتے۔
Ayah 22:75اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس اللہ ہی ملائکہ میں سے اپنے پیغامبر منتخب کرلیتا ہے اور
آدمیوں میں سے بھی (رسالت کے لئے بعض آدمیوں کو چھانٹ لیتا ہے) ۔
بعض فرشتے اللہ کے قاصد ہیں ‘ اللہ کے احکام وحی کے ذریعہ انبیاء تک پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی روحیں قبض کرنے اور رزق پہنچانے میں بھی درمیانی واسطہ کا کام انجام دیتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے مرسل ملائکہ جبرئیل ( علیہ السلام) ‘ میکائیل ( علیہ السلام) ‘ اسرافیل ( علیہ السلام) ‘ عزرائیل ( علیہ السلام) وغیرہ ہیں آدمیوں میں سے اللہ کے پیغمبر سب لوگوں کو حق کی طرف بلاتے ہیں ‘ اللہ کی طرف سے جو احکام ان پر نازل ہوتے ہیں وہ دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ سب سے پہلے رسول حضرت آدم ( علیہ السلام) تھے اور سب سے آخری رسول حضرت محمد ﷺ ۔
بغوی نے لکھا ہے یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکوں نے کہا تھا ءَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا کیا ہماری جماعت میں سے اس (معمولی) شخص پر قرآن اتارا گیا (اور اس کو نبی بنایا گیا حالانکہ ہم میں بڑے بڑے سردار اور عزت رکھنے والے لوگ موجود ہیں) اس کی تردید میں فرمایا کہ پیغمبر بنانے کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے پیغمبری کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے پہلی آیات میں وحدانیت ذاتی اور الوہیت کو ثابت کیا اور توحید صفاتی کا اظہار کردیا۔ اس آیت میں نبوت کو ثابت کردیا اور کافروں کے قول کی تردید کردی۔ کافروں نے بت پرستی اور ملائکہ پرستی کی توجیہ کرتے ہوئے کہا تھا مانَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی اور یہ بھی کہا تھا۔ اَلْمَلٰءِکَۃُ بَنَات اللّٰہِ ۔
اللہ نے اس آیت میں فرمایا کہ اللہ کے کچھ منتخب بندے ہیں جن کو اللہ اپنے اختیار سے چن لیتا ہے وہ اللہ اور بندوں کے درمیان پیغامبر ہوتے ہیں انہی کے حکم کو ماننے اور اس پر چلنے سے اللہ کی اطاعت تک دوسروں کی رسائی ہوتی ہے۔ پیغمبروں کی پیروی ہی دوسرے لوگوں کی ترقی کا بلند ترین درجہ ہے۔
ان اللہ سمیع بصیر۔ بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ یعنی (مسموعات ہوں یا مرئیات) سب چیزوں
سے واقف ہے اس کو ہر چیز کا علم ہے (اور بغیر حواس کے وہ ہر چیز کو جانتا ہے) ۔
Ayah 22:76یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم وہ ان (سب فرشتوں اور آدمیوں کی) آئندہ اور گزشتہ حالتوں کو جانتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے آگے پیچھے کی تشریح میں فرمایا جو کچھ انہوں نے اپنے آگے بھیج دیا اور جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے (اچھا یا برا عمل آگے بھیج دیا یا مرنے کے بعد اچھا برا طریقہ جاری کر کے چھوڑ آئے) حسن نے کہا جو کچھ عمل کرچکے اور جو آئندہ کرنے والے ہیں ‘ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ ہُمْ : ضمیر پیغمبروں کی طرف راجع ہے یعنی پیغمبروں کی پیدائش سے پہلے کے احوال اور ان کے مرنے کے بعد کے احوال سے اللہ واقف ہے۔
والی اللہ ترجع الامور۔ اور تمام امور کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے۔ وہی مالک ہے اس سے کوئی
نہیں پوچھ سکتا کہ ایسا کیوں کیا۔ یہ باز پرس تو بندوں سے کی جائے گی۔
Ayah 22:77یایہا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا وعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون۔
اے اہل ایمان تم رکوع اور سجدے کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیک کام کیا کرو۔ یہ امید رکھتے ہوئے کہ تم فلاح پاؤ گے۔
رکوع اور سجود سے مراد ہیں نماز یہ دونوں نماز کے ضروری ارکان ہیں جن کے بغیر نماز کا وجود ہی نہیں ہوتا قراءت و قیام وغیرہ میں بھی ارکان ہیں لیکن اتنے اہم نہیں ہیں ضرورت کے وقت ساقط ہوجاتے ہیں گونگے سے قراءت ساقط ہے جو کھڑا نہ ہوسکتا ہو اس سے قیام ساقط ہے رکوع و سجود کا سقوط کسی وقت نہیں ہوتا اسی لئے امام ابوحنیفہ (رح) : کا قول ہے کہ جو شخص سر کے اشارہ سے رکوع و سجود بھی نہ کرسکتا ہو وہ نماز مؤخر کر دے (آئندہ جب قدرت ہو تو ادا کرلے) اشارۂ ابرو یا صرف نیت قلب سے نماز نہیں ہوسکتی۔
عبادت کرو ‘ یعنی اس طور سے عبادت کرو جو اللہ کی عبادت کا مقرر طریقہ ہے۔
اور نیکی کرو ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد ہے قرابت داروں سے اچھا سلوک کرنا ان کو جوڑے رکھنا اور اعلیٰ اخلاق اختیار کرنا۔ بظاہر لفظ خیر عام ہے اس کے اندر ہر نیکی داخل ہے تمام اچھے کاموں کو یہ لفظ شامل ہے مراد یہ ہے کہ جو بھلائی کا کام ہے وہ کرو۔
لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ فلاح پانے کی امید رکھتے ہوئے یہ تمام نیک کام کرو ‘ یعنی یقین مت کرو کہ تمہارے یہ نیک کام قطعی طور پر تم کو بامراد کردیں گے امید رکھو کہ کامیاب ہوگے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسرائیلی انبیاء میں سے ایک نبی کے پاس وحی کے ذریعہ سے یہ حکم آیا کہ تمہاری امت میں سے جو لوگ میرے اطاعت گزار ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کر بیٹھنا کیونکہ قیامت کے دن جس شخص کو میں حساب فہمی کے مقام پر کھڑا کروں گا اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو ضرور عذاب دوں گا (یعنی حساب فہمی میں سختی کروں گا اور درگزر سے کام نہ لوں گا تو لامحالہ وہ شخص عذاب میں ماخوذ ہوجائے گا) اور اپنی امت کے گناہگاروں سے کہہ دو کہ وہ خود اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالیں (ہلاک شدہ نہ سمجھیں اور ناامید نہ ہوں) کیونکہ میں بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دوں گا اور مجھے پروا بھی نہ ہوگی۔ رواہ ابو نعیم عن علی ؓ۔
بزار نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا (ہر) آدمی کے لئے تین رجسٹر نکال کر لائے جائیں گے ایک رجسٹر میں اس کے نیک اعمال درج ہوں گے ایک رجسٹر گناہوں کا ہوگا جس میں گناہوں کا اندراج ہوگا اور ایک رجسٹر اللہ کی نعمتوں کا (جس میں اللہ کی وہ تمام نعمتیں درج ہوں گی جو اس بندے کو عطا فرمائی گئی ہوں گی) پھر اللہ اپنی سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا اپنے مقابلہ میں اس بندے کے نیک (اعمال میں سے کسی) عمل کا انتخاب کرلے۔ نعمت اپنے مقابلہ پر سب نیک اعمال کو لے آئے گی (اور پھر بھی سارے اعمال صالحہ کے مقابلہ میں نعمت کا پلڑہ بھاری رہے گا) نعمت عرض کرے گی اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے اپنے مقابل ایک ایک کر کے ساری نیکیاں لے لیں اور ساری نیکیاں ختم ہوگئیں اب گناہ رہ گئے عمل صالح (تو ایک ہی نعمت کے مقابلہ میں) ختم ہوگئے۔ اگر اللہ بندہ پر رحم کرنا چاہے گا تو فرمائے گا میرے بندے میں نے تیرے لئے تیری نیکیاں چند گنا کردیں اور تیرے گناہوں سے میں نے اعراض کیا اور تجھ کو اپنی نعمت بخش دی۔
مسئلہ کیا آیت مذکورہ میں سجدۂ تلاوت واجب ہے علماء کا اس میں اختلاف ہے امام ابو حنفیہ ‘ امام مالک ‘ سفیان ثوری اور کچھ دوسرے علماء کہتے ہیں یہاں سجدہ واجب نہیں اس جگہ سجدہ سے مراد تو نماز کا سجدہ ہے۔ کیونکہ آیت میں سجدہ کے ساتھ رکوع کا بھی حکم دیا ہے اور آیات قرآن کو تلاش کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی آیات میں سجدہ سے مراد سجدۂ نماز ہوتا ہے جیسے وَاْسجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔ میں سجدۂ نماز مراد ہے کیونکہ اس کے ساتھ رکوع کا بھی حکم دیا گیا ہے ابن مبارک (رح) ‘ امام شافعی (رح) امام احمد وغیرہ قائل ہیں کہ اس جگہ سجدۂ تلاوت ضرور کرنا چاہئے کیونکہ حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ﷺ : کیا سورت حج کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں فرمایا ہاں جو یہ دو سجدے نہ کرے وہ ان (آیتوں) کو نہ پڑھے۔ رواہ احمد و ابو داؤد والترمذی۔ حدیث مذکور کو بالفاظ مذکورہ ترمذی نے نقل کیا ہے۔ و رواہ الدارقطنی والبیہقی والحاکم۔ لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اس کے سلسلۂ روایت میں ایک شخص ابن لہیعہ شامل ہے جو ضعیف ہے۔ ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے۔
ابن جوزی نے لکھا ہے کہ ابن وہب نے کہا ابن لہیعہ یوں تو سچا ہے لیکن حافظہ (کی کمزوری) کی وجہ سے اس کو ضعیف کہا گیا ہے۔ حاکم نے لکھا ہے عبداللہ بن لہیعہ یوں تو امام ہے لیکن آخری عمر میں اس کا حافظہ درست نہیں رہا تھا (وسواس پیدا ہوگیا تھا) اور اس حدیث کا راوی تنہا یہی شخص ہے (اس لئے حدیث ضعیف ہوگئی) ۔
ابو داؤد نے المراسیل میں لکھا ہے کہ ابن لہیعہ نے رسول اللہ ﷺ : کا یہ فرمان بیان کیا کہ سورة حج کو دو سجدوں پر مشتمل ہونے کی فضیلت حاصل ہے۔ اس روایت کو مسند کہنا صحیح نہیں۔
حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن میں مجھے سجدے کی پندرہ آیات پڑھائیں تین سجدے مفصلات میں اور دو سورة حج میں۔ رواہ ابو داؤد و ابن ماجۃ والدارقطنی والحاکم والمنذری والنووی۔
عبدالحق اور ابن القطان نے اس کو ضعیف کہا ہے اس میں عبداللہ بن منین کلالی غیر معروف ہے اور اس سے حارث بن سعید ثقفی مصری نے روایت کی ہے اور یہ بھی مجہول ہے۔
حاکم نے حضرت عقبہ بن عامر والی حدیث کی تاکید کے لئے کہا ہے کہ حضرت عمر ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابو درداء ‘ حضرت ابو موسیٰ اور حضرت عمار ؓ کے اقوال جو بروایت صحیحہ موقوفاً آئے ہیں وہ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ بیہقی نے المعرفۃ میں خالد بن معدان کے طریق سے مرسلاً روایت اس کی تائید میں بیان کی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ یہی اقوال حضرت عمر ؓ ‘ حضرت علی ؓ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر ؓ کے ہیں۔
میں کہتا ہوں اس باب میں موقوف کو مرفوع کا درجہ حاصل ہے (کیونکہ کسی آیت میں سجدۂ تلاوت ہونے یا نہ ہونے کا مدار محض روایت پر ہے اگر ان صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو خود ایسا نہیں فرماتے) سجود تلاوت کے مسائل ہم نے سورت انشقاق میں مفصل بیان کردیئے ہیں۔