Ayah 10:74ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم پھر نوح کے بعد ہم نے (مختلف بکثرت) پیغمبروں کو ان کی قوم کے پاس (ہدایت کیلئے) بھیجا۔ یعنی ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔
فجاء وھم بالبینت پس پیغمبر قوم والوں کے پاس کھلے ہوئے واضح دلائل (صداقت) لے کر پہنچے۔
فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل اور بسبب اس کے جس چیز کی تکذیب انہوں نے پہلی بار کی تھی (اس پر اڑے رہے ‘ بعد کو بھی) ایمان نہیں لائے۔
کذلک نطبع علی قلوب المعتدین۔ اسی طرح ہم کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
یعنی جس طرح ہم نے قوم نوح اور نوح کے بعد آنے والے پیغمبروں کی امتوں کے دلوں پر مہر لگا دی تھی (بےمدد چھوڑ دیا تھا) اسی طرح آپ کی امت میں سے جو لوگ حکم خداوندی سے تجاوز کرنے والے ہیں ‘ ان کے دلوں پر بھی مہر لگا دیتے ہیں۔ اور چونکہ وہ خود گمراہی میں غرق ہیں اور خواہشات نفس کو نہیں چھوڑتے ‘ اسلئے ہم بھی ان کو بےمدد چھوڑ دیتے ہیں۔
Ayah 10:75ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ وھٰرون الی فرعون وملاۂ بایتنا پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ (بن عمران) اور (ان کے بھائی) ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ چونکہ اگلی آیت میں قوم فرعون کی سرکشی کا بیان کیا گیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ فرعون کے ساتھ سرداران قوم کا لفظ بھی ذکر کردیا۔
فاستکبروا وکانوا قوما مجرمین۔ پس انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی بات ماننے کو حقیر سمجھا اور مغرور ہوگئے (اسلئے اتباع نہیں کیا) اور وہ جرم کے خوگر تھے ‘ عادی تھے ‘ اسلئے انہوں نے رسالت کے پیام کو حقیر سمجھا اور تردید رسالت کی جرأت کی۔
Ayah 10:76فلماء جاء ھم الحق من عند ما قالوا ان ھذا لسحر مبین پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچ گیا تو کہنے لگے : بلاشبہ یہ (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات) کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی جب فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس دین حق پہنچا اور واضح ‘ ناقابل شک معجزات سے اس کی حقانیت و صداقت کو وہ سمجھ بھی گئے تب بھی ضد اور سرکشی کی وجہ سے انہوں نے نہ مانا اور موسیٰ کے پیش کردہ معجزات کو کھلاہوا جادو قرار دیا اور موسیٰ کو ماہر جادوگر کہا۔
Ayah 10:77قال موسیٰ اتقولون للحق لما جاء کم اسحر ھذا موسیٰ نے کہا : کیا حق جب تمہارے پاس آگیا تو تم اس کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟
یعنی حضررت موسیٰ نے بطور عجب و انکار کہا کہ جس امر کی صداقت و حقانیت اللہ کی طرف سے ہے ‘ تم اس کو سحر کہتے ہو ؟ سحر کی تو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ‘ وہ تو صرف فریب کاری ہوتا ہے۔ یَقُوْلُوْنَ کا مفعول محذوف ہے۔ اَسِحْرٌ مفعول نہیں ہے ‘ یہ الگ جملہ ہے۔
ولا یفلح الساحرون۔ اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ کے کلام کا تتمہ ہے ‘ یعنی یہ جادو نہیں ہے۔ اگر جادو ہوتا تو نابود ہوجاتا اور جادوگروں کے جادو کو تباہ نہ کرسکتا۔ یا یہ فقرہ فرعونیوں کے قول (سحر ھذا) کا تکملہ اور جزء ہے۔ گویا فرعونیوں نے کہا تھا کہ موسیٰ ! کیا تم جادو کا مظاہر کر کے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو ‘ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
Ayah 10:78قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔
Ayah 10:79وقال فرعون ائتونی بکل سحر علیم۔ اور فرعون نے کہا : میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو (بلا کر) لاؤ۔
Ayah 10:80فلما جاء السحرۃ قال لھم موسیٰ القوا ما انتم ملقون۔ پھر (فرعون کے طلب کرنے کے بعد) جب جادوگر (موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں) آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : جو کچھ تم (جادو کی رسیاں وغیرہ) پھینکنے والے ہو ‘ پھینکو۔
Ayah 10:81فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔
ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔
ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔
Ayah 10:82ویحق اللہ الحق بکلمتہ اور اللہ اپنی آیات سے حق کو جما دیتا اور مضبوط کردیتا ہے۔
ولو کرہ المجرمون۔ خواہ مجرموں کو ناگوار ہو۔
Ayah 10:83فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔
الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔
مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔
بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا آرڈر جاری کردیا تھا تو بعض اسرائیلی عورتوں نے اپنے نوزائیدہ بچے قبطی عورتوں کو ویسے ہی دے دیئے۔ ان بچوں نے قبطیوں کے پاس پرورش پائی اور جس روز حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے ‘ اس روز یہی اسرائیلی ایمان لائے تھے (جو نسلاً اسرائیلی تھے اور بظاہر قبطی زادے) ۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ قَوْمِہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم فرعون کے کچھ قلیل آدمی حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ فرعون کی بی بی اور فرعون کا خزانچی اور خزانچی کی بی بی اور فرعون کی بی بی کے بالوں میں کنگھا کرنے والی خادمہ اور مؤمن اٰل فرعون (جس کا تذکرہ سورة یٰسین کی آیت وَجَاءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃٍ رَجُلٌ لَیَّسْغٰی میں آیا ہے) انہی لوگوں میں سے تھے اور یہی چند اہل ایمان آیت میں مراد ہیں (اخرجہ ابن جریر) دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : وہ ستر آدمی مراد ہیں جن کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ یہ لوگ اپنی ننہال کے پیرو ہوگئے تھے۔ فراء نے کہا : ان کو ذریت اسلئے کہا گیا کہ ان کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ جس طرح بعض اہل فارس یمن میں آ بسے تھے ‘ ان کی اولاد کو ابناء فارس کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے باپ دوسرے ملک سے تھے اور مائیں دوسرے ملک سے۔
علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم ڈرتے ڈرتے فرعون اور اپنے حاکموں سے کہ (کہیں ایمان کی اطلاع فرعون کو اگر مل گئی تو) ان کو سخت مصیبت میں ڈال دے گا۔
ملاء ھمکی ضمیر جمع فرعون کی طرف راجع ہے اور اظہار تعظیم کیلئے ہے۔ یا فرعون سے مراد ہیں اس کے متبعین ‘ یعنی فرعونی لوگ۔ جیسے ربیعہ اور مضر سے مراد ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر کی نسل کے قبائل۔ یا ذریت کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ذریعت مؤمنہ کو فرعون اور اپنے قبطی حکام سے ڈر تھا۔ یا قوم کی طرف راجع ہے۔
وان فرعون لعال فی الارض وانہ لمن المسرفین۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ فرعون ملک (مصر) میں اونچا (طاقتور ‘ مغرور) تھا اور (اپنی) حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ کہ باوجود مخلوق اور محتاج ہونے کے ملوکیت سے آگے بڑھ کر ربوبیت کا مدعی بن بیٹھا تھا اور انبیاء زادوں کو باندی غلام بنا رکھا تھا۔
Ayah 10:84وقال موسیٰ یقوم کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین۔ اور موسیٰ نے (جب مؤمنوں کو خوف زدہ دیکھا تو) کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو (فرعون اور اس کے آدمیوں سے مت ڈرو) اگر (ا اللہ کے فیصلہ کو) مانتے ہو اور مخلص ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ کی جزاء محذوف ہے اور اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ کی جزاء فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا ہے۔ ایمان وجوب توکل کا مقتضی ہے ‘ اسلئے تَوَکَّلُوْا کا اٰمَنْتُمْ سے تعلق ہے اور جب تک دلوں میں اخلاص نہ ہو اور اپنی ہستی کو فیصلۂ خداوندی کے سپرد نہ کردیا جائے ‘ اس وقت تک حصول توکل نہیں ہوسکتا۔ توکل نفسانی خواہشات کو احکام الٰہی کے ساتھ مخلوط کرنے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتا۔ توکل صوفیہ کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔
Ayah 10:85فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔
ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتے اور اس کہنے سے ان کا کفر اور ترقی پر ہوجائے۔
Ayah 10:86ونجنا برحمتک من القوم الکٰفرین۔ اور ہم کو ان کافروں کے گروہ سے اپنی رحمت سے نجات عطا کر۔
یعنی ان کی مکاری اور سازش اور نحوست سے نجات دے۔
دعا سے پہلے توکل کا ذکر کرنا بتارہا ہے کہ دعا کرنے والے پر سب سے پہلے اللہ پر بھروسہ رکھنا لازم ہے تاکہ اس کی دعا قبول ہو سکے۔
میں کہتا ہوں : صوفی کیلئے توکل تو ان صفات میں سے ہے جو صوفی کے اندر ہونی لازم ہیں۔ دعاء تو لوازم میں سے نہیں ‘ بیرونی عوارض میں سے ہے (اگر صوفی دعاء کرتا ہے تو بہتر ہے۔ صوفیت کا حال اس کا مقتضی ہے لیکن لازم نہیں ‘ اور توکل صوفی کی لازمی خصوصیت ہے) ۔
Ayah 10:87واوحینا الی موسیٰ واخیہ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کے اور اس کے بھائی (ہارون) کے پاس۔
ان تبوا لقومکما بمعصر بیوتا کہ تم دونوں اپنے لوگوں کے مصر میں گھر مقرر کرلو۔
یعنی کچھ مکان مقرر کرلو کہ سکونت اور عبادت کیلئے تمام مکانوں کو چھوڑ کر مقررہ گھروں کی طرف رجوع کرو۔
بغوی نے لکھا ہے : اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ پہلے بنی اسرائیل صرف گرجوں اور خانقاہوں میں نماز پڑھا کرتے تھے ‘ لیکن حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد فرعون کے حکم سے تمام عبادت خانے ڈھا دئیے گئے اور بنی اسرائیل کو وہاں نماز پڑھنے کی ممانعت ہوگئی تو اللہ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اپنے گھروں کے اندر ہی مسجدیں بنا لو اور وہیں نماز پڑھا کرو۔ ابراہیم نخعی کا یہی قول ہے اور عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو فرعون کی طرف سے ڈر تھا کہ جامع مسجدوں میں نماز پڑھیں گے تو فرعون پکڑوا کر سزا دے گا ‘ اسلئے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ بنی اسرائیل اپنے گھروں میں کعبے کے رخ پر مسجدیں بنا لیں اور چھپ کر وہاں نمازیں پڑھا کریں۔
واجلعوا بیوتکم قبلۃ اور تم سب بنا لو (مقرر کردہ) گھروں کو قبلہ رخ نماز کی جگہ۔ قبلہ سے مراد ہے نماز کی جگہ جو قبلہ رخ ہو ‘ یعنی کعبہ کی چھت پر ہو۔ ابن جریح نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کا قبلۂ عبادت کعبہ تھا۔
واقیموا الصلوۃ اور اس میں نماز قائم کرو۔ تاکہ کفار غلبہ حاصل کر کے ان کو ایذاء نہ پہنچائیں۔
وبشر المؤمنین۔ اور (اے موسیٰ ! ) تم ایمانداروں کو بشارت دے دو ۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے گا اور تم کو ملک میں ان کا جانشین بنا دے گا ‘ اور آخرت میں تم کو جنت عطا فرمائے گا۔ شروع کلام میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ‘ دونوں کو خطاب کیا ‘ پھر ان دونوں کو مع قوم کے مخاطب بنایا کیونکہ دونوں حضرات کی کوشش اور سرداران قوم کے مشورہ سے گھروں کے اندر مسجدیں ہوسکتی تھیں اور چونکہ ہر شخص پر گھروں کے اندر نماز کی جگہ مقرر کرنا اور وہاں ادائے صلوٰۃ کرنا لازم تھا ‘ اسلئے سارے مؤمنوں کو خطاب فرمایا۔ آخر میں صرف حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا کیونکہ آپ ہی صاحب شریعت تھے اور قوم کو بشارت دینا آپ ہی کا فریضہ تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بشر سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔
Ayah 10:88وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے مالک ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش عطا فرمایا ہے۔
زینت سے مراد اسباب زینت ‘ لباس ‘ زیور ‘ فرش فرنیچر ‘ استعمال کا سامان ‘ سواریاں ‘ نوکر چاکر اور خدمتگار وغیرہ۔
واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک اور بہت مال دنیوی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ! (اس کا نتیجہ یہ ہے) کہ وہ تیرے راستے سے بہکا دیں۔
لِیُضِلُّوْا میں لام عاقبت ہے (یعنی وہ لام جو نتیجہ پر داخل ہوتا ہے اور لام سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کا سبب ہوتا ہے) مطلب یہ کہ تیرے دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہ اور گمراہ کن ہوگئے۔ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عُدُوًّا وَّحَزَنًا فرعون کے آدمیوں نے موسیٰ کو پا لیا کہ موسیٰ (نتیجہ میں) ان کے دشمن اور ان کے حزن کا سبب ہوجائیں۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ لام بمعنی کَےْ ہے (تاکہ) یعنی تو نے یہ سارا مال و متاع دے کر ان کو ڈھیل دی ہے تاکہ وہ گمراہی پر جمے رہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ چونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے خداداد مال و متاع اور جاہ و حشم کو گمراہی کا ذریعہ بنا رکھا تھا تو گویا ان کو دیا ہی گیا اسلئے تھا کہ وہ گمراہ ہوجائیں اور دوسروں کو بہکائیں۔ اظہار عجز اور شدت زاری کیلئے رَبَّنَا کو بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا۔
شیخ ابو منصور ماتریدی نے فرمایا کہ اللہ جانتا تھا کہ کافر دوسرے لوگوں کو اللہ کے راستے سے بہکائیں گے ‘ اسلئے ان کو دنیا کا مال و متاع عطا فرما دیا تاکہ وہ اس کے راستے سے لوگوں کو بہکائیں (گویا مال دینے کی غرض ہی یہ تھی کہ وہ گمراہ ہوں اور گمراہ کریں) جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْمًا ہم ان کو ڈھیل دیتے ہیں تاکہ گناہوں میں ترقی کریں۔ اس صورت میں یہ آیت معتزلہ کے مسلک کے خلاف ایک واضح شہادت ہوجائے گی۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ بندوں کیلئے جو امر زیادہ نفع بخش ہو ‘ اس کا کرنا اللہ پر واجب ہے (غیر مفید اور ضرررساں کام اللہ نہیں کرتا ‘ بندہ خود اس کی تخلیق کرتا ہے) ۔
بیضاوی نے لکھا : رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ (الگ جملہ انشائیہ ہے ‘ اس) میں لِیُضِلُّوْا امر کا صیغہ ہے اور کافروں کیلئے بددعا ہے۔
ربنا اطمس علی اموالھم اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو (تباہ کر کے) مٹا دے (مجاہد) ۔ بعض اہل علم نے کہا : طْمَسْ سے مراد ہے صورت مسخ کردینا ‘ ہیئت بگاڑ دینا۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان کا سارا مال ‘ کھیتیاں اور جواہر پتھر بنا دئیے گئے۔ نقوش اور شکل وہی تھی جو اصلی چیزوں کی تھی مگر سب چیزیں پتھر کی ہوگئیں تھیں اور پھٹ کر کسی کے دو اور کسی کے تین ٹکڑے ہوگئے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک تھیلا منگوایا ‘ اس میں فرعون والوں کی کچھ باقی ماندہ چیزیں تھیں۔ انڈا نکالا تو وہ بھی شگافتہ اور اخروٹ نکالا تو وہ بھی پھٹا ہوا اور سب چیزیں پتھر کی۔
سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے سب مال ‘ درخت ‘ پھل ‘ آٹا ‘ کھانا پتھرکا کردیا تھا۔ یہ معجزہ بھی حضرت موسیٰ کے نو معجزات میں سے ایک تھا۔
واشد علی قلوبھم اور ان کے دلوں پر سخت بند باندھ دے۔ یعنی ان کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان پر مہر لگا دے کہ ایمان کیلئے ان میں نرمی ہی پیدا نہ ہو۔ حضرت موسیٰ نے مایوس ہو کر ان کیلئے یہ بددعا کی تھی ‘ ورنہ حضرت موسیٰ کو تو اسلئے بھیجا گیا تھا کہ وہ ایمان کی طرف بلائیں (نہ یہ کہ انکار پر قائم رکھنے کی دعا کریں) ۔
ایک شبہ : جب حضرت موسیٰ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر بددعا کرنا بےسود تھا۔
ازالہ : بددعا کی وجہ شاید یہ ہو کہ ایمان کی فطرت اللہ کے دشمنوں سے اللہ کیلئے نفرت کرتی ہے (اور بغض و نفرت کا تقاضا ہے کہ بددعا کی جائے بشرطیکہ نفرت ذاتی نہ ہو ‘ لوجہ اللہ ہو) یا حضرت موسیٰ کو بددعا کرنے کا حکم دیا گیا ہوگا اور اس کی تعمیل میں آپ نے بددعا کی۔ مثلاً تم یہ جانتے ہو کہ ابلیس پر اللہ کی لعنت ہے ‘ لیکن اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْْہُ عَدُوًّا شیطان تمہارا دشمن ہے ‘ تم اس کو دشمن سمجھو۔ تم اس حکم کی تعمیل میں شیطان پر لعنت کرتے ہو۔
فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ پھر وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ (مرنے کے بعد) دردناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں (سدی) ۔
Ayah 10:89قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔
حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔
فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔
ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔
Ayah 10:90وجاوزنا ببنی اسراء یل البحر اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کرا دیا۔ یعنی عبور کرا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ پانی پھٹ کر ادھر ادھر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم والے (خشک زمین پر چل کر) پار نکل گئے۔
فاتبعھم فرعون و جنودہ بنی اسرائیل کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر بھی جا پہنچا۔ تَبِعَاور اَتْبَعَ جا پہنچا ‘ پیچھے سے چلا اور اگلے لوگوں سے جا کر مل گیا۔ اِتَّبَعَ (باب افتعال) پیروی کی۔ بعض نے کہا : اَتْبَعَ (باب افعال) اور اِتَّبَعَ (باب افتعال) دونوں ہم معنی ہیں۔
بغیًا وعدوا ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے۔
بعض نے کہا : بغی سے مراد ہے قول میں زیادتی اور عدوًاسے مراد ہے فعل میں زیادتی۔ غرض فرعون لشکر کو لے کر جب دریا کے کنارے پہنچا تو اندر گھسنے سے سب کو ڈر لگا مگر (غیب سے انسانی شکل بنا کر) حضرت جبرئیل گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب سے آگے پانی میں گھس پڑے۔ گھوڑی کے پیچھے فوج کے گھوڑے بھی دریا میں داخل ہوگئے۔ جب آخری آدمی تک دریا میں گھس گیا اوّل ترین آدمی نے دوسرے کنارہ سے نکلنے کا ارادہ کرلیا تو یکدم پانی برابر ہوگیا اور سب کے اوپر آگیا۔
حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل وانا من المسلمین۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بولا : مجھے یقین ہوگیا کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں جس کو بنی اسرائیل مانتے ہیں اور میں (اس کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فوراً اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی اور توبہ قبول ہونے سے پہلے وہ مرگیا۔ جب قبول توبہ کا وقت تھا تو بدبخت منہ موڑے رہا اور جب قبول توبہ کا وقت جاتا رہا تو پرزور توبہ کی (جس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا) ۔
Ayah 10:91آلن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ (ا اللہ نے فرمایا :) کیا اب (تجھے یقین ہوا اور تو نے مانا) حالانکہ اس سے پہلے (ساری عمر) تو نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پیدا کرنے والوں میں رہا۔ خود بھی گمراہ رہا اور دوسروں کو بھی ایمان سے بہکاتا رہا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ فرعون کو غرق کرنے لگا (یعنی بحکم خدا فرعون ڈوبنے لگا) تو بولا : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لاآ اِلٰہَ الاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَت بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ ۔ حضرت جبرئیل نے (رسول اللہ ﷺ سے) کہا : محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں سمندر کی کیچڑ ٹھونس رہا تھا کیونکہ مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں اللہ کی رحمت اس کو پہنچ جائے (اور مرنے سے پہلے اس کی توبہ قبول ہوجائے) ۔
فائدہ : جلال الدین دوّانی کا قول ہے کہ فرعون نے چونکہ کلمۂ توحید زندگی میں پڑھ لیا تھا ‘ اسلئے (اس کی توبہ قبول ہوگئی اور) وہ مسلمان مرا۔ دوّانی نے اس قول میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی پیروی کی ہے۔ ابی عربی کا بھی یہی قول ہے کہ فرعون پاک مرا۔
حق یہ ہے کہ شیخ کا قول ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔ آپ کے سکر کی حالت کے بکثرت الفاظ شرع کے مطابق نہیں ہیں۔ شیخ کا فرعون کے متعلق یہ قول بھی اجماع علماء کے خلاف ہے اور صحیح احادیث سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
دوّانی نے کہا : فرعون کا دوزخی ہونا کسی آیت سے ثابت نہیں۔ جس جس آیت میں عذاب دوزخ سے ڈراوا دیا گیا ہے ‘ وہ آل فرعون کو دیا ہے ‘ فرعون کو نہیں دیا گیا۔ دیکھو اللہ نے فرمایا ہے : اَدْخِلُوْا اٰل فِرْعُوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ نَاَوْرَدَھُمْ النَّار فرعون نے اپنے متبعین کو دوزخ میں اتار دیا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرًْعُوْنَ سُوْٓہُ الْعَذَابِآل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کی وجہ سے فرعون کو عذاب نہ ہوگا بلکہ مخلوق پر چونکہ اس نے مظالم کئے تھے ‘ اسلئے اس کو عذاب ہوگا۔ بندوں کے حقوق معاف نہیں کئے جائیں گے۔
میں کہتا ہوں : دوّانی کی یہ دلیل لغو ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَحَشَرَ فَنَادٰی فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمْ الْاَعْلٰی فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی فرعون نے سب کو جمع کر کے کہا : میں تم سب کا رب اعلیٰ ہوں۔ آخر اللہ نے اس کی پکڑ کی اور اس کو دنیا و آخرت میں (یا اگلوں پچھلوں کیلئے) عبرت بنا دیا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفر کی وجہ سے آخرت میں فرعون پر عذاب ہوگا۔ دوسری آیت میں حضرت موسیٰ کی دعا نقل کی ہے : اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاَہٗ الخ۔ اس کے آخر میں فرمایا ہے : قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُما۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کیلئے بددعا کی تھی اور درخواست کی تھی کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو اور یہ دعا قبول کرلی گئی ‘ پس کفر پر اس کا خاتمہ ہوگا۔ اس کا انکار آیت کا انکار ہے۔
Ayah 10:92فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ پس آج کسی اونچے ٹیلہ پر ہم تیرے بدن کو ڈال دیں گے (کہ جسم کو مچھلیاں نہ کھا سکیں اور بدن اپنی شکل کے ساتھ قائم رہے) تاکہ تو اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔ نُنَجِّیْ نجوۃ سے مشتق ہے۔ نجوۃ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ پانی کے جس قعر میں تیری قوم غرق ہوگئی (اور ان کے بدن بھی تہہ نشین ہوگئے) ہم ان کی طرح تیرے جسم کو پانی کے اندر نہیں داخل کریں گے بلکہ پانی کے اوپر ترائیں گے۔ ببدنک یعنی بےجان لاشہ ‘ یا مکمل جسم ‘ یا برہنہ جسم۔ یا ببدنک سے مراد یہ ہے کہ تجھے تیرے کرتہ سمیت ہم اوپر لا پھینکیں گے۔ فرعون کا ایک کرتہ سنہری تاروں کے جواہر سے مرصع مشہور تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کے ہلاک ہوجانے کی اطلاع دی تو ان کو یقین نہیں آیا۔ کہنے لگے : فرعون نہیں مرا ہے۔ ان کا شبہ دور کرنے کیلئے اللہ نے فرعون کی لاش کو ساحل پر لا پھینکا۔ لاش سرخ اور چھوٹی تھی ‘ بیل معلوم ہوتی تھی (یعنی پھول گئی تھی) بنی اسرائیل نے دیکھ کر اس کو پہچان لیا اور حضرت موسیٰ کی اطلاع کی تصدیق کی۔ اٰیَۃً سے مراد ہے عبرت ‘ نصیحت یا ایسی نشانی جس سے اللہ کی توحید (قدرت) اور بندہ کا عجز ثابت ہو رہا ہو ‘ خواہ بندہ بادشاہ ہی ہو۔ بات یہ تھی کہ بنی اسرائیل کے دماغوں میں یہ بات جم چکی تھی کہ فرعون کبھی نہیں مرے گا ‘ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ کی اطلاع کے بعد بھی ان کو فرعون کے مرنے میں شک رہا۔ آخر ساحل پر پڑی ہوئی لاش کو دیکھ کر ان کو یقین ہوا۔ یا مَنْ خَلْفِکَسے مراد ہیں آئندہ زمانہ میں آنے والے لوگ کہ ان کو اس واقعہ کو سن کر عبرت ہوگی اور وہ سرکشی سے باز رہیں گے۔
وان کثیرًا من الناس عن ایتنا لغفلون۔ اور بہت لوگ (یعنی کفار) ہماری نشانیوں کی طرف سے غافل ہیں ‘ غور نہیں کرتے اور عبرت اندوز نہیں ہوتے۔
Ayah 10:93ولقد بوانا بنی اسراء یل مبوا صدق اور ہم نے بنی اسرائیل کو سچائی کی جگہ رہنے کو دی (یعنی اچھے مقام میں ٹھہرنے اور رہنے کا ٹھکانا عطا کیا) مُبَوَّاَ صِدْقٍسے مراد ہے اچھی جگہ ‘ یعنی مصر یا اردن اور فلسطین۔ یہ وہی پاک سرزمین تھی جس کا حضرت ابراہیم اور آپ کی نسل کو عطا کرنا اللہ نے لکھ دیا تھا۔ ضحاک کے نزدیک مصر اور شام مراد ہیں۔
ورزقنھم من الطیبٰت اور ہم نے ان کو لذیذ چیزیں عطا کیں۔
فما اختلفوا پس بنی اسرائیل نے اختلاف نہیں کیا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو بنی اسرائیل تھے ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے نبی آخر الزماں کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا تھا۔ سب متفق تھے کہ جن صفات کا تذکرہ توریت میں ہے ‘ ان کا حامل اللہ کا رسول برحق ہوگا۔ لوگوں کو وہ بشارت بھی دیتے تھے کہ اللہ کے رسول برحق کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ لڑائی میں کافروں پر فتحیاب ہونے کی دعا بھی نبی آخر الزماں کے طفیل سے مانگتے تھے۔
حتی جاء ھم العلم یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یعنی وہ شخص آگیا جس کی صفات کو وہ جانتے تھے۔ اس سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت مبارکہ۔ اس جگہ علم بمعنی معلوم ہے ‘ جیسے خلق بمعنی مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ جب بنی اسرائیل کو علم ہوگیا کہ محمد ﷺ انہی صفات کے حامل ہیں جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور آپ کے معجزات سے بھی ان کو واقفیت ہوگئی تو اس وقت آپس میں دو فریق بن گئے۔ کچھ ایمان لے ائے اور دوسرے فریق نے محض عناد و حسد کی وجہ سے نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔
ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون۔ جس مسئلہ میں یہ اختلاف کرتے ہیں قیامت کے دن اللہ اس کا فیصلہ کر دے گا اور ان کے باہمی اختلاف کو چکا دے گا۔ اہل حق کو اہل باطل سے الگ کر دے گا۔ اوّل کو عذاب سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے کو ہلاک کر دے گا۔
Ayah 10:94فان کنت فی شک مما انزلنا الیک پس (اے انسان ! ) اگر تجھے شک ہو اس (قرآن و ہدایت) میں جو ہم نے (اپنے رسول محمد ﷺ کی زبانی) تیری طرف بھیجا ہے۔ (1) [ حضرت مفسر نے کنت کا مخاطب ہر انسان کو اس لئے قرار دیا کہ رسول اللہ ﷺ کو تو کوئی شک ہی نہ تھا۔ آپ کے پاس وحی آئی ‘ قرآن اترا ‘ احکام خداوندی نازل ہوئے۔ آپ کو اپنی جگہ ناقابل شک یقین اور ایسا ایمان تھا جس میں کسی وہم کی گنجائش نہ تھی ‘ پھر اہل کتاب سے تصدیق طلب کرنے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ ہاں جاہل مشرک کے پاس اگر عقلی اور وجدانی شہادت نہ ہو تو وہ اہل علم سے تصدیق طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے ‘ اسلئے عام انسان کو خطاب فرمایا۔]
فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے (ا اللہ کی) کتاب (توریت و انجیل) پڑھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور ضحاک نے فرمایا کہ اہل کتاب سے مراد ہیں وہ اہل کتاب جو ایمان لے آئے تھے ‘ جیسے عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی۔ یعنی ایمان دار اہل کتاب سے پوچھ لے ‘ وہ شہادت دیں گے کہ جس کتاب (ورسول) کا وعدہ توریت و انجیل میں کیا گیا تھا ‘ وہ یہی ہے۔ بیان قصص اور اصول احکام کی تعلیم میں سابق کتابوں کے موافق ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سچے ایماندار اور اندرون قلب سے انکار و تکذیب کرنے والے۔ یہ دو گروہ تو موجود ہی تھے ‘ ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو تصدیق و تکذیب کے درمیان شک میں پڑا ہوا تھا ‘ اسی کو آیت میں خطاب ہے۔
آیت میں درپردہ تعلیم ہے اس بات کی کہ اگر کسی کو دین کی صداقت میں کوئی شک و شبہ پیدا ہوجائے تو اس کو علماء حق کی طرف رجوع کر کے پوچھنا چاہئے۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک کُنْتَ سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ کو شک ہو ‘ یا اس کلام سے مقصود ہے رسول اللہ ﷺ کو ایمان پر جمائے رکھنا۔ اس قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو عبدالرزاق اور ابن جریر نے بیان کی ہے کہ قتادہ نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ (اس آیت کے نزول کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے نہ کوئی شک ہے نہ میں (شک دور کرنے کیلئے) کسی سے کچھ پوچھوں گا۔
بعض علماء نے کہا : خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے مگر روئے خطاب دوسرے لوگوں کی طرف ہے۔ عرب کا (بلکہ ہر زبان والوں کا) قاعدہ ہی یہ ہے کہ گفتگو میں مخاطب کسی شخص خاص کو کرتے ہیں مگر مراد اس شخص کی ذات نہیں ہوتی ‘ دوسرے لوگ مراد ہوتے ہیں۔ مختلف آیات میں یہ طرز خطاب اختیار کیا گیا ہے۔ ایک آیت ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیِّ اتَّقَ اللّٰہَ اے نبی ! اللہ سے ڈر۔ آیت میں مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں مگر مراد خطاب دوسرے مؤمن ہیں کیونکہ اس کے آگے آیا ہے : اِنَّ اللہ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاتم لوگ جو کچھ کرتے ہو ‘ اللہ اس سے باخبر ہے۔ اس آیت میں تعملون فرمایا ‘ یعنی جماعت کو خطاب کیا۔ دوسری آیت ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ اے نبی ! جب تم طلاق دو عورتوں کو (خطاب نبی ﷺ کو ہے اور حکم مؤمنوں کو دیا گیا ہے اور طلقتم جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے) ۔
فراء نے کہا : اللہ کو معلوم تھا کہ اس کے رسول کو شک نہیں ہے لیکن عرب محاورہ کے مطابق طرز کلام اختیار کیا گیا۔ بعض لوگ اپنے غلام سے کہتے ہیں : اگر تو میرا غلام ہے تو میرے حکم کی تعمیل کر۔ اگر تو میرا لڑکا ہے تو یہ کام کر (ظاہر ہے کہ حکم دینے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ غلام کو اپنے غلام ہونے میں اور بیٹے کو بیٹا ہونے میں کوئی شک نہیں ہوتا ‘ پھر بھی اگر کا لفظ بولتا ہے ‘ مگر یہ لفظ شکیہ نہیں ہوتا۔
لقد جاءک الحق من ربک بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آپہنچی۔ یعنی جو کچھ ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے ‘ وہ حق ہے ناقابل شک۔ روشن دلائل اور قطعی آیات سے اس کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا ثابت ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
فلا تکونن من الممترین پس آپ شک میں پڑجانے والوں میں نہ ہوجائیں کہ جو یقین آپ کو حاصل ہے ‘ اس میں تذبذب پیدا کرلیں اور تردد میں پڑجائیں۔
Ayah 10:95ولا تکونن من الذین کذبوا بایت اللہ فتکون من الخسرین۔ اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی ورنہ آپ تباہ ہوجانے والوں (کی جماعت میں) سے ہوجائیں گے۔
اس آیت میں بھی گزشتہ آیت کی طرح یا شک کرنے والوں کو خطاب ہے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کو مگر مراد دوسرے لوگ ہیں ‘ یا رسول اللہ ﷺ کو ہی خطاب ہے مگر وجہ خطاب بالفرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر تکذیب آیات کریں گے تو خاسرین میں سے ہوجائیں گے۔ یا خطاب کا مقصود ہے رسول اللہ ﷺ کو مزید ثبات کا حکم دینا کہ اپنے یقین پر جمے رہیں ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فَلاَ تَکُوْنَنَّ ظَھِیْرًا لِّلْکَافِرِیْنَ (یعنی کافروں کا مددگار نہ بننے پر آپ جمے رہیں) ۔
Ayah 10:96ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایؤمنون۔ بیشک جن لوگوں کیلئے آپ کے رب کا حکم (فیصلہ ازلی) طے ہوچکا (ہ ہ ایمان نہیں لائیں گے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
حَقَّتْ واجب ہوگیا۔ کلمۂ رب سے مراد ہے ازلی فیصلہ کہ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مالک ‘ ترمذی اور ابو داؤد نے مسلم بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب سے آیت وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ وَذُرِّیَّتَھُمْ کا معنی دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا : میں نے خود سنا کہ جب اس آیت کا (مرادی اور تشریحی) معنی رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر ان کی کچھ نسل باہر نکالی اور فرمایا : ان کو میں نے جنت کیلئے پیدا کیا اور یہ جنت والوں ہی کے کام کریں گے ‘ پھر پشت پر ہاتھ پھیر کر کچھ نسل برآمد کی اور فرمایا : ان کو میں نے دوزخ کیلئے پیدا کیا اور یہ دوزخیوں ہی کے کام کریں گے۔ امام احمد نے بوساطت ابو نصرہ ‘ حضرت ابو عبد اللہ صحابی کا بیان نقل کیا ہے ‘ ابوعبدا اللہ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک مٹھی لی اور دوسرے ہاتھ کی دوسری مٹھی (اوّل کے متعلق فرمایا :) یہ اس کیلئے ہے ‘ یعنی جنت کیلئے اور یہ اس کیلئے ہے ‘ یعنی دوزخ کیلئے اور مجھے (کسی کی پرواہ نہیں۔
ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ کا فیصلہ ناقابل شکست ہے۔
Ayah 10:97ولوجاء تھم کل ایۃ اگرچہ آجائے ان کے پاس ہر نشانی۔ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہو اور ایمان کی مقتضی ہو ‘ کیونکہ ایمان کا اصلی سبب تو اللہ کا ارادہ ہے اور مشیت ایمان نہیں تو پھر ایمان کیسے لاسکتے ہیں۔
حتی یروا العذاب الیم۔ جب تک کہ دردناک عذاب (آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ‘ یا مرنے کے بعد قبروں میں ‘ یا قیامت کے دن دوزخ میں اور یہ اوقات ایسے ہیں کہ ان میں ایمان لانا فرعون کیلئے سودمند نہ ہوا۔
Ayah 10:98فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور ایسی بستی کیوں نہیں ہوئی کہ (مشاہدۂ عذاب کے بعد) وہ ایمان لائی ہو اور ایمان اس کیلئے مفید ہوا ہو۔ قریہ سے مراد ہیں قریہ والے ‘ یعنی ان بستیوں والے جن کو اللہ نے (تکذیب رسول کی سزا میں) تباہ کردیا۔ اٰمَنَتْ یعنی عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آئی ہو اور فرعون کی طرح وقت موت پر ایمان کو نہ ٹالا ہو۔ ایمان کے مفید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا ایمان قبول کرلیا ہو (اور آیا ہوا عذاب ٹال دیا ہو) ۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ لگنے لگے۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم والبیہقی۔
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ بلاشک اپنے بندہ کی مغفرت کردیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑجائے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پردہ کیا۔ فرمایا : شرک کی حالت میں مرنا۔ رواہ احمد والبیہقی فی کتاب البعث والنشور
لَوْلا حرف تحضیض (ابھارنا ‘ برانگیختہ کرنا) ہے۔ اس کے اندر نفی کا معنی ہے ‘ اسلئے الاَّ قَوْمَ یُوْنُسَاستثناء متصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوم یونس مستثنیٰ ہے۔ وہ عذاب (دنیوی) کا مشاہدہ کرنے کے وقت ایمان لائی اور اس کو اس ایمان نے فائدہ پہنچایا (ا اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی) آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوگئی (لیکن قوم یونس غرغرہ کی حالت سے پہلے اور عذاب آخرت کے معائنہ سے قبل ایمان لائی تھی) ۔
لما امنوا جب وہ ایمان لے آئے ‘ یعنی اختیار کی حالت میں جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ جب وہ ایمان لے آئے تو انھوں نے دعا کی :
کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا اور ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے دور کردیا۔
ومتعنھم الی حین۔ اور ایک (معین مقرر) وقت تک (دنیا میں) ان کو بہرہ اندوز کردیا۔ مقرر وقت سے مراد وقت موت جس کا علم اللہ کو تھا۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ عذاب کا مشاہدہ کرلینے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس حالت میں اس کے ایمان نے اس کو فائدہ پہنچایا ہو ‘ سوائے قوم یونس کے۔ ان کو ایسے وقت میں ایمان لانے سے بھی فائدہ ہوا۔
اس جگہ علماء کے دو قول ہیں : ایک فریق کا قول ہے کہ قوم یونس نے عذاب کو آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد ایمان لائے تھے۔ دوسرا فریق قائل ہے کہ عذاب کی علامت دیکھی تھی ‘ عذاب نہیں دیکھا تھا۔ اول قول اکثر اہل علم کا ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِاور عذاب کو دور کرنا وقوع کے بعد ہی ہوتا ہے۔
بغوی کے اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ دنیوی عذاب آجانے کی حالت (جس کو بغوی نے حالت بأس کہا ہے) میں کسی کا ایمان قابل قبول نہیں۔ حالت بأس میں ایمان صرف قوم یونس کا قبول کیا گیا ‘ اس کے علاوہ کسی کا قبول نہیں کیا گیا۔
صحیح یہ ہے کہ آیت میں عذاب الیم سے وہ اخروی عذاب مراد ہے جو مرنے کے وقت ملائکۂ موت کی شکل میں مردہ کے سامنے آجاتا ہے۔ اس عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان لاناقابل قبول نہیں (دنیوی عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا قابل قبول ہے) دیکھو ! بدر کے دن کافروں پر قتل و قید کی شکل میں دنیوی عذاب آیا اور اس جنگ سے جو کفار بچ گئے اور بعد کو ایمان لے آئے تو ان کا ایمان قبول بھی کیا گیا۔ قوم یونس کا بھی یہی حال ہوا۔ آخرت کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے وہ لوگ ایمان لے آئے باوجودیکہ دنیوی عذاب انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا تھا اور دیکھنے کے بعد ایمان لائے تھے ‘ پھر بھی ان کا ایمان مقبول ہوا اور دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب اللہ نے ان سے دور کردیا۔
رہا فرعون کے ایمان کا قبول نہ ہونا ‘ اس کی وجہ یا یہ تھی کہ وہ مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ایمان لایا تھا جو ناقابل قبول ہے ‘ یا یہ سبب تھا کہ زبان سے اس نے اگرچہ ایمان کا اظہار کیا تھا مگر (ا اللہ کو معلوم تھا کہ وہ) دل سے ایمان نہیں لایا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس کیلئے بددعا کی تھی اور آپ کی بددعا قبول ہوئی تھی ‘ اسلئے فرعون دل سے ایمان لانے والا ہی نہ تھا۔ فرعون اور اس کی قوم کی عادت ہی ہوگئی تھی کہ جب ان پر کوئی عذاب پڑجاتا تھا تو کہتے تھے : موسیٰ ! اپنے رب سے اس عذاب کو ٹال دینے کی دعا کر دو ۔ اگر عذاب تم نے دور کرا دیا تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دے دیں گے۔ لیکن جب اللہ عذاب کو ایک مدت مقرر کیلئے دور کردیتا تھا تو وہ عہد توڑ دیتے تھے اور وعدہ کے خلاف کرتے تھے۔ پس ممکن ہے کہ آخری مرتبہ بھی فرعون دل سے ایمان نہ لایا ہو ‘ صرف زبان سے اقرار کرلیا ہو۔
غرغرہ کی حالت میں ایمان قبول ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ سورة النساء کی آیت اِنَّمَا التَّوبَتَہ علی اللّٰہ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَھَالَۃٍ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصّہ
بغوی نے حضرت ابن مسعود اور حضرت سعید بن جبیر اور وہب بن منبہ وغیرہ کی روایات سے حسب ذیل بیان کیا ہے۔
قوم یونس نینوا علاقۂ موصل کی رہنے والی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کیلئے حضرت یونس کو مامور فرمایا۔ حضرت یونس نے ان کو ایمان کی دعوت دی مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ کی طرف سے حضرت یونس کو حکم دیا گیا : ان سے کہہ دو کہ تین روز تک صبح کے وقت ان پر عذاب آئے گا۔ حضرت یونس نے اطلاع دے دی۔ قوم والوں نے کہا : تجربہ سے ثابت ہے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولا ‘ اسلئے انتظار کرو اور دیکھو ! اگر یہ آج رات تمہارے ساتھ رہے تو سمجھ لو صبح کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر رات کو تمہارے ساتھ نہ رہے تو سمجھ لو کہ صبح ........... کو عذاب ضرور آئے گا۔ وسط شب میں حضرت یونس قوم کے پاس سے باہر چلے گئے۔ صبح ہوئی تو لوگوں کے سروں سے ایک میل اوپر عذاب آگیا۔ وہب کا بیان ہے : عذاب ایک سیاہ گھٹا کی شکل میں سخت دھواں اڑاتا آگیا ‘ پھر نیچے اتر کر شہر پر چھا گیا جس سے گھروں کی چھتیں کالی ہوگئیں۔ یہ دیکھ کر لوگوں کو ہلاک ہوجانے کا یقین ہوگیا۔ حضرت یونس کو تلاش کیا تو ان کا بھی کہیں پتہ نہ چلا۔ آخر اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ کرنے کا خیال ڈال دیا اور بڑے ‘ بچے ‘ عورت ‘ مرد اور چوپائے سب شہر کے باہر میدان میں جمع ہوگئے۔ سبھوں نے کمبل کا (فقیرانہ) لباس پہن لیا اور لگے توبہ کرنے اور صحیح نیت کے ساتھ ایمان کا اظہار کرنے۔ ہر ماں کو بچے سے علیحدہ کردیا گیا تھا یہاں تک کہ چوپایوں کے بچے بھی ماؤں سے جدا کر دئیے گئے تھے۔ اس علیحدگی کی وجہ سے آدمیوں اور جانوروں کے بچوں نے چیخنا شروع کردیا ‘ مائیں بھی (جذبۂ محبت کے زیر اثر) چیخنے لگیں (ایک کہرام مچ گیا) بیتابی سے سب چیخ پڑے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے۔ آخر اللہ نے رحم فرمایا ‘ دعا قبول فرمائی اور چھایا ہوا عذاب دور کردیا۔ یہ واقعہ 10؍محرم کا تھا۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے قتادہ کا بیان نقل کیا ‘ قتادہ نے کہا : ہم سے کہا گیا کہ قوم یونس مقام نینوا علاقۂ موصل میں رہتی تھی۔ اس بیان میں اتنا زائد ہے کہ جب اللہ نے ان کے دلوں کی سچائی مشاہدہ فرما لی اور توبہ و ندامت جان لی تو عذاب دور کردیا حالانکہ عذاب ان کے سروں پر لٹک آیا تھا ‘ صرف ایک میل کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے حضرت علی کا بیان نقل کیا ہے کہ قوم یونس کی توبہ عاشورہ کے دن قبول ہوئی تھی۔ حضرت یونس قوم کی بستی سے باہر چلے گئے اور عذاب نازل ہونے اور قوم کے ہلاک ہونے کا انتظار کرتے رہے ‘ لیکن جب آپ نے عذاب آتا نہ دیکھا (اس زمانہ کا قومی ضابطہ تھا کہ) اگر کوئی شخص بلاثبوت جھوٹ بولتا تھا تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا۔ حضرت یونس نے کہا : میں نے قوم سے جھوٹی بات کہی (یعنی میرا جھوٹ ثابت ہوگیا) اب کیسے ان کے پاس لوٹ کر جاسکتا ہوں۔ یہ خیال کر کے قوم سے ناراض اور اپنے رب سے کشیدہ ہو کر چل دئیے۔ دریا پر پہنچے تو کچھ لوگ کشتی میں سوار ہو رہے تھے۔ لوگوں نے پہچان لیا اور بلا کرایہ سوار کرلیا۔ کشتی جب آپ کو لے کر بیچ سمندر میں پہنچی تو رک گئی ‘ نہ آگے بڑھ سکتی تھی نہ پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ کشتی والوں نے کہا : کشتی کے اڑ جانے کی کوئی خاص وجہ ہے۔ حضرت یونس نے کہا : مجھے اس کی وجہ معلوم ہے ‘ اس میں کوئی بڑا گناہگار سوار ہے۔ لوگوں نے کہا : وہ کون ہے ؟ حضرت یونس نے کہا : میں ہوں ‘ مجھے دریا میں پھینک دو ۔ لوگوں نے کہا : جب تک ہمارے نزدیک کوئی خاص وجہ نہ ہو ‘ ہم تو آپ کو پھینکنے والے نہیں۔ آخر قرعہ اندازی کی اور تین بار حضرت یونس ہی کا نام قرعہ میں نکلا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یا تو تم مجھے پانی میں پھینک دو ورنہ سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ مجبوراً کشتی والوں نے آپ کو پھینک دیا۔ پھینکتے ہی کشتی روانہ ہوگئی۔ کشتی کے نچلے حصہ کے پاس ایک مچھلی منہ کھولے اللہ کے حکم کی منتظر تھی۔ جونہی حضرت یونس پانی میں گرے ‘ مچھلی نے اپنے منہ میں لے لیا۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا ‘ اس نے کشتی کی طرف رخ کیا۔ کشتی والوں نے جو اس کو منہ کھولے ہوئے کشتی کی طرف رخ کئے ہوئے دیکھا جو بڑے پہاڑ جیسی تھی تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ کشتی کے اندر کسی کی جستجو کر رہی ہے۔ حضرت یونس نے یہ دیکھتے ہی پانی میں چھلانگ لگا دی (اور مچھلی نے ان کو پکڑ لیا) ۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور بحر روم پر پہنچے۔ وہاں ایک کشتی مسافروں سے بھری کھڑی تھی۔ آپ اس میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی روانہ ہو کر وسط میں پہنچی تو رک کر کھڑی ہوگئی۔ قریب تھا کہ سب لوگ ڈوب جائیں ‘ ملاح بولے : ہماری کشتی میں کوئی گناہگار آدمی یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کشتی اڑ گئی ہے۔ ہمارا طریقہ ہے کہ ایسے موقع پر قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ جس کے نام پر قرعہ نکل آتا ہے ‘ اس کو سمندر میں پھینک دیتے ہیں (کشتی چل نکلتی ہے) ایک آدمی کو ڈبو دینا تو پوری کشتی کے مع سواریوں کے ڈوب جانے سے بہتر ہوتا ہے۔ چناچہ لوگوں نے تین بار قرعہ ڈالا ‘ ہر بار حضرت یونس کے نام پر نکلا۔ حضرت یونس فوراً کھڑے ہوئے اور بولے : میں ہی گناہگار آدمی اور بھاگا ہوا غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ نے خود اپنے کو پانی میں پھینک دیا۔ فوراً ایک مچھلی نے نگل لیا ‘ پھر اس مچھلی سے بڑی مچھلی نے آکر اس مچھلی کو نگل لیا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس کو بال برابر تکلیف نہ ہونے پائے۔ میں نے تیرے پیٹ کو اس کیلئے قید خانہ بنایا ہے ‘ اس کو تیری غذا نہیں بنایا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ مچھلی کو ندا دی گئی کہ ہم نے یونس کو تیری روزی نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کی حفاظت کا مقام اور عبادت خانہ بنایا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ قرعہ ڈالنے سے پہلے ہی حضرت یونس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں ہی گنہگار ‘ بھاگا ہوا غلام ہوں۔ کشتی والوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ فرمایا : یونس بن متی۔ لوگ پہچان گئے اور بولے : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کو نہیں پھینکیں گے بلکہ قرعہ اندازی کریں گے۔ قرعہ اندازی کی گئی اور حضرت یونس کے نام کا قرعہ نکل آیا اور آپ نے خود اپنے آپ کو پانی میں پھینک دیا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جس مچھلی نے آپ کو نگلا تھا ‘ وہ آپ کو ساتویں زمین کی گہرائی میں لے گئی اور چالیس رات تک آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ وہاں آپ نے سنگریزوں کے تسبیح کرنے کی آواز سنی تو تاریکیوں میں ہی پکار اٹھے : لاَ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحْانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور بحکم خداوندی مچھلی نے لا کر آپ کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔ اس وقت آپ کی ہیئت ایسی تھی جیسے پرو بال نوچا ہو اچوزہ۔ اللہ نے فوراً کدو کا درخت پیدا کردیا جس کے سایہ میں آپ نے آرام لیا اور ایک پہاڑی بکری یا پاڑی کو مامور کردیا ‘ آپ اس کا دودھ پیتے رہے۔ جب درخت سوکھ گیا تو آپ درخت پر رو دئیے۔ اللہ نے وحی بھیجی : تو ایک درخت کے خشک ہوجانے پر تو رو دیا اور ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں پر نہیں رویا اور ان کو ہلاک کروا دینا چاہا۔ یہاں سے حضرت یونس چل دئیے اور ایک غلام سے ملاقات ہوئی جو جانور چرا رہا تھا ‘ اس سے پوچھا : غلام ! تو کون ہے ؟ اس نے کہا : یونس کی قوم کا ہوں۔ حضرت نے فرمایا : جب تو اپنی قوم والوں سے جا کر ملے تو ان سے کہہ دینا کہ میری ملاقات یونس سے ہوئی تھی۔ غلام نے کہا : آپ واقف ہیں کہ اگر میرے پاس گواہ نہ ہوں گے تو (مجھے جھوٹی اطلاع دینے پر) قتل کردیا جائے گا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یہ زمین کا ٹکڑا اور یہ درخت تیری گواہی دے گا۔ غلام نے کہا : تو شہادت دینے کا ان کو حکم دے دیجئے۔ حضرت یونس نے فرمایا : جب یہ غلام تمہارے پاس آئے تو تم دونوں اس کی گواہی دینا۔ زمین اور درخت نے کہا : بہت اچھا۔ اس غلام نے جا کر اپنے بادشاہ کو اطلاع دے دی کہ حضرت یونس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ بادشاہ نے غلام کو قتل کردینے کا حکم دے دیا۔ غلام نے کہا : میرے پاس (اس بات کی سچائی کے) گواہ ہیں ‘ میرے ساتھ کسی کو بھیجو۔ غرض غلام لوگوں کو ساتھ لے کر اس جگہ اور اس درخت کے پاس پہنچا اور کہا : میں تم دونوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت یونس نے تم دونوں کو گواہ بنایا تھا ؟ دونوں نے کہا : ہاں۔ یہ سنتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر لوٹ آئے اور بادشاہ سے آکر کہہ دیا کہ درخت اور زمین نے اس غلام کی گواہی دی۔ بادشاہ نے غلام کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنی جگہ بٹھا دیا اور کہا : تو اس جگہ کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے۔ غلام نے ان لوگوں کا انتظام چالیس سال تک کیا۔
Ayah 10:99ولو شاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا اور (اے محمد ﷺ ! ) اگر اپ کے رب کو منظور ہوتا تو زمین پر رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے ‘ کوئی بغیر ایمان لائے نہ بچتا اور کوئی ایمان سے اختلاف نہ کرتا۔ سب ایمان پر متفق ہوجاتے۔
فرقۂ قدریہ قائل ہے کہ اللہ تو سب لوگوں کا مؤمن ہوجانا چاہتا ہے لیکن لوگ خود اپنے اختیار سے ایمان لانا نہیں چاہتے (اس فرقہ کے نزدیک مشیت اور رضا میں فرق نہیں ہے۔ چاہنے کا معنی ہے پسند کرنا۔ اُشَاعِرَہ کہتے ہیں کہ اللہ کو ایمان تو سب کا پسند ہے مگر مشیت نہیں کہ سب مؤمن ہوجائیں۔ رضائے الٰہی سے تخلف تو ہوسکتا ہے مگر مشیت سے تخلف نہیں ہوسکتا۔ قدریہ کے نزدیک جو رضا ہے وہی مشیت رضا عام ہے ‘ مشیت بھی عام ہے ‘ رضا کے خلاف ہونا ممکن ہے اور ہوتا ہے۔ مشیت کے خلاف بھی ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے) آیت بتارہی ہے کہ اللہ نے سب لوگوں کو مؤمن بنانا چاہا ہی نہیں ‘ اگر اس کی مشیت ہوتی تو سب مؤمن ہوجاتے (ہاں سب کا مؤمن ہوجانا اس کو پسند ہے) قدریہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں مشیت سے مراد ہے مجبور کن مشیت اور مجبور کن مشیت الٰہی کے خلاف ہونا ممکن نہیں (پس اللہ کی مجبور کن مشیت نہیں ہوتی کہ سب مؤمن ہوجائیں ‘ مگر یہ زائد شرط خلاف ظاہر ہے۔
افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین۔ (اے محمد ﷺ ! ) کیا آپ لوگوں کو اللہ کی مشیت نہ ہونے کے باوجود مجبور کردیں گے کہ وہ مؤمن ہوجائیں __ استفہام انکاری ہے اور اَنْتَ ضمیر کا تُکْرِہُفعل سے پہلے لانا دلالت کر رہا ہے کہ اس امر پر کہ اللہ نے نہ چاہے تو کسی چیز کا وجود ناممکن ہے۔ جبر کر کے بھی اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ‘ ترغیب دے کر حاصل کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ خواہشمند تھے کہ سب لوگ مؤمن ہوجائیں ... (حالانکہ) آپ کا کام صرف ترغیب دینا تھا ‘ جبر کرنے کا تو اختیار ہی نہ تھا اور جو کام جبر سے بھی پورا نہ ہو سکے وہ محض ترغیب سے کیسے پورا ہوسکتا ہے) پس اللہ نے بتادیا کہ جس کے نصیب میں سعادت ہوگی ‘ وہی ایمان لائے گا اور جو اللہ کے علم میں شقی ہے ‘ وہ ایمان نہیں لاسکتا ‘ آپ اس کی کچھ پرواہ نہ کیجئے۔ گویا اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کیلئے تسکین ہے۔
Ayah 10:100وما کان لنفس ان تؤمن الا باذن اللہ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے ارادہ و توفیق کے بغیر ایمان لاسکے۔
ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ اور اللہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔ رجس سے مراد ہے عذاب یا اللہ کی مدد سے محرومی ‘ کیونکہ یہ محرومی ہی عذاب کا سبب ہے۔ نہ سمجھنے سے مراد ہے حق و باطل میں تمیز نہ کرنا ‘ یعنی کافروں کے دلوں پر چونکہ مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ نہیں چاہتا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں ‘ اسلئے ان کو حق کا باطل سے امتیاز نہیں۔