51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 51:41–42

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کے قصہ میں بھی عبرت ہے) جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی ،

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جس چیز پر بھی گزرتی تھی اسے ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجائے،24۔

24۔ (اور یہی اس آندھی کانامبارک ہونا تھا) طوفان باد قوم عاد پر اس غضب کا آیا تھا کہ اس سے وہاں کی ہر قابل اہلاک چیز کی ہلاکت کامل واقع ہوگئی تھی۔ قوم عاد اور حضرت ہود (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزرچکے ہیں۔
Ayahs 51:43–44

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود (کے قصہ میں بھی عبرت ہے) جبکہ ان لوگوں سے کہا گیا کہ کچھ دن اور چین کرلو ،

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پر انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، سو انہیں عذاب نے آلیا اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے،25۔

25۔ قوم ثمود۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی سرگذشت کئی بار قرآن مجید میں آچکی ہے۔ اور حاشیے وہیں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اذ قیل لھم “۔ اس قول کے قائل پیغمبر وقت حضرت صالح (علیہ السلام) تھے۔ (آیت) ” تمتعوا حتی حین “۔ یعنی اگر کفر و سرتابی سے باز نہ آئے تو یہ دنیوی عروج واقبال چند ہی روز کا مہمان ہے اور اس کے بعد پھر ہلاکت ہی ہلاکت۔
Ayahs 51:45–47

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

سو نہ تو وہ کھڑے ہی ہو سکے اور نہ (ہم سے) بدلہ ہی لے سکے ،

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور (ان سے) بہت پہلے قوم نوح (کا بھی یہی حال ہوچکا تھا) وہ بڑے نافرمان لوگ تھے ،

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں،26۔

26۔ (سو کسی مذہب والے کا حق تعالیٰ کی صفت قدرت کو محدود جاننا حد درجہ نادانی وجہل ہے) (آیت) ” باید “۔ ید۔ کے معنی قوت کے ہیں۔ قرآن مجید ہی میں متعدد بار اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلااولی الایدی والابصار۔ واذکر عبدنا داود ذا الاید۔ چناچہ یہاں بھی یہی معنی بلاتکلف ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ بقوۃ (روح) والاید القوۃ ھذا ھو المشھور (کبیر) اے بقوۃ قالہ ابن عباس ؓ ومجاہد وقتادۃ والثوری وغیر واحد (ابن کثیر) آیت سے سے مسائل ذیل بھی روشنی میں آگئے۔ اور ہر ہر مسئلہ کے اثبات کے ساتھ ساتھ اس کے مقابل جاہلی مشرکانہ خیال کی تردید بھی ہوگئی :۔ (1) آسمان ساری دوسری مخلوقات کی طرح حادث و مخلوق ہی ہے، قدیم وغیر مخلوق نہیں۔ (2) آسمان نہ دیوتا ہے نہ کسی دیوی دیوتا کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اللہ ہی کا خلق کیا ہوا ہے۔ (3) حق تعالیٰ کی قدرت تخلیق آسمان کی تخلیق سے بھی بڑھ کر چیزوں پر قادر ہے۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے فرش بنایا،27۔ سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں ،

27۔ زمین کی اصل ہئیت، علماء ہیئت کی تحقیق میں کروی، بیضوی، جیسی کچھ بھی ہو، یہاں سے مطلق تعرض نہیں۔ انسان بہرحال وبہر صورت اس کی سطح پر چلنے پھرنے کا کام لیتا ہے اور اس کے اسی وصف کو یہاں بیان کیا، ملاحظہ ہو سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” جعل لکم الارض فراشا “۔ پر حاشیہ، زمین نہ خود کوئی دیوی دیوتا ہے نہ کسی دیوی دیوتا کی مخلوق جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے بلکہ ساری دوسری مخلوقات کی طرح اللہ ہی کی ایک مخلوق۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کی بنایا تاکہ تم سمجھو،28۔

28۔ (اور غور وفکر سے کام لے کر اس حکمت وصناعی سے استدلال توحید پر کرو) ۔ (آیت) ” زوجین “۔ سے یہاں مراد مقابل کی چیزیں ہیں۔ مثلا گرمی سردی، جو ہر عرض، آسمان زمین، پستی بلندی، بڑی چھوٹی، الٹی سیدھی، وحد کثرت، نور ظلمت وقس علی ہذا ” کائنات بھری پڑی ہے ایسی ہی اضداد یا متقابلات سے۔
Ayah 51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

بس تم اللہ ہی کی طرف دوڑو میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں،29۔

29۔ (اور میری ساری تنبیہوں کا خلاصہ بس یہی ہے کہ شرک والحاد چھوڑ کر توحید کی راہ پر قائم ہوجاؤ) (آیت) ” ففروا “۔تعقیب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اتنی مشرک گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب سارے عالم سے بھاگ کر اللہ کے ہوجاؤ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ لفظ فرار سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ توجہ الی اللہ خوب شوق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلا موقع توحید کے ایجابی واثباتی پہلو پر زور دینے کا ہے اور دوسرا سلبی ومنفی پہلو کی اہمیت کا اظہار کا۔
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبودمت قرار دو میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں،30۔

30۔ (اور میری تبلیغ اور تاکید یہی ہے کہ شرک کے ہر پہلو سے دستبردار ہوجاؤ) (آیت) ” انی .... مبین “۔ آیت کے تکرار تاکید کلام کے لئے ہے۔ جوش بیان کے وقت تکرار کلام ہر خطیب وانشاء پرداز کی زبان پر جاتی ہے اور اثبات توحید سے بڑھ کر اور کونسا موقع جوش بیان کا قرآن مجید کے لئے ہوسکتا ہے۔ تکریر للتاکید (بیضاوی) لیکن شاید زیادہ مناسب ہو اگر یہ کہا جائے کہ آیت ماقبل میں یہ جملہ توحید کے ایجابی واثباتی پہلوپر زور دینے کے لئے تھا اور اب جو اس کی تکرار ہوئی ہے وہ سلبی ومنفی پہلو کی اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔ وکررانی لکم منہ نذیر مبین عن الامر بالطاعۃ والنھی عن الشرک (روح)
Ayahs 51:52–53

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے ساحر یا مجنون نہ کہا ہو،

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا اس بات کی ایک دوسرت جو ریت کرتے آئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ (سب کے سب) ہوئے ہی سرکش ہیں،31۔

31۔ یہاں خطیبانہ انداز میں پہلے تو سوال قائم کیا ہے کہ جس تسلسل وتواتر کے ساتھ شروع سے اب تک انبیاء کرام کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اب تک پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس کی وصیت ہی کرتی چلی آئی ہے، تو کیا ایسا ہی ہے ؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ نہیں، ایسا نہیں، بلکہ طغیان وسرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک رہتی ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ مراد ظاہر ہے کہ پرانی کا فرقومیں ہیں۔ (آیت) ” کذلک .... مجنون “۔ پوری آیت میں تسکین و تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کے لئے۔ آپ سے قبل ہر نبی کے ساتھ یہی معاملہ تکذیب و انکار کا پیش آچکا ہے اور اسے ساحر ومجنون کے خطاب مل چکے ہیں۔
Ayahs 51:54–55

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

تو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے کیونکہ آپ پر کوئی الزام نہیں،

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور (انہیں) سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا نفع دیتا ہے ایمان والوں کو،32۔

32۔ (اور منکروں پر اتمام حجت کرتارہتا ہے) گویا تذکیر وتبلیغ نافع بہرحال، بہرصورت ہے، کوئی ایمان لائے یا نہ لائے۔ (آیت) ” فتول .... بملوم “۔ یعنی آپ ان کی مخالفت کی پروا اور غم زیادہ نہ کیجئے۔ آپ ﷺ کے فرائض میں یہ تو کہیں داخل نہیں کہ آپ ﷺ انہیں ایمان لانے پر مجبور ہی کریں۔
Ayah 51:56

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے تو جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں،33۔

33۔ عبادت۔ سے یہاں مراد فقہ کی کتاب العبادات والی عبادت پنجگانہ مراد نہیں۔ بلکہ اپنے وسیع وعام مفہوم میں طلب رضاء الہی کے مرادف مراد ہے۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ ساری عبادتوں کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں ایک امر الہی کی تعظیم، دوسرے خلق اللہ پر شفقت ..... دوسرے لفظوں میں حقوق اللہ کی ادائی، حقوق العباد کی ادائی۔ ماالعبادۃ التی خلق الجن والانس لھا قلنا التعظیم لامر اللہ والشفقۃ علی خلق للہ فان ھذین النوعین لم بخل شرع منھما (کبیر) (آیت) ” الجن والانس “۔ مخلوقات میں یہ دو قسمیں ایسی ہیں جن میں خالق نے پورا احساس ذمہ داری رکھ دیا ہے۔ اور ان کے اندر ابتلاء واختیار دونوں کی صلاحیتیں جمع کردی ہیں۔ بخلاف فرشتوں کے جو ابتلاء سے خالی رکھے گئے ہیں۔ اور بخلاف حیوانات کے جنہیں اختیار کی پوری قوت نہیں دی گئی ہے۔ پوری طرح پر ذمہ دارہستیاں بناکر یہی دو مخلوق دنیا میں بھیجی گئی ہیں۔ ان کی اپنی تکمیل ذات کے لئے یہ لازمی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کریں عبادت ہی کی راہ سے کریں، کھائیں پئیں، بولیں چالیں، چلیں، پھریں، کمائیں، خرچ کریں، ہر فعل ہر عمل سے مقصود اصلی رضاء الہی کا حصول ہی رکھیں۔ اپنے وجود کی علت غائی اسی کو سمجھیں، یہی معنی ہیں ان کی عبادت کے، عبدیت و عبادت سے خود انسانیت ہی کو پورے نشوونما کا موقع ملتا ہے۔ اور جتنی اس میں کمی رہ جائے گی، اسی نسبت سے انسان کا منشائے تکمیل ناتمام رہے گا۔ (آیت) ” لیعبدون “۔ ل تعلیل کا ہے۔ لیکن مقصود تخلیق سے اشارہ غرض وغایت تشریعی کی جانب کرنا ہے، نہ کہ مقصد تکوینی کی جانب۔
Ayahs 51:57–58

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلایا کریں ،

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

اللہ تو خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے،34۔ قوت والا ہے مضبوط ہے،35۔

34۔ (نہ یہ کہ کوئی اسے کھلائے پلائے، کوئی اس کا سہارا بن جائے) عبد و معبود، بندہ و خالق کے باہمی تعلق کے باب میں یہ عقیدہ مشرک قوموں میں کثرت سے شائع رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کا کام یہ ہے کہ بندوں کو روزی دے، ان کے لئے پانی برسائے، ان پر ہوا چلائے، انہیں روشنی دے، گرمی پہنچائے، اور بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے آگے نذرانہ پیش کرتے رہیں، اسکے سامنے بھینٹ چڑھاتے رہیں۔ اس کے استھانوں پر چڑھاوے چڑھایں، وہ بھوکا ہو تو یہ اسے کھانے پینے کو دیں وقس علی ھذا۔ قرآن نے آکر اس نظریہ شرک پر ضرب لگائی اور توحید کا نعرہ لگا کر کہا کہ یہ کیا واہیات خرافات ہے۔ اللہ کی ذات پاک ہر قسم کی حاجت سے بری ہے۔ وہ کسی معنی میں بھی کسی کا محتاج نہیں، وہ غنی کامل ہے۔ اس نے جو تمہیں عبادت کا حکم دیا ہے۔ وہ خود تمہاری ہی تکمیل کے لئے ہے ورنہ اسے کسی رزق کی کیا حاجت ہے۔ اس کے متعلق ایسا گمان رکھنا اسے خدائی کے مرتبہ سے نعوذ باللہ معزول کردینا ہے۔ مشرک جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ کیلئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 35۔ اور اس میں عجز، ضعف اور اور کسی قسم کی احتیاج کا احتمال عقلی ہی نہیں) ان تمام صفات الہیہ کا اثبات مشرک، جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ کی تردید میں ہے۔
Ayah 51:59

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

سو جو یہ ظالم لوگ ہیں ان کی بھی باری ہے جیسے ان کے ہم مشربوں کی باری تھی، سو یہ لوگ مجھ سے جلدی،36۔

36۔ (وہ عذاب موعود) یعنی عذاب الہی تو اپنے وقت پر حکمت الہی کے موافق اور مصلحت ربانی کے ماتحت ہی آکر رہے گا ؛۔ کسی کے جلدی مچانے سے کیا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ان ..... ذنوبا “۔ یعنی علم الہی میں ان منکرین ومکذبین کے عذاب کے لئے بھی ایک وقت مقرر وموعود ہے۔ یہ لوگ اسے سن رکھیں۔ (آیت) ” مثل ذنوب اصحبھم “۔ اس میں اس اصولی حقیقت کا بیان آگیا کہ گناہوں میں مماثلت سزا میں بھی مماثلت کی مقتضی ہے۔ (آیت) ” اصحبھم “۔ مراد گذشتہ پر قوت قومیں ہیں۔ جو اسی انکار وکفر کی پاداش میں ہلاک ہوچکی ہیں۔ نظراءھم فی الامم السالفۃ (بیضاوی، روح) اصحابھم الذین اھلکوا من قوم نوح وعاد وثمود (معالم)
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

نہ کریں غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ،