Ayah 43:8163۔ (اس لئے کہ خدا زادہ بھی لامحالہ تمام اوصاف الوہیت ومعبودیت ہی سے متصف ہوگا) (آیت) ” ان ...... ولد “۔ بطور فرض محال اگر واقعی اس کے اولاد ہو جیسا کہ مسیحیوں کا عقیدہ ہے .... اسلوب بیان میں عقیدہ ولدیت کی کمال نفی ہے۔ ھذا کلام وارد علی سبیل الفرض والتمثیل لغرض وھو المبالغۃ فی نفی الولد والاطناب فیہ (کشاف بحر) فقہاء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ امر محال کا فرض کرنا اور پھر اس پر احکام کا ترتب دونوں بالکل جائز ہیں۔
Ayah 43:8264۔ جو بات فرض محال کے طور پر ابھی پیش ہوئی تھی اب اس کی تردید ہورہی ہے، کہ ” مگر نہیں، توبہ، توبہ ایسا کہاں ؟ ایسا ہونا ممکن ہی کیوں کر ہے ؟ اس کی صفات میں جس قدر بھی شرک یہ ظالم مشرکین کررہے ہیں وہ ان سب سے ارفع ومنزہ ہے۔ اس کی ناقابل پیمائش عظمت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ وہ خالق ومالک زمین کا بھی ہے، آسمانوں کا بھی، اور عرش کا بھی اس کی شریک معبودیت ان عظیم ترین، ہسیتوں میں سے کوئی بھی نہیں۔ وہ یکتا وقدوس ہر شریک اور ہر شرکت سے بالاتر ہے۔ “
Ayah 43:8365۔ (اس وقت ساری حقیقت کھل جائے گی) ذکر ان گمراہوں کا ہورہا ہے جو باوجود وضوح حق کے اپنے عناد سے باز نہیں آتے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ انہیں انکی حالت پر پڑا رہنے دیجئے اور ان کی طرف سے غافل وبے فکر ہوجائے یا یہ کہ تبلیغ بند کردیجئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی مخالفت کی طرف زیادہ التفات نہ کیجئے اور ان کی محرومی پر زیادہ غم وتاسف نہ کیجئے۔ (آیت) ” فذرھم “۔ صورۃ امر ہے لیکن مقصود کمال توہین و اظہار غضب ہے۔
Ayah 43:8466۔ (کہ نفس الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک کیا ہوتا۔ ان صفات علم و حکمت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں) بہت سی مشرک قوموں میں (اور انہیں میں قدیم ہندی قوم بھی ہے) عقیدے یہ رہے ہیں کہ فلاں فلاں دیوتا زمین کے ہیں۔ فلاں فلاں آسمان پر رہتے ہیں، فلاں فلاں فضائے آسمانی کے ہیں۔ یہاں اس عقیدہ کی تردید ہورہی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” وھو الذی ..... الارض الہ “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ آیت ان لوگوں کی قطعی تردید کررہی ہے جو حق تعالیٰ کا مستقر آسمان کو سمجھے ہوئے ہیں اس کا تعلق آسمان سے بھی بس وہی ہے جو زمین سے ہے اور زمین کا مستقر الہی نہ ہونا ظاہر ہی ہے۔ ھذہ الایۃ من اول الدلائل علی انہ تعالیٰ غیر مستقر فی السماء (کبیر)
Ayah 43:8567۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) داور محشر صرف وہی ذات حق تعالیٰ ہے۔ اس کے اس وصف میں بھی کوئی شریک نہیں۔ اس تردید کی زد براہ راست عیسائیوں پر پڑتی ہے۔ جنہوں نے داور محشر حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قرار دے رکھا ہے۔ (آیت) ” وعندہ علم الساعۃ “۔ یعنی آمد قیامت کے ٹھیک وقت کی خبر صرف حق تعالیٰ کو ہے دوسروں کو اختیار تو اور کیا ہوتا، اس اطلاع تک میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ (آیت) ” لہ ..... بینھما “۔ اس کی مالکیت کامل و محیط وبلاشریک ہے .... صفت علم وصف قدرت وملک کا اثبات قرآن مجید میں اکثر ساتھ ہی ساتھ آیا ہے۔
Ayah 43:8668۔ مسئلہ شفاعت جیسا کہ مسیحیوں اور بعض دوسری قوموں میں چلا ہوا ہے، سر تاسر باطل وبے اصل ہے، اس عقیدہ کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی بھی ہے جو اس معنی میں خدائی طاقت رکھتی ہے اور قیامت میں سابقہ اسی سے پڑے گا۔ وہ جسے چاہے معاف کردے۔ پھر یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ پر زور اور دباؤ ڈال کر فیصلہ اپنی اولاد اور اپنے متوسلین کے حق میں کرالے گا۔ اسلام نے ان سب لغویات کی تردید کی، اس نے بار بار بتایا کہ فیصلے تو سارے کے سارے صرف حق تعالیٰ کرے گا۔ علم اس کا کامل، مصلحتوں پر پوری پوری نظر اس کی۔ پھر اسے حاجت ہی کسی کی شرکت یا اعانت کی کیا ہے۔ ، البتہ خالق کے حضور میں مخلوق دوسرے مخلوق کی صرف شفاعت کرسکتی ہے، سو شفاعت بھی مطلق نہیں۔ بلکہ ان قیدوں کے ساتھ :۔
(1) وہ شفاعت اذن الہی کے بعد ہو۔ کوئی شخص از خود شفاعت کی جرأت نہیں کرسکتا۔
(2) شفاعت جس کی کی جائے وہ خود بھی صاحب ایمان ہو۔ (آیت) ” ولا یملک ..... الشفاعۃ “۔ بچالینے یا معاف کردینے یا اس احکم الحاکمین کے کسی فیصلہ سے معارضہ کرنے کی تو خیر کسی کی کیا مجال ہوتی، حق تعالیٰ کے حضور میں سعی وسفارش کے لئے لب کھولنے کا اختیار بھی ہر ایک کو نہیں۔ (آیت) ” الامن شھد بالحق “۔ شہادت بالحق یعنی کلمہ توحید کا اقرار۔ من شھد بالحق بکلمۃ التوحید (مدارک) وھو توحید اللہ (کشاف) (آیت) ” وھم یعلمون “۔ یعنی اس کا علم ویقین رکھتے ہیں کہ خدائے واحد کے بجز کوئی شفاعت کا مختار نہیں۔ (آیت) ” یعلمون “۔ ان اللہ ربھم حق ویعتقدون ذلک ھو الذی یملک الشفاعۃ (مدارک)
Ayah 43:8769۔ (کہ خالق تو صرف اسی کو مانتے ہیں اور پھر صفات ربوبیت وغیرہ میں دوسروں کو شریک کئے جاتے ہیں۔ کثرت سے مشرکین دنیا میں اس قسم کے گزرے ہیں کہ ایک طرف زبان سے ایک خدائے اعظم و برتر کا اقرار ہے اور دوسری طرف بیسیوں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے صاحب اختیار و تصرف خدایادیوتا بھی مانے جاتے ہیں۔
Ayah 43:8870۔ (باوجود میری ہر کو شیش اور فہمائش کے) (آیت) ” قیلہ “۔ ضمیرہ رسول کی طرف ہے۔ والھاء یعود الی محمد ﷺ (مدارک) وھو قول الرسول (بیضاوی) قیل قول ہی کی طرح مصدر اس کے مرادف ہے۔ القیل مصدر کالقول (کبیر) القول والقیل واحد (راغب)
Ayah 43:8971۔ (اور مرتے ہی ان پر سب حقیقت کھل جائے گی) (آیت) ” فاصفح عنہم وقل سلم “۔ یعنی ان کے ایمان کی زیادہ امید نہ رکھیے اور نہ زیادہ اس کاوش میں پڑے رہیے اور ان سے یہ کہہ بھی دیجئے کہ اب آگے میں تم سے کچھ تعلق وعلاقہ رکھتا۔ فاعرض عن دعوتھم یائسأعن ایمانھم وودعھم وتارکھم (کشاف۔ مدارک۔ بیضاوی) (آیت) ” سلم “۔ سلام تحیت کے معنی میں نہیں۔ سلام متارکت ہے۔ اے تسلم منکم ومتارکۃ (کشاف۔ مدارک، بیضاوی) وعیدلھم وتھدید ومواعدۃ (بحر) فلیس ذلک امرا بالسلام علیھم والتحیۃ وانما ھو امر بالمتارکۃ (روح)