43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 43:41–42

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم آپ کو اٹھالیں تو بھی ہم ان (کافروں) سے بدلہ لے کر رہنے والے ہیں ،

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا اگر ہم انہیں وہی دکھلا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے تو ہم اس پر بھی قادر ہیں،32۔

32۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کا عصیان و طغیان خالی جانے والا نہیں، عذاب ان پر ضرور مرتب ہوگا۔ خواہ آپ ﷺ کی حیات ہی میں ہو یا آپ کے بعد ہو، ہم بہر صورت قادر ہیں۔
Ayahs 43:43–44

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

بہرحال آپ اس (کلام) سے تمسک کئے جائیے جو آپ پر وحی کیا گیا ہے، آپ بیشک سیدھے راستہ پر ہیں،

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے اور عنقریب تم سب سے پوچھا،33۔

33۔ (کہ اپنے اپنے ذمہ کے حقوق قرآن کہاں تک ادا کئے) آپ ﷺ سے سوال تبلیغ سے متعلق ہوگا، اور ان لوگوں سے اس پر عمل کا۔ ذکر یہاں شرف کے معنی میں ہے۔ اے شرف لک ولقومک (راغب) معناہ لشرف لک ولقومک قالہ ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ والسدی وابن زید واختارہ ابن جریر (ابن کثیر) اے انہ یوجب الشرف العظیم لک ولقومک (کبیر) (آیت) ” لک ولقومک “۔ موجب شرف ہونا آپ ﷺ کے لئے تو اس لئے کہ آپ ﷺ براہ راست مخاطب تھے اور آپ کی قوم کے لئے اس واسطے کہ وہ بالواسطہ مخاطب تھی اور اس طرح اس کے واسطہ سے آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی قوم دونوں کی نیک نامی اور بلند نامی قیامت تک قائم رہے گی، فقہاء مفسرین نے یہاں سے یہ پہلو بھی پیدا کیا ہے کہ بندۂ مومن کو اپنی نیک نامی دل سے عزیز رکھنا چاہیے۔ واعلم ان ھذہ الایۃ تدل علی ان الانسان لابد وان یکون عظیم الرغبۃ فی الثناء الحسن والذکر الجمیل ولولم یکن الذکر الجمیل امرا مرغوبا فیہ لما من اللہ بہ علی محمد ﷺ (کبیر) قوم سے مراد قوم عرب بھی ہوسکتی ہے اور ساری امت بھی۔ القوم ھم العرب فالقران لھم شرف اذا نزل بلغتھم (معالم۔ عن مجاہد) والقوم علی ھذا قریش ثم العرب قالہ ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والسدی وابن زید (بحر) وقال الحسن القوم ھنا امۃ (بحر) اے لامتک (مدارک) (آیت) ” فاستمسک بالذی اوحی الیک “۔ قرآن مجید کی تبلیغ بھی تمسک بالقرآن ہی کی ایک فرد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حیرت انگیز ومعجزانہ استقامت پر فرنگی شہادت کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

جائے گا اور آپ ان (سب) پیغمبروں سے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے، دریافت کرلیجئے کہ کیا ہم نے (خدائے) رحمن کے سوا دوسرے خدا ٹھہرا دیئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے ؟ ،34۔

34۔ یعنی ان کی کتابوں اور صحیفوں سے جیسے کچھ وہ موجودہ ہیں تحقیق کرلیاجائے۔ لیس المراد بسؤال الرسل حقیقۃ السؤال ولکنہ مجاز عن النظر فی ادیانھم والفحص عن مللھم (مدارک) والمراد بہ الاستشھاد باجماع الانبیاء علی التوحید (بیضاوی) ” اس سے اوروں کا سنانا منظور ہے کہ جس کا جی چاہے تحقیق کرلے اور کتابوں میں دیکھنے کو رسولوں سے پوچھنا مجازا کہہ دیا، جیسے ہمارا بھی محاورہ ہے کہ کسی مسئلہ طیبہ مختلف کتابوں میں دیکھا ہو، پھر کہتے ہیں کہ آؤ ذرا شیخ بوعلی سینا سے پوچھیں کہ وہ کیا کہتا ہے اور یہ کہہ کر قانون شیخ دیکھنے لگیں۔ “ (تھانوی (رح)
Ayahs 43:46–48

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنے نشانات کے ساتھ فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں پروردگار عالم کی طرف سے پیغمبر ہوں ،

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

لیکن جب وہ ہمارے نشانات لے کر آئے تو انہیں لوگوں نے کیا کیا کہ لگے ان پر ہنسنے ،

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان کو جو بھی نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا کہ شاید وہ باز آجائیں،35۔

35۔ (اپنے کفر وعناد سے) (آیت) ” وما نریھم ..... اختھا “۔ یہاں ایت یا نشانی سے قحط وغیرہ کے نو مشہور معجزے یا خوارق مراد ہیں۔ ” مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں، اور یہ مطلب نہیں کہ ہر نشانی ہر نشانی سے بڑی تھی، یہ ایک محاورہ ہے۔ جب کئی چیزوں کا کمال بیان کرنا ہوتا ہے تو یوں ہی بولتے ہیں کہ ایک سے بڑھ کر ایک۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولقد ...... فرعون “۔ ایات سے مراد یہاں دلائل ومعجزات دونوں ہیں۔ (آیت) ” موسیٰ ، فرعون “۔ ان پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ (آیت) ” انی رسول رب العلمین “۔ قوم فرعون ایک پروردگار عالم کے تخیل سے بھی ناآشناتھی اور نبوت و رسالت کے عقیدہ سے بھی۔ قرآن مجید کے مختصر سے فقرہ میں دونوں عقیدوں کی تبلیغ آگئی۔ (آیت) ” اذا ھم منھا یضحکون “۔ پیام موسوی پر ایمان لانا تو الگ رہا۔ معجزات موسوی و دلائل موسوی کو سرے سے ناقابل التفات سمجھتے اور الٹا ان پر مضحکہ کرتے رہتے تھے۔
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور وہ بولے کہ اے جادوگر اپنے پروردگار سے ہمارے حق میں اس چیز کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے (اب) ہم ضرورراہ پر آجائیں گے،36۔

36۔ فرعون اور فرعونی گو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شدید مخالف اور عقیدۂ نبوت کے یکسر منکر تھے تاہم ایک زبردست عامل کی طرح آپ کو سحر وکہانت وغیرہ میں کامل سمجھتے اور آپ کی قوت تسخیر تکوینی کے پوری طرح قائل تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ دنیوی بلائیں اور مصیبتیں آپ کی وساطت سے آبھی سکتی ہیں اور دور بھی ہوسکتی ہیں۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ” تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا تاکہ وہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔ (خروج۔ 8: 8) ” اور فرعون بولا میں کہ میں تمہیں جانے دوں گا تاکہ تم خداوند اپنے خدا کے لئے بیانان میں قربانی کرو، لیکن تم بہت دور مت جاؤ۔ میرے لئے شفاعت کرو (8: 28) (آیت) ” یا یہ السحر “۔ اہل مصر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت اعجازی کے پوری طرح قائل تھے البتہ وہ اس کو آپ کی صداقت کی دلیل نہ سمجھتے اور نبوت و رسالت کا تو مسئلہ ہی سرے سے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور آپ کے لائے ہوئے تمام خوارق کو آپ کی زبردست قوت تسخیر تکوینی پر محمول کررہے تھے۔ (آیت) ” اننا لمھتدون “۔ یعنی اب ہم قائل ہوجائیں گے اور اس کے بعد وہی ماننے لگیں گے۔ جو آپ (علیہ السلام) ہم سے منوانا چاہتے ہیں۔
Ayah 43:50

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان سے عذاب ہٹادیا، جبھی انہوں نے عہد بھی توڑ دیا،37۔

37۔ توریت میں ہے :۔” پھر جب فرعون نے دیکھا کہ مہلت ملی تو اس نے اپنا دل سخت کیا اور جیسا خداوند نے کہا تھا ان کی نہ سنی۔ “ (خروج۔ 8: 15) ” فرعون نے اس بار بھی اپنا دل سخت کیا ان لوگوں کو ہرگز جانے کی رخصت نہ دی۔ “ (8: 32) ” تو بھی فرعون کا دل سخت ہوا اور اس نے لوگوں کو جانے نہ دیا۔ “ (9: 7) ” اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کردیا۔ اور اس نے جیسا کہ خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ان کی نہ سنی “۔ (9: 12) غرض جب جب مصیبت ان سے دور ہوجاتی تھی یہ اپنے سارے عہد و پیمان بھول بھال پھر وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور سرکشی پر آجاتے تھے۔
Ayah 43:51

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرادی یہ کہا کہ اے میری قوم والو کیا مصر کی سلطنت میری نہیں اور یہ نہریں میری تحت میں بہہ رہی ہیں، کیا تم (سب) یہ نہیں دیکھتے ہو ؟ ،38۔

37۔ فرعون کے اس اعلان خسروی کا مضمون یہ تھا کہ حکومت، جائز وقانونی حکومت تو مصر بھر اور اس کے توابع پر میری ہے، میری حکومت کے خلاف یہ باغی ہے کون جو کھڑا ہوا ہے ؟ (آیت) ” الانھر “۔ انھار کے مفہوم دو ہوسکتے ہیں اور اردو میں ان کے لئے لفظ بھی دو ہیں۔ ایک تو انسانی صنعت سے تیار کئے ہوئے پانی کے چشمے اور دھارے۔ انہیں اردو میں نہر کہتے ہیں۔ دوسرے قدرتی ندیاں یا دریا، یہاں دونوں مراد ہوسکتی ہیں۔ ندیاں تو عظیم الشان مصری دریانیل کی شاخیں ہیں۔ آگے چل کر دریائے نیل متعدد چھوٹی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوگیا ہے اور اگر نہریں سمجھی جائیں تو وہ نہریں مراد ہوں گی جن کا جال فرعونان مصر نے ملک بھر میں بچھا رکھا تھا۔ (آیت) ” من تحتی “۔ یعنی میری ماتحتی میں، میرے احکام کے مطابق۔ اے من تحت امری (روح)
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

اور (بھلا بتاؤ) کہ کیا میں افضل (نہیں) ہوں اس شخص سے جو بےوقعت ہے اور بولنا تک اسے نہیں آتا،39۔

39۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قومی برتری کی نفی تو فرعون ابھی اوپر کرچکا۔ اب ذاتی وشخصی تنقیص کررہا ہے۔ کہتا ہے۔ اسے تقریر تو آتی نہیں۔ (آیت) ” ام “۔ مفسرین اور اہل نحو کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ ام یہاں کلمہ استفہام نہیں بلکہ بل کے مرادف ہے۔ ام بمعنی بل ولیس بحرف عطف علی قول اکثر المفسرین (معالم) قال السدی یقول بل انا خیر من ھذا الذی ھو مھین وھکذا قال بعض نحاۃ البصرۃ ان ام ھھنا بمعنی بل (ابن کثیر) (آیت) ” لا یکادیبین “۔ خوش تقریری اس دور تمدن میں بھی ایک اعلی کمال وفضیلت سمجھی جاتی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت تقریر کی کمی پر ملاحظہ ہوسورۂ طہ (پ 16) کے حاشیے۔ (آیت) ” ھذا الذی ھو مھین “۔ یعنی یہ شخص تو کوئی چھوٹا موٹا ساحاکم بھی نہیں بلکہ الٹا مع اپنے سارے کنبہ قبیلہ کے میری ادنی رعایا ہے۔
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

سو اس کے (ہاتھوں میں) سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے ہیں،40۔ یا اس کے جلو میں فرشتے ہی پر اجائے ہوتے،41۔

40۔ (جو جاہلی تہذیب و تمدن میں ایک اعلی معیار منصب و اعزاز تھا) مصری حکومت میں جب بادشاہ کی خاص نظر عنایت کسی پر ہوتی تھی۔ کسی معمولی انسان کو تو ارباب رائیس باختیار بنایا جاتا تھا تو بطور اعزاز اسے سونے کے زیور پہنائے جاتے تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 41۔ مشرکوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کوئی انسان محض عام اور معمولی انسانیت کے ساتھ نبی کیونکر ہوسکتا ہے۔ ان کے عقیدہ میں خدا کا اوتار جب دنیا میں آئے گا تو لازم ہے کہ فوق الانسان ہستیوں کے پورے سازوسامان کے ساتھ آئے۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کو مغلوب کرلیا اور انہوں نے اس کا کہا مان لیا، وہ لوگ تھے بھی شرارت سے بھرے،42۔

42۔ یعنی مصری قوم بھی اپنے بادشاہ کی ہم زبان وہم خیال ہوگئی اور وہ تھی بھی پہلے ہی سے گمراہ ..... عقیدے تو مصریوں کے وہی تھے ہی جو خود فرعون کے تھے۔ اب سیاسی حیثیت سے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں قوم اپنے بادشاہ کی ہم خیال ہوگئی۔
Ayahs 43:55–56

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لے لیا، اور ہم نے ان سب کو ڈبودیا ،

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

تو ہم نے انہیں پچھلوں کے حق میں (ایک خاص قسم کا) پیشرو اور نمونہ (عبرت) بنادیا،43۔

43۔ یعنی بعد کی نسلیں ان کی سرکشی اور پھر غرقابی کے قصے یاد کرکے ان کے حال سے عبرت پکڑیں۔ (آیت) ” اسفونا “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ غرقابی فرعون پر حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے۔
Ayahs 43:57–58

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب ابن مریم کو نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا تو آپ کی قوم والے یہ سن کر (مارے خوشی کے) اچھل پڑے ،

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور بول اٹھے کہ اچھا تو افضل ہمارے دیوتا ہوئے یا وہ ؟ ،44۔ (حقیقت یہ ہے کہ) انہوں نے یہ آپ کے سامنے محض کٹ حجتی کے طور پر پیش کیا ہے،45۔

44۔ قرآن مجید میں دوسرے پیغمبروں کی طرح حضرت مسیح کا بھی ذکر بارہا بطور نمونہ ونظیر کے آیا ہے۔ مشرکین عرب ان کا معبود ماناجانا بھی سن چکے تھے۔ اب جو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ان کی مدح و توصیف سنی تو اپنی سفاہت وحماقت سے مارے خوشی کے اچھل پڑے۔ گویا کوئی بڑی سخت گرفت ان کے ہاتھ آگئی، وہ بول اٹھے کہ جب مسیح باوجود اپنی معبودیت کے قابل مدح وداد ہوسکتے ہیں تو پھر آخر ہمارے دیوتاؤں، ٹھاکروں نے کیا برائی کی ہے ! کیوں نہ مسیح کی طرح یہ بھی بزرگ ومقبول سمجھے جائیں ؟ 45۔ نہ کہ تحقیق وطلب حق کے لئے) مشرکوں نے عیسائیوں کے مسیح اور قرآنی مسیح کے درمیان خلط کردیا، کمال حماقت سے مسلمانوں کو مسیحی سمجھ لیا اور ان کے سامنے بطور حجت الزامی وہ چیز پیش کی جو صرف مسیحیوں کے مقابلہ میں پیش کی جاسکتی ہے۔ مسلمان حضرت مسیح (علیہ السلام) کو معبود سمجھتے ہی کب اور کہاں ہیں ؟ وہ تو عین اس عقیدہ پر لاحول پڑھتے ہیں اور اسے کھلا ہوا شرک سمجھتے ہیں۔ معبودیت والے جزء کا جواب تو مسیحیوں سے طلب کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے کیا سروکار۔ قرآن تو اور اس کی تردید ہی بار بار کررہا ہے۔ آج ہندوستان میں بھی اچھے خاصے پڑھے لکھے ہندو لفظ مسیح کو مشترک پاکر اسلامی مسیحی اور مسیحی مسیح کو ایک سمجھ رہے ہیں اور حضرت مسیح کے بارے میں اسلام اور مسیحت کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو،46۔ وہ تو بس ہمارے ایک بندہ تھے کہ ان پر ہم نے اپنا فضل کیا تھا اور انہیں بنی اسرائیل کے لئے ایک نمونہ بنایا تھا،47۔

46۔ یعنی حق کی طلب نہ رکھنے والے بلکہ صرف کج بحثی میں لگے رہنے والے، چناچہ اس مسئلہ میں بھی عیسائیوں کے عقیدہ کو خواہ مخواہ مسلمانوں پر چپیک دیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت واحترام میں بیشک مسلمان اور عیسائی متحد ہیں، لیکن بس اس کے آگے زمین و آسمان کا فرق ہے مسیحی ان کی معبودیت کے، الوہیت کے قائل ہیں، اسلام اس عقیدہ پر لعنت بھیجتا ہے۔ مشرکوں کی غباوت وجہالت ملاحظہ ہو کر عیسائیوں کی مزعومہ الوہیت ومعبودیت کو بطور استدلال مسلمانوں کے مقابہ میں پیش کررہے ہیں۔ لیکن قصور اس معاملہ میں سوفیصد مشرکین عرب کا ہی نہ تھا۔ اس لئے کہ مسیحیت جس طرح کہ وہ اس وقت عرب میں پھیلی ہوئی تھی، خود ہی خالص مسیحیت نہ تھی بلکہ مسیحیت اور شرک کی ایک ملی جلی صورت تھی۔ اور مسیح (علیہ السلام) کا شمار گویا عرب کے بیشمار دیوتاؤں میں سے بطور ایک نئے دیوتا کے ہونے لگا تھا ! نیویارک (امریکا) کے مشہور مسیحی سہ ماہی مسلم ورلڈ کے اکتوبر 1941 ء ؁ نمبر میں ایک مقالہ یونیورسٹی کالج کو رنڈ کے استاد ایف۔ وی۔ وینٹ (Winnete) کے قلم سے ہے اس میں وہ یمن وشام، عرب جنوب، عرب شمال کے قدیم کتبات کا جائزہ لے کر لکھتے ہیں کہ ” ہمیں جو مرقع نظر آتا ہے وہ مسیحیت اور جاہلیت کا مخلوطہ ہے۔ مسیح نے قدیم دیوتاؤں کو بےدخل نہیں کیا، ان کی فہرست میں خود مسیح کا ایک اضافہ ہوگیا۔ جانور مسیح کے نام پر بھینٹ چڑھائے جاتے تھے۔ ان سے دعائیں اسی طرح کی جاتی تھیں جیسے دوسرے دیوتاؤں سے۔ “ (صفحہ 53، صفحہ 54) 47۔ اسلام کا دعوی تو بس اسی قدر ہے۔ وہ تو مسیح کو صرف ایک عبد مقبول ومحترم کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس کے اس عقیدہ پر کسی کے عقیدہ الوہیت ومعبودیت سے آخر کیا زد پڑ سکتی ہے ؟ اسلام میں بلند ترین مقام کمال یہی عبدیت کا مقام ہے۔ (آیت) ” مثلا لبنی اسرآئیل “۔ نمونہ سے مراد نمونہ قدرت بھی ہوسکتی ہے۔ (جس سے اشارہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی فوق العادۃ طریق ولادت کی طرف نکلتا ہے) اور یا یہ مراد ہو کہ وہ امت اسرائیلی کے لیے بہ طور نمونہ وقدوہ کے بھیجے گئے تھے۔
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتے پیدا کردیتے جو زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے،48۔

48۔ اور یہ چیز تو مسیح (علیہ السلام) کی بن باپ کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہوتی) مطلب یہ کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ بےباپ کی ولادت سے بھی کہیں زیادہ عجیب و غریب چیزوں پر۔ (آیت) ” ولونشآء “۔ یعنی اگر ہماری مشیت تکوینی یہی ہوتی۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا،49۔ تو تم لوگ اس میں شک مت کرو، اور تم لوگ میری پیروی کرو، یہی سیدھی راہ ہے،50۔

49۔ یہ اشارہ ہے مسیح (علیہ السلام) کی آمد ثانی کی طرف۔ یعنی آپ کا دوبارہ ظہور قرب قیامت کی ایک یقینی علامت ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور ثانی کی پوری تفصیلات کتب حدیث میں ملے گی۔ ابواب الفتن، اشراط الساعۃ وغیرہا میں۔ (آیت) ” علم “۔ یہاں شرط کے معنی میں ہے۔ ؛ اے شرط من اشراطھا علم بہ فسمی الشرط علما لحصول العلم (کشاف) لان حدوثہ اونزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ دنوھا (بیضاوی) صحابہ وتابعین سب سے یہی منقول ہیں۔ یدل علی قرب قیامھا اذ خروجہ شرط من اشراطھا وھو نزولہ من السمآء فی اخرالزمان (بحر) (عن ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادہ والحسن والسدی والضحاک وابن زید) ایۃ الساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) قبل یوم القیامۃ وھکذا مروی عن ابی ہریرہ ؓ وابن عباس ؓ وابی العالیۃ وابی مالک وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والضحاک وغیرھم (ابن کثیر) علم کی قرأت بھی یہاں بعض صحابیوں اور تابعین کی روایت سے ” علم “ بالفتح ہے۔ جو خود علامت کے معنی میں ہے۔ قرء ابن عباس ؓ العلم وھو العلامۃ (کشاف) وقرء ابن عباس ؓ و ابوہریرہ ؓ وقتادۃ بفتح اللام والعین اے امارۃ وعلامۃ (معالم) 50۔ یعنی پیغمبر کی پیروی ہی سیدھی راہ ہے اور اس میں عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، عقیدۂ معاد سب آگئے۔ (آیت) ” بھا “۔ ضمیر (آیت) ” الساعۃ “۔ کی طرف ہے۔ یعنی وقوع حشر ہرگز کوئی شک وشبہ والی چیز نہیں۔ فی وقوعھا (روح)
Ayahs 43:62–63

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور شیطان تمہیں ہرگز روکنے نہ پائے وہ بیشک تمہارا صریح دشمن ہے ،

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کھلے نشان لے کر آئے،51۔ تو انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت کی باتیں لے کر آیا ہوں، اور اس لئے تاکہ تم پر واضح کردوں وہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،52۔

51۔ (آیت) ” بینات “ میں احکام، دلائل وخوارق سب آگئے۔ ایبالمعجزات وبالشرائع البینات الواضحات (کبیر) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کے جو سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے ظہور وپیام پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔ 52۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہود مختلف فرقوں میں شدید باہمی اختلافات کے ساتھ بٹے ہوئے تھے اور عقائد و احکام کے باب میں سخت خانہ جنگی برپاتھی یہ اشارے صاف اسی طرف ہیں اور قرآن کے اعجاز پر ایک دلیل مزید ہے۔ عرب کے ایک غریب امی کو ایک بالکل دوسری قوم اور دوسرے ملک کے اور وہ بھی ساڑھے پانسو سال قبل کے شدید باہمی اختلافات کی خبر از خود ہو ہی کیا سکتی تھی ؟ (آیت) ” جئتکم بالحکمۃ “۔ الحکمۃ کے جامع لفظ سے تعبیر کیا گیا (آیت) ” فاتقو اللہ واطیعون “۔ ان الفاظ سے صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ اتباع نبی کی راہ میں اصلی رکاوٹ خوف خدا کا فقدان ہی ہے۔ آپس کی نفسا نفسی ضد اور جمود طلب حق کی طرف سے بےالتفاتی سب اسی تقوے الہی کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں۔
Ayah 43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے،53۔

53۔ دین کا اصل الاصول یہی مسئلہ توحید ہے۔ (آیت) ” ان ..... ربکم “۔ وہ ایک خدا جس طرح تمہارا پروردگار، میرا بھی پروردگار، جیسے تم اس کے بندے میں بھی اس کا بندہ ..... مسیحیت پر خاص زد ہے۔
Ayah 43:65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر بھی (مختلف) گروہوں نے آپس میں اختلاف ڈال لیا پس بڑی خرابی ہے ان ظالموں کے لئے ایک پر درد دن کے عذاب سے،54۔

54۔ (آیت) ” للذین ظلموا “۔ ظلم یہاں بھی کفر کے مرادف ہے۔ اور الذین کفروا کے معنی کافرون ہی کے ہیں۔ (آیت) ” فاختلف الاحزاب من بینھم “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو سیدھے سادے مذہب توحید کی دعوت دے گئے تھے، یہ تو ان کے مخاطبین تھے۔ جنہوں نے مسلک توحید سے ہٹ کر طرح طرح کے مذہب تراش لئے۔ ان خرافات کی ذمہ داری مذہب اسلام پر یا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل تعلیمات پر کیا آسکتی ہے۔
Ayah 43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ لوگ یوم قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ بس ان پر یکبارگی آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو،55۔

55۔ ذکر منکرین قیامت کا ہے۔ یہ منکرین انہیں غفلتوں میں پڑے ہوں گے کہ قیامت یک بیک آواقع ہوگی۔
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس روز (دنیا کے) جگری دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر ہاں متقین (نہیں) ،56۔

56۔ عالم آخرت کشف حقائق کا عالم ہے۔ دنیا کی جتنی بھی دوستیوں، محبتوں کیب بنیاد باطل پر ہے سب کا بطلان و فساد اس وقت قدرۃ آئینہ ہوکر رہے گا۔ اور ان دوستوں اور محبوں سے نفرت وبیزاری بھی اسی درجہ شدت کے ساتھ پیدا ہوجانی ناگزیر ہے۔ بخلاف اس کے جن دوستیوں، محبتوں کی بنیاد حق وصلاح پر ہوگی، ان کا نفع واجر بھی قدرۃ اس وقت پوری طرح مشاہدہ میں آئے گا۔ اور اس لئے ایسے محبوبوں کے ساتھ محبت اور بڑھے گی،
Ayah 43:68

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اے میرے بندو آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین نہوگے،57۔

57۔ یہ نداء حشر میں مومینن کو حق تعالیٰ کی طرف سے دی جائے گی، خوف کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اور حزن کا تعلق ماضی سے، یعنی نہ آئندہ کی کسی تکلیف کا اندیشہ کرو، اور نہ اب ماضی کی یاد تمہارے دل میں کوئی کیفیت غم کی پیدا کرے گی ،
Ayahs 43:69–72

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ ہیں) جو ہمارے آیتوں پر ایمان لائے اور (ہمارے) فرمانبردار تھے

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

تم اور تمہاری بیویاں خوش خوش جنت میں جا داخل ہو ،

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان کے پاس سونے کی رکابیاں لائی جائیں گی اور گلاس (بھی) اور وہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کا چاہے گا اور جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی، اور تم یہاں ہمیشہ رہوگے ،

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہی وہ جنت ہے جس کے اپنے اعمال کے عوض میں تم مالک بنا دیئے گئے ہو،58۔

58۔ (جس سے اب کبھی بےدخل نہ ہوگے) یہ منظر سب جنت کے ہیں۔ ہر نعمت، ہر سرور، ہر لذت، مادی ومعنوی، جسمانی وروحانی ہر قسم کی اہل جنت کو حاصل ہوگی، اس میں کوئی استثناء ہی نہیں۔ (آیت) ” وفیھا “۔ ضمیر ھا جنت کی طرف ہے۔ (آیت) ” وانتم فیھا خلدون “۔ اور پھر یہ نعمتیں علاوہ بےاندازو بےحساب ہونے کے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دائمی ہوں گی جن کے قطع ہونیکا کبھی خطرہ ہی نہیں۔ (آیت) ” فیھا ..... الاعین “۔ نفس وعین “۔ کی لذات کی اس تصریح نے حسی وبصری لذات کی اس صراحت نے ان باطل فرقوں کی جڑ کاٹ دی جو سمجھتے ہیں کہ جنت صرف کیفیات روحانی کا محل ہے۔ اور لذات مادی کا وہاں پتہ نشان بھی نہ ہوگا (آیت) ” اور ثتموھابما کنتم تعملون “۔ اہل جنت کو بار بار اس کا بھی یقین دلادیا جائے گا کہ تم اب ان نعمتوں کے مالک بنادیئے گئے ہو۔ بےکھٹکے ان سے جس طرح چاہولذت گیر ہو۔ اور یہ سب تمہیں اپنے اعمال کے حق سے ملا ہے۔
Ayahs 43:73–76

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم کھا رہے ہو ،

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

بیشک نافرمان لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ،

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے ،

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی (اپنے حق میں) ظالم رہے ہیں،59۔

59۔ (کہ پیام اسلام کو سنا ان سنا کرکے اور کفر وشرک کے مرتکبین ہیں نہ کہ مطلقا عاصی، اسے الراسخین فی الاجرام الکاملین فیہ وھم الکفار صفات میں سے نہیں کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم یہاں بھی کافر کے مرادف ہے۔ اے واضعین الکفر موضع الایمان (بحر)
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور یہ لوگ پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کردے وہ کہے گا تمہیں تو (اسی حال میں) پڑا رہنا ہے،60۔

60۔ (نہ مرنا ہے نہ اس سے نکلنا ہے) (آیت) ” یملک “۔ مالک اصطلاحی نام داروغہ جہنم کا ہے۔ (آیت) ” یملک ... ربک “۔ انتہائی اضطرار میں یہ سمجھ کر شاید موت ہی ساری اذیت کا خاتمہ کردے، اہل دوزخ تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش ہمیں موت ہی آجائے ! اور اس درخواست میں داروغہ جن ہم سے سفارش چاہیں گے۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

بالیقین ہم نے سچا دین تم تک پہنچا دیا لیکن تم سے زیادہ تر سچے دین سے بیزاری ہی رکھتے ہیں،61۔

61۔ دین حق کی تبلیغ کے بعد اس سے اسی انکاروکراہت واعتقادی ہی کا نتیجہ تو دوزخ کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
Ayahs 43:79–80

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے کوئی انتظام کر رکھا ہے ؟ ہاں تو ہم نے بھی انتظام کر رکھا ہے،

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا ان کا یہ خیال کہ ہم ان کے رازوں کو اور ان کی سرگوشیوں سن نہیں رہے ہیں ؟ ضرور (سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھتے (بھی) جاتے ہیں،62۔

62۔ (تو بھلا ہم کسی ادنی سے ادنی جزئیہ سے بھی لاعلم وبے خبر رہ سکتے ہیں ! ) (آیت) ” ام یحسبون ..... نجوھم “۔ یہ مشرکین جو اسلام کے خلاف چپکے چپکے اتنی سازشیں اور کمیٹیاں کررہے ہیں تو کیا یہ احمق یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کے کسی جزئیہ سے ناواقف بھی ہیں ؟ (آیت) ” سرھم ونجوھم “۔ سر یعنی جو کچھ اپنے دلوں میں یہ منصوبہ باندھتے رہتے ہیں اور اس کو سب سے راز رکھے ہوئے ہیں۔ اور نجوی یعنی جو کچھ یہ اپنے راز دار دوستوں سے چپکے چپکے صلاح ومشورہ کرتے رہتے ہیں۔