Ayah 13:14لہ دعوۃ الحق سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے ‘ یعنی اسی کی دعوت واجب القبول ہے اور دوسرے کی دعوت قابل قبول نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسی کی سچی پکار ہے ‘ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت کی طرف بلایا جائے اور اسی سے حاجتیں پوری کرنے کی دعا کی جائے۔ یا دعوۃ الحق سے مراد ہے : اخلاص کے ساتھ دعا کرنا ‘ یعنی اخلاص کے ساتھ دعا اسی سے کی جاسکتی ہے۔ ان تمام توجیہات پر حق سے مراد ہوگا : وہ مفہوم جو باطل کی ضد ہے۔
دعوۃ موصوف ہے ‘ الحق صفت۔ موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا گیا ہے ‘ جیسے مسجد الجامع اور جانب الغربی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الحق کا موصوف المدعو محذوف ہو ‘ یعنی دعوۃ الحق المدعو۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ حق سے مراد اللہ ہے۔ اللہ کی ہر پکار حق کی طرف بلاوا ہے۔
ایک شبہ : اگر حق سے مراد اللہ ہو تو کلام غیر مفید ہوگا۔ اللہ کی پکار تو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ‘ جیسے دوسروں کی پکار دوسروں کے ساتھ مخصوص ہے۔
جواب : (بیشک اللہ حق ہے لیکن) لفظ حق ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی پکار ‘ حق کی پکار ہے۔ دعوت حق ‘ حق ہوتی ہے جیسے باطل کو پکارنا باطل ہوتا ہے۔ گویا یہ جملہ اپنے اندر دعوے کے ساتھ دلیل بھی رکھتا ہے۔ بغوی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : دعوت حق توحید ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : دعوت حق لا الٰہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کیلئے خاص ہے توحید اور شہادت کی دعوت۔
اگر آیت کا نزول عامر اور اربد کے متعلق مانا جائے تو دونوں جملوں کا مقصد یہ ہوگا کہ ان دونوں شخصوں کو اس طور پر ہلاک کرنا کہ ان کو پتہ بھی نہ ہو ‘ اللہ کی خفیہ تدبیر کے زیر اثر تھا اور رسول اللہ ﷺ کی دعا کی وجہ سے تھا ‘ یعنی آپ کی دعا قبول ہوگئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رسول برحق ہیں جب ہی تو آپ کی دعا اللہ نے قبول فرما لی اور اگر آیت کو (کسی شان نزول سے متعلق قرار نہ دیا جائے بلکہ) عام مانا جائے تو کافروں کو تہدید کرنی مقصود ہوگی کہ تم اللہ کے رسول سے جھگڑتے ہو۔ اللہ بڑا طاقتور اور خفیہ تدبیر کرنے والا ہے اور رسول کی دعا قبول کرنے والا ہے۔
یا صرف کافروں کی بدعقیدگی اور گمراہی ظاہر کرنا مقصودد ہے (تہدید مقصود نہیں) ۔
والذین یدعون من دونہ لا یستجیبون لھم بشی الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ‘ وہ ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے جتنا پانی اس شخص کی درخواست کو منظور کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ پانی خود بخود اس کے منہ تک آجائے حالانکہ وہ (پانی) ازخود (آگے بڑھ کر) اس کے منہ تک آنے والا نہیں۔
وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ۔ الَّذِیْنَ سے مراد یا تو کفار ہیں اور یَدْعُوْن کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی بت وغیرہ۔ ترجمہ اس طرح ہوگا : اور وہ کافر جو اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں کو پکارتے ‘ ان کی عبادت اور یاد کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ یا الَّذِیْنَ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی کافر پوجا کرتے ہیں۔ ترجمہ اس طرح ہوگا : اور جن بتوں کو یہ کافر پوجتے ہیں۔ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْءٍ وہ بت ان کافروں کی کوئی درخواست حصول نفع کی ہو یا دفع ضرر کی ‘ قبول نہیں کرتے۔ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ کا معنی ہے : لَا یُجِیْبُوْنَ منظور نہیں کرتے۔ اِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ مستثنیٰ محذوف ہے اور باسط سے پہلے مضاف بھی محذوف ہے مگر اتنی ہی منظوری جتنی منظوری اس شخص کیلئے ہوتی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے۔ یعنی ایک پیاسا جو کنویں کی منڈیر پر بیٹھا پانی کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہو اور پانی کو اپنی طرف بلا رہا ہو۔ خود تو اندر اتر نہیں سکتا ‘ پانی کو بلاتا ہے۔
وَمَا ھُوَ بِبَالِغِہٖ (ظاہر ہے کہ) پانی اس کے منہ تک اڑ کر پہنچنے والا نہیں۔ وہ تو بےجان اور بےشعور چیز ہے ‘ اس کو معلوم بھی نہیں کہ کون اس کو پکار رہا ہے ‘ نہ وہ کسی کے بلاوے کو قبول کرسکتا ہے اور نہ دعوت پر آسکتا ہے۔ کافروں کے معبودوں کی بھی یہی حالت ہے ‘ کافر بتوں کو پکارتے ہیں ‘ بتوں کو ان کی پکار کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ بےشعور و بےجان ہیں ‘ وہ ان کی دعا قبول نہیں کرسکتے۔ مطلب کی یہ تشریح مجاہد اور عطاء نے کی ہے اور حضرت علی سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ لیکن بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ بتوں کی عبادت اور دعاء کی عدم افادیت کو اس شخص کی حالت سے تشبیہ دی گئی ہے جو پینے کیلئے چلو بھر کر پانی لینا چاہتا ہو اور دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے اور پانی کو ہتھیلی میں اٹھانا چاہے۔ ظاہر ہے کہ پانی کو پکڑنے والا پکڑ نہیں سکتا اور اس کے منہ تک پانی پہنچ نہیں سکتا۔ بتوں کے پجاریوں کی بھی یہی حالت ہے ‘ بت نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتے نہ ضرر (ان کی عبادت ایسی ہے جیسے پانی کو پکڑنے کی کوشش) یہ تشریح حضرت ابن عباس کے قول میں بھی آئی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : غیر اللہ کی پوجا کرنے والے ایسے ہیں جیسے کوئی پیاسا اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کے اندر پھیلا دے۔ جب تک ہتھیلیاں پھیلائے رکھے گا ‘ چلّو نہ بنائے گا ‘ پانی نہ آئے گا اور منہ تک نہیں پہنچے گا۔ اس صورت میں بت پرستوں کی ناکامی کی ہتھیلیاں پھیلائے رکھنے والے پیاسے کی ناکامی سے تشبیہ ہوگی۔
وما دعاء الکفرین الا في ضلل اور (ان باطل معبودوں سے) کافروں کا درخواست کرنا محض بےاثر ہے۔
ضلال بیکار ‘ ضائع ‘ سراسر خسارہ۔
ضحاک نے حضرت ابن عباس کا یہ تشریحی قول نقل کیا ہے کہ کافروں کا اپنے رب کو پکارنا بالکل بےسود ہے ‘ بیکار ہے۔ کفر و معاصی کے پردے اللہ تک پہنچنے میں آڑے آتے ہیں ‘ ان کی دعائیں رب تک پہنچتی ہی نہیں۔
Ayah 13:15واللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللھم بالغدو والاصال اور اللہ ہی کے سامنے سب سرخم کئے ہوئے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے اوقات میں۔
مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا یعنی ملائکہ اور اہل ایمان بندے خوشی سے اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔
وَّکَرْھًا اور وہ منافق و کافر جو تلوار کے خوف سے سر خمیدہ ہوتے ہیں ‘ کراہت کے ساتھ سر جھکاتے ہیں یا مصائب کی شدت اور ضرورت ان کو سر جھکانے پر مجبور کرتی ہے ‘ اگرچہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
وَظِلٰلُھُمْ اور بالتبع ان کے سائے بھی سر خمیدہ ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سجدہ کرنے سے مراد ہو تابع مشیّت ہونا اور ارادۂ خداوندی کے دائرہ میں محصور رہنا خواہ ان کا خود ارادہ ہو یا نہ ہو ‘ مشیّت کے تابع سب ہیں اور سایوں کے تابع مشیّت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جس طرح چاہتا ہے ‘ سایوں کو پھیلاتا اور سمیٹتا ‘ بڑھاتا اور گھٹاتا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ سے مراد ہوں حقائق اور ملائکہ و مؤمنین کی ارواح اور ظلال سے مراد ہوں اشخاص و اجسام۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے ظاہر کو سیاہی اور باطن کو خیال سے تشبیہ دی تھی اور دعا کی تھی اور سجدہ میں عرض کیا تھا : میری سیاہی (ظاہری جسم) اور میرا خیال (باطنی نور) تجھے سجدہ کرتا ہے (ظلال کی یہ تشریح ‘ اوّل تشریح سے بہتر ہے کیونکہ سایہ اسی سیاہی کو کہتے ہیں کہ کسی چیز کی آڑ کی وجہ سے دھوپ وہاں نہیں پہنچتی اور سایہ کا یہ مفہوم عدمی ہے ‘ سجدہ کرنے کی نسبت اس کی طرف کیسے ہوسکتی ہے۔ ہاں اگر سایہ سے مراد ظاہر اور جسم ہو تو سجدہ کی نسبت اس کی طرف کرنا صحیح ہے۔ مترجم)
غدو اور اصال سے مراد ہے : ہمہ اوقات ‘ ہمیشہ۔ اصال جمع ہے ‘ اصیل اس کا واحد ہے۔ عصر سے مغرب تک درمیانی وقت کو اصیل کہتے ہیں۔
Ayah 13:16قل من رب السموت والارض آپ دریافت کیجئے کہ آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟ یعنی ان کو پیدا کرنے والا ‘ ان کا انتظام رکھنے والا اور ان کے تمام امور کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے (یعنی کیا ایسا ہے کہ اللہ ہی خالق و مدبر ہے) کیونکہ مشرک بھی قائل تھے اور ان کو بھی یہ امر تسلیم تھا کہ ان کا اور آسمان و زمین کا خالق اللہ ہی ہے۔
قل اللہ آپ خود ہی کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے۔ یعنی اگر وہ کوئی جواب نہ دیں تو ان کی طرف سے آپ جواب دے دیں کہ اللہ ہی آسمان و زمین کا رب ہے کیونکہ وہ بھی اسی کے قائل ہیں اور ان کا بھی یہی جواب ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کا خالق و رب ہونا اتنا ظاہر ہے کہ اس کا کوئی منکر ہو ہی نہیں سکتا ‘ لہٰذا آپ ہی ان کی طرف سے جواب دے دیجئے۔ یا قُلِ اللہ کہنے سے مشرکوں کو جواب کی درپردہ تعلیم دینی مقصود ہو۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں سے پوچھا کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہی بتائیے۔ اس پر اللہ نے فرمایا : قُلِ اللہ آپ جواب دے دیجئے کہ اللہ ہی ان کا رب ہے۔ اس طرز کلام سے یہ جواب ان پر لازم کردیا۔
قل افاتخذتم من دونہ اولیا آپ کہہ دیجئے : تو پھر بھی کیا تم اس کے سوا دوسروں کو کارساز و مددگار قرار دیتے ہو ؟ اس کلام کا عطف محذوف جملہ پر ہے ‘ یعنی کیا تم اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہو اور پھر دوسروں کو اپنا کارساز بناتے ہو ؟ یہ بات تقاضائے عقل کے خلاف ہے کیونکہ جن کو تم کارساز بناتے ہو ‘ ان کی حالت تو یہ ہے کہ
لا یملکون لانفسم نفعا ولا ضرا ان کا اپنا نفع و ضرر بھی ان کے بس میں نہیں۔ اپنے لئے وہ فائدہ حاصل
کر سکتے ہیں نہ آئے ہوئے ضرور کو اپنے اوپر سے دفع کرسکتے ہیں۔ جب ان کی خود اپنے لئے یہ حالت ہے تو تمہاری کارسازی کیا کرسکتے ہیں اور کس طرح تم کو فائدہ پہنچا سکتے اور تم پر آنے والے ضرر کو دفع کرسکتے ہیں۔ مشرکوں کے گمراہ ہونے اور بتوں کو اپنا کارساز بنانے کی یہ دوسری تردید ہے کہ تم جو ان کی شفاعت کے امیدوار ہو وہ تمہاری شفاعت تو کیا ‘ اپنے لئے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔
قل ھل یستوی الا عمے والبصیر آپ پوچھئے کہ کیا نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں۔ نابینا سے مراد ہے :
بے عقل و بےبصیرت ‘ یا وہ شخص جو اپنی بصیرت سے کام نہ لے اور بصیر سے مراد ہے : وہ بصیرت مند آدمی جو اپنی بصیرت سے عبادت کی حقیقت اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور جانتا ہو کہ عبادت و کارسازی کا مستحق کون ہے ‘ کس کی عبادت کی جائے اور کس کو کارساز سمجھا جائے۔ بعض علماء نے کہا : اعمی سے مراد وہ معبود ہے جو تمہاری طرف سے لاعلم ہے اور بصیرت سے مراد وہ معبود ہے جو تمہارے احوال سے واقف ہو۔
ام ھل تستوی الظلمت والنور یا تاریکیاں اور روشنی برابر ہیں ؟ یعنی کیا کفر اور ایمان برابر ہوسکتے ہیں۔
ام جعلوا اللہ شرکآء خلقوا کخلقہ فتشابہ الخلق علیھم قل اللہ خالق کل شیء وھو الواحد القھار یا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی کسی چیز کو پیدا کیا ہو جیسا اللہ نے پیدا کیا ہے ‘ پھر ان کو (دونوں کا) پیدا کرنا ایک سا معلوم ہوا ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی واحد (اور) غالب ہے۔
اَمْ بمعنی بَلْ ہے۔ استفہام انکاری ہے۔ خَلَقُوْا شرکاء کی صفت ہے۔ ایسے شرکاء جنہوں نے پیدا کیا ہو۔ فَتَشَابَہَ کہ دونوں کی مخلوق میں باہم اشتباہ ہوگیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جن معبودوں کو شریک بنا رکھا ہے ‘ وہ کسی چیز کے خالق نہیں کہ ان کو اللہ کی تخلیق اور معبودوں کی تخلیق میں اشتباہ ہوجاتا اور یہ کہتے کہ اللہ خالق ہے ‘ اسلئے معبود ہے اور ہمارے معبود بھی خالق ہیں ‘ اسلئے وہ بھی مستحق عبادت ہیں۔ بلکہ جن کو یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں ‘ وہ تو بالکل عاجز ہیں ‘ ان میں تو بالکل ہی قدرت نہیں۔ دوسری مخلوق میں کچھ نہ کچھ قدرت ہے ‘ ان معبودوں میں تو اتنی بھی سکت نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ اجسام ہوں یا اغراض یا غیر مادّی ارواح ‘ جس کو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ کسی چیز کو پیدا کرنا نہ چاہے تو اس کا پیدا ہونا ممکن ہی نہیں ‘ لہٰذا اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ جو لوگ (یعنی معتزلہ فرقہ والے) کہتے ہیں کہ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں ‘ اللہ ان کے افعال کا خالق نہیں ‘ وہ اسی گروہ میں سے ہیں جن کو دونوں (انسان اور خدا) کی تخلیق ایک جیسی معلوم ہوتی ہے ( حضرت مفسر کے کلام سے اس طرف اشارہ معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت کے نزدیک معتزلہ کا گروہ بھی مشرک ہے یا مشرکوں جیسے عقائد رکھتا ہے۔ اس فقیر کے نزدیک یہ انتہائی غلو ہے۔ معتزلہ کے عقائد کی تغلیط اہلسنّت نے کی ہے اور صحیح کی ہے اور فرقۂ معتزلہ کو بدعتی گروہ بھی قرار دیا ہے لیکن کافر کسی نے نہیں کہا۔ مترجم)
وَھُوَ الْوَاحِدُ یعنی اللہ ربوبیت اور معبودیت میں اکیلا ہے بلکہ اصل وجود میں بھی واحد ہے ‘ اصل وجود میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ سارے عالم کا وجود تو ظلی ہے اور اللہ کے وجود کا پرتو ہے۔
اَلْقَھَّار وہی ہر چیز پر غالب ہے ‘ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ ہر چیز فی ذاتہ معدوم ہے۔ لِغَیْرِہ موجود ہے ‘ خود اس کا اپنا وجود نہیں ‘ پھر کس طرح اس موجود کا مقابلہ کرسکتی ہے جس کا وجود ذاتی ہے اور اسی کی ہستی اصل ہستی ہے۔ (1) [ آیت اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ کی تفسیر کے ذیل میں ابن جریج کی روایت آئی ہے جو چند وسائط سے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت معقل بن یسار تک پہنچتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے اندر شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ (طور پر داخل ہوجاتا) ہے۔ میں تم کو ایسی بات بتاتا ہوں جس کی وجہ سے (اقسام) شرک چھوٹے ہوں یا بڑے ‘ سب دور ہوجائیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : فرمائیے۔ فرمایا : (ہر شخص) ہر روز تین بار کہے : اے اللہ میں دانستہ طور پر تیرے ساتھ شریک بنانے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور نادانستہ شرک کی تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور شرک یہ (بھی) ہے کہ مجھے اللہ نے اور فلاں شخص نے دیا اور (یہ بھی شرک ہے کہ) کوئی یوں کہے کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو فلاں شخص (مثلاً زید) مجھے مار ڈالتا۔]
Ayah 13:17انزل من السماء ماء فسالت اودیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبدا رابیا اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا ‘ پھر نالے (بھر کر) اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے ‘ پھر وہ سیلاب خس و خاشاک کو بہا لایا جو (پانی کے) اوپر آ رہا ہے۔
اَوْدِیَۃٌ وادی کی جمع ہے۔ وہ ندی نالے جہاں پانی بکثرت بہتا ہے ‘ وادی کہلاتے ہیں۔ مجازاً وادی میں بہنے والے پانی کو بھی وادی کہہ لیا یعنی بہنے کی نسبت پانی کی بجائے وادی کی طرف کردیتے ہیں ‘ جیسا کہ آیت مذکورہ میں آیا ہے) بارش ہونے سے تمام وادیاں تو نہیں بہتی ہیں ‘ بعض بہتی ہیں اسی لئے اس کو بصورت نکرہ ذکر کیا (غیر معین وادیاں) ۔
بِقَدَرِھَا یعنی وادیوں کے اندازے کے موافق چھوٹی بڑی جیسی بھی ہوں۔
السَّیْلُ وادیوں میں بہنے والا پانی (سیلاب) زَبَدًا کف ‘ جھاگ ‘ میل کچیل جو سیلاب کے اوپر آتا ہے۔ رَابِیًا صاف پانی کے اوپر۔
ومما یوقدون علیہ فی النار اتبغآء حلیۃ او متاع زبد مثلہ اور جن چیزوں کو آگ کے اندر زیور یا اور سامان بنانے کیلئے تپاتے ہیں ‘ اس میں کبھی ایسا ہی میل کچیل اوپر آجاتا ہے۔
یُوْقِدُوْنَ کا فاعل ضمیر مستتر ہے ‘ مراد لوگ۔ فاعل معلوم معروف تھا اسلئے ذکر نہیں کیا۔ ایقاد (مصدر باب افعال) پگھلانے کیلئے کسی چیز کو آگ میں تپانا۔
مِمَّا میں مِنْ ابتداء کیلئے ہے ‘ یعنی جو چیزیں لوگ پگھلانے کیلئے آگ میں تپاتے ہیں ‘ ان سے بھی پانی کے جھاگوں کی طرح جھاگ اور میل کچیل پیدا ہوتا ہے۔ یا مِنْتبعیض کیلئے ہے ‘ یعنی بعض چیزوں سے جھاگ پیدا ہوتے ہیں۔ مَا یُوْقِدُوْن جس کو تپاتے ہیں ‘ سونا چاندی ‘ لوہا ‘ تانبا ‘ پیتل۔ بہرحال عام لفظ ہے ‘ ہر پگھلائی جانے والی دھات اس میں داخل ہے۔
اِبْتِغَاءَ حِلْیَۃٍ زیور بنانے کیلئے ‘ جیسے سونا چاندی پگھلایا جاتا ہے۔
اَوْ مَتَاعٍ یا کچھ سامان (ظروف بنانے کیلئے ‘ جیسے برتن بنانے کیلئے تانبا ‘ پیتل پگھلایا ‘ تپایا جاتا ہے ‘ یا اسلحہ بنانے کیلئے ‘ یا کھیتی کے اوزار کیلئے لوہا پگھلایا ‘ تپایا جاتا ہے۔ اِبْتِغَاءَ حِلْیَۃٍ اَوْ مَتَاعٍ کہنے سے دھاتوں کو پگھلانے کی غرض کا اظہار مقصود ہے۔
زَبَدٌ مِّثْلُہٗ پانی کے کف کی طرح اس سے بھی میل اوپر آجاتا ہے۔ یعنی بھٹی میں پڑ کر اس سے بھی میل نکل کر اوپر آجاتا ہے۔
کذلک یضرب اللہ الحق والباطل فاما الزید فیذھب جفآء واما ینفع الناس فیمکث فی الارض کذلک یضرب اللہ الامثال یعنی اللہ کے نازل کردہ علم (قرآن اور دوسری کتب سماویہ) سے لوگ طرح طرح کے دنیوی اور اخروی فائدے حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کی وسعت کے مطابق اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ علم خداوندی قیامت تک بلکہ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے ‘ اس کو کبھی زوال نہیں ہے۔ اس کی تمثیل بارش کے پاس سے دی جاسکتی ہے۔ اوپر سے بارش ہوتی ہے ‘ ندی نالے بھر جاتے ہیں ‘ وادی میں بہہ نکلتے ہیں۔ وادی کی جتنی وسعت ہوتی ہے اور جیسی ضرورت ہوتی ہے ‘ اتنا ہی پانی وادی میں سماتا ہے۔ چھوٹی ندی میں تھوڑا پانی اور گہری بڑی ندی میں زیادہ پانی رواں ہوجاتا ہے۔ لوگ اس پانی سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں۔ اس پانی کا کچھ حصہ زمین کے اندر بھی سما جاتا ہے اور اندر گھسنے کے بعد باؤلی ‘ چشموں اور کنوؤں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور کچھ حصہ زمین کے اوپر گڑھوں اور تالابوں میں رک جاتا ہے اور مدت تک باقی رہتا ہے۔
یا اللہ کے نازل کردہ علم کو دھات سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ لوگ زیور ‘ برتن ‘ ہتھیار اور اوزار وغیرہ بناتے ہیں ‘ اس سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں اور اس سے بنا ہوا سامان مدت دراز تک باقی رہتا ہے۔ رہا باطل یعنی منکرین و مشرکین (کی خودساختہ خرافات اور نفس) کی اختراعات اور شیطانی توہمات تو ظاہر ہے کہ وہ سب بےاصل ہیں ‘ پراگندہ اور منتشر ہیں۔ نہ ان کو پائیداری حاصل ہے ‘ نہ استقرار و ثبات ‘ نہ وہ فائدہ رساں اور نہ دنیا و دین میں منفعت بخش ہیں۔ ان کو ہم ان جھاگوں اور میل کچیل سے تشبیہ دے سکتے ہیں جو سیلاب اور پگھلائی ہوئی دھات کے اوپر آجاتا ہے۔ جو کوڑا کرکٹ سیلاب کے اوپر آجاتا ہے ‘ سیلاب اس کو ادھر ادھر پھینک دیتا ہے۔ اسی طرح حق بھی باطل کو جمنے نہیں دیتا ‘ ادھر ادھر پراگندہ کردیتا ہے۔
جُفَآءً وہ میل کچیل جو سیلاب یا پگھلائی ہوئی دھات کے اوپر آکر ادھر ادھر منتشر ہوجاتا ہے۔ جَفَا الوادی (ثلاثی مجرد) اور اَجْفَا الوادی (ثلاثی مزید) دونوں ہم معنی ہیں۔ یعنی وادی اور سیلابی نالے نے کوڑا کرکٹ ادھر ادھر پھینک دیا۔ بعض اہل لغت نے کہا کہ جُفَآء کا معنی ہے : منتشر ‘ پراگندہ۔ جَفَأَت الرَّیح ہوا نے پراگندہ کردیا۔
وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاس یعنی اصل پانی اور دھات تو زمین میں قائم رہتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ علم نافع کی بھی یہی حالت ہے ‘ یہ بھی پائیدار اور قائم رہنے والا اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔
کَذٰلِکَ یعنی جس طرح اللہ نے حق و باطل کی مذکورہ تمثیل بیان کی ‘ اسی طرح غیر واضح امور کو کھول کر سمجھانے کیلئے اللہ تمثیلات سے کام لیتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس میں اہل ایمان کیلئے درپردہ پیام تسکین ہے کہ کفر اگرچہ بظاہر بلند وبالا نظر آتا ہے لیکن اس کی تاریکی چھٹ جائے گی اور نور اسلام چمکے گا اور اس کی روشنی ہمیشہ قائم رہے گی۔
Ayah 13:18للذین استجابوا لربھم الحسنے والذین لم یستجیبوا لہ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ لافتدوا بہ جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا ‘ ان کے واسطے اچھا بدلہ ہے اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ‘ ان کے پاس اگر دنیا بھر کی چیزیں موجود ہوں اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو وہ سب اپنی رہائی کیلئے دے ڈالیں گے (مگر ان کی رہائی نہ ہوگی) ۔
الْحُسْنٰی مفعول مطلق کی صفت ہے یا مفعول بہ محذوف کی صفت ہے ‘ یعنی جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت اسلام کو اچھی طرح قبول کرلیا اور اس کے احکام کی تعمیل کی یا اپنے رب کی اچھی دعوت کو قبول کرلیا۔
الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ سے مراد کفار ہیں۔ اس صورت میں لِلَّذِْیْنَ کے لام کا تعلق یضرب سے ہوگا ‘ یعنی اللہ دونوں گروہوں کے حال بطور تمثیل بیان کرتا ہے ‘ دعوت الٰہیہ کو قبول کرنے والوں کے احوال کو بھی اور نہ قبول کرنے والوں کے احوال کو بھی۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک الْحُسْنٰی مبتداء مؤخر ہے اور لِلَّذِْیْنَ خبر مقدم۔ یعنی اچھا ثواب ‘ یا جنت ان لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی۔ اس تقدیر پر الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ بجائے خود مبتداء ہوگا اور لَوْ اَنَّ لَھُمْ الخ اس کی خبر۔
لَا فْتَدَوْا بِہٖ یعنی قیامت کے دن اگر کل زمین کی دولت ان کو مل جائے تو دوزخ سے اپنی رہائی کیلئے وہ دے دیں گے۔
اولئک لھم سوء الحساب ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا۔ ابراہیم نخعی نے کہا : سوء حساب یہ ہے کہ ان سے سختی کے ساتھ حساب فہمی کی جائے گی اور کوئی گناہ معاف نہیں کیا جائے گا۔
وما وھم جھنم وبئس المھاد اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور جہنم بری قرار گاہ ہے۔ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے : لَھُمْ مِنْ جَھَنَّمَ مھَادٌ وَمِنْ فَوْقھم غَوَاشٌ ان کا بچھونا اوڑھنا جہنم کا ہوگا۔
Ayah 13:19افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی جو شخص یقین رکھتاہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے ‘ وہ سراسر حق ہے ‘ کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ اندھے سے مراد ہے : بےبصیرت ‘ کور دانش ‘ حق کو باطل سے تمیز نہ کرنے والا۔ روایت میں آیا ہے کہ اوّل الذکر شخص سے مراد ہیں حضرت حمزہ یا حضرت عمار اور نابینا سے مراد ہے ابوجہل۔
انما یتذکر اولو الالباب پس تو نصیحت سمجھدار لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔ یعنی سلیم دانش والے جو عقل کو جذبات حمیت و تعصب سے اور فہم کو وہم سے پاک رکھتے ہیں۔
Ayah 13:20الذین یوفون بعھد اللہ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی یوم میثاق میں جو اللہ کی ربوبیت کا انہوں نے اقرار کیا تھا اور اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کے جواب میں بلٰی کہا تھا ‘ اس کو پورا کرتے ہیں اور اللہ نے جو اپنی کتابوں میں احکام کی پابندی کا وعدہ لیا تھا ‘ اس کو بھی پورا کرتے ہیں۔
ولا ینقضون المیثاق اور پیمان کو نہیں توڑتے۔ یعنی اللہ سے اور آپس میں بندوں سے کئے ہوئے وعدوں کو نہیں توڑتے۔ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ میں صرف عہد خداوندی کی صراحت تھی اور الْمِیْثَاق کا لفظ عام ہے ‘ اللہ سے کیا ہوا عہد ہو یا بندوں سے کئے ہوئے وعدے۔
Ayah 13:21والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل اور وہ لوگ جوڑے رکھتے ہیں ‘ ان تمام چیزوں کو جن کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
مَآ اَمْرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ کے ذیل میں تمام انبیاء اور ساری آسمانی کتابوں پر بغیر تفریق کے ایمان لانا اور تمام مؤمنوں کے ساتھ تعاون و تنظیم اوراقارب سے حسن سلوک کرنا داخل ہے (ان تمام چیزوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک اس جگہ مَآ اَمْرَ اللّٰہُ سے مراد صرف صلۂ رحم ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے فرمایا ہے : میں ہی اللہ ہوں ‘ میں ہی رحمن ہوں۔ میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام (رحمن) سے لفظ رحم کو مشتق کیا۔ جو اس کو جوڑے رکھے گا ‘ میں اس کو (اپنے ساتھ) جوڑے رکھوں گا اور جو اس کو کاٹے گا ‘ اس سے میں قطع تعلق کرلوں گا۔ رواہ ابو داؤد۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ پیدا کرچکا تو رحم نے کھڑے ہو کر رحمن کی کمر پکڑ لی۔ اللہ نے فرمایا : کیا ہے ؟ رحم نے عرض کیا : یہ اس کی جگہ ہے جو قطع تعلق سے تیری پناہ چاہتا ہے۔ اللہ نے فرمایا : کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ جو تجھے جوڑے رکھے گا ‘ میں اسے (اپنے ساتھ ( جوڑے رکھوں گا اور جو تجھے توڑے گا ‘ میں اس سے قطع تعلق کرلوں گا۔ رحم نے عرض کیا : بیشک میں اس پر راضی ہوں ‘ اے میرے رب۔ اللہ نے فرمایا : پس یہ (فیصلہ) تیرے لئے ہے۔ متفق علیہ
بغوی اور حکیم اور محمد بن نصر نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گی : قرآن مجید ‘ امانت ‘ رحم۔ قرآن (بندوں سے یا بندوں کی طرف سے) حجت کرے گا ‘ اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن (1) [ ظاہر و باطن ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ باطن قرآن ظاہر کے مخالف ہے اور کوئی ایسا معنی مراد ہے جو اہل لغت اور علماء امت کی سمجھ میں نہیں آسکتا ‘ صرف آئمہ اور اہل عرفان ہی کی عقل کی رسائی وہاں تک ہوسکتی ہے۔ مثلاً موسیٰ سے مراد باطنی طور پر قلب یا روح ہے اور بنی اسرائیل سے مراد روحانی اور علمی طاقتیں اور فرعون سے مراد نفس امارہ ہے اور قطبیوں سے نفس امارہ کی شہوانی اور غضبی قوتیں۔ یہ حقیقت میں قرآن کی معنوی تحریف ہے بلکہ باطن سے مراد قرآن کا مغز اور روح ہے اور ظاہر سے مراد پوست اور ہیئت۔ مثلاً نماز سے مراد یہی خاص ہیئت کی نماز ہے اور حضور قلب ‘ استغراق ‘ خلوص اس کا باطن ہے۔ زکوٰۃ یہی مقررہ خیرات ہے مگر اس کا باطن غریب پروری اور اہل ضرورت کی معاشی کفالت ‘ حب مال کو دل سے دور کرنا ہے۔] اور رحم ندا کرے گا : خوب سن لو ‘ جس نے مجھے جوڑے رکھا اللہ اس سے تعلق رکھے گا اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے قطع تعلق کرلے گا۔ رواہ البغوی والحکیم ومحمد بن نصر۔
حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہو کہ اللہ اس کے رزق میں وسعت اور عمر میں درازی کرے تو وہ قرابت داروں کو جوڑے رکھے۔ متفق علیہ
حضرت ابو ایوب انصاری راوی ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی فرودگاہ پر سامنے سے آیا اور عرض کیا : مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا : اللہ کی بندگی کر ‘ کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دے ‘ نماز قائم کر ‘ زکوٰۃ ادا کر اور رشتہ داری کو جوڑے رکھ (یعنی قرابت داروں سے اچھا سلوک کر) رواہ البغوی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رشتۂ قرابت کو جوڑنے والا وہ نہیں جو برابر کا بدلہ دے دے ‘ بلکہ قرابت کو جوڑنے والا وہ ہے کہ اگر رشتۂ قرابت (کسی عزیز کی طرف سے) ٹوٹ گیا ہو تو وہ اس کو جوڑے (یعنی جو شخص تجھ سے عزیز داری اور قرابت ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہو یا ختم کرچکا ہو ‘ تو اس سے قرابت پیدا کر اور رشتہ کو جوڑ) رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میری طرف سے حسن سلوک کا کون سب سے زیادہ مستحق ہے ؟ فرمایا : تیری ماں۔ اس نے عرض کیا : اس کے بعد۔ فرمایا : تیری ماں۔ اس نے عرض کیا : اس کے بعد۔ فرمایا : تیری ماں۔ اس نے عرض کیا : اس کے بعد کون ؟ فرمایا : تیرا باپ۔ دوسری روایت میں اتنا زائد ہے کہ تیرا باپ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : پھر تیرے قرابت دار حسب درجۂ قرابت۔ متفق علیہ
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (باپ کے ساتھ یہ بھی) بہت اچھا سلوک اور بِرّ ہے کہ باپ کے منہ پھیرنے (یعنی مرنے) کے بعد اس کے دوستوں سے اچھا سلوک کیا جائے۔ رواہ مسلم
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے اپنے نسب کو جانو تاکہ رشتہ داروں کو جوڑے رکھو۔ صلۂ رحم سے رشتہ داروں میں محبت ‘ مال میں وسعت اور عمر میں برکت ہوتی ہے۔ رواہ الترمذی وقال حدیث غریب۔
ویخشون ربھم اور اپنے رب سے یعنی اس کی وعید سے (بالعموم) ڈرتے ہیں۔
ویخافون سوء الحساب اور (بالخصوص) حساب آخرت کی خرابی سے خوف کھاتے ہیں ‘ اس لئے آخرت کی حساب فہمی سے پہلے وہ خود اپنے نفسوں سے اسی زندگی میں حساب فہمی کرتے ہیں (اور سوچتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا گناہ کئے ہیں ‘ پھر اپنے آپ کو سرزنش کرتے ہیں) ۔
Ayah 13:22والذین صبروا اور جن لوگوں نے صبر کیا۔ یعنی جو احکام ان کو دئیے گئے ہیں ‘ ان پر ثابت قدم رہے (حضرت ابن عباس) یا مصائب اور شدائد پر صابر رہے (عطاء) بعض علماء کے نزدیک صبر سے مراد ہے : نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ صبر سے مراد ہو خواہشات کی مخالفت پر جما رہنا۔ یہ تفسیر تمام اقوال کو جامع ہے۔ (1) [ حاصل اختلاف یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور عطاء کے نزدیک صَبَرُوْا کے بعد علٰی محذوف ہے۔ احکام پر ثابت قدم رہنا یا مصائب پر ‘ دونوں صورتوں میں علٰی (جو صبر کا صلہ ہے) محذوف ہوگا۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک عَنْ (حرف صلہ) محذوف ہے ‘ خواہشات سے یا گناہوں سے اجتناب کرنا۔ حضرت مفسر کی تفسیر زیادہ عام ہے مگر علٰی اس صورت میں بھی محذوف ماننا پڑے گا۔ مترجم ]
ابتغآء وجہ ربھم اپنے رب کی خوشنودی طلب کرنے کیلئے۔ کسی دوسری دنیوی غرض کیلئے نہیں۔ نہ دکھاوٹ اور شہرت کیلئے (نہ مال و جاہ و حکومت کے حصول کیلئے۔ مترجم)
واقاموا الصلوۃ اور نماز قائم کی ‘ یعنی فرض نماز اور سنن و نوافل میں سے اپنی مرضی کے مطابق جس قدر چاہا ‘ نماز پڑھی۔
وانفقوا مما رزقنھم اور جو کچھ (مال) ہم نے ان کو دیا ہے ‘ اس میں سے کچھ بطور زکوٰۃ فرض اور بطور نفقۂ واجب اور بطور صدقۂ نفل راہ خدا میں خرچ کیا (خداداد مال میں سے شرائط مقررہ کے مطابق کچھ مال زکوٰۃ میں ادا کرنا ضروری ہے اور زکوٰۃ کے علاوہ بھی اگر مسلمانوں کو یا اسلام کو ضرورت ہو تو مزید کچھ مال امدادی طور پر دینا لازم ہے۔ اِنَّ فِی الْاَمْوَالِ حَقًّا سوی الزَّکٰوۃ اور کچھ مال بطور خیرات دینا مستحب ہے۔ اَنْفَقُوْا کا لفظ ان تینوں صورتوں کو حاوی ہے ‘ حضرت مفسر کی یہی مراد ہے۔ مترجم) ۔
سرا وعلانیہ چھپا کر اور کھلم کھلا۔ نفل خیرات چھپا کر دینی افضل ہے (تاکہ شہرت طلبی کا شائبہ بھی نہ ہو) اور لوگوں کی بدگمانی کو دور کرنے اور دوسروں کو ترغیب دینے) کیلئے زکوٰۃ کھلم کھلا دینی بہتر ہے۔ مسلمان پر زکوٰۃ کا وجوب بہت کم ہوتا ہے (اوّل تو اتنا مال ہی نہیں ہو پاتا کہ زکوٰۃ واجب ہو اور مال ہوتا بھی ہے تو اس کے اسلام کا تقاضا ہے کہ پہلے ہی سے ادا کر دے) عموماً مسلمان نفل خیر ‘ خیرات کرتا ہی رہتا ہے (اتنی کہ اس پر زکوٰۃ بہت کم ہی واجب ہوتی ہے) اسلئے سرًّا کو علاَنِیَۃً سے پہلے ذکر کیا (ورنہ زکوٰۃ کی ادائیگی دوسری خیرات پر مقدم ہے ‘ اسلئے عَلاَنِیَۃً کا لفظ سرًّا سے پہلے آنا چاہئے تھا) ۔
ویدرء ون بالحسنۃ السیءۃ اور نیکی سے بدی کو دفع کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نیک کام کرکے (کئے ہوئے) برے کاموں کی تلافی کردیتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّءٰات بلاشبہ نیکیاں ‘ گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے پیچھے نیکی بھی کر ‘ یہ اس کو مٹا دے گی۔ رواہ احمد بسند صحیح۔
ابن عساکر نے عمر بن اسود کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دس گناہ تو نے کئے ہوں تو ایک نیکی بھی (ایسی) کر جس سے تو گناہوں کو اتار دے۔
حضرت عقبہ بن عامر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص گناہوں کے بعد نیکیاں کرلیتا ہے ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی اتنی تنگ زرہ پہن رکھی ہو جس سے اس کا دم گھٹ رہا ہو (یعنی اتنے گناہ کئے کہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا) پھر اس نے ایک نیکی کرلی تو (زرہ کی) ایک کڑی ٹوٹ گئی ‘ پھر دوسری کڑی ٹوٹ گئی (اس طرح نیکیاں کرتے کرتے سب کڑیاں ایک کے بعد ایک ٹوٹ گئیں) یہاں تک کہ زرہ زمین پر گر پڑی۔ رواہ الطبرانی۔
ابن کیسان نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ گناہ ‘ توبہ کے ذریعہ سے دفع کردیتے ہیں (یعنی حسنہ سے مراد تو بہ ہے) امام احمد نے عطاء کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تو نے گناہ کیا ہو تو فوراً اس کے بعد توبہ کرلے۔ چھپے گناہ کی توبہ مخفی طور پر اور علانیہ گناہ کی توبہ علانیہ (الزہد) ۔
بعض علماء کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ برائی کے عوض برائی نہیں کرتے بلکہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ سدی نے کہا : مطلب یہ ہے کہ جب ان کے خلاف کوئی جہالت کرتا ہے تو (جہالت کا جواب وہ جہالت سے نہیں دیتے) وہ تحمل کرتے ہیں۔ سئیہ سے مراد ہے : جہالت اور حسنہ سے مراد ہے : تحمل۔ قتادہ نے کہا : جب کوئی ان سے برائی کرتا ہے تو وہ لوٹا کر اس سے بھلائی کرتے ہیں ‘ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : وَاِذَا خاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوا سلاَمًا۔
حسن نے کہا : جب ان کو محروم رکھا جائے تب بھی (محروم رکھنے والوں کو وہ محروم نہیں رکھتے بلکہ) وہ دیتے ہیں ‘ ان پر ظلم کیا جاتا تو معاف کردیتے ہیں ‘ اگر ان سے قطع قرابت کیا جائے تو وہ پھر بھی قرابت کو جوڑتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قرابت توڑتے ہیں ‘ میں ان سے بھلائی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں ‘ ان (کی زیادتیوں) کو برداشت کرتا ہوں اور وہ مجھ پر زیادتیاں کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر تم ایسے ہی ہو جیسا کہہ رہے ہو تو تم ان پر خاک جھونک رہے ہو (یعنی ان کو ناکام بنا رہے ہو۔ وہ خسارے میں رہیں گے اور تم کامیاب ہو گے) جب تک تم اس (سلوک) پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے ان کے مقابلہ میں تمہاری حمایت ہوتی رہے گی۔ رواہ مسلم۔
عبدا اللہ ابن مبارک نے فرمایا : یہ (مذکورۂ بالا) آٹھ خصائل ہیں جو جنت کے آٹھ دروازوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں (ہر خصلت جنت کے ایک دروازے کی طرف رہنمائی کر رہی ہے) ۔
اولئک لھم عقبی الدار اس جہان میں نیک انجام ان لوگوں کے واسطے ہے۔ عقبیٰ کسی کام کا بدلہ۔ اَعًقَبَہٗ اس کا بدلہ دیا (قاموس) کام کے پیچھے اس کا بدلہ (نتیجہ) آتا ہے ‘ اس کو عقبیٰ کہا جاتا ہے (خواہ اچھا بدلہ ہو یا برا) لیکن (عرف عام میں) عقبۃ عقبیٰ اور عاقب اچھی جزاء یعنی ثواب کیلئے خاص کرلیا گیا ہے اور عقوبت مُعَاقَبَۃ اور عقاب کا اطلاق عذاب اور برے بدلہ پر ہی ہوتا ہے۔ ثواب کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : خَیْرٌ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ عُقْبًا۔ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ- نِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ- وَالْعَاقِبَۃُ لِّلْمُتَّقِیْنَ اور عذاب کے بارے میں فرمایا ہے : فَحَقَّ عِقَابِ- شَدِیْدُ الْعِقَاب۔ وَاِنْ عَاقِبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ- مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ۔ لیکن لفظ عاقبت اگر مضاف ہو تو عقوبت کے معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں ‘ جیسے ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ اَسآأُوا السُّوٰٓی یا فَکَانَ عَاقِبَتُھُمَا اَنَّھُمَا فِی النَّارِ ۔ عاقبت بمعنی عقوبت یا تو بطور استعارہ مستعمل ہے یا بطور اشتراک (یعنی لفظ عاقبت دونوں معنی میں مشترک ہے ‘ اچھا انجام اور برا انجام) ۔
حقیقت میں آخرت ہی قرار گاہ ہے ‘ اسلئے الدار سے مراد آخرت ہے۔ دنیا تو گذرگاہ ہے ‘ قرار گاہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورۂ بالا اشخاص کیلئے دار آخرت میں اچھا نتیجہ اور ثواب ہوگا) ۔
Ayah 13:23جنت عدن یعنی قیام اور رہنے کے باغ۔ عدن کا معنی ہے : قیام کرنا۔ (1) [ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ممبر پر آیت : جَنَّاتُ عَدْنٍ تلاوت فرمائی ‘ پھر فرمایا : لوگو ! تم کو معلوم ہے کہ جَنَّاتُ عَدْنٍ کیا ہیں ؟ عَدْنٍ : جنت میں قصر ہے جس کے دس ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار فراخ چشم حوریں متعین ہیں۔ اس قصر میں سوائے نبی ‘ صدیق اور شہید کے اور کوئی داخل نہ ہوگا (از مفسر (رح) )]
یدخلونھا من صلح من ابآء ھم وازوجھم وذریتھم جن میں وہ لوگ بھی داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولادوں میں سے جو (جنت کے) لائق ہوں گے ‘ وہ بھی داخل ہوں گے۔
صلاح سے صرف ایمان مراد ہے ‘ کامل (عملی) درستی مراد نہیں۔ معطوف اور معطوف علیہ میں مغایرت ہونی چاہئے۔ ہاں الْحِقْنِیْ با الصَّالِحِیْن میں کامل صلاح والے مراد ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کاملوں کی عزت افزائی کرے گا اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے لوگوں کو بھی ان کے مرتبے پر فائز کر دے گا جو اپنے اعمال کے لحاظ سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں گے اور کاملین کے اعمال کی طرح ان کے اعمال نہ ہوں گے۔ آباؤ اجداد ‘ اولاد اور بیویاں خواہ اہل جنت کے درجات پر فائز ہونے کے اہل نہ ہوں مگر جنتیوں کی خوشی کی خاطر ان کو بھی اہل جنت کا ساتھی کردیا جائے گا ‘ بشرطیکہ وہ مؤمن ہوں۔ صالح (یعنی مؤمن) ہونے کی شرط بتارہی ہے کہ بغیر ایمان کے قرابت نسب مفید نہ ہوگی۔ ٰابَآء کے اندر بدلالت نص مائیں بھی داخل ہیں۔
ایک شبہ : طبرانی ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت عمر کی روایت سے صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے حضرت ابن عباس و حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میرے نسب اور رشتۂ زوجیت کے علاوہ ہر نسبت اور رشتۂ زوجیت ٹوٹ جائے گا۔ ابن عساکر نے صحیح سند سے حضرت ابن عمر کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث مذکورہ نقل کی ہے : ہر نسب اور رشتۂ زوجیت علاوہ میرے نسب اور رشتۂ زوجیت کے منقطع ہوجائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت (نسبی و سسرالی) کے علاوہ اور کسی کی قرابت کام نہ آئے گی (اور آیت میں مؤمنوں کیلئے ان کی قرابت و زوجیت کا سودمند ہونا مذکور ہے) ۔
حل : تمام مؤمن رسول اللہ ﷺ کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : النَّبِیُّ اَوْلٰی بالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَازْوَاجُہٗٓ اُمَّھَاتُھُمْ ۔ حضرت ابی کی قراءت میں اتنا لفظ اس کے بعد زیادہ ہے : وَھُوَ اَبٌ لَھُمْ (رسول اللہ ﷺ مؤمنوں کے باپ ہیں) ۔
ایک اور آیت میں آیا ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ۔ سورة کوثر کی تفسیر میں ہم نے ذکر کردیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق عاص بن وائل نے لوگوں سے کہا : اس کو چھوڑ دو ‘ یہ تو دم بریدہ ہے ‘ اس کے پیچھے اس کی نسل نہیں ہے۔ اس پر اللہ نے نازل فرمایا : اِنَّ شَانئکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ آپ کا دشمن ہی حقیقت میں دم بریدہ ہے ‘ اسی کی نسل نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ عاص بن وائل کے بیٹے عمر اور ہشام تھے مگر عمر و ہشام مسلمان ہوگئے اور اس سے عاص کا ان سے کوئی رشتۂ والدیت قائم نہیں رہا اور عاص کو لاولد کہہ دیا گیا۔ عمر و ہشام ‘ عاص کے وارث بھی انقطاع رشتہ کی وجہ سے نہ قرار پائے ‘ بلکہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی اولاد ہوگئے۔ اس توضیح کی روشنی میں حدیث مذکور کا مطلب یہ ہوگا کہ قیامت کے دن میرا رشتہ اور نسب سود مند ہوگا ‘ اور سب رشتے منقطع ہوجائیں گے۔ میرا نسب و رشتہ براہ راست ہو یا بالواسطہ ‘ حاصل مطلب یہ کہ کافروں کا کافروں سے یا کافروں کا مؤمنوں سے رشتۂ قرابت و زوجیت منقطع ہوجائے گا اور مؤمنوں کا باہمی رشتہ سود مند ہوگا۔ اسی مضمون کو اللہ نے آیت : اَلْاَ خلاّآءُ یَوْمَءِذِم بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ الاَّ الْمُتَّقِیْنَ الخ میں بیان فرمایا ہے۔
والملئکۃ یدخلون علیھم من کل باب اور جنت (یا محلات جنت کے ہر دروازے سے یا تحائف و ہدایا کی پیشکش کے) ہر دروازے سے ملائکہ ان کے پاس داخل ہوں گے۔ مقاتل نے کہا : روزانہ ‘ یعنی ہر رات دن میں تین بار فرشتے ان کو تحفے اور ہدیے پیش کریں گے اور رات دن کی یہ مقدار دنیوی شب و روز کے برابر ہوگی۔
Ayah 13:24سلم علیکم (اور کہیں گے :) تم پر سلامتی ہو۔ یعنی جن تکالیف کا تم کو ڈر رہتا تھا ‘ اب اللہ نے ان سے تم کو بچا لیا اور لازوال نعمتیں عطا فرما دیں۔
بما صبرتم تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے۔ یعنی گناہوں سے بچ کر ‘ نفسانی خواہشات کو روک کر ‘ طاعت پر قائم رہنے اور مصائب کو برداشت کرنے کی وجہ سے تم کو یہ ثواب ملا ہے۔
فنعم عقبے الدار سو اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے۔
حضرت ابو امامہ کا بیان ہے کہ جنت کے اندر اپنی مسند (مسہری) پر مؤمن راحت اندوز ہوں گا ‘ خادموں کی دو قطاریں اس کے سامنے ہوں گی ‘ دونوں قطاروں کے سرے پر ایک بند دروازہ ہوگا ‘ دروازے پر فرشتہ اندر آنے کا طلبگار ہوگا۔ مؤمن اپنے قریبی خادم سے اور وہ خادم اپنے برابر والے خادم سے اور یونہی سلسلہ وار ہر خادم اپنے متصل خادم سے کہے گا کہ فرشتہ دروازہ پر خواستگار اجازت ہے۔ یہاں تک کہ آخری خادم جو دروازہ سے متصل ہوگا ‘ وہ دروازہ کھول دے گا۔ فرشتہ اندر آکر سلام کرے گا اور واپس چلا جائے گا۔ رواہ البغوی
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر سب سے پہلے وہ فقراء و مہاجرین داخل ہوں گے جن کے ذریعہ سے سرحدوں کی بندش ہوتی ہے اور مصائب سے بچاؤ ہوتا ہے۔ غریب دل کی خواہش دل ہی میں لے کر مرجاتے ہیں ‘ ان کی حاجت پوری نہیں ہوتی۔ اللہ اپنی مشیّت کے مطابق فرشتوں سے فرمائے گا : ان کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کرو۔ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے مالک ! ہم تیرے آسمان کے رہنے والے اور تیری مخلوق میں سب سے برگزیدہ ہیں ‘ کیا تو ہم کو حکم دے رہا ہے کہ ان کو جا کر سلام کریں ؟ اللہ فرمائے گا : یہ میرے بندے میری عبادت کرتے تھے ‘ کسی چیز کو میرا شریک نہیں قرار دیتے تھے ‘ انہی کے ذریعہ سے اسلامی سرحدوں کی بندش ہوتی تھی اور انہی کے سبب مصائب سے بچاؤ ہوتا تھا۔ یہ ایسی حالت میں مرے کہ ان کی تمنا ان کے دلوں میں ہی رہی (دنیا میں) ان کی حاجت پوری نہیں ہوئی۔ حسب الحکم ملائکہ ان کے پاس آئیں گے (ا اللہ نے فرمایا ہے) یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔
Ayah 13:25والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ اور جو لوگ اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔
یعنی پختہ اقرار اور قبول کرنے کے بعد پھر اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل اور جس چیز کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ‘ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ یعنی بعض کتابوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے ‘ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفرقہ کرتے ہیں (ا اللہ کو مانتے ہیں اور رسول کو نہیں مانتے) اور رشتہ داریاں منقطع کرتے ہیں۔
ویفسدون فی الارض اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی نافرمانیاں کرتے ہیں ‘ کھتیاں تباہ کرتے اور نسل (یعنی انسانوں اور مویشیوں) کو ہلاک کرتے ہیں ‘ راستے لوٹتے ہیں اور ناحق بغاوت و ظلم کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آخرت میں جو سزا رکھی گئی ہے ‘ اس کے باوجود دنیا میں جس گناہ کی سزا اللہ کی طرف سے جلد ملنے کا استحقاق ہوجاتا ہے ‘ وہ بغاوت اور قطع رحم ہے (اس سے زیادہ جلد عذاب دنیاکو لانے والا اور کوئی گناہ نہیں) رواہ احمد والبخاری فی الادب وابو داؤد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم وابن حبان۔ حضرت جبیر بن مطعم راوی ہیں میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے ہیں : رحم کو کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ متفق علیہ
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ راوی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا : ان لوگوں پر اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی جن میں قرابت رحم کو کاٹنے والا موجود ہو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (احسان کر کے) احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ نہ ماں باپ کا نافرمان ‘ نہ ہمیشہ مخمور رہنے والا (نشہ کا خوگر) رواہ النسائی والدارمی۔
اولئک لھم اللعنۃ ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی۔ لعنت سے مراد ہے : اللہ کی رحمت سے دور رہنا۔
ولھم سوء الدار اور ان کیلئے اس جہان میں خرابی ہوگی۔ یعنی دار آخرت میں ان کیلئے بری سزا ہے۔ بری سزا سے مراد ہے : جہنم کی آگ۔
Ayah 13:26اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر اللہ ہی جس کا چاہتا ہے ‘ رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے ‘ تنگ کرتا ہے۔
وفرحوا بالحیوۃ الدنیا اور (اہل مکہ) دنیوی زندگی پر پھولے ہوئے ہیں۔ فَرِحُوْا مغرور ہیں ‘ اتراتے ہیں۔
یعنی دنیا میں اللہ نے جو ان کو رزق کی کشائش عطا فرما دی ہے ‘ اس پر مغرور ہیں ‘ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الامتاع اور آخرت (کے مقابلہ) میں دنیوی زندگی صرف ایک حقیر متاع ہے جو ہمیشہ رہنے والی نہیں ‘ جیسے مسافر کا زاد راہ اور چرواہے کی وقتی غذا۔ دنیوی عیش و راحت قابل بھروسہ نہیں ‘ آخرت کی فلاح و آسائش کے مقابلہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ دنیوی سرمایہ کی وسعت ناقابل افتخار ہے۔ اگر اس کو نعیم آخرت کے حصول کیلئے صرف کیا جائے تو بہتر ہے ‘ ورنہ مستحق نفرت۔
Ayah 13:27ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایق من ربہ (کھلے معجزات) اور واضح نشانات نبوت دیکھنے کے باوجود محض عناد اور سرتابی کے زیر اثر (من مانے) معجزات و نشانات کے یہ کافر طلبگار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں : محمد ﷺ پر کوئی (ایسی) نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی (جو ان کی صداقت کی شہادت دیتی) ۔
قل اللہ اللہ یضل من یشاء آپ کہہ دیجئے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ گمراہ کردیتا ہے۔ یعنی نزول آیات اور قیام معجزات میں کوئی کمی نہیں مگر (گمراہی اور ہدایت اللہ کے قبضہ میں ہے) آیات و معجزات کا کام (راہنمائی ہے) ہدایت بخشی نہیں (ہدایت بخش تو اللہ ہے) ہدایت و گمراہی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت یابی کی توفیق نہیں دیتا اور تم جیسے لوگوں کا شمار مؤخر الذکر گروہ میں ہے ‘ اسلئے ہر معجزے کے ظہور کے بعد بھی تم ہدایت یاب نہیں ہوسکتے۔
ویھدی الیہ من اناب اور جو شخص اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ‘ اس کی ہدایت کردیتا ہے۔ یعنی اپنی اطاعت ایمان اور مراتب قرب کے حصول اور جنت کی طرف ان لوگوں کو ہدایت کرتا ہے جن کے دل کا رخ اپنی طرف موڑنا چاہتا ہے۔ پس جس کی توجہ کو وہ اپنی طرف پھیر دیتا ہے ‘ وہ عناد چھوڑ کر اللہ کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایسا آدمی نازل شدہ معجزات بلکہ ان سے بھی ادنیٰ معجزہ اور ضعیف ترین نشان دیکھ کر ہی ایمان لے آتا ہے (مزید فرمائشی معجزات کے ظہور کا طلبگار ہی نہیں ہوتا) ۔
Ayah 13:28الذین امنوا (ا اللہ کی طرف رجوع کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو ایمان لے آئے۔
وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ اور ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں ایمان و یقین جم جاتا ہے ‘ ہر طرح کا شک زائل ہوجاتا ہے۔ ذکر سے مراد ہے : قرآن مجید اور اطمینان سے مراد ہے : ایمان ‘ کیونکہ ایمان دلوں کا سکون ہے اور نفاق دلوں کی بےچینی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی یاد سے شیطانی وسوسے زائل ہوجاتے ہیں (اس مطلب پر ذکر سے مراد ہوگی اللہ کی یاد ‘ صرف قرآن مراد نہ ہوگا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر آدمی کے دل کے دو خانے ہوتے ہیں : ایک خانہ میں فرشتہ (کا ظہور) ہوتا ہے اور دوسرے خانہ میں شیطان (کا ظہور) جب آدمی اللہ کی یاد کرتا ہے تو شیطان پیچھے کو سمٹ جاتا ہے اور اللہ کی یاد نہیں کرتا تو شیطان اپنی چونچ آدمی کے دل کے اندر رکھ دیتا ہے ‘ اس طرح وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن عبد اللہ بن شقیق ورواہ البخاری تعلیفاً عن ابن عباس مرفوعاً ۔ حضرت ابن عباس کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : آدمی کے دل پر شیطان مالش کرتا ہے۔ جب آدمی اللہ کی یاد کرتا ہے تو شیطان پیچھے کو سکڑ جاتا ہے اور جب اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈال دیتا ہے۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ اہل ایمان کے پاک و صاف دلوں کی روزی اللہ کی یاد ہے ‘ اللہ کی یاد سے ان کو چین اور سکھ ملتا ہے جیسے مچھلیوں کو پانی میں ‘ پرندوں کو ہوا میں اور وحشی جانوروں کو جنگل میں۔ لیکن اگر غفلت آفریں کوئی اندرونی خیال دل میں آجاتا ہے یا اہل غفلت کی صحبت اثر انداز ہوجاتی ہے تو دلوں کا چین جاتا رہتا ہے ‘ بےچینی اور عدم سکون پیدا ہوجاتا ہے جیسے پانی سے باہر مچھلی کو اور خشکی کے جانور کو پانی کے اندر اور وحشی جانوروں کو پنجرے میں اضطراب ہوتا ہے۔
صوفیہ صافیہ کے خادموں کیلئے ان حالات کا مشاہدہ بالکل بدیہی ہے ‘ ہر مرشد برحق کا خدمت گذار ان حالات کو دیکھا کرتا ہے۔ اس مطلب پر الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا سے مراد ہوں گے : پاک باطن ‘ روشن دل صوفیہ۔
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب خوب سن لو ! اللہ کی یاد سے ہی (پاک صاف) دلوں کو چین ملتا ہے۔ بغوی نے اس جگہ ایک شبہ اور اس کا جواب لکھا ہے۔ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ وَجِلَتُ قُلُوْبُھُمْ بس مؤمن وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور اس جگہ ذکر الٰہی کو مؤمن کے قلب کا اطمینان فرمایا گیا ہے۔ ایک حالت میں خوف اور اطمینان ایک دل میں کیسے جمع ہوسکتے ہیں ‘ اس شبہ کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ عذاب کے ذکر کے وقت مؤمن کا دل ڈر جاتا ہے اور ثواب کے وعدہ کے ذکر کے وقت اس کے اندر اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے اللہ کے انصاف اور عذاب سے اور چین پاتا ہے اللہ کے فضل و کرم کے ذکر سے۔ اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ اطمینان و خوف میں باہم تضاد ہے (لیکن ایک حالت میں دونوں کا اجتماع نہیں ہوتا ‘ اطمینان کی حالت جدا ہوتی ہے اور خوف کی جدا) ۔
میرے نزدیک طمانیت اور خوف میں کوئی تضاد نہیں۔ طمانیت انس سے پیدا ہوتی ہے اور انس خوف کی حالت میں بھی ہوتا ہے (بلکہ) خوف وامید بھی ایک حالت میں جمع ہوسکتے ہیں۔ حضرت انس راوی ہیں کہ ایک جوان کے مرنے کے وقت رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا : تجھے (اپنے دل کی) کیفیت) کیا محسوس ہوتی ہے ؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں کا مجھے خوف بھی ہے۔ فرمایا : ایسے موقع پر جس بندہ کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوتی ہیں ‘ اللہ ضرور اس کو اس کی امید کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے اس کو خوف ہوتا ہے ‘ اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔