68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 68:40–41

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ؟ ،

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک (خدائی) ہیں اچھا تو یہ پیش کریں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں،23۔

23۔ منکرین سے پھر حجت وبرہان کا مطالبہ ہے آخر کس چیز نے انہیں اب تک انکار پر جمارکھا ہے ؟ کس سہارے اور کس کے بھروسہ پر وہ اب تک اپنے عقائد باطلہ پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

وہ دن (یاد کرنے کے قابل ہے) جب ساق کی تجلی فرمائی جائے گی، اور سجدہ کی طرف بلایا جائے گا، تو سجدہ نہ کرسکیں گے،24۔

24۔ (یہ منکر و کافر لوگ) (آیت) ” یوم یکشف عن ساق “۔ اس دن سے مراد روز حشر کا ہونا تو سب کے نزدیک مسلم ہے سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ کشف ساق سے کیا مراد ہے ؟ (آیت) ” ساق “۔ کے لفظی معنی تو پنڈلی کے ہیں۔ مابین الکعب والرکبۃ (قاموس) مابین الرکبۃ والقدم (لسان) محققین کا قول ہے کہ صفات باری میں سے یہ کوئی مخصوص صفت ہے۔ جس کی تجلی اس وقت ہوگی اور اسے کسی خاص ہی مناسبت سے ساق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ قرآن مجید ہی میں حق تعالیٰ کیلئے آخر وجہ (چہرہ) اور ید (ہاتھ) اور حدیث میں رجل، اور قدم (پیر) کے الفاظ بھی تو آتے ہیں۔ اور یہ سب کلمات متشابہات کہلاتے ہیں۔ لیکن ان کی متعدد توجیہات وتاویلات ہوسکتی ہیں۔ ایک بدیہی اور صاف سی بات یہ ہے کہ خود محاورۂ عرب میں کشف ساق سے مراد امر صعب وامر دشوار کے اہتمام سے ہوتی ہے۔ عن ساق اے عن شدۃ امر کما یقال قامت الحرب علی ساق (تاج) الساق فی اللغۃ لامر الشدید وکشفہ مثل فی شدۃ الامر کما یقال للشحیح یدہ مغلولۃ ولاید ثم ولا غل وانما ھو مثل فی شدۃ البخل وکذلک ھذا (لسان) قال بعضھم انہ اشارۃ الی شدۃ فجعل لکل امر فظیع (راغب) یوم یشتد الامر ویصعب ولاکشف ثمہ والا ساق (مدارک) ائمہ تفسیر بلکہ صحابہ وتابعین سے بھی یہاں یہی معنی منقول ہیں۔ قال جماعۃ من الصحابۃ والتابعین من اھل التاول یبد وعن امر شدید (ابن جریر) عن ابن عباس قال ھو یوم کرب وشدۃ (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ ھو الامر الشدید المفظع عن الھول یوم القیامۃ (ابن جریر) الی نحو ھذا ذھب مجاھد وابراھیم النخعی وعکرمۃ وجماعۃ وقد روی ایضا عن ابن عباس ؓ (روح) والجمھور علی ان الکشف عن الساق عبارۃ عن شدہ الامروصعوبۃ الخطب فمعنی یوم یشتد الامرو یصعب ولاکشف ثمہ ولا ساق (مدارک) (آیت) ” ویدعون الی السجود “۔ یہ سجدہ کا حکم مومن و کافر سب کے لئے عام ہوگا۔ یہ حکم کافروں کے حق میں محض توبیخی ہوگا گویا اس تجلی ساق کی یہ ایک تاثیر طبعی ہوگی کہ کافر و مومن سب ہی سجدہ کرنا چاہیں گے۔ مومن بآسانی قادر ہوجائیں گے، کافر و منافق قادرنہ ہو پائیں گے۔ لاتکلیفا ولکن توبیخا علی ترکھم السجود فی الدنیا (مدارک) لایدعون الی السجود تعبدا وتکلیفا ولکن توبیخا وتعنیفا علی ترکھم السجود فی الدنیا (کبیر) (آیت) ” فلایستطیعون “۔ اس سے یہ نکلا کہ کافر و منافق بھی اس وقت ارادہ سجدہ کا کریں گے لیکن اس پر قادر نہ ہو پائیں گے۔ وفیہ دلالۃ علی انھم یقصدونہ فلایتاتی منھم (روح)
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے،25۔

25۔ (اور اس وقت سجدہ سے انکار رکھتے تھے) (آیت) ” خاشعۃ ابصارھم “۔ یہ آنکھوں کا جھکا ہونا انتہائے شرم وندامت و حسرت سے ہوگا۔ قرآن مجید میں ذکر کبھی نگاہوں کے اٹھے رہنے کا بھی آیا ہے۔ اور یہ دونوں بیانات باہم متناقض نہیں، حشر میں شدید ہولناکی کے تو مختلف احوال پیدا ہوں گے، اور انہیں کے لحاظ سے اہل دوزخ کے تاثرات بھی ادلتے بدلتے رہیں گے، کبھی غلبہ انتہائی ندامت کا ہوگا، اس وقت نظریں نیچی ہو کر زمین پر گڑ جائیں گی، کبھی غلبہ حیرت وستعجاب کا ہوگا اس وقت نظریں اوپر کو اٹھ جائیں گی، (آیت) ” وقد کانوا ..... سلمون “۔ یعنی دنیا میں جب انہیں پوری طرح قدرت حاصل تھی، اس وقت تو حکم کی تعمیل سے دانستہ گریز کرتے رہے۔ اب وہ کیفیت ان پر قدرۃ لیس دی گئی ہے۔ اب یہ اگر چاہیں جب بھی نہیں کرسکتے۔ ؛
Ayahs 68:44–45

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو آپ رہنے دیجئے مجھے اور انہیں جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں ہم انہیں آہستہ آہستہ لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ انہیں خبر نہیں ،

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے،26۔

26۔ (اور عذاب و گرفت میں جو توقف ہورہا ہے اس کی آپ کچھ فکر نہ کیجئے) (آیت) ” فذرنی .... الحدیث “۔ یعنی آپ ہمارے ہی اوپر ہر طرح اعتماد و توکل رکھیے ان سارے مجرموں اور منکروں سے نپٹ لینے کے لئے ہم ہی کافی ہیں۔ (آیت) ” سنستدرجھم “۔ ہماری مشیت تکوینی انہیں آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لئے جارہی ہے۔ (آیت) ” واملی لھم “۔ یعنی انہیں تو مہلت دی جارہی ہے اور یہ نہیں ہوتا، کہ فورا ہی ان پر دنیا میں عذاب نازل کردیاجائے۔ (آیت) ” من حیث لایعلمون “۔ کافروں اور منکروں کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ حکمت الہی انہیں چپکے چپکے کدھر لئے جارہی ہے۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ (اس) تاوان سے دبے جاتے ہیں ؟ ،27۔

27۔ اور اس لئے آپ ﷺ کی اطاعت اور قبول دعوت سے بھی گریز کررہے ہیں۔ قرآن مجید کا جتنا حصہ مدنی سورتوں پر شامل ہے ان میں زیادہ تراحکام وقوانین، مسائل وقصص کا سادہ بیان ہے، اس حصہ میں قدرۃ سوال و جواب کی گنجائش کم تھی لیکن قرآن مجید کا یہ آخری حصہ جو زیادہ ترم کی سورتوں پر شامل ہے، اس میں عموما دعوت اصلاح عقائد کی ملتی ہے اور منکرین کو توحید، رسالت وآخرت کی طرف بلایا جارہا ہے اس لئے قدرۃ ان سورتوں کا اسلوب بیان زیادہ خطیبانہ ہے اور اس میں خطبات عرب (اور عرب کیا معنی ساری دنیا کے خطبات) کے دستور کے مطابق مؤثر انداز میں سوالات واستفہامات بھی زائد ہیں۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس (علم) غیب ہے کہ یہ (اسے) لکھ لیا کرتے ہیں ؟ ،28۔

28۔ (اور اس طرح غیب سے براہ راست تعلق پیدا کرکے آپ ﷺ کی اطاعت سے بےنیاز رہ گئے ہیں) ملاحظہ ہو حاشیہ 26۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو آپ اپنے پروردگار کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے اور مچھلی والے (پیغمبر) کی طرح نہ ہوجائیے جب کہ انہوں نے (اپنے پروردگار کو) پکارا اس حال میں وہ غم میں گھٹ رہے تھے،29۔

29۔ (آیت) ” کصاحب الحوت “۔ سے مراد ارض نینوا کے پیغمبر حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) ہیں جن پر حاشیے سورة یونس، سورة ہود وغیرہ میں مفصل گزر چکے۔ (آیت) ” فاصبر “ آپ صبر سے کام لیتے رہئے۔ اور ان لوگوں پر فوری عذاب نہ آنے سے بددل نہ ہوجائیے۔ (آیت) ” اذ نادی “۔ ندا سے یہاں مراد اپنے پروردگار کو توبہ و استغفار کی راہ سے پکارنا ہے۔ (آیت) ” ولا تکن کصاحب الحوت “۔ یعنی ان پیغمبر کی طرح کہیں نہ ہوجائیے گا، جو وقت پر عذاب موعود کے ٹل جانے سے بدل وملول کی خاطر ہو کر بلااجازت صریح کہیں اور چلے گئے تھے۔ (آیت) ” وھو مکظوم “۔ آپ (علیہ السلام) کو غم اور صدمے کئی کئی طرح کے تھے، اور وہ سب اکھٹے ہوگئے تھے۔ ایک رنج تو قوم کے ایمان نہ لانے کا۔ دوسرا آئے ہوئے عذاب کے ٹل جانے گا۔ تیسرا بلااذن صریح اپنے مقام سے چل کھڑے ہونے کا۔ اور چوتھا شکم ماہی میں محبوس ہوجانے کا۔ (آیت) ” ولا تکن کصاحب الحوت “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صاحب حال کا فعل صاحب مقام کے لئے۔ اور صاحب مقام کا فعل صاحب مقام الہی کے لئے کبھی کبھی نقص کا حکم رکھتا ہے اس لئے اس سے روکا جاتا ہے۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر ان کے پرور دگا رکا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ میدان میں ڈال دیئے جاتے بدحالی کے ساتھ،30۔

30۔ یعنی اگر ان کی توبہ قبول نہ ہوجاتی اور ملامت خطائے اجتہادی پر برابر قائم رہتی تو وہ دریا سے نکال کر میدان میں حالت مذموم کے ساتھ ڈال دیئے جاتے۔ لیکن توبہ قبول ہوگئی، ملامت کا شائبہ نہ رہا اور حالت مذموم ہونے کے ممدوح ہوگئی۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے انہیں (اور) برگزیدہ کرلیا اور ان کو (اور زیادہ) صالحین میں کردیا،31۔

31۔ مقام اجتباء وصالحیت پر تو آپ پہلے سے ہی تھے۔ اب ان مقامات میں اور زیادہ ترقی ہوگئی، مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ شاید اس تمیم قصہ سے مقصود یہ ہو کہ اپنے اجتہاد پر عمل کرنا ان پیغمبر کو کیسا مضر ہوا اور توکل کیسا نافع، اس طرح عذاب کے بارے میں آپ ﷺ بھی اپنی رائے سے عجت نہ کیجئے، بلکہ اللہ ہی پر توکل رکھئے تو انجام بہتر ہوگا۔
Ayahs 68:51–52

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور یہ کافر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرا دیں گے، جب کہ قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہیں ،

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ قرآن نصیحت ہی نصیحت ہے، دنیا جہان والوں کیلئے،32۔

32۔ یہ کافروں اور منکروں کے انتہائی سفاہت وحمق کا بیان ہے کہ اللہ اللہ جو کلام ایک ہی ملک وقوم کے نہیں، ساری دنیا کی ہدایت واصلاح کے دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے قانون اور ضابطے اور ہدایتیں دنیا کی کیا انفرادی اور کیا اجتماعی، کیا اخلاقی اور کیا سیاسی، کیا معاشری اور کیا خانگی، ہر قسم کی صلاح و فلاح کی ضامن تھیں، اسی کو یہ لوگ مجنون کا کلام بتا رہے ہیں۔ ! یہ خود ان کا جنون نہیں تو اور کیا ہے۔ (آیت) ” وما ھو “۔ ضمیر ھو سے مراد پیغمبر (علیہ السلام) کا لایا ہوا کلام یا قرآن ہے۔ (آیت) ” لیزلقونک بابصارھم “۔ زلق بالابصار محاورۂ عرب میں کنایہ شدت عداوت سے ہے، جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ تم تو مجھے ایسی بری آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جیسے کھاہی جاؤ گے۔ والمعنی انھم بشدۃ عداوتھم ینظرون الیک شزرا بحیث یکادون یزلون قدمک اویھلکونک (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے اس آیت کے تحت میں ایک بڑے نکتہ کی بات سمجھائی ہے کہ تصرفات تکوینی اہل باطل بھی کرسکتے ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تاثیرات طبعیہ میں وہ اہل حق پر غالب آجائیں، ان تصرفات نفسانی کو دلیل ولایت ومقبولیت سمجھنا ہی جہل ہے۔