Ayah 22:20یہصر بہ ما فی بطونہم والجلود۔ جس کی وجہ سے جو کچھ ان کے پیٹوں کے اندر (چربی ‘ انتڑیاں ‘ جگر تلی وغیرہ) ہوگا پگھل جائے گا اور کھالیں بھی (پگھل جائیں گی) مراد یہ ہے کہ گرم پانی کی حرارت دوزخیوں کے بیرونی بدن پر بھی اثر انداز ہوگی اور اندرونی اعضاء و احشاء پر بھی۔
ترمذی نے ایک حدیث حسن حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گرم پانی ان کے سروں کے اوپر ڈالا جائے گا اور بہ کر پیٹ کے اندر داخل ہو کر دونوں قدموں کے درمیان سے نکل جائے گا۔ صہر کا یہی معنی ہے ‘ پھر بار بار ایسا ہی کیا جائے گا۔
Ayah 22:21ولہم مقامع من حدید۔ اور ان (کو کوٹنے) کے لئے (مخصوص طور پر) لوہے کے گزر ہوں گے۔
مقامع مقمعۃ کی جمع ہے مقمعۃ حقیقت میں اس آلہ کو کہتے جس کی سخت ضرب کی وجہ سے کسی چیز کو روکا جائے۔ لیث نے کہا مقمعۃ گرز کو کہتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ لفظ قَمَعْتُ رَاْسَہٗکے محاورے سے ماخوذ ہے۔ قمعتُمیں نے سخت ضرب رسید کی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا ‘ دوزخیوں کو گزروں سے مارا جائے گا اور گزر کی ضرب مستقل طور پر ہر عضو پر پڑے گی اور (ہر ضرب پر) وہ موت کو پکاریں گے۔
ابویعلیٰ ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوہے کا وہ گرز زمین پر رکھ دیا جائے اور سارے جن و انس اس کو اٹھانا چاہیں تو اٹھا نہ سکیں اور اگر اس کی ایک ضرب پہاڑ پر پڑجائے تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے (یہ گرز دوزخی پر پڑے گا) پھر دوزخی ویسا ہی ہوجائے گا جیسا تھا (اور بار بار ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ )
Ayah 22:22کلما ارادوا ان یخرجوا منہا من غم اعیدوا فیہا وہ جب بھی دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب بھی وہ نکلنا چاہیں گے (نکلنے کے قریب ہوں گے) فوراً اندر ہی کو لوٹا دیئے جائیں گے اس تاویل کی ضرورت اس لئے پڑی کہ دوبارہ لوٹایا جانا اسی وقت ہوتا ہے جب باہر نکل آئیں (اور اہل جہنم کا آگ سے باہر نکلنا ممکن نہیں یہ نص قطعی ہے اس لئے اعادہ کو ارادے پر مرتب کیا اور قرب خروج کی قید کا اضافہ کیا گیا) ۔
ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ اس آیت کی تشریح میں فصیل بن عیاض نے فرمایا واللہ ان کو دوزخ سے نکلنے کی امید بھی نہیں ہوگی ‘ کیونکہ ان کے پاؤں مضبوطی کے ساتھ جکڑے ہوئے ہوں گے بلکہ آگ کی لپٹ (اپنے جوش کی وجہ سے) ان کو اٹھا کر اوپر لے جائے گی اور (وہاں سے فرشتوں کے) گرز پھر ان کو لوٹا دیں گے۔
میں کہتا ہوں شاید آگ سے باہر نکل جانے کا ارادہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آگ کی لپٹ جب ان کو اٹھا کر اوپر لے جائے گی تو ان کو خیال پیدا ہوجائے گا کہ آگ سے باہر جا پڑیں گے ‘ لیکن ایسا نہ ہو سکے گا بلکہ گرز ان کو پھر نیچے لوٹا دیں گے۔ بیہقی نے ابو صالح کا قول نقل کیا ہے کہ جب دوزخ میں کسی کافر آدمی کو پھینکا جائے گا تو گڑھے کی تہ تک پہنچے بغیر وہ کہیں نہیں رکے گا پھر جہنم کی آگ کا جوش اس کو اٹھا کر جہنم کے بالاترین کنارے تک لے جائے گا۔ اس وقت اس کی ہڈیوں پر گوشت کی بوٹی نہ ہوگی (سب کو آگ کھا چکی ہوگی صرف پنجر باقی ہوگا) پھر ملائکہ اس کو گرزوں سے ماریں گے اور وہ لڑھکتا ہوا تلی تک پہنچ جائے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ بغوی نے بھی یہی تفسیر کی ہے اس میں اتنا زائد ہے کہ دوزخ کے فرشتے اس کو لوہے کے گرزوں سے ماریں گے اور وہ ستّر سال تک لڑھکتا چلا جائے گا۔
وذوقوا عذاب الحریق اور جلنے کا مزہ چکھو۔
الْحَرِیْقِآتش سوزاں ‘ بہت زیادہ سوختہ بنا دینے والی آگ ‘ حریق (صفت مشبہ) بروزن فعیل بمعنی فاعل (یعنی بمعنی محرق) جیسے الیم بمعنی مولم اور وجیع بمعنی موجع۔ زجاج نے کہا یہاں تک ایک فریق کا ذکر تھا دوسرے فریق کا تذکرہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
Ayah 22:23ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتہا الانہر
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ یقیناً ان کو جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے (درختوں اور کوٹھیوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ اس آیت میں اسلوب بیان بدل دیا اور مؤمنوں کی قابل ستائش حالت کی قدردانی اور برتری کو ظاہر کرنے کے لئے جنت کے داخلے کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا اور لفظ اِنّ ذکر کر کے کلام میں زور پیدا کردیا۔
یحلون فیہا من اساور من ذہب ولولوا جنت کے اندر ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے
گا۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ اہل تفسیر کا قول ہے کہ ہر جنتی کے ہاتھ میں تین کنگن پہنائے جائیں گے۔ ایک سونے کا دوسرا چاندی کا تیسرا موتیوں کا۔
ترمذی اور حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت جَنّٰتُ عَدْنٍ یَدْخُلُوْنَہَا یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَلُؤْلُؤًا ط وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ تلاوت فرمائی پھر فرمایا ان (کے سروں) پر تاج ہوں گے جن کے ادنیٰ موتی کی چمک سے مشرق سے مغرب تک جگمگا جائے گا۔
طبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ادنیٰ جنتی کے زیور کا تمام دنیا والوں کے زیور سے موازنہ کیا جائے تو ادنیٰ جنتی کو جس زیور سے اللہ آراستہ کرے گا وہ ساری دنیا والوں کے زیور سے اعلیٰ ہوگا۔
ابوالشیخ نے العظمۃ میں کعب بن احبار کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کا ایک فرشتہ اپنے روز پیدائش سے اہل جنت کے لئے زیور ڈھالنے میں مشغول ہے اور روز قیامت تک مشغول رہے گا اور اگر اہل جنت کا کوئی ایک زیور بھی برآمد ہوجائے تو سورج کی روشنی کو ماند کر دے گا۔
شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن کا زیور (اس کے ہاتھ اور پاؤں میں) اس حد تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔
الزہد میں عمران بن خالد کی وساطت سے ایک تابعی کی روایت آئی ہے کہ صحابۂ کرام نے فرمایا کہ باوجود قدرت رکھنے کے جس نے سونا پہننا چھوڑا اللہ خطیرۃ القدس میں اس کو سونا پہنائے گا اور جس نے باوجود قدرت رکھنے کے شراب ترک کی اللہ اس کو خطیرۃ القدس کی شراب پلائے گا۔ نسائی اور حاکم نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (سونے کا) زیور اور ریشم پہننے والوں کو ممانعت فرماتے تھے اور فرماتے تھے اگر تم جنت کا زیور اور جنت کا ریشم پسند کرتے ہو تو دنیا میں اس کو نہ پہنو۔ حضرت عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس (مرد) نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں (جنت کا) ریشم نہیں پہنے گا۔
ولباسہم فیہا حریر۔ اور جنت کے اندر ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ بزار ‘ ابو یعلیٰ اور طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ
حضرت جابر کی وساطت سے حضرت مرثد بن عبداللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت کے اندر ایک درخت ہے جس سے سندس (باریک ریشمی لباس) پیدا ہوتا ہے اسی کے اہل جنت کے کپڑے ہوں گے۔ نسائی ‘ طیالسی ‘ بزار اور بیہقی نے کھری سند کے ساتھ حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے (یعنی درخت سے) پھٹ کر نکلیں گے ‘ یعنی اہل جنت کے کپڑے درخت کے پھل کے پھٹنے سے نکل آئیں گے۔
ابن مبارک نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مؤمن کا مکان ایک کھوکھلا موتی ہوگا جس کے اندر ستّر کمرے ہوں گے اور موتی کے وسط میں ایک درخت ہوگا جس کے اندر کپڑے اگیں گے۔ مؤمن جا کر اپنی انگلی سے ستّر جوڑے کپڑوں کے لے لے گا اور ہر جوڑ میں زمرد اور موتیوں کی اور مونگے کی لڑیاں پروئی ہوئی ہوں گی۔
فصل شیخین (بخاری و مسلم) نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ نے فرمایا ‘ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے تم لوگ نہ ریشم پہنو ‘ نہ دیبا ‘ نہ سونے چاندی کے برتنوں میں پیو ‘ نہ ان کے پیالوں رکابیوں میں کھاؤ ‘ یہ چیزیں ان (کافروں) کے لئے دنیا میں ہیں اور تم لوگوں کے لئے آخرت میں (ہوں گی۔ )
شیخین نے حضرت عمر ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ جس (مرد) نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہیں پہنے گا (یعنی ریشمی لباس سے محروم رہے گا) ایسی ہی حدیث حضرت انس ؓ اور حضرت زبیر ؓ کی روایت سے بھی آئی ہے۔ نسائی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا آخرت میں وہ ریشم کا لباس نہیں پہنے گا۔ جس نے دنیا میں شراب پی ‘ آخرت میں وہ شراب (طہور) نہیں پئے گا اور جس نے سونے چاندی کے برتنوں میں (کچھ) پیا آخرت میں وہ سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں پئے گا ‘ (محروم رہے گا) ۔
طیالسی نے صحیح سند سے اور نسائی نے اور ابن حبان نے اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا اور اگر جنت میں پہنچ بھی گیا تب بھی اس کو ریشمی لباس نہیں ملے گا۔
ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ تم میں سے ہر ایک کو طوبیٰ کے پاس لے جایا جائے گا۔ طوبیٰ کے شگوفے اس کے لئے کھل جائیں گے (اور شگوفوں کے اندر سے لباس برآمد ہوگا) جو کوئی جس طرح کا لباس لینا چاہے گا لے لے گا ‘ خواہ سفید کا خواستگار ہو یا سرخ کا یا سبز کا یا زرد کا یا سیاہ کا (یہ لباس خوبصورتی میں) گل لالہ کی طرح ہوگا بلکہ اس سے بھی زیادہ نرم اور حسین۔
حضرت کعب ؓ : کا بیان ہے کہ اگر جنت کے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا دنیا میں پہن لیا جائے تو جو کوئی اس کو دیکھے گا بےہوش ہوجائے گا۔ صابونی نے المأتین میں بیان کیا ہے کہ جنتی آدمی جب حلۂ بہشتی پہنے گا تو فوراً ایک ساعت میں اس کے ستّر رنگ بدل جائیں گے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہو کر وہاں کی نعمتوں سے راحت اندوز ہوگا تو نہ اس کا لباس کبھی پرانا (فرسودہ) ہوگا نہ شباب فنا ہوگا۔
Ayah 22:24وہدوا الی الطیب من القول وہدوا الی صراط الحمید۔ اور (جنت میں یہ نعمتیں اس
لئے ملیں گی کہ دنیا میں) ان کو کلمۂ طیب (پر ایمان کی) ہدایت ہوگئی تھی اور اس (خدا) کے راستہ پر چلنے کی توفیق مل گئی تھی جو مستحق حمد ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا طیب قول سے مراد ہے لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِکی شہادت۔ جس کی ہدایت ان کو دنیا میں مل گئی تھی۔ سدی نے کہا پاکیزہ قول سے مراد ہے قرآن مجید۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی جنت کے اندر ان کو پاکیزہ کلام کی ہدایت ملے گی مطلب یہ کہ وہ جنت میں پہنچ کر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ ۔۔ پڑھیں گے۔
صِرَاطِ الْحَمِیْدِسے مراد ہے اللہ کا راستہ یعنی اسلام اور حمید سے مراد اللہ کی ذات ہے جو فی نفسہ مستحق ستائش ہے یا صراط الحمید سے راہ جنت مراد ہے یعنی آخرت میں ان کو جنت کے راستہ پر چلنے کی توفیق دی جائے گی۔
Ayah 22:25ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ اور جو شخص اس میں یعنی حرم میں کسی خلاف
دین کام کا قصد ظلم (یعنی شرک و کفر) کے ساتھ کرے گا تو ہم اس کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ فیہ کی ضمیر مسجد حرام کی طرف راجع ہے خواہ اس سے کعبہ مراد ہو یا عام حرم۔ الحاد مفعول ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور بِ زائد ہے جیسے تُنْبِتُ بالدُّہْنِمیں بِ زائد ہے (کیونکہ انبات خود متعدی ہے) اعمش شاعر کا قول ہے ضَمِنَتْ بِرِزقِ عِیَالِنَا اَرْمَاحُنَا اس میں بھی بِ زائد ہے بِظُلْمٍکا تعلق یُّرِدْ سے ہے۔
بخاری نے صحیح میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مستحق نفرت تین آدمی ہیں (1) حرم میں بےدینی کرنے والا۔ (2) اسلام (کے دور میں) جاہلیت کا طریقہ چاہنے والا۔ (3) کسی کا ناحق خون بہانے کا طلب گار۔
رزین نے اپنی کتاب میں اور بیہقی نے المدخل میں اور ترمذی و حاکم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ (طرح کے لوگ) ہیں جن پر میں نے بھی لعنت کی ہے اور اللہ نے بھی اور ہر غیر مقبول الدعا پیغمبر نے بھی۔ (1) اللہ کی کتاب میں (اپنی طرف سے) اضافہ کرنے والا۔ (2) تقدیر الٰہی کا انکار کرنے والا۔ (3) زبردستی حاکم بن جانے والا کہ جس کو اللہ نے ذلیل کیا ہے اس کو عزت دے دے اور جس کو خدا نے عزت دی ہے اس کو ذلیل کر دے۔ (4) اللہ کے حرم کو حلال بنانے والا۔ (5) میری عترت (اولاد و نسل کے قتل و غارت و تذلیل) کے تعلق سے جو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو حلال قرار دینے والا۔ (6) میرے طریقے کو ترک کرنے والا۔
حاکم نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بھی مرفوعاً یہ حدیث بیان کی ہے۔
مذکورۂ بالا دونوں حدیثیں بتارہی ہیں کہ مسجد حرام سے مراد حرم ہے کیونکہ حرم کو حلال سمجھنا اور وہاں بےدینی کرنا مطلقاً حرام ہے خواہ مسجد کعبہ کے اندر ہو یا باہر۔
الحاد لغت میں کجی ‘ ایک جانب کو جھکاؤ اور سیدھے راستے سے کٹ جانے کو کہتے ہیں مجاہد اور قتادہ کے نزدیک اس جگہ شرک اور غیر اللہ کی پرستش مراد ہے بعض علماء نے کہا کہ تمام ممنوعات کا ارتکاب مراد ہے خواہ قولی ہو یا فعلی ‘ یہاں تک کہ خادم کو گالی دینا بھی اس میں داخل ہے۔ عطا نے کہا بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونا اور حرم کے اندر خلاف حرمت حرم کوئی کام کرنا (مثلاً شکار کرنا یا حرم کے درخت کو) کاٹنا مراد ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حرم میں الحاد یہ ہے کہ جو شخص تم کو قتل نہ کر رہا ہو تم اس کو قتل کر دو اور جو شخص تم پر ظلم نہ کر رہا ہو تم اس پر ظلم کرو۔ ضحاک کا قول بھی یہی ہے۔
مجاہد نے کہا مکہ کے اندر گناہ کا درجہ بھی (باہر کے گناہ کے مقابلے میں) چند گنا ہوجاتا ہے جیسے حرم کے اندر نیکیوں کا درجہ چند گنا ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا وہ (یعنی صحابہ) کہتے تھے کہ اگر کسی شخص نے گناہ کا صرف ارادہ کیا اور ارتکاب نہیں کیا تو اس کے اعمالنامے میں گناہ نہیں لکھا جائے گا لیکن اگر کسی شخص کو مکہ میں قتل کرنے کا ارادہ کسی نے کیا اور جس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے وہ عدن میں ہے یا کسی اور شہر میں ہے تو ایسا ارادہ کرنے والے کو اللہ عذاب الیم کا مزہ چکھائے گا (گویا مکہ کے اندر گناہ کا ارادہ بھی گناہ کے حکم میں ہے اور مستوجب سزا ہے) سدی نے کہا اللہ اس کو عذاب الیم کا مزہ چکھائے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے (تو ارادۂ گناہ پر مؤاخذہ نہ ہوگا) ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ کے دو خیمے تھے ایک حل میں لگا ہوا تھا دوسرا حرم کے اندر جب گھر والوں کو آپ کچھ سخت سست کہنا چاہتے تھے تو حل والے خیمہ میں جا کر کہتے تھے لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا ہم اپنی گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ حرم کے اندر کلا واللّٰہ اور بلی واللّٰہ کہنا بھی الحاد (بےدینی) ہے۔
Ayah 22:26واذا بوانا لابراہیم مکان البیت اور جب ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ معین کردی۔ یہ ترجمہ
زجاج کے قول کے موافق کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے کہا لابراہیم میں لام زائد ہے اس صورت میں ترجمہ اس طرح ہوگا اور جب ہم نے ابراہیم کو کعبہ کے مقام پر ٹھہرایا ‘ اتارا۔
قاموس میں ہے بَوَّأَہٗ منْزِلاً اور فِی الْمَنْزل کسی جگہ اس کو اتارا۔ المبأۃ منزل۔ (فرودگاہ مکان ‘ مقام) واقعہ (تاریخی) یہ ہوا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے طوفان کے زمانے میں کعبہ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا ‘ پھر جب اللہ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تعمیر کعبہ کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم حیران ہوئے اور آپ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کعبہ کا مقام کہاں ہے اور کہاں بناؤں بحکم خدا ایک تند آندھی آئی جس کی وجہ سے کعبہ کے خطوط اساسی پر پڑی ہوئی ریت اور مٹی ہٹ گئی اور آپ کو کعبہ کی بنیادیں معلوم ہوگئیں۔ کذا قال البغوی۔
بیہقی نے دلائل میں اور ابن ابی حاتم نے سدی کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ نے ایک ہوا بھیجی تھی جس کو ریح خجوج کہتے ہیں اس ریح خجوج کے دو بازو (اڑنے والے) اور ایک سر تھا اور سانپ جیسی شکل تھی اس ہوا نے کعبہ کے گرداگرد زمین کو الٹ دیا اور کعبہ کی اساس اوّل برآمد ہوگئی۔
بغوی نے کلبی کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے مسافت کعبہ کے بقدر ایک ہوا بھیجی ‘ جو کعبہ کے مقام پر آکر کھڑی ہوئی ‘ اس کے اندر سر تھا جو کہہ رہا تھا ابراہیم میری مقدر کے برابر عمارت بناؤ۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اسی مقدار کے بموجب تعمیر کی۔
ان لا تشرک بی شیئا وطہر بیتی للطآئفین والقآئمین والرکع السجود۔
کہ ساجھی نہ بنانا میرا کسی چیز کو اور پاک کردینا میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام کرنے والوں کے لئے اور رکوع ‘ سجدہ کرنے والوں کے لئے۔
بَوَّأناکے اندر قول کا معنی ہے ‘ یعنی ہم نے حکم دیا کہ میری عبادت میں کسی بت وغیرہ کو ساجھی نہ بنانا۔ بیتی میں اضافت بیت کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے (ورنہ اللہ کا کوئی گھر نہیں وہ ہر مکان سے پاک ہے) وہ تجلیات خداوندی کی خصوصی فرودگاہ ہے۔
مجدد الف ثانی نے فرمایا کعبہ اگرچہ ایک جسمانی چیز ہے لیکن ایسی حقیقت کے مشابہ ہے جو بےکیف ہے کیونکہ کعبہ کی دیواریں ‘ چھت انتہائی گہرائی تک زمین اور انتہائی چوٹی تک آسمان کوئی بھی قبلہ نہیں ہے اگر اس مٹی چھت اور دیواروں کو ہٹا کر کہیں اور لے جائیں تب بھی قبلہ وہی رہے گا جو اب ہے جہاں دیواروں اور پتھروں کو منتقل کر کے پہنچایا جائے گا وہ جگہ قبلہ نہیں بن جائے گی۔ حقیقت میں قبلہ ایک بےکیف اور بےجسم چیز ہے جہاں انوارِ الٰہیہ کا نزول ہوتا ہے اور تجلیات کا پَر تو پڑتا ہے۔
الْقَآءِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِسے مراد ہیں نمازی ‘ یہ تینوں نماز کے اجزاء ہیں اور چونکہ ہر جزء کے لئے طہارت مقام ضروری ہے اس لئے ہر جز کا مستقلاً ذکر کردیا اور بغیر سجدے کے رکوع شرعاً عبادت میں شمار نہیں کیا جاتا اس لئے الرُّکَّعِ السَّجُوْدِکے درمیان حرف عطف نہیں ذکر کیا۔ شیعہ کہتے ہیں کہ نماز کے اندر صرف پیشانی رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا کافی ہے۔
Ayah 22:27واذن فی الناس بالحج اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ۔
بغوی نے لکھا ہے ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو جب اعلانِ حج کا حکم دیا گیا تو آپ نے عرض کیا میری آواز کیسے پہنچے گی ‘ اللہ نے فرمایا تمہارا کام اعلان کرنا اور پکارنا ہے اور پہنچانا میرا ذمہ ہے۔ حضرت ابراہیم مقام ابراہیم پر کھڑے ہوئے فوراً وہ مقام اٹھ کر بلند ترین پہاڑ کے برابر ہوگیا ‘ حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں رکھ کر چہرے کو دائیں بائیں اور مشرق کی طرف گھماتے ہوئے کہا لوگو ! تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور تم پر اس کا حج کرنا فرض کردیا ہے ‘ اپنے رب کی دعوت کو قبول کرو (قیامت تک جو حج کرنے والے ہیں) سب نے باپوں کی پشت اور ماؤں کے پیٹوں کے اندر سے لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَکہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سب سے پہلے لبیک کہنے والے اہل یمن تھے ‘ اسی لئے یمنی لوگ سب سے زیادہ حج کرتے ہیں۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے کوہ بوقبس پر چڑھ کر ندا دی تھی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت میں الناس سے مراد اہل قبلہ ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے حسن کا خیال ہے کہ اَذِّنْ فِی النَّاس بالْحَجِّ علیحدہ کلام ہے (حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اس میں مخاطب نہیں ہیں بلکہ) اس میں رسول اللہ ﷺ : کو خطاب کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ حجۃ الوداع میں لوگوں کو حج کے لئے بلائیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ دیا اور فرمایا ‘ لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے حج کرو۔ رواہ مسلم۔ احمد اور نسائی اور دارمی نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔
یاتوک رجالا (ندا کرو گے تو) لوگ پیدل چل کر حج کو آئیں گے۔ یہ آئندہ واقعہ کا بیان ہے اس سے
ان لوگوں پر حج کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی جن کو سواری میسر نہیں ہے۔ داؤد ظاہری وغیرہ اپنے قول پر اس سے استدلال نہیں کرسکتے۔ داؤد ظاہری اور مالکیوں کے نزدیک اس شخص پر بھی حج فرض ہے جس کو سواری نہ مل سکے۔ سورة آل عمران کی آیت وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً کی تفسیر کے ذیل میں سواری اور زاد راہ کی تفصیل ہم نے کردی ہے۔
مسئلہ جو شخص پیدل چل سکتا ہو اس کیلئے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزیک پیدل چل کر حج کرنا افضل ہے کیونکہ پیدل چل کر آنے کا ذکر سوار ہو کر آنے سے پہلے کیا پھر پیدل چل کر آنے میں جسمانی دکھ بھی زیادہ اٹھانا پڑتا ہے اور خضوع و عجز کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی ہو تو رسول اللہ ﷺ نے پیدل حج کرنا اس پر واجب قرار دیا ہے اور اگر پیدل حج نہ کرسکے تو قربانی کو واجب قرار دیا ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدل حج (اصل) طاعت ہے اور وہ طاعت کا ادنیٰ درجہ استحباب اور افضلیت ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ حج کے لئے سوار ہو کر آنا افضل ہے کیونکہ پیدل آنے میں بہت سی عبادتوں میں خلل پیداہو جائے گا اور اسلام میں رہبانیت کا جواز نہیں۔
وعلی کل ضامر اور ہر مشاق سفر اونٹنی پر سوار ہو کر۔ ضامر دبلا ‘ لاغر جو کثرت سفر کی وجہ سے دبلا ہوگیا ہو
مراد مشاق سفر۔
ابن جریر نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ حاجی سوار نہیں ہوتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور زاد راہ ساتھ لینے کا حکم دے دیا اور سوار ہو کر آنے اور سفر حج میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
یاتین من کل فج عمیق جو دور دراز راستوں سے پہنچیں گی۔
ضامر کا لفظ اگرچہ مذکر ہے لیکن معنی کے لحاظ سے مؤنث ہے لفظ کل کی اس کی طرف اضافت کی گئی ہے اس لئے یاتینبصیغۂ مؤنث ذکر کیا۔
Ayah 22:28لیشہدوا منافع لہم تاکہ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں۔
منافع دنیوی اور دینی فوائد جو حج سے مخصوص طور پر ان کو حاصل ہوتے ہیں۔ امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین نے اور سعید بن مسیب نے فرمایا منافع سے اس جگہ مراد ہے عفو و مغفرت۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور (دوران حج میں) نہ فحش کلمہ نہ زبان سے نکالا نہ گناہ کیا ‘ وہ ایسا (بےگناہ ہو کر) لوٹے گا جیسا پیدا ہونے کے وقت تھا۔ متفق علیہ۔ سعید بن جبیر کے نزدیک منافع سے مراد تجارت ہے ‘ زید کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا یہی قول آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے منافع کا ترجمہ لفظ اسواق (بازار) سے کیا تھا مجاہد نے کہا تجارت بھی مراد ہے اور وہ تمام دنیوی اور اخروی امور مراد ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے۔
ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومات علی ما رزقہم من بہیمۃ الانعام
اور مقررہ دنوں میں یعنی قربانی کے ایام میں (قربانی کے) چوپایوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں۔
اللہ کا نام یاد کرنے سے بطور کنایہ جانور کی قربانی کرنا ہے بصورت ذبح ہو یا بصورت نحر کیونکہ اللہ کا نام ذبح کے وقت لئے بغیر کوئی ذبیحہ حلال نہیں ہوتا۔ اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔
اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍسے اکثر مفسرین کے نزدیک ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں معلومات کہنے سے ان دنوں کی گنتی جاننے کی ترغیب دینا مقصود ہے ‘ کیونکہ اس عشرے کے خاتمہ پر حج کا وقت آتا ہے۔ عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ ” ایام معلومات “ سے مراد ہے عرفہ کا ‘ قربانی کا دن اور ایام تشریق مقاتل نے ایام معلومات کو صرف ایام تشریق کہا ہے ایک روایت میں حضرت علی ؓ : کا قول آیا ہے کہ ان ایام سے مراد ہے قربانی کا دن اور تین روز اس کے بعد کے بہیمۃ الانعام یعنی قربانی کے جانور جو کعبہ کی طرف بھیجے جاتے ہیں خواہ قربانی واجب ہو یا مستحب۔ آیت میں کوئی قید نہیں۔ تقرب حاصل کرنے کی اس میں ترغیب ہے اور اس امر پر تنبیہ ہے کہ یاد الٰہی کا تقاضا پورا کیا جائے۔
امام شافعی (رح) نے اسی آیت کی روشنی میں کہا ہے کہ سواء دم الاحصار (اگر حاجی کو احرام باندھنے کے بعد راستہ میں کوئی دشمن روک دے اور کعبہ تک نہ پہنچنے دے تو جہاں اس کو روکا گیا ہو اسی جگہ احرام کھول دینا اور ارادۂ حج ملتوی کردینا اور قربانی کردینا چاہئے یہ دم الاحصار کہلاتا ہے) حاجی ہر قربانی صرف انہی ایام میں کرے گا یوم النحر اور تین روز اس کے بعد۔
ہم کہتے ہیں ایام معلومات کی قید اتفاقی ہے (عام قربانی مقررہ ایام میں ہی ہوتی ہے) ضروری اور احترازی نہیں ہے اور ہم مفہوم مخالف کے قائل نہیں ہیں (کہ جو قربانی ایام معلومات میں نہ ہو وہ ناجائز قرار دیں) اور آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے (حضرت علی ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ کے اقوال الگ الگ ہیں) ہم کہتے ہیں ہدی نافلہ ‘ نذر اور کفارہ کی قربانی کے لئے شرط نہیں کہ یوم النحر اور اس کے بعد تین دن میں ہی کی جائے۔ کیونکہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حدیبیہ کے سال ماہ ذیقعدہ میں رسول اللہ ﷺ نے ستّر اونٹ قربانی کے لئے لے کر چلے تھے اور عمرہ کے ارادہ سے چلے تھے یوم النحر تک مکہ میں قیام کا ارادہ بھی نہ تھا اور حضور ﷺ نے ان اونٹوں کی قربانی کی ‘ حضور ﷺ : کا یہ عمل صراحتاً بتارہا ہے کہ ہدی نافلہ کی قربانی ذیقعدہ میں بھی جائز ہے اور جب یوم النحر کے سوا دوسرے ایام میں نافلہ قربانی کا جواز حضور ﷺ کے عمل سے ثابت ہے تو معلوم ہوا کہ ایسی قربانی طاعت ہے (جو موجب ثواب ہے) اور ہر طاعت نافلہ نذر کی وجہ سے واجب ہوجاتی ہے ‘ پس نذر والی قربانی ایام النحر کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے اسی طرح شکار کرنے کی سزا بلکہ ہر جنایت کے کفارہ میں جو قربانی کی جائے وہ یوم النحر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کیونکہ ہر جرم کا کفارہ ایک طرح کی عبادت ہے۔ پھر اللہ نے شکار کی سزا میں جس قربانی کا حکم دیا ہے اس کے متعلق ہدیًا بالغ الکعبۃ فرمایا۔ یوم النحر کی قید نہیں لگائی اور کتاب اللہ اگر مطلق ہو تو اس کو اپنی طرف سے مقید نہیں کیا جاتا مطلق کو مقید بنانا تو اطلاق کا نسخ ہے (تخصیص یا بیان نہیں ہے) ہاں دم قران و تمتع یوم النحر کے ساتھ مخصوص ہے (کسی اور دن نہیں ہوسکتا) بلکہ دم احصار بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف یوم النحر کے ساتھ مخصوص ہے۔ امام ابو یوسف (رح) و محمد (رح) اس سے اختلاف کرتے ہیں دونوں مسئلوں کی تحقیق سورة بقرہ کی آیات وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَہَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ۔۔ فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِتک تفسیر کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
فکلوا منہا سو اس میں سے کھاؤ۔ یہ امر باتفاق علماء استحبابی ہے وجوب کے لئے نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) کے
نزدیک یہ امر اباحت کے لئے ہے (یعنی اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے مستحب یا واجب نہیں ہے) وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہ اجازت اس خیال کو زائل کرنے کے لئے دی گئی جس میں اہل جاہلیت مبتلا تھے اور اپنی قربانیوں کا گوشت کھانا جائز نہیں سمجھتے تھے۔
مسئلہ علماء کا اتفاق ہے کہ ہدی نافلہ (نفل قربانی) کا گوشت قربانی پیش کرنے والے کو کھانا جائز ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی طویل حدیث جو حجۃ الوداع کے بیان میں اس کی شاہد ہے اس روایت میں ہے کہ حضرت علی یمن سے کچھ اونٹ قربانی کے لئے لے کر آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹ بھیج دیئے تھے ‘ حضور نے تریسٹھ اونٹ ذبح کئے پھر حسب الحکم باقی اونٹ حضرت علی ؓ نے ذبح کئے۔ ذبح کرنے میں حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ : کو شریک کرلیا پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لے کر ہانڈی میں ڈال کر پکایا جائے حکم کی تعمیل کی گئی۔ پھر حضور ﷺ نے اور حضرت علی ؓ نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ رواہ مسلم۔
اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ اپنی (نافلہ) قربانی کا گوشت کھانا مستحب ہے ورنہ ہر اونٹ کے گوشت کا پارہ لینے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ایک ہی اونٹ کے گوشت کو لے لینا کافی تھا۔
مسئلہ شکار کے جرم کے عوض جو قربانی کی جائے اس کے گوشت کو قربانی کرنے والے کے لئے کھانا باتفاق علماء جائز نہیں۔ شکار کے عوض قربانی شکار کا بدلہ ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے فجزاء مثل ما قتل من النعم ‘ اس آیت میں مثل صوری مراد ہے یا (مثل معنوی یعنی) اس کی قیمت ‘ یہ تفصیل سورة مائدہ میں کردی گئی ہے۔ شکار کا گوشت شکاری کے لئے جائز نہیں اس لئے شکار کے عوض جو قربانی کی جائے اس کا گوشت بھی قربانی کرنے والے کے لئے جائز نہیں۔ اصل حرام ہے عوض بھی حرام ہے ‘ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا یہودیوں پر اللہ کی مار ہو اللہ نے ان کے لئے چربیاں حرام کردیں تھیں۔ انہوں نے چربیاں پگھلا کر فروخت کر کے اس کی قیمت کھائی (یہ حیلہ کیا) متفق علیہ من حدیث جابر۔
اسی طرح امام مالک کے علاوہ جمہور ائمہ کے نزدیک نذر کی قربانی کا گوشت نذر ماننے والے کے لئے جائز نہیں۔
دوران حج میں مختلف جرائم کے ارتکاب سے جو قربانی واجب ہوجاتی ہے اس کا گوشت بھی قربانی دینے والے کے لئے باتفاق ائمہ جائز ہے ‘ حج کو فاسد کردینے کی وجہ سے جو قربانی واجب ہوتی ہے اس کا بھی یہی حکم ہے۔
اسحاق کا مسلک ہے اور ایک روایت میں امام احمد کا بھی یہی قول آیا ہے کہ نذر کی قربانی اور شکار کے جرم کے عوض واجب شدہ قربانی کا گوشت تو قربانی والے کے لئے جائز نہیں ان کے علاوہ ہر قربانی کا گوشت کھا سکتا ہے۔ بخاری نے تعلیق کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ نذر کی قربانی اور تمام قصوروں کی پاداش میں جو قربانیاں دی جاتی ہیں صاحب قربانی کے لئے ان کا گوشت اس لئے ناجائز ہے کہ شکار کی پاداش میں قربانی کا گوشت شکار کرنے والے کے لئے ناجائز ہے اور تمام قصوروں کے سلسلہ میں جو قربانیاں دی جاتی ہیں وہ بھی جرائم کا کفارہ ہی ہیں اس لئے ان کا حکم بھی شکار کے کفارہ کی طرح ہونا چاہئے۔ جس طرح ہر کفارہ کی قربانی پوری کی پوری مستحق کو دینا ضروری ہے اسی طرح ہر جنایت کی پاداش میں جو قربانی کی جائے اس کے تمام اجزاء مستحق کو دینا ضروری ہیں۔
لیکن نذر کی قربانی تو کسی جرم کی پاداش میں نہیں ہوتی اس لئے اس کو شکار کے عوض واجب شدہ قربانی پر قیاس کرنا صحیح ہے۔ البتہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ نذر کی قربانی بھی پوری کی پوری مستحق کے پاس پہنچنا ضروری ہے (اس لئے اس کا کوئی ٹکڑا بھی نذر کرنے والا نہیں کھا سکتا) ۔
مسئلہ عام قربانی کا گوشت باتفاق ائمہ قربانی کرنے والا بھی کھا سکتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل ظاہر ہے کہ قربانی عبادت وطاعت ہے رسول اللہ ﷺ نے قربانیوں کے متعلق فرمایا تھا کہ کھاؤ اور کھلاؤ اور بچا کر اندوختہ بنا کر بھی رکھ سکتے ہو۔ یہ روایت صحیح ہے حضرت سلمہ بن اکوع کی روایت سے صحیحین میں مذکور ہے۔ امام شافعی (رح) اور دوسرے علماء بھی جواز کے قائل ہیں۔ کیونکہ ان حضرات کے نزدیک قربانی مسنون مستحب ہے اور نافلہ قربانی کا گوشت بہرحال حلال ہے۔
مسئلہ تمتع اور قرآن کے متعلق اختلاف ہے امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک اس کو کھانا جائز ہے کیونکہ یہ بھی ذبیحۂ عبادت ہے اور حضرت جابر کی روایت ہم نقل کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا پکوا کر کھایا تھا اور اس کا شوربہ پیا تھا اور حضرت علی : ؓ کو بھی اس میں شریک کیا تھا۔
ابن جوزی نے سنن میں عبدالرحمن بن ابی حاتم کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تمتع کی قربانی کا جتنا گوشت کھا لیں سو کھالیں اور کھانے سے جو بچ رہے اس کو خیرات کردیں) اس روایت سے بھی ذبیحۂ تمتع کو کھانے کا جواز صراحۃً ثابت ہو رہا ہے۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک تمتع اور قرآن کا ذبیحہ قربانی کرنے والے کے لئے ناجائز ہے بلکہ کسی واجب قربانی کا گوشت قربانی کرنے والے کے لئے جائز نہیں خواہ نذر کی قربانی ہو یا کسی اور وجہ سے واجب ہوئی ہو امام شافعی (رح) نے اپنے مسلک کے ثبوت میں تین حدیثیں پیش کی ہیں ایک وہ جو حضرت ناجیہ خزاعی نے غزوۂ حدیبیہ کے موقع کی بیان کی ہے دوسری حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کردہ حدیث۔ تیسری حضرت ذویب بن طلحہ کی حدیث ہم نے سورة بقرہ کی آیت فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمَرَۃِ اِلَی الْحَجِّکی تفسیر کے ذیل میں یہ تینوں احادیث اور ان کے جواب نقل کردیئے ہیں۔ ظاہر آیت سے قربانی کے گوشت کو کھانے کا جواز معلوم ہوتا ہے خواہ قربانی واجب ہو جیسے تمتع اور قرآن کی قربانی یا نفل ہو کیونکہ الفاظ میں کوئی قید نہیں اجماع کی وجہ سے نذر کی قربانی کو اس عموم جواز سے خارج کردیا گیا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ نذر قربانی کے جواز و عدم جواز کا مسئلہ حج سے غیر متعلق ہے آیت حج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں شکار کرنے کی سزا میں جو قربانی واجب ہوتی ہے بلکہ ہر وہ قربانی جس کا وجوب بطور کفارہ ہوتا ہے اس کا تعلق ضرور حج سے ہے لیکن اس آیت میں وہ مراد نہیں ہے۔ مسلمانوں کے حال کا تقاضا ہے کہ حج میں خلاف شرع کوئی جرم ہی نہ کرے کرے اپنے حج کو پاک رکھے اس لئے کسی جنایت کے کفارے کی قربانی کا اس آیت سے تعلق ہی نہیں ہے۔
واطعموا البآئس الفقیر۔ اور بدحال محتاج کو کھلاؤ۔ الْبَاءِسَ ۔ بوئسوالا۔ بوئس سخت محتاجی۔