13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے

الذین امنوا وعملوا الصلحت طوبی لھم جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کئے ‘ ان کیلئے خوشی ہے۔ حضرت ابن عباس نے طوبیٰ کا ترجمہ کیا ہے : خوشی اور خنکی چشم۔ عکرمہ نے کہا : ان کا مآل اچھا ہوگا۔ قتادہ نے کہا : ان کیلئے بھلائی ہوگی۔ (ان تمام مطالب پر) طوبیٰ بروزن بشرٰی مصدر ہوگا۔ طاب (ماضی) یطیب (مضارع) (1) [ حضرت ابن عمر روای ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے طوبیٰ کا ذکر کیا گیا تو فرمایا : ابوبکر ! کیا تم کو معلوم ہے کہ طوبیٰ کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا : طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جس کی لمبائی سے اللہ ہی واقف ہے۔ اس کی ایک شاخ کے نیچے ستر برس تک گھوڑا سوار چلتا رہے (تو اس کو طے نہ کر پائے) الخ (ازالۃ الخفاء)] معمر نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے : اگر تم کو کوئی بھلائی اور فائدہ حاصل ہوجائے تو دوسرا آدمی (کوئی دوست) تم سے کہتا ہے : طوبٰی لک (گویا طوبیٰ کلمۂ تبریک ہے) ابراہیم نے کہا : نیکوکار مؤمنوں کیلئے بھلائی اور عزت ہوگی۔ سعید بن جبیر نے کہا : حبشی زبان میں طوبیٰ باغ (جنت) کو کہتے ہیں۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت ابو امامہ ‘ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو درداء نے فرمایا : طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جو تمام جنتوں پر سایہ فگن ہے۔ عبید بن عمیر نے کہا : طوبیٰ جنت عدن کے اندر رسول اللہ ﷺ کے (جنتی) مکان میں ایک درخت ہے جس کی شاخیں (مؤمن کے ہر جنتی) مکان اور بالا خانہ پر سایہ فگن ہیں۔ سوائے سیاہ رنگ کے ‘ ہر رنگ اور ہر پھول اور ہر پھل اور ہر میوہ اللہ نے اس درخت میں پیدا کیا ہے۔ اس کی جڑ سے دو چشمے نکلتے ہیں ‘ کافور اور سلسبیل۔ مقاتل نے کہا : اس کا ہر پتہ ایک گروہ پر سایہ فگن ہے اور ہر پتہ پر ایک فرشتہ اللہ کی طرح طرح کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہے۔ احمد ‘ ابن حبان ‘ طبرانی ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت عتبہ بن عبد اللہ سلمی کا بیان نقل کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا جنت کے اندر پھل ہوں گے ؟ فرمایا : ہاں ‘ وہاں ایک درخت ہوگا طوبیٰ جو فردوس کے مطابق ہوگا (شاید مطابق ہونے سے یہ مراد ہے کہ پوری جنت فردوس پر چھایا ہوا ہوگا) سائل نے عرض کیا : ہماری زمین کے کسی درخت سے اس کی مشابہت ہوسکتی ہے ؟ فرمایا : تیری اس زمین کے کسی درخت سے اس کی مشابہت نہیں۔ کیا تو شام کو گیا ہے ؟ سائل نے جواب دیا : نہیں۔ فرمایا : شام میں ایک درخت ہوتا ہے جو طوبیٰ سے (کچھ) مشابہت رکھتا ہے ‘ اس درخت کو اخروٹ کا درخت کہتے ہیں۔ اس کا ایک تنا ہوتا ہے اور اوپر جا کر اس کی شاخیں پھیل جاتی ہیں۔ سائل نے کہا : وہ کتنا بڑا ہوگا ؟ فرمایا : اگر تو اپنے گھر والوں کے اونٹوں کا گلہ لے کر اس کی جڑ کے گرداگرد گھومے تو اگر تو بوڑھا ہوجائے اور بوڑھا ہو کر گرپڑے تب بھی اس کی جڑ کا دورہ پورا نہ ہوگا۔ سائل نے عرض کیا : کیا اس میں انگور بھی ہوں گے ؟ فرمایا : ہاں۔ عرض کیا : ان کا خوشہ کتنا بڑا ہوگا ؟ فرمایا : چتکبرے کوے کی ایک ماہ کی رفتار (اڑان) کے برابر۔ عرض کیا : اس کا ایک دانہ کتنا بڑا ہوگا ؟ فرمایا : کیا تیرے باپ نے کوئی بڑا بکرا کبھی ذبح کیا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا اس کی کھال اتار کر تیری ماں کو دے کر یہ کہا تھا کہ اس کی دباغت کر کے ایک (بڑا) ڈول اس کا بنا لینا جس میں پانی بھر کر ہم اپنے جانوروں کو پلایا کریں گے ؟ سائل نے عرض کیا : تو (اس سے اندازہ یہ ہوا کہ) اس کا ایک دانہ میرے اور میرے گھر والوں کا پیٹ بھر دے گا ؟ فرمایا : ہاں ‘ اور تیرے سارے کنبہ کا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : طوبیٰ کیا ہے ؟ فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے (جس کا پھیلاؤ) سو سال کی رفتار کے برابر ہے۔ اہل جنت کے کپڑے اس کے شگوفوں سے برآمد ہوں گے۔ رواہ ابن حبان۔ معاویہ بن قرہ نے اپنے باپ کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ طوبیٰ ایک درخت ہے جس کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا۔ اس درخت سے زیور اور کپڑے پیدا ہوں گے اور اس کی شاخیں حصار جنت کے باہر سے دکھائی دیں گی۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت کے اندر ایک درخت ہے جس کے سایہ میں گھوڑا سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی قطع نہ کرسکے۔ اگر تم اس کا ثبوت چاہتے ہو تو پڑھو : وَظِلٍ مَّمْدُوْدٍ (متفق علیہ) امام احمد نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد اتنا زائد بیان کیا کہ اس کے پتے جنت کو ڈھانک لیں گے۔ نہاد بن سری نے الزہد میں اور بغوی نے (تفسیر میں) آخر میں اتنا اور بھی بیان کیا کہ اس بیان کی اطلاع کعب کو پہنچی تو انہوں نے کہا : یہ سچ ہے ‘ قسم ہے اس خدا کی جس نے موسیٰ پر تورات اور محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا ‘ اگر کوئی شخص سہ سالہ یا چہار سالہ اونٹ پر سوار ہو کر اس درخت کے تنہ کے گرداگرد چکر لگائے تو دورہ پورا نہ کرسکے یہاں تک کہ (عمر ختم ہوجائے اور) پیر فرتوت ہو کر گرپڑے۔ اللہ نے اس کو اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور اپنی روح اس میں پھونکی ہے۔ اس کی شاخیں جنت کے باہر سے نظر آئیں گی (یعنی پوری جنت پر وہ سایہ فگن ہوگا) جنت کی ہر نہر اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کو طوبیٰ کہا جاتا ہے۔ اللہ اس سے فرمائے گا : میرا بندہ جو کچھ چاہتا ہے تو شگافتہ ہو کر اپنے اندر سے اس چیز کو برآمد کر دے۔ حسب الحکم درخت پھٹے گا اور اس کے اندر سے بندہ کی خواہش کے مطابق گھوڑا زین اور لگام پورے ساز سمیت برآمد ہوجائے گا اور بندہ کی خواہش کے مطابق اونٹنی اپنے کجاوے ‘ نکیل اور سامان سمیت برآمد ہوجائے گی اور کپڑے بھی پھٹ کر اس درخت سے نکلیں گے۔ رواہ البغوی وابن ابی الدنیا۔ ابن مبارک اور ابن جریر نے شہر بن حوشب کا قول نقل کیا ہے کہ طوبیٰ جنت کے اندر ایک درخت ہے ‘ جنت کا ہر درخت اسی سے پیدا ہے۔ اس کی شاخیں حصار جنت سے باہر دکھائی دیں گی۔ وحسن ماب اور اچھا انجام ہے۔ مآب پلٹنے کی جگہ۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

کذلک ارسلنک في امۃ قد خلت من قبلھا امم لتتلوا علیھم الذی او حینا الیک اسی طرح (یعنی دوسرے پیغمبروں کی طرح) ہم نے آپ کو بھی ایک امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے دوسری امتیں گذر چکی ہیں (جن کی طرف دوسرے پیغمبروں کو بھیجا تھا۔ مطلب یہ کہ آپ کی پیغمبری کوئی انوکھی چیز نہیں ہے) تاکہ جو قرآن ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ سے دیا ہے ‘ اس کو پڑھ کر آپ ان کو سنائیں۔ وھم یکفرون بالرحمن (مگر) ان کی حالت یہ ہے کہ یہ رحمن کی ناشکری کرتے ہیں۔ رَحْمٰن بہت زیادہ رحمت والا ‘ جس کی نعمت سب کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر چیز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اللہ کا ان پر بہت بڑا انعام یہ ہے کہ اس نے آپ کو ان کے اندر رسول بنا کر بھیجا ‘ قرآن نازل فرمایا جو تمام دنیوی و اُخروی منافع کا خزانہ ہے۔ مگر یہ لوگ ناشکرے ہیں ‘ اتنی بڑی نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کرتے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ ‘ مقاتل اور ابن جریج نے بیان کیا کہ اس آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا (یعنی یہ آیت مدنی ہے) ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے بھی قتادہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ اس کی توضیح اس طرح ہے کہ جب قریش اور صحابہ کا صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا اور سہیل بن عمرو قریش کی طرف سے آگیا ( سورة الفتح میں تفصیل کے ساتھ ہم نے لکھ دیا ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا : لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قریش بولے : ہم تو الرحمن کو نہیں جانتے ‘ ہم تو صرف یمامہ والے رحمن (یعنی مسیلمۂ کذاب) کو جانتے ہیں (ہم اللہ کو رحمن نہیں کہتے) تم وہی لکھو جو پہلے لکھتے تھے یعنی باسمک اللھم (سے تحریر شروع کرو) وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ کا یہی مطلب ہے (یعنی یہ لوگ اللہ کے رحمن ہونے کا انکار کرتے ہیں) ۔ بغوی نے لکھا ہے : (عام اہل تفسیر میں) مشہور ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور ابوجہل وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ حجر اسود کے پاس رسول اللہ ﷺ دعاء میں یا اللہ یا رحمن فرما رہے تھے۔ ابو جہل نے یہ لفظ سن پایا ‘ فوراً مشرکوں سے جا کر کہا : محمد ﷺ دو معبودوں کو پکار رہے تھے ‘ اللہ کو اور رحمن کو اور ہم تو یمامہ والے رحمن کے علاوہ کسی اور رحمن سے واقف نہیں (پھر وہ رحمن کونسا ہے جس کو محمد پکار رہے تھے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی : قُلِ ادْعُوا اللّٰہِ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّامَّا تَّدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت کفار قریش کے حق میں نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ رحمن کو سجدہ کرو۔ کافروں نے جواب میں کہا : رحمن کیا چیز ہے ؟ قل ھو ربي آپ کہہ دیجئے : وہ ہی میرا رب ہے۔ یعنی جس رحمن کو جاننے کے تم منکر ہو ‘ وہی میرا خالق اور کارساز ہے۔ لا الہ الا ھو علیہ توکلف والیہ متاب سوائے اس کے اور کوئی مستحق عبادت نہیں ‘ اسی پر میرا بھروسہ ہے (وہی تمہارے مقابلے میں میری مدد کرے گا) اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے ‘ وہی مجھے ثواب دے گا۔ طبرانی وغیرہ نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے لکھا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : تم جو کچھ کہہ رہے ہو ‘ اگر وہ صحیح ہے تو ہمارے مردہ اسلاف کو ہم سے ملا دو تاکہ ہم ان کو دیکھیں اور ان سے باتیں کریں (اور وہ تمہاری تصدیق کریں۔ مترجم) اور مکہ کے پہاڑوں کو (ان کی جگہ سے ہٹا کر) پھیلا دو ‘ اس زمین کو کشادہ کر دو ۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا

ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال اگر قرآن کے ذریعہ سے پہاڑوں کو چلا دیا جائے (جگہ سے ہٹا کر پھیلا دیا جائے) ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عطیہ عوفی کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اگر مکہ کے پہاڑوں کو یہاں سے چلا دیں کہ میدان نکل آئے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا جس طرح ہوا کے ذریعہ سے حضرت سلیمان قطع مسافت کرتے تھے اور قوم کو ہوا کے دوش پر قطع مسافت کراتے تھے ‘ آپ بھی ہمارے لئے ایسا ہی کردیتے یا جس طرح حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے ‘ آپ بھی ہمارے مردوں کو زندہ کردیتے (تو ہم ایمان لے آتے) اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بغوی نے تفصیل کے ساتھ (یہ بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ چند مشرکوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں ابوجہل بن ہشام اور عبد اللہ بن امیہ بھی شامل تھے ‘ وہاں سے عبد اللہ بن امیہ نے ایک شخص کی زبانی یہ کہلوایا کہ اگر آپ ہم کو اپنا پیرو بنانا چاہتے ہیں تو قرآن کے ذریعے سے مکہ کے پہاڑوں کو یہاں سے ہٹا دیجئے تاکہ کشائش پیدا ہوجائے ‘ ہماری کھیتی کیلئے اس وقت زمین تنگ ہے اور یہاں سے چشمے اور نہریں بھی نکال دیجئے تاکہ ہم درخت لگائیں ‘ کھیتیاں بوئیں اور باغ تیار کریں۔ آپ اپنے دعوے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک حضرت داؤد سے کم مرتبہ تو نہیں ہیں (آپ کہتے ہیں کہ) حضرت داؤد کیلئے پہاڑ رواں کر دئیے گئے تھے جو ان کے ساتھ مل کر اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے ‘ آپ ہوا کو بھی ہمارا تابع بنا دیجئے کہ ہم غلہ کو حاصل کرنے اور دوسری ضروریات کو فراہم کرنے کیلئے جو شام کو جاتے ہیں ‘ ہوا پر چلے جایا کریں اور ہم روز لوٹ آیا کریں۔ آخر آپ کا قول ہے کہ ہوا کو حضرت سلیمان کے زیر حکم کردیا گیا تھا اور آپ کا یہ بھی خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے اور اللہ کے نزدیک آپ کا مرتبہ (بقول آپ کے) حضرت عیسیٰ سے کم نہیں ہے ‘ لہٰذا آپ اپنے دادا قصی یا ہمارے مردوں میں سے کسی کو زندہ کر دیجئے تاکہ ہم اس سے آپ کے معاملہ میں دریافت کریں کہ آپ کا دعوٰئے نبوت صحیح ہے یا غلط۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابو یعلی نے مسند میں حضرت زبیر بن عوام کے حوالہ سے بھی حدیث مذکورہ کے ہم معنی حدیث نقل کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن یعنی کسی آسمانی کتاب کے ذریعے سے اگر پہاڑ رواں کئے جاسکتے ہیں ‘ ان کی جگہ سے ان کو ہٹایا جاسکتا ہے۔ او قطعت بہ الارض یا کسی آسمانی کتاب کے ذریعہ سے زمین طے کی جاسکتی ہے۔ یعنی اللہ ہوا کو تابع حکم بنا سکتا ہے اور لوگ دوش ہوا پر سوار ہو کر قطع مسافت کرسکتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر کسی آسمانی کتاب کے ذریعے سے زمین پھاڑی جاسکتی ہے اور اس سے چشمے اور نہریں نکالی جاسکتی ہیں۔ او کلمہ بہ الموتی یا اس کے ذریعہ سے مردوں سے کلام کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مردے زندہ ہو کر کلام کرسکتے ہیں۔ اَلْمُوْتٰی سے مراد قصی وغیرہ ہیں۔ شرط کا جواب محذوف ہے ‘ یعنی امور مذکورہ میں سے کوئی امر کسی آسمانی کتاب سے سرانجام پانا ممکن ہوسکتا تو اللہ کے قرآن کے ذریعہ سے بدرجۂ اولیٰ ایسا کردیتا ‘ مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر امور مذکورہ قرآن کے ذریعہ سے کر بھی دئیے جاتے تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ اسی (مؤخر الذکر) مضمون کو آیت ذیل میں ادا کیا ہے۔ وَلَوْ انَّنَا نَزَّلْنَا الَیْھِمُ الْمَلاآءِکَۃَ وَکَلَّمَھُمُ الْمُوْتٰیالخ اگر ہم فرشتوں کو اتار کر ان کے پاس بھیج دیتے اور مردے ان سے کلام کرتے اور ہر چیز کو جمع کر کے ان کے سامنے لے آتے (اور سب توحید و رسالت کی شہادت دیتے) تب بھی یہ ماننے والے نہ تھے۔ بعض نے کہا کہ جواب شرط مقدم ہے۔ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ جواب شرط ہے اور درمیانی کلام جملہ معترضہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ گویا مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن کے ذریعہ سے پہاڑ بھی رواں کردیتے تب بھی یہ کفر ہی کرتے ‘ ایمان نہ لاتے کیونکہ ان کیلئے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ ان (کافروں) کا مبدء تعین اللہ کے اسممضِل کا پرتو ہے ‘ ان کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے۔ بل اللہ الامر جمیعا بلکہ سارا اختیار خاص اللہ ہی کو ہے۔ اس جملہ سے پہلے کچھ کلام محذوف ہے جو عبارت کی رفتار سے سمجھ میں آ رہا ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا کہ کافروں کی فرمائشوں کا پورا نہ کیا جانا اس وجہ سے نہیں ہے کہ اللہ ایسا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا بلکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ‘ ان کی فرمائشیں بلکہ ہر امر کرسکتا ہے مگر اللہ ایسا چاہتا نہیں کیونکہ اس کو علم ہے کہ یہ لوگ اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے خواہ کوئی سی بھی نشانی ان کو نظر آجائے ‘ یا اسلئے یہ فرمائشی معجزات اللہ ظاہر نہیں کرتا کہ ان کو ہدایت یاب کرنا نہیں چاہتا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بعض صحابہ نے جب مذکورۂ بالا معجزات کی درخواست سنی تو ان کی بھی خواہش ہوئی کہ اگر اللہ یہ فرمائشیں پوری کر دے تو بہتر ہے۔ یہ کافر لوگ اسی طرح سے ایمان لے آئیں (تو مناسب ہے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی : افلم یایئس الذین امنوا کیا (ان کافروں کے ایمان لانے سے) اہل ایمان ابھی ناامید نہیں ہوئے باوجودیکہ ان معجزات سے بڑھ چڑھ کر یہ کافر معجزات دیکھ چکے پھر بھی ایمان نہ لائے۔ چاند پھٹنے کا معجزہ انہوں نے دیکھا پھر بھی تصدیق نہیں کی ‘ کنکریوں کا کلام کرنا انہوں نے دیکھ لیا اور ایمان نہ لائے۔ پہاڑوں کے رواں کرنے اور دوش ہوا پر قطع مسافت کرنے سے تو چاند کے پھٹنے کا معجزہ زیادہ مؤثر ہونا چاہئے اور مردوں کے کلام کرنے سے کنکریوں کا بولنا زیادہ مشکل ہے۔ جب یہ معجزات ان کو قبول ایمان پر آمادہ نہ کرسکے تو فرمائشی معجزات کی تکمیل کیا ایمان بخش ہوسکتی ہے ؟ ان لو یشاء اللہ لھدی الناس جمیعا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام (دنیا کے) آدمیوں کو ہدایت کردیتا۔ اس کلام کا تعلق ایک محذوف لفظ سے ہے ‘ یعنی یہ جانتے ہوئے بھی اہل ایمان ‘ کافروں کے ایمان لانے سے ناامید نہیں ہوئے کہ اگر اللہ چاہے تو سب لوگوں کو ہدایت کر دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ مؤمنوں کا ایمان ہے کہ اگر اللہ چاہے تو سب لوگوں کو مؤمن بنا دے ‘ اس ایمان کے باوجود کیا مؤمن ان کافروں کے ایمان دار بن جانے کی امید رکھتے ہیں ‘ ابھی ناامید نہیں ہوئے۔ اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ لَمْ یَایْءَس کا معنی ہے : لَمْ یَعْلَمْ یعنی کیا اہل ایمان نہیں جانتے کہ اگر اللہ چاہے تو سب لوگوں کو ہدایت یاب کر دے۔ کلبی نے کہا : قبیلۂ نخع کے محاورے میں یاس بمعنی علم آتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو بنی ہوازن کا محاورہ قرار دیا ہے ‘ یعنی ہوازن والے یاس کو علم کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ فراء نے اس کا انکار کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ کسی عرب سے یاس کا معنی علم نہیں سنا گیا۔ یَءِسْتُ بمعنی عَلِمْتُ نہیں آتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایاس کا کو مجازاً بمعنی علم قرار دیا جائے۔ علم کا نتیجہ (کبھی) ناامیدی ہوتا ہے۔ مسبب بول کر سبب مراد لیا جاسکتا ہے۔ جس چیز سے مایوسی ہو ‘ وہ (مجہول نہیں ہوتی) یقیناً معلوم ہوتی ہے۔ لَمْ یَیْءَس کو لَمْ یَعْلَمْ کے معنی میں لینے کی ضرورت اس وجہ سے پڑی کہ اسی آیت میں حضرت ابن عباس کی روایت کے بموجب لَمْ یَیْءَس کی جگہ لَمْ یَتَبَیَّنَ آیا ہے اور لَمْ یَتَبَیَّنَ کا معنی ہے : لَمْ یَعْلَمْ گویا لَمْ یَتَبَیَّنَ ‘ لَمْ یَأءَسِ کی تفسیر ہے۔ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ اور یہ (مکہ کے) کافر تو ہمیشہ (آنے دن) اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے (بد) کردار کے سبب ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑتا رہتا ہے۔ قَارِعَۃٌ سے مراد ہے : کوئی مصیبت ‘ بلاء ‘ آفت خواہ بصورت قحط ہو یا بصورت قید و قتل یا مال کی تباہی اور غارت گری ہو ‘ یعنی کفر و بداعمالی کی وجہ سے ان کافروں پر کوئی نہ کوئی آفت آتی رہے گی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قَارِعَۃٌ سے مراد ہیں وہ فوجی دستے جو رسول اللہ ﷺ کافروں پر بھیجتے رہتے تھے۔ او تحل قریبا من دارھم حتی یاتی وعد اللہ یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتا رہتا ہے ‘ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا۔ یعنی فوجی دستے یا کوئی دوسری آفت اگر براہ راست ان پر نہیں آئے گی تو ان کی بستیوں کے قریب کسی جگہ آتی رہے گی اور اس کی چنگاریاں اڑ کر ان پر بھی پڑتی رہیں گی۔ بعض نے کہا : تَحُلُّ مخاطب کا صیغہ ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ‘ یعنی آپ خود ان کی بستیوں کے قریب جا کر اتریں گے۔ چناچہ حضور ﷺ حدیبیہ میں جا کر اترے تھے۔ مؤخر الذکر قول اور حضرت ابن عباس کی تشریح پر آیت کا نزول کفار مکہ کے متعلق مانا جائے گا۔ اگر آیت میں کفار مکہ مراد ہوں تو وَعْدُ اللّٰہِ سے مراد فتح ہوگی اور اگر آیت عموم پر رکھی جائے تو وَعْدُ اللّٰہِ سے مراد موت یا قیامت ہوگی۔ ان اللہ لا یخلف المیعاد یہ حقیقت ناقابل شک ہے کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ کے کلام میں کذب اور وعدہ کی خلاف ورزی ناممکن ہے۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا

ولقد استھزئ برسل من قبلک (یعنی جس طرح یہ کافر آپ سے استہزاء کرتے ہیں ‘ اسی طرح) آپ سے پہلے پیغمبروں سے (کافروں کی طرف سے) استہزاء کیا جا چکا ہے۔ فاملیت للذین کفروا پھر میں نے کافروں کو ڈھیل دی۔ الملوۃ کا معنی ہے : لمبی مدت ‘ طویل زمانہ۔ مَلَوان رات دن کو امتداد کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں رات دن مَلَوان نہیں ہیں ‘ ملوۃ کا حقیقی معنی تو مدت ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے : نہار ولیل دائم ملو ھما علٰی کل حال المرء یختلفان رات اور دن کی مدت بہرحال آتی جاتی ہے۔ آدمی کا کوئی حال ہو ‘ اچھا یا برا۔ ملو کی ھما کی طرف اضافت بتارہی ہے کہ ملوٌ (بمعنی مدت ہے) بعینہٖ رات دن اس کا معنی نہیں ہے۔ اس تنقیح کی بنا پر املیت کا ترجمہ ہوا : میں نے بغیر عذاب دئیے ان کو چھوڑے رکھا ‘ ڈھیل دی۔ ثم اخذتھم فکیف کان عقاب آخر میں نے (عذاب میں) ان کو دھر پکڑا ‘ پس (دیکھو) میرا عذاب کیسا (برمحل) واقع ہوا۔ اسی طرح جو لوگ آپ سے استہزاء کرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ بھی میں یہی سلوک کروں گا۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں

افمن ھو قائم علے کل نفس بما کسبت بھلا وہ (ا اللہ) جو ہر شخص کے (اچھے برے) تمام اعمال کا نگراں ہے ( اس مخلوق کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرح علم نہیں رکھتی۔ یعنی اللہ ہر عمل سے واقف ہے ‘ اسلئے کسی عمل کا بدلہ اس کی طرف سے فوت نہیں ہوگا۔ ہمزہ سوالیہ ہے اور فاء عاطفہ اور معطوف علیہ محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا تم اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک قرار دیتے ہو اور جو ذات ہر شخص کے ہر عمل کی نگراں ہے ‘ اس کو بیخبر ‘ جماد ‘ دعا عاجز کی طرح سمجھتے ہو۔ وجعلوا اللہ شرکاء اور بنا رکھے ہیں انہوں نے (اپنے گمان میں) اللہ کے ساجھی۔ اس جملہ کا عطف کَسَبَتْ پر ہے اگر مَا کو مصدری کہا جائے ‘ یا کلام محذوف پر ہے یعنی وہ اللہ کو ایک نہیں کہتے اور استحقاق معبودیت میں دوسروں کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ قل سموھم آپ ان سے کہئے کہ ان شریکوں کے اوصاف تو بیان کرو اور پھر غور کرو کہ کیا وہ مستحق معبودیت اور قابل شرکت ہوسکتے ہیں۔ ام تنبؤنہ بما لا یعلم فی الارض یا اللہ کو تم ایسی بات بتا رہے ہو جس سے وہ (ساری) زمین میں واقف نہیں۔ یعنی جو چیز ہے یا ہونے والی ہے ‘ اللہ تو سب سے واقف ہے مگر اس کو ایسی کوئی ہستی معلوم نہیں جو استحقاق عبادت میں اس کی شریک ہو۔ پس کیا تم بتوں کے وہ اوصاف بتاسکتے ہو جن کی وجہ سے وہ مستحق عبادت ہو سکیں اور ایسے شریکوں کی صفات بیان کرسکتے ہو جو مستحق عبادت قرار پاسکیں۔ ام بظاھر من القول یا (بتوں کو تم اللہ کا شریک) صرف ظاہری طور پر کہتے ہو ‘ سطحی طور پر یونہی سن سنا کر زبان سے کہہ دیتے ہو جس کی واقع میں کوئی حقیقت نہیں ‘ جیسے حبشی کا نام کافور رکھ دیا جاتا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ کا ترجمہ کیا ہے : باطل قول ‘ غلط بات۔ بل زین للذین کفروا مکرھم بلکہ کافروں کو اپنے مغالطہ کی باتیں مرغوب معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی شیطان نے ان کی فریب کاری اور مکر سازی کو ان کی نظر میں آراستہ کردیا ہے (دلکش اور فائدہ آگیں بنا رکھا ہے) اسلئے وہ اپنی غلط ‘ جھوٹی باتوں اور فریب کاریوں کے تخیل میں مست ہیں۔ وصدوا عن السبیل اور (صحیح) راستہ سے ان کو روک دیا گیا ہے۔ یعنی دین کی راہ سے اللہ نے ان کو پھیر دیا ہے اور شیطان نے ان کو بہکا دیا ہے۔ ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد اور جس کو (بےمدد چھوڑ کر) اللہ گمراہ کر دے ‘ اس کو صحیح راستہ پر ڈالنے والا (ہدایت کی توفیق دینے والا) کوئی نہیں۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں

لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں ان پر عذاب مسلط ہے۔ یعنی قتل ہونا ‘ قید ہونا اور جزیہ ادا کرنا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق اور آخرت کا عذاب تو دنیوی عذاب سے زیادہ سخت اور دوامی اور بلاشبہ موجود ہی ہے (جس میں یہ گرفتار ہوں گے) ۔ وما لھم من اللہ من واق اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

مثل الجنۃ التي وعد المتقون جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ اس کی حالت یہ ہے۔ یعنی جنت کی خوبی اور ندرت کی حالت وہ ہے جو آئندہ بیان کی جا رہی ہے۔ سیبویہ نے کہا : مَثَلُ الْجَنَّۃ متبداء ہے اور خبر محذوف ہے ‘ یعنی جنت کی حالت وہ ہے جو آگے بیان کی گئی ہے۔ تجری من تحتھا الانھر وہ ایسی جنت ہے جس کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اکلھا آئم اس کے پھل ہمیشہ ہوں گے ‘ کبھی منقطع نہ ہوں گے۔ بزار اور طبرانی کا بیان ہے کہ حضرت ثوبان نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جنت والوں میں سے جو شخص بھی جنت کا کوئی پھل لے گا ‘ فوراً اس کی جگہ ویسا ہی دوسرا پھل دوبارہ آجائے گا۔ فرقۂ جہمیہ قائل ہے کہ جنت کی راحت فنا پذیر ہے ‘ آیت مذکورہ اور حدیث سے اس فرقہ کے قول کی تردید ہو رہی ہے۔ وظلھا اور اس کا سایہ بھی ایسا ہی ہوگا ‘ یعنی ہمیشہ رہے گا۔ دنیا میں سایہ دھوپ کی وجہ سے معدوم ہوجاتا ہے ‘ جنت میں سایہ اس طرح نہ ہوگا۔ بیہقی نے شعیب بن جیحان کا قول نقل کیا ہے ‘ شعیب نے کہا : میں اور ابو العالیہ ریاحی سورج نکلنے سے پہلے نکلے (سہانا وقت دیکھ کر) ابو العالیہ نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ جنت کا وقت ایسا ہی ہوگا۔ پھر انہوں نے آیت وَظِلٍ مَمْدُوُدٍ تلاوت کی۔ تلک عقبی الذین اتقوا یہ (جنت) پرہیزگاروں کیلئے جزا ہوگی یا ان کا انجام اور آخری نتیجہ (بصورت) جنت ہوگا۔ وعقبی الکافرین النار اور کافروں کا (برا) انجام دوزخ ہے۔ عقبیٰ کا معنی اس جگہ اگر جزا (اچھا انجام) قرار دیا جائے تو اس لفظ کا استعمال بطور استعارہ ہوگا ‘ جیسے آیت ھَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ میں لفظ ثواب اور آیت وَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْم میں لفظ بشارت آیا ہے۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے

والذین اتینھم الکتب اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے۔ اس سے مراد یا تمام صحابہ ہیں یا یہودیوں اور عیسائیوں میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی اور حبش کے عیسائی مسلمان۔ یفرحون بما انزل الیک وہ اس قرآن سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر اتارا گیا ہے ‘ کیونکہ قرآن ان کی سابق کتابوں کے موافق ہے۔ ومن الاحزاب اور ان گروہوں میں سے۔ یعنی کافروں میں سے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جتھابندی کرلی تھی۔ یا ان یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ جیسے کعب بن اشرف اور اسید اور عاقب وغیرہ۔ من ینکر بعضہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی اس حصہ کا انکار کرتے ہیں جو ان کی خواہشات یا ان کی شریعتوں کے موافق نہیں ہوتا۔ بغوی نے لکھا ہے : بعض لوگوں کا قول ہے کہ الرحمن کا لفظ قرآن مجید میں کم آیا تھا۔ جب حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی مسلمان ہوگئے اور قرآن میں الرحمن کا ذکر انہوں نے کم پایا تو یہ چیز ان کو کچھ اچھی نہیں معلوم ہوئی کیونکہ توریت میں تو یہ لفظ بکثرت آیا ہے۔ اس کے بعد جب بار بار یہ لفظ قرآن میں ایا تو ان کو اس سے خوشی ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض علماء تفسیر کے نزدیک وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْکِرُ بَعْضَہٗ میں منکرین سے مکہ کے مشرک مراد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح نامہ میں جب بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوائی تو مشرکین کہنے لگے : ہم تو رحمن یمامہ (مسیلمہ کذاب) کے علاوہ کسی اور رحمن سے واقف نہیں۔ اس پر آیت وَھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کَافِرُوْنَ اور آیت وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ نازل ہوئی۔ بَعْضَہٗ کا لفظ بتارہا ہے کہ مشرکین لفظ اللہ کے ذکر کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ الرحمن کا لفظ ذکر کرنا ان کو گوارا نہ تھا۔ قل انما امرت ان اعبد اللہ ولا اشرک بہ (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے : مجھے تو بس یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دوں۔ اگر یہ قول پیش کرنے کا حکم منکرین اہل کتاب (عیسائی اور یہودی) کے مقابلہ میں ہے تو آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ آپ کہہ دیجئے : جو قرآن مجھ پر نازل ہوا (اور جو وحی مجھ پر بھیجی گئی ہے) اس میں مجھے اللہ کی عبادت کرنے اور شرک نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دین کا مرکزی ستون یہی ہے ‘ تم لوگ بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ باقی تمہاری شریعتوں سے میرے شرعی احکام کا مختلف ہونا ‘ سو یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ‘ جزئی احکام میں باہم اختلاف رکھتی ہیں ‘ ایک دوسری کا نسخ کرتی چلی آئی ہیں۔ اگر آیت کو عام کافروں کے حق میں قرار دیا جائے گا تو مطلب اس طرح ہوگا : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی عبادت کرنے اور شرک نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کو اللہ ‘ رحمن ‘ رحیم کے مختلف ناموں سے پکارنا توحید کے خلاف نہیں۔ لفظ رحمن کا انکار بےحقیقت ہے (شاید مشرکوں کو لفظ رحمن سے اسلئے چڑ تھی کہ ان کی صلاحیت و استعداد میں رحمت الٰہی کی قابلیت ہی نہیں تھی) ۔ الیہ ادعو والیہ ماب اسی کی طرف میں (لوگوں کو) بلاتا ہوں اور اس کی طرف میرا رجوع ہے۔ نہ کسی دوسرے کی طرف میں دعوت دے رہا ہوں ‘ نہ کسی اور کی طرف میرا رجوع ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

وکذلک انزلنہ حکما عربیا اور ___ جس طرح ہم نے گذشتہ قوموں کیلئے انہیں کی زبانوں میں کتابیں نازل کیں ___اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں (تمام معاملات ‘ عبادات ‘ حلت و حرمت وغیرہ کا) فیصلہ بنا کر اتارا ہے تاکہ تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے اس کا سمجھنا سمجھانا آسان ہو۔ ولئن اتبعت اھوآء ھم بعد ماجاءک من العلم مالک من اللہ من ولي ولا واق اور آپ کے پاس علم پہنچ جانے (یعنی قرآن نازل ہونے) کے بعد اگر آپ ان کی خواہشات پر چلیں گے تو اللہ (کے عذاب و گرفت) سے آپ کو بچانے والا اور مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ یعنی کوئی ایسا مددگار اور حامی نہ ملے گا جو اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں نے کہا تھا : اس شخص کا مطمع نظر تو صرف عورتیں ہیں (یعنی یہ شخص نفس پرست اور عورتوں کا شیفتہ و فریفتہ ہے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے

ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت پیغمبر بھجئے (جو فرشتے نہ تھے ‘ آپ کی طرح آدمی تھے) اور ہم نے ان کیلئے بیویاں اور اولاد (نر و مادہ) مقرر کیں (جیسے آپ کو عطا کی گئیں) ۔ وما کان لرسول ان یاتي بایۃ اور کسی رسول کے اختیار میں نہیں (نہ کسی رسول کیلئے جائز ہے) کہ کوئی آیت (معجزہ اور حکم جو اس سے طلب کیا جائے وہ خود) لے آئے (کیونکہ سب پیغمبر بندے ہیں ‘ کوئی رب نہیں) ۔ الا باذن اللہ ہاں اللہ کے حکم (اور اجازت) سے (وہ معجزات اور احکام پیش کرتے تھے) ۔ لکل اجل کتاب ہر مدت (اور ہر چیز کے وقت) کیلئے (اللہ کی طرف سے ازل میں) ایک مقرر تحریر ہے (اس تحریر میں ہر چیز کی ابتداء اور انتہا لکھی ہوئی ہے) ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ازل میں لکھ دیا ہے کہ زید فلاں وقت پیدا ہوگا اور اتنی مدت تک زندہ رہے گا۔ کافر ہوگا یا مؤمن وغیرہ وغیرہ اسی طرح قرآن کی ہر آیت کے نزول اور ہر معجزے کے ظہور کو بھی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ فلاں وقت نزول یا ظہور ہوگا۔ لوگ خواہ کتنی بھی طلب میں عجلت کریں مگر وقت مقرر سے پہلے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ قرآن کے وہ احکام جو توریت کے خلاف تھے ‘ اہل کتاب ان کو نہیں مانتے تھے۔ ممکن ہے کہ اس خیال اور انکار کو دور کرنے کیلئے اللہ نے لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ فرمایا ہو۔ یعنی ہر مدت اور وقت کیلئے اللہ نے حکم نازل فرمایا ہے اور صرف مقررہ مدت کیلئے بندوں کو کوئی معین حکم دیا ہے۔ بندوں کی مصلحت کے مطابق اللہ نے (وقتی) احکام بھیجے ہیں (جب مقررہ مدت ختم ہوگئی تو دوسرے زمانے کیلئے دوسرے احکام بھیج دئیے اور پہلے احکام بدل دئیے) ۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے

یمحو اللہ ما یشآء وئثبت اللہ جو کچھ چاہتا ہے ‘ مٹاتا اور جو کچھ چاہتا ہے ‘ ثابت (برقرار) رکھتا ہے۔ (1) [ طبرانی نے ضعیف سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ‘ سوائے بدبختی اور خوش بختی اور زندگی اور موت کے (یعنی ان چاروں چیزوں کو نہیں بدلتا) ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے حضرت رباب کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ رزق (کی وسعت و کثرت) کو مٹا بھی دیتا ہے اور رزق میں زیادتی بھی کردیتا ہے اور عمر (کی میعاد) کو مٹا بھی دیتا ہے اور اس میں زیادتی بھی کردیتا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت یمحو اللہ ما یشاء الخ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : یہ ہر شب قدر میں ہوتا ہے۔ اللہ (مرتبہ) اٹھاتا ہے اور پناہ (یعنی دوزخ سے پناہ) دیتا ہے اور رزق دیتا ہے ‘ سوائے زندگی اور موت اور شقاوت وسعادت کے کہ ان میں تبدیلی نہیں کرتا (از مؤلف (رح) ) ۔] اس آیت کے مطلب میں اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے فرمایا : جن فرائض و احکام کو اللہ چاہتا ہے ‘ منسوخ کردیتا ہے اور بدل دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے ‘ منسوخ نہیں کرتا۔ آیت لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ کا یہی مطلب مناسب ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوح محفوظ میں سے جو کچھ چاہتا ہے ‘ مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے ‘ اس میں ثبت کردیتا ہے۔ لوح محفوظ کی جو تحریر مٹانے کے قابل ہوتی ہے جس کو تقدیر معلق کہا جاتا ہے ‘ اس کو مٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ دوسری چیز پیدا کردیتا ہے خواہ اس قضاء کا معلق ہونا لوح محفوظ میں درج ہو یا نہ ہو ‘ صرف اللہ کے علم میں پوشیدہ ہو اور تحریر لوح مٹانے کے قابل نہیں ہوتی جس کو تقدیر مبرم کہتے ہیں ‘ اس کو نہیں مٹاتا۔ قضاء مبرم رد نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ جو چاہتا ہے ‘ مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے ‘ قائم رکھتا ہے سوائے رزق اور عمر اور سعادت و شقاوت کے ‘ یعنی یہ امور نہیں بدلے جاتے۔ بغوی نے لکھا ہے : ہم کو حضرت حذیفہ بن اسید کی روایت سے یہ فرمان رسول پہنچا ہے کہ استقرار نطفہ کے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! یہ شقی ہے یا سعید ؟ یہ دونوں باتیں لکھ دی جاتی ہیں ‘ پھر فرشتہ کہتا ہے : اے رب ! یہ نر ہے یا مادہ ؟ یہ دونوں امور بھی لکھ دئیے جاتے ہیں۔ پھر اس کا عمل ‘ اثر ‘ عمر اور رزق لکھ دیا جاتا ہے ‘ پھر یہ تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں جن کے اندر اس کے بعد نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو سچا بنایا گیا تھا کہ آدمی کی بناوٹ ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک بصورت نطفہ ‘ پھر اتنے ہی روز بصورت علقہ (لوتھڑا ‘ خون جما ہوا) پھر اتنی ہی مدت بصورت مضغہ (گوشت کی بوٹی) رہتی ہے ‘ پھر اللہ اس کی طرف ایک فرشتہ چار باتوں کیلئے بھیجتا ہے۔ فرشتہ اس کا عمل ‘ اس کی زندگی ‘ اس کا رزق اور اس کا شقی (دوزخی) یا سعید (جنتی) ہونا لکھ دیتا ہے ‘ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ بغوی نے حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے ‘ دونوں حضرات نے فرمایا : اللہ سعادت و شقاوت کو بھی مٹا دیتا ہے اور رزق و مدت حیات کو بھی اور کچھ ثابت رکھتا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر کعبہ شریف کا طواف کرنے میں رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ ! اگر تو نے مجھے اہل سعادت میں لکھا ہے تو ان میں قائم رکھ (میرا نام ان کی فہرست سے نہ مٹا) اور اگر تو نے میرے لئے شقاوت لکھ دی ہے تو میرا نام (اہل شقاوت کی فہرست سے) مٹا دے اور اہل سعادت و مغفرت میں لکھ دے۔ بلاشبہ تو جو کچھ چاہے ‘ مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہے ‘ قائم رکھتا ہے۔ تیرے ہی پاس ام الکتاب (اصلی کتاب ‘ ہر چیز کا تحریر نامہ) ہے۔ ایسی ہی روایت حضرت ابن مسعود سے بھی آئی ہے۔ بعض آثار میں آیا ہے : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض آدمیوں کی عمر کے تیس سال باقی ہوتے ہیں لیکن جب وہ قرابت کو قطع کرتا ہے (قطع رحم کرتا ہے) تو لوٹا کر تیس سال کے تین دن کر دئیے جاتے ہیں اور بعض آدمیوں کی عمر کے تین دن باقی رہتے ہیں اور وہ کنبہ کی پرداخت (صلۂ رحمی) کرتا ہے تو تین دن کھینچ کر تیس سال کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ اثر نقل کرنے کے بعد بغوی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آدمی کی عمر کے جب صرف تین گھنٹے رہ جاتے ہیں تو) اللہ رات کے آخری تین گھنٹوں میں نزول اجلال فرماتا ہے اور کتاب مندرج شدہ کو پہلے گھنٹہ میں ملاحظہ فرماتا ہے کہ اس کے سوا کوئی بھی اس کتاب کو نہیں دیکھ سکتا۔ پس جو کچھ چاہتا ہے ‘ مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے ‘ ثبت فرما دیتا ہے (یا برقرار رکھتا ہے) ۔ ابن مردویہ راوی ہیں کہ حضرت علی نے اس آیت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : میں اس کی تفسیر کر کے تیری آنکھیں ٹھنڈی کروں گا اور اپنے بعد آنے والی اپنی امت کی آنکھیں بھی اس کی تشریح سے ٹھنڈی کر دوں گا۔ صدقہ کرنا ‘ صحیح طور پر ماں باپ سے اچھا سلوک اوراقسام خیر ‘ بدبختی کو نیک نصیبی سے بدل دیتے ہیں اور عمر بڑھا دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود کی روایت کے مطابق مقامات مجددیہ میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ ایک شخص ملاّ طاہر لاہوری تھے ‘ حضرت مجدد صاحب (رح) کے دونوں صاحبزادگان حضرت محمد سعید اور حضرت محمد معصوم کے معلم تھے۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ نے بنظر کشف ملاحظہ فرمایا کہ ملاّ طاہر کی پیشانی پر لکھا ہے : مُلاّ طاہر لاہوری شقی۔ حضرت نے اس کا ذکر اپنے لڑکوں سے کردیا (یا صاحبزادگان تو ملاّ طاہر کے شاگرد تھے ہی ‘ اسلئے انہوں نے حضرت سے درخواست کی کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ اللہ اس شقاوت کو مٹا کر سعادت سے بدل دے۔ حضرت نے فرمایا : میں نے لوح محفوظ میں لکھا دیکھا ہے کہ یہ قضاء مبرم ہے جس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ لڑکوں نے دعا کرنے کیلئے اصرار کیا تو حضرت مجدد نے فرمایا : مجھے یاد آیا کہ حضرت غوث الثقلین شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی نے فرمایا تھا : میری دعا سے قضاء مبرم بھی بدل دی جاتی ہے ‘ اس لئے میں دعا کرتا ہوں اور بارگاہ الٰہی میں عرض کرتا ہوں : اے اللہ ! تیری رحمت وسیع ہے ‘ تیرا فضل کسی ایک پر ختم نہیں ہوجاتا ‘ میں تجھ سے امید کرتا ہوں اور تیرے ہمہ گیری فضل سے درخواست کرتا ہوں کہ میری دعا قبول فرما لے اور ملاّ طاہر کی پیشانی سے شقاوت کی تحریر مٹا کر اس کی جگہ سعادت کے نقوش ثبت کر دے ‘ جیسے تو نے میرے آقا (حضرت غوث اعظم) کی دعا قبول فرمائی تھی۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ کا بیان ہے : اس دعا کے بعد وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا کہ گویا میری نظر کے سامنے لفظ شقی ملاّ طاہر کی پیشانی سے مٹا کر اس کی جگہ سعید لکھ دیا گیا اور اللہ کیلئے یہ بات دشوار نہیں۔ حضرت مفسر کا بیان ہے : اس تقریر کے بعد میرے دل میں ایک اشکال پیدا ہوگیا کہ کسی کی دعا سے قضاء مبرم کے ٹل جانے کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ اگر قضاء مبرم بھی ٹل جاتی ہے تو وہ مبرم ہی کب ہوئی ‘ ایسی قضاء کو مبرم کہنا ہی غلط ہے۔ اس اشکال کا جواب اللہ نے میرے دل میں اس طرح القاء کیا کہ قضاء معلق دو طرح کی ہوتی ہے : ایک وہ جس کا معلق ہونا لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے ‘ دوسری وہ قضاء جس کا مبرم ہونا لوح محفوظ میں درج نہیں ‘ اس کا معلق یا مبرم ہونا صرف اللہ کے علم میں ہے۔ لوح محفوظ میں چونکہ اس کی تعلیق مکتوب نہیں ‘ اسلئے (تحریر لوح کے اعتبار سے) اس کو قضاء مبرم کہا جاتا ہے۔ حضرت غوث الثقلین نے جس قضاء مبرم کا اپنی دعا سے بدل جانا ذکر کیا ہے ‘ اس سے مراد یہی قضا ہے جو لوح محفوظ میں (مبرم یعنی) غیر معلق ہے اور علم الٰہی میں معلق (غیر مبرم) ہے۔ مُلاّ طاہر کی بدبختی بھی اسی قسم کی تھی۔ لوح میں غیر معلق یعنی مبرم تھی ‘ لیکن اللہ کے علم میں معلق (غیر مبرم) تھی ‘ اسلئے بدل دی گئی۔ وا اللہ اعلم ضحاک اور کلبی نے آیت یَمْحُوْ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَئثْبِتُ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ کراماً کاتبین آدمی کے تمام افعال و اقوال اپنے رجسٹروں میں لکھ لیتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے اعمال و اقوال بھی ہوتے ہیں جن کا نہ کوئی ثواب ہوتا ہے نہ عذاب۔ مثلاً کوئی کہتا ہے : میں نے کھالیا ‘ میں نے پی لیا ‘ میں وہاں گیا ‘ میں گھر سے نکلا۔ یہ کلام اگر سچا ہوتا ہے تو اس پر نہ ثواب مرتب ہوتا ہے نہ عذاب اور کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو موجب ثواب و عذاب ہوتے ہیں۔ اوّل قسم کی اندراجات کو اللہ کراماً کاتبین کے رجسٹروں سے مٹا دیتا ہے اور دوسری قسم کی تحریروں کو قائم رکھتا ہے۔ کلبی نے اتنا مزید بیان کیا کہ جمعرات کے دن ایسے لاحاصل اعمال و اقوال مٹائے جاتے ہیں۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول تشریح آیت کے ذیل میں اس طرح بیان کیا کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے ‘ لیکن آخر میں نافرمانی کرنے لگتا ہے اور اسی گمراہی پر مرجاتا ہے تو اللہ اس کے سابق نیک اعمال مٹا دیتا ہے اور جو شخص مرتے دم تک اطاعت پر قائم رہتا ہے ‘ اللہ اس کی نیکیاں قائم رکھتا ہے۔ مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام آدمیوں کے سارے دل ایک آدمی کے دل کی طرح رحمن کی ایک چٹکی میں ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ پھر حضور ﷺ نے یہ دعا کی : اے اللہ ‘ اے دلوں کو پھیر دینے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے (یعنی اپنی طاعت پر قائم رکھ) ۔ حسن نے آیت کی تفسیر اس طرح کی : جس کی موت کا وقت آجاتا ہے ‘ اللہ اس کو لے جاتا ہے ‘ یعنی (اس کی زندگی کا نقش) مٹا دیتا ہے اور جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا ‘ اس کو قائم رکھتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اللہ اپنے بندوں کے جو گناہ چاہتا ہے معاف کردیتا ہے ‘ مٹا دیتا ہے اور جو گناہ چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ‘ معاف نہیں کرتا۔ عکرمہ نے کہا : اللہ اپنے بندوں کے جو گناہ توبہ سے معاف کرنا چاہتا ہے ‘ مٹا دیتا ہے اور گناہوں کے بدلے نیکیاں ثبت کردیتا ہے۔ اس نے خود دوسری آیت میں فرمایا ہے : اُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّءَاتِھُمْ حَسَنَاتٍ ۔ مسلم نے حضرت ابوذر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن بعض آدمیوں کی پیشی ہوگی تو حکم ہوگا : اس کے سامنے اس کے صغیرہ گناہ رکھو۔ حسب الحکم صغیرہ گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کبیرہ گناہ مخفی رکھے جائیں گے اور کہا جائے گا : فلاں دن تو نے یہ یہ کام کئے تھے۔ وہ شخص اقرار کرتا جائے گا ‘ انکار نہیں کرے گا مگر کبائر سے خوف زدہ رہے گا۔ کبائر اس سے پوشیدہ رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہر گناہ کی جگہ اس کو ایک نیکی دے دو ۔ بندہ عرض کرے گا : میرے گناہ تو اور بھی تھے جو میں یہاں نہیں دیکھتا۔ راوی کا بیان ہے : یہ فرمانے کے وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ہنس دئیے کہ آپ کی کچلیاں بھی نمودار ہوگئیں۔ مؤلف نے کہا میں کہتا ہوں : شاید یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہوگا جو محبوبیت کے سمندر میں غرق ہیں ‘ صاف بدن ‘ عالی قدر صوفی ہیں۔ سدی نے کہا : (مطلب یہ ہے کہ) اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے ‘ یعنی چاندنی کو مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے ثابت کرتا ہے ‘ یعنی سورج یا دھوپ کو لے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا اس آیت میں اظہار کیا ہے ‘ فرمایا ہے : فَمَحَوْنَآ ٰایَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَآ ٰایَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً ہم نے رات کی نشانی (یعنی چاندنی) مٹا دی اور ہم دن کی نشانی نظروں کے سامنے لے آئے۔ ربیع نے کہا : اس آیت کے مطلب کا تعلق ارواح سے ہے۔ اللہ سونے کی حالت میں ارواح کو قبض کرلیتا ہے ‘ اس کے بعد جس کو موت دینا چاہتا ہے ‘ اس کی روح کو روک لیتا ہے اور جس کو زندہ رکھنا چاہتا ہے ‘ اس کی روح واپس لوٹا دیتا ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِی لَمْ تَمتْ فِیْ مَنَامِھَاالخ۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے : جو اعمال ریاکاری اور شہرت کے حصول کیلئے کئے جاتے ہیں ‘ اللہ ان کو کراماً کاتبین کے رجسٹر سے مٹا دیتا ہے اور جو اعمال خالص اللہ کیلئے کئے جاتے ہیں ‘ ان کو قائم رکھتا ہے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ ایک قوم کو مٹاتا ہے اور دوسری قوم کو قائم رکھتا ہے۔ وعندہ ام الکتب اور اسی کے پاس اُمّ الکتاب ہے۔ اُمّ الکتاب ‘ کتاب کی اصل (جڑ) اُمّ الکتاب سے مراد ہے : ا اللہ کا علم۔ حضرت ابن عباس نے جب حضرت کعب سے اُمّ الکتاب کا معنی دریافت کیا تو حضرت کعب نے فرمایا : علم الکتاب (یعنی اللہ کا علم) عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کے پاس دو کتابیں ہیں : ایک کتاب تو وہ ہے جس میں محو و اثبات ہوتا ہے (کچھ برقرار رکھا جاتا ہے ‘ کچھ مٹا دیا جاتا ہے) دوسری اُمّ الکتاب ہے ‘ اس کے مندرجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ بغوی نے کہا : اُمّ الکتاب لوح محفوظ ہے جس کے مندرجات میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ عطاء نے کہا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ کی ایک لوح محفوظ ہے (اتنی بڑی کہ) بقدر پانچ سو برس کی راہ کے (اس کی لمبائی ہے) یا سفید موتی کی بنی ہوئی ہے ‘ اس کے دونوں پٹھے یاقوت کے ہیں۔ اللہ روزانہ تین سو تیس بار اس کو ملاحظہ فرماتا ہے ‘ جو کچھ چاہتا ہے ( اس میں سے) مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے

وان ما نرینک بعض الذی نعدھم اگر (آپ کی وفات سے پہلے) ہم آپ کو اس بات کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں۔ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُھُمْ سے مراد ہے : دنیا میں مسلمانوں کو مشرکوں پر غالب کر کے اہل اسلام کے ہاتھوں ان کو سزا دینا اور مغلوب کرنا۔ اللہ نے یہ وعید آیت سَیُھْزَمَ الْجُمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ میں دی تھی (ان کا جتھا شکست پائے گا اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے) یہ شکست جنگ بدر کے دن کفار پر پڑی ‘ کچھ قتل ہوئے کچھ قید۔ او نتو فینک یا ہم (وعدہ پورا کرنے سے پہلے) آپ کو وفات دے دیں (اور آپ کی زندگی میں ان کو کامل شکست نہ ہو) تو آپ اس کی فکر نہ کریں ‘ ان کی روگردانی کی پرواہ نہ کریں اور ان کے جلد عذاب پانے کی خواہش نہ کریں۔ فانما علیک البلغ کیونکہ آپ کے ذمہ تو فقط پہنچا دینا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ آپ کرچکے۔ وعلینا الحساب اور ہمارے ذمہ حساب فہمی ہے اور قیامت کے دن سزا دینا ہے۔ جب ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کو سزا دیں گے۔
Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کیا (مکہ کے کافروں نے) نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو ہر چہار طرف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بغوی نے اکثر اہل تفسیر کا قول نقل کیا ہے کہ زمین سے مراد ہے : کافروں کی زمین اور کم کرنے سے مراد ہے : مسلمانوں کا کافروں کی زمین کو فتح کرنا۔ کیونکہ مسلمانوں کے مقبوضات بڑھنے کا معنی ہی یہ ہے کہ کافروں کے مقبوضات میں کمی آئے۔ پورا مطلب اس طرح ہے کہ ہم نے جو ان کو وعید دی ہے کہ یہ بہت کچھ کفر کی حمایت میں صرف کریں گے لیکن وہ تمام مصارف ان کیلئے باعث حسرت بن جائیں گے ‘ آخر ان کو مغلوب ہونا پڑے گا۔ کیا ان کو اس قول کی سچائی کا انکار ہے ؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم سرزمین کفر گھٹا رہے ہیں اور مسلمانوں کے مفتوحات بڑھا رہے ہیں ؟ کیا ان کی عبرت اندوزی کیلئے یہ مشاہدہ کافی نہیں ہے ؟ آیت کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور اکثر علماء نے کی ہے۔ آیت میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین ہے تاکہ آپ فکر نہ کریں ‘ رنجیدہ نہ ہوں اور یقین رکھیں کہ اللہ کا وعدۂ فتح پورا ہو کر رہے گا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک زمین کی کمی سے مراد ہے : ویرانی اور تباہی۔ اس توجیہ پر مطلب کا خلاصہ اس طرح ہوگا : کیا ان لوگوں کو اپنی بربادی اور اپنی بستیوں کی ویرانی کا اندیشہ نہیں ؟ کیا ان کو نہیں نظر آتا کہ ہم ان کی آبادیوں کو اجاڑ رہے ہیں اور آبادیوں کے رہین والوں کو ہلاک کر رہے ہیں ؟ یہ تفسیر مجاہد اور شعبی کی طرف منسوب ہے۔ وا اللہ یحکم اور اللہ (اپنی مخلوق کے معاملات میں ( جیسا چاہتا ہے ‘ حکم دیتا ہے۔ لا معقب لحکمہ اس کے حکم کو پلٹنے والا کوئی نہیں۔ یعنی اس کی قضاء کو رد کرنے والا اور اس کے حکم کو توڑنے والا کوئی نہیں۔ مُعَقِّبَ کا معنی ہے : کسی چیز کو پیچھے کی طرف پلٹ دینے والا اور موڑ کر بیکار کردینے والا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کی ترقی اور کفر کی بربادی کا حکم دے دیا ہے۔ ایسا ضرور ہو کر رہے گا ‘ اس کو پلٹنے والا کوئی نہیں۔ وھو سریع الحساب اور وہ جلد محاسبہ کرنے والا ہے ‘ یعنی دنیا میں قتل و قید اور جلاوطنی کی سزا دینے کے بعد قیامت کے دن ان سے حساب فہمی کرے گا۔
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے

وقد مکر الذین من قبلھم اور ان سے پہلے (گذشتہ اقوام میں) جو کافر گزرے ہیں ‘ انہوں نے بھی اپنے اپنے انبیاء اور مؤمنوں سے جھل فریب کئے تھے جیسے ان لوگوں نے آپ سے فریب کیا ہے۔ مکر کا معنی ہے : نامعلوم طریقوں سے کسی کو دکھ پہنچانا۔ فللّٰہ المکر جمیعا پس اللہ ہی کے پاس ہے ان کا مکر ‘ یعنی ان کے مکر کی سزا۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ ہی ان کے فریب کا خالق ہے۔ خیر و شر اسی کے قبضے میں ہے ‘ نفع اور ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی کا فریب کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘ لہٰذا ان کی فریب کاری بےسود ہے۔ یعلم ما تکسب کل نفس جو شخص بھی جو کچھ کرتا ہے ‘ اللہ اس کو جانتا ہے اور عمل کے مطابق بدلہ بھی دے گا۔ یہی اللہ کی مخفی تدبیر ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ نامعلوم طریقے سے دیتا ہے۔ وسیعلم الکفر لمن عقبی الدار اور کافروں کو یقیناً معلوم ہوجائے گا کہ (دونوں) گروہوں میں سے ( کس کیلئے آخرت میں اچھی جزاء ہوگی جبکہ غفلت کی حالت میں کافر مبتلائے عذاب ہوں گے اور مؤمن جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ کلام گویا مکر اللہ کی تفسیر ہے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں

ویقول الذین کفروا لست مرسلا وہ (کفار مکہ یا سرداران یہود) کہتے ہیں کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں۔ قل کفی باللہ شھیدا ابینی وبینکم آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (میری نبوت پر) اللہ کی شہادت کافی ہے۔ یعنی میری سچائی نبوت کیلئے اللہ کی شہادت کافی ہے۔ اس نے میری رسالت کی صداقت ایسے دلائل سے واضح کردی ہے کہ ان کے بعد کسی اور شاہد کی ضرورت نہیں اور وہی قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ اس روز ان منکروں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ومن عندہ علم الکتب اور ان لوگوں کی شہادت کافی ہے جن کے پاس (ا اللہ کی) کتابوں کا علم ہے۔ یعنی ایمان رکھنے والے اہل کتاب کی شہادت کافی ہے ‘ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔ رہا کافروں کا انکار تو اس کی بناء محض حسد ‘ عناد اور مال و جاہ کی طلب پر ہے۔ حرص و ہوا اور حسد ان کو اقرار کرنے سے روک رہے ہیں۔ اس تفسیر کی بناء پر بعض علماء نے کہا کہ پوری سورت اگرچہ مکی ہے مگر یہ آیت مدنی ہے۔ شعبی اور ابو بشر نے آیت کی مندرجۂ بالا تفسیر کا انکار کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور حضرت عبد اللہ بن سلام تو مدنی تھے ‘ ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے تھے ‘ ان کے حق میں آیت کا نزول نہیں ہوسکتا۔ میں کہتا ہوں : آیت کو اگر ہم مکی ہی قرار دیں تب بھی آیت میں اہل کتاب مراد ہونا ناممکن نہیں ہے۔ گویا اللہ نے کفار مکہ سے فرمایا کہ اگر تم کو محمد ﷺ کی رسالت کا یقین نہیں ہے تو اہل کتاب سے دریافت کرلو ‘ معتبر اہل کتاب تصدیق کریں گے اور محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دیں گے۔ حسن اور مجاہد نے کہا : الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اور مَنْ عِنْدَہٗ علیمُ الْکِتٰب سے مراد اللہ ہے۔ دونوں جملوں کو ملا کر یہ مطلب ہوگا کہ اس کی شہادت کافی ہے جو مستحق الوہیت ہے اور لوح محفوظ کی تحریر کا علم اس کے سوا کسی کو نہیں ‘ پس وہی جھوٹے کو سزا دے گا ‘ تم ہو یا میں ‘ ہم دونوں میں سے کوئی ہو۔ حسن اور سعید بن جبیر کی قراءت میں مِنْ عِنْدَہٗ بکسر میم آیا ہے ‘ اس قراءت سے بھی حسن و مجاہد کے قول کی تائید ہوتی ہے۔