Ayah 10:101قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو ‘ غور کرو ‘ سوچو ! آسمان اور زمین میں کیسی عجیب نشانیاں ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ ان کی بناوٹ ‘ مربوط رفتار ‘ پہاڑ ‘ ان کی استقامت ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور کائنات نباتی و حیوانی ‘ ان تمام چیزوں کے اندر ایک صانع و قادر ‘ دانا و یگانہ کی قدرت و صنعت جھلک رہی ہے ‘ اس کی ذات کی عظمت اور صفات کے کمال کا ان سے ظہور ہو رہا ہے۔
وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یؤمنون۔ جو قوم (ا اللہ کے علم میں اور اس کی مشیت میں) ایمان لانے والی نہیں ‘ اس کو (علم و یقین پیدا کرنے والی) نشانیوں اور ڈرانے والے (پیغمبروں اور عبرتوں) سے کیا فائدہ۔
ما تُغْی میں لفظ مانافیہ ہے (کوئی فائدہ نہیں) یا استفہام انکاری کیلئے (کیا فائدہ) ۔
النُّذُرُجمع۔ نذیر ‘ ڈرانے والے۔ اس سے مراد ہیں اللہ کے پیغمبر (جو اللہ کی نافرمانی کی سزا سے ڈراتے ہیں) اور دوسری عبرت آفریں چیزیں جیسے بڑھاپا (جو فنا اور موت کا نشان ہے) اور ساتھیوں کی موت (جو انسان کیلئے اپنی موت کا یقین دلانے اور ڈرانے کیلئے کافی ہے) چونکہ ایمان محض عطیۂ خداوندی ہے (اس کی مشیت پر اس کا حصول موقوف ہے) اسلئے فرمایا کہ جو ایمان لانے والے نہیں یعنی اللہ کی مشیت و علم میں ان کا مؤمن ہونا مقدر نہیں ‘ وہ کسی نشانی کو دیکھ کر اور ڈراوا سن کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 10:102فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم پس وہ (یعنی مکہ کے مشرک) انتظار نہیں کر رہے ہیں مگر انہی جیسے واقعات و مصائب کا جو ان سے پہلے گذرے ہوئے کافروں کے ہوئے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس جیسے عذاب الٰہی کا جو قوم نوح و عاد اور ثمود پر آیا تھا۔ عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی۔ اللہ نے فرمایا : وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہِ گویا انسانوں پر جو بھلائی یا تباہی آتی ہے ‘ سب کو ایام کہا جاتا ہے۔
قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم (میری ہلاکت کے) منتظر رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
Ayah 10:103ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔
کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔
ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد ﷺ کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔
Ayah 10:104قل یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی آپ کہہ دیجئے : اے لوگو ! (یعنی اے اہل مکہ) اگر تم میرے دین (کی صحت) میں شک کرتے ہو۔ اہل مکہ کی نظر میں نبوت بہت ہی بعید از فہم چیز تھی لیکن آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے مگر پیدائشی بدبختی کی وجہ سے شک و تردد میں پڑے ہوئے تھے (گویا آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے اور فطری شقاوت ان کے دلوں میں اطمینان پیدا نہیں ہونے دیتی تھی) ۔
فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ پس میں ان (پتھروں کے بتوں) کی پوجا نہیں کرتاجن کی پوجا تم لوگ اللہ کے سوا کرتے ہو۔
ولکن اعبد اللہ الذی یتوفٰکم بلکہ اس اللہ کی پوجا کرتا ہوں جو تمہاری جانیں قبض کرتا ہے۔
یعنی جو تم کو زندگی عطا کرتا ہے ‘ پھر موت دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے (اگرچہ تخلیق موت وحیات دونوں مراد ہیں لیکن) صرف وفات کا ذکر تہدید پیدا کرنے کیلئے فرمایا : فَلاَ اَعْبُدُ ۔ اِنْ کُنْتُمْ کی جزاء نہیں ہے بلکہ جزاء کے قائم مقام ہے۔ سبب کو مسبب کی جگہ قائم کیا ہے۔ کلام کا مغز یہ ہے کہ اگر تم کو میرے دین کی صحت میں شک ہے تو میرے دین پر غور و فکر کر کے اس شک کو دور کر دو ۔ دیکھو ! میں ان پتھروں کو نہیں پوجتا جن کے قبضہ میں نہ نفع ہے نہ ضرر بلکہ اس خدا کو پوجتا ہوں جو خالق ‘ قدرت والا اور نفع و ضرر کا مختار ہے۔
وامرت ان اکون من المؤمنین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان والوں میں سے ہوں (ایماندار رہوں) یعنی عقلی دلائل اور آسمانی کتابوں کا حکم ہے کہ میں ایماندار بنوں اور مؤمن رہوں۔
Ayah 10:105وان اقم وجھک للذین حنیفا ولا تکونن من المشرکین۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس دین (توحید خالص) کی طرف اپنا رخ رکھنا ہر دین سے کٹ کر اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجانا۔ یعنی مجھے ایمان پر رہنے ‘ دینی استقامت رکھنے اور تن دہی کے ساتھ فرائض ادا کرنے اور برائیوں سے باز رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے (گویا اقامت لِلَّذِیْنَ سے مراد ہے تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے پرہیز) یا اقامت وجہ سے مراد ہے نماز کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرنا۔
Ayah 10:106ولا تدع من دون اللہ ما لا ینفعک ولا یضرک اور نہ عبادت کرنا اللہ کے علاوہ۔ ایسی چیزوں کی جو تجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر تو ان کی پوجا کرے) اور نہ تجھے ضرر پہنچا سکتی ہے (اگر تو ان کی پوجا چھوڑ دے) (1) [ یعنی اللہ کے سوا کسی مخلوق کی عبادت نہ کر، پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا، کیونکہ مخلوق نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ] یہ جملہ لاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ پر معطوف ہے اور اس کی تشریح ہے۔
یہ حقیقت ہے اور عقلی و نقلی شہادت سے اس کی تائید ہو رہی ہے کہ انصاف کی نظر سے اگر اس دین اسلام کو دیکھا جائے اور غور و تامل سے کام لیا جائے تو دین کی صحت ثابت ہوجاتی ہے اور دین کے خلاف ہر شک و شبہ خود دور ہوجاتا ہے۔
فان فعلت فانک اذا من الظلمین۔ اور اگر (بالفرض) تو نے ایسا کیا تو بلاشک ایسی حالت میں تو (ا اللہ کی) حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ یعنی اگر تو ایسی چیز کی عبادت کرے گا جو فائدہ بخش بھی نہیں اور ضرر رساں بھی نہیں تو یقیناً ایسی حالت میں تو بیجا حرکت کرنے والا (ظالم) ہوگا کہ اپنی عبادت کا محور ایسی ہستی کو بنائے گا جو محل عبادت نہیں۔
Ayah 10:107وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو وان یردک بخیر فلا راد لفضلہ اور اگر تجھ کو کوئی دکھ چھوا (بھی) دے تو اس کو دور کرنے والا سوائے اس کے اور کوئی نہیں اور اگر وہ تجھ کو کوئی راحت پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹانے والا نہیں۔
مَسٌّ سے مراد ہے پہنچانا۔ ضُرّ بیماری ‘ یا سختی ‘ یا مصیبت۔ فَلاَ کَاشِفَ اس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں (کشفکھولنا ‘ مراد دفع کرنا) خیر دنیا اور آخرت کی بھلائی۔ دکھ یا سکھ سب اللہ کے ارادہ سے ہی ہوتا ہے لیکن اس جگہ ضُرّ کے ساتھ لفظ مس اور خیر کے ساتھ ارادہ کا لفظ استعمال کرنے سے غالباً اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا اصل مقصد خیر پہنچانا ہوتا ہے اور دکھ پہنچانا مقصد اوّل نہیں ہوتا۔ لِفَضْلِہٖ کے لفظ میں بجائے سادہ ضمیر کے لفظ فضل کا اضافہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ جو خیر عطا فرماتا ہے ‘ وہ اپنی مہربانی سے عطا فرماتا ہے ‘ کسی کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
یصیب بہ من یشاء من عبادہ وھو الغفور الرحیم۔ وہ دکھ سکھ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔ یعنی خیر ہو یا شر ‘ سب کچھ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے ‘ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ طاعت کے ساتھ خیر کے طلبگار بنو مگر طاعت پر اعتماد نہ کر بیٹھو اور مغفرت سے ناامید بھی نہ ہو ‘ بلکہ عذاب کا خوف رکھو (اور رحمت کی امید) ابونعیم نے حضرت علی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے اسرائیلی انبیاء میں سے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری امت میں جو طاعت گذار لوگ ہوں ‘ ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ قیامت کے دن حساب کیلئے جب میں بندوں کو کھڑا کروں گا تو جس کو عذاب دینا چاہوں گا (اس کی حساب فہمی خوردہ گیری کے ساتھ کروں گا اور) اس کو عذاب دوں گا اور اپنی امت کے گنہگاروں سے کہہ دو کہ خود اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو (یعنی ناامید نہ ہو) اگر میں چاہوں گا تو بڑے بڑے گناہ معاف کر دوں گا اور مجھے پرواہ بھی نہ ہوگی۔
مذکورۂ بالا آیات نازل فرما کر اللہ نے اپنے سوا دوسروں سے ڈرنے یا امید رکھنے کا راستہ ہی بند کردیا۔
ا اللہ غفور و رحیم ہے ‘ یعنی اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔
Ayah 10:108قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔
فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔
فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ ہوگا) ۔
ومن ضل اور جو (راہ حق سے) بھٹک جائے گا ‘ انکار کرے گا۔
فانما یضل علیھا تو گمراہی کا ضرر اسی کے نفس پر پڑے گا۔
فما انا علیکم بوکیل اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ تمہارے امور کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے کہ تمہاری گمراہی کا مؤاخذہ مجھ سے ہو۔
Ayah 10:109واتبع ما یوحی الیک اور چلو اس پر جو وحی کے ذریعہ تمہارے پاس بھیجا جاتا ہے ‘ یعنی اوامرو نواہی کی پابندی کرو۔
واصبر اور صبر کرو۔ یعنی طاعت پر اور دشمنوں کی طرف سے ایذاء رسانی پر۔
حتی یحکم اللہ یہاں تک کہ اللہ (قتال کا اور کافروں پر جزیہ مقرر کرنے کا) حکم دے دے۔
وھو خیر الحکمین۔ اور وہی سب سے اچھا حاکم ہے ‘ اس کے حکم میں غلطی نہیں ہوسکتی۔ وہ ظاہر و باطن ہر چیز کو ہر طور سے جانتا ہے۔
والحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین
سورۂ یونس کی تفسیر بحمدا اللہ رمضان 120 ھ میں ختم ہوئی __ 6؍ شوال 1201 ھ
(نوٹ) شاید مفسر (رح) ماہ رمضان میں تفسیر سے فارغ ہوئے اور شوال میں یہ تاریخ لکھی۔
(کتبہ وجہہ اللہ رام پور و صححہ مجیب الرحمن الفازیغوری بعونہ الباری)