15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

واتینھم ایتنا فکانوا معرضین اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں لیکن وہ نشانیوں سے کترا گئے۔ آیات سے مراد وہ کتاب ہے جو ان کے نبی پر اتاری گئی تھی (یعنی حضرت صالح کے صحیفے) یا پیغمبر کے معجزات مراد ہیں۔ پتھر سے اونٹنی اور اس کے بچے کا برآمد کرنا ‘ اس اونٹنی کا دودھ بکثرت ہونا اور تالابوں کا سارا پانی پی جانا۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

وکانوا ینحتون من الجبال بیوتا امنین وہ لوگ پہاڑ تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔ یعنی نہایت مضبوط مکان بناتے تھے۔ نہ ان کے گرنے کا اندیشہ ہوتا تھا ‘ نہ نقب زنی کا خوف ‘ نہ دشمنوں کی طرف سے ڈھا دینے کا ڈر۔ اٰمِنِیْن کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ انتہائی غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی طرف سے بےخوف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر طرح کے عذاب سے پہاڑوں کے اندر وہ اپنی حفاظت کرسکیں گے۔
Ayah 15:83

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

فاخذتھم الصیحۃ مصبحین پھر ان کو بھی (عذاب کی) ایک سخت آواز نے صبح ہوتے ہی پکڑ لیا (یعنی صبح شروع ہوتے ہی عذاب آگیا) ۔
Ayah 15:84

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے

فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون سو ان کے (دنیوی) ہنر ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے۔ یعنی مضبوط مکانوں کی تعمیر اور مال کی فراوانی اور تعداد کی کثرت ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔ ہم نے سورة توبہ میں غزوۂ تبوک کے بیان کے سلسلہ میں لکھ دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تبوک کو جاتے ہوئے حجر میں سے گذرے تھے اور صحابہ سے فرمایا تھا : جن لوگوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا ‘ تم ان کے گھروں میں اور بستی میں داخل ہو تو روتے ہوئے جانا۔ کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت اونٹنی پر سوار تھے ‘ چادر سے منہ چھپا کر تیزی کے ساتھ اونٹنی کو دوڑاتے ہوئے وادی سے گزر گئے۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

وما خلقنا السموات والارض وما بینھما الا بالحق اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کی درمیانی چیزوں کو بغیر مصلحت کے نہیں پیدا کیا۔ یعنی ہم نے آسمان و زمین کی تخلیق حق کے ساتھ کی ہے تاکہ صانع اور اس کی صفات پر اس سے استدلال کیا جاسکے اور منکروں کے خلاف دلیل قائم ہو سکے اور ان کی ” جہالت “ کے عذر کا ازالہ ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ کائنات (ہم نے اس طرح صحیح بنائی ہے کہ یہ) شر و فساد کے مقتضی نہیں ہے بلکہ حکمت تخلیق کا تقاضا ہے کہ ایسے مفسد اور بربادی آفرین لوگوں کو ہلاک کردیا جائے اور ان کی فساد انگیزی کا خاتمہ کردیا جائے۔ وان الساعۃ لاتیۃ اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے۔ اس روز اللہ مشرکوں اور پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے والوں سے انتقام لے گا۔ فاصفح الصفح الجمیل سو آپ خوبی کے ساتھ درگذر کریں۔ یعنی آپ ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور ان سے انتقام لینے کی جلدی نہ کریں۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے

ان ربک ھو الخلق کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا رب ہی بہت بڑا خالق ہے ‘ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا اور آپ کے دشمنوں کو بھی۔ اسی کے ہاتھ میں تمام امور ہیں۔ العلیم وہی (نیک و بد اور نیکوکار و بدکار کو) خوب جاننے والا ہے۔ پس ہر ایک کو اس کے اعمال کے موافق جزا و سزا دے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ کو اور آپ کے مخالفوں کو خوب جانتا ہے ‘ لہٰذا آپ کو اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کردینا چاہیے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسی نے آپ کو پیدا کیا ہے اور وہی جانتا ہے کہ آپ کیلئے کیا مناسب اور مفید ہے۔ پس اس وقت درگذر کرنا ہی مناسب ہے ‘ آپ درگذکیجئے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے

ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔ اَلْمَثَانِی ‘ مَثْنَاۃٌ کی جمع ہے اور مَثْنَاۃٌ اسم ظرف ہے۔ یا مُثْنِیَۃٌ کی جمع ہے اور مُثْنِیَۃٌ اسم فاعل ہے ‘ بہرحال اس کا موصوف محذوف ہے ‘ یعنی آیات یا سُوَر (سورتیں) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ‘ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود نے فرمایا : سات مثانی سے مراد ہے : سورة فاتحہ جس کی سات آیات ہیں۔ قتادہ ‘ حسن بصری ‘ عطاء اور سعید بن جبیر کا بھی یہی قول ہے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اُمّ القرآن (سورۂ فاتحہ) سات (آیات) ہیں ‘ مثانی (نماز میں بار بار پڑھی جانے والی) اور (یہی) قرآن عظیم ہے۔ مثانی کہنے کی وجوہ متعدد بیان کی گئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ‘ حسن اور قتادہ کے نزدیک نماز میں بار بار یعنی ہر رکعت میں اس کو پڑھا جاتا ہے ‘ اسلئے مثانی کہا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورة فاتحہ کے دو حصے ہیں : نصف تو اللہ کیلئے ہے جس میں اللہ کی ثنا کی گئی ہے اور نصف دعا ہے جو بندہ کیلئے ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے : میں نے (سورۃ) صلوٰۃ (یعنی سورة فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کیلئے آدھا آدھا تقسیم کردیا ہے۔ الی آخر الحدیث۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ حسین بن فضل نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ سورة فاتحہ دو مرتبہ نازل ہوئی ‘ ایک بار مکہ شریف میں اور دوسری بار مدینہ پاک میں۔ ہر مرتبہ ستر ہزار فرشتے سورة فاتحہ کے جلو میں تھے۔ مجاہد نے کہا : مثانی کا معنی ہے : منتخب ‘ چھانٹی ہوئی۔ اللہ نے یہ سورة اس امت کیلئے چھانٹ کر رکھ لی تھی ‘ کسی دوسری امت کو عطا نہیں فرمائی۔ ابو زید بلخی نے کہا : ثَنَیْتُ الْعِنَانَ کا معنی ہے : میں نے لگام کو پھیر دیا ‘ موڑ دیا۔ یہ سورة بھی شریروں اور بدکاروں کو بدکاری سے پھیر دیتی ہے۔ بعض نے کہا : مثانی ‘ ثناء سے ہے۔ اس سورة میں اللہ کی ثناء کی گئی ہے ‘ یعنی اللہ کی عظیم صفات کا بیان ہے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ سبعًا سے مراد ہیں : سات سورتیں اور مِنَ الْمَثَانِی میں مِن بیانیہ ہے (سات سورتیں یعنی مثانی) اور سات سورتوں سے مراد سبع طوال ہیں جن میں سب سے اوّل سورة بقرہ ہے اور سورة انفال و سورة توبہ کا مجموعہ ہے۔ یہ دونوں سورتیں ایک سورت کے حکم میں ہیں ‘ اسی لئے دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی جاتی ‘ سطر خالی چھوڑ دی جاتی ہے۔ بعض نے کہا : سبع طوال میں آخری سورت صرف سورة توبہ ہے۔ بعض کے نزدیک آخری سورت سورة یونس ہے۔ حضرت ابن عباس نے مثانی کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ ان ساتوں سورتوں میں فرائض ‘ حدود ‘ امثال ‘ خیر و شر اور عبرت آفریں الفاظ (وقصص) کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہے۔ (1) [ حضرت عمر بن خطاب نے آیت لَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِی کے ذیل میں فرمایا : یہ یعنی سبع مثانی ‘ سبع طوال (سات طویل سورتیں) ہیں۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور سفیان وغیرہم کی طرف بھی یہ قول منسوب ہے۔ میں کہتا ہوں : مثانی (بایں معنی) تو سارا قرآن ہے ‘ پورے قرآن میں ایک ہی قصہ بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ مفسر (رح) ] یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ مثانی ‘ ثناء سے مشتق ہے۔ قرآن ‘ بلاغت اور اعجاز کے لحاظ سے ثنا کردہ بھی ہے اور اللہ کی صفات کو اس نے بیان بھی کیا ہے ‘ اس لئے ثناء کرنے والا بھی ہے۔ محمد بن نصر نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے توریت کی جگہ مجھے سبع طوال عطا فرمائی ہیں اور انجیل کی جگہ الّرٰ والی سورتیں طٰسٓ والی سورتوں تک عطا فرمائی ہیں اور زبور کی جگہ طٰسٓ سے حٰمٓ والی سورتوں تک عنایت کی ہیں اور حٰمٓ والی سورتیں مزید عطا فرمائی ہیں اور مُفَصَّلات کو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھا (یعنی مجھے خاص طور پر مفصلات عطا فرمائی ہیں) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سبع طوال عطا کی گئیں (سات طویل سورتیں عطا کی گئیں) اور حضرت موسیٰ کو چھ عطا کی گئیں ‘ پھر جب حضرت موسیٰ نے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں تو دو سورتیں اٹھا لی گئیں ‘ چار باقی رہ گئیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سبع مثالی سے حٰمٓ والی سات سورتیں مراد ہیں۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ثوبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے توریت کی جگہ مجھے سبع طوال عطا فرمائیں اور انجیل کی جگہ مِءَیْنِ عطا فرمائیں اور زبور کی جگہ مثانی اور میرے رب نے مفصلات مزید عنایت کیں۔ طاؤس کا قول ہے کہ مثال سے مراد پورا قرآن ہے۔ آیت میں آیا ہے : اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِی قرآن کو مثانی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں واقعات و قصص کا بیان لوٹ لوٹ کر بار بار کیا گیا ہے۔ اس قول پر مِنَ الْمَثَانِی میں مِن تبعیض کیلئے ہوگا اور سبع سے مراد سات سورتیں ہوں گی (یعنی قرآن کی سات سورتیں ہم نے تم کو دیں) ۔ بعض کے نزدیک مثانی سے مراد پورا قرآن ہے اور سبعہ سے مراد ہیں : ساتوں اجزاء یعنی قرآن کو سات حصوں پر تقسیم کیا جائے تو ساتوں حصے یعنی پورا قرآن مراد ہے۔ اس قول پر والْقُرْاٰنَ الْعَظِیْم کا عطف صرف اختلاف صفت کی وجہ سے ہوگا (جیسے کہا جاتا ہے : زید عالم ہے اور نیک ہے اور مالدار ہے اور شریف النسب ہے) ۔ بہرحال اقوال مذکورہ بالا کے لحاظ سے القرآن العظیم کا عطف ایسا ہوگا جیسا کل کا اس کے جزء پر کردیا جاتا ہے۔ یا ایسا ہوگا جیسا عام کا خاص پر عطف ہوتا ہے۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم آپ اس چیز کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں جو کہ ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو برتنے کیلئے دی ہے۔ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ آنکھیں اٹھانے سے مراد ہے : لالچ اور رغبت کے ساتھ نظر اٹھا کر دیکھنا۔ ازواج کا معنی ہے : اصناف یعنی قسم قسم کے کافروں کو جو ہم نے دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں ‘ آپ ان کی طرف رغبت اور طمع کی نظر سے نہ دیکھیں۔ آپ کو جو قرآن دیا گیا ہے ‘ اس کے مقابلے میں یہ ساری نعمتیں حقیر ہیں۔ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کا قول نقل کیا ہے کہ اگر اللہ نے کسی کو قرآن عطا فرما دیا ہو اور کسی دوسرے شخص کو دنیا عطا کی ہو اور حامل قرآن مال دار کی دنیا کو اس نعمت سے بہتر خیال کرے جو اسے دی گئی ہے تو اس نے بڑی (نعمت) کو چھوٹی اور چھوٹی کو بڑی قرار دے دیا (یعنی نعمت قرآن اعلیٰ ہے اور نعمت دنیا ادنیٰ ۔ جو شخص نعمت دنیا کو نعمت قرآن پر ترجیح دے ‘ اس نے ادنیٰ کو اعلیٰ اور اعلیٰ کو ادنیٰ بنا دیا) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث لیس منا من لم یتغن بالقراٰن کا مطلب سفیان بن عیینہ نے یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص قرآن کی نعمت پا کر (ساری دنیا کی دولت سے) بےنیاز نہ ہوجائے ‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ بخاری اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور امام احمد و ابو داؤد وابن حبان و حاکم نے حضرت سعد کی روایت سے اور ابو داؤد وابولبابہ کی وساطت سے عبدالمنذر کی روایت سے اور حاکم نے حضرت ابن عباس و حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی فاجر کی نعمت پر رشک نہ کرو۔ اللہ کے ہاں اس کا قاتل موجود ہے جو (کبھی) نہیں مرے گا۔ بغوی کی روایت یہ الفاظ آئے ہیں : کسی فاجر پر (اس کی) نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرو۔ تم کو نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد اس کو کیا پیش آئے گا۔ اللہ کے ہاں اس کا قاتل موجود ہے جو (کبھی) نہیں مرے گا۔ وہب بن منبہ کو جب اس حدیث کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے ابوداؤد اعوار کو بھیج کر دریافت کرایا کہ نہ مرنے والے قاتل کا کیا مطلب ہے۔ عبد اللہ بن مریم نے کہا : اس سے مراد ہے دوزخ۔ امام احمد ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے سے نیچے والے کو دیکھو ‘ اوپر والے کو نہ دیکھو۔ اللہ کی جو نعمت تم کو حاصل ہے ‘ اس کو حقیر نہ سمجھنے کیلئے یہی (تدبیر) زیادہ مناسب ہے۔ ولا تحزن علیھم اور کافروں کا کچھ غم نہ کیجئے کہ یہ ایمان نہیں لائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو جو کافروں کی طرح دنیا نہیں ملی ‘ اس کی وجہ سے کافروں کی نعمت پر کچھ رنج نہ کرو۔ واخفص جناحک للمؤمنین اور مسلمانوں پر شفقت رکھئے۔ یعنی مؤمنوں سے نرمی کیجئے ‘ ان کے ساتھ رحم کا برتاؤ رکھئے۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں

وقل انی انا النذیر المبین اور (کافروں سے) کہہ دو کہ میں واضح طور پر (تم کو اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) ڈرانے والا ہوں ‘ کھول کھول کر واضح دلائل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ تم ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب تم پر آجائے گا۔
Ayah 15:90

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

کما انزلنا علی المقتسمین : (ایسا ہی عذاب) جیسا عذاب ہم نے ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے حصے کر رکھے تھے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ الْمُقْتَسِمِیْن سے مراد ہیں : یہودی اور عیسائی۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آیت کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (میں مقتسمین) سے مراد کیا ہے ؟ فرمایا : یہودی اور عیسائی۔
Ayah 15:91

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

الذین جعلوا القران عضین یعنی آسمانی کتاب کے مختلف اجزاء قرار دئیے تھے (بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ‘ تم پر بھی نازل کریں گے) ۔ سائل نے دریافت کیا : عِضِیْنَ کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : بعض حصہ پر ایمان لائے ‘ بعض کا انکار کردیا۔ عِضِیْن ‘ عضَۃٌ کی جمع ہے۔ عضَۃٌ کا معنی ہے : ٹکڑا ‘ ایک پارہ (قاموس) عضَۃٌ کی اصل عِضْوَۃٌ تھی۔ عضی الشاۃ اس نے بکری کے اعضاء جدا جدا کر دئیے۔ یہود و نصاریٰ نے بھی قرآن کے دو ٹکڑے کر دئیے تھے ‘ ایک کو حق اور دوسرے کو باطل کہتے تھے۔ جس کو حق کہتے تھے ‘ اس کے متعلق کہتے تھے : یہ توریت و انجیل کے موافق ہے ‘ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور جس حصہ کو باطل قرار دیتے تھے ‘ اس کے متعلق کہتے تھے : یہ توریت و انجیل کے خلاف ہے ‘ اسلئے غلط ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اہل کتاب بطور استہزاء کہتے تھے : سورة بقرہ میری ہے۔ دوسرا کہتا تھا : آل عمران میری ہے۔ مجاہد نے کہا : الْمُقْتَسِمِیْن سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن سے مراد وہ (عیسائی و یہودی مذہب کی) کتابیں ہیں جو اہل کتاب پڑھتے تھے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتاب کو پہچان تو لیا تھا (یعنی اقرار تو کرتے تھے) مگر اس کو چھوڑ دیا تھا۔ بعض علماء نے کہا : الْمُقْتَسِمِیْن سے مراد ہیں : قرآن کے متعلق مختلف خیالات رکھنے والے کافر۔ کوئی قرآن کو جادو کہتا تھا ‘ کوئی شاعری ‘ کوئی کہانت اور کوئی داستان پارینہ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اقتسام سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق ان کے اقوال بٹے ہوئے تھے۔ کوئی آپ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر ‘ کوئی کاہن۔ مقاتل کی روایت ہے کہ حج کے زمانہ میں ولید بن مغیرہ نے سولہ آدمی مکہ کی گھاٹیوں ‘ مختلف راستوں اور موریوں پر اس غرض سے مقرر کر دئیے تھے کہ جو کوئی باہر سے محمد ﷺ کے پاس آئے ‘ اس سے کہہ دیں کہ تم اس کے فریب میں نہ آجانا۔ مقرر کردہ لوگوں میں سے کچھ لوگ تو کہیں : یہ شخص دیوانہ ہے ‘ کچھ کہیں : کاہن ہے اور کچھ شاعر کہیں۔ خود ولید کعبہ کے دروازے پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔ جب اس سے دریافت کیا گیا کہ کچھ لوگ ساحر ‘ کچھ شاعر ‘ کچھ مجنون کہتے ہیں ‘ تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟ ولید نے کہا : یہ سب باتیں ٹھیک ہیں ‘ سب لوگ سچ کہتے ہیں۔ اب اگر مقتسمین سے مراد یہودی لئے جائیں تو اللہ کی طرف سے جو عذاب ان پر آیا ‘ وہ بنی قریظہ کے قتل اور بنی نضیر کے ملک بدر کئے جانے کی صورت میں نمودا ہوا اور اگر متتسمین سے مراد قریش (ولید کے مقرر کئے ہوئے اشخاص) ہوں تو بدر کی شکست کی شکل میں ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک متتسمین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت صالح کو رات میں قتل کردینے کا مشورہ کیا تھا اور اس پر قسمیں کھائی تھیں (اس صورت میں الْمُقْتَسِمِیْن کا ترجمہ ہوگا : قسمیں کھانے والے) ۔ بعض اہل لغت نے لکھا ہے کہ عِضِیْن ‘ عضَۃٌ کی جمع ہے اور عضَۃٌ کی اصل عِضْہَۃٌ تھی ‘ جیسے شَفَۃٌ اصل میں شَفْہَۃٌ تھا۔ عضَۃٌ جھوٹ اور بہتان کو کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے عضَۃٌ کا معنی کذب لکھا ہے۔ حدیث بیعت میں آیا ہے : وَلاَ یَعْضِہُ بعضُنا بعضًا ایک دوسرے پر بہتان نہ باندھے ‘ کذب تراشی نہ کرے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے : ایَّاکُمْ وَالْعِضَۃَ بہتان تراشی سے بچو۔ زمخشری نے کہا کہ عضَۃٌ اصل میں عِضْھَۃٌ بروزن فِعْلَۃٌ تھا اور عضَۃٌ کا معنی ہے : بہتان۔ کذا فی النہایۃ للجزری۔ بعض اہل لغت کا قول ہے کہ العِضَۃُ کا معنی ہے : جادو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : العضوان بمعنی جادو۔ یہ عِضْھَۃٌ کی جمع ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے : لعَنَ اللّٰہُ العَاضِھَۃَ وَالْمُسْتَعْضِھَۃَ جادو کرنے والی اور جادو کرانے والی پر اللہ کی لعنت (النہایۃ) یہ بھی ممکن ہے کہ کَمَآ اَنْزَلْنَا کا تعلق وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سے ہو اور اٰتَیْنَا کا معنی ہو اَنْزَلْنَا اور اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ سے مراد (عذاب نازل کرنا نہ ہو بلکہ) توریت و انجیل نازل کرنا ہو۔ مطلب اس طرح ہوگا : ہم نے آپ پر سبع مثانی نازل کیں ‘ جیسے یہود و نصاریٰ پر توریت و انجیل اتاری۔ اس صورت میں لاَ تَمُدَّنَّ سے آخر آیت تک جملہ معترضہ ہوگی اور اَلَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ- الْمُقْتَسِمِیْنَ کی صفت ہوگی۔ لیکن اگر الْمُقْتَسِمِیْنَ سے مراد وہ لوگ ہوں جنہوں نے حضرت صالح کو قتل کرنے کا باہم مشورہ کیا تھا تو اَلَّذِیْنَ جَعَلُوا متبداء ہوگا اور آئندہ آیت خبر۔
Ayah 15:92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے

فوربک لنسئلنھم اجمعین : پس قسم ہے آپ کے رب کی (یعنی ہم کو اپنی ذات کی) کہ ہم ان سب سے ان کے اعمال کی ضرور باز پرس کریں گے
Ayah 15:93

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

عما کانوا یعملون۔ اعمال میں گناہ بھی داخل ہیں اور کفر بھی اور قرآن کی تکذیب بھی اور اس کو جادو قرار دینا بھی۔ سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہم ان سے بازپرس کریں گے اور ان کو ان کے کئے کی سزا بھی دیں گے۔ بغوی نے محمد بن اسماعیل بخاری کا قول نقل کیا ہے کہ متعدد علماء کے نزدیک عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ سے مراد ہے : لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ (یعنی لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ کی ہم ان سے بازپرس کریں گے) ۔ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ اس آیت کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم ان سے بازپرس کریں گے کلمۂ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ کے متعلق۔ مسلم نے حضرت ابو برزہ اسلمی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (پل) صراط سے کسی بندہ کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے (یعنی کوئی شخص بھی اس وقت تک پل صراط سے پار نہیں ہوگا) جب تک اس سے چار باتیں نہ پوچھ لی جائیں گی۔ اس وقت سوال کیا جائے گا عمر کے متعلق کہ کس کام میں ختم کی اور (سوال ہوگا) جسم کے متعلق کہ کس کام میں اس کو پرانا کیا (یعنی جسمانی طاقتیں کس کس کام میں صرف کیں) اور (سوال ہوگا) علم کے متعلق کہ علم کے بعد کیا عمل کیا اور (سوال ہوگا) مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ ترمذی اور ابن مردویہ نے یہ حدیث اسی طرح ابن مسعود سے بھی بیان کی ہے۔ اصبہانی نے ترغیب میں اور طبرانی نے (الاوسط میں) حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علم (سکھانے) میں باہم خیرخواہی سے کام لو۔ کوئی کسی سے علم کو پوشیدہ نہ رکھے۔ علم میں خیانت کرنی ‘ مال میں خیانت کرنے سے زیادہ سخت ہے۔ اللہ اس کی بھی تم سے ضرور بازپرس کرے گا۔ ابو نعیم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جو قدم بھی (کسی مقصد کیلئے) اٹھاتا ہے ‘ اللہ اس مقصد کی اس سے ضرور بازپرس کرے گا۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص لوگوں کی امامت کرے ‘ اس کو اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور یہ جان لینا چاہئے کہ وہ (مقتدیوں کا) ذمہ دار ہے اور اس ذمہ داری کے متعلق اس سے بازپرس ہوگی۔ اگر اس نے امامت اچھی (طرح ‘ صحیح) کی ہوگی تو اس کے پیچھے والوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا اور اگر کچھ کمی ہوگی (یعنی نماز میں کچھ نقص ہوا ہوگا) تو اس کا گناہ بھی امام پر پڑے گا۔ ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن ابی حاتم نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معاذ ! مؤمن سے قیامت کے دن اس کے تمام کاموں کی بازپرس ہوگی یہاں تک کہ آنکھوں میں سرمہ (لگانے) کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔ بیہقی اور ابن ابی الدنیا نے حسن کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بندہ کوئی خطبہ دیتا ہے ‘ اللہ اس سے اس خطبہ اور خطبہ کی اصل مراد کے متعلق ضرور بازپرس کرے گا۔ یہ حدیث مرسل ہے (حسن بصری تابعی ہیں ‘ صحابی کا نام روایت میں نہیں ہے) ۔ ابن ابی حاتم نے انفع بن عبد اللہ کلاعی کا قول نقل کیا ہے کہ جہنم کے سات پل ہیں اور صراط ان کے اوپر ہے۔ تمام مخلوق کو پہلے پل پر روک لیا جائے گا۔ حکم ہوگا : ان کو ٹھہرا لو۔ ان سے باز پرس کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ نماز کی حساب فہمی اور بازپرس ہوگی۔ ہلاک ہونے والا ہلاک ہوجائے گا اور نجات پانے والا نجات پا جائے گا۔ دوسرے پل پر پہنچیں گے تو امانت کے بابت سوال ہوگا کہ کیسے ادا کی اور کیسے اس میں خیانت کی۔ یہاں بھی تباہ ہونے والا تباہ ہوجائے گا اور نجات پانے والا نجات پاجائے گا۔ پھر تیسرے پل پر پہنچیں گے تو رشتہ داری کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ سلسلۂ قرابت کو جوڑا یا توڑا۔ یہاں بھی مرنے والا مرے گا اور بچنے والا بچ جائے گا۔ رحم اس روز نیچے کی طرف آویختہ ہوگا اور عرض کرے گا : اے اللہ ! جس نے مجھے ملائے رکھا ہو تو بھی اس کو (اپنے سے) ملا لے اور جس نے مجھے توڑا ہو تو بھی اس سے قطع تعلق کرلے۔ ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قیامت کے دن اللہ بندہ سے سوالات کرے گا ‘ یہاں تک کہ فرمائے گا : جب تو نے بری بات دیکھی تو اس کا رد کیوں نہیں کیا ؟ اس وقت اللہ خود اس کے دل میں صحیح جواب ڈال دے گا۔ بندہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں تجھ سے امید لگائے ہوئے تھا اور لوگوں سے مجھے ڈر تھا (اسلئے خاموش رہا اور اس کام کو دل سے برا جانتا رہا) ۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک (ذمہ دار) نگران ہے اور جس کی نگرانی اس کے سپرد ہے ‘ اس کے متعلق بازپرس اس سے کی جائے گی۔ حاکم سب لوگوں کا (ذمہ دار اور) نگراں ہے ‘ اس سے اس کی رعیت کی بازپرس کی جائے گی۔ مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے ‘ اس سے گھر والوں کے متعلق بازپرس ہوگی۔ عورت اپنے شوہر کے گھر والوں کی اور اس کے بچوں کی ذمہ دار ہے ‘ اس سے (اس کے حلقۂ اثر میں رہنے والی) اس کی رعیت کے متعلق بازپرس ہوگی۔ غلام (یعنی خادم) اپنے آقا کے مال کا نگران ہے ‘ اس سے آقا کے مال کے متعلق بازپرس ہوگی۔ غرض تم میں سے ہر ایک نگراں (یعنی ذمہ دار) ہے اور جس کی نگرانی اس کے سپرد ہے ‘ اس کے متعلق اس سے بازپرس ہوگی۔ اس موضوع کی احادیث حضرت انس کی روایت سے ابن حبان ‘ ابو نعیم اور طبرانی نے بھی بیان کی ہیں۔ طبرانی نے الکبیر میں حضرت مقدام کی روایت سے نقل کیا ہے ‘ حضرت مقدام نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : جو شخص بھی کسی قوم پر (مسلط ‘ پیشوا ‘ حاکم ‘ لیڈر وغیرہ) ہوگا ‘ قیامت کے دن وہ اس قوم کے آگے آگے جھنڈا اٹھائے ہوگا اور (وہ) لوگ اس کے پیچھے ہوں گے۔ قوم کے متعلق اس سے بازپرس کی جائے گی اور قوم والوں سے اس کی بابت پوچھا جائے گا۔ طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو امیر دس آدمیوں کا بھی حاکم ہوگا ‘ قیامت کے دن اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق بازپرس ہوگی (سوال کے سلسلہ کی احادیث بکثرت آئی ہیں) ۔ ایک شبہ آیت لَنَسْءَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ اور اس کے ہم معنی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک سے اس کے اعمال کی بازپرس ضرور ہوگی لیکن آیت فَیَوْمَءِذٍ لاَّ یُسْءَلُ عَنْ ذَ نْبِہٖٓم اِنْسٌ وَلاَجَآنٌ سے سوال کی نفی ہوتی ہے۔ بظاہر دونوں میں تضاد ہے۔ ازالہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ سوال نہ ہوگا کہ تم نے یہ عمل کیا یا نہیں۔ اللہ کو اس سوال کی ضرورت نہیں ‘ اس کو کسی عمل کے کرنے نہ کرنے کا کامل علم ہے ‘ بلکہ بازپرس اس بات کی ہوگی کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ بیہقی نے ابو طلحہ کی سند سے بھی حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے اور قطرب نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوال کی دو قسمیں ہیں : (1) علم حاصل کرنے کیلئے ‘ جس کو استفہامیہ سوال کہا جاتا ہے۔ (2) زجر و توبیخ کیلئے ___ لاَّ یُسْءَلُ عَنْ ذَ نْبِہٖٓم میں استفہامیہ سوال کی نفی کی گئی ہے اور لَنَسْأَ لَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ میں زجر و توبیخ کیلئے سوال کرنے کی صراحت ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا ایک اور قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قیامت کا دن بہت طویل ہوگا جس میں متعدد مواقف راہ اور روکے جانے کے مقامات ہوں گے۔ بعض مقامات پر اعمال کی بازپرس ہوگی ‘ بعض مقامات پر کوئی سوال نہ ہوگا۔ یہی تاویل ان آیات کی ہے جن میں بولنے اور نہ بولنے کا تضاد معلوم ہوتا ہے۔ ایک آیت ہے : ھَذَا یَوْمُ یَنْطِقُوْنَ یہ ایسا دن ہوگا کہ لوگ کچھ نہ بول سکیں گے۔ دوسری آیت ہے : یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ قیامت کے دن تم رب کے پاس جھگڑا کرو گے (کذا اخرج الحاکم) ۔
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو

فاصدع بما تؤمر جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے ‘ اس کو علی الاعلان بیان کر دیجئے۔ حضرت ابن عباس نے اِصْدَعْ کا ترجمہ کیا ہے : ظاہر کر دو ۔ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اظہار دعوت کا حکم دیا ہے۔ عبد اللہ بن عبیدہ کی روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ اسلام و ایمان کی دعوت پوشیدہ طور پر دیا کرتے تھے ‘ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی کھل کر سامنے آگئے۔ حضرت ابن عباس کا ایک اور قول یہ بھی آیا ہے کہ اِصْدَعْ بِمَا تُؤْمَر کا ترجمہ ہے : دعوت کو جاری رکھو۔ ضحاک نے ترجمہ کیا : اطلاع دے دو ‘ اعلان کر دو ۔ اخفش نے کہا : قرآن کے ذریعہ سے حق کو باطل سے جدا کر دو ۔ سیبویہ نے کہا : جیسا تم کو حکم دیا جا رہا ہے ‘ اس کے موافق فیصلہ کرو۔ لغت میں صَدْعٌ کا معنی ہے : الگ الگ کردینا (پھاڑ دینا) جدا جدا کردینا ‘ فصل کردینا (لغوی معنی کی مناسبت سے علماء نے مرادی معنی جداجدا بیان کئے ہیں۔ واعرض عن المشرکین اور مشرکوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرو (یعنی مشرکوں کی پرواہ نہ کرو۔ مترجم) بعض علماء نے کہا : آیت قتال سے یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

انا کفینک المستھزئین یہ لوگ (جو آپ پر) استہزاء کرتے ہیں ‘ ان سے نمٹنے کیلئے ہم کافی ہیں۔ یعنی ان کی جڑ اکھاڑ دیں گے ‘ ان کو تباہ کردیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ تم اللہ کا حکم پکار کر سناؤ۔ اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو۔ تمہارے لئے اللہ کافی ہے۔ مذاق اڑانے والوں اور تم سے ٹھٹھول کرنے والوں کے مقابلے میں بھی اللہ نے تمہاری مدد کی۔ رسول اللہ ﷺ سے استہزاء کرنے والے اور آپ کی ہنسی اڑانے والے قریش کے پندرہ سردار تھے : (ا) ولید بن مغیرہ مخزومی ‘ یہ سب کا سرگروہ تھا (2) عاص بن وائل سہمی (3) اسود بن مطلب بن حارث بن اسعد بن عبدالعزی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بددعا دی تھی اور فرمایا تھا : اے اللہ ! اس کو اندھا کر دے ‘ اس کو لاولد کر دے (4) اسود بن عبد یغوث بن وہب بن مناف بن زہرہ (5) حارث بن قیس بن الطلالہ۔ رسول اللہ ﷺ سے استہزاء کرنے والے کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ ولید بن مغیرہ آپ کی طرف سے گزرا۔ اتنے میں حضرت جبرئیل آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوگئے اور کہا : محمد ﷺ ! تمہارے نزدیک یہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا : برا بندہ ہے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : آپ کا کام (ا اللہ کی طرف سے) پورا کردیا گیا۔ پھر حضرت جبرئیل نے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا۔ چناچہ ایک روز ولید کسی خزاعی آدمی کی طرف سے ہو کر نکلا ‘ وہ شخص اپنے تیروں کے پر ٹھیک کر رہا تھا۔ ولید اس وقت یمنی چادر اوڑھے (غرور سے) تہبند زمین میں کھینچتا ہوا چل رہا تھا۔ خزاعی شخص کے تیر کی بوری ولید کے تہبند سے الجھ گئی۔ انتہائی غرور کی وجہ سے نیچے جھک کر بوری کو تہبند سے نکالنا گوارا نہ کیا اور زور سے اپنی پنڈلی کو دے پٹکا۔ بوری سے پنڈلی میں خراش لگ گئی اور اسی خراش سے یہ مرگیا۔ عاص بن وائل بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے گزرا اور حضرت جبرئیل نے دریافت کیا تھا : کیسا آدمی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا : برا بندہ ہے۔ حضرت جبرئیل نے عاص کے پاؤں کے تلوؤں کی طرف اشارہ کر کے کہا : آپ کا کام ہوگیا (اب آپ کو اس کے مقابلے میں کچھ کرنا نہیں پڑے گا) چناچہ ایک روز عاص تفریح کرنے کیلئے اونٹنی پر سوار ہو کر اپنے دونوں لڑکوں کو ساتھ لے کر مکہ سے باہر نکلا اور کسی گھاٹی میں جا کر اترا۔ وہاں کپڑے کا کوئی ٹکڑا تھا ‘ عاص نے اس پر قدم رکھا۔ کپڑے میں کوئی کانٹا تھا ‘ کانٹا اس کے تلوے میں چبھ گیا۔ عاص فوراً چلایا : مجھے کسی کیڑے نے ڈس لیا۔ لوگوں نے تلوے کو دیکھا لیکن ڈھونڈھنے کے بعد بھی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ ٹانگ سوج کر اونٹ کی گردن کی طرح ہوگئی۔ آخر وہیں اسی وقت مرگیا۔ اسود بن مطلب بھی (حضرت جبرئیل کی موجودگی میں) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے گذرا اور حضرت جبرئیل کے سوال و جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا :: یہ برا بندہ ہے اور حضرت جبرئیل نے حسب سابق کہا : آپ کا کام کردیا گیا اور اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا تھا ‘ چناچہ اسود نابینا ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت جبرئیل نے ایک سبز پتہ اسود پر مارا تھا جس سے اس کی نگاہ جاتی رہی اور آنکھوں میں اتنا درد ہوا کہ دیوار سے سر پٹکنے لگا ‘ آخر اسی میں مرگیا۔ کلبی کی روایت میں آیا ہے کہ اسود اپنے غلام کے ساتھ کسی درخت کی جڑ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت جبرئیل وہاں پہنچ گئے اور اس کا سر پکڑ کر درخت سے ٹکرانے اور منہ پر کانٹے مارنے لگے۔ اسود نے واویلا مچا دی اور غلام سے مدد کا خواستگار ہوا۔ غلام نے کہا : مجھے تو اور کوئی نظر نہیں آتا ‘ آپ خود ہی یہ حرکت کر رہے ہیں۔ کہنے لگا : مجھے محمد ﷺ کے رب نے قتل کردیا۔ یہ لفظ کہتے کہتے مرگیا۔ اسود بن عبدیغوث بھی گذرا تھا اور حضرت جبرئیل کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا : یہ برا بندہ ہے باوجودیکہ میرے ماموں کا بیٹا ہے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : اب آپ کو (اس کے دفاع کی) کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کہتے ہوئے اسود کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا تھا جس سے اس کا استسقاء بطن ہوگیا اور مرگیا۔ کلبی کی روایت میں آیا ہے کہ اسود (ایک روز) گھر سے نکلا ‘ باہر لو لگ گئی ‘ لو لگنے سے اس کا رنگ (جل کر) کالے حبشی کی طرح ہوگیا۔ گھر کو لوٹا تو گھر والوں نے اسے پہچانا بھی نہیں اور باہر نکال کر دروازہ بند کرلیا۔ اسی حالت میں وہ مرگیا اور مرتے مرتے کہتا رہا : مجھے محمد ﷺ کے رب نے قتل کیا ہے۔ حارث بن قیس کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل سے کہا تھا : یہ برا بندہ ہے۔ حضرت جبرئیل نے حارث کے سر کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا : آپ کا کام کردیا گیا ‘ اب آپ کو ضرورت نہیں۔ چناچہ اس کی ناک سے پیپ کی ریزیش ہونے لگی ‘ اسی سے مرگیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حارث بن قیس نے نمکین مچھلی کھائی تھی جس سے پیاس کی شدت ہوگی اور برابر پانی پیتا رہا ‘ آخر پیٹ پھٹ گیا اور وہ مرگیا۔ آیت اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِیْنَ کا مطلب یہی ہے کہ جو آپ کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ استہزاء کرتے تھے ‘ ہم نے (ان کے شر سے آپ کو محفوظ رکھا اور) آپ کی طرف سے ان کا کام تمام کردیا۔ طبرانی ‘ ابو نعیم اور بیہقی نے (دلائل میں) حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کی ہنسی بنانے والے) پانچ قریشی سردار تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) عدی بن قیس (4) اسود بن عبدیغوث اور (5) اسود بن مطلب۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو دکھ پہنچانے اور آپ کا مذاق اڑانے میں بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کی طرف سے ان کا کام تمام کر دوں۔ چناچہ حضرت جبرئیل نے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی شخص تیر درست کر رہا تھا ‘ ولید ادھر سے گذرا اور اس کا کپڑا تیر سے الجھ گیا۔ اس نے غرور کی وجہ سے جھک کر تیر نہیں نکلا۔ آخر تیر کی بوری کسی رگ میں لگ گئی اور اسی (زخم) سے وہ مرگیا۔ حضرت جبرئیل نے عاص کے تلوے کی طرف اشارہ کیا تھا ‘ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے تلوے میں کوئی کانٹا چبھ گیا ‘ ٹانگ سوج کرچکی کی طرح ہوگئی اور وہ مرگیا۔ عدی بن قیس کی ناک کی طرف اشارہ کیا ‘ ناک سے پیپ بہنے لگی اور اسی سے اس کا انتقال ہوگیا۔ اسود بن عبدیغوث کے سر کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ایک روز یہ شخص کسی درخت کی جڑ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سر کو درخت سے ٹکرانے اور نہ منہ کو کانٹوں (والی ٹہنی) سے پیٹنے لگا ‘ آخر مرگیا۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں کی جانب اشارہ کیا جس کی وجہ سے وہ اندھا ہوگیا۔ بزار اور طبرانی نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کی طرف گذرے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی پشت کی طرف طعن آمیز اشارہ کر کے کہا : یہی وہ شخص ہے جو اپنے کو نبی کہتا ہے۔ اس وقت حضرت جبرئیل حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ حضرت جبرئیل نے ان کی طرف اشارہ کیا جس کی وجہ سے ناخن کے نشان کی طرح ان کے جسموں پر نشان ہوگیا۔ آخر وہ نشان پھوڑا بن گیا اور سڑ گیا اور ایسا سڑ گیا کہ کوئی پاس بھی نہیں جاتا تھا۔ انہیں لوگوں کے متعلق آیت اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِیْنَ نازل فرمائی۔
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا

الذین یجعلون مع اللہ الھا اخر فسوف یعلمون جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود (کو شریک) قرار دیتے ہیں ‘ یقیناً ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کا انجام کار کیا ہوا۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون اور ہم یقیناً واقف ہیں کہ ان کے قول سے آپ کے دل کو کوفت ہوتی ہے۔ یعنی آپ کے سینہ میں غصہ کا ابال ہوتا ہے اور آپ اس کو پورا نہیں کرسکتے۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو

فسبح بحمد ربک آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں۔ یعنی ہر چیز سے دل کو خالی کر کے اللہ کی حمد و تسبیح (ا اللہ کی پاکی کے اعتراف و اظہار) میں مشغول ہوجائیے۔ اللہ آپ کی کارسازی کرے گا۔ حمد و تسبیح میں مشغول ہونے سے دل کی کوفت اور سینہ کی بندش دور ہوجائے گی اور شدت غضب جاتی رہے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے (مشرکانہ اور کافرانہ) اقوال سے اللہ کے پاک ہونے کا اظہار کیجئے اور اسی کے ساتھ اللہ کا شکر کیجئے کہ اللہ نے حق کا راستہ آپ کو دکھا دیا۔ حضرت ابن عباس نے (تسبیح و حمد سے مراد لی ہے نماز اور آیت کی تشریح میں) فرمایا : آپ اپنے رب کے حکم کے موافق نماز پڑھئے۔ وکن من السجدین اور نماز پڑھنے ولوں میں رہیں۔ ساجدین سے مراد ہیں : تواضع اور اظہار فروتنی کرنے والے۔ ضحاک کے نزدیک نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ امام احمد ‘ ابو داؤد اور ابن جریر نے حضرت حذیفہ بن یمان کے بھائی حضرت عبدالعزیز کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی امر ثقیل پیش آتا تھا تو آپ (گھبرا کر) نماز کی طرف رجوع کرتے تھے۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

واعبد ربک حتی یاتیک الیقین اور وقت موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ یقین سے مراد ہے : موت۔ ہر زندہ کیلئے موت کا آنا یقینی ہے یعنی جب تک آپ زندہ ہیں ‘ رب کی عبادت میں مشغول رہیں ‘ عبادت کو ترک نہ کریں۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کا قول بھی اسی مضمون کا نقل کیا ہے ‘ حضرت عیسیٰ نے کہا تھا : اَوْ صَانِیْ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَادُمْتُ حَیًّا۔ بغوی وغیرہ نے حضرت جبیر بن نضیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے مال جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم بذریعۂ وحی نہیں دیا گیا بلکہ میرے پاس تو وحی بھیجی گئی کہ سَبِّعْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السَّجِدِیْنَ وَاعْبُدُ رَبَّکَ حَتّٰی یَأتِیَکَ الْیَقِیْنُ حضرت عمر راوی ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر کو مینڈھے کی کھال اوڑھے اور اسی کا نطاق باندھے سامنے سے آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا : اس کو دیکھو ‘ اللہ نے اس کے دل کو نورانی کردیا۔ میں نے وہ وقت بھی اس کا دیکھا تھا کہ اس کے ماں باپ اس کو اعلیٰ قسم کی غذا کھلاتے پلاتے تھے۔ ایک جوڑا اس کے بدن پر دو سو درہم کا تھا۔ لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت نے اس کی یہ حالت کردی جو تمہارے سامنے ہے۔ 26/ربیع الثانی 1202 ھ ؁ کو سورة الحجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ ًٍبحمد اللہ 19/شعبان 1387 ؁ھ کو صبح چار بجے اس سورة کا ترجمہ ختم ہوا۔