44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 44:40–42

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

بیشک فیصلہ کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے،

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے کام نہ آئے گا اور نہ ان کی حمایت ہی کی جائے گی ،

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

ہاں مگر اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے، بیشک وہ زبردست ہے، رحیم ہے،25۔

25۔ چناچہ اپنی صفت عزیزیت کے تقاضہ سے کافروں کو خوب مغلوب کرے گا۔ اور صفت رحیمیت کا ظہور اہل ایمان پر پوری طرح فرمائے گا۔ (آیت) ” لایغنی ..... ینصرون “۔ مطلق دنیوی تعلق حشر میں ہرگز کسی ایک کا دوسرے سے کام نہ آئے گا۔ بلکہ اس کی بناء پر کوئی کسی کی مدد تک نہ کرسکے گا۔ (آیت) ” الا من رحم اللہ “۔ اور اللہ کی رحمت کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ وہ کسی مومن کے حق میں شفاعت کا اذن دیدے۔
Ayahs 44:43–50

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بیشک زقوم کا درخت ،

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

بڑے مجرم کا کھانا ہوگا ،

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

تیل کی تلچھٹ کی طرح پیٹ میں کھولے گا ،

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

تیز گرم پانی کی طرح ،

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

اس کو پکڑو، پھر گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ دوزخ کے بیچ تک ،

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر کے سر کے اوپر گرم پانی کا عذاب نازل کرو،

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

لے اس کا مزہ تو تو بڑا معزز مکرم ہے نا ،

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کے باب میں تم شک کیا کرتے تھے،26۔

26۔ عذاب جسمانی کے ساتھ ساتھ اہل جہنم کی اذیت قلب کے بڑھانے کو یہ بھی بطور طعن و استہزاء کہا جائے گا ..... دوزخیوں کے مقدر میں تو ہر قسم کی انتہائی اذیت ہے۔ جسمانی ومادی کے علاوہ ذہنی وقلبی بھی۔ (آیت) ” الاثیم “۔ بڑے مجرم سے مراد کافر ہے۔ اے الکثیر الاثام والمراد بہ الکافر لدلالۃ ماقبلہ وما بعدہ علیہ (بیضاوی) الاثیم اے فی قولہ وفعلہ وھو الکافر (ابن کثیر) (آیت) ” الاثیم “۔ کے صیغہ مفرد سے مراد جنس کافر ہے کوئی مخصوص فرد یا متعین شخصیت مراد نہیں۔ المراد بہ جنس الکافر لاواحد بعینہ (روح) اور یہ جو بعض اقوال میں آیا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل یا فلاں متعین کافر ہے، سو یہ قول خلاف تحقیق وبلادلیل ہے۔ لیس بشیء ولا دلیل علی ذلک (روح) وذکر غیرواحد انہ ابوجھل ولا شک فی دخلولہ فی ھذہ الایۃ ولکن لیست خاصۃ بہ (ابن کثیر) (آیت) ” شجرت الزقوم “۔ زقوم (تھوہر) پر حاشیے سورة والصافات (پ 23) میں گزرچکا۔ زقوم۔ کے معنی کسی کسی نے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ یہ قوم بربر کی زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں، اس پر فقیہ مالکی مفسر ابن العربی (رح) بڑے غصہ کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ایسے قول کسی جاہل ہی کے ہوسکتے ہیں۔ ویح کی عن بعضھم ان الزقوم ھو التمر والزبد بلسان البربر واللہ ولھذا القائل وامثالہ الذین یتکلمون فی الکتاب بالباطل وھم لایعلمون۔ روح المعانی میں صوفیہ کا یہ قول بھی نقل ہوا ہے کہ : ھی شجرۃ الحرص وحب الدنیا تظھر یوم القیامۃ علی اسوء حال واخبث طعم۔ یہ درخت حرص وحب دنیا کا درخت ہے جو حشر میں اس شکل میں متمثل ہوجائے گا۔
Ayahs 44:51–55

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

اللہ سے ڈرتے والے بیشک امن کی جگہ میں ہوں گے ،

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

) یعنی) باغوں میں اور نہروں میں ،

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

لباس پہنے ہوں گے باریک اور دبیز ریشم کا آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ،

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

یہ بات اسی طرح ہے، اور ہم ان کی زوجیت میں دے دیں گے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں کو ،

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہ وہاں ہر قسم کے میوے منگائیں گے اطمینان سے،27۔

27۔ یعنی اہل جنت علاوہ روحانی نعمتوں کے ہر قسم کی مادی وجسمانی لذتوں سے بھی پوری طرح لذت گیر ہوں گے، یہ نہ ہوگا کہ یہاں کی جسمانی لذتوں سے انہیں وہاں خواہ مخواہ بےجرم محروم کردیاجائے۔ ہمارے ہاں کے جن جدید اہل قلم نے جنت کی لذات جسمانی کی تاویلیں کرکے انہیں خواہ مخواہ بدل دینا چاہا ہے وہ درحقیقت خود مسیحیت اور دوسرے باطل مذہبوں سے کسی حد تک مرعوب ہیں جنہوں نے جسم وجسمانیات ہی کو مطلق شر تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” مقام امین “۔ یعنی ایسی جگہ جو مصیبت، ہر نہ خوشگواری سے محفوظ ہو۔
Ayahs 44:56–57

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہ وہاں موت کا مزہ بھی نہ چکھیں گے ہاں بجز اس پہلی موت کے اور اللہ انہیں دوزخ سے بچائے گا (یہ سب) ،

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

آپ کے پروردگار کے فضل سے ہوگا، یہی بڑی کامیابی ہے،28۔

28۔ (جس کے سامنے اور کسی کامیابی کا نام بھی نہیں لیاجاسکتا) (آیت) ’ ’ لا ..... اولی۔ یعنی یہ ساری نعمتیں لازوال وغیر منقطع ہوں گی، اور آئندہ ان کے ختم و انقطاع کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ (آیت) ” الاالموتۃ الاولی۔ یعنی وہی موت جو دنیا میں واقع ہوئی تھی، اور جو انہیں اس عالم آخرت میں لانے اور انہیں غیرفانی بنانے کا ذریعہ ہوئی۔
Ayahs 44:58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

سو ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں ،

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

تو آپ بھی منتظر رہئے، یہ لوگ تو منتظر ہی ہیں،29۔

29۔ یعنی آپ تبلیغ کے علاوہ اور کسی فکر وتردد میں نہ پڑئیے اور ان پر نزول ضرر کے منتظر رہیے۔ جس طرح یہ اپنی حماقت سے آپ پر نزول ضرر کے منتظر ہیں (آیت) ” لعلھم یتذکرون “۔ یعنی آپ ﷺ کی زبان میں قرآن کے نازل ہونے کی ایک مصلحت یہ ہے کہ آپ ﷺ کے یہ مخاطبین اسے داعی اول ﷺ ہی کی زبان سے خوب سمجھ کر اس سے نفع حاصل کریں :۔