10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں

قل لا املک لنفسی ضرًا ولا نفعًا الا ما شآء اللہ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی جان کے نفع نقصان کا بھی مالک نہیں ‘ سوائے اتنی مقدار کے جتنی مقدار کا (مالک بنانا) اللہ نے چاہا۔ یعنی ضرر کو دفع کرنے اور نفع و حاصل کرنے کی مجھے قدرت نہیں۔ صرف اتنی قدرت ہے جتنی اللہ نے دینی چاہی۔ یا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ مجھے اپنے نفع و ضرر پر قدرت نہیں۔ لکل امۃ اجل (ا اللہ کے علم میں) ہر امت کی ہلاکت کی ایک میعاد مقرر ہے۔ اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃً ولا یستقدمون۔ سو جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ اَجَلُھُمْ یعنی عذاب دینے کا مقرر وقت۔ سَاعَۃً ذرا سی دیر۔ مرادیہ ہے کہ عذاب آنے کی جلدی نہ مچاؤ ‘ عنقریب اس کا وقت آجائے گا اور وعدہ پورا ہوجائے گا۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتًا او نھارًا ما ذا یستعجل منہ المجرمون۔ آپ پوچھئے : یہ تو بتاؤ ‘ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات میں آپڑے (جبکہ تم نیند میں مشغول ہو) یا دن کو (جب تم کاروبار میں مصروف ہوتے ہو) تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔ مَا ذَا میں استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ عذاب جیسی ناگوار چیز کو جلد طلب کر رہے ہیں۔ ناگوار چیز کی عاجلانہ طلب تو نامناسب ہے۔ اِنْ اَتٰکُمْ کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر رات کو یا دن کو عذاب آجائے گا تو اس وقت تم کو عجلت طلبی پر ندامت ہوگی اور اپنی غلطی جان لو گے۔ بغوی نے لکھا ہے : کفار عذاب جلد آجانے کے طلبگار تھے۔ ایک شخص نے کہا تھا : اے اللہ ! اگر یہ حق ہے ‘ تیری طرف سے ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لے آ۔ اللہ اس کے جواب میں فرما رہا ہے : یہ کون سے عذاب کے آنے کی جلدی مچا رہے ہیں ‘ عذاب تو ہر ایک کیلئے ناگواری کی چیز ہے۔ میں کہتا ہوں : مَا ذَا یَسْتَعْجِلُالخ شرط کی جزاء ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آگیا تو اس وقت کس چیز کی طلب میں عجلت کرو گے ‘ کیا اسی قسم کا دوسرے عذاب مانگو گے اور عذاب میں رہنا پسند کرو گے یا رہائی کے طلبگار ہو گے ؟ ظاہر ہے کہ عذاب کے خواستگار نہ ہو گے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے

اثم اذا ما وقع امنتم بہ کیا پھر جب وہ مطلوبہ عذاب آجائے گا تو (پشیمان ہو گے اور) عذاب پر یا عذاب کی خبردینے والے پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم پر عذاب آجائے گا تو کیا اس وقت بھی عذاب کی جلدی مچاؤ گے ‘ پھر اس وقت عذاب کو یا عذاب کی خبر دینے والے کو مانو گے جبکہ ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آلن (آخرت کا عذاب دینے کے بعد یا موت کے گھنگھرو بولنے کے وقت جب تم ایمان لاؤ گے تو اس وقت تم سے کہا جائے گا) کیا اب (تم ایمان لائے ‘ ایسے وقت میں تو ایمان بےسود ہے) ۔ وقد کنتم بہ تستعجلون۔ حالانکہ (تکذیب و استہزاء کے طور پر) تم عذاب کے جلد آجانے کے خواستگار تھے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے

ثم قیل للذین ظلموا ذوقوا عذاب الخلد ھل تجزون الا بما کنتم تکسبون۔ پھر ظالموں (مشرکوں) سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے ہی کئے کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

ویستنبؤک احق ھو وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (یعنی توحید ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ قیامت اور عذاب وثواب) حق ہے (یا بےحقیقت ‘ محض مذاق) ۔ قل اي وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین۔ آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ‘ اپنے رب کی قسم ! بلاشک و شبہ وہ حق ہے اور تم ہرا نہیں سکتے (یعنی اس کے آنے کو اور اس کی صداقت کو روک نہیں سکتے) مطلب یہ کہ تم اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔ عَجَزَ عَنِ الشَّیْءِ وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ‘ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا

ولو ان لکل نفس ظلمت ما فی الارض لافتدت بہ اور (بالفرض) اگر ہر مشرک شخص کو (قیامت کے دن) وہ تمام (دفینے ‘ خزانے) مل جائیں جو زمین میں ہیں تو وہ عذاب سے رہا ہونے اور بچنے کیلئے سب کچھ دے دے گا۔ مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں زمین کے خزانے اور تمام مرغوبات ارضی۔ افتداء اور فداء کا ایک ہی معنی ہے : عذاب سے بچنے کیلئے عوض دے دینا (ہر چیز کو قربان کردینا) ظلم سے مراد ہے شرک یا دوسرے شخص پر زیادتی۔ واسروا الندامۃ لما اوا العذاب اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو (دلوں میں) پوشیدہ طور پر پشیمان ہوں گے۔ ابوعبیدہ نے کہا : اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ سے مراد یہ ہے کہ اس وقت ندامت کو ظاہر کریں گے کیونکہ قیامت کا دن بناوٹ اور مصنوعی اظہار صبر کا نہ ہوگا ( تکلیف اتنی سخت ہوگی کہ جھوٹے صبر اور مصنوعی برداشت کو کوئی ظاہر نہ کرسکے گا) بعض علماء نے کہا : اَسَرُّوا کا معنی یہی ہے کہ وہ ندامت کو چھپائیں گے ‘ یعنی بالادست سرداران اپنے زیر اثر کمزور تابعین سے اپنی ندامت کو چھپائیں گے تاکہ ان کی وجہ سے گمراہ ہونے والے ان کو ملامت نہ کریں۔ بعض علماء نے کہا کہ اخفائے ندامت سے مراد ہے بول نہ سکنا۔ غیر متوقع اور بےگمان عذاب جب سامنے آئے گا تو انتہائی تحیر میں بول بھی نہ سکیں گے۔ بعض علماء نے کہا : کسی چیز کے خلاصہ کو سِر کہا جاتا ہے۔ راز کی طرح خلاصۂ شی قابل اخفاء و حفاظت ہوتا ہے ‘ پس اسرار کا معنی اس جگہ ہے خالص ندامت کرنا۔ وقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا ‘ ظلم نہیں کیا جائے گا کہ بلاقصور عذاب دیا جائے۔ مطلب یہ کہ ظالموں کو مظلوموں پر ظلم کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ اوّل قُضِیَ سے انبیاء اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کرنا مراد ہے اور اس جگہ قُضِیَسے مراد ہے مشرکوں کو شرک کی سزا دینا اور مظلوموں کو ظالموں سے ظلم کا بدلہ دلوانا ‘ یعنی ظالموں کو عذاب دینا۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

الا ان اللہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ اللہ ہی کا ہے۔ اسلئے وہ ثواب و عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (کائنات ارضی و سماوی میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں) ۔ الا ان وعد اللہ حق خوب سمجھ لو کہ (ثواب و عذاب کا) اللہ کی طرف سے کیا ہوا وعدہ برحق ہے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ‘ عذاب وثواب ضرور ہوگا۔ ولکن اکثرھم لا یعلمون لیکن (دانش و فہم کی کوتاہی کی وجہ سے) اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔ صرف ظاہری دنیا کو جانتے ہیں۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

ھو یحی ویمیت وہی (دنیا میں) جلاتا اور موت دیتا ہے۔ پس آخرت میں وہ زندہ کرسکتا ہے اور مار سکتا ہے۔ نہ اس کی قدرت میں زوال ہوسکتا ہے ‘ نہ موت وحیات کو قبول کرنے والا بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون اور (مرنے کے بعد قبروں سے اٹھ کر) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے

یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان نصیحت آگئی ہے ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کی زبانی قرآن مجید تم کو پہنچ گیا۔ قرآن پیام بیداری ہے اور ایک یادداشت ہے جو اچھی باتوں کی دعوت دے رہا ہے اور بری باتوں سے بازداشت کر رہا ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اللہ حکیم ہے ‘ جس کام کو کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ یقیناً اچھا ہے اور اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور جس کام سے روک رہا ہے وہ یقیناً برا ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوگا۔ اچھا کام قابل رغبت اور برا کام قابل نفرت ہوتا ہے۔ وشفاء لما فی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء بخش دوا ہے۔ امراض قلبی سے مراد ہیں غلط عقائد اور اللہ کے سوا دوسری چیزوں سے دلوں کا لگاؤ اور وابستگی۔ ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے سینہ کا دکھ ہے۔ فرمایا : قرآن پڑھا کرو۔ اللہ نے (قرآن کے متعلق) فرمایا ہے : وَشَفَآءٌ لِّمَا فِی الصَّدُوْرِلا 5 اس حدیث کی شاہد واثلہ بن اسقع کی روایت بھی ہے جس کو بیہقی نے شعب الایمان میں بیان کیا ہے۔ وھدی اور رہنما ہے۔ صحیح عقائد و افکار کا ‘ جنت کا اور اللہ کے قرب کے درجات کا راستہ بتاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (قیامت کے دن) قرآن پڑھنے والوں سے کہا جائے گا : پڑھ اور چڑھتا چلا جا اور جس طرح دنیا میں ترتیل کرتا تھا ‘ اسی طرح ترتیل کر کیونکہ تیرا درجہ وہاں ہے جہاں تک تو آخری آیت پڑھنے پر پہنچے گا۔ رواہ احمد والترمذی وابو داؤد والنسائی عن عبد اللہ بن عمرو ورحمۃ للمؤمنین۔ اور ایمان والوں کیلئے یہ اللہ کی طرف سے رحمت ہے۔ ایمان والے ہی اس سے فائدہ اٹھانے والے اور اس کو پڑھ کر اور اس کی تعلیم پر چل کر اللہ کی رحمت سے بہرہ اندوز ہونے والے ہیں۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

قل بفضل اللہ وبرحمتہ اے محمد ﷺ ! آپ (ا اللہ کے شکر ادا کرنے کے طور پر) کہیں کہ اللہ کے فضل و رحمت سے (یہ نصیحت ‘ شفاء ‘ ہدایت اور رحمت خدا ہم کو ملی ہے ‘ ہمارے استحقاق کو اس میں کوئی دخل نہیں) ۔ فبذلک فلیفرحوا پس (ا اللہ کے اس فضل و کرم اور حصول قرآن سے) ان کو خوش ہونا چاہئے۔ بِذٰلِکَ کی تقدیم اشارہ کر رہی ہے اس بات کی طرف کہ خوشی کی چیز قرآن اور اللہ کا فضل و کرم ہی ہے ‘ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی راحت و نعمت موجب فرح نہیں ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے مراد قرآن کا نزول ہی ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت قرآن۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو اہل قرآن بنایا۔ ابو الشیخ وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کو خوش ہونا چاہئے اللہ کے فضل سے یعنی قرآن سے اور اللہ کی رحمت سے ‘ یعنی اس بات سے کہ اللہ نے ان کو اہل قرآن میں سے بنایا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کو ہمارے دلوں میں محبوب بنا دیا۔ حضرت خالد بن معدان نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت رسول اللہ ﷺ کی سنت۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت سنت۔ ھو خیر مما یجمعون۔ وہ (یعنی قرآن کا نزول یا اللہ کا فضل و رحمت) اس (دنیوی متاع حقیر) سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو

قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حرامًا وحللاً (اے محمد ﷺ ! ) آپ (مکہ کے کافروں سے) کہہ دیجئے کہ یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدہ کیلئے جو رزق اتارا تھا ‘ سو تم نے (ازخود) اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حصہ حلال قرار دے لیا۔ اَنْزَلَاتارا ‘ یعنی پیدا کیا۔ تخلیق کو اتارنا فرمایا کیونکہ ان چیزوں کی تخلیق بالائی ذریعہ یعنی بارش سے ہوتی ہے اور بارش اوپر ہی سے اترتی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ تخلیق کائنات سے پہلے اللہ نے پیدا کی جانے والی چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ اب تحریر لوح کے مطابق تخلیق رزق ہوتی ہے ‘ گویا رزق لوح محفوظ سے اترتا ہے۔ رزق سے مراد ہے کھیتی یا مویشی دودھ والے۔ لَکُمْ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں تمہارے لئے حلال بنائی تھیں مگر تم نے (ازخود) ان میں سے کسی کو حلال بنا لیا اور کسی کو حرام۔ کافروں نے کہا تھا : ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ یہ چوپائے ہیں اور کھیتیاں ہیں جو ممنوع ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا : مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ان جانوروں کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے وہ مردوں کیلئے خصوصیت کے ساتھ حلال ہے ‘ عورتوں کیلئے حرام ہے۔ انہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام (مختلف اقسام کے سانڈوں) کو بھی حرام قرار دے رکھا تھا۔ قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون۔ آپ ان سے پوچھئے کہ کیا (اس حرام حلال بنانے کی) اللہ نے تم کو اجازت دی ہے (کہ اس کے حکم سے ایسا کر رہے ہو) یا اللہ پر تم دروغ بندی کر رہے ہو کہ اس خود ساختہ تحلیل و تحریم کی نسبت اللہ کی طرف کر رہے ہو۔ مراد یہ ہے کہ اللہ نے تم کو اس کی اجازت نہیں دی۔ تم خود اللہ پر تہمت تراشی کر رہے ہو اور جھوٹ کہہ رہے ہو کہ اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ اور جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کر رہے ہیں ‘ ان کا خیال قیامت کے دن (کے سلسلہ) میں کیا ہے ‘ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ قیامت کے دن ان کو اس دروغ بندی کی سزا نہیں دی جائے گی ؟ نہیں ! ایسا ضرور ہوگا۔ لفظ ما میں وعید کا ابہام بتارہا ہے کہ اللہ کی طرف سے کافروں کو یہ تہدید عذاب سخت طور پر دی گئی ہے۔ ان اللہ لذو فضل علی الناس اس میں شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس نے عقل کی نعمت عطا کی اور ہدایت کیلئے کتابیں اتاریں اور پیغمبر بھیجے۔ ولکن اکثرھم لا یشکرون۔ لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اگر شکر ادا کرنا ہوتا تو عقل و نقل کے حکم پر چلتے اور اللہ پر دروغ بندی نہ کرتے۔ آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ بندے نافرمانی کرتے ہیں مگر اللہ دنیا میں فوراً ہی عذاب میں مبتلا نہیں کرتا (ڈھیل دیتا رہتا ہے) ۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

وما تکون فی شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون من عمل الا کنا علیکم شہودًا اذ تفیضون فیہ اور (اے رسول ﷺ ! ) آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اسی طرح ‘ اے لوگو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ‘ ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو۔ تَکُوْنُ کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور لاَ تَعْمَلُوْنَ کا خطاب سب لوگوں کو۔ شَأنٍ کا معنی ہے امر ‘ حالت۔ ایک محقق کا قول ہے کہ شان کا اطلاق عظیم حالت اور جلیل القدر امر پر ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : (شان کا معنی ہے قصد) شَأَنْتُ شَانَہٗ میں نے اس کا جیسا قصد کیا۔ مِنْہُ کی ضمیر شان کی طرف راجع ہے۔ قرآن کی تلاوت رسول اللہ ﷺ کا ایک بڑا کارنامہ تھی۔ یا مِنْ احلیت کا ہے ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کی شان عظیم کی وجہ سے جو تلاوت آپ کرتے ہیں۔ مِنْ قرآن میں من بیانیہ ہے ‘ یا تبعیضیہ ہے ‘ یا زائد ہے۔ جو کچھ آپ ﷺ پڑھتے ہیں یعنی قرآن۔ یا جو حصہ قرآن کا آپ پڑھتے ہیں۔ وَلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اوّل خطاب خصوصیت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو کیا کیونکہ آپ تمام انسانوں کے سرگردہ تھے ‘ اسی لئے آپ کے بڑے عظیم الشان عمل کا ذکر کیا ‘ پھر سب لوگوں کو خطاب کیا اور ان کے ہر چھوٹے بڑے عمل کا ذکر کیا۔ شھود نگراں ‘ واقف۔ اِذْ تُفِیْضُوْنَ جب تم اس عمل کو شروع کرتے ہو ‘ اس میں داخل ہوتے ہو۔ بعض نے کہا کہ افاضہ کا معنی ہے بکثرت کسی کام کو کرنا ‘ اسی لئے تُفِیْضُوْنَ کا معنی ہوگیا بکثرون۔ وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السمآہ ولا اصغر من ذلک ولا اکبر فی کتب مبین۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں ‘ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور کوئی چیز ذرہ سے بھی چھوٹی یا بڑی ‘ ایسی نہیں کہ واضح کتاب (لوح محفوظ ‘ اللہ کی علمی کتاب) میں نہ ہو۔ مَا یَعْزُبُ غائب نہیں ہے۔ مِنْ مِّثْقَالِ ‘ مِنْ زائد ہے۔ مثقال مصدر ہے بمعنی وزن۔ ذَرَّۃٍ چھوٹی چیونٹی یا خاک کا ذرہ۔ زمین و آسمان سے مراد ہے سارا جہان امکان اور عالم ہستی۔ کوتاہ نظر عوام کی نظری رسائی انہی دونوں تک ہوسکتی ہے ‘ اس لئے ان ہی دونوں کا ذکر کیا۔ اور اہل ارض کی حالت کا ذکر چونکہ پیش نظر تھا ‘ اسلئے زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیا۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کا علم ہمہ گیر ہے ‘ سارے جہان کو گھیرے ہوئے ہے۔ لاآ اَصْغَرَ وَلاآ اَکْبَرَالخ مستقل جملہ ہے۔ کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یا وہ اعمال نامے جو کرام کاتبین کے پاس ہوتے ہیں۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ خوب سن لو کہ (قیامت کے دن جب سب لوگوں کو مصیبت میں مبتلا ہونے کا خوف ہوگا) اللہ کے دوستوں کو (عذاب کا) کوئی اندیشہ نہ ہوگا اور نہ وہ (اپنی کسی امید کی ناکامی کے) غم میں مبتلا ہوں گے (یعنی ان کی ہر امید پوری کی جائے گی) ۔ دلاء اور تو الی کا لغوی معنی ہے دو یا زیادہ چیزوں کا براہ راست بلاواسطہ تعلق و اتصال۔ مجازاً اس سے مراد ہوتا ہے قرب خواہ مکانی ہو ‘ یا نسبی ‘ یا دینی ‘ یا اعتقادی ‘ یا دوستی اور مدد کے لحاظ سے ہو۔ قاموس میں ہے : وَلْیٌ قرب وَلِیٌّ۔ وَلْیٌسے صفت کا صیغہ ہے ‘ جس کا معنی ہے قرب رکھنے والا ‘ دوست ‘ مددگار۔ تنقیح یوں تو ہر شخص بلکہ ہر چیز کا اللہ سے قرب ہے جس کی کیفیت نہیں جانی جاسکتی۔ اللہ نے فرمایا ہے : نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ رگ جان سے بھی زیادہ ہم بندہ کے قریب ہیں۔ اسی قرب کی وجہ سے یہ کائنات جامۂ ہستی پہنتی اور دائرۂ وجود میں آتی ہے۔ اگر یہ قرب نہ ہوتا تو کوئی وجود کی بو بھی نہیں سونگھ سکتا۔ اصل ذات کے اعتبار سے ہر چیز نیست ہے ‘ سب کی اصل عدم ہے لیکن خاص بندوں کو ایک بےکیف قرب اور بھی حاصل ہے ‘ یہ قرب محبت ہے۔ عالم مثال میں اہل کشف کو یہ بےکیف محبت ‘ قرب جسمانی کی شکل میں نظر آتی ہے۔ لفظ قرب کا قرب خلقی اور قرب محبت دونوں پر اطلاق بطور اشتراک لفظی کے ہوتا ہے۔ حقیقت قرب دونوں جگہ جدا جدا ہے۔ مؤخر الذکر قرب کے ان گنت ‘ غیر محدود درجات ہیں۔ ایک حدیث قدسی ہے (ا اللہ نے فرمایا) میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے پیار کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس کو پیار کرتا ہوں تو پھر میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ الی آخر الحدیث (یعنی اس وقت وہ جو کام کرتا ہے ‘ وہ گویا میرا عمل ہوتا ہے) رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔ اس قرب کا ابتدائی درجہ صرف ایمان سے حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور آخری انتہائی درجہ انبیاء کا خصوصی حصہ ہے ‘ جن کے سردار رسول اللہ ﷺ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے درجات ترقی پذیر ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں۔ صوفیہ کی اصطلاح میں کم سے کم وہ درجہ جس پر لفظ ولی کا اطلاق ہوسکتا ہے ‘ اس شخص کا ہے جس کا دل اللہ کی یاد میں ہر وقت ڈوبا رہتا ہے۔ وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ اللہ کی محبت میں سرشار رہتا ہے۔ کسی اور کی محبت کی اس میں گنجائش نہیں ہوتی خواہ باپ ہو ‘ یا بیٹا ‘ یا بھائی ‘ یا بیوی ‘ یا دوسرے کنبہ والے ‘ کسی سے اس کو محبت نہیں ہوتی۔ اگر کسی سے محبت ہوتی ہے تو محض اللہ کیلئے اور نفرت ہوتی ہے تب بھی خوشنودئ مولیٰ کے حصول کیلئے۔ وہ کسی کو کچھ دیتا ہے تو صرف اللہ کیلئے اور نہیں دیتا ہے تب بھی اللہ کی مرضی کیلئے۔ اس گروہ کی آپس میں محبت لوجہ اللہ ہوتی ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں اس صفت کو فناء قلب کہا جاتا ہے۔ ولی کا ظاہر و باطن تقویٰ سے آراستہ ہوتا ہے۔ جو اعمال و اخلاق اللہ کو ناپسند ہیں ‘ ان سے وہ پرہیز رکھتا ہے۔ شرک خفی و جلی سے پاک رہتا ہے ‘ بلکہ وہ شرک جو چیونٹی کی رفتار کی آواز سے بھی زیادہ خفی ہوتا ہے ‘ اس سے بھی بچتا ہے۔ غرور ‘ کینہ ‘ حسد ‘ حرص اور ہوس سے منزہ ہوتا ہے اور انہی کے ساتھ عمدہ اخلاق و اعمال سے متصف ہوتا ہے۔ اس مرتبہ کو صوفیہ فناء نفس کا مرتبہ کہتے ہیں۔ صوفیہ کا قول ہے کہ اس درجہ پر جب ولی پہنچ جاتا ہے تو اس کا شیطان اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور فرمانبردار بن جاتا ہے۔ ولایت کے ابتدائی درجہ کی طرف اللہ نے
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

الذین امنوا سے اشارہ فرمایا : اولیا اللہ وہ ہیں جو ایمان لے آئے ‘ یعنی حقیقت ایمان ان کے اندر پیدا ہوگئی۔ ایمان کا محل قلب ہے۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ کی یاد سے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے ‘ اللہ کے ذکر سے لمحہ بھر غافل نہ ہو ‘ کسی دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ ہو۔ 1 ؂ دوسرے مرتبہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ وکانوا یتقون۔ اور (شرک و معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ 2 ؂ یعنی اللہ کے اوامرو نواہی کی ظاہری اور باطنی ہر طرح پابندی کرتے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدا لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبۂ قرب کو دیکھ کر انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : جو بندگان خدا سے محض اللہ کیلئے محبت رکھتے ہیں۔ اس میں نہ ان کی باہم رشتہ داریاں ہیں نہ مالی لین دین (کہ قرابت یا مالی لالچ کی وجہ سے ایک کو دوسرے سے محبت ہو) خدا کی قسم ! انکے چہرے (قیامت کے دن جسم) نور ہوں گے ‘ بالائے نور۔ جب اور لوگوں کو (عذاب کا) خوف ہوگا ‘ ان کو خوف نہ ہوگا۔ جب اور لوگ غم میں مبتلا ہوں گے ‘ وہ غمگین نہیں ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : اَلاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَ خوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھمْ یَحزَنُوْنَ بغوی نے ابو مالک اشعری کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہی لکھا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت الاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر کی روایت سے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ فصل حصول ولایت کے ذرائع مرتبۂ ولایت کا حصول رسول اللہ ﷺ کی پرتو اندازی سے ہوتا ہے ‘ خواہ عکس رسالت براہ راست پڑے ‘ یا کسی ایک واسطہ سے ‘ یا چند واسطوں سے۔ رسول اللہ ﷺ یا آپ کے نائبوں سے محبت اور ان کی ہم نشینی و اطاعت حصول ولایت کیلئے ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قلب ‘ نفس اور جسم کا رنگ ولی کے قلب ‘ قالب اور جسم پر ان ہی دونوں اوصاف کی وجہ سے چڑھ جاتا ہے اور یہی صبغۃ اللہ ہے جس کے متعلق فرمایا : صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً طریق مسنون کے مطابق ذکر اللہ کی کثرت عکس پذیری کیلئے مددگار ہوتی ہے ‘ اس سے دل کا میل دور ہوجاتا ہے اور آئینۂ قلب کی صفائی ہو کر عکس پذیری کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کی منجھائی ہوتی ہے اور دل کو مانجھنے والا اللہ کا ذکر ہے۔ رواہ البیہقی۔ عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص۔ امام مالک ‘ امام احمد اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ‘ حضرت معاذ نے فرمایا : میں نے خود ‘ خود حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ نے فرمایا : جو دو آدمی میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ‘ میرے لئے مل کر بیٹھتے ہیں ‘ میرے لئے خرچ کرتے ہیں ‘ ان سے میری محبت واجب ہوجاتی ہے۔ امام احمد ‘ طبرانی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس شخص کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے مگر اس قوم (کے عمل) تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ فرمایا : آدمی کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔ رسائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے عمل اس قوم کے اعمال کی طرح نہ ہو سکے ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں لکھا ہے کہ حضرت ابو رزین نے بیان کیا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تجھے بتاؤں کہ اس کام کا مدار کس چیز پر ہے جس سے تجھے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل جائے (مدار خیر یہ ہے کہ اہل ذکر کی مجلسوں میں حاضری کی پابندی کر اور تنہائی ہو تو جہاں تک ہو سکے اللہ کے ذکر سے زبان کو ہلاتا رہ اور اللہ کے واسطے محبت اور اللہ کے واسطے نفرت کر (یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے لوگوں سے محبت و عداوت رکھ ‘ ذاتی غرض کوئی نہ ہو) ۔ امام احمد اور ابو داؤد نے حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پیارا عمل یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی کیلئے محبت اور بغض کیا جائے۔ ا اللہ کا محبوب کون ہے اولیاء میں ایک جماعت اللہ کی محبوبیت کے درجہ پر بھی فائز ہوجاتی ہے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ جب کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے محبت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس بندے سے پیار کرنے لگتے ہیں ‘ پھر حضرت جبرئیل آسمان پر (اہل سمٰوات کو) ندا دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے محبت کرو۔ حسب الارشاد اہل سماء اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین (والوں) میں اس کو مقبولیت عطا کردی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے نفرت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر آسمان والوں کو حضرت جبرئیل ندا کرتے اور کہتے ہیں : اللہ فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے نفرت کرو۔ لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر زمین والوں میں سے اس سے نفرت پیدا کردی جاتی ہے (اور زمین والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں) ۔ فصل اولیاء اللہ کی علامات کیا ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : اولیاء اللہ کون ہوتے ہیں ؟ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (بغوی) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے بندوں میں میرے اولیاء وہ ہیں جن کی یاد میرے ذکر سے اور میری یاد ان کا ذکر کرنے سے ہوتی ہے (بغوی) ۔ حضرت اسماء بنت یزید نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : سنو ! کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے اچھے کون لوگ ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ضرور فرمائیے۔ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (رواہ ابن ماجہ) ۔ فائدہ : اس کا گریہ ہے کہ اولیاء اللہ کو اللہ سے قرب اور بےکیف مصاحبت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی وجہ سے ان کی ہم نشینی گویا اللہ کی ہم نشینی اور ان کا دیدار اللہ کی یاد دلانے والا اور ان کا ذکر اللہ کے ذکر کا موجب ہوتا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے سورج کے سامنے رکھا ہوا آئینہ جو سورج کی شعاعوں سے جگمگا جاتا ہے اور اس آئینہ کے سامنے جو چیز رکھی جاتی ہے آئینہ کی عکس ریزی سے وہ چیز بھی روشن ہوجاتی ہے ‘ بلکہ اگر روئی کو اس آئینے کے سامنے زیادہ قریب رکھا جائے تو آئینہ کے قرب کی وجہ سے روئی جل جاتی ہے اور سورج چونکہ دور ہوتا ہے ‘ اسلئے دھوپ میں روئی نہیں جلتی۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے اولیاء کے اندر اثر پذیری اور اثر اندازی کی قوی طاقت رکھی ہے۔ اللہ سے قرب اور بےکیف مناسبت رکھنے کی وجہ سے اولیاء میں اثر پذیری کی صلاحیت زیادہ قوی ہوتی ہے اور جنسیت نوعیت اور شخصیت کے اشتراک کی وجہ سے دوسرے ہم جنس ‘ ہم نوع اور مناسب التشخص افراد پر اثر اندازی کی استعداد بھی ان میں قوی ہوتی ہے۔ یہی تأثر و تاثیر کا تعلق اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ ان کا حضور ‘ اللہ کے سامنے حضور کا ذریعہ اور ان کو دیکھنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا اللہ کی یاد کا موجب ہوتا ہے ‘ مگر شرط یہ ہے کہ دیکھنے والے اور بیٹھنے والے کے دل میں انکار نہ ہو (منکروں کو کوئی فیض حاصل نہیں ہوتا) وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ اللہ ایمان و اطاعت کی حدود سے نکل جانے والوں کو ہدایت نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فرمایا : جس نے میرے ولی سے دشمنی کی ‘ میں نے اس کو (اپنی طرف سے) جنگ کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ حضرت حنظلہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب ہم آپ کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں اور آپ دوزخ اور جنت کی ہم کو یاد دلاتے ہیں تو گویا ہم اپنی آنکھوں سے جنت و دوزخ کو دیکھ لیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ کے پاس سے نکل کر ہم باہر جاتے ہیں اور بیویوں ‘ بچوں اور زمینوں کے جھگڑوں میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ (جنت و دوزخ کو) بھول جاتے ہیں۔ فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ہر وقت تم اسی حالت پر رہو ‘ جس حالت پر میرے پاس اور میرے نصیحت کرنے کے وقت ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں ‘ مگر حنظلہ ! وقت ‘ وقت ہوتا ہے (ایک حضور کا وقت ‘ ایک غیبوبت کا وقت) یہ الفاظ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمائے۔ رواہ مسلم فائدہ : عام لوگ کشف و کرامت کو ولایت کی خصوصی نشانی سمجھتے ہیں ‘ مگر یہ غلط ہے۔ بہت سے اولیاء کشف و کرامت سے خالی ہوتے ہیں اور کبھی بطور استدراج دوسرے لوگوں میں اولیاء کے علاوہ بھی خرق عادات اور انکشافات غیبی پایا جاتا ہے (اسلئے کشف و کرامت معیار ولایت نہیں ہے ( اگر بعض اولیاء سے اتفاقاً کشف و کرامت کا ظہور ہوجائے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشف و کرامت معیار ولایت ہے۔ اللہ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا : قلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَيَّ آپ کہہ دیجئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں تم جیسا انسان ہوں (مگر مجھے یہ امتیاز ہے کہ) میرے پاس وحی آتی ہے۔ دوسری جگہ خطاب کر کے فرمایا : قُلْ لَّوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓہُ اگر میں غیب داں ہوتا تو کثیر بھلائی سمیٹ لیتا اور برائی مجھے چھو بھی نہ جاتی۔ ایک جگہ اور خطاب فرمایا ہے : قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ آپ کہہ دیجئے کہ معجزات تو اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ صوفیاء کرام کا قول ہے : کرامت تو مردوں کا حیض ہے ‘ اس کو چھپانا ہی ضروری ہے۔ کرامت کی وجہ سے ایک ولی کو دوسرے ولی پر فضیلت نہیں ہوتی ‘ اسی لئے جن اولیاء کے ہاتھوں سے کرامات کا ظہور زیادہ ہوا ان کو اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے

لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں انہی کیلئے بشارت ہے۔ یہ بشارت وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو عموماً اور بعض مخصوص صحابہ کو خصوصاً دی تھی۔ ترمذی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت سعید بن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر جنت میں (یعنی جنتی) ہے ‘ عمر جنتی ہے ‘ عثمان جنتی ہے ‘ علی جنتی ہے ‘ طلحہ جنتی ہے ‘ زبیر جنتی ہے ‘ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے ‘ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے ‘ سعید بن زید جنتی ہے ‘ ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سب سے پہلے اے ابوبکر ! تم جنت میں جاؤ گے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے زمین پھٹ کر میں برآمد ہوں گا ‘ پھر ابوبکر ‘ پھر عمر۔ ترمذی نے حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق جنت کے اندر عثمان ہوگا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بخاری و مسلم نے صحیحین میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا : تم مجھ سے اس جگہ پر ہو جس جگہ پر حضرت ہارون ‘ حضرت موسیٰ سے تھے (یعنی جو قرب درجہ یا قرب نسب یا قرب محبت حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو تھا ‘ وہی قرب تم کو مجھ سے حاصل ہے) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے امام احمد اور ترمذی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا مولیٰ (آقا ‘ سردار ‘ دوست) میں ہوں ‘ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ حضرت مسوربن مخرمہ کی روایت سے صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ یہ بھی فرمایا : جنت کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ اور فرمایا : عورتوں پر عائشہ کی برتری ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت (باقی) کھانوں پر اور یہ بھی فرمایا کہ عبد اللہ یعنی ابن عمر صالح آدمی ہیں (رواہ البخاری و مسلم فی الصحیحین عن ابن عمر) حضرت عبد اللہ بن سلام کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے ( متفق علیہ عن سعد بن ابی وقاص) اور فرمایا : انصار سے محبت نہیں رکھتا ‘ مگر مؤمن اور ان سے بغض نہیں رکھتا ‘ مگر منافق (یعنی انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت اور ان سے بعض رکھنا نفاق کی نشانی ہے) جو ان سے محبت کرے گا ‘ اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بعض رکھے گا ‘ اللہ اس سے نفرت کرے گا۔ اور فرمایا : اسید بن حضیر کیسا اچھا آدمی ہے۔ ثابت بن قیس کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن جبل کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن عمرو بن جموح کیسا اچھا آدمی ہے۔ اور فرمایا : جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے : علی ‘ عمار ‘ سلمان۔ حضور ﷺ نے اسی طرح بکثرت صحابہ کو تفصیل کے ساتھ بشارتیں دی تھیں۔ اور اللہ نے سب صحابہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے : وَکُلاّآ وَّعْدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور اللہ نے ہر ایک (مخلص صحابی) سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ دوسری آیت میں بھی عمومی بشارت دی ہے ‘ فرمایا ہے : مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ الخ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا راہ خدا میں صرف کرے تو ان کے ایک سیر بلکہ آدھ سیر (راہ خدا میں صرف کرنے) کو نہیں پہنچے گا۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین عن ابی سعید خدری رزین نے حضرت عمر کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں۔ جس کی (روشنی کی) پیروی کرو گے ‘ ہدایت پالو گے۔ اور فرمایا : میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو ان سے متصل آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے متصل آئیں گے (متفق علیہ عن عمران بن حصین) ۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد دنیوی بشارت وہ ہوتی ہے جو اللہ اپنے اولیاء کو خواب یا بیداری کی حالت میں عالم مثال کا انکشاف کر کے دیتا ہے۔ رویائے صالحہ (اچھے خواب) سے یہی عالم مثال کا انکشاف مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوائے مبشرات (بشارتوں) کے ‘ نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا (یعنی میرے بعد لوگوں کو سوائے بشارتوں کے ‘ اللہ کے کسی قول کی اطلاع براہ راست یا ملائکہ کی معرفت آئندہ نہ ہوگی ‘ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا) صحابہ نے عرض کیا : مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا : سچے خواب۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔ حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تشریح دریافت کی۔ فرمایا : (بشریٰ سے مراد) سچا خواب ہے جو آدمی کو دکھایا جاتا ہے (بغوی) ۔ حضرت ابو درداء سے لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کا معنی دریافت کیا گیا تو فرمایا : جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی ‘ اب تک سوائے تیرے کسی نے مجھ سے اس کی تفسیر دریافت نہیں کی۔ میں نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا : جب سے یہ آیت نازل ہوئی ‘ کسی نے تیرے سوا اس کی مراد نہیں دریافت کی۔ (بشریٰ ) سے مراد) سچا خواب ہے جو مؤمن کو دکھایا جاتا ہے۔ دنیوی زندگی میں بھی اس کیلئے بشارت ہے اور آخرت میں جنت بشارت ہوگی (امام احمد و سعید بن منصور) یہ حدیث بہت سندوں سے آئی ہے۔ سچے خواب سے مراد عوام کے خواب نہیں بلکہ اولیاء اور صالحین کے خواب مراد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواب تین ہوتے ہیں : (ایک) اللہ کی طرف سے بشارت ‘ (دوسرا) حدیث نفس (یعنی دماغی تخیلات یا تحت الشعور تصورات) ‘ (تیسرا) شیطان کی طرف سے ڈراوا (یعنی ہیبت ناک ‘ بےسروپا خواب) ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ایک شبہ : خواب خواہ اولیاء اور صلحاء کا ہو ‘ مفید یقین نہیں (اور اللہ کی طرف سے بشارت کو مفید یقین ہونا چاہئے) ۔ ازالہ : خواب سے یقین نہیں تو غالب گمان ضرور حاصل ہوجاتا ہے اور بشارت کیلئے غلبۂ ظن ہی کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نبوت کے 46 اجزاء میں سے اک جزء سچا خواب ہے۔ یہ حدیث بخاری نے حضرت ابو سعید راویت سے اور مسلم نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور احمد و ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کی ہے۔ اسی کی مثل ابن ماجہ نے حضرت عوف بن مالک کی روایت سے بھی بیان کیا ہے۔ 1 ؂ امام احمد نے حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک ہے۔ ابن النجار نے حضرت ابن عمر کا قول بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ البشرٰی سے وہ عمومی بشارت مراد ہے جس کا تعلق جنت اور ثواب سے ہے۔ یہ بشارت ضرورتمام مؤمنوں کو دی گئی ہے مگر اس کا ظہور اس وقت ہوگا جب ایمان پر خاتمہ ہو اور ایمان پر خاتمہ کیا معلوم ہو یا نہ ہو۔ بعض علماء کے نزدیک البشرٰی سے مراد لوگوں کی طرف سے ستائش ہے۔ بغوی نے عبد اللہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوذر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آدمی (اچھے) کام تو اپنے لئے کرتا ہے مگر لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا : مؤمن کیلئے یہ بشارت (دنیوی) ہے۔ مسلم کی روایت میں (بجائے محبت کرنے کے) لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ‘ آیا ہے۔ زہری اور قتادہ نے کہا : مرنے کے وقت اللہ کی طرف سے ملائکہ بشارت لے کر نازل ہوتے ہیں ‘ البشرٰی سے یہی مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا : تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلاآءِکَۃ الاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَلْبَشِرُ وَابَالْجَنَّۃ۔ عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ وفی الاخرۃ اور آخرت میں۔ یعنی جان نکلنے کے وقت مؤمن کی روح کو قرب الٰہی کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اللہ کی خوشنودی کی بشارت دی جاتی ہے اور قیامت کے دن قبر سے نکلنے کے وقت بھی اس کو بشارت دی جائے گی۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ یا کسی اور بی بی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کو تو موت پسند نہیں۔ فرمایا : یہ مطلب نہیں ہے ‘ بلکہ مؤمن کے مرنے کا جب وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی خوشنودی اور رحمت کی بشارت دی جاتی ہے ‘ پس وہ اللہ سے ملنے کا خواستگار ہوجاتا ہے اور کافر کی موت سامنے آتی ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور سزا کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس کو اپنے سامنے آنے والے عذاب سے زیادہ ناگوار اور کوئی چیز نہیں ہوتی ‘ اسلئے اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لاآ اِلٰہَ الاَّ اللہ والوں کو نہ موت کے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں میں ‘ نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ چیخ (صور کی آواز) کے وقت وہ (اہل ایمان) سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنُ سزاوار ستائش ہے وہ اللہ جس نے ہم سے سختی کو دور کردیا۔ رواہ الطبرانی۔ ختلی نے دیباج میں حضرت ابن عباس کا مرفوع قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ لا تبدیل لکلمات اللہ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یعنی اللہ کے وعدوں کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔ وہ یعنی مؤمنوں کا دونوں جہان میں بشارت یافتہ ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ یہ اور اس سے پہلے کا جملہ ” معترضہ جملے “ ہیں جن سے اس جزاء کی عظمت و حقانیت کا اظہار مقصود ہے جس کی بشارت دی گئی ہے۔ جملہ معترضہ ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ کلام کے اوّل و آخر کے درمیان آئے اور کلام کا آخری حصہ وہ ہو جو اوّل سے مربوط ہے۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے کلمۂ شرک اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔ ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔ ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

الا ان اللہ من فی السموت ومن فی الارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو لوگ (ملائکہ ‘ جن ‘ انس) ہیں ‘ وہ اللہ کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک و مقبوض اور بندے) ہیں اور جب وہ ہستیاں جو تمام مخلوق میں اعلیٰ ہیں ‘ اللہ کی محکوم و پرستار ہیں ‘ ان میں کوئی بھی رب ہونے کے قابل نہیں۔ تو جو مخلوق نادان ‘ بےجان ‘ بےعقل ہے وہ اللہ کی شریک اور مثل کیسے ہوسکتی ہے ‘ اسلئے وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ‘ وہ ایسی مخلوق کا اتباع نہیں کرتے جو اللہ کی شریک ہو۔ ان یتبعون الا الظن صرف اپنے گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اپنے خیال میں جن کو شریک عبادت قرار دے رکھا ہے ‘ بس ان کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما یتبع میں ما استفہامیہ انکار یہ ہو یا موصولہ ہو اور اس کا عطف مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ پر ہو۔ وان ھم الا یخرصون۔ اور محض قیاسی باتیں کر رہے ہیں۔ یعنی ان معبودوں کو اللہ کا شریک قرار دینے میں جھوٹ بولتے ہیں یا یہ ان کی محض من گھڑت ہے۔ غلط طور پر یہ اپنے معبودوں کو شریک الوہیت قرار دے رہے ہیں۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں

ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے سکون کیلئے رات بنائی۔ یعنی دن کی محنت سے جو تم تھک جاتے ہو ‘ رات میں اس تکان سے آرام حاصل کرلو۔ والنھار مبصرًا اور دن کو روشنی بخش بنایا ‘ جس کی روشنی میں دنیا کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو سنیں۔ یعنی اللہ نے جو اپنی حکمت کے زیر اثر اتنی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں ‘ ان کی تخلیق کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اللہ کی قدرت تامہ ‘ نعمت عظیمہ اور حکمت شاملہ کو ظاہر کر رہی ہیں اور اللہ کو مستحق معبودیت ثابت کر رہی ہیں ‘ مگر یہ تمام نشانیاں انہی لوگوں کیلئے مفید ہیں جو اللہ کا کلام اور ہدایت کرنے والوں کی نصیحت کو تفکر و عبرت کے کانوں سے سنیں۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے (اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں

قالا اتخذ اللہ ولدًا مشرکوں کا کہنا ہے کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ سبحٰنہ اللہ (اس تہمت سے) پاک ہے۔ یعنی کسی کا باپ بننے سے منزہ ہے۔ یہ فقرہ تنزیہیہ بھی ہے اور احمقوں کے کلام پر تعجب کا اظہار بھی ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کا وقوع بھی ناممکن اور تصور بھی (یعنی سبحان اللہ ! کیسی سخت بات کہہ رہے ہیں) ۔ ھو الغنی وہی بےنیاز ہے ‘ کسی چیز کا حاجتمند نہیں۔ کسی کی اس کو احتیاج نہیں ‘ اس کے سوا ہر چیز ممکن ہے۔ اپنے وجود ‘ بقائے وجود اور تمام حالات وصفات میں اسی کی محتاج ہے۔ بےنیاز اللہ اور محتاج ممکن میں کوئی مناسبت نہیں ‘ پھر کس طرح اللہ والد اور کوئی مخلوق اس کی اولاد ہوسکتی ہے ؟ اولاد کو تو اپنے والد کا ہم جنس ہونا چاہئے۔ یا یوں کہا جائے کہ اولاد کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں باپ کمزور ہو اور بیٹے کی وجہ سے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہو ‘ یا مفلس ہو اور بیٹے سے مالی مدد کا خواستگارہو ‘ یا اس کو عزت حاصل نہ ہو اور قابل بیٹا اس کیلئے باعث عزت ہوجائے ‘ یا باپ مرجانے والا ہو اور اپنی نسل قائم رکھنا چاہتا ہو (بہرحال باپ کو بیٹے کی ضرورت کسی غرض اور حاجت کے زیر اثر ہوتی ہے) اور مذکورۂ بالا کسی قسم کی حاجتمندی سے اللہ بےنیاز ہے ‘ وہ غنی اور قدیم ہے۔ لہ ما فی السموت وما فی الارض اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ یعنی اسی کی مخلوق و ملک ہے ‘ پھر کس طرح اس میں سے کوئی چیز اللہ کی اولاد ہوسکتی ہے (اولاد نہ والد کی ملک ہوتی ہے نہ مخلوق) ۔ ان عند کم من سلطن بھدا تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یعنی نفی ولد کی دلیل کے مقابل کوئی دلیل نہیں ہے۔ اتقولون علی اللہ ما لا تعلمون۔ کیا تم اللہ پر ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کا علم (کسی دلیل کی روشنی میں) تم کو خود نہیں ہے۔ اس جملہ میں مشرکوں کو ان کی جہالت پر زجر ہے اور اس امر پر تنبیہ ہے کہ بےدلیل کوئی بات کہنی درست نہیں۔ عقائد کیلئے تو ناقابل شک قطعی دلیل کی ضرورت ہے۔ دوسروں کے مفروضات فکریہ کی تقلید کسی طرح جائز نہیں۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے

قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون۔ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ یقیناً کامیاب نہیں ہوں گے۔ نہ دوزخ سے بچیں گے ‘ نہ جنت میں پہنچیں گے۔
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

متاع فی الدنیا یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے۔ یعنی یہ دروغ بندی دنیا میں کچھ مزہ اڑانے کا سبب ہوجائے گی۔ اس طریقے سے وہ کفر کی حالت میں اپنی ریاست کو قائم رکھ سکیں گے۔ یا ان کی زندگی دنیوی متاع حقیر ہے۔ ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون۔ پھر (موت کے بعد) ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ان کے کفر کی پاداش میں ہم ان کو عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

واتل علیھم نبا نوح اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ (مکہ والوں کو) نوح کی خبر پڑھ کر سنائیے۔ یعنی قوم کے ساتھ حضرت نوح کی سرگزشت ان کے سامنے پڑھئے۔ اذ قال لقومہ یاد کیجئے کہ جب نوح نے اپنی قوم سے کہا۔ برقول بغوی قوم نوح قابیل کی نسل سے تھی ‘ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح ‘ حضرت شیت کی نسل میں سے تھے ‘ قابیل کی نسل میں سے نہیں تھے اور چونکہ قوم کی نسبت حضرت نوح کی طرف کی گئی ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح حضرت شیت کی نسل میں سے تھی۔ یقوم ان کان کبر علیکم مقامی اے میری قوم ! اگر تم پر میرا قیام شاق ہوگیا ہو۔ یعنی مدت دراز تک تمہارے اندر میرا رہنا یا دعوت پر قائم رہنا اگر تمہارے لئے ناگوار ہوگیا ہو۔ وتذکیری بایت اللہ اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا (ناگوار اور بھاری معلوم ہوگیا ہو) ۔ فعلے اللہ توکلت پس اللہ ہی پر میرا بھروسہ ہے (میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں) ۔ فاجمعوا امرکم وشرکاء کم تم مع اپنی مفروضہ شرکاء کے (مجھے ضرر پہنچانے کی) اپنی تدبیر پختہ کرلو۔ اَجْمَعَ الْاَمْرَ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیا ‘ عزم کرلیا۔ یعنی تم اور تمہارے مفروضہ شرکاء مجھ کو قتل کرنے یا دکھ پہنچانے کا پختہ عزم کرلو (کذا قال الزجاج) یا شرکاء سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اپنے کام کو اور اپنے شرکاء کے کام کو درست کرلو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم اپنے کام کا پختہ ارادہ کرلو اور اپنے (مفروضہ) شریکوں کو بھی بلا لو۔ ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ پھر وہ تدبیر تمہارے دلوں کی گھٹن کا باعث بھی نہ ہونا چاہئے۔ غُمَّۃً پوشید ‘ چھپا ہوا۔ غَمَّہٗاس کو چھپایا ‘ یعنی تمہاری تدبیر پوشیدہ بھی نہ ہو ‘ بالکل واضح طور پر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم مجھے ہلاک کر چکو اور میری دن رات کی نصیحت و وعظ کے بار سے آزاد ہوجاؤ تو تمہارا حال تم پر مستور نہ رہنا چاہئے۔ ثم اقضوا الی پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو ‘ کر گذرو۔ ولا تنظرون اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت نوح کے اس کلام میں امر بمعنی تعجیز ہے (یعنی تم ایسا کر ہی نہیں سکتے ‘ اگر کرسکتے ہو تو کر گذرو ‘ انتظار کس بات کا ہے) اس کلام کو نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت نوح کا اعتماد اپنے رب پر نہایت مضبوط تھا۔ ان کو اللہ کی مدد پر بھروسہ تھا۔ وہ قوم کی کسی خفیہ تدبیر سے خائف نہ تھے۔ ان کو یقین تھا کہ ان کی قوم اور قوم کے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔ نہ نفع ان کے قبضہ میں ہے نہ ضرر۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں

فان تولیتم فما سالتکم من اجر پھر بھی تم اگر اعراض ہی کئے جاؤ تو (اتنا سمجھ لو کہ) میں تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں۔ جزاء کو حذف کر کے جزاء کی علت کو اس کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ اصل مطلب (تشریحی) اس طرح ہے کہ اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اب بھی روگردانی کرو گے اور میری بات نہیں مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ‘ یا اللہ تم کو عذاب دے گا کیونکہ تمہاری روگردانی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قبول حق سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس وعظ و تذکیر میں میرا کوئی مقصد نہیں۔ میں اس دعوت کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا کہ تم معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہو اور اسلئے روگردانی کر رہے ہو ‘ یا مجھے (دنیا طلبی کی تہمت سے) متہم کرسکو۔ یا یہ مطلب ہے کہ روگردانی کرو گے تو خود اپنا نقصان کرو گے ‘ میرا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔ میں تم سے معاوضہ کا طلبگار نہیں کہ تمہاری روگردانی سے مجھے معاوضہ نہ ملے۔ تمہارا ہی بگاڑ ہوگا ‘ تم ہی ہدایت سے محروم ہو گے۔ ان اجری الا علی اللہ (اس دعوت و وعظ کا) میرا معاوضہ تو بس اللہ کے ذمہ ہے۔ یعنی تم سے معاوضہ کا کوئی تعلق نہیں۔ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ‘ میرے عمل کا ثواب تو اللہ دے گا۔ اس فقرہ سے اشارۃً نکلتا ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ کی اجرت لینی جائز نہیں (تعلیم قرآن و احادیث بھی تبلیغ دین ہے اور تبلیغ دین کی اجرت ان لوگوں سے لینی جن کو تبلیغ کی گئی ہو ‘ بظاہر اس آیت سے ناجائز قرار پاتی ہے) ۔ وامرت ان اکون من المسلمین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (ا اللہ کے حکم کی) اطاعت کروں ‘ ایمان لاؤں۔ اعمال میں بھی اتباع حکم الٰہی کروں اور لوگوں کو بھی دعوت دوں اور اس حکم کی تعمیل میں نے کی ہے اور کر رہا ہوں۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا

فکذبوہ (حق واضح ہونے کے بعد بھی محض عناد اور ضد کی وجہ سے) قوم نوح تکذیب پر جمی رہی۔ فنجینہ ومن معہ فی الفلک پس ہم نے نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں (غرق ہونے سے) بچا لیا۔ یہ سب اسّی آدمی تھے۔ وجعلھم خلف واغرقنا الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے ان کو (مرنے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ‘ ان کو (طوفان میں) ڈبو دیا۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو آپ دیکھئے کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی جن لوگوں کو پیغمبروں نے اللہ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اور وہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ وہ کس طرح تباہ ہوئے۔ اس جملہ میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین اور تکذیب کرنے والوں کو عظیم الشان عذاب سے تخویف ہے۔