Ayah 14:22وقال الشیطن لما قضی الامر جب معاملہ کا فیصلہ ہوچکا تو شیطان (ابلیس) نے کہا۔ یعنی فیصلہ سے فراغت ہوچکے گی۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو شیطان کافروں سے کہے گا۔ مقاتل نے کہا : شیطان کیلئے ایک تخت رکھا جائے گا ‘ تمام کفار اپنے پیشواؤں کے ساتھ اس کے پاس جمع ہوں گے اور جن و انس دونوں قسم کے بدبختوں میں وہ تقریر کریں گے۔
ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ ابن ابی حاتم ‘ بغوی ‘ طبرانی اور ابن المبارک نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ اگلوں پچھلوں کو ‘ سب کو جمع کر کے ان کا فیصلہ کرچکے گا تو اہل ایمان کہیں گے : ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا۔ اب کوئی شخص ایسا ہو جو ہمارے رب سے ہماری سفارش کر دے۔ لوگ کہیں گے : حضرت آدم ایسے ہوسکتے ہیں ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ سے ان کو بنایا تھا اور ان سے کلام کیا تھا۔ چناچہ سب لوگ جا کر حضرت آدم سے گذارش کریں گے کہ ہمارا رب ہمارا فیصلہ کرچکا اور حکم جاری کرچکا ‘ اب آپ اٹھ کر ہماری شفاعت کر دیجئے۔ حضرت آدم کہیں گے : نوح کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت نوح کے پاس جائیں گے۔ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے۔ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے ‘ آپ حضرت موسیٰ کا راستہ بنا دیں گے۔ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے ‘ آپ حضرت عیسیٰ کا حوالہ دے دیں گے۔ جب لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس پہنچیں گے تو آپ کہیں گے : میں تم کو پتہ بتاتا ہوں۔ تم نبی اُمّی عربی ﷺ کے پاس جاؤ ‘ وہ سب سے زیادہ صاحب فخر (فضلیت) ہیں۔ آخر لوگ میرے پاس آئیں گے اور اللہ مجھے کھڑے ہو کر گذارش کرنے کی اجازت دے گا۔ پھر میری مجلس ایک بےنظیر ‘ پاکیزہ ترین خوشبو سے مہکا دی جائے گی ‘ ایسی مہک ہوگی کہ کسی نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی۔ پھر میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہو کر شفاعت کروں گا۔ اللہ میری شفاعت قبول فرمائے گا اور سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخن تک مجھے نور ہی نور کر دے گا ‘ سر تا قدم میرے لئے نور کر دے گا۔ یہ بات دیکھ کر کافر کہیں گے : مسلمانوں کو تو سفارشی مل گیا ‘ اب ہماری سفارش کون کرے ؟ خود ہی جواب دیں گے : اب تو ابلیس ہی جس نے ہم کو گمراہ کیا تھا ‘ ہمارے سامنے ہے اور کوئی سفارشی موجود ہی نہیں ہے۔ چناچہ یہ لوگ ابلیس سے جا کر کہیں گے : مؤمنوں کو تو شفاعت کرنے والا مل گیا ‘ اب تو اٹھ کر ہماری شفاعت کر۔ تو نے ہی ہم کو گمراہ کیا تھا۔ ابلیس جونہی اٹھے گا ‘ اس کی مجلس میں بدترین بو اڑنے لگے گی ‘ ایسی بدبو تو کسی نے سونگھی ہی نہ ہوگی۔ پھر ابلیس ان کو جہنم کی طرف لے جائے گا اور کہے گا :
ان اللہ وعدکم وعد الحق بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا ‘ اس کو پورا کردیا۔ وعدہ سے مراد ہے : دوبارہ زندہ کرنے اور بدلہ دینے کا وعدہ۔
ووعدتکم اور میں نے تم سے (غلط) وعدہ کیا تھا کہ نہ دوبارہ زندگی ہوگی نہ حساب فہمی ہوگی اور دوبارہ زندگی ہوئی بھی تو بت تمہاری سفارش کردیں گے۔
فاخلفتکم پس میں نے (آج) وعدہ کے خلاف کیا۔ یعنی میرے وعدے کے خلاف واقعہ کا ظہور ہوا۔
وما کان لي علیکم من سلطن اور میرا تم پر کوئی جبر نہ تھا کہ تم کو مجبور کر کے کفر و گناہ کی طرف کھینچ لیتا۔ یا سلطان سے مراد ہے : دلیل ‘ یعنی میں نے تم کو دعوت دی تھی مگر میری دعوت کی کوئی دلیل نہیں تھی ‘ میں تمہارے سامنے کوئی دلیل نہیں لایا تھا۔
الا ان دعوتکم میں نے تم کو صرف دعوت دی ‘ کفر و معاصی کی طرف بہکاوا دے کر بلایا اور میرا یہ بہکاوا کوئی دلیل نہ تھا۔
فاستجبتم لي پس تم نے میری بات مان لی۔ میری دعوت قبول کرلی اور جس نے حجت کاملہ پیش کی تھی ‘ اس کی بات ماننے سے تم نے انکار کردیا۔
فلا تلوموني اب تم مجھے (میرے بہکانے پر) ملامت نہ کرو۔
ولوموا انفسکم اور اپنی جانوں کو ملامت کرو کہ تم نے میری اطاعت کی باوجودیکہ میرے پاس اپنے قول کی کوئی دلیل نہ تھی اور اپنے رب کی اطاعت نہیں کی۔
فرقۂ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود (خالق و) مختار ہے ‘ مگر معتزلہ کا یہ استدلال غلط ہے۔ آیت سے یہ مضمون ثابت نہیں ہوتا ‘ صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بندہ کی قدرت کو عمل میں کچھ دخل ہے اور اسی دخل کو اشاعرہ کسب کہتے ہیں (پس خالق افعال اللہ ہے اور کا سب بندہ ہے) ۔
ما انا بمعصرخکم میں تمہاری فریاد رسی نہیں کرسکتا کہ تم کو عذاب سے بچا لوں۔
وما انتم بمصرخی اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو (کہ مجھے عذاب سے بچا لو) ۔
انی کفرت بما اشرکتمون من قبل میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس کے قبل (دنیا میں) مجھ کو اللہ کا شریک بناتے تھے۔
بِمَا میں مَا مصدری ہے اور مِنْ قَبْلُ میں مَنْ کا تعلق اَشْرَکْتُمُوْنِ سے ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ آج سے پہلے دنیا میں جو تم مجھ کو اللہ کے ساتھ عبادت وطاعت میں شریک کرتے تھے ‘ آج اس شرک کا میں انکار کرتا ہوں ‘ تمہاری اس حرکت سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ اسی مفہوم کی دوسری آیت آئی ہے ‘ فرمایا : وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشْرِکِکُمْ قیامت کے دن تمہارے معبود تمہارے شرک سے بیزار ہوں گے۔ یا مَا بمعنی مِنْ ہے ‘ جیسے وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا اور سبحان ما یسخر کن لنا میں ہے ‘ اس وقت مِنْ کا تعلق کُفَرْتُ سے ہوگا۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ جس اللہ کے ساتھ تم نے مجھے طاعت میں شریک بنایا تھا ‘ یعنی میرے کہنے سے بتوں وغیرہ کی پوجا کی تھی ‘ میں تو تمہارے اس فعل شرک سے پہلے ہی اس اللہ کا انکار کرچکا تھا۔ اس نے مجھے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو میں نے انکار کردیا تھا۔
ان الظلمین لھم عذاب الیم بلاشبہ ظالموں کیلئے بڑے دکھ کا عذاب ہے۔ یہ ابلیس کے کلام کا جزء ہے یا اللہ کا کلام ہے۔ اس قسم کی گفتگو نقل کرنے سے سننے والوں کو تنبیہ کرنی مقصود ہوتی ہے کہ وہ خود اپنی حساب فہمی کرلیں اور اپنے انجام پر غور کرلیں۔ اس طریقہ سے سننے والوں کیلئے پھر نزاکت اور لطیف پیام بیداری پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 14:23وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھار خلدین فیھا باذن ربھم اور جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کئے ‘ ان کو یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے (درختوں اور عمارتوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ جنتیوں کو جنت میں لے جانے والے ملائکہ ہوں گے جو بحکم خداوندی جنت کے اندر ان کو لے جائیں گے۔
تحیتھم فیھا سلم وہاں ان کو لفظ سلام کہہ کر سلام کیا جائے گا۔ یعنی ایک ‘ دوسرے کو سلام کرے گا اور فرشتے سب کو سلام کریں گے۔ بعض نے کہا : سلامتی کی تحیت اللہ کی طرف سے ہوگی۔
Ayah 14:24الم تر کیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کلمۂ طیبہ (یعنی کلمۂ توحید و ایمان) کی کہ وہ مشابہ ہے ایک
پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہے اور شاخیں اونچائی میں جا رہی ہیں۔
ضَرَبَ مَثَلاً مثل بیان کی ‘ قائم کی۔ مثل وہ کہاوت جو کسی چیز کو کسی چیز سے تشبیہ دینے کیلئے بیان کی جاتی ہے۔ کلمۂ طیبہ سے مراد ہے : کلمۂ توحید جو خلوص کے ساتھ ادا کیا جائے۔ شجرۂ طیبہ سے مراد ہے : قوی ‘ بلند ‘ خوش ثمر درخت۔
کَلِمَۃً طَیِّبَۃً ‘ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کی تفسیر ہے یا مثلاً سے بدل ہے۔ اَصْلُھَا ثَابِتٌ یعنی اس کی جڑ زمین کے اندر مضبوط طور پر جمی ہوئی ہے ‘ جڑ کے سونتے اور ریشے زمین کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔
فَرْعُھَا فرع سے مراد ہے : چوٹی ‘ یا شاخیں۔ مؤخر الذکر ترجمہ پر فرع اسم جنس ہوگا اور اضافت کی وجہ سے اس میں استغراق کا مفہوم پیدا ہوجائے گا۔
Ayah 14:25تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا جو اپنے خالق کے ارادے اور تخلیق کی وجہ سے ہر (اس) وقت پھل دیتا ہے
(جو اس کے رب نے پھل لانے کیلئے مقرر کردیا ہے) ۔ کلمۂ طیبہ کی بھی یہی حالت ہے ‘ مؤمن کے دل میں اس کی جڑ یعنی ایمان مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ جب یہ کلمہ زبان سے نکلتا ہے تو اوپر اٹھنے اور اللہ تک پہنچنے سے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِلَیْہِ یَصَعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمہ چڑھتا ہے۔ ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ پڑھنا (قیامت کے دن) میزان (عدل) کا آدھا حصہ ہوگا اور الحمد اللہ (پڑھنا) میزان کو (نیکیوں سے) بھر دے گا اور لا الٰہ الا اللہ کو (ا اللہ تک پہنچنے سے) کوئی مانع نہیں۔
ترمذی نے حسن کی سند سے حضرت ابوہریرہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بھی کوئی بندہ خلوص کے ساتھ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے تو ضرور اس کیلئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ وہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے بشرطیکہ اس کا قائل کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شجرۂ طیبہ کھجور کا درخت ہے اور شجرۂ خبیثہ حنظل (اندرائن) کا درخت ہے۔
لغت میں حَیْن کا معنی ہے : وقت۔ مجاہد اور عکرمہ کے نزدیک اس جگہ پورا سال مراد ہے کیونکہ درخت کھجور میں پورے سال پھل آتا ہے۔ سعید بن جبیر ‘ قتادہ اور حسن بصری کے نزدیک چھ مہینے کی مدت مراد ہے ‘ یعنی کایا نکلنے کے وقت سے کھجور توڑنے کے وقت تک۔ حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی جاتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک چار ماہ کی مدت مراد ہے ‘ یعنی پھل برآمد ہونے کے وقت سے پھل پکنے کا وقت۔ سعید بن مسیب نے کہا : دو ماہ مراد ہیں ‘ یعنی کھجور کھانے کے قابل ہوجائے ‘ اس وقت سے لے کر توڑنے کے وقت تک۔ ربیع بن انس نے کہا : کُلَّ حَیْن سے مراد ہے : ہر صبح شام کیونکہ کھجوریں ہر زمانہ میں اور ہر فصل میں اور ہر وقت کھائی جاتی ہیں۔ صبح ہو یا شام ‘ گرمی کی فصل ہو یا سردی کا موسم ‘ چھواروں کی شکل میں اس کو کھایا جاتا ‘ یا کھجوروں کی صورت میں ‘ یا نیم پخت حالت میں۔ مؤمن کے عمل کی بھی یہی حالت ہے۔ صبح شام ‘ رات دن اور درمیانی اوقات میں ‘ غرض ہر وقت نیک عمل اوپر چڑھتا ہے اور ایمان کی برکت کبھی منقطع نہیں ہوتی ‘ ہر وقت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے۔ بتاؤ ‘ وہ کونسا درخت ہے ؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا : لوگوں کے خیالات صحرائی درختوں کی طرف جا پڑے اور میرے دل میں آیا کہ ایسا درخت کھجور ہوتا ہے ‘ مگر میں (چھوٹا تھا ‘ اسلئے) جھجکا (اور کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی) آخر حاضرین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خود ہی بیان فرما دیں۔ فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : درخت کی تکمیل تین اجزاء سے ہوتی ہے : زمین کے اندر جمے ہوئے ریشے ‘ تنا اور شاخیں۔ ایمان کی تکمیل بھی تین ہی چیزوں سے ہوتی ہے : (دل سے) تصدیق ‘ زبان سے اقرار اور اعضائے جسم سے عمل۔
ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا کہ شجرۂ طیبہ جنت کے اندر ایک درخت ہے۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے (خلوص کے ساتھ) سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہا ‘ اس کیلئے کھجور کا ایک درخت جنت میں بو دیا جاتا ہے (رواہ الترمذی) ۔
ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون اور اللہ لوگوں کے (فائدہ کے) لئے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ تمثیل نام ہے معانی کی تصویرکشی کا اور غیر محسوس کو حس کے قریب لے آنے کا ‘ اسلئے تمثیلات سے مقصود کے سمجھنے میں آسانی اور نصیحت اندوزی میں سہولت ہوجاتی ہے۔
Ayah 14:26ومثل کلمۃ خبیثۃ اور ناپاک کلمہ کی مثال ایسی ہے۔ بظاہر کلمۂ خبیثہ سے مراد ہے : وہ کلمۂ توحید و رسالت جو نفاق کے ساتھ کہا جائے ‘ اللہ کی رضامندی پیش نظر نہ ہو۔
کشجرۃ خبیثۃ جیسے خراب درخت۔ یعنی غیر مفید ‘ ناکارہ درخت جس کی جڑ زمین کے اندر پیوست نہ ہو۔
اجتثت من فوق الارض جس کو زمین کے اوپر سے ہی اکھاڑ لیا جائے ‘ اس کے سونتے زمین کے اوپر ہی رکھے ہوں۔
ما لھا من قرار (زمین کے اندر) اس کا جماؤ نہ ہو۔ اسی طرح اس کلمہ کی حالت ہے جو رضائے الٰہی کیلئے نہ ہو ‘ اس کا کبھی کوئی فائدہ نہیں۔ ابن مردویہ نے بوساطت حبان بن شعبہ ‘ حضرت انس بن مالک کا قول بیان کیا کہ شجرۂ خبیثہ ‘ شربانہ ہے۔ حضرت انس سے پوچھا گیا : شربانہ کیا ہے ؟ فرمایا : اندرائن۔ میں کہتا ہوں : ظاہر یہ ہے کہ شجرۂ طیبہ کے اندر کھجور کا درخت بھی داخل ہے اور شجرۂ خبیثہ کا لفظ درخت حنظل کو بھی شامل ہے (خاص طور پر کھجور اور حنظل کے درخت مراد نہیں ہیں) اور حدیث میں جو طیبہ کی تشریح میں نخلہ اور خبیثہ کی تشریح میں حنظلہ آیا ہے ‘ وہ بطور تمثیل ہے۔ طیبہ اور خبیثہ کے بعض افراد کا ذکر بطور مثال کردیا گیا ہے۔
Ayah 14:27یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ویضل اللہ الظلمین اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمۂ طیبہ) کی برکت سے دنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے اور ظالموں (یعنی کافروں) کو (دین و امتحان میں) بچلا دیتا ہے۔ الْقَوْلِ الثَّابِت سے مراد ہے : کلمۂ توحید جس کا اعتراف خلوص کے ساتھ کیا گیا ہو۔ خلوص دل سے کلمۂ توحید کا اقرار دل میں جم جاتا ہے اور اس کا ثواب اللہ کے ہاں ثابت ہوجاتا ہے۔ دین کے معاملات میں دنیا کے اندر جو دکھ اور آلام اہل ایمان پر آتے ہیں ‘ ان کے ایمان کو نہیں ہلا سکتے ‘ وہ ایمان پر مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔ جیسے حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت جرجیس ‘ حضرت شمعون ‘ اصحاب اخدود (جن کو گڑھوں میں آگ بھڑکا کر جھونک دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ یمن میں ہوا تھا اور شاہ ذونواس کے حکم سے ہوا تھا۔ مترجم) حضرت خیب اور آپ کے ساتھی اور چاہ معونہ والے (قاری جن کو دھوکہ سے شہید کیا گیا تھا مگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہے) اور آخرت میں یعنی قبروں کے اندر نکیرین کے سوال کے وقت بھی اللہ ان کو اقرار توحید پر قائم رکھتا ہے۔ ظالمین سے مراد ہیں : منافق اور کافر۔ یہ لوگ آزمائش کے وقت ثابت قدم نہیں رہتے ‘ آغاز مصیبت کے وقت ہی ان کے قدم پھسل جاتے ہیں اور آخرت میں تو ان کا گمراہ ہونا اور ثابت قدم نہ ہونا ظاہر ہی ہے۔
ائمہ ستہ نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آیت یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِي الْاٰخِرَۃ کا یہی مطلب ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ کا نزول عذاب قبر کے سلسلہ میں ہوا۔ صاحب قبر سے کہا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دے گا : اللہ میرا رب ہے ‘ محمد میرے پیغمبر ہیں (متفق علیہ) ۔
ابو داؤد اور امام احمد کی روایت میں حدیث مذکورہ ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے : (مردہ کے پاس) دو فرشتے آتے ہیں ‘ اس کو بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ شخص جواب دیتا ہے : میرا رب اللہ ہے۔ فرشتے کہتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ فرشتے کہتے ہیں : وہ شخص کیسا تھا جس کو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا ؟ وہ شخص جواب دیتا ہے : وہ اللہ کے رسول تھے۔ فرشتے کہتے ہیں : تجھے کیا معلوم ؟ وہ شخص کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور میں نے اس کو مانا اور اس کو سچا جانا۔ پس آیت یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ (کی مراد) یہی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا۔ اس کیلئے جنت کا بستر کر دو اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو اور اس کیلئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور حد نگاہ تک اس کیلئے جنت کی وسعت کردی جاتی ہے۔ کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی روح بدن میں لوٹائی جاتی ہے ‘ دو فرشتے آکر اس کو بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہاہ ہاہ ‘ مجھے نہیں معلوم۔ فرشتے کہتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہاہ ہاہ ‘ مجھے نہیں معلوم۔ فرشتے کہتے ہیں : وہ آدمی جو تمہارے پاس بھیجا گیا تھا ‘ اس کی کیا حالت تھی ؟ وہ کہتا ہے : ہاہ ہاہ ‘ مجھے نہیں معلوم۔ پھر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے : اس نے جھوٹ کہا۔ اس کیلئے آگ کا بچھونا کر دو اور آگ کا لباس پہنا دو اور دوزخ کی طرف ایک دروازہ اس کیلئے کھول دو ۔ پھر دوزخ کی گرمی اور لو اس پر آنے لگتی ہے اور اس کی قبر اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر نکل جاتی ہیں۔ پھر اس کو عذاب دینے کیلئے ایک اندھے بہرے (فرشتہ) کو مقرر کردیا جاتا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایسا گرز ہوتا ہے کہ اگر اس کی ضرب پہاڑ پر پڑجائے تو اس کو بھی خاک کر دے۔ یہ فرشتہ گرز اس کافر پر مارتا ہے جس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ مشرق سے مغرب تک ہر چیز سنتی ہے۔ گرز کی ضرب سے کافر خاک ہوجاتا ہے ‘ پھر دوبارہ اس میں جان ڈالی جاتی ہے۔
حضرت عثمان راوی ہیں کہ مردہ کے دفن سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ اس کے پاس توقف فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے : اپنے بھائی کیلئے دعائے مغفرت کرو اور اللہ سے اس کیلئے ثابت قدم رہنے کی درخواست کرو۔ اس وقت اس سے سوال کیا جا رہا ہے۔ رواہ ابو داؤد۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت انس کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس آنے لگتے ہیں تو مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے (اس وقت) دو فرشتے آکر اس کو بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ مؤمن جواب دیتا ہے : میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ کہا جاتا ہے : اپنے دوزخ والے ٹھکانے کو دیکھ ‘ اس کی جگہ اللہ نے جنت میں ٹھکانا عطا فرما دیا۔ مؤمن دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے۔ منافق اور کافر سے جب پوچھا جاتا ہے : تو اس شخص کی بابت کیا کہتا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : مجھے کچھ نہیں معلوم۔ جو بات اور لوگ کہتے تھے ‘ میں بھی کہتا تھا۔ فرشتوں کی کہتے ہیں : نہ تو نے جانا اور نہ (قرآن میں) پڑھا۔ پھر اس پر لوہے کے ہتھوڑوں کی مار پڑتی ہے اور وہ چیختا ہے۔ اس کی چیخوں کو سوائے جن و انس کے ‘ سب قریب والے سنتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو دو سیاہ فام نیلے (یعنی نیلی آنکھوں والے) فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ‘ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکییر ہے۔ دونوں فرشتے پوچھتے ہیں : تو اس شخص کے متعلق کیا کہتا تھا ؟ مردہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں : ہم تو جانتے ہی تھے کہ تو یہ کہے گا۔ پھر اس کی قبر میں ستّر ستّر ہاتھ ہر طرف وسعت کردی جاتی ہے اور روشنی کردی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے : سو جا۔ وہ سو جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے : میں واپس جا کر اپنے گھر والوں کو (اس کیفیت کی) اطلاع تو دے دوں۔ فرشتے کہتے ہیں : اس دلہن کی طرح (محبت ‘ آرام اور سکون کے ساتھ) سو جا جس کو سوائے اس شخص کے جو سب گھر والوں میں اس کو پیاری ہوتی ہے اور کوئی نہیں اٹھاتا (آخر وہ سو جائے گا) یہاں تک کہ اللہ اس کو اس کی خوابگاہ سے اٹھائے گا اور اگر مردہ منافق ہوگا تو جواب دے گا : میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا ‘ میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ‘ مجھے کچھ نہیں معلوم (کہ یہ اللہ کے رسول تھے یا نہ تھے) فرشتے کہیں گے : ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو یہ بات کہے گا۔ پھر زمین کو حکم دیا جائے گا : تو اس پر مل جا (یعنی ایسا دبا کہ تیرے دونوں حصے آپس میں مل جائیں) زمین اس منافق کو اتنا دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر نکل جائیں گی۔ اس طرح یہ برابر عذاب میں مبتلا رہے گا ‘ یہاں تک کہ اللہ اس کو اس کی خوابگاہ سے اٹھائے گا۔ رواہ الترمذی
ویفعل اللہ ما یشآء اور اللہ جو کچھ چاہتا ہے ‘ کرتا ہے۔ کسی کو ایمان کی توفیق دیتا ہے ‘ کسی کو توفیق ایمان سے محروم رکھتا ہے۔ کسی کو ایمان پر قائم رکھتا ہے ‘ کسی کو قائم نہیں رکھتا ‘ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ پیدا کرنے کے بعد ان کے دائیں شانہ پر ہاتھ مارا اور اس کی گوری نسل باہر آگئی۔ گویا (کثرت میں) وہ چھوٹی چیونٹیوں کی طرح تھی اور بائیں شانہ پر ہاتھ مارا تو کالی نسل جیسے کوئلہ باہر آگئی۔ پھر اس نسل کے متعلق جو دائیں شانہ میں تھی ‘ فرمایا : (یہ) جنت کی طرف (جانے والے ہیں) اور مجھے پرواہ نہیں اور اس نسل کے متعلق جو بائیں شانہ میں تھی ‘ فرمایا : (یہ) دوزخ کی طرف (جانے والے ہیں) اور مجھے پرواہ نہیں۔
حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمام آسمان و زمین والوں کو اللہ عذاب دے تو وہ عذاب دے سکتا ہے اور وہ ظالم نہیں ہوگا اور اگر سب پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے ان کیلئے بہتر ہوگی۔ اگر (کوہ) احد کے برابر سونا تو راہ خداوندی میں دے دو تو جب تک تقدیر پر تمہارا ایمان نہ ہوگا ‘ اللہ اس کو قبول نہیں فرمائے گا اور جان لو کہ جو کچھ تم کو پہنچے گا ‘ وہ تم سے چوکنے والا نہیں اور جو کچھ نہیں پہنچے گا ‘ وہ کسی طرح پہنچنے والا نہیں۔ اگر اس کے خلاف عقیدہ پر مرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت زید بن ثابت سے بھی اسی طرح کی احادیث منقول ہیں۔ رواہ احمد و ابن ماجۃ
Ayah 14:28الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے بجائے نعمت الٰہی کے کفر کیا۔ یعنی اللہ کی نعمت کے شکریہ کو ناشکری سے بد ل دیا (شکر کے بجائے ناشکری کی) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا ‘ ناشکری کی وجہ سے ان سے اللہ کی نعمت چھین لی گئی تو گویا انہوں نے بجائے نعمت کے ‘ ناشکری کو پسند کرلیا۔ بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وا اللہ ! وہ کفار قریش تھے (یعنی کفار قریش آیت میں مراد ہیں) حضرت عمر نے فرمایا : وہ (ناشکرے) قریش تھے اور اللہ کی نعمت محمد ﷺ کی ذات تھی۔ ابن جریر نے عطاء بن یسار کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کی جنگ میں جو لوگ مکہ والوں میں سے مارے گئے ‘ وہ مراد ہیں۔ اللہ نے ان کو پیدا کیا ‘ حرم کا ساکن بنایا جہاں ہر طرف سے پھل اور غلہ لایا جاتا تھا (اور چین کے ساتھ مکہ والے بیٹھے کھاتے تھے) اصحاب فیل (نے جب کعبہ پر چڑھائی کی تو اللہ نے ان) کو مکہ والوں کی طرف سے دفع کیا ‘ ان کیلئے رزق کے دروازے کھول دئیے (شام و یمن کو) سردی و گرمی کے زمانہ میں سفر کرنے کا ان کو خوگر اور مانوس بنایا (تاکہ غلہ ‘ پھل ‘ کپڑا اور ہر ضرورت کی چیز ان کو بافراط مل سکے) اور انہی میں سے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ آپ ان کو قرآن پڑھ کر سنائیں ‘ ان کے عقائد و اخلاق کو پاکیزہ اور ستھرا بنائیں اور ان کو قرآن و حکمت کی تعلیم دیں اور تمام لوگوں کو ان کا تابع بنایا ‘ لیکن انہوں نے ان تمام نعمتوں کی ناشکری کی ‘ رسول اللہ ﷺ کے دشمن بن گئے اور ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر قائم رہے۔ آخر قحط ہفت سالہ میں مبتلا ہوئے اور بدر کے دن قید بھی ہوئے اور مارے بھی گئے اور ذلیل بھی ہوئے اور مرتے دم تک اللہ کی مذکورہ نعمتوں سے محروم ہوگئے۔
واحلوا قومھم دارالبوار اور (کفر پر ابھار کر) انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے مقام میں اتار دیا۔
Ayah 14:29جھنم یصلونھا یعنی جہنم میں ‘ جس میں یہ خود بھی داخل ہوں گے (اور ان کے ساتھ والے بھی) سب کے سب جہنم کی گرمی میں جلیں گے۔ جَھَنَّمَ یا عطف بیان ہے یا فعل محذوف کا مفعول۔
وبئس القرار اور جہنم بری قرار گاہ ہے ‘ برا ٹھکانا ہے۔ ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عمر سے عرض کیا : امیر المؤمنین ! آیت اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفْرًا میں کون لوگ مراد ہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : قریش کے وہ دو (قبیلے) جو سب سے زیادہ بدکار تھے ‘ بنی مغیرہ اور بنی امیہ۔ بنی مغیرہ کے شر سے تو بدر کی لڑائی میں تمہاری حفاظت ہوچکی (یعنی بدر میں ان کا زور ٹوٹ گیا) اور بنی امیہ کو ایک وقت تک مزے اڑانے کا موقع دیا گیا ہے۔ بغوی نے بھی اسی طرح حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ طبرانی ‘ حاکم اور ابن مردویہ نے اسی طرح کا قول حضرت علی کا بھی مختلف روایات سے نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔
میں کہتا ہوں : بنی امیہ کو حالت کفر میں مزے اڑانے کا موقع دیا گیا ‘ یہاں تک کہ ابو سفیان ‘ معاویہ اور عمرو بن عاص وغیرہ مسلمان ہوگئے۔ پھر یزید اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اہل بیت کی دشمنی کا جھنڈا انہوں نے بلند کیا۔ آخر حضرت حسین کو ظلماً شہید کردیا اور یزید نے دین محمدی کا ہی انکار کردیا اور حضرت حسین کو شہید کرچکا تو چند اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ تھا : آج میرے اسلاف ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے آل محمد ﷺ اور بنی ہاشم سے ان کا کیسا بدلہ لیا۔ یزید نے جو اشعار کہے تھے ‘ ان میں آخری شعر یہ تھا :
وَلَسْت من جندبٍ انْ لم انتقم
مِنْ بَنِی احمد مَا کان فعل
(احمد نے جو کچھ (ہمارے بزرگوں کے ساتھ بدر میں) کیا ‘ اگر احمد کی اولاد سے میں نے اس کا انتقام نہ لیا تو میں بھی بنی جندب سے نہیں ہوں) ۔
یزید نے شراب کو بھی حلال قرار دے دیا تھا۔ شراب کی تعریف میں چند شعر کہنے کے بعد آخری شعر میں اس نے کہا تھا :
فَاِنْ حرّمَتُ یَوْمًا عَلٰی دین احمد
فخذھا علٰی دین المسیح بن مریم
(اگر شراب دین احمد میں حرام ہے تو (ہونے دو ) مسیح بن مریم کے دین (یعنی عیسائیت) کے مطابق تم اس کو (حلال سمجھ کر) لے لو) ۔
یزید اور اس کے ساتھیوں اور جانشینوں کے یہ مزے ایک ہزار مہینے تک رہے ‘ اس کے بعد ان میں سے کوئی نہیں بچا۔
Ayah 14:30وجعلوا اللہ اندادا اور انہوں نے اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دیا باوجودیکہ اللہ کا کوئی مثل نہ تھا۔ مثل قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ نام اور عبادت میں اللہ کی طرح دوسروں کو قرار دیا (ا اللہ کی پرستش کی طرح دوسروں کو معبود الٰہ مانا) ۔
لیضلوا عن سبیلہ تاکہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکا دیں۔ لِّیُضِلُوْا میں لام سبب اور علت کے لئے نہیں ہے
کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا کرنے سے ان کی غرض نہ خود گمراہ ہونا تھا نہ دوسروں کو گمراہ کرنا تھا ‘ بلکہ یہ لام غایت ہے یعنی اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ گمراہ ہوگئے۔
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار آپ کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو کیونکہ اخیر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے۔ یعنی اپنی نفسانی خواہشات یا بت پرستی اور گمراہی میں پڑے کچھ مدت تک مزے اڑاتے رہو - - - - - - - - ۔ جو کچھ تمہارے لئے مقدر کردیا گیا ہے اور جس وقت تک مزہ اڑانا تمہارے لئے لکھ دیا گیا ہے ‘ اتنی مدت تک مزے اڑاؤ۔ ذوالنون نے کہا : تمتع کا معنی یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آدمی اپنی نفسانی خواہشات سے بہرہ اندوز ہو۔
تَمَتَّعُوْا اگرچہ امر کا صیغہ ہے ‘ لیکن امر سے مراد حکم نہیں ہے بلکہ یہ ایک تہدید اور عذاب کی دھمکی ہے اور اس بات کی اطلاع ہے کہ تمہاری یہ گمراہیاں تم کو عذاب میں لے جائیں گی۔ اسی لئے امر کے بعد فرمایا کہ آخر تم کو دوزخ میں جانا ہے ‘ گویا دوزخ میں جانے کا تم کو حکم دے دیا گیا ہے۔
Ayah 14:31قل لعبادی الذین امنوا یقیموا الصلوۃ وینفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ (اے محمد ! ) آپ میرے ان بندوں سے جو ایمان لے آئے ہیں ‘ کہہ دیجئے کہ وہ نمازیں قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے ‘ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر طور پر راہ خدا میں کچھ خرچ کریں۔ اہل ایمان کو خصوصی طور پر نماز پڑھنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی ہدایت کرنے کا حکم دیا اور مؤمنوں کو خاص طور پر عبادی فرمایا اور اپنے بندے قرار دیا ‘ اس سب سے مقصود اہل ایمان کی عزت افزائی ہے اور اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ اہل ایمان ہی حقیقتاً حقوق عبدیت کو ادا کرنے اور تعمیل احکام کرنے والے ہیں ‘ وہ امر کی تعمیل کریں گے۔
یُقِیْمُُوا ‘ قُلْ کا مفعول نہیں ہے۔ قُلْ کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی آپ ان کو حکم دیں کہ تم لوگ نماز پڑھو اور راہ خدا میں خرچ کرو۔ یُقِیْمُُوا اور یَنْفِقُوا شرط محذوف کی جزا ہے ‘ یعنی اگر تم ان کو حکم دو گے تو وہ تعمیل کریں گے۔ اس کلام میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمانبردار ہیں ‘ فرمان کو ضرور مانیں گے اور تعمیل کریں گے۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ اس میں نہ خریدو فروخت ہوگی (کہ کوئی قصور وار کوئی ایسی چیز خرید کر دے دے جو اس کے قصور کا بدلہ ہو سکے) اور نہ کوئی دوستی ہوگی (کہ دوست اپنے دوست کی سفارش کر کے بچا لے) ۔
ایک شبہ : متقی شفاعت کریں گے اور بعض مؤمن بعض مؤمنوں کی بھی شفاعت کریں گے ‘ یہ مسئلہ مسلمہ ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَلْاَ خلاَّءُ یَوْمَءِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ الاَّ الْمُتَّقِیْنَ سب دوست باہم دشمن ہوجائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے (یعنی متقی باہم دشمن نہ ہوں گے) پھر عموماً دوستی کام نہ آنے کی جو اس آیت میں صراحت ہے ‘ وہ کس طرح صحیح ہوسکتی ہے ؟
جواب : نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم ہی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم ہے۔ جن میں تقویٰ نہ ہو ‘ ان میں باہم دوستی نہ ہوگی ‘ یعنی جو نماز نہ پڑھیں اور زکوٰۃ نہ دیں ‘ وہ متقی نہ ہوں گے اور جو متقی نہ ہوں گے ‘ ان میں باہم دوستی نہ ہوگی اور دوستی نہ ہوگی تو ان میں سے کوئی کسی کی شفاعت نہیں کرے گا۔
Ayah 14:32اللہ الذی خلق السموت والارض وانزل من السمآء مآء فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور اوپر سے پانی اتارا ‘ پھر اس پانی سے تمہاری معیشت کیلئے پھل (غلہ ‘ روئی
وغیرہ) پیدا کئے۔ رزق کا لفظ عام ہے ‘ کھاناہو یا لباس ‘ سب کو یہ لفظ شامل ہے) ۔
وسخر لکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ وسخر لکم الانھر اور (تمہاری سواری و باربرداری کیلئے) جہازوں اور کشتیوں کو تمہارے کام پر لگا دیا تاکہ اللہ کی مشیّت کے مطابق وہ سمندر میں چلیں اور دریاؤں کو بھی تمہارا خدمتگار بنا دیا۔ جہاں چاہتے ہو ‘ تم ان کو (رخ موڑ کر) لے جاتے ہو ‘ ان کے پانی سے فائدہ حاصل کرتے ہو اور ان پر پل اور بند باندھتے ہو۔
Ayah 14:33وسخر لکم الشمس والقمر دائبین اور تمہارے کام کیلئے سورج اور چاند کو بھی سرگرم کردیا۔ یعنی انسانوں کے منافع کیلئے یہ تیزی کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔
قاموس میں ہے : دَأَبَ فی عملہ کام میں کوشش اور محنت کی۔ دَأْبٌ‘ دَأَبٌ اور دُءُوْبٌ (مصدر) تیزی سے ہنکانا۔ دَآءِبَیْنَ شب و روز۔ یعنی دونوں تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے اپنی اطاعت میں ان کو تیزرفتار بنا دیا۔
وسخر لکم الیل والنھار اور رات دن کو بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔ رات دن کے پیچھے آتی ہے اور دن رات کے پیچھے۔ تمہارے آرام کیلئے رات بنا دی کہ کام کی تھکان اور ماندگی دور ہوجائے اور کسب معاش کیلئے دن کا اجالا کردیا۔
Ayah 14:34واتکم من کل ما سالتموہ اور جو کچھ تم نے اس سے مانگا ‘ اس میں سے کچھ (بقدر ضرورت و مناسبت) تم کو دیا۔ مَنْ کُلِّ میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے : شاید مراد یہ ہے کہ تمہاری ضرورتوں کا جو تقاضا تھا اور تمہاری حاجتیں (فطری طور پر جس چیز کی خواہش مند تھیں ‘ وہ سب کچھ تم کو دیا خواہ زبان سے تم نے مانگا ہو یا نہ مانگا۔ لفظ کل کثرت کے اظہار کیلئے استعمال کیا گیا ہے (استغراق حقیقی مراد نہیں ہے) جیسے محاورے میں بولا جاتا ہے : فلاں شخص سب کچھ جانتا ہے (یعنی بقدر ضرورت) اس کے پاس ہر شخص آگیا ‘ یعنی بہت آدمی آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی بہت چیزوں کے دروازے ہم نے ان پر کھول دئیے۔
وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو گے تو پوری گنتی نہیں کرسکتے۔ یعنی ان کے انواع و اقسام کو بھی نہیں گن سکتے ‘ افراد کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ افراد نعمت تو ان گنت ہیں ‘ ان سب کا شکر ادا کرنا تمہاری طاقت سے باہر ہے لیکن اللہ نے اپنے کرم سے ادائے شکر نہ کرسکنے کے اقرار کو ہی اہل ایمان کیلئے شکر کے قائم مقام قرار دے دیا ہے اور جو لوگ شکر سے عاجزی کا اقرار کرتے ہیں ‘ ان کو اپنا شکرگذار بندہ فرمایا ہے اور جو لوگ شکر نہ کرسکنے کے باوجود اپنی عاجزی کا اقرار نہیں کرتے ‘ ان کے متعلق فرمایا ہے :
ان الانسان لظلوم کفار بیشک انسان بےصبرا ‘ ناشکرا ہے۔ سختی اور مصیبت میں اللہ کا شکوہ کرتا اور بےصبری کا اظہار کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کا رب جواد ہے ‘ کریم ہے ‘ حکیم ہے۔ یہ مصیبت بھی پر از مصلحت ہے ‘ تقاضائے حکمت ہے خواہ اس کی حکمت سمجھ میں نہ آئے اور آسائش و نعمت ملتی ہے تو آدمی شکر ادا نہیں کرتا۔ ناشکرے کی ضد شکرگذار ہے۔ ظاہر ہے کہ شکر اور عدم شکر باہم ضد ہیں اور بالواسطہ ظلم کی ضد کو صبر کہا جاتا ہے کیونکہ ظلم کا لغوی معنی ہے : کسی چیز کو بےمحل رکھ دینا۔ مصیبت پر صبر کرنا برمحل ہے ‘ مصیبت کا تقاضا صبر ہے ‘ پس اگر مصیبت پر صبر نہ کیا جائے ‘ بےصبری کے ساتھ شکایت کرنے لگے تو یہ ظلم ہوجائے گا ‘ اسی وجہ سے آیت میں ظلوم سے مجازاً مراد ہے بےصبرا۔ بعض علماء نے کہا کہ انسان کو ظلوم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کر کے آدمی اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ‘ دنیا اور آخرت میں مبتلائے عذاب ہوجانے کے اسباب فراہم کردیتا ہے ‘ یا یوں کہو کہ شکر نعمت کو ترک کر کے آدمی اپنے نفس کو نعمت سے محروم کردیتا ہے ‘ یہی اپنے نفس پر ظلم ہوا ‘ یا یوں کہا جائے کہ ناشکرا آدمی نعمت پر ظلم کرتا ہے کہ اس کا شکر ادا نہیں کرتا ‘ یا غیرمنعم کا شکریہ ادا کرتا ہے اور منعم حقیقی کا شکر نہیں کرتا تو اس طرح شکر کا استعمال بےمحل کرتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے فرمایا : میرے اور جن و انس کے معاملات عجیب ہیں۔ میں پیدا کرتا ہوں اور وہ دوسروں کو پوجتے ہیں ‘ میں رزق دیتا ہوں اور وہ دوسروں کا شکر ادا کرتے ہیں۔ رواہ الحاکم والبیہقی عن ابی الدرداء۔
Ayah 14:35واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا اور جب ابراہیم نے کہا : اے میرے رب ! اس شہر (یعنی مکہ) کو امن والا (شہر) بنا دے ‘ جو یہاں رہے (یا آئے) امن سے رہے ‘ امن سے ہوجائے۔ حضرت ابراہیم نے اس جگہ مکہ سے خوف کو دور کرنے اور شہر کو پرامن بنانے کی دعا کی اور آیت اجْعَلْ ھٰذَا بَلَداً اٰمِنّا میں یہ درخواست کی کہ اس وادی کو امن کی بستی بنا دے (یعنی یہاں وادی میں ایک شہر بسا دے جو پرامن ہو) ۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کرنے سے بچا ‘ دور رکھ ‘ الگ رکھ۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ انبیاء کا معصوم ہونا محض اللہ کی توفیق اور نگہداشت سے وابستہ ہے (یعنی انسانی فطرت تو انبیاء میں بھی کارفرما ہے ‘ خیروشر کے جذبات تو انبیاء میں بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہوتے ہیں ‘ پیدائش اور عناصر پیدائش میں کوئی فرق نہیں لیکن اللہ کی توفیق انبیاء کے شامل حال رہتی ہے جو ہر وقت ان کو گناہوں سے بچائے رکھتی ہے) بنین (اولاد صلبی) کے لفظ کے اندر اولاد کی اولاد داخل نہیں ہے۔ آیت یَا بَنِیْ اٰدَمَ ، یَا بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ سے مراد جو ساری نسل آدم و اسرائیل ہے ‘ وہ عموم مجاز کے طور پر مراد ہے۔ پس آیت زیرتفسیر میں حضرت ابراہیم نے جو اپنی الاد کیلئے شرک سے محفوظ رکھے جانے کی دعا کی تھی ‘ اس سے مراد صرف صلبی اولاد تھی ‘ تمام نسل اسماعیل (واسحاق) مراد نہ تھی ‘ نسل اسماعیل میں تو بکثرت بت پرست گذرے ہیں۔ لیکن آیت مذکورہ کے لفظ بَنِیَّ کو دیکھ کر بقول ابن ابی حاتم ‘ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ اولاد اسماعیل میں سے کوئی بھی بت پرست نہ تھا۔ جن کو بت پرست کہا جاتا ہے ‘ ان کی بت پرستی کی حقیقت صرف اتنی تھی کہ وہ پتھروں کا طواف کرلیا کرتے تھے اور اس کو دوار (طواف) کہا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے : کعبہ بھی تو پتھروں کا نام ہے (جن کا طواف کیا جاتا ہے) اسلیے ہم جہاں پتھر نصب کرلیں ‘ وہ کعبہ کی طرح ہوجائیں گے (ان کا طواف کیا جاسکتا ہے) دُرمنثور میں اتنا مزید آیا ہے کہ سفیان بن عیینہ سے دریافت کیا گیا : پھر آپ نے اولاد اسحاق اور دوسری نسل ابراہیمی کو کیوں اس میں داخل نہیں کیا ‘ اولاد اسماعیل کا خصوصیت کے ساتھ کیوں ذکر کیا ؟ سفیان نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے اس شہر کے رہنے والوں ہی کیلئے دعا کی تھی کہ وہ بت پرستی نہ کریں اور آبادی کے بعد انہی کیلئے دعا کی کہ اللہ اس شہر کو پرامن بنا دے ‘ تمام بستیوں کیلئے دعا نہیں کی تھی اور آیت رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْالخ میں اس شہر کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔ سفیان بن عیینہ کی یہ تشریح قرآن کے بھی خلاف ہے اور سنت و اجماع کے بھی۔ خبر متواتر سے ثابت ہے کہ اللہ کی کتاب میں مشرکوں سے مراد اہل مکہ (نسل اسماعیل) ہیں اور اللہ نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے : وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَآء اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلاآ اٰبَاؤنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْءٍ اس کے علاوہ بھی دوسری آیات سے (یہی) ثابت ہے (کہ اہل مکہ مشرک تھے اور ان کے باپ دادا بھی) ۔
Ayah 14:36رب انھن اضللن کثیرا من الناس اے میرے رب ! ان مورتیوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے ‘ ان کی وجہ سے لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ‘ ان کی پوجا کرنے لگے ‘ یہ مورتیاں لوگوں کی گمراہی کا سبب بن گئیں۔
ومن تبعنی فانہ منی پس جو شخص (دین میں) میرا پیرو ہوگا ‘ وہ میرا ہے۔ یعنی مجھ سے متعلق ہے ‘ دنیا اور آخرت میں اس کا تعلق مجھ سے نہیں ٹوٹے گا یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم اور جو میری نافرمانی کرے گا تو (اس کو تو بخش دے ‘ اس پر رحم فرما کیونکہ تو) غفور و رحیم ہے۔ سدی نے کہا : اس فقرہ کا مطلب یہ ہے : جو میری نافرمانی کرے ‘ پھر توبہ کرلے تو اس کو تو معاف کر دے ‘ تو غفور و رحیم ہے۔ مقاتل نے کہا : نافرمانی سے مراد ہے : شرک سے کم درجہ کی نافرمانی ‘ یعنی شرک کے علاوہ جو میری نافرمانی کرے۔
ظاہر یہ ہے کہ (لفظ عصانی میں شرک بھی داخل ہے لیکن) حضرت ابراہیم نے یہ دعا اس وقت کی تھی جبکہ آپ کو مشرک کا غیرمغفور ہونا معلوم نہ ہوا تھا ‘ جب آپ کو مشرک کے غیر مغفور ہونے کی اطلاع دے دی گئی تو اس وقت آپ نے دعا کی : وَارْزُقَھُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ وَارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اور ان کو پھلوں سے رزق دے اور اس (شہر) کے باشندوں میں سے ان لوگوں کو جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ‘ کھانے کیلئے پھل عطا فرما۔ اس دعا میں صرف اہل ایمان کو رزق عطا کرنے کی دعا اس لئے کی کہ مشرک کے غیر مغفور ہونے کی صراحت سے آپ کو خیال پیدا ہوگیا کہ مشرک سے اللہ دنیا میں بھی انتقام لے گا اور اپنے پیدا کئے ہوئے پھلوں سے محروم رکھے گا (چونکہ یہ خیال غلط تھا ‘ اسلئے اس کے جواب میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗالخ اور جو کفر کرے گا ‘ اس کو تھوڑی مدت (بقدر مدت زندگی ( میں بہرہ اندوز رکھوں گا ‘ پھر اس کو عذاب دوزخ کی طرف کھینچ کرلے جاؤں گا (یعنی کافروں کو دنیوی نعمتوں سے محروم نہیں رکھوں گا ‘ ہاں آخرت میں اس کی مغفرت نہ ہوگی) ۔
Ayah 14:37ربنآ انی اسکنت من ذریتی اے ہمارے رب ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو باشندہ کردیا ہے۔ کچھ اولاد سے مراد ہیں حضرت اسماعیل اور آپ کی نسل۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو وادی مکہ میں رکھا تھا ‘ نسل اسماعیلی اس کے ذیل میں آگئی۔
بواد غیر ذی زرع ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں ہے۔ لغت میں وادی ‘ پہاڑی نالے کو کہتے ہیں ‘ پھر (توسیع استعمال کے بعد) چند پہاڑوں یا ریت کے ٹیلوں کے درمیانی میدان پر اس لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ مکہ کی بستی بھی ایسے ہی میدان میں تھی جو پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ چونکہ یہ وادی پتھریلا علاقہ تھا ‘ ناقابل روئیدگی تھا ‘ اسلئے اس کو غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ فرمایا۔
عند بیتک المحرم تیرے ممنوعہ گھر کے پاس۔ بیت اللہ سے مراد وہ بیت اللہ ہے جو طوفان نوح سے پہلے موجود تھا۔
فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے جس روز آسمان و زمین بنائے (اسی روز) اس شہر کو باحرمت (ممنوعہ) قرار دے دیا۔ پس روز قیامت تک اللہ کی عطا کی ہوئی حرمت کی وجہ سے یہ (شہر) ممنوعہ (باحرمت) رہے گا۔ یہاں کسی کیلئے لڑنا حلال نہیں اور ایک ساعت سے زیادہ میرے لئے بھی یہاں قتال جائز نہیں۔ روز قیامت تک خداداد حرمت کی وجہ سے یہ باحرمت (ممنوعہ) رہے گا۔ یہاں کے کانٹے یعنی جھاڑیاں (بھی) نہ کاٹے جائیں نہ یہاں سے شکار کو (بھگا کر) باہر نکالا جائے نہ یہاں گری پڑی چیز کوئی اٹھائے ‘ سوائے اس غرض کے کہ اس چیز کی شناخت کرانی ہو (کہ شناخت کر کے اس کا مالک لے لے) نہ یہاں کی گھاس کاٹی جائے۔ حضرت عباس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اذخر (مرچیا گند) اس سے مستثنیٰ کر دیجئے ‘ یہ لوہاروں کے اور مکہ والوں کے گھروں کے کام میں آتی ہے۔ فرمایا : اذخر مستثنیٰ ہے۔ متفق علیہ۔ رواہ ابن عباس
واقدی اور ابن عساکر نے عامر بن سعید کے سلسلہ سے حسب ذیل روایت کی ہے : حضرت سارہ ‘ حضرت ابراہیم کی بی بی تھیں ‘ مدت تک حضرت ابراہیم کے پاس رہیں لیکن کوئی اولاد نہ ہوئی۔ جب حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے تو حضرت سارہ کو جذبۂ رقابت نے ابھارا اور آپ کے دل میں کچھ احساس افسردگی و انتقام پیدا ہوگیا اور انہوں نے قسم کھالی کہ ہاجرہ کے تینوں ناک کان کاٹیں گی (تاکہ بدصورت ہوجائیں اور حضرت ابراہیم کو ان سے نفرت ہوجائے) حضرت ابراہیم نے فرمایا : کیا تم اپنی قسم پوری کرنی چاہتی ہو ؟ حضرت سارہ نے عرض کیا : میں کیا کروں (میری قسم پوری ہونے کی کیا صورت ہے ؟ ) حضرت ابراہیم نے جواب دیا : ہاجرہ کے کانوں میں سوراخ کر دو اور اس کا ختنہ کر دو ۔ حضرت سارہ نے ایسا ہی کیا۔ حضرت ہاجرہ نے کان چھدنے کے بعد دو بالیاں کانوں میں پہن لیں ‘ اس سے ان کا حسن اور بڑھ گیا۔ حضرت سارہ بولیں : اس سے تو میں نے اس کے حسن میں اور اضافہ کردیا۔ غرض حضرت سارہ نے پسند نہیں کہا کہ حضرت ابراہیم ‘ حضرت ہاجرہ کے ساتھ رہیں ‘ مگر حضرت ابراہیم کو حضرت ہاجرہ سے بڑی محبت تھی (بہرحال) آپ حضرت ہاجرہ کو مکہ لے گئے اور چونکہ آپ کو حضرت ہاجرہ سے بڑی محبت تھی اور بغیر حضرت ہاجرہ کے نہیں رہ سکتے تھے ‘ اس لئے روزانہ براق پر سوار ہو کر شام سے مکہ کو حضرت ہاجرہ سے ملنے آیا کرتے تھے۔
بخاری نے صحیح میں اور بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے نطاق حضرت ہاجرہ نے اس غرض سے پہنا کہ قدموں کے نشانوں کو پیچھے سے نطاق کا سرا مٹاتا چلے اور حضرت سارہ کو ان کا نشان قدم معلوم نہ ہو (عرب کی عورتوں نے نطاق کا استعمال حضرت ہاجرہ سے ہی سیکھا تھا) ۔
غرض حضرت ابراہیم ‘ حضرت ہاجرہ اور ان کے لڑکے حضرت اسماعیل کو لے کر بیت اللہ کے پاس پہنچے اور مسجد سے بالائی مقام پر زمزم کے اوپر ایک بڑے درخت کے پاس دونوں کو بٹھایا۔ حضرت اسماعیل (ان دنوں) شیرخوار تھے ‘ حضرت ہاجرہ کا دودھ پیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے ایک خورجین جس میں چھوارے تھے اور ایک مشکیزہ پانی سے بھرا ہوا حضرت ہاجرہ کے پاس رکھ دیا ‘ پھر لوٹ پڑے۔ حضرت ہاجرہ نے پیچھا کیا اور کہا : ابراہیم ! آپ ہم کو اس ویران وادی میں (جہاں نہ کوئی آدمی ہے نہ کچھ اور چیز) چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں ؟ حضرت ہاجرہ نے یہ بات کئی بار کہی مگر حضرت ابراہیم نے منہ پھیر کر نہیں دیکھا۔ آخر حضرت ہاجرہ نے کہا : کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا : ہاں۔ اس پر حضرت ہاجرہ بولیں : تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ پھر لوٹ آئیں۔ حضرت ابراہیم چل دئیے۔ جب حضرت ہاجرہ کی نظر سے غائب ہوگئے تو کعبے کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر ان الفاظ میں دعا کی : رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ..... یَشْکُرُوْنَ تک۔
حضرت اسماعیل کی والدہ مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور بچہ کو دودھ پلاتی رہیں ‘ یہاں تک کہ پانی ختم ہوگیا اور پیاس لگی اور بچہ بھی پیاسا ہوگیا تو چل دیں۔ بچہ کی طرف نظر اٹھائی تو بچہ اپنی زبان منہ میں گھما رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر (بےتاب ہوگئیں اور) نظر پھیرلی اور چل کر کوہ صفا پر پہنچ گئیں۔ وہاں سے قریب تین پہاڑ صفا ہی تھا۔ صفا پر چڑھ کر اوپر کھڑی ہو کر وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ شاید کوئی نظر آجائے۔ جب کوئی نظر نہ آیا تو صفا سے اتر کر وادی میں پہنچیں اور قوت کے ساتھ دوڑنے والے آدمی کی طرح کرتا کا دامن اوپر کو اٹھا کر دوڑ کر وادی سے گذر کر مروہ پہاڑی پر پہنچیں اور ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ کوئی نظر پڑجائے ‘ لیکن کوئی دکھائی نہ دیا۔ اس طرح سات بار کیا۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسی لئے (حاجی) لوگ صفا ومروہ کے درمیان دوڑتے ہیں۔ آخر (مرتبہ) جب مروہ پر پہنچیں تو ایک آواز سنی اور خود اپنے آپ سے کہنے لگیں : چپ۔ پھر کان لگا کر سنا تو پھر آواز سنائی دی ‘ کہنے لگیں : میں نے آواز تو سن لی ‘ اگر تیرے پاس کچھ مدد کا سامان ہو (تو ‘ لا) اچانک زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ نمودار ہوا اور زمین کو ایڑی یا پر مار کر اس نے کھودا ‘ فوراً پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ پانی کا گھیرا بنانے لگیں اور اپنے ہاتھ سے چُلّو بنا کر ‘ پانی لے کر مشکیزہ میں بھرنے لگیں۔ جونہی چُلّو بھر کر اٹھاتی تھیں ‘ پانی اور ابل آتا تھا۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسماعیل کی والدہ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ اگر وہ زمزم کو یونہی رہنے دیتیں ‘ یا یہ فرمایا کہ اگر وہ چُلّو نہ بھرتیں تو زمزم ایک جاری چشمہ ہوجاتا۔ غرض حضرت ہاجرہ نے خود پانی پیا اور اپنے بچہ کو دودھ بھی پلایا۔ فرشتہ نے کہا : تم ہلاکت کا اندیشہ نہ کرو۔ یہاں اللہ کا گھر ہے ‘ یہ لڑکا اور اس کے والد اللہ کے گھر کی تعمیر کریں گے ‘ اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ کعبہ اس زمانہ میں ٹیلہ کی شکل پر زمین سے کچھ اونچا تھا۔ سیلاب آکر اس کے دائیں بائیں کناروں کو کاٹ کرلے جاتا تھا۔ حضرت ہاجرہ اسی حالت میں رہتی رہیں ‘ آخر بنی جرہم کا ایک قافلہ ادھر سے گذرا اور آکر مکہ سے نشیبی مقام پر اس نے پڑاؤ ڈالا۔ قافلہ والوں نے دیکھا کہ کچھ پرندے پانی کے اوپر اڑ رہے ہیں ‘ کہنے لگے : یہ پرندے یقیناً پانی پر گھوم رہے ہیں ‘ لیکن ہم تو اس وادی سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ یہاں تو پہلے کوئی پانی نہ تھا۔ کچھ لوگوں کو (تفتیش احوال کیلئے) بھیجا ‘ انہوں نے جا کر دیکھا تو پانی موجود پایا۔ لوٹ کر آئے اور ساتھیوں کو اطلاع دے دی۔ اس کے بعد قافلہ والوں نے آکر حضرت اسماعیل کی والدہ سے گذارش کی کہ ہم کو اپنے پاس رہنے کی آپ اجازت دے دیں۔ حضرت ہاجرہ نے فرمایا : اچھا ‘ لیکن پانی پر تمہارا کوئی (مالکانہ) حق نہ ہوگا۔ قافلے والوں نے اس کا اقرار کرلیا۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسماعیل کی والدہ انس کی طالب تھیں (تنہائی کی وحشت دور کرنا چاہتی تھیں) پانی پر قبضہ انہی کا رہا۔ قافلہ والوں نے اپنے متعلقین کو بھی بلوا لیا اور سب وہیں مقیم ہوگئے۔ رفتہ رفتہ بہت خاندان بن گئے۔ حضرت اسماعیل بھی جوان ہوگئے ‘ بنی جرہم سے عربی بھی انہوں نے سیکھ لی اور جوان ہونے کے بعد سب کے محبوب بن گئے۔ بنی جرہم نے اپنی ہی ایک عورت سے ان کا نکاح بھی کردیا اور حضرت اسماعیل کی والدہ کی وفات بھی ہوگئی۔
حضرت اسماعیل کا نکاح ہوچکا تھا کہ حضرت ابراہیم (اپنی دعا کی) برکت کا معائنہ کرنے کیلئے تشریف لائے۔ باقی حصہ سورة بقرہ کی آیت واتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلیًّ کی تفسیر کے ذیل میں نقل کردیا ہے۔
ربنا لیقیموا الصلوۃ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ یعنی میں نے اپنی اولاد کو اس ویران وادی میں جہاں نہ کچھ کھانے کو ہے نہ آرام کا کوئی ذریعہ ہے ‘ صرف اس لئے رکھا ہے کہ وہ تیرے محترم گھر کے پاس نماز قائم کریں۔ رَبَّنَا کو مکرر ذکر کرنے سے اور درمیان میں لانے سے اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہاں اپنی اولاد کو رکھنے سے میرا مقصود صرف اقامت صلوٰۃ ہے اور میری دعا کا مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ ان کو نماز کی توفیق عطا فرمائے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لِیُقِیْمُوا امر کا صیغہ ہے ‘ اس سے آپ کا مقصد تھا اولاد کیلئے اقامت صلوٰۃ کی دعا کرنا ‘ گویا آپ نے یہ لفظ کہہ کر اولاد کو اقامت نماز کا حکم غائبانہ دیا اور اللہ سے دعا کی کہ ان کو اس کی توفیق عطا فرما دے۔
فجعل افئدۃ من الناس پس کچھ لوگوں کے دلوں کو بنا دے۔ مِنَ النَّاس میں مِنْ تبعیض کیلئے ہے ‘ یعنی کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف پھیر دے۔ مجاہد نے کہا : اگر (بغیر مِنْ کے) اَفْءِدَۃً النَّاس فرماتے تو تمام فارسی ‘ رومی ‘ ہندی اور ترک تم پر ہجوم کر آتے۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہودی ‘ عیسائی اور مجوسی بھی کعبہ کا حج کرنے لگتے ‘ مگر مِنَ النَّاس فرمایا : اب صرف مسلمان ہی حج کرتے ہیں۔
تھوی الیھم کہ (شوق و محبت میں) ان کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھیں۔ سدی نے ترجمہ کیا کہ کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھک جائیں۔
وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون اور کھانے کیلئے ان کو پھل عطا فرما ‘ امید ہے کہ وہ (تیری نعمت کا) شکر ادا کریں گے۔ یعنی باوجودیکہ یہ وادی ویران ہے ‘ اس میں کھیتی باڑی اور باغ نہیں ہیں مگر ان کو یہاں پھل عطا فرما ‘ جس طرح شاداب مقامات پر رہنے والوں کو تو عطا فرماتا ہے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم کی دعا قبول فرما لی ‘ وادی کو پرامن حرم بنا دیا ‘ یہاں ہر طرف سے پھل لائے جانے لگے یہاں تک کہ ایک ہی وقت اور ایک ہی زمانہ میں یہاں گرمی ‘ سردی اور ربیع و خریف کے پھل ملتے تھے۔
Ayah 14:38ربنا انک تعلم ما نحفی وما نعلن اے ہمارے رب ! ہم جو کچھ چھپائے رکھیں یا ظاہر کریں تو سب کو جانتا ہے۔ یعنی ہمارے تمام احوال و مصالح سے واقف ہے اور ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ ہم کو دعا کی ضرورت بھی نہیں ہے لیکن ہم اپنی عبدیت و بندگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے تجھ سے دعا کرتے ہیں اور اپنی احتیاج کا اظہار کرنے اور تیری رحمت کی طلب میں اور عجلت اختیار کرنے کی غرض سے تجھ سے سوال کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس اور مقاتل کا قول ہے کہ ماَ نُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ سے مراد ہے : حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو وادی غیر زرع میں چھوڑنے کا غم جو حضرت ابراہیم کے دل میں پیدا ہوا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مَا نُعْلِنُ سے مراد ہے : زاری اور تضرع اور ماَ نُخْفِیْ سے مراد ہے : غم جدائی۔
وما یخفی علی اللہ من شیء فی الارض ولا فی السماء اور اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے
زمین میں نہ آسمان میں۔ وہ بالذات عالم ہے ‘ اس کے علم کی ہر چیز کی طرف نسبت برابر ہے ‘ لہٰذا ہر چیز اس کو معلوم ہے (ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو معلوم ہو اور کوئی نامعلوم) اکثر علماء کے نزدیک یہ اللہ کا قول ہے۔ بعض علماء اس کو حضرت ابراہیم کے کلام کا جزء قرار دیتے ہیں۔