Ayah 15:41قال ھذا صراط علی مستقیم اللہ نے فرمایا : یہ (اخلاص ہی) مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے ‘ اس میں کوئی کجی نہیں۔ حسن نے کہا : حق کا راستہ سیدھا ہے۔ مجاہد نے کہا : حق کا رجوع اللہ کی طرف ہے۔ راہ حق بھی اللہ تک پہنچتی ہے ‘ کسی اور طرف نہیں مڑتی۔ اخفش نے کہا : سیدھا راستہ بتانا مجھ پر ہے (یعنی میرے ذمہ ہے ‘ اس مطلب پر عَلَیَّ کو اِلٰی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہ ہوگی) اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ اپنے منتخب بندوں کو گمراہ نہیں ہونے دے گا۔ منتخب بندوں کو شیطانی اغواء سے بچانے کا ذمہ اللہ کا ہے اور براہ راست ان کو محفوظ رکھنا اللہ کا کام ہے۔ کسائی نے کہا : ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ وعید آمیز تہدیدی کلام ہے ‘ جیسے کوئی شخص اپنے مخالف سے کہتا ہے کہ تیرا راستہ مجھ پر ہے ‘ یعنی تو میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ نے فرمایا : اِنَّ رَبَّکَ لَبَالْمِرْصَادٍ آپ کا رب گھات میں ہے۔ کسائی کی تفسیر پر ھٰذَا سے اشارہ ابلیس کے راستہ کی طرف ہوگا جو اس نے اپنے لئے اختیار کیا تھا ‘ یعنی اغواء اور گمراہ کرنے کا راستہ۔
Ayah 15:42ان عبادی لیس لک علیھم سلطن الا من اتبعک من الغوین بیشک میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ‘ ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیرے راہ پر چلنے لگے۔
عِبَادِی سے مراد عام بندے ہیں ‘ مؤمن ہوں یا کافر۔ عباد کی اضافت یاء متکلم کی طرف استغراقی ہے۔ اگر عِبَادِی کو صرف ایمان کے ساتھ مخصوص کیا جائے گا تو مَنِ اتَّبَعَکَ کا استثناء صحیح نہ ہوگا (گمراہوں کو لفظ عباد میں داخل ہونا چاہئے ‘ اس کے بعد استثناء کر کے نکالنا چاہئے) مقصد آیت یہ ہے کہ اللہ نے صرف گمراہوں پر تجھے تسلط عطا کیا ہے ‘ تو ان پر غلبہ پاسکتا ہے ‘ مؤمنوں تک تیری دسترس نہ ہوگی۔ ابلیس نے بھی مخلص بندوں کا استثناء اپنے قول میں کردیا تھا۔ اللہ کے قول سے بھی اس کی تائید ہوگئی۔ دوسری آیت میں یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطَانُہٗ علَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ مخلص بندوں کو اللہ شیطان کے پنجہ سے محفوظ رکھے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استثناء منقطع ہو (متصل نہ ہو اور مستثنیٰ ‘ مستثنیٰ منہ میں داخل ہی نہ ہو ‘ اس صورت میں عِبَادِی سے مراد ہوں گے : خالص بندے ‘ یعنی مؤمن کافروں کو یہ لفظ شامل ہی نہ ہوگا) اور الاَّ استثنائیہ نہ ہو بلکہ لٰکِنَّ کے معنی میں ہو اور خبر محذوف ہو۔ مطلب اس طرح ہوگا : ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں گے ‘ اللہ ان کو جہنم میں لے جائے گا۔ شیطان نے اپنے کلام سے یہ وہم پیدا کرایا تھا کہ جو مخلص بندے نہ ہوں گے ‘ میں ان کو ضرور گمراہ کر دوں گا۔ اللہ نے اس کی تکذیب کردی ‘ یعنی تیرا تسلط گمراہوں پر بھی نہ ہوگا ‘ گمراہ کرنا بھی تیرے قبضہ میں نہیں۔ زیادہ سے زیادہ تیرا کام گناہ کی ترغیب دینا اور بہکانا ہے۔ قیامت کے دن ابلیس خود کہے گا : مَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ الاّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ میری تم پر کوئی زبردستی نہ تھی ‘ بس اتنی بات تھی کہ میں نے دعوت دی اور تم نے میری دعوت مان لی (یعنی میرا تسلط اور جبر نہ تھا ‘ صرف ترغیب اور بہکاوا تھا) ۔
Ayah 15:43وان جھنم لموعدھم اجمعین اور جو لوگ تیری راہ پر چلیں گے ‘ ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے۔ اَجْمَعِیْنَ ھُمْ کی تاکید ہے ‘ یا حال ہے۔ مَوْعِد مصدر ہے اور اَجْمَعِیْن میں عامل ہے۔ مَوْعِد اسم مکان ہے بھی ہے (وعدۂ مقرر کی جگہ) اس وقت مَوْعِد عامل نہ ہوگا۔
Ayah 15:44لھا سبعۃ ابواب اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں۔ ہناد ‘ ابن مبارک اور امام احمد نے الزہد میں اور ابن جریر و ابن ابی الدنیا نے صفت النار (دوزخ کی حالت کا بیان) میں بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر اور انگلیوں کو الگ الگ کر کے فرمایا : دوزخ کے دروازے اسی طرح ہوں گے ‘ یعنی ہر دروازہ کے اوپر دروازہ ہوگا (اس طرح دوزخ کی سات منزلیں اور درجات ہوں گے ( اوّل پہلی منزل بھر دی جائے گی ‘ پھر دوسری ‘ پھر تیسری ‘ پھر چوتھی ‘ پھر پانچویں ‘ پھر چھٹی ‘ پھر ساتویں۔
بغوی نے حضرت علی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اللہ نے جنت کو پھیلاؤ میں رکھا ہے (یعنی جنت کے اوپر جنت نہیں ہے) اور دوزخ کو ایک کو دوسرے کے اوپر بنایا ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی الدنیا نے صفت النار میں اسی آیت کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ اوّل دروازہ (یعنی طبقہ) جہنم ہے ‘ پھر نطی ‘ پھر حطمہ ‘ پھر سعیر ‘ پھر سقر ‘ پھر جحیم ‘ پھر ہاویہ۔
لکل باب منھم جزء مقسوم ہر طبقے کیلئے گمراہوں کا ایک حصہ بانٹا ہوا ہوگا۔ یعنی ہر درجہ میں گمراہوں کی ایک مقررہ جماعت ہوگی جو اس درجہ کے اندر رہے گی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ضحاک نے کہا : پہلے درجہ میں وہ اہل توحید ہوں گے جن کو گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور گناہوں کے بقدر وہ دوزخ میں رہیں گے ‘ پھر نکال لئے جائیں گے۔ دوسرے درجہ میں نصاریٰ ‘ تیسرے میں یہودی ‘ چوتھے میں صابی ‘ پانچویں میں مجوسی ‘ چھٹے میں مشرک اور ساتویں میں منافق ہوں گے (یعنی دور مسیحی ختم ہونے کے بعد جو نصاریٰ عیسائیت پر قائم رہے اور کسی پیغمبر کا انکار کیا ‘ یا بعد کو آنے والے پیغمبر کی شریعت کا انکار کیا۔ اسی طرح شریعت موسوی کا زمانہ ختم ہونے کے بعد جو یہودی ‘ یہودیت پر قائم رہے اور حضرت عیسیٰ ‘ یا رسول اللہ ﷺ ‘ یا کسی اور پیغمبر کا انہوں نے انکار کیا۔ صابی جو اپنے کو موحد کہتے ہیں اور کسی پیغمبر کی شریعت کو نہیں مانتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صابی صرف حضرت نوح کا متبع اپنے کو قرار دیتے ہیں۔ مجوسی آتش پرست اور ستارہ پرست) اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا : اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّار منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم کے سات دروازے (یعنی درجے) ہیں۔ ان میں سے ایک ان لوگوں کیلئے جنہوں نے میری امت پر تلوار سونتی۔ یا فرمایا : محمد کی امت پر تلوار کھینچی۔ قرطبی نے کہا : پہلا طبقہ جہنم ہے ‘ یہ تمام دوسرے درجات سے سہل ترین عذاب کا درجہ ہے ‘ اس امت کے گناہگاروں کیلئے مخصوص ہے۔ جہنم کو جہنم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آگ مردوں اور عورتوں کے چہرے بگاڑ دے گی اور ان کے گوشت کو کھالے گی۔
ہاویہ کا درجہ سب سے نچلا ہے ‘ یہ سب سے گہرا ہے۔ بزار نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ کا ایک ایسا درجہ ہے جس میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جنہوں نے اللہ کا غضب لے کر اپنے غصہ کو تسکین دی ہوگی ( اللہ کے غضب کی پرواہ نہیں کی اور اپنے غصہ کی آگ بجھائی) ۔
ترمذی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم کے سات دروازے ہیں : سب سے زیادہ غم آگیں ‘ کرب آفریں اور حزن آلود اور متعفن ترین دروازہ زنا کاروں کیلئے ہوگا جنہوں نے جانتے ہوئے زنا کا ارتکاب کیا ہوگا۔ بیہقی نے خلیل بن مرہ کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بغیر تبارک الّذی اور حٰمّ السجدہ پڑھے نہیں سوتے تھے اور فرماتے تھے۔ حٰمّوالی سورتیں سات ہیں اور دوزخ کے دروازے بھی سات طبقات ہیں : جہنم ‘ حطمہ ‘ لطٰی ‘ سقر ‘ سعیر ‘ ہاویہ ‘ جحیم۔ قیامت کے دن ان (حٰمّوالی سورتوں) میں سے حٰمّ السجدہ آکر ان طبقات کے دروازہ پر کھڑی ہوجائے گی اور عرض کرے گی : اے اللہ ! جو مجھ پر ایمان رکھتا اور مجھے پڑھتا تھا ‘ وہ اس میں داخل نہ ہو۔
ثعلبی کی روایت ہے کہ حضرت سلمان فارسی نے جب آیت وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِیْنَ سنی تو بدحواس ہو کر بھاگے اور اسی حالت میں تین روز بھاگتے رہے ‘ آخر (پکڑ کر) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا۔ حضور ﷺ نے (فرار کا سبب) دریافت فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آیت وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِیْنَ نازل ہوئی تو قسم ہے اس کی جس نے آپ کو سچ کا حامل بنا کر بھیجا ہے ‘ میرا دل اس سے پارہ پارہ ہوگیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 15:45ان المتقین فی جنت وعیون : بیشک پرہیزگار لوگ (جنہوں نے شیطان کے اغواء میں آکر شرک نہیں کیا ہوگا ‘ شرک سے پرہیز رکھا ہوگا) جنتوں اور (جنتی) چشموں میں ہوں گے (ہر شخص کی ایک جنت اور ایک چشمہ ‘ یا ہر ایک کی متعدد جنتیں اور متعدد چشمے ہوں گے) ۔
Ayah 15:46ادخلوھا بسلام امنین ان سے کہا جائے گا) ان جنتوں اور چشموں کے اندر سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یعنی آئندہ موت ‘ ہر آفت اور یہاں سے نکالے جانے کے اندیشے سے تم محفوظ ہو۔
Ayah 15:47ونزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ‘ ہم وہ بالکل دور کردیں گے کہ بھائی بھائی کی طرح ہوجائیں گے۔ یعنی دنیا میں ان کے آپس میں جو کینہ کشیدگی دلوں میں ہوگی (جنت میں داخل کرنے کے وقت) ہم دور کردیں گے (وہ بھائی بھائی ہوجائیں گے) غِلٍّ کینہ۔ چونکہ ایسا واقعہ آئندہ یقینی طور پر ہوگا ‘ اس لئے بصیغۂ ماضی اس کو بیان فرمایا۔
ابو نعیم نے الفتن میں اور سعید بن منصور ‘ ابن ابی شیبہ ‘ طبرانی اور ابن مردویہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر انہی میں سے ہوں گے ‘ یعنی جنت میں داخلہ سے پہلے اللہ ہماری آپس کی کشیدگیوں کو دور کر دے گا۔ میں کہتا ہوں : یہ کشیدگی اس وقت ہوئی تھی جب حضرت عثمان کے خلاف فتنہ برپا کیا گیا ‘ یہاں تک کہ آپ شہید کر دئیے گئے اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں عبدالکریم بن رشید کی روایت نقل کی ہے کہ اہل جنت ‘ جنت کے دروازے تک پہنچیں گے تو ایک ‘ دوسرے کی طرف غصہ کی نظر سے دیکھتا ہوگا ‘ لیکن اندر داخل ہوتے ہی اللہ ان کے سینوں سے کینہ نکال دے گا اور وہ بھائی بھائی ہوجائیں گے۔
یا (غِلٍّ سے مراد دنیوی کینہ نہیں ‘ بلکہ اس سے) مراد یہ ہے کہ اہل جنت کے اندر جو درجات اور مراتب قرب کے لحاظ سے تفاوت ہوگا ‘ اس پر کوئی کسی سے حسد نہیں کرے گا۔ اللہ (جذبۂ ) حسد کو ان کے دلوں سے نکال دے گا۔
علی سرر متقبلین مسہریوں پر (بیٹھے) ہوں گے آمنے سامنے۔ ہناد نے مجاہد کا قول اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے : بعض اخبار میں آیا ہے کہ جنتی جب جنت کے اندر اپنے مؤمن بھائی سے ملنا چاہے گا تو مسہری اس کو لے کر وہاں پہنچ جائے گی ‘ اس طرح دونوں کی ملاقات اور بات چیت ہوجائے گی۔
ابن ابی حاتم نے حضرت علی بن حسین کا قول نقل کیا ہے کہ آیت وَنَزَعنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غَلِّ کا نزول حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے حق میں ہوا۔ سوال کیا گیا : ان دونوں میں کونسا کینہ تھا ؟ فرمایا : دور جاہلیت کا کینہ۔ بنی تمیم اور بنی عدی اور بنی ہاشم کے درمیان جاہلیت کے زمانہ میں کینہ تھا۔ جب یہ قبائل مسلمان ہوگئے تو باہم محبت کرنے لگے (ایک بار) حضرت ابوبکر کو کمر کی کچھ تکلیف ہوگئی تو حضرت علی نے اپنے ہاتھ سے گدی گرم کر کے حضرت ابوبکر کی کمر کو سینکا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
اس قول پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ دور جاہلیت میں لوگوں کے سینوں میں جو عداوتیں تھیں ‘ جب وہ اسلام لے آئے تو ہم نے وہ باہمی عداوتیں دور کردیں۔
Ayah 15:48لا یمسھم فیھا نصب وما ھم منھا بمخرجین جنت کے اندر اہل جنت کو تھکان چھوئے گی بھی نہیں اور نہ جنت سے کبھی ان کو نکالا جائے گا۔ دوام نعمت ہی تکمیل نعمت ہے۔
طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ چند صحابی باہم ہنس رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ادھر سے گذر ہوا تو صحابہ کو ہنستے دیکھ کر فرمایا : دوزخ تم لوگوں کے سامنے ہے ‘ پھر بھی ہنس رہے ہو ؟ فوراً حضرت جبرئیل نازل ہوگئے اور کہا : محمد ﷺ ! آپ کا رب فرماتا ہے : تم کیوں میرے بندوں کو میری رحمت سے ناامید کرتے ہو۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 15:49نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم : (اے نبی ! ) میرے بندوں کو اطلاع دے دو کہ بلاشبہ میں ہی بہت بڑا بخشنے والا ‘ مہربان ہوں
Ayah 15:50وا اللہ عذابی ھو العذاب الالیم اور یہ بھی خبر دے دو کہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔
ابن مردویہ نے دوسری سند سے کسی صحابی کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ باب بنی شیبہ سے برآمد ہوئے اور فرمایا : کیا میں تم کو ہنسی میں مشغول نہیں پا رہا ہوں (یعنی تم اللہ کے عذاب کی طرف سے غافل ہو اور ہنس رہے ہو) پھر پشت پھیر کر چل دئیے ‘ پھر پچھلے قدم لوٹے اور فرمایا : میں یہاں سے نکل کر حجر (سنگ اسود) تک ہی پہنچا تھا کہ حضرت جبرئیل آگئے انہوں نے کہا : محمد ﷺ ! اللہ فرماتا ہے : میرے بندوں کو تم کیوں ناامید کرتے ہو نَبِّیءْ عِبَادِیْالخ آیت کی رفتار و ترتیب میں وعدۂ مغفرت و رحمت بھی ہے اور ووعید عذاب بھی ‘ گویا گزشتہ مضمون کا خلاصہ اس آیت میں مذکور ہے اور لفظ غفور و رحیم بتارہا ہے کہ آیت سابقہ میں اَلْمُتَّقِیْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک سے پرہیز کرنے والے ہیں ‘ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے والے مراد نہیں ہیں (ورنہ مغفرت کا مفہوم ہی کیا ہوگا ‘ کس چیز کی مغفرت ہوگی ؟ ) ۔
بغوی نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ قتادہ نے کہا : ہم کو معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر بندہ اللہ کی مقدار عفو کو جان لیتا تو حرام سے پرہیز نہ کرتا اور اگر اللہ کی مقدار عذاب کو جان لیتا تو خوف کے مارے (گویا) اس کی جان ہی تو نکل جاتی۔ ترمذی نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر مؤمن بندہ کو اللہ کے عذاب کا علم ہوجاتا تو پھر جنت کی امید ہی کسی کو نہ رہتی اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کی مقدار معلوم ہوجاتی تو جنت سے مایوس نہ ہوتا۔
صحیحین میں آیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : میں نے سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : تخلیق رحمت کے دن اللہ نے سو رحمتیں پیدا کیں ‘ ننانوے رحمتیں اپنے پاس روک لیں اور ایک رحمت ساری مخلوق میں پھیلا دی۔ جو رحمتیں اللہ کے پاس ہیں ‘ اگر ان سب سے کافر واقف ہوجائے تو جنت سے ناامید نہ ہو اور جو عذاب اللہ کے پاس ہے ‘ اگر مؤمن کو اس کا علم ہوجائے تو دوزخ سے بےخوف نہ ہو) ۔
احمد اور مسلم نے حضرت سلمان کی روایت سے اور احمد و ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید (خدری) کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان و زمین کی پیدائش کے دن اللہ نے سو رحمتیں پیدا کیں ‘ ہر رحمت آسمان و زمین کے درمیانی فاصلہ کے مطابق۔ ان میں سے ایک رحمت زمین پر قائم کی جس کی وجہ سے ماں اپنے بچہ کو پیار کرتی او چرندے پرندے باہم محبت کرتے ہیں اور ننانوے رحمتیں پیچھے رکھ چھوڑی ہیں۔ قیامت کا دن ہوگا تو ان رحمتوں کو اس رحمت سے ملا کر پورا کر دے گا۔
اس آیت میں اللہ نے اپنی صفت غفور و رحیم بیان فرمائی ‘ عذاب دینے والا نہیں فرمایا (حالانکہ عذاب دنیا بھی اسی کی صفت ہے) اس سے معلوم ہوا کہ وعدہ کا پہلو وعید پر راجح ہے۔ مغفرت و رحمت ‘ غضب پر غالب ہے۔
Ayah 15:51ونبءھم عن ضیف ابراھیم اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کے واقعہ کی اطلاع دے دو ۔ اس جملہ کا عطف امرسابق نَبِّیءْ عِبَادِیْ پر ہے۔ یہ تائید ہے اس امر کی کہ اللہ کا وعدۂ رحمت اور وعید عذاب آخرت کی طرح دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ (دیکھو ! ) ابراہیم پر اللہ نے رحمت کی (پیرانہ سالی کے باوجود ان کو اولاد عطا کی اور قوم لوط کو ہلاک کردیا) ضَیْفِ کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ یہاں ضَیْفِ سے مراد ملائکہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینے اور قوم لوط کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے گئے تھے۔
Ayah 15:52اذ دخلوا علیہ فقالوا سلما قال انا منکم وجلون جب مہمان ابراہیم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : سلام (یعنی ہم سلام کرتے ہیں۔ سلاماً فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے) ابراہیم نے کہا : ہم تم سے خوف زدہ ہیں۔ یعنی تم بغیر اجازت کے یا بےوقت آئے ہوئے ‘ اسلئے ہم تمہاری طرف سے ڈر رہے ہیں۔ یا خوف کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ابراہیم کی طرف سے پیش کیا ہوا طعام مہمانی مہمانوں نے کھانے سے انکار کردیا تھا (جس سے حضرت ابراہیم کو اندیشہ ہوا کہ شاید یہ دشمن ہیں) وَجِل کا معنی ہے : کسی مصیبت کے آنے کے خوف سے دل کا بےچین ہوجانا۔
Ayah 15:53قالوا الا تو جل انا نبشرک بغلم علیم مہمانوں نے کہا : آپ کچھ خوف نہ کریں ‘ ہم ایک ذی علم لڑکے کی آپ کو بشارت دیتے ہیں۔ یعنی آپ کا ایک لڑکا ہوگا جو بالغ ہو کر بڑا عالم ہوگا۔ حضرت ابراہیم چونکہ بہت بوڑھے ہوگئے تھے اور بیوی بھی بوڑھی تھیں ‘ اسلئے آپ کو تعجب ہوا اور
Ayah 15:54قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون کہا : میرا تو بڑھاپا آگیا ہے اس کے باوجود تم بشارت دے رہے ہو ‘ کس سبب سے بشارت دے رہے ہو ؟ یعنی ایسی بات کی خوشخبری دے رہے ہو جس کا معمولاً واقع ہونا ناقابل فہم ہے۔
Ayah 15:55قالوا ابشرنک بالحق فرشتوں نے کہا : ہم نے آپ کو سچی (یا یقین کے ساتھ یا سچے طریقے سے) خوشخبری دی ہے۔ حق سے مراد ہے : اللہ کا قول اور حکم جس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ‘ کسی طرح اس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
فلا تکن من القانطین پس آپ آس توڑنے والوں میں سے نہ ہوں (یقینی امید رکھیں) اللہ بغیر ماں باپ کے بھی پیدا کرسکتا ہے تو کوئی تعجب نہیں کہ بوڑھے ماں باپ کو بچہ عطا فرما دے۔ حضرت ابراہیم کو قدرت خدا کا انکار نہ تھا بلکہ ایسا ہونا چونکہ معمولی خداوندی کے خلاف تھا ‘ اسلئے آپ کو تعجب ہوا۔
Ayah 15:56قال ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون ابراہیم نے کہا : گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے اور کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ یعنی جو رحمت الٰہی سے واقف نہیں ‘ معرفت سے بےبہرہ ہیں ‘ اللہ کی رحمت ‘ علم ‘ اور قدرت کی وسعت کا ان کو پتہ نہیں ‘ وہی آس توڑ لیتے ہیں اور ناامید ہوجاتے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجانا ایسا ہی بڑا گناہ ہے جیسا غضب سے بےفکر ہوجانا۔
Ayah 15:57قال فما خطبکم ایھا المرسلون ابراہیم نے کہا : اے فرستادگان (الٰہی) تمہارا (آنے کا) معاملہ کیا ہے ؟
یعنی اس بشارت کے علاوہ اصل سبب تمہارے نازل ہونے کا کیا ہے ‘ وہ کیا بڑا کام ہے جس کیلئے تم کو بھیجا گیا ہے۔ شاید حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ متعدد فرشتوں کے آنے کی غرض یہ خوشخبری تو ہو نہیں سکتی ‘ بشارت دینے کیلئے تو ایک بھی کافی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زکریا اور حضرت مریم کو ایک ہی فرشتہ نے بشارت دی تھی۔ یا حضرت ابراہیم یہ سمجھے کہ ان کے آنے کی اگر اصل غرض اگر خوشخبری پہچانی ہوتی تو آتے ہی بشارت دیتے۔ بشارت تو انہوں نے خوف کو دور کرنے کیلئے ذیلی اور ضمنی طور پردے دی (شروع میں تو مہمان بن کر آئے تھے) ۔
Ayah 15:58قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین : فرشتوں نے کہا : ہم کو مجرم لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے ‘
Ayah 15:59الا ال لوط سوائے ان لوگوں کے جو لوط کے پیرو ہیں (ان کو ہلاک کرنے کا ہم کو حکم نہیں) یا اس طرح ترجمہ ہوگا کہ ہم کو تمام مجرموں یعنی مشرکوں کی طرف بھیجا گیا ہے ‘ مگر آل لوط کے پاس نہیں بھیجا گیا تاکہ ہم مجرموں کو ہلاک کردیں اور آل لوط کو ہلاک نہ کریں۔
انا لمنجوھم اجمعین : باقی تمام آل لوط کو بلاشبہ بچا لیں گے۔
Ayah 15:60الا امرأتہ : ہم لوط کی بیوی کے سوا قدرنا انھا لمن الغبرین ہم نے طے کردیا ہے کہ وہ (عذاب میں) باقی رہنے والوں (یعنی کافروں) میں شامل ہوگی۔
تقدیر بمعنی قضا کے ہے ‘ یعنی ہم نے کہہ دیا ‘ یا ہم نے طے کردیا۔ لغت میں تقدیر کا معنی ہے : کسی چیز کو دوسری چیز کے اندازہ کے موافق بنا دینا ‘ یا کردینا۔ حقیقت میں یہ فعل اللہ کا ہے ‘ لیکن فرشتوں کو اللہ سے خصوصی قرب حاصل تھا ‘ اسلئے فعل تقدیر کی نسبت فرشتوں کی طرف کردی گئی۔ یا ملائکہ کی طرف فعل تقدیر کی نسبت کرنے کی یہ وجہ ہے کہ وہ تو محض قاصد جو نامہ بر تھے ‘ ان کا ہر قول و فعل اللہ کا قول و فعل تھا۔
Ayah 15:61فلما جآء ال لوط المرسلون : جب لوط کے گھر والوں کے پاس فرشتے پہنچے
Ayah 15:62قال انکم قوم منکرون تو لوط نے ان سے کہا : بلاشبہ تم اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو۔ یعنی میں نے تم کو نہیں پہنچانا ‘ تم سے مجھے اندیشہ ہے۔ نہ تو تم پر کوئی سفر کی علامت ہے کہ میں تم کو مسافر سمجھوں اور نہ تم اس بستی کے رہنے والے ہو۔ کہیں تمہاری طرف سے مجھے کوئی دکھ نہ پہنچ جائے۔
Ayah 15:63قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون فرشتوں نے کہا : ہم آپ کے پاس (کافروں کیلئے) وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں ان کو شک رہتا تھا۔ یعنی آپ کو دکھ پہنچانے والی کوئی چیز لے کر نہیں آئے ‘ بلکہ آپ کیلئے خوش کن بات لائے ہیں۔ جس عذاب سے آپ ان کو ڈراتے تھے اور وہ شک میں پڑے ہوئے تھے ‘ ان کو عذاب کا خوف ہی نہ تھا ‘ وہی عذاب ان کیلئے لائے ہیں۔
Ayah 15:64واتینک بالحق اور آپ کے پاس عذاب کی یقینی اطلاع (یا وہ عذاب جو اللہ کے علم میں محقق ہوچکا ہے) لے کر آئے ہیں۔
وانا لصدقون اور ہم (اپنے اس قول میں) یقیناً سچے ہیں۔
Ayah 15:65فاسر باھلک بقطع من الیل واتبع ادبارھم ولا یلتفت منکم احد سو آپ رات کے کسی حصے میں (یہاں سے) چلے جانا اور آپ ان سب کے پیچھے پیچھے رہنا اور نہ دیکھے پیچھے مڑ کر تم میں سے کوئی۔
قِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ پارۂ شب۔ بعض نے کہا : آخر شب۔ سب کے پیچھے چلنے سے یہ مراد ہے کہ تم ان کو اپنے آگے آگے تیزی سے نکال لے جاؤ اور ان کے احوال پر مطلع رہو۔ پیچھے پھر کر دیکھنے کی ممانعت اسلئے کی کہ ہولناک عذاب کا منظر ان سے دیکھا نہ جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قوم کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر ان کے دلوں میں نرمی اور رقت پیدا ہوجائے اور اس قلبی ہمدردی کی پاداش میں ان پر بھی وہی عذاب آجائے۔
یا لاَ یَلْتَفِتْ کا مطلب یہ ہے کہ تم میں کوئی کسی کام کیلئے ساتھ جانے سے رہ نہ جائے ورنہ وہ بھی ہمہ گیر عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔ بعض نے کہا : التفات کی ممانعت اسلئے کی گئی کہ دل کے جماؤ کے ساتھ وہ ترک وطن کرسکیں (وطن اور احباب و اقارب کی طرف ان کی رغبت خاطر ہی پیدا ہو پائے) بعض علماء کے نزدیک عدم التفات سے مراد لفظی ترجمہ نہیں بلکہ کنائی معنی مراد ہیں ‘ یعنی سرپٹ نکل جاؤ ‘ سستی نہ کرو ‘ کہیں دم نہ لو ‘ تیزی کے ساتھ بھاگے چلے جاؤ۔ التفات (رخ کرنے والے کو ادنیٰ وقفہ ‘ اتنا وقفہ کہ منہ موڑ کر دیکھ لے) کرنا ہی پڑتا ہے۔ گویا عدم التفات سے مراد ہے : وقفہ نہ کرنا ‘ دم نہ لینا ‘ تیزی کے ساتھ بھاگتے چلا جانا۔
وامضوا حیث تؤمرون اور جہاں جانے کا (ا اللہ کی طرف سے) تم کو حکم دیا جا رہا ہے ‘ وہاں چلے جاؤ۔ یعنی شام کو چلے جاؤ۔ حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے۔ مقاتل کے نزدیک زعر مراد ہے۔ بعض نے اردن کہا ہے۔
Ayah 15:66وقضینا الیہ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اور ہم نے لوط کے پاس یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوتے ہی ان کی جڑ بالکل کٹ جائے گی (سب ہلاک کر دئیے جائیں گے) یعنی حضرت لوط کے پاس ہم نے یہ قطعی حکم بھیج دیا کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے بالکل کٹ جائے گی۔ دَابِر جڑ۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ‘ سب کے سب بالکل ہلاک کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 15:67وجاء اھل المدینۃ یستبشرون اور شہر والے باہم خوش خبریاں سناتے آئے۔ یعنی سدوم بستی کے رہنے والے نووارد خوبصورت لڑکوں کی آمد کی اطلاع خوشی خوشی باہم دینے لگے۔ امرد پرست تھے ‘ خوبصورت نووارد لڑکوں کی آمد سے ان کا شیطانی جذبہ جوش میں آیا اور ایک ‘ دوسرے کو خوشخبری دینے لگا۔ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے گھر پہنچے تھے۔
Ayah 15:68قال ان ھولا ضیفی فلا تفضحون لوط نے کہا : یہ میرے مہمان ہیں ‘ مجھے رسوا نہ کرو۔ مہمان کی رسوائی میزبان کی رسوائی ہے۔
Ayah 15:69واتقوا اللہ ولا تخزون اور اللہ سے ڈرو (ایسی بےحیائی کی حرکت نہ کرو) اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ تُخْرُوْنِ ‘ خِزْیٌ سے ماخوذ ہے۔ خِزْیٌ کا معنی ہے : ذلت۔ یا خَزَایۃٌ سے ماخوذ ہے۔ خَزَایۃٌ کا معنی ہے : شرمندگی ‘ حیا۔ یعنی مجھے شرمند نہ کرو۔
Ayah 15:70قالوا اولم ننھک عن العلمین وہ کہنے لگے : کیا ہم تم کو دنیا بھر کے لوگوں (کی ذمہ داری لینے اور ہمارے معاملے میں دخل دینے) سے منع نہیں کرچکے تھے ؟
اَوَلَمْ نَنْھَکَ کا عطف فعل محذوف پر ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : کیا ہم ان کو تمہارے کہنے سے چھوڑ دیں باوجودیکہ ہم نے تم کو منع کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ تم ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان دخل نہ دو اور ہمارے خلاف کسی کو اپنے پاس اپنی پناہ میں نہ رکھو۔ ہم تو ان سے جو کچھ چاہتے ہیں ‘ کریں گے۔ قوم لوط والے (علاوہ امرد پرست ہونے کے) رہزن بھی تھے ‘ راہگیروں کو لوٹا کرتے تھے۔ حضرت لوط بقدر امکان اس فعل سے ان کو منع کرتے تھے۔
Ayah 15:71قال ھولا بنتی ان کنتم فعلین لوط نے کہا : یہ میری لڑکیاں (موجود) ہیں (تم اپنی خواہش ان سے پوری کرسکتے ہو ‘ ان سے نکاح کرلو) اگر خواہش پوری کرنی چاہتے ہو تو ایسا کرلو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم میرے کہنے پر عمل کرنے والے ہو تو ان سے نکاح کرلو۔
Ayah 15:72لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون (ا اللہ نے فرمایا : اے محمد ! ) تمہاری زندگی کی قسم ! یہ لوگ درحقیقت اپنے نشہ میں سرمت ہیں۔ عَمْر اور عُمُر ہم معنی ہیں۔ عَمْر کا لفظ خفیف بھی ہے اور قسم کے موقع پر یہی لفظ بولا جاتا ہے ( عُمُرکا لفظ قسم کے موقع پر نہیں آتا) بغوی نے ابو الجوزاء کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز اللہ نے کسی اور کی جان نہیں پیدا کی اور آپ کی زندگی کے علاوہ کسی اور کی زندگی کی قسم نہیں کھائی (عزیز ترین چیز ہی کی قسم کھائی جاتی ہے۔ تمام جانوں میں رسول اللہ ﷺ کی جان اللہ کے نزدیک عزیز تھی ‘ اسی کی قسم کھائی) ۔ یَعْمَھُوْنَ کا معنی ہے : سرگرداں ہیں ‘ متحیر ہیں۔ یعنی جب یہ کافر اپنے نشے میں سرمست ہیں تو آپ کی نصیحت کیسے سن سکتے ہیں۔ یا یہ کلام ملائکہ کا ہے جو حضرت لوط کو خطاب کر کے انہوں نے کہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اے لوط ! تمہاری زندگی کی قسم ! یہ لوگ اپنے نشہ میں سرمست ہیں (تمہاری نصیحت نہیں سنیں گے۔ یا اللہ کا قول ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہی ہے اور اللہ نے قوم لوط کی حالت بیان کی ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ اے محمد ! آپ کی زندگی کی قسم ! قوم لوط درحقیقت اپنے نشہ میں مست تھی ‘ وہ لوط کی نصیحت نہیں سن سکتے تھے۔ مترجم)
Ayah 15:73فاخذتھم الصیحۃ مشرقین پس سورج نکلتے نکلتے ان کو ایک سخت آواز نے آ دبایا (پکڑ لیا کہ جہاں تھے وہیں رک گئے ‘ کوئی بچنے نہ پایا۔ مترجم) ۔ الصَّیْحَۃ یعنی ہولناک ‘ ہلاکت انگیز چیز ‘ چیخ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ چیخ حضرت جبرئیل کی تھی۔ شروق الشمس سورج کا نکلنا اور روشن ہونا۔ مراد یہ ہے کہ عذاب کا آغاز تو فجر سے ہی ہوگیا تھا اور تکمیل عذاب سورج نکلنے کے وقت ہوئی۔
Ayah 15:74فجعلنا عالیھا سافلھا سو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کردیا۔ حضرت جبرئیل نے اس بستی کو اٹھا کر الٹ دیا ‘ اوپر کو نیچے کردیا۔
وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل اور ہم نے ان پر کنکر کے پتھر برسائے۔ سِجِّیْل وہ مٹی جو سخت ہو کر پتھرہو جاتی ہے (کنکر) یا وہ کنکر جو (ہر ایک کیلئے جدا جدا) نامزد تھا۔ اس ترجمہ پر سجل کے لفظ اور اس واقعہ کی تفصیل سورة ہود میں گذر چکی ہے۔ فَجَعَلْنَا میں فَ (پھر) کا لفظ بتارہا ہے کہ پہلے چیخ اور سخت آواز آئی تھی ‘ پھر بستی الٹی تھی اور پتھروں کی بارش ہوئی تھی۔
Ayah 15:75ان فی ذلک لایت للمتوسمین اسی واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اہل بصیرت کیلئے۔ حضرت ابن عباس نے مُتَّوَسِّمِیْن کا ترجمہ کیا ہے : ” دیکھنے والے “۔ مجاہد نے کہا : شناخت کرنے والے۔ قتادہ نے کہا : عبرت حاصل کرنے والے۔ مقاتل نے کہا : غور کرنے والے۔ میں کہتا ہوں : وسم کا معنی ہے : اثر کرنا ‘ نشان پیدا کرنا اور سِمَۃٌ کا معنی ہے : اثر ‘ نشان۔ یعنی جو لوگ ظاہری علامات و آثار کو دیکھ کر اندرونی نتائج و معانی کی شناخت کرنے والے ہیں ‘ ان کیلئے اس واقعہ میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 15:76وانھا لبسبیل مقیم اور وہ (یعنی الٹی ہوئی بستی) اس راستہ پر موجود ہے جو (اب بھی) آباد ہے۔ یعنی اب بھی موجود ہے ‘ اس کے نشانات مٹے نہیں ہیں ‘ لوگ اس پر چلتے ہیں۔ مقیم بمعنی قائم یعنی موجود ‘ جس کے نشان مٹے نہ ہوں۔
Ayah 15:77ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین بلاشبہ اس بیان میں مؤمنوں کیلئے نشانی ہے۔ یعنی ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ بیان اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 15:78وان کان اصحاب الایکۃ لظلمین اور بلاشبہ ایکہ والے بھی ظالم تھے۔ انہوں نے حضرت شعیب کی تکذیب اور اللہ کی توحید کا انکار کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دوزخ کے مستحق بنے تھے۔ الْاَیْکَۃ گھنے درخت ‘ جھاڑی۔ اصحاب الایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے جو گھنے جنگل میں رہتی تھی ‘ وہاں عموماً درخت گوگل کے تھے۔
Ayah 15:79فانتقمنا منھم پس ہم نے ان سے انتقام لیا (ان کو ان کے جرم کی سزا دی) اللہ نے سات روز تک ان پر سخت گرمی کو مسلط کردیا۔ سات روز کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا ‘ لوگ آرام لینے اور کچھ سکھ پانے کیلئے اس کے سایہ میں آگئے ‘ لیکن اللہ نے اس بادل سے ان پر آگ برسائی اور سب جل بھن کر خاک ہوگئے۔ اس عذاب کو عذاب یوم الظلہ (سایہ کے دن کا عذاب) کہا گیا ہے۔
وانھما لبامام مبین اور دونوں (قوموں کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں۔ ھُمَا (دونوں) سے مراد ہیں :
قوم لوط کی بستی سدوم اور قوم شعیب کی بستی ایکہ۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ ایکہ اور مدین مراد ہیں کیونکہ ان دونوں شہروں کی اصلاح کیلئے حضرت شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اوپر کی آیت میں ایک کا ذکر کردیا گیا (اصحاب الایکۃ کا ذکر کردیا) دوسری بستی کا ذکر اس جگہ ضروری نہیں تھا۔
اِمَامٍ مُّبِیْن کھلا ہوا راستہ ‘ طریق واضح۔ جس کو دیکھ کر مکہ والے عبرت حاصل کرسکتے تھے (سفر میں اس راستہ پر جاتے تھے) امام ہر وہ چیز جس کی پیروی کی جائے (یعنی اس کو نمونۂ عمل ‘ یا پیشوا ‘ یا دستور کار بنا لیا جائے) لوح محفوظ کو اور معمار کی گنیا کی ڈور کو اور راستہ کو بھی اسی مناسبت سے امام کہا جاتا ہے (جہاں کے تمام واقعات لوح محفوظ کی تحریر کے موافق ہوتے ہیں۔ معمار اپنی گنیا کے ڈورے سے تعمیر کو ناپتا اور اندازہ کرتا ہے اور راستے پر بھی سبھی لوگ چلتے ہیں ‘ راہ سب کیلئے راہ نما ہوتی ہے) ۔
Ayah 15:80ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین اور حجر والوں نے بلاشبہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ یعنی حضرت صالح اور ان پیغمبروں کی تکذیب کی جن کو حضرت صالح نے سچا بتایا تھا۔ اصحاب الحجر سے مراد ہے : قوم ثمود۔ حجر ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی۔