Ayah 22:39اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا اب (لڑنے کی) ان لوگوں کو اجازت دے دی گئی جن سے (کافروں کی
طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو جہاد کرنے اور کافروں سے لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر کا بیان ہے کہ مکہ کے مشرک ‘ صحابہ کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے تھے ‘ صحابہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کسی کا سر پھٹا ہوتا کوئی زخمی ہوتا کوئی پٹ کر آتا سب لوگ حضور ﷺ سے شکایت کرتے کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے ‘ حضور ان کو تسلی دیتے اور فرماتے صبر رکھو ابھی مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اس کے بعد یہ آیت (ہجرت کے بعد) مدینہ میں نازل ہوئی۔
عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ بزار ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے کہ کچھ اوپر ستّر آیات میں قتال کی ممانعت کے بعد اجازت قتال کی یہ سب سے پہلی آیت نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر کی روایت سے اور عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری کی روایت سے بھی اس کو تخریج کیا ہے۔ بغوی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان خاص لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو جانے کے خیال سے نکلے تھے اور کافر ان کے لئے سنگ راہ بن کر رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔ اس آیت میں اللہ نے ان کو کافروں اور رکاوٹ پیدا کرنے والوں سے لڑنے کی اجازت دے دی۔
بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا یعنی کافروں نے چونکہ ان پر زیادتیاں کی ہیں اور ناحق ایذائیں پہنچائی ہیں اس لئے ان کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ مظلومیت کو اس آیت میں اجازت قتال کی علت قرار دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ (جن کافروں میں ظلم کرنے کی قوت نہیں ان سے مسلمانوں کا لڑنا اور ان کو قتل کرنا بھی جائز نہیں پس) حربی کافروں کی عورتوں کو قتل کرنا باتفاق ائمہ ناجائز ہے ہاں اگر وہ مسلمان کے خلاف مشورہ دینے میں مددگار ہوں یا مالدار ہوں اور اپنے مال سے کافروں کی مدد کر رہی ہوں تو ان سے بھی جہاد کرنا جائز ہے اور ان کو قتل کرنا درست ہے۔
اسی طرح ناکارہ بوڑھے ‘ سادھو ‘ راہب ‘ نابینا ‘ اپاہج ‘ لنگڑے ‘ لولے کسی کو قتل کرنا جائز نہیں (امام شافعی (رح) : کا ایک قول اس کے خلاف آیا ہے) ان لوگوں کو قتل نہ کرنے کا حکم اس وقت ہے جب مسلمانوں سے لڑنے کے مشوروں اور تدبیروں میں شریک نہ ہوں اور اپنی دماغی اسکیموں سے مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد نہ کرتے ہوں ورنہ بالاتفاق ان کا قتل جائز ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مرتد عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ قید رکھا جائے گا اور اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک وہ توبہ نہ کرلے یا قید ہی میں مر نہ جائے۔
امام مالک ‘ (رح) : امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک ارتداد کے حکم میں عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں ‘ دونوں کو قتل کیا جائے گا۔ ہماری دلیل حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ رواہ الشیخان۔
حضرت رباح بن الربیع کا بیان ہے ہم ایک جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تھے ‘ حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ کسی چیز پر جمع ہیں آپ نے ایک آدمی کو بھیجا جو دیکھ کر آئے کہ کس چیز پر سب لوگ جمع ہیں اس نے آکر اطلاع دی ایک مقتول عورت ہے جس پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے فرمایا یہ تو قتال نہیں کرتی تھی (یعنی مسلمانوں سے لڑنے کی اہل نہ تھی پھر کیوں اس کو قتل کیا گیا) ہر اوّل دستے کے کمانڈر اس وقت حضرت خالد ؓ بن ولید تھے آپ نے ایک آدمی بھیج کر ان کو کہلوایا کہ کسی عورت کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی مزدور (قلی) کو۔ رواہ ابو داؤد۔ (اس حدیث میں لفظ عسیف کا ترجمہ شیخ فانی بھی کیا گیا ہے) ۔ مذکورہ حدیث میں لفظ امرأۃ نکرہ ہے یعنی عام عورت کو خواہ کوئی ہو قتل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس میں کافرہ بھی شامل ہے اور مرتدہ بھی۔ اس حدیث میں عورت کو قتل نہ کرنے کی علت یہ بتائی کہ وہ لڑتی نہیں (یعنی قتال و جنگ کی اہل نہیں) حنفیہ کہتے ہیں کسی عمل کی سزا و جزا کا اصل مقام نووار آخرت ہے ‘ دنیا میدان عمل ہے اللہ نے فرمایا ہے (لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) دین میں جبر نہیں ‘ یہ دنیا امتحان کا مقام ہے نتیجہ کی جگہ نہیں اب جو کچھ بعض اعمال کی حدود اور سزائیں اس زندگی میں دی جانے کے ضوابط مقرر کردیئے مثلاً قصاص ‘ چوری ‘ شراب خواری ‘ زنا ‘ تہمت زنا وغیرہ کی سزائیں سو ان میں ہمارے ہی فائدے مضمر ہیں اور ہماری ہی مصالح کا ان سے تعلق ہے جان ‘ مال ‘ آبرو ‘ نسب اور عقل کی حفاظت مقصود ہے۔ مرتد کو قتل کرنے کا وجوب اسی وقت ہوگا جب اس کی جنگی شرارت اور قتال سے مسلمانوں کی حفاظت مقصود ہو۔ یہ قتل اس کے کافر ہونے کی سزا نہیں کفر کی سزا تو بہت بڑی ہے جو آخرت میں ملے گی۔ پس جو صنف قتال کی اہل ہے یعنی مرد اگر مرتد ہوجائے تو اس کے شر سے بچنے کے لئے اس کو قتل کرنا ضروری ہوجائے گا اور جو صنف قتال کی اہل نہیں یعنی عورت اس کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ خواہ وہ اصلی کافرہ ہو یا مرتدہ۔ اسی لئے حربی کافروں کی عورت کو قتل کرنے سے حضور ﷺ نے ممانعت فرما دی۔ اگر کافر کا قتل کفر کی سزا ہوتی تو قتل کے بعد اس کا کفر سے پاک ہوجانا ضروری ہوجائے گا جیسے قصاص کے بعد اس قاتل کی تطہیر ہوجاتی ہے۔ پس مقتول کافر کو آخرت میں نجات یافتہ ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے۔
مرتد عورت کے قتل کو واجب قرار دینے والے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ جو (مسلمان) اپنا مذہب بدل دے اس کو قتل کر دو ۔ رواہ البخاری من حدیث ابن عباس۔ طبرانی نے معجم کبیر میں بروایت بہز بن حکیم اور الاوسط میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی اس مضمون کی حدیثیں بیان کی ہیں۔ ان احادیث میں ہر مرتد کو قتل کردینے کا حکم ہے خواہ مرد ہو یا عورت لفظ عام ہے۔
حنفیہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ مرتد کو قتل کردینے کا حکم مخصوص البعض ہے دوسری احادیث میں عورتوں کو اس حکم سے الگ کردیا گیا ہے اس لئے مرتد سے مراد مرتد مرد ہوگا۔ اگر عموم ہی مراد ہو تو پھر لازم آئے گا کہ جو کافر کفر کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائے یا یہودیت چھوڑ کر عیسائی بن جائے اس کو بھی قتل کردینے کا حکم ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے معلوم ہوا کہ مَنْ بَدَّلِ دْیَنہٗ کا لفظ اپنے عموم پر نہیں ہے۔ دوسری احادیث اس کی مخصص ہیں۔
میں کہتا ہوں (مذکورہ الفاظ کے ساتھ حدیث مذکور کا جواب تو حنفیہ نے دے دیا) لیکن حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ جو شخص مسلمانوں میں سے اپنا مذہب بدل دے اس کو قتل کر دو ۔ (اس روایت میں تبدیل دین کرنے والے مسلمان کو واجب القتل قرار دیا ہے اس لئے کفر چھوڑ کر مسلمان ہونے والوں یا دوسرے مذاہب کا باہم تبادلہ کرنے والوں پر حدیث کا حکم لاگو ہی نہیں ہوتا۔
حافظ ابن حجر نے کہا حاکم کی روایت کردہ حدیث کے سلسلہ میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی واقع ہے جو مختلف فیہ ہے (کچھ علماء نے اس کو مجروح کہا ہے) ۔
قتل مرتدہ کے جواز کے قائل کہتے ہیں کہ حضرت جابر کی روایت سے منقول ہے کہ ایک عورت اس کو اُمِّ مروان کہا جاتا تھا مرتد ہوگئی رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اگر توبہ کرے تو خیر ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ دارقطنی نے اس کو دو طریقوں سے روایت کیا ہے ایک طریق میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اس عورت نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا ‘ اس لئے اس کو قتل کردیا گیا۔ حافظ ابن حجر نے کہا روایت کے دونوں طریق ضعیف ہیں۔ ابن ہمام نے لکھا اوّل روایت عمر بن رواحہ کی وجہ سے کمزور ہے اور دوسری روایت عبداللہ بن ادینہ کی وجہ سے۔ ابن حبان نے کہا اس کی حدیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
ایک اور حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ احد کے دن ایک عورت اسلام سے پھر گئی رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے توبہ کرائی جائے اگر انکار کرے تو قتل کردی جائے۔ اس حدیث کی سند میں محمد بن عبدالملک واقع ہے جس کو علماء نے واضع الحدیث کہا ہے پھر مذکورہ احادیث ان دوسری احادیث کے بھی خلاف ہیں جو دوسرے طریقوں سے مروی ہیں۔ دارقطنی نے بروایت ابن عباس تخریج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے۔ اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن علیس جزری ہے جس کو دارقطنی نے کذاب واضع الحدیث کہا ہے۔
ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے تخریج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت مرتد ہوگئی مگر حضور ﷺ نے اس کو قتل نہیں کرایا ‘ یہ روایت حفص بن سلیمان راوی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
طبرانی نے معجم میں حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ان کو (یعنی حضرت معاذ کو) جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف (گورنر بنا کر) بھیجا تو فرمایا ‘ جو مرد اسلام سے پھر جائے اس کو پھر اسلام کی طرف بلانا ‘ اگر وہ توبہ کرلے تو توبہ قبول کرلینا ‘ اگر توبہ نہ کرے تو گردن مار دینا اور جو عورت اسلام سے پھر جائے تو اس کو اسلام کی دعوت دینے اور اگر توبہ کرلے تو قبول کرلینا اور اگر انکار کرے تو اس کو (اس کے حال پر) قائم رکھنا۔
امام ابو یوسف (رح) نے بروایت امام ابوحنیفہ از عاصم بن ابی لبخود از ابو رزین بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر عورتیں مرتد ہوجائیں تو ان کو قتل نہ کیا جائے بلکہ قید کردیا جائے اور اسلام کی دعوت دی جائے اور مسلمان ہونے پر مجبور کیا جائے (یعنی اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں جبر کرنے کا مطلب مارنا پیٹنا اور آب و دانہ بند کردینا نہیں) بلاغات محمد میں بھی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے ایسا ہی آیا ہے۔
عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ ایک عورت عیسائی ہوگئی۔ حضرت عمر ؓ نے حکم دیا اس کو ایسی جگہ لے جا کر فروخت کر دو ۔ جہاں اس پر محنت و مشقت کرنے کا بار پڑے ایسی جگہ فروخت نہ کرنا جہاں اس کے ہم مذہب لوگوں کی آبادی ہو ‘ چناچہ دومۃ الجندل میں لے جا کر اس کو فروخت کردیا گیا (غالباً یہ عورت باندی ہوگی کیونکہ حرہ کی بیع تو صحیح نہیں ہے) ۔
دارقطنی نے حضرت علی ؓ : کا قول بیان کیا ہے کہ (مرتد) عورت سے توبہ کرائی جائے قتل نہ کی جائے۔ اس کی سند میں ایک شخص جلاس ہے جس کی وجہ سے یہ سند کمزور ہوگئی۔
مسئلہ اگر کسی حربی کی عورت کو امام قتل کردینے کا حکم دے دے تو عورت اصلی کافرہ ہو یا مرتدہ بہرحال امام کی مصلحت کے پیش نظر ایسا حکم جائز ہے۔ سورة الفتح کی تفسیر میں ہم نے لکھ دیا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے مقرر کردہ مسلمان سرداروں کو حکم دے دیا تھا کہ جب مکہ میں داخل ہو تو سوائے اس شخص کے جو تم سے جنگ کرے اور کسی کو قتل نہ کرنا ‘ لیکن چند آدمیوں کے نام لے کر فرما دیا تھا کہ ان کو (ضرور) قتل کردینا خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے نیچے ہوں۔ ہم نے تفسیر سورة کے موقع پر ان کے نام بھی ذکر کردیئے ہیں ان میں کچھ عورتیں بھی تھیں (جن کو قتل کرنے کی ہدایت فرما دی تھی) عبداللہ بن احظل کی دو گائی کہ باندیاں قرینہ اور قرنہ۔ چناچہ قرینہ تو قتل کردی گئی اور قرنہ مسلمان ہوگئی۔ دونوں عورتیں پہلے مرتد ہوچکی تھیں ایک عورت عمر بن ہاشم کی آزاد کردہ باندی تھی اور ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی۔ یہ دونوں اصلی کافر تھیں اور فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئیں۔ واللہ اعلم۔
واناللہ علی نصرہم لقدیر۔ اور بلاشبہ قطعاً اللہ ان کو فتح یاب کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ پہلے مسلمانوں سے وعدہ فرمایا تھا کہ ہم کافروں کی طرف سے ایذاؤں کو دور کردیں گے اس آیت میں فتح یاب کرنے کا وعدہ ہے۔
Ayah 22:40الذین اخرجوا من دیارہم (ان لوگوں کے لئے اجازت جہاد دی گئی) جن کو ان کے گھروں سے نکال
باہر کردیا گیا۔ یعنی مکہ والے گھروں سے نکال دیا گیا۔
بغیر حق ناحق۔ (محض ظلم سے جلا وطن کیا گیا) ۔
الا ان یقولوا ربنا اللہ (جلاوطن کرنے کا ان کو کوئی حق نہ تھا) سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے
اور ظاہر ہے کہ اللہ کو رب کہنا کوئی جرم نہیں کہ جس کی پاداش میں ان کو جلا وطن کیا جاتا مگر کافروں کے خیال میں تو یہ بہت بڑا جرم تھا۔ آیت (رَبُّنَا اللّٰہک) ہنے کو کافروں کے خیال کے بموجب جرم قرار دیا ہے۔ آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ کافروں کو کوئی حق نہ تھا کہ مسلمانوں کو جلاوطن کرتے اگر ان کے خیال میں کوئی جرم تھا تو ایسا جرم تھا کہ اس کا جرم نہ ہونا ظاہر ہے۔ عرب کہتے ہیں فلاں شخص میں کوئی بھلائی نہیں اگر کوئی بھلائی ہے تو یہ ہے کہ وہ محسن کش ہے جو اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے وہ اس کے عوض برائی کرتا ہے۔ گویا یہ دعویٰ مع دلیل ہے کافروں نے جلا وطن کیا اس حق کی بنا پر کہ مسلمان اللہ کو اپنا رب کہتے ہیں اور واقع میں یہ خوبی ہے برائی نہیں اس سے کافروں کو مسلمانوں کے گھر چھین لینے اور جلا وطن کرنے کا حق نہیں پیدا ہوجاتا معلوم ہوا کہ ظلماً جلا وطن کیا۔ یہی بلیغ اسلوب بیان آیت وَمَا مِنَّا تَنْقِمُ الاَّ اَنْ اٰمَنَّاتو ہم سے انتقام نہیں لیتا مگر اس بات کا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں میں ہے ایک شاعر نے کہا ہے۔
وَبَلْدَۃٍ لَیْسَ بِہَا انیسٌ اِلاَّ الْیَعَافِیْرُ وَاِلاَّ الْعِیْسٌ
اور شہر جس میں سوائے ہر نوں اور خاکی رنگ کے اونٹوں کے اور کوئی انیس نہیں ہے (اور ظاہر ہے کہ ہر نوں اور اونٹوں سے آدمی کی وحشت میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ چیزیں تو وحشت افزا ہیں انس آفریں نہیں) ۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ الاَّ اَنْ یَّقُوْلُوْا میں استثناء منقطع ہے اور الاَّ بمعنی لکن کے ہے لیکن اس سبب سے ان کو نکالا گیا تو وہ کہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے۔ حالانکہ یہ بات حق ہے یا یوں کہا جائے کہ مستثنیٰ منہ محذوف ہے یعنی کسی اور وجہ سے نہیں نکالا صرف رَبَّنَا اللّٰہ کہنے کی وجہ سے نکالا۔ حالانکہ یہ بات حق ہے۔
ولو لا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع وبیع وصلوت ومسجد
اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا تو تارک الدنیا درویشوں کی خانقاہیں اور عیسائیوں کے گرجا اور یہودیوں کے عبادت خانے 1 [1 ثابت بن عرفجہ تابعی نے کہا مجھ سے عبداللہ اور علی کے 27 ساتھیوں نے کہا حضرت علی ؓ نے فرمایا لَوْ لاَ دَفع اللّٰہ الناس۔۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول
اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے ذریعے اللہ دوسروں کو دفع کرنا چاہتا تو عبادت خانے ڈھا دیئے جاتے۔ یہ نصرت الٰہیہ کا وعدہ ہے ] اور مسلمانوں کی مسجدیں ڈھا دی جاتیں۔ یعنی اگر اللہ کافروں پر مسلمانوں کو اقتدارو تسلط نہ عطا کرے تو یہ سارے عبادت گھر تباہ کردیئے جائیں (ہر مذہب والا دوسرے مذہب والوں کے عبادت خانہ کو ڈھا دے) مجاہد اور ضحاک نے کہا صوامع سے مراد ہیں تارک الدنیا درویشوں کے عبادت خانے ‘ خانقاہیں۔ قتادہ نے کہا صابیوں کے عبادت گھر مراد ہیں۔ بیع بیعۃ کی جمع ہے۔ عیسائیوں کے گرجا۔ صَلَوٰتِ یہودیوں کی عبادت گاہیں۔ عبرانی زبان میں یہودیوں کے عبادت خانوں کو صلوٰت کہا جاتا تھا۔ مساجد سے مراد ہیں مسلمانوں کی مسجدیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا تو ہر نبی کے دور میں اس کی امت کے عبادت خانے ڈھا دیئے جاتے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے عہد میں صابیوں کے عبادت گھر۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں عیسائیوں کے گرجے اور صابیوں کے عبادت خانے (اور یہودیوں کے عبادت گھر) اور عہد محمدی ﷺ میں مسجدیں۔
یذکر فیہا اسم اللہ کثیرا (وہ مسجدیں) جن کے اندر اللہ کا ذکر بہت کیا جاتا ہے۔ فیہا کی ضمیر یا
مساجدکی طرف راجع ہے یا چاروں مذکورہ عبادت خانوں کی طرف۔
ولینصرن اللہ من ینصرہ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی (یعنی اس کے دین کی) مدد کرے گا۔
ان اللہ لقوی عزیز بیشک اللہ قوت والا (اور) غلبہ والا ہے۔ یعنی ان کو فتح یاب کرنے کی قوت رکھتا ہے
اور ایسا غالب ہے کہ اس کے غلبہ کو روکا نہیں جاسکتا۔ یہ سابق وعدہ کی تاکید ہے۔
Ayah 22:41الذین ان مکنہم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر وہ کہ جب ہم ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں گے تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کا حکم
کریں گے اور برائی سے باز داشت کریں گے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جماؤ ‘ قوت اور اقتدار عطا کرنے کا وعدہ ہے بظاہر یہ جملہ شرطیہ ہے لیکن واقع میں شرط بمعنی خبر ہے اور جملہ خبریہ ہے۔
آیت میں مؤمنوں کے جن اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف خلفاء راشدین ہی میں موجود تھے۔ گویا یہ دلیل ہے خلفاء راشدین کی خلافت راشدہ کی۔ دوسرے مہاجرین کو کامل اقتدار عطا نہیں کیا گیا اس لئے یہ سب مہاجرین مفہوم آیت کے مصداق نہ تھے اور معاویہ مہاجر ہی نہ تھے ان کے لئے بھی یہ بشارت نہیں ہوسکتی۔ یہ تفسیری مطلب اس وقت ہوگا جب الَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ ۔۔ کو اُخْرِجُوْاکی صفت (تقییدی) مانا جائے۔ لیکن بعض اہل تفسیر نے کہا ہے کہ الَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ ۔۔ مَنْ یَّنُصُرُہٗسے بدل ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا ‘ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کریں گے یعنی ان لوگوں کی مدد کرے گا کہ اللہ جب ان کو قتدار عطا کرے گا تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے الخ اور اس میں شک نہیں کہ اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا۔ خلفاء راشدین کی مدد کی عرب کے جباروں ‘ عجم کے شہنشاہوں اور روم کے پر جبروت جراروں پر فتح عنایت فرمائی ‘ کافروں کے ملک ان کو عطا فرما دیئے (یہ صلہ تھا اس بات کا کہ انہوں نے بھی اللہ کے دین کی مدد کی ‘ نمازیں قائم کیں ‘ قانون زکوٰۃ نافذ کیا۔ زکوٰۃ دی اور دلوائی خصوصاً حضرت ابوبکر ؓ نے منکرین زکوٰۃ کے خلاف لشکر کشی کی اور کامیاب ہوئے اور ہر طرح کی برائی کی بیخ کنی بقوت ایمانی نتبلیغ لسانی اور بزور شمشیر کی) ۔
وللہ عاقبۃ الامور۔ اور تمام امور کا نتیجہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ تمام امور کا رجوع اللہ کے فیصلہ کی
طرف ہے۔ اس کلام میں وعدۂ سابقہ کی تاکید ہے (کہ چونکہ ہر کام کا نتیجہ اللہ ہی کے دست قدرت میں ہے اس لئے وہ مہاجرین مذکور الصدر کو کامیاب ضرور فرمائے گا) ۔
Ayah 22:42وان یکذبوک اور (اے محمد : ﷺ ‘ یہ کفار مکہ) اگر آپ کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔
فقد کذبت قبلہم قوم نوح وعاد وثمود۔ تو (آپ رنجیدہ نہ ہوں غم نہ کریں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے) اس سے پہلے بھی قوم نوح (نوح کو) اور قوم عاد (ہود کو) اور قوم ثمود (صالح کو)
Ayah 22:43وقوم ابراہیم وقوم لوط۔ اور قوم ابراہیم (ابراہیم ( علیہ السلام) کو) اور قوم لوط (لوط کو)
Ayah 22:44واصحب مدین وکذب موسیٰ اور مدین والے (شعیب کو) جھوٹا قراردے چکے ہیں اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے۔ یہ سارا کلام اپنے اندر رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین رکھتا ہے۔ ہر پیغمبر کی تکذیب اس کی قوم نے جس کی ہدایت کے لئے اس کو بھیجا گیا تھا کی تھی۔ لیکن حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی تکذیب بنی اسرائیل نے نہیں کی جو آپ کی قوم تھی۔ بلکہ قوم فرعون نے کی جو قبطی تھی اس لئے اسلوب عبارت بدل دیا گیا۔ تمام امتوں کے لئے کَذَّبَتْ (اقوام انبیاء نے انبیاء کی تکذیب کی) فرمایا اور حضرت موسیٰ کے ذکر میں (کذب) موسیٰ کی تکذیب کی گئی ہے فرمایا کس نے تکذیب کی اس کا ذکر نہیں کیا۔
یا یوں کہا جائے کہ حضرت موسیٰ کے معجزات بہت واضح تھے اس لئے آپ کے ان معجزات کی موجودگی میں تکذیب زیادہ قابل مذمت اور شنیع تھی ‘ اس لئے سب سے الگ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر کیا۔
فاملیت للکفرین ثم اخذتہم فکیف کان نکیر۔ سو میں نے کافروں کو مہلت دی (کچھ
مدت تک عذاب ٹالے رکھا) آخر ان کو دھر پکڑا تو میرا انکار کیسا ہوا (کیسا رنگ لایا) کہ نعمت کو تکلیف سے ‘ آبادی کو بربادی سے اور زندگی کو ہلاکت سے بدل دیا۔ یہ استفہام سوال کے لئے نہیں ہے (اللہ کو سب کچھ معلوم ہے اس کو سوال کرنے کی ضرورت نہیں ) ۔ بلکہ تعجب آفرینی یا ہولناکی کے اظہار یا بیان عذاب کو پختہ کرنے کے لئے ہے (کہ عذاب برمحل نازل کیا گیا) ۔
Ayah 22:45فکاین من قریہ اہلکنہا وہی ظالمۃ فہی خاویۃ علی عروشہا اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا کیونکہ وہ ظالم تھیں سو اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ بستیوں کو تباہ کردیا ‘ یعنی بستیوں والوں کو کیونکہ وہ لوگ ظالم تھے۔ (ظلم کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو بےجگہ رکھنا) انہوں نے بھی مشرکانہ پوجا کو اللہ کی عبادت کے قائم مقام بنا لیا تھا اللہ کا انکار کرتے تھے اور بتوں کو مانتے تھے۔ فہی پس وہ یعنی ان کے مکانوں کی دیواریں چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان کے اوپر سے دیواریں آپڑیں۔ اس مطلب پر عَلٰی عُرُوْشِہَاکا تعلق خاویۃٌسے ہوگا۔ اور خاویۃٌ کا مطلب ڈھنے والی یا گرنے والی یا خاویۃ کا معنی ہے خالی ‘ ویران۔ اس وقت عَلٰی عُرُوْشِہَاکا تعلق قائمۃ یا کائنۃ محذوف سے ہوگا ‘ یعنی وہ بستیاں ویران پڑی ہیں اور اپنی چھتوں سمیت کھڑی ہیں (مکان ویران ہوگئے ان میں رہنے والا کوئی موجود نہیں چھتیں دیواروں پر قائم ہیں) یا یہ مطلب ہے کہ چھتیں گرگئیں اور دیواریں ان پر جھکی ہوئی ہیں ٹیڑھی ہوگئی ہیں۔
وبئر معطلۃ اور بہت سے کنویں (یعنی بہت سے کنوؤں والوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور کنویں) بیکار پڑے رہ گئے (کوئی ان سے پانی کھینچنے والا ہی نہیں رہا) ۔
وقصر مشید۔ اور بہت سے مضبوط محل ہم نے برباد کردیئے۔ یعنی محلوں میں رہنے والوں کو تباہ کردیا۔
قتادہ ‘ ضحاک اور مقاتل نے مشید کا ترجمہ کیا اونچے ‘ بلند۔ شَادَ بِنَاہُ (اس کی عمارت کو اونچا کیا) عربی محاورہ ہے۔ سعید بن جبیر ‘ عطا اور مجاہد نے کہا شید کا معنی ہے چونہ ‘ گچ ‘ مصالحہ اس لئے مشید کا ترجمہ ہوا چونے اور گچ سے چنے ہوئے۔ (مضبوط) ۔
بغوی نے لکھا ہے بِءْرٍ مُّعَطَّلَۃٍاور قَصْرٍ مَّشِیْدٍدونوں یمن میں تھے ‘ قصر پہاڑ کی چوٹی پر تھا اور کنواں دامن گوہ میں ‘ ہر ایک کے مالک کچھ لوگ تھے۔ بڑے عیش و راحت میں غرق لیکن جب انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے ان کو تباہ کردیا۔ قصر اور کنواں ویران ہوگیا۔
ابوروق نے ضحاک کے حوالے سے بیان کیا وہ کنواں حضرموت کے ایک شہر میں تھا۔ شہر کا نام حاصورا تھا۔ یہ شہر ان چار ہزار مؤمنوں نے آباد کیا تھا جو حضرت صالح کے ہم رکاب حضرموت میں آگئے تھے اسی حضرموت میں حضرت صالح کی وفات ہوگئی اسی لئے اس بستی کو حضرموت کہنے لگے (یعنی حضرت صالح یہاں آئے اور یہیں مرگئے) آپ کی وفات کے بعد لوگوں نے (ایک حصار فصیل قائم کردی یعنی) حاصورا کی تعمیر کی اور کنویں پر مستقل قیام کرلیا اور اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص کو امیر اور حاکم بنا لیا مدت دراز تک رہتے رہے نسلیں بڑھیں اور آبادی وسیع ہوگئی۔ آخر کچھ لوگ بگڑ گئے اور بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے حنظلہ بن صفوان کو نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت حنظلہ قلی تھے لوگوں کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے ‘ آپ نے نصیحت کی۔ قوم نے نصیحت نہ مانی ‘ تکذیب کی اور بازار میں آپ کو قتل کردیا ‘ نتیجہ میں اللہ نے ان کو بھی تباہ کردیا ‘ ان کے محل ویران اور کنویں بیکار پڑے رہ گئے۔
Ayah 22:46افلم یسیروا فی الارض فکتون لہم قلوب یعقلون بہا او اذان یسمعون بہا۔ سو کیا یہ (منکر) لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ ان سے سمجھنے لگتے اور ایسے کان ہوجاتے جن سے وہ سننے لگتے۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْاکا عطف ایک محذوف فعل پر ہے پورا کلام اس طرح ہوگا کیا یہ لوگ گھروں سے نہیں نکلے اور ملک میں گھومے پھرے نہیں۔
یَعْقِلُوْنَ بِہَا یعنی ایسے دل ہوتے جن سے وہ ان امور کو سمجھتے جن کو سمجھنا لازم ہے ‘ یعنی ان کو بصیرت حاصل ہوتی جن سے اللہ کی توحید کامل کو سمجھتے۔
اَوْ اٰذَانٌ۔۔ یا ان کے کان ہوتے جن سے حق کی آواز سنتے۔ گویا ملک میں چلنے پھرنے کا نتیجہ یہ نکلتا کہ توحید کو سمجھنے والی بصیرت حاصل ہوتی اور نداء حق سننے والے کان۔
فانہا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ بات یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ وہ دل نابینا ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ یعنی ان کی آنکھیں بینائی سے محروم نہیں ہیں کہ اقوام ہالکہ کے فرسودہ آثار قدیمہ سفر کے دوران ان کو دکھائی نہ دیں مگر ان کی نظر عبرت اندوز نہیں ہے۔ آیات توحید کو دیکھتے ہیں اور توحید کا عقیدہ نہیں رکھتے دلائل حق کو سنتے ہیں مگر دماغ میں ان کو جگہ نہیں دیتے۔ وجہ یہ ہے کہ آنکھیں بینا ہونے کے باوجود ان کے دل نابینا ہیں وہ فاقد البصر نہیں ‘ فاقد البصیرت ہیں اور دل بھی وہ جو سینوں میں ہیں (یعنی دلوں سے مراد قوت مدرکہ نہیں بلکہ وہ دل مراد ہیں جو مرکز ایمان ہوتے ہیں جو نور توحید کو دیکھتے ہیں) ۔
آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ حقیقی نابینائی آنکھ کا اندھا پن نہیں بلکہ کور بصیرت ہونا ہے۔
قتادہ نے کہا آنکھ کی بینائی (مرئی تک) پہنچنے اور فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ ہے اور دل کی بینائی حقیقت میں فائدہ بخش بینائی ہے۔
رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے کہ دل کا نابینا ہونا بدترین اندھا پن ہے (رواہ البیہقی فی الدلائل و ابن عساکر عن عقبۃ بن عامر الجہنی وابو النصر السنجری فی الابانۃ عن ابی الدرداء ورواہ الشافعی (رح) : عن ابن مسعود ؓ موقوفاً ) ۔
آیت میں دل کی نابینائی سے مراد ہے دل کے تمام آلات علم و شعور کا مفقود ہوجانا گویا یوں فرمایا ان کے دلوں کی آنکھیں نابینا اور کان بہرے ہوگئے ہیں۔ (یعنی نابینائی سے صرف نابینائی ہی مراد نہیں جو آنکھوں کا عارضہ ہے بلکہ گوش قلب کا بہرا ہوجانا بھی اس میں داخل ہے 1 ) ۔
بیضاوی نے لکھا ہے جب آیت وَمَنْ کَانَ فِی ہٰذِہٖ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰینازل ہوئی تو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں دنیا میں نابینا ہوں تو آخرت میں بھی نابینا رہوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں ابن ابی حاتم نے بھی قتادہ کا قول (اسی سے ملتا جلتا) نقل کیا ہے۔ قتادہ نے فرمایا ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن زائدہ یعنی ابن ام مکتوم کے حق میں نازل ہوئی۔
Ayah 22:47ویستعجلونک بالعذاب اور (جس عذاب کی ان کو وعید سنائی جا رہی ہے اس) عذاب کا نزول یہ لوگ
آپ سے جلد چاہتے ہیں۔ اس جملہ میں کافروں کے دلوں کے نابینا ہونے کا ایک طرح کا ثبوت پیش کیا گیا ہے جو شخص عذاب میں مبتلا ہوجانے کا فوری خواستگار ہو وہ دل کا اندھا ہی ہوگا۔
بغوی نے لکھا ہے یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازل ہوئی جس نے دعا کی تھی اے اللہ اگر یہ (جو محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں) تیری طرف سے حق ہے (اور یہ سچے ہیں اور ہم کو اس سے انکار ہے) تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔
ولن یخلف اللہ وعدہ اور ہر اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ کی دی ہوئی خبر کے
خلاف ہونے ممکن نہیں۔ اللہ نے جس عذاب کی وعید ان کو دی ہے وہ لامحالہ آکر رہے گا خواہ کچھ مدت کے بعد آئے۔ اللہ فوری سزا نہیں دیتا اس کا حکم بہت بڑا ہے۔ چناچہ یہ وعید عذاب بدر کے دن پوری ہوگئی۔ اس آیت سے بظاہر ثابت ہو رہا ہے کہ جس طرح (ثواب کے) وعدے کا پورا نہ ہونا محال ہے ‘ اسی طرح عذاب کی وعید کے خلاف ہونا ناممکن ہے۔ (لیکن کیا اس سے اللہ کی صفت مغفرت معدوم ہوجائے گی کیونکہ گناہوں پر وعید اور نیکیوں پر ثواب کا وعدہ جب پورا ہو کر رہے گا تو پھر گناہوں کی مغفرت کی کیا گنجائش باقی رہتی ہے) حقیقت یہ ہے کہ آیات عذاب بعبارت قرآن و حدیث و باجماع علماء ناقابل مغفرت فرقہ کے ساتھ مخصوص ہیں (یعنی مشرکوں پر عذاب ضرور آئے گا جو شرک پر مرگیا ہو یا اللہ کے علم میں ہو کر شرک پر مرے گا اس کا عذاب میں مبتلا ہونا یقینی ہے اس کو اللہ کی صفت مغفرت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ باقی دوسرے گناہ گار تو ان کو عذاب میں مبتلا کرنے کا کوئی قطعی وعدہ نہیں اس لئے ان کی مغفرت ممکن ہے ان کی مفرت سے وعید الٰہی کا کذب لازم نہیں آتا) ۔
وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن (یعنی قیامت
کا دن لمبائی میں) تم لوگوں کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ عطا کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کا معنی یہ بیان کیا کہ اللہ کے پاس ایک دن اور تمہارے ایک ہزار سال مہلت دینے کے برابر ہیں کیونکہ اللہ قادر ہے جب چاہے گا پکڑ لے گا کوئی چیز اس کے قبضہ سے باہر نہیں ہے تاخیر کی وجہ سے کوئی چیز اللہ کے دست قدرت سے باہر نہیں ہوسکتی۔ عذاب کو فوراً نازل کردینا اور کچھ مدت مؤخر کردینا دونوں باتیں اس کی قدرت کے لئے مساوی ہیں بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جس عذاب موعود کے یہ لوگ فوری طلبگار ہیں اس کا ایک دن شدت تکلیف اور طول میں انسانوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے سچ ہے غم کے دن لمبے ہوتے ہیں اور خوشی کے دن چھوٹے۔ پھر ایسے عذاب کے لئے یہ فوری طلبگار کیوں ہیں جس کا ایک ہزار دن برس کے برابر ہے۔
بعض اہل علم نے کہا یہ اللہ کے علم کی انتہاء کا اظہار ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا لیکن اس نے عذاب کو اس دن تک مؤخر کر رکھا ہے جو تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا (یعنی قیامت کا دن) ۔ مجاہد و عکرمہ نے کہا ایام آخرت کا ایک دن (تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا) اس کی تائید حضرت ابو سعید خدری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے فقراء مہاجرین کے گروہ تم کو بشارت ہو کہ قیامت کے دن کو نور کامل حاصل ہوگا تم جنت کے اندر مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوگے اور تمہارے رب کا ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا۔ رواہ احمد ‘ ترمذی نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اور اس کو حسن کہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے اندر فقراء دولت مندوں سے پانچ سو برس اور آدھا دن پہلے داخل ہوں گے۔ رواہ الترمذی۔
Ayah 22:48وکاین من قریۃ املیت لہا وہی ظالمۃ ثم اخذتہا والی المصیر۔ اور بہت سی بستیوں
والوں کو میں نے مہلت دی اور وہ (تمہاری طرح) بےجا حرکتیں کرنے والے (کافر) تھے پھر میں نے ان کو دھر پکڑا اور میرے ہی (حکم کی) طرف (ان کو) لوٹ کر آنا ہوا یا لوٹ کر (سب کو) آنا ہے۔
اس آیت میں شہادت پیش کی گئی ہے اس امر کی کہ اللہ اپنی وعید عذاب کے خلاف نہیں کرتا اور تاخیر عذاب سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ عذاب آئندہ نہیں آئے گا تاخیر عذاب اللہ کا دستور حکم ہی ہے دیکھو بہت سی ظالم بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جن کو فوری عذاب میں مبتلا نہیں کیا گیا مہلت اور ڈھیل دی گئی اور آخر ان کو پکڑ لیا گیا۔
Ayah 22:49قل یایہا الناس انما انا لکم نذیر مبین۔ (اے محمد ﷺ ! کفار مکہ سے آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم کو کھول کر
(اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔ یعنی عذاب لے آنے پر قادر نہیں ہوں واضح الفاظ میں وعید عذاب سنانا میرا کام ہے۔
( رسول اللہ ﷺ بشیر بھی تھے اور نذیر بھی پھر صرف نذیر ہونے کا کیوں حکم دیا گیا)
مشرکین ہی عذاب آنے کی جلدی مچاتے تھے اور خطاب کا رخ بھی انہی کی طرف تھا اہل ایمان کے ثواب کا ذکر تو کافروں کے غصہ اور بھڑکانے والا تھا اس لئے صرف نذیر کا ذکر کیا نذیر کے ساتھ بشیر نہیں فرمایا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بشارت سے تخویف مقدم ہوتی ہے بشارت تو صرف فرماں برداروں کے لئے ہوتی ہے اور تخویف دونوں فریقوں کے لئے عام ہے۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے جو (پیام) مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی اور میری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے اپنی قوم کو آکر (متنبہ کیا اور) کہا میں نے اپنی آنکھوں سے (دشمن کے) لشکر کو (پہاڑ کے اس طرف) دیکھا ہے اور میں تمہارے لئے نذیر عریاں ہوں پس جلدی کرو۔ جلدی کرو (اور بھاگو بھاگو) کچھ لوگوں نے اطلاع دینے والے کی بات مان لی اور رات سے ہی چل دیئے اور فرصت کو غنیمت سمجھ کر روانہ ہوگئے اور بچ گئے اور کچھ لوگوں نے اس کے کہے کو سچا نہ جانا اور صبح تک وہ اپنی جگہ پر رہے نتیجہ یہ نکلا کہ صبح کو (دشمن کے) لشکر نے ان پر حملہ کردیا سب کو غارت کردیا اور ان کی جڑ اکھاڑ کر رکھ دی۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے میرا کہا مانا اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر چلے اور ان لوگوں کی جنہوں نے میرا کہا نہ مانا اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اس کی انہوں نے تکذیب کی۔
Ayah 22:50فالذین امنوا وعملوا الصلحت لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ پس جن لوگوں نے (میرے
لائے ہوئے پیام کو) مان لیا اور نیک کام کئے (یعنی جن کاموں کا میں نے حکم دیا اس کی انہوں نے تعمیل کی) انہی کے لئے (گزشتہ گناہوں کی) معافی ہے اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام ان (گناہوں) کو ڈھا دیتا ہے جو پہلے کئے ہوئے ہوتے ہیں رواہ مسلم عن عمرو بن العاص۔
Ayah 22:51والذین سعوا فی ایتنا معجزین اولئک اصحب الجحیم۔ اور جو لوگ (رد کرنے کیلئے)
ہماری آیات کے متعلق کوشش کرتے رہتے ہیں (پیغمبر اور اہل ایمان کو) ہرانے کے لئے ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں۔
مُعٰجِزِیْنَیعنی عناد اور سخت مخالفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اپنے خیال میں ہمیں ہرانا چاہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ نہ قیامت ہوگی نہ جنت و دوزخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے قبضہ سے نکل جائیں گے ہم ان پر قادر نہ ہو سکیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ہم سے مقابلہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم پر غالب آجائیں اور ہماری گرفت سے باہر ہوجائیں۔
میں کہتا ہوں معاجزین کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے رسول کو عاجز بنا دینا چاہتے ہیں ‘ پیغمبر ﷺ تو ان کو دوزخ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور وہ جہنم میں (زور کر کے) گھسے جاتے ہیں۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ روشن کی جب آگ خوب روشن ہوگئی اور گردوپیش میں روشنی پھیل گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ میں گرا کرتے ہیں اس میں گرنے لگے وہ شخص پتنگوں اور کیڑوں کو آگ میں گرنے سے روکتا رہا مگر پتنگے اس پر غالب آئے اور آگ میں گھسنے لگے میں بھی اسی طرح تم کو کمر پکڑ پکڑ کر دوزخ میں گھسنے سے روک رہا ہوں اور تم اس کے اندر گھسے پڑتے ہو۔
بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ سے آپ کی قوم والوں نے رخ پھیرلیا اور کلام اللہ سے ان کا دور دور رہنا حضور ﷺ : کو شاق گزرا تو آپ کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش اللہ کی طرف سے کوئی طریقہ ایسا پیدا ہوجاتا جس سے قوم والے آپ کے قریب آجاتے آپ کو قوم والوں کے مسلمان ہوجانے کی بڑی ہی رغبت تھی۔ چناچہ ایک روز آپ قریش کے جلسہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة النجم نازل ہوئی آپ نے لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی جب پڑھتے پڑھتے آیت اَفَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزّٰیِ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی پر پہنچے تو شیطان نے وہ دلی خواہش جو آپ کے سینہ میں پیدا ہوتی رہتی تھی زبان سے نکلوا دی اور (بےارادہ) آپ کی زبان سے آیت مذکور کے بعد نکل گیا تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتَہُنَّ لَتُرْتَجٰی قریش نے جو یہ الفاظ سنے تو بڑے خوش ہوئے اور رسول اللہ ﷺ اپنی تلاوت میں مستغرق رہے اور اس طرح سورة ختم کرلی تو آخر سورة میں سجدہ کیا۔ آپ کے سجدہ کرنے کی وجہ سے تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا اور کعبہ میں جو مشرک موجود تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ کوئی مسلمان یا مشرک بغیر سجدہ کئے نہیں رہا صرف ولید بن مغیرہ اور سعید بن عاص نے سجدہ نہیں کیا اور ایک ایک مٹھی کنکریاں اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لیں (اور بولے ہمارے لئے یہی کافی ہے) بات یہ تھی کہ یہ دونوں بہت بوڑھے تھے سجدہ کرنے کی ان میں طاقت نہ تھی اس کے بعد قریش منتشر ہوگئے اور اپنے معبودوں کا جو ذکر سنا تھا اس سے بڑے خوش تھے اور کہہ رہے تھے اب تو محمد ﷺ نے بھی ہمارے معبودوں کا ذکر اچھے الفاظ میں کردیا ‘ ہم کو اقرار ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہی زندگی اور موت دیتا ہے وہی پیدا کرتا اور رزق دیتا ہے لیکن ہمارے یہ معبود اللہ کے دربار میں ہماری سفارش کریں گے اب جبکہ محمد ﷺ نے بھی ان کو ان کا حصہ دے دیا تو اب ہم محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔
غرض شام ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور کہا محمد ﷺ آپ نے یہ کیا کیا کہ جو کلام میں آپ کے پاس اللہ کی طرف سے لایا تھا ‘ اس کے سوا دوسرے کلام کی لوگوں کے سامنے آپ نے تلاوت کی۔ حضور والا یہ بات سن کر بہت غمگین ہوئے اور آپ کو اللہ (کی طرف سے عتاب) کا بڑا ڈر لگا اس پر اللہ نے آیت (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ ) نازل ہوئی اس میں اللہ نے آپ کو تسلی عطا فرمائی ہے جو صحابی اس زمانہ میں حبش میں تھے ان کو جو اطلاع ملی کہ قریش نے بھی سجدہ کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ قریش مسلمان ہوگئے تو ان میں سے اکثر لوگ اپنے اپنے قبائل میں واپسی کے ارادے سے چل دیئے اور بولے مکہ والوں سے ہمیں محبت ہے لیکن جب مکہ کے قریب پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ اہل مکہ کے مسلمان ہونے کی جو خبر ان کو پہنچی تھی وہ غلط تھی چناچہ یہ لوگ مکہ میں چھپ چھپا کر داخل ہوئے یا کسی کی پناہ لے کر۔
Ayah 22:52وما ارسلنا من قبلک من رسولا ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنتیہ
اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ سے پہلے بھی ہم نے کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں بھیجا مگر (اس کو یہ قصہ ضرور پیش آیا کہ) جب اس نے (اللہ کا کچھ کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں مداخلت ضرور کی۔
بغوی نے لکھا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس کے سامنے رودررو ہو کر جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور نبی وہ ہوتا ہے جس کی نبوت بصورت الہام یا بصورت خواب ہو۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ رسول وہ ہے جس کو نئی شریعت دے کر بھیجا گیا ہو اور نبی کا لفظ عام ہے۔ رسول بھی نبی ہوتا ہے اور وہ شخص نبی ہوتا ہے جس کو سابق شریعت کی دعوت دینے اور اس کی تائید کرنے کے لئے بھیجا گیا ہو جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان اسرائیلی انبیاء تھے اس قول پر ہر رسول کا تو نبی ہونا لازم ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔
حضرت ابوذر ؓ : کا بیان ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے پہلا نبی کون سا ہوا۔ فرمایا آدم ( علیہ السلام) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا آدم نبی بھی تھے فرمایا ‘ ہاں وہ ایسے نبی تھے جن سے کلام کیا گیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مرسل کتنے ہوئے فرمایا ایک بڑی جماعت تین سو اور کچھ اوپر دس۔
حضرت ابو امامہ کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ انبیاء کی پوری گنتی کتنی ہوئی۔ فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ‘ ایک بڑی جماعت۔ ان میں تین سو پندرہ رسول ہوئے۔ رواہ احمد و ابن راہویہ فی مسندیہما وابن حبان فی صحیحہ والحاکم فی المستدرک۔
اِذا تَمَنّٰیکا ترجمہ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے جب اس نے پسند کیا جب اس نے دلی خواہش کی۔ جب اس نے دل ہی دل میں ایسی بات کی جس کا علم اس کو نہیں دیا گیا تھا (تمنی کا صحیح ترجمہ قرء ہے جو ہم نے ترجمۂ آیت کے ذیل میں لکھ دیا ہے) ۔
اَلْقَی الشَّیْطٰنُسے مراد ہے وسوسہ ڈالنا۔ وسوسہ کا راستہ پالینا اور مراد نبی میں (کچھ) ڈال دینا کوئی نبی ایسا نہیں ہوا کہ جب اس نے قوم کے ایمان لانے کی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کوئی ایسی بات نہ ڈال دی ہو ‘ جو اس کی قوم کے لئے دل پسند ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ جب پیغمبر اپنے دل کے اندر اپنی غلط مرغوبات پیدا کرلیتا ہے تو شیطان اس کے دل پسند خیال میں ایسی بات ڈال دیتا ہے جو دنیا میں انہماک کا موجب ہوتی ہے۔
فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے خیال کو نیست و نابود کردیتا ہے یعنی شیطان
کے وسوسہ کو نابود کردیتا ہے ‘ زائل کردیتا ہے۔ پیغمبر کو اس خیال کی طرف جھکنے سے محفوظ رکھتا ہے اور ایساراستہ بنا دیتا ہے کہ شیطانی وسوسہ دور ہوجائے۔
ثم یحکم اللہ ایتہ اس کے بعد اللہ اپنی آیات کو (اور) مضبوط کردیتا ہے۔ یعنی ایسی آیات کو محکم کردیتا ہے
جو امر آخرت میں پیغمبر کے استغراق کا موجب ہوتی ہیں (دنیوی خیال بالکل زائل کردیتا ہے) اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تمنی کا معنی ہے پڑھا اور امنیتہ کا معنی ہے قراءت یعنی پیغمبر نے جب اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے اس کی قراءت میں مداخلت کی۔
حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد ایک شاعر نے کہا
تَمَنّٰی کِتَاب اللّٰہِ اَوَّلَ لَیْلَۃٍ وَاٰخرہَا لاَتٰی حِمَامَ الْمَقَادرِ
شروع رات میں آپ نے کتاب اللہ کی تلاوت کی اور آخر رات میں موت مقدرہ سے ملاقات کی۔
ایک قوی شبہ : رسول اللہ ﷺ : معصوم تھے ‘ اصل دین (قرآن) میں آپ سے غلطی ممکن نہ تھی ‘ اللہ نے فرمایا ہے (لاَ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ ) شیطان اس کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے اسی وجہ سے بیضاوی نے اس سارے قصے کو جو آیت کے نزول کے سلسلہ میں بیان کیا جاتا ہے ‘ ماننے سے انکار کردیا ہے اور صراحت کی ہے کہ اہل تحقیق کی نظر میں یہ ساری داستان غلط ہے۔ لیکن شیخ جلال الدین سیوطی نے کہا ہے کہ اس قصہ کو بزار اور ابن مردویہ اور طبرانی نے (بروایت سعید بن جبیر) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ بزار نے اس قصہ کو صرف اسی اسناد سے متصلاً ذکر کیا ہے ورنہ اور کوئی سند متصل نہیں ہے اور اس متصل سند میں امیہ بن خالد راوی ہیچ کا حلقۂ اتصال ہے اور یہ راوی مشہور ثقہ ہے۔ ابن ابی حاتم ابن جریر اور ابن المنذر نے صحیح سند سے بروایت سعید بن جبیر مرسلاً بیان کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ : مکہ میں تھے کہ سورة والنجم نازل ہوئی اور آپ نے (لوگوں کے سامنے) اس کو پڑھا پڑھتے پڑھتے جب آیت (اَفَرَأَیْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزّٰی وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ ۔ الْاخْرٰی) تک پہنچے تو شیطان نے آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلوا دیئے تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتُہُنَّ لِتُرْتَجٰی۔ مشرک یہ الفاظ سن کر کہنے لگے ‘ محمد ﷺ نے اس سے پہلے تو ہمارے معبودوں کا ذکر کبھی بھلائی کے ساتھ نہیں کیا رسول اللہ ﷺ نے سورت پڑھ کر سجدہ کیا اور مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ اس پر آیت (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُوَلٍ ) نازل ہوئی۔
نحاس نے متصل سند کے ساتھ اس قصہ کی روایت کی حضرت ابن عباس ؓ کی طرف نسبت کی ہے لیکن اس سند میں واقدی راوی ہے (جو غیر معتبر ہے) ۔
ابن مردویہ نے بطریق کلبی ابو صالح از ابن عباس اس کو بیان کیا ہے (اور کلبی غیر معتبر ہے) ۔
ابن جریر نے بحوالۂ عوفی از ابن عباس اس کو بیان کیا ہے۔ محمد بن اسحاق نے السیرۃ میں محمد بن کعب کی روایت سے اور المغازی میں ابن شہاب کی روایت سے اور ابن جریر نے محمد بن کعب و محمد بن قیس کی وساطت سے اور ابن ابی حاتم نے سدی کے حوالہ سے یہ قصہ بیان کیا ہے اور سب روایتوں کا مطلب ایک ہی ہے اور ساری روایتیں یا ضعیف ہیں یا منقطع۔ البتہ سعید بن جبیر کی اوّل الذکر روایت جو بزار ‘ ابن مردویہ اور طبرانی نے نقل کی ہے ضرور متصل اور قوی ہے۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے طرق روایات کی کثرت سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس قصہ کی کچھ اصل ہے (خواہ سارے طریق روایت کمزور ہوں) اور روایت کے دو طریقے ایسے بھی ہیں کہ گو دونوں مرسل ہیں لیکن صحیحین کی شرط کے مطابق ہیں (ان طریقوں سے یہ قصہ مرسلاً ضرور ثابت ہوتا ہے) ایک طبرانی کا بیان کردہ ہے یونس بن یزید از ابن شہاب زہری از ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور دوسرا سلسلۂ روایت بھی طبرانی نے ہی بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہے مقیم بن سلیمان و حماد بن سلمہ از داؤد از ابو ہند از ابوالعالیہ۔
علماء نے مختلف طور پر اس شبہ کا جواب دیا ہے۔ (1) رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ نہیں پڑھے تھے۔ نہ صحابہ نے یہ الفاظ آپ کی زبان سے نکلتے سنے صرف شیطان نے (آپ کی آواز بنا کر) مشرکوں کے کانوں میں یہ الفاظ ڈال دیئے۔ مشرکوں نے خیال کرلیا کہ یہ الفاظ محمد ﷺ نے کہے ہیں۔ (2) قتادہ نے کہا رسول اللہ ﷺ : کی حالت اس وقت نیم بےہوشی کی تھی کہ القاء شیطانی کی وجہ سے یہ الفاظ آپ ﷺ کی زبان سے سہواً نکل گئے۔ لیکن فوراً ہی 1 [1 قاضی عیاض نے شفا میں لکھا ہے کہ کسی صحیح الروایت عالم نے اس قصہ کی تخریج نہیں کی اور نہ کسی متصل صحیح سند سے اس کی روایت ثابت ہے ایسی پُر غرابت
داستانیں مؤرخین اور مفسرین ہی بیان کرتے ہیں جو ہر صحیح و غلط قصہ کتابوں سے نقل کرتے ہیں (اور اصحاب روایت و حدیث کے معیار پر کس کر نہیں دیکھتے کہ یہ سونا ہے یا پتل) سچ کہا ہے قاضی بکر بن علاء مالکی نے کہ بعض اہل ہوا بدعی اہل تفسیر کے پیچھے پیچھے لوگ چلنے لگتے ہیں اور باوجودیکہ روایات کو نقل کرنے والے ضعیف ہوتے ہیں روایت میں بھی اضطراب ہوتا ہے۔ سندیں بھی منقطع ہوتی ہیں اور الفاظ میں بھی اختلاف ہوتا ہے لیکن بےدین ملحد پھر بھی انہی روایات سے چمٹے رہتے ہیں۔ اسی قصہ کے سلسلہ میں اہل روایت کے اقوال مختلف ہیں کوئی کہتا ہے یہ واقعہ نماز کے اندرکا ہے کوئی کہتا ہے اس سورة کے نزول اور تلاوت کے وقت رسول اللہ ﷺ : قوم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے دل میں خود ہی یہ خیال سہواً پیدا ہوا تھا اور اونگھنے کی حالت میں یہ بات ہوگئی بعض قائل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ : کی آواز بنا کر شیطان نے یہ کلمات کہے تھے جب حضور ﷺ : کو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا واللہ اس طرح تو یہ آیات نازل نہیں ہوئی تھیں کسی نے کہا شیطان نے آپ کی زبان سے یہ الفاظ رواں کردیئے تھے اور جب آپ نے جبرئیل کے سامنے یہ کلمات پڑھے تو جبرئیل نے کہا میں نے تو آپ کو یہ الفاظ نہیں پڑھائے تھے۔ اسی داستان کی جس مفسر اور تابعی کی طرف نسبت کی جاتی ہے کسی نے بھی اس کی نسبت کسی صحابی کی طرف نہیں کی اس کے اکثر طرق ضعیف بلکہ پوچ ہیں۔ صرف سعید از ابوالبشر از سعید بن جبیر از ابن عباس کا سلسلہ ضرور مرفوع قرار دیا جاتا ہے (یعنی ابن عباس تک اس کی سند ملائی جاتی ہے) لیکن اس سلسلہ میں شک ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ اس وقت مکہ میں تھے (کعبہ میں یا قوم کی مجلس میں یا منیٰ میں)
ابوبکر بزار نے کہا ہم نہیں جانتے کہ اس حدیث کی کوئی ایسی متصل سند رسول اللہ ﷺ : تک پہنچی ہو جس کا ذکر کرنا جائز ہو۔ صرف سعید بن جبیر والی سند متصل ہے۔ لیکن امیہ بن خالد وغیرہ نے سعید بن جبیر سے یہ روایت مرسلاً بیان کی ہے (یعنی سعید بن جبیر کا بیان قرار دیا ہے) ۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نہیں قرار دیا۔ صرف کلبی نے بحوالۂ ابو صالح اس کو حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کیا ہے) ابوبکر نے کہا اس کے علاوہ اس داستان کا کوئی اور طریق روایت قابل ذکر نہیں ہے کہ یہ سلسلہ بھی کتنا کمزور ہے کلبی کی بیان کردہ احادیث کا تو ذکر بھی جائز نہیں اس کی احادیث انتہائی کمزور ہوتی ہیں کیونکہ یہ مشہور دروغ گو ہے۔
(از مؤلف قدس سرہ)] اللہ نے آپ کو متنبہ فرما دیا۔ یہ قول بھی آیا ہے کہ ایک شیطان نے جس کو ابیض (گورا شیطان) کہا جاتا ہے۔ یہ حرکت کی تھی اور یہ ایک بڑی آزمائش تھی ‘ اللہ اپنے بندوں کی طرح طرح سے آزمائش کرتا ہی ہے۔ اگر شبہ کیا جائے کہ کوئی صورت بھی ہوئی ہو خواہ شیطان نے رسول اللہ ﷺ : کی آواز میں پڑھا ہو اور لوگوں نے سمجھا ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ پڑھے ہیں یا نیم بیہوشی کی حالت میں یہ الفاظ آپ کی زبان سے نکل گئے ہوں بہرحال اگر اس کو مان لیا جائے تو قرآن پر اعتماد ہی فوت ہوجائے گا (کیا معلوم کہ حضور ﷺ نے کس حالت میں اس کو پڑھ کر سنایا اور کیا سنایا یا شیطان نے آپ کی آواز بنا کر پڑھ دیا) ۔
اس شبہ کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ قرآن پر اعتماد کے لئے تو اتنا کافی ہے کہ اللہ نے اس کے بعد خود ہی فرما دیا ہے (فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ) یعنی پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو نابود کردیتا ہے ‘ جو شیطانی الفاظ ہوتے ہیں ان کو زائل کردیتا ہے اور ظاہر کردیتا ہے کہ یہ القاء شیطانی ہے پھر نازل کردہ آیات کو قائم رکھتا ہے اور القاء شیطانی سے ان کو محفوظ بنا دیتا ہے اس پر شبہ نہ کیا جائے کہ آیت فَیَنْسَخُ اللّٰہُ ۔۔ بھی تو قابل اعتماد نہیں ہوگی جب پورا قرآن ناقابل وثوق ہوجائے گا تو یہ آیت کیسے قابل یقین ہوگی۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ عقل وبرہان کا تقاضا ہے کہ جب اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تو اصول دین (قرآن) کو بیان کرنے میں پیغمبر کو ہر غلطی اور نسیان سے ضرور محفوظ بنا دیا ہوگا یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ پیغمبر کو اصول دین کے اظہار میں معصوم و محفوظ ہونا چاہئے اس لئے آیت (فَیَنْسَخُ اللّٰہُ ) اور دوسری تمام محکم آیات اور ضوابط و احکام ناقابل فشک ہیں اللہ نے ان کو محکم بنا دیا ہے تاکہ اہل علم کو معلوم ہوجائے اور وہ یقین رکھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور حق ہیں اور یہ یقین کرلینے کے بعد ان کے دل اللہ کے سامنے جھک جائیں اور خشوع کے ساتھ خوف زدہ ہوجائیں۔
واللہ علیم حکیم۔ اور اللہ خوب جاننے والا (اور) حکمت والا ہے یعنی لوگوں کے احوال اور صلاحیتوں کو
اللہ خوب جانتا ہے جو ہدایت کا مستحق ہوتا ہے اس کو ہدایت یاب کرتا ہے اور جو گمراہی کا مستحق ہوتا ہے اس کو گمراہ کردیتا ہے وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ اللہ نے پیغمبر کے پاس وحی بھیجی اور شیطان نے جو کچھ کرنے کا ارادہ کیا اللہ سب کو خوب جانتا ہے اور چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے شیطان کے القاء کو زائل کردیتا اور ارادۂ شیطان کو ناکام بنا دیتا ہے۔
Ayah 22:53لیجعل ما یلقی الشیطن فتنۃ للذین فی قلوبہم مرض والقاسیۃ قلوبہم
(یہ سارا واقعہ اس لئے کیا گیا) تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ ایسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں شک کا مرض ہے اور جن کے دل (بالکل ہی) سخت ہیں۔ فتنہ یعنی آزمائش اور مصیبت۔ مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ سخت دل والوں سے مراد ہیں مشرک۔
وان الظلمین لفی شقاق بعید۔ اور واقعی یہ ظالم لوگ بڑی مخالفت میں ہیں۔ الظالمین سے مراد ہیں منافق اور مشرک۔ شقاق سے مراد ہے خلافِ حق۔ یا رسول اللہ اور مؤمنوں کی مخالفت اِنَّہُمْکی جگہ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَصراحت کے ساتھ اس لئے کہا گیا تاکہ منافقوں اور مشرکوں کی ناحق کوشی کی صراحت ہوجائے۔