14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے

الحمد اللہ الذی وھب لی علی الکبر اسماعیل واسحٰق تعریف ہے اس اللہ کو جس نے باوجود بڑھاپے کے مجھ کو اسماعیل و اسحاق (دونوں بچے) عطا فرمائے۔ یعنی بڑھاپے کی وجہ سے میں مایوس ہوگیا تھا ‘ ایسی حالت میں اللہ نے اولاد عطا فرمائی۔ یہ اللہ کی عظیم الشان نعمت اور شان قدرت ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت ابراہیم کی عمر ننانوے سال کی تھی تو حضرت اسماعیل پیدا ہوئے اور ایک سو بارہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق کی ولادت ہوئی۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم کو ایک سو سترہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ ان ربی لسمیع الدعآء میرا رب دعا کو خوب سننے والا ہے۔ یعنی دعا قبول کرنے والا ہے ----- سَمِعُ الملک الکلام بادشاہ نے بات سن لی ‘ یعنی بات کا اثر لے لیا۔ آیت بتارہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے دعا کی تھی اور اولادہونے کی درخواست کی تھی۔ اللہ نے دعا قبول فرما لی اور ناامیدی کی حالت میں نرینہ اولاد عطا کی۔
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما

رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی اے میرے رب ! مجھے اور میری کچھ نسل کو نماز کا پابند بنا۔ اقامت صلوٰۃ ‘ نماز کو ارکان و آداب اور پابندی اوقات و شرائط کے ساتھ ہمیشہ ادا کرنا۔ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ میں مِنْ تبعیضی اسلئے ذکر کیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ آئندہ میری نسل میں کچھ کافر بھی ہوں گے کیونکہ اللہ نے فرما دیا تھا : لا ینال عھدی الظالمین۔ ربنا وتقبل دعاء اے میرے رب ! اور میری دعا (یا عبادت) قبول فرما۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے ‘ امام احمد اور بخاری نے الادب میں اور چاروں اصحاب السنن نے اور ابن حبان نے اور حاکم نے حضرت نعمان بن بشیر کی روایت سے ابویعلی نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعاء (سے مراد) ہی عبادت ہے۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا عبادت کا مغز ہے۔
Ayah 14:41

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو

ربنا اغفر لی ولوالدی اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والدین مسلمان تھے۔ آذر آپ کا چچا تھا اور تارخ آپ کے باپ کا نام تھا۔ تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ چونکہاب کا لفظ چچا کیلئے بھی بولا جاتا ہے ‘ اسلئے اگر والدیَّ کی جگہ اَبَوَیَّ کا لفظ استعمال کیا جاتا تو خیال ہوسکتا کہ شاید حضرت نے آذر کیلئے بھی دعائے مغفرت کی تھی (باوجودیکہ آذر مشرک تھا اور مشرک ناقابل مغفرت ہے) اس خیال کو دفع کرنے کیلئے وَالِدیَّ فرمایا ‘ یعنی حقیقی ماں اور حقیقی باپ اور بالفرض اگر آذر کو (حقیقی) باپ مان بھی لیا جائے تو اس کیلئے دعائے مغفرت کی وجہ خود ہی اللہ نے بیان فرما دی ہے کہ حضرت ابراہیم نے باپ کیلئے دعائے مغفرت صرف اس وعدہ کی وجہ سے کی تھی کہ اس سے وعدہ کرلیا تھا ‘ لیکن جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے اور بیزاری کا اظہار کردیا۔ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ الاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ ۔ وللمؤمنین یوم یقوم الحساب اور (تمام) ایمان والوں کو جس روز حساب برپا ہوگا۔ برپا ہونے سے مراد ہے : موجود ہونایا ظاہر ہونا۔ یہ معنی قیام علی الرجل (پاؤں پر کھڑا ہونا) سے مستعار لیا گیا ہے۔ محاورے میں بولا جاتا ہے : قَامَتِ الحربُ عَلٰی ساقٍ لڑائی اپنی پنڈلی پر کھڑی ہوگئی (یعنی برپا ہوگئی) یا الحسابُ سے پہلے لفظ اَہْلُ محذوف ہے ‘ یعنی جس روز اہل حساب کھڑے ہوں گے۔ جیسے آیت واسْءَلِ الْقَرْیَۃَ اور بستی سے پوچھ لو ‘ یعنی بستی والوں سے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ کھڑے ہونے کی نسبت حساب کی طرف مجازی ہے (پہلی صورت میں مجاز فی الحذف ہوگا اور اس صورت میں مجاز فی الاسناد) یعنی لوگ حساب کیلئے کھڑے ہوں گے۔
Ayah 14:42

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظالمون اور تم اللہ کو ظالموں کے عمل سے غافل نہ خیال کرو کہ اس کو حقیقت امور کا علم نہ ہو۔ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ آپ تو اللہ کو غافل خیال ہی نہیں کرسکتے تھے ‘ یہ تو ہم ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ حضور ﷺ اللہ کو لاعلم سمجھتے ہیں ‘ اسلئے آیت میں ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو اللہ کو واقف کل جانتے ہیں ‘ اس خیال پر آپ جمے رہیں اور جانتے رہیں کہ اللہ ظالموں کے تمام احوال و افعال پر مطلع ہے ‘ اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ لامحالہ ان کے ہر چھوٹے بڑے ظلم کی سزا دے گا۔ یا آیت میں خطاب عمومی ہے ‘ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اللہ کی ذات وصفات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اللہ کو غافل خیال کرتا ہے اور اللہ کی طرف سے ڈھیل ملنے کو اللہ کی ناواقفیت پر محمول کرتا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں مظلوم کیلئے پیام تسلی اور ظالم کیلئے عذاب کی دھمکی ہے۔ انما یؤخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار کیونکہ ان کو صرف اس روز تک مہلت دے رکھی ہے جس میں ان لوگوں کی نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی۔ یعنی اس دن کے ہول سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ‘ پلک نہ جھپکے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ نظریں اٹھ جائیں گی اور اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گی۔
Ayah 14:43

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

مھطعین تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے۔ ادھر ادھر منہ پھیر کر نہیں دیکھیں گے نہ یہ جانیں گے کہ ان کے قدم کہاں پڑ رہے ہیں۔ قتادہ نے کہا : تیزی کے ساتھ بلانے والے کی طرف دوڑیں گے۔ مجاہد نے کہا : ٹکٹکی باندھے ہوں گے ‘ برابر نظر جمائے ہوں گے۔ قاموس میں ہے : ہَطَعَ (ماضی) ہطوعًا (مصدر) سامنے سے دوڑتا ہوا تیزی کے ساتھ آیا۔ یا کسی چیز پر نظر جمائے رکھی ‘ نگاہ نہ ہٹائی۔ مہطع بروزن محسن ‘ عاجزی کے ساتھ دیکھنے والا جو اپنی نظر کو نہ ہٹا سکے۔ یا خاموشی کے ساتھ پکارنے والے کی آواز کی طرف جانے والا۔ مقنعی روسھم اپنے سر اوپر اٹھائے۔ قتیبی نے کہا : مقنع اس شخص کو کہتے ہیں جو سر اٹھائے اپنے سامنے دیکھتا رہے ‘ سامنے سے نظر نہ ہٹائے۔ حسن نے کہا : قیامت کے دن لوگوں کے منہ آسمان کی طرف ہوں گے ‘ کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھے گا۔ لا یرتد الیھم طرفھم ان کی نظر ان کی طرف واپس نہیں آئے گی کہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں بلکہ ٹکٹکی باندھے اوپر ہی کی طرف تکتے رہیں گے۔ وافئدتھم ھوآء اور ان کے دل بالکل بدحواس ہوں گے۔ یعنی انتہائی دہشت اور حیرت کی وجہ سے ان کے دل فہم وعقل سے خالی ہوجائیں گے۔ احمق آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے : قبلہٗ ہواء اس کا دل (فہم ‘ سمجھ اور قوت سے) خالی ہے (مطلب یہ کہ اس کا دماغ کھوکھلا ہے) قتادہ نے کہا : ان کے دل سینوں سے نکلنے لگیں گے اور حلق میں آکر اٹک جائیں گے ‘ نہ منہ سے باہر آئیں گے نہ اپنی جگہ پر لوٹیں گے۔ پس دل ہواہو جائیں گے ‘ یعنی ان کے اندر کچھ نہ ہوگا۔ آسمان و زمین کی درمیانی خلاء کو اسی وجہ سے ہوا کہا جاتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : ان کے دل بےتاب اور بےقرار ہوں گے ‘ کسی جگہ ان کو قرار نہ ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے : اصل مطلب یہ ہے کہ دل اپنی جگہ سے ہٹ چکے ہوں گے اور نظریں خیرہ اور اوپر کو اٹھی ہوئی ‘ ٹکٹکی باندھے تک رہی ہوں گی۔
Ayah 14:44

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا

وانذر الناس یوم یایتھم العذاب اور (اے محمد ! ) لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آجائے گا ‘ یعنی قیامت کے دن یا مرنے کے دن سے۔ مرنے کا دن بھی عذاب کا پہلا دن ہوگا۔ یا یہ مراد ہے کہ اس دن سے ڈراؤ جس روز ان کو مکمل تباہ کرنے اور جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والا عذاب دنیا میں ہی آجائے گا۔ فیقول الذین ظلموا پس ظالم یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک اور تکذیب رسول ﷺ کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ‘ کہیں گے : ربنا اخرجنا اے ہمارے رب ! ہم کو (دنیا میں) مہلت دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم کو دنیا میں لوٹا دے اور عذاب کو پیچھے کر دے۔ الی اجل قریب تھوڑی مدت کے لئے اور اتنی مدت ہم کو وہاں باقی رکھ کہ ہم تجھ پر ایمان لے آئیں اور تیری دعوت کو قبول کرلیں۔ نجب دعوتک ونتبع الرسل ہم تیری دعوت قبول کرلیں اور تیرے پیغمبروں کی پیروی کریں۔ یہ امر کا جواب ہے ‘ اس کی نظیر آیت لَوْ لاآ اَخَّرتَنِیْٓ الآی اَجَلٍ قَرِیْبِ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصَّالْحِیْنَ ہے۔ اس درخواست کا جواب دیا جائے گا۔ او لم تکونوا اقسمتم من قبل ما لکم من زوال کیا اس سے پہلے (دنیا میں) تم نے قسمیں کھا کر یہ نہیں کہا تھا کہ ہم دنیا میں ہمیشہ رہیں گے ‘ ہم کو کبھی مرنا نہیں ہے۔ شاید یہ الفاظ انہوں نے انتہائی غرور وتکبر کی حالت میں کہے ہوں۔ یا اقسموا سے مراد ہے : دلالت حال کی پختگی۔ انہوں نے مستحکم عمارتیں بنائی تھیں ‘ لمبی لمبی امیدیں باندھی تھیں جس سے (بدلالت التزامی) ثابت ہو رہا تھا کہ ان کو اپنے ہمیشہ رہنے کا یقین ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ (زوال سے مراد ہے : دار آخرت کی طرف منتقل ہوجانا) انہوں نے قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم کو دار آخرت کی طرف پہنچنا نہیں (قیامت نہیں ہوگی اور دوبارہ کوئی زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا) دوسری آیت میں یہی مضمون آیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : وَاَقْسَمُوْا بالِلّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لاَ یَبْعَثُ اللّٰہُ مِنْ یَّمُوْتُ انہوں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرے گا ‘ اس کو اللہ دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔
Ayah 14:45

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم اور جن لوگوں نے (کفر و معصیت کر کے) اپنے آپ پر خود ظلم کیا تھا (جیسے قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود وغیرہ) کیا ان کے گھروں میں ان کی جگہ پر تم نہیں رہے تھے۔ وتبین لکم کیف فعلنا بھم وضربنا لکم الامثال اور (کیا ان کے آثار قدیمہ کا مشاہدہ کر کے اور ان کی تباہیوں اور بربادیوں کی خبریں سن کر) تم پر ظاہر (نہ) ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا اور (کیا) تمہاری عبرت کیلئے ہم نے (ان کے احوال کی) مثالیں (نہیں) بیان کردی تھیں ؟ یعنی کیا ہم نے پیغمبروں کی معرفت اور ان کی زبانی نہیں بیان کردیا تھا کہ تم کفر و استحقاق عذاب میں گزشتہ اقوام کی طرح ہو۔ یا یہ مطلب کہ گزشتہ اقوام کے حالات و اعمال اور ان کے نتائج جو ندرت میں مشہور کہاوتوں کی طرح ہوگئے تھے ‘ تم سے بیان نہ کر دئیے تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری سبق آموزی کیلئے ہم نے قرآن میں مثالیں نہیں بیان کردی تھیں۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

وقد مکروا مکرھم اور انہوں نے اپنی سازشیں کیں۔ یعنی کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو جلاوطن کرنے یا قید کردینے یا قتل کر ڈالنے کی سازش کی۔ اہل تفسیر کے نزدیک مَکَرُوْا کی ضمیر فاعلی اور ضمیر ھُمْ دونوں کفار مکہ کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ یعنی کفار مکہ نے اپنی سی ہر تدبیر کر ڈالی اور حق کو مٹانے اور باطل کو اٹھانے کی ہر کوشش جو کرسکتے تھے ‘ کرلی۔ اس تفسیر پر اس کلام کا سابق کلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ میرے نزدیک اس جملے کا عطف سَکَنْتُمْ پر ہے ‘ مَکَرُوْا کی ضمیر تو کفار مکہ کی طرف راجع ہے اور ھُمْضمیر الَّذِیْنَ کی طرف لوٹ رہی ہے اور الَّذِیْنَ سے مراد اقوام گزشتہ ہیں ‘ یعنی کفار مکہ نے بھی گزشتہ امتوں کے کافروں جیسے فریب کئے اور ان کی تدبیروں کی طرح سازشیں کیں۔ وعند اللہ مکرھم اور اللہ کے پاس ان کا فریب (لکھا ہوا) موجود ہے۔ وہ اس فریب کاری کی ان کو سزا دے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کی سازشوں اور مکاریوں کی سزا دینے کیلئے اللہ کے پاس بھی پوشیدہ تدبیر ہے جس سے ان کی سازشوں کو بےحقیقت کر دے گا۔ وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال اور واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ اِنْ نافیہ ہے اور لِتَزُوْلُ میں لام تاکید نفی کیلئے ہے اور جِبَال سے مراد ہے : رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا معاملہ اور قوانین شریعت اور آیات خداوندی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا مکر ایسا نہیں کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں ‘ یعنی نبوت محمدیہ اور احکام الٰہیہ ان کی سازشوں سے باطل نہیں ہوسکتے نہ ان کی فریب کاریوں سے ان میں زوال آسکتا ہے۔ یا اِنْ ‘ اِنَّ کا مخفف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور شریعت الٰہیہ اور احکام خداوندی جو پہاڑوں کی طرح پائیدار ہیں ‘ انہوں نے اپنی سازشوں سے ان کو اکھاڑ دینا چاہا اور اردہ کیا کہ فریب و مکر سے ان کی بیخ کنی کردیں گے ‘ لیکن ایسا ناممکن ہے۔ حسن نے کہا : ان کا مکر پہاڑوں کو ان کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ ابن جریج کی قراءت میں لِتَزُوْلَ کی جگہ لَتَزُوْلُ آیا ہے۔ اِنْ مخففہ ہے اور لام تاکیدی فصل کیلئے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا مکر بلاشبہ ایسا تھا کہ پہاڑ بھی اس کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ‘ یعنی ان کا شرک بہت سخت تھا اور اتنا بڑا جرم تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر اکھڑ جائیں۔ یہی مضمون ایک اور آیت میں آیا ہے : تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ بغوی نے حضرت علی کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول نمرود کے حق میں ہوا جس نے حضرت ابراہیم سے اللہ کی ہستی کی بابت مناظرہ کیا تھا۔ نمرود نے کہا : اگر ابراہیم کا قول سچا ہے تو میں آسمان تک پہنچ کر خود دیکھوں گا کہ وہاں کون ہے ‘ کیا ہے ؟ چناچہ آسمان تک چڑھنے کی اس نے یہ اسکیم بنائی کہ گدھ کے چار بچے لے کر ان کو پالا اور ٹریننگ دی۔ جب وہ جوان ہوگئے تو ایک صندوق بنوایا جس کے دو دروازے قائم کئے ‘ ایک بالائی جانب ‘ ایک نیچے کی طرف اور چار لکڑیاں لے کر صندوق کے ہر گوشہ میں ایک ایک لکڑی کھڑی کردی اور ہر لکڑی کی بالائی نوک پر گوشت کا ٹکڑا باندھ دیا ‘ پھر صندوق کو گدھوں کی ٹانگوں سے باندھ دیا (صندوق نیچے ‘ گدھ اوپر اور لکڑیوں میں گوشت بندھا ہوا گدھوں کے اوپر) اس کے بعد نمرود ایک آدمی کو ساتھ لے کر صندوق میں بیٹھ گیا اور گدھوں کو اڑایا۔ گدھ اڑے اور گوشت حاصل کرنے کیلئے اوپر اٹھتے گئے (جتنا اوپر اٹھتے تھے ‘ گوشت لکڑیوں میں لٹکتا ہوا ان کے اوپر ہی رہتا تھا اور گدھوں کی رسائی گوشت تک نہیں ہوتی تھی) اس طرح اوپر چڑھتے رہے اور دور ہوا میں پہنچ گئے۔ ایک روز گذر گیا تو نمرود نے ساتھی سے کہا : اوپر کا دروازہ کھول کر دیکھو آسمان قریب آگیا یا نہیں ؟ ساتھی نے دروازہ کھول کر دیکھا اور بولا : آسمان تو ویسا (ہی دور) ہے جیسا پہلے تھا۔ نمرود نے کہا : اب نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھو۔ ساتھی نے نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھا اور کہا : زمین ایک تالاب کی طرح اور پہاڑ دھوئیں کی مانند دکھائی دے رہے ہیں۔ غرض گدھ اڑتے اور اوپر کو اٹھتے رہے یہاں تک کہ ایک دن اور گزر گیا اور اب خلا گدھوں کی اڑان میں رکاوٹ پیدا کرنے لگی۔ نمرود نے ساتھی سے کہا : اب دونوں دروازے کھول کر دیکھو۔ اوپر کا دروازہ کھولا تو آسمان ویسا ہی اپنی ہیئت پر نظر آیا اور نیچے کا دروازہ کھول کر دیکھا تو زمین کی جگہ صرف ایک تاریک سیاہی نظر آئی اور (غیب سے) ندا آئی : باغی ! تو کہاں جانا چاہتا ہے ؟ عکرمہ کا بیان ہے : نمرود کے ساتھ تابوت میں ایک غلام بھی تیر کمان لئے موجود تھا۔ غلام نے (اوپر کی جانب) تیر پھینکا ‘ تیر خون آلودہ ہو کر لوٹ آیا۔ کوئی مچھلی (بحکم خداوندی) سمندر سے تڑپ کر خلا میں پہنچ گئی ‘ تیر اسی کے خون سے رنگین ہوگیا تھا۔ بعض نے کہا : کسی پرندے کے خون سے آلودہ ہوگیا تھا۔ نمرود نے کہا : آسمان والے خدا کے کام سے تو میں فارغ ہوگیا۔ پھر ساتھی کو حکم دیا : اب (ستون والی) لکڑیوں کو الٹ دو ‘ اوپر کا رخ نیچے کی طرف کر دو ۔ ساتھی نے حکم کی تعمیل کی۔ اسی طرح گوشت نیچے کی طرف ہوگیا اور گدھ گوشت کو نیچے کی طرف دیکھ کر نیچے اترنے لگے۔ پہاڑوں نے صندوق اور گدھوں کی سرسراہٹ سنی تو خوف زدہ ہوگئے۔ ان کا خیال ہوا کہ آسمان سے کوئی نئی مصیبت آگئی اور قیامت برپا ہوگئی۔ خوف زدہ ہو کر قریب تھا کہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔ یہی مفہوم ہے آیت وَاِنْ کَادَ (1) [ آیت میں وان کان مکرھم ہے لیکن اس روایت میں کان کی جگہ کاد ہے یا یہ ناقلی کا سہو قلم ہے ] مَکْرُھُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ کا۔ (حضرت مفسر نے فرمایا کہ) یہ روایت عقل و روایت کے خلاف ہے اور نقل صحیح کے بھی۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ پس آپ یہ خیال بھی نہ کرنا کہ اللہ نے جو وعدہ اپنے پیغمبروں سے (ان کی نصرت اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کا) کیا ہے ‘ وہ اس کے خلاف کرنے والا ہے۔ اللہ نے اپنے پیغمبروں کی نصرت کا وعدہ ایک اور آیت میں کیا ہے ‘ فرمایا ہے : اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا اور پیغمبروں کو غالب کرنے اور دشمنوں کو ہلاکت کرنے کے متعلق فرمایا ہے : لَنُھْلِکَنَّ الظَّالِمِیْنَ وَلَنُسْکِنَتَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِھِمْ ۔ وَعْدِہٖ کو رُسُلَہٗ سے پہلے ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ وعدہ خلافی کرتا ہی نہیں ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَاد اور وہ کسی سے وعدہ خلافی نہیں کرتا تو پیغمبروں سے جو وعدہ کیا ہے ‘ اس کے خلاف کیسے کرسکتا ہے۔ ان اللہ عزیز ناقابل شک ہے یہ بات کہ اللہ غالب ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی سازش نہیں کی جاسکتی اور ایسا قاد رہے کہ اس کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ ذوانتقام (اپنے دوستوں کا دشمنوں سے) انتقام لینے والا ہے۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے

یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت جس روز دوسری زمین بدل دی جائے گی ‘ اس زمین کے علاوہ اور آسمان بھی۔ یَوْمَ تُبَدَّلُ ‘ یَوْمَ یَأتیھم سے بدل ہے ‘ یا انتقام کا مفعول فیہ ہے ‘ یا اُذْکُرُوا محذوف کا مفعول بہ ہے اور السَّمٰوٰت کا عطف الْاَرْض پر ہے۔ تبدیل دو طرح کی ہوتی ہے : (1) تبدیل ذاتی یعنی ایک شئ کی بجائے دوسری چیز لے آئی جائے ‘ جیسے میں نے درہم کو دینار سے بدل لیا یا بدل دیا ‘ درہم دے کر دینار لے لیا۔ اللہ نے فرمایا ہے : بَدَّلْنَاھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا ہم ان کو ان کی کھالوں کی جگہ دوسری کھالیں دے دیں گے۔ (2) تبدیل وصفی (یعنی نفس شئ تو باقی رکھی جائے ‘ اس کی حالت شکل وغیرہ بدل دی جائے) جیسے بَدَّلْتُ الْحَلْقَۃَ بالْخَاتِم میں نے چھلا بدل کر انگوٹھی بنا دی ‘ یعنی چھلے کو پگھلا کر انگوٹھی کی شکل دے دی ‘ چھلے کی شکل کو انگوٹھی کی شکل میں تبدیل کردیا۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود کا قول اس آیت کی تشریح کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : یہ زمین بدل کر ایسی زمین کردی جائے گی جو چاندی کی طرح ہوگی جہاں نہ کبھی حرام خون بہایا گیا ہوگا نہ کوئی اور گناہ کیا گیا ہوگا۔ بیہقی نے یہ حدیث مرفوعاً بھی بیان کی ہے ‘ یعنی حضرت ابن مسعود کا قول نہیں ہے ‘ بلکہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے اور حضرت ابن مسعود راوی ہیں اور موقوفاً بھی ‘ یعنی حضرت ابن مسعود کا قول بھی قرار دیا ہے اور موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس جگہ موقوف حدیث بھی مرفوع کی طرح ہے (واقعات قیامت کا بیان اجتہاد فکر و رائے سے کوئی صحابی نہیں کر سکتا کہ جس میں غلطی کا امکان ہو سکے۔ مبدء و معاد ملائکہ ‘ نبوت ‘ جنت و دوزخ اور مستقبل کے سلسلے میں جو اقوال کسی صحابی کی طرف منسوب ہیں ‘ وہ یقیناً صحابی کے ازخود نہیں ‘ ضرور رسول اللہ ﷺ سے سنے ہوئے ہیں ‘ احتیاطاً یا کسی اور وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف ان کی نسبت نہیں کی گئی۔ پس تبدیل ارض و سماء کے سلسلے میں بھی جو حضرت ابن مسعود کا قول ہے ‘ وہ یقیناً رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ مترجم) ۔ ایک دوسری سند سے ابن جریر و حاکم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : یہ زمین بدل کر سفید زمین ہوجائے گی جیسے خالص چاندی۔ احمد ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو ایوب کی روایت سے اور (صرف) ابن جریر نے حضرت انس کی روایت سے (موقوفاً ) بیان کیا : قیامت کے دن اللہ اس زمین کو چاندی کی ایسی زمین سے بدل دے گا جس پر گناہ نہیں کیا گیا ہوگا۔ ابن جریر نے ابوحمزہ کے سلسلے سے حضرت زید کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا : یہ زمین چاندی کی طرح سفیدہو جائے گی۔ ابن ابی الدنیا نے صفت الجنۃ میں حضرت علی کی روایت سے اس آیت کی تشریح کے زیل میں بیان کیا کہ (حضرت علی نے فرمایا) زمین چاندی کی ہوگی اور آسمان سونے کا۔ ابن جریر نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ زمین ایسی ہوگی جیسے چاندی اور آسمان بھی ایسا ہی ہوگا۔ عبد بن حمید نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے ‘ عکرمہ نے کہا : ہم کو یہ (روایت) پہنچی ہے کہ یہ زمین لپیٹ دی جائے گی اور اس کے برابر ایک اور زمین ہوگی۔ اس زمین سے اس زمین کی طرف لوگوں کو لے جا کر جمع کیا جائے گا۔ صحیحین میں حضرت سہل بن سعد کی روایت آئی ہے ‘ حضرت سہل نے فرمایا کہ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جس کا رنگ خاکستری (سفیدی آفریں مٹیالا) ہوگا اور چھنے ہوئے آٹے کی ٹکیہ کی طرح (ہموار و ہم رنگ) ہوگی جس کسی کی کوئی (عمارت ‘ منارہ ‘ گنبد وغیرہ غرض کوئی) نشانی نہ ہوگی۔ بیہقی نے بسند سدی صغیر بحوالۂ کلبی از ابو صالح اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس میں کمی بیشی کردی جائے گی۔ ٹیلے ‘ پہاڑ ‘ وادیاں ‘ درخت اور جو کچھ اس زمین میں ہے ‘ ختم کردیا جائے گا اور عکاظ کے چمڑے کی طرح اس کو کھینچ کر پھیلایا جائے گا۔ وہ چاندی کی طرح ایک سفید زمین ہوگی جس پر کوئی خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ کوئی گناہ کیا گیا ہوگا اور آسمانوں کے سورج ‘ چاند ‘ ستارے ختم کر دئیے جائیں گے۔ حاکم نے حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو چمڑے کی طرح زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا اور سب مخلوق کو (اس پر) جمع کیا جائے گا۔ حاکم نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن چمڑے کے کھینچنے کی طرح زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا ‘ پھر کسی آدمی کیلئے قدموں کے رکھنے سے زیادہ جگہ نہ ہوگی ‘ پھر سب سے پہلے مجھے پکارا جائے گا اور میں سجدہ میں گر پڑوں گا ‘ پھر مجھے اجازت ملے گی تو اٹھ کر کھڑا ہوجاؤں گا اور عرض کروں گا : اے میرے رب ! یہ جبرئیل ہیں (حضرت جبرئیل اس وقت رحمن کے دائیں جانب ہوں گے اور حضرت جبرئیل نے اس سے پہلے رحمن کو کبھی نہ دیکھا ہوگا) انہوں نے مجھے اطلاع دی تھی کہ آپ نے ان کو میرے پاس بھیجا تھا۔ حضرت جبرئیل خاموش ہوں گے ‘ کوئی بات نہیں کریں گے۔ اللہ فرمائے گا : اس نے سچ کہا تھا۔ پھر اللہ مجھے شفاعت کرنے کی اجازت عطا فرمائے گا۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! تیرے بندے زمین کے تمام اطراف میں ہیں۔ یہی مقام محمود ہوگا (ا اللہ کی حمد کرنے کا مقام جس پر قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کو فائز کیا جائے گا) ۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوگی جو اللہ اپنے ہاتھ سے اہل جنت کی مہمانی کیلئے تیار کرے گا ‘ جیسے تم لوگ سفر کیلئے اپنی روٹی تیار کرتے ہو (اس حدیث میں نُزُلاً لِاَّھْلِ الْجَنَّۃ کا لفظ آیا ہے ‘ ہم نے نُزُل کا ترجمہ مہمانی کیا ہے خواہ مہمان کیلئے تیار کیا ہوا کھانا یا کوئی اور چیز جو کھانے کیلئے کھانے سے پہلے پیش کی جائے) داروردی نے کہا : نُزُل اس چیز کو کہتے ہیں جو طعام مہمانی سے پہلے مہمان کو پیش کی جاتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اہل جنت کو جنت میں پہنچنے تک مختلف مواقف و مقامات پر بطور نُزُل زمین کی روٹی پیش کی جائے گی اور آخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔ اسی طرح ابن مرجان نے الارشاد میں بیان کیا ہے کہ زمین بدل کر ایک روٹی کردی جائے گی (جس کو) مؤمن اپنے قدموں کے درمیان سے (اٹھا کر) کھائے گا اور حوض (غالباً کوثر یا تسنیم) کا پانی پئے گا۔ ابن حجر نے لکھا ہے : اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ میدان حشر کے سارے مواقف کی پوری مدت میں مؤمنوں کو بھوک کی سزا نہیں دی جائے گی بلکہ اللہ اپنی قدرت سے زمین کی فطرت بدل دے گا کہ اللہ کی مشیّت کے مطابق مؤمن اپنے قدموں کے نیچے سے بغیر کمائی اور تکلیف کے اٹھا کر (روٹی) کھائیں گے ‘ اسی کی تائید کرتا ہے۔ سعید بن جبیر کا وہ قول جو ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ زمین سفید روٹی ہوجائے گی جو مؤمن اپنے قدموں کے نیچے سے (اٹھا کر) کھائے گا ‘ اسی طرح کا محمد بن کعب کا قول بھی مروی ہے۔ بیہقی نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ زمین بدل کر سفید مثل روٹی کے ہوجائے گی جس کو اہل اسلام حساب سے فراغت کے وقت تک کھاتے رہیں گے۔ امام ابو جعفر یعنی امام باقر کا قول بھی اسی روایت میں اسی طرح آیا ہے۔ خطیب نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ بہت زیادہ بھوکے ہوں گے کہ ایسے بھوکے کبھی نہیں ہوئے ہوں گے ‘ بہت زیادہ پیاسے ہوں گے کہ ایسے پیاسے کبھی نہیں ہوئے ہوں گے بالکل برہنہ ہوں گے کہ کبھی ایسے ننگے نہ رہے ہوں گے اور ایسے تھکے ہوئے ہوں گے کہ کبھی ایسے نہ تھکے ہوں گے۔ پس جس نے ( دنیا میں) اللہ کیلئے کھانا کھلایا ہوگا ‘ اللہ (اس روز) اس کو کھانا کھلائے گا اور جس نے اللہ کیلئے پانی پلایا ہوگا ‘ اللہ اس کو پانی پلائے گا اور جس نے اللہ کے واسطے لباس پہنایا ہوگا ‘ اللہ اس کو لباس پہنائے گا اور جس نے (ا اللہ کیلئے) کوئی عمل کیا ہوگا ‘ اللہ اس کیلئے کافی ہوگا۔ ابن جریر نے محمد بن کعب کا قول اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں نقل کیا ہے ‘ ابن کعب نے کہا : آسمان باغ ہوجائیں گے اور سمندر کی جگہ آگ ہوجائے گی اور زمین تبدیل کر کے کچھ اور کردی جائے گی۔ حضرت ابن مسعود کا ایک قول آیا ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین آگ ہوجائے گی۔ کعب احبار کا قول ہے کہ سمندر کی جگہ آگ ہوجائے گی۔ مسلم نے حضرت ثوبان کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک یہودی عالم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر دریافت کیا : جس روز زمین دوسری زمین میں تبدیل کردی جائے گی ‘ اس روز لوگ کہاں ہوں گے ؟ حضرت ﷺ نے فرمایا : پل سے ورے تاریکی میں۔ مسلم نے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ ام المؤمنین نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بیان فرمائیے کہ جس روز زمین تبدیل کردی جائے گی تو لوگ کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : صراط پر۔ بیہقی نے کہا : اس حدیث میں صراط کا لفظ بطور مجاز استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ لوگوں کو (اس کے بعد) صراط سے گزرنا ہی ہوگا ‘ اسلئے بطور مجاز صراط پر ہونے کی صراحت فرمائی۔ اب حضرت ثوبان کی روایت سے اس روایت کی مطابقت ہوجائے گی۔ حضرت ثوبان کی روایت میں ” پل سے ورے تاریکی میں “ آیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی ہے کہ تبدیل ارضی یعنی اس زمین سے منتقل ہو کر ارض موقف پر پہنچنا تو زجرہ (جھڑکی یا جھنجھوڑ) کے وقت ہوگا (جو پل صراط پر پہنچنے سے پہلے ہوگا) ۔ بیہقی نے حضرت ابی بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ آیت وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً کی تشریح میں آپ نے فرمایا : دونوں خاک ہوجائیں گے جو کافروں کے چہروں پر پڑے گی ‘ مؤمنوں کے چہروں پر نہیں پڑے گی۔ وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ کا یہی مطلب ہے ‘ کافروں کے چہروں پر اس روز خاک ہوگی جن پر سیاہی چڑھی ہوگی۔ سیوطی نے لکھا ہے : قدماء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف رہا ہے کہ کیا تبدیل ارض سے مراد صرف تبدیل اوصاف (احوال ‘ رنگ ‘ ہیئت وغیرہ) ہے یا تبدیل ذات ہی ہوجائے گی۔ مؤخر الذکر قول کو ابن ابی حمزہ نے ترجیح دی ہے اور صراحت کی ہے کہ یہ دنیا کی زمین نابود ہوجائے گی اور موقف قیامت کی نئی زمین پیدا کی جائے گی۔ شیخ ابن حجر نے لکھا ہے کہ تبدیل ارض کی احادیث اور زمین کو کھینچ کر پھیلانے اور اس میں کمی بیشی کرنے کی احادیث میں کوئی تضاد نہیں ‘ کیونکہ یہ سارے حوادث ارض دنیا پر واقع ہوں گے اور اس موقف کی زمین اس کے علاوہ ہوگی۔ یہ زمین بدل جائے گی تو ایک جھڑکی سے سب لوگ یہاں سے نکل کر ارض محشر میں پہنچ جائیں گے۔ ابن حجر نے لکھا ہے : اسی طرح ان احادیث میں بھی باہم منافات نہیں جن میں سے کسی میں زمین کا روٹی ہوجانا اور کسی میں خاک ہوجانا اور کسی میں آگ ہوجانا مذکور ہے۔ کچھ زمین روٹی بن جائے گی ‘ کچھ خاک ہوجائے گی اور سمندر کی زمین آگ ہوجائے گی۔ حضرت ابی بن کعب کا اثر اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ (حضرت مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں کہ مؤمنوں کے قدموں کے نیچے کی زمین روٹی بن جائے گی اور کافروں کے قدموں کے نیچے کی زمین خاک اور آگ ہوجائے گی۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ صاحب افصاح نے ان تمام متضاد احادیث کا تعارض دور کرنے کیلئے کہا ہے کہ زمین و آسمان کی تبدیلی دو مرتبہ ہوگی : پہلی مرتبہ نفخۂ صعق (پہلی مرتبہ صور پھونکنے) سے پہلے ہوگی کہ ستارے جھڑ جائیں گے ‘ چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے ‘ آسمان تانبے کی طرح سرخ ہوجائے گا ‘ اس کا پوست اتار لیا جائے گا ‘ پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے ‘ سمندر آگ ہوجائیں گے ‘ زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے گا او وہ پارہ پارہ ہوجائے گی ‘ اس کی ہیئت ہی بدل جائے گی ‘ پھر پہلا صورپھونکا جائے گا تو آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے ‘ آسمان بدل کر دوسرا آسمان ہوجائے گا اور زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا اور ویسا ہی دوبارہ کردیا جائے گا جیسے وہ پہلے تھی۔ اس کے اندر قبریں ہوں گی جن کے اندر مردے ہوں گے۔ پھر (دوبارہ صور پھونکے جانے پر) زمین میں دوسری تبدیلی ہوگی ‘ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ میدان حشر میں کھڑے ہوں گے ‘ ایسی حالت میں روئے زمین ‘ جس کو ساہرہ کہا جائے گا اور اس پر حساب فہمی ہوگی ‘ بدل دیا جائے گا۔ اس وقت زمین چاندی کی ہوگی ‘ سفید خاکستری رنگ ہوگا جس پر نہ خوں ریزی کی گئی ہوگی نہ کوئی گناہ کیا گیا ہوگا۔ اس تبدیلی کے وقت لوگ صراط پر کھڑے ہوں گے اور سب اس میں سما جائیں گے۔ جو بچیں گے ‘ وہ جہنم کے پل پر ٹھہرے ہوں گے۔ دوزخ اس وقت منجمد ہوگی۔ حضرت عبد اللہ کی روایت میں جو آیا ہے کہ زمین آگ ہوجائے گی ‘ اس سے یہی مراد ہے۔ جب لوگ صراط سے گزر جائیں گے اور (مؤمن) انبیاء کے حوضوں پر پہنچ کر قیام کریں گے اور حیاض انبیاء کا پانی پئیں گے تو زمین روٹی کی ایک ٹکیہ بنا دی جائے گی۔ جو جنت میں جانے والے ہوں گے ‘ وہ سب اس روٹی میں سے کھائیں گے۔ جنت کے بیل کے جگر یا مچھلی کی جگری کا ان کیلئے سالن ہوگا۔ طبرانی نے الاوسط میں اور ابن عدی نے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن سوائے مسجدوں کے سب زمین نابود ہوجائے گی ‘ مساجد کو باہم ملا دیا جائے گا (یعنی تمام مساجد یکجا جمع کردی جائیں گی) ۔ میں کہتا ہوں : اگر یہ روایت صحیح ثابت ہوجائے تو شاید سب مساجد کی زمین جنت کی زمین بنا دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد والنسائی عن عبد اللہ بن زید وفی الصحیحین والترمذی عن ابی ہریرۃ۔ وبرزوا اللہ الواحد القھار اور (قبروں سے نکل کر حساب فہمی اور جزا و سزا کیلئے) ایک غالب اللہ کے سامنے آئیں گے۔ واحد وقہار ‘ دو صفتیں ذکر کرنے سے یہ بات بتانی ہے کہ معاملہ بہت سخت ہوگا۔ ایسے اللہ کی پیشی ہوگی جو سب پر غالب ہے ‘ جس سے مقابلہ ممکن نہیں۔ نہ اس کے سوا کہیں پناہ کی جگہ ہوگی ‘ نہ فریاد کا مقام۔
Ayah 14:49

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

وتری المجرمین یوئمذ مقرنین فی الاصفاد اور اس روز تم مجرموں یعنی کافروں کو طوق و زنجیر میں جکڑا ہوا دیکھو گے۔ سب باہم ایک ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے ‘ عقائد و اعمال کی مشارکت کی وجہ سے ایک ساتھ زنجیروں میں گرفتار بھی ہوں گے۔ سعید بن منصور نے حضرت عمر بن خطاب کا قول نقل کیا کہ نیک آدمی کو نیک آدمی کے ساتھ جنت میں اور بد آدمی کو بد آدمی کے ساتھ دوزخ میں ملا دیا جائے گا۔ یا یہ مراد ہے کہ شیطانوں کے ساتھ ان کو ملا دیا جائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ باطل عقائد اور نادرست اعمال جو دنیا میں ان کے تھے ‘ انہی کے ساتھ ان کا جوڑ لگا دیا جائے گا ‘ یا ہاتھوں اور پاؤں کو گردنوں سے ملا کر زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔ اَصَفَاد جمع صفد واحد ‘ بیڑیاں ‘ ہتھکڑیاں اور طوق۔ صَفَدْتُہٗ میں نے اس کو خوب مضبوطی کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ دیا۔
Ayah 14:50

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی

سرابیلھم من قطران ان کے کرتے قطران (تارکول وغیرہ) کے ہوں گے۔ ابہل کا نچوڑا ہوا عرق جو آگ پر پکا لیا جائے ‘ قطران کہلاتا ہے۔ یہ سیاہ ‘ بدبودار ہوتا ہے ‘ خارشتی اونٹوں کے بدن پر ملا جاتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ تیزی کی وجہ سے خارشت کو جلا دیتا ہے۔ یہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔ دوزخیوں کے بدن پر اس کو ملا جائے گا اور اس کا دوزخیوں کے جسم پر لیپ مثل کرتے کے ہوجائے گا۔ عکرمہ اور یعقوب کی روایت میں مِنْ قَطِرِاٰنٍ آیا ہے۔ قَطِر کا معنی ہے : پگھلا ہوا تانبا اور پیتل۔ آنٍ (اصل میں آنی تھا) کھولتا ‘ ابلتا ہوا۔ وتغشی وجوھھم النار اور آگ ان کے چہروں پر لپٹی ہوگی۔ ظاہری اعضاء میں چہرہ ممتاز حیثیت رکھتا ہے ‘ اسی لئے خصوصیت کے ساتھ چہروں کا ذکر کیا۔ جس طرح باطنی اعضاء میں دل کی حیثیت ممتاز ہے اور اسی امتیاز کی وجہ سے تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْءِدَۃِ فرمایا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ جب انہوں نے حق کی طرف اپنا رخ نہیں کیا اور دماغی حواس سے غور نہیں لیا باوجودیکہ آلات شعور و ادراک کی تخلیقی غرض ہی یہ تھی کہ حق پر غور کرنے کا کام ان سے لیا جائے ‘ اسلئے قیامت کے دن ان کے چہروں پر آگ چھا جائے گی اور چونکہ ان کے دل و ایمان معرفت سے خالی اور جہالتوں سے پُر تھے ‘ اسلئے آگ ان کے دلوں کو جھانکے گی۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت تاکہ جس شخص نے جو کچھ کیا ہے ‘ اس کا بدلہ اللہ اس کو دے دے۔ نفس سے مراد ہے : مجرم شخص۔ عام آدمی بھی مراد ہوسکتا ہے ‘ فرمانبردار ہو یا نافرمان ‘ کیونکہ مجرموں کو سزا دینے کا جب اظہار کردیا گیا تو اطاعت گزاروں کو اطاعت ثواب دیا جانا معلوم ہی ہوگیا۔ اوّل صورت میں لِیَجْزِیَ کا تعلق مُقَرَّنِیْن یا تَغْشٰی وغیرہ سے ہوگا اور دوسری صورت میں اس کا تعلق بَرَزُوْا سے۔ ان اللہ سریع الحساب بیشک اللہ بہت تیز حساب لینے والا ہے۔ سیوطی نے کہا : یعنی ایک سے حساب فہمی اس کو دوسرے کی حساب فہمی سے نہیں روکتی (ایک ہی وقت میں سب کا حساب لے لے گا) سیوطی نے جلالین میں یہ بھی لکھا ہے کہ آدھے دن یعنی اس دنیوی دن کی نصف مدت میں سب کی حساب فہمی کرلے گا۔ اس کا ثبوت حدیث سے ملتا ہے۔ نخعی کا بیان ہے : وہ لوگ (غالباً صحابہ) خیال کرتے تھے کہ قیامت کے دن اللہ لوگوں کے حساب سے آدھے دن کی مدت میں فارغ ہوجائے گا ‘ یہاں تک کہ ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق دوزخ میں قیلولہ کرے گا (دوپہر گذارے گا) رواہ ابو نعیم وابن المبارک۔ ابن ابی حاتم اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اس دن کا آدھا حصہ گزرنے نہ پائے گا کہ یہ (جنت والے جنت میں) اور وہ (دوزخ والے دوزخ میں) قیلولہ کریں گے۔ حضرت ابن مسعود نے اس کے بعد (قیلولہ کرنے کے ثبوت میں) یہ آیات تلاوت فرمائیں؛ اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَءِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِیْلاً- ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَھُمْ لاَ اِلَی الْجَحِیْمِ (اوّل آیت اہل جنت کے قیلولہ کا بیان ہے اور دوسری آیت میں دوزخیوں کے قیلولہ کا) ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وہ صرف دوپہر تک کا وقت ہوگا ‘ پھر اولیاء اللہ (جنت کے اندر) کشادہ چشم حوروں کے ساتھ مسہریوں پر (دوپہری گذاریں گے یعنی) قیلولہ کریں گے اور اللہ کے دشمن شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے ہوں گے۔ میں کہتا ہوں : مذکورۂ بالا اقوال صحابہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدھے دن سے مراد ہے : آخرت کا آدھا دن (اس سے دنیوی دن کا آدھا حصہ مراد نہیں ہے) ۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

ھٰذا یہ یعنی قرآن یا سورت یا سورت کے اندر آیت ولا تحسبن اللہ میں جو وعظ و نصیحت درج ہے۔ بلغ للناس لوگوں کی نصیحت کیلئے کافی ہے (یعنی پوری نصیحت ہے) ۔ ولینذروا بہ ولیعملوا انما ھو الہ واحد ولیذکر اولوا الالباب اور تاکہ اس کے ذریعہ عذاب سے ڈرائے جائیں اور تاکہ اس بات کا یقین کرلیں کہ وہی ایک معبود برحق ہے اور تاکہ دانشمند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ جس عذاب قیامت سے ان کو ڈرایا جائے گا اور وہ ڈر جائیں گے تو یہ خوف ان کو غور و فکر کرنے پر آمادہ کر دے گا اور غور و تامل کے بعد وہ آیات اور نشانیاں ان کے سامنے آجائیں گی جو اللہ کی توحید کو ثابت کرنے والی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کو واحد لا شریک مان لیں گے اور تسلیم توحید کے بعد اللہ کی نافرمانی سے رک جائیں گے۔ ان آیات میں اللہ نے بلاغ قرآن کے تین فائدے بیان فرمائے۔ تمام آسمانی کتابیں نازل ہونے کی یہی تین حکمتیں ہیں : 1) پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ کی نافرمانی سے ڈرانا تاکہ اتمام حجت ہوجائے۔ 2) انسان کی قوت فکریہ کی تکمیل۔ قوت فکریہ کا انتہائی کمال اعتراف توحید ہے۔ 3) قوت عملیہ کی درستی جو نصیحت پذیری اور اختیار تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ والحمد اللہ رب العٰلمین وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین وعلٰی سائر الانبیاء والمرسلین وعلی اھل طاعتہ اجمعین تفسیر سورة ابراہیم کی تالیف بحمد اللہ 1202 ھ ؁ کو ختم ہوئی تفسیر سورة ابراہیم کا ترجمہ بتوقیق 15؍جمادی الثانی 1387 ھ ؁ کو ختم ہوا۔