54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 54:37–41

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور انہوں نے لوط سے ان کے مہمان کو بارادۂ بدلے لینا چاہا، تو ہم نے ان کی آنکھیں پٹ کردیں کہ لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو ،

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور صبح سویرے ہی ان پر عذاب دائمی آپہنچا کہ لو ،

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو ،

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور فرعون کے پاس ڈرانے کی (بہت سی) چیزیں پہنچیں،26۔

26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔
Ayah 54:42

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے (انہیں) زبردست صاحب قدرت کی پکڑ پکڑی،27۔

27۔ یعنی قہر و غلبہ کے ساتھ پکڑا جس کے دفع کرنے پر کوئی بھی قادر نہ ہوسکا۔ (آیت) ” عزیز مقتدر “۔ زبردست اور قدرت والا۔ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔ ؟ چناچہ اسی مناسبت سے اس کی گرفت بھی سخت اور بےپناہ رہی۔ بعض مشرک جاہلی قوموں نے خدا کو خدا مان کر بھی صفات قہر وغضب سے محروم ومعزی تسلیم کیا ہے۔ عزیز ومقتدر۔ جیسے صفاتی نام لانے سے ایک مقصود ان غلط عقائد کی تردید بھی ہے۔
Ayah 54:43

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

تو کی تمہارے (زمانہ کے) کافر ان اگلے لوگوں سے کچھ بہتر ہیں ؟ ، یا تمہارے لئے (آسمانی) نوشتوں میں کوئی معافی (درج) ہے ؟ ،28۔

28۔ (اس لئے ہر کفر وشرک کے باوجود عذاب سے محفوظیت بھی) اکفارکم۔ خطاب اہل عرب سے ہے۔ یا معشر العرب (بیضاوی) الخطاب مع اھل مکۃ (کبیر) (آیت) ” اولئکم “۔ یعنی تمہارے وہ لوگ جن کی سزاؤں کا ذکر ابھی ہوچکا ہے۔ یعنی من الذین تقدم ذکرھم ممن اھلکوا بسبب تکذیبم الرسل وکفرھم بالکتب (ابن کثیر) (آیت) ” اکفارکم خیرمن اولٓئکم “ َ یعنی کیا یہ آج کل کے کافر ارتکاب جرم کرتے رہیں گے۔ اور پھر بھی ان میں کوئی ایسی بات ہے جس سے یہ سزا یابی سے بچے رہیں گے ؟۔
Ayah 54:44

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

A یا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایسی جماعت ہیں جو غالب ہی رہیں گے ؟ ،29۔

29۔ (ہمیشہ اور ہر حال میں) مطلب یہ ہوا کہ ان تین شقوں میں سے یہ کون سی شق اپنے لئے فرض کئے ہوئے ہیں ؟
Ayah 54:45

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

) سو) عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے،30۔

30۔ سو اس طرح تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ ریاست مکہ کے عین شباب، قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار وقرائن کے وقت ایک بظاہر بالکل بےیارو یاور شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشگوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآنی کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Ayahs 54:46–49

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

لیکن ان کا (اصل) وعدہ تو قیامت (کے دن) کا ہے، اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ،

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

(یہ) مجرمین بڑی غلطی اور بےعقلی میں (پڑے ہوئے) ہیں ،

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

جس روز یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے، تو ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ،

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے ہر چیز کو (ایک خاص) انداز سے پیدا کیا ہے،31۔

31۔ (اور اسی انداز معین ومقرر میں تعین زمان بھی شامل ہے جب علم الہی کے مطابق وقت مناسب آئے گا اس وقت قیامت لازما واقع ہو کر رہے گی نہ کہ اس کے قبل) (آیت) ” ان المجرمین “۔ مجرموں سے مراد یا تو مشرکین ہیں، یا وہ سارے فرقے جو یوم آخرت کی طرف سے تردوارتیاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ المشرکین (معالم) ھذا یشتمل کل من اتصف بذلک من کافر ومبتدع من سائر الفرق (ابن کثیر) (آیت) ” ان ..... سعر “۔ دنیا کی کوئی حماقت ونافہمی اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتی ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہے۔ انسان اس کی طرف سے غافل وبے فکر رہے۔
Ayah 54:50

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم بس ایسا یک بیک ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکا،32۔

32۔ عام فہم انسانی میں وقت کی جو قلیل سے قلیل اور مختصر ترین مدت آسکتی ہے وہ یہی آنکھ کی جھپک ہے۔ اور اسی لئے قرآن مجید نے بھی اسی چلے ہوئے انسانی محاورہ کو استعمال کیا ہے ورنہ امر الہی کی حقیقی سرعت کا اندازہ تو انسان غریب نہ خود کرسکتا ہے نہ اس کے بنائے ہوئے آلات پیمائش وقت۔
Ayah 54:51

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور ہم تمہارے ہم طریقہ لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں، سو ہے کوئی نصیحت کرنے والا ؟ ،33۔

33۔ (اے کافرو ! تم میں سے) مطلب یہ ہوا کہ جب طریق زندگی آج کے کافروں اور پچھلے منکروں میں مشترک ٹھہرا۔ تو عذاب بھی پچھلوں پر یقیناً اگلوں ہی کا سا آکر رہے گا۔ (آیت) ” اشیاعکم “۔ یعنی پرانی قوموں میں سے جو تمہاری ہی مشابہ قومیں گزری ہیں۔ اے اشباھکم من الامم (مدارک)
Ayahs 54:52–53

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی یہ لوگ کرتے ہیں وہ (سب) نوشتوں میں (درج) ہے ،

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی اور بڑی بات (اس میں) لکھی ہوئی ہے،34۔

34۔ (اور یہ نہیں کہ کچھ لکھا گیا ہو اور کچھ رہ گیا ہو) (آیت) ’ فی الزبر “۔ یعنی اعمالناموں میں۔ اے مکتوب فی کتب الحفظۃ (بیضاوی) فی دوادین الحفظہ (بحر) یہ نوشتوں کا پیش ہونا ثبوت جرم کی مزید اکملیت کے لئے ہوگا ورنہ ثبوت کی قطعیت کیلئے تو محض علم الہی کافی ہے۔
Ayahs 54:54–55

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں، ان باغوں اور نہروں کے درمیان ہوں گے،

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

ایک اعلی مقام میں قدرت والے بادشاہ کے نزدیک،35۔

35۔ یہ بشارت مزید ہے کہ جنت میں اور ساری مادی اور روحانی نعمتیں اور لذتیں تو خیر ہوں ہی گی۔ ان سب کے ساتھ دولت قرب بھی حاصل ہوگا۔ (آیت) ” فی مقعد صدق “۔ یعنی اعلی درجہ کے دل پسند وخوشگوار مقام میں۔ فی مکان مرضی (بیضاوی) (آیت) ” عند ملیک مقتدر “۔ دنیا میں تجربہ ہے کہ جو بادشاہ جتنا بڑا اور پر قوت، اتنا ہی اس کا قرب بھی باعث نفع ولذت چہ جائیکہ اس ملک الملوک۔ شہنشاہ اعظم وملیک مقتدر کا قرب ! کلما کان الملک اشد اقتدار کان التقرب منہ اشد التذاذا (کبیر) (آیت) ” عند “۔ قرب الہی سے مراد قرب معنوی ہے نہ کہ قرب مادی۔ والمراد منہ قرب المنزلۃ والشان لاقرب المادۃ والمکان (کبیر) عندیۃ منزلۃ وکرامۃ لامسافۃ ومماسۃ (مدار) (آیت) ” نھر اسم جنس ہے صورۃ واحد۔ معنی جمع۔ نھرفی معنی الجمع لکونہ اسم جنس (کبیر)