40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تم کو اپنے (اور بھی) نشانیاں دکھاتا ہے، سو تم اللہ کی کن کن نشانیوں سے انکار کرو گے،77۔

77۔ (اور کب تک مسلک شرک پر جمے رہوگے ؟ ) (آیت) ” ایتہ ...... ایت اللہ “۔ مراد وہ سارے واقعات کائنات ہیں جن سے صانع عالم کی توحید پر، قدرت و عظمت پر اور صفت علم و حکمت پر روشنی پڑتی ہے۔
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں جو دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پیشتر ہوئے ہیں، ان کا کیا انجام ہوا ہے وہ لوگ ان سے زیادہ تھے تعداد میں اور (ان سے) بڑھ کر تھے قوت میں اور زمین پر جو اپنی یادگاریں چھوڑ گئے ہیں ان کے لحاظ سے بھی، لیکن ان کی یہ کمائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی،78۔

78۔ تاریخ سے استدلال ہے کہ بڑی بڑی متمدن وپرشوکت قدیم قوموں کے انجام کو دیکھو، جب وہ خدائی قانونوں اور ضابطوں کے توڑنے پر اڑ بیٹھیں تو ان کی مادی ترقیاں اور طاقتیں ان کے کچھ بھی آڑے نہ آسکیں، اور بالآ وہ تباہی کے گھاٹ اتر کر رہیں۔
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ اس علم پر (بڑے) نازاں ہوئے جو انہیں حاصل تھا اور ان پر وہ (عذاب) آپڑا جس پر وہ تمسخر کرتے تھے،79۔

79۔ یہ ایک واقعہ تاریخی ہے کہ انبیاء کرام نے جب جب اپنی دعوتیں دلائل وبراہین کے ساتھ پیش کی ہیں تو انکی مخاطب ” مہذب “ قوموں اور ” متمدن “ امتوں نے اپنے علوم وفنون کے زعم میں اپنے علوم معاشی وسیاسی کے مقابلہ میں ہمیشہ ان دعوتوں کو ٹھکرا ٹھکرا دیا ہے۔ لیکن انجام میں یہ قومیں قانون الہی کی مخالفت کی پاداش میں تباہ ہی ہو کر رہی ہیں۔ یہاں ذکر اسی حقیقت تاریخی کا ہے۔ (آیت) ” ما عندھم من العلم “۔ یعنی ان کے علوم دنیوی۔ یرید علمھم بامور الدنیا (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ایسے علم پر فخر کرنے ممانعت ہے جو شریعت کے مخالف ہو اور اسی میں تصوف باطل بھی شامل ہے۔
Ayahs 40:84–85

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے، اور ان سب چیزوں سے منکر ہوگئے جنہیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

سو انہیں ان کا (یہ) ایمان کچھ نفع نہ پہنچا سکا، جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا، اللہ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے،80۔

80۔ مشاہدہ ومعاینہ عذاب کے بعد جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ تو ایمان اضطراری ہے جو مقصود ومطلوب نہیں، اور اس لئے اس موقع پر لا حاصل رہتا ہے، مقصود ومطلوب تو ایمان اختیاری ہے جس کا دوسرا نام ایمان بالغیب ہے۔ اصطلاح میں ایمان اضطراری وغیرمقصود کا نام ایمان باس ہے۔ (آیت) ” فلم یک ینفعھم ایمانھم “۔ ایمان کا لفظ ملحوظ رہے جو شے اس حالت میں غیر مقبول رہتی ہے وہ کفر سے رجعت ہے نہ کہ معصیت سے، کافر کا ایمان ایسے وقت میں غیر مقبول ونامستند رہے گا، لیکن مومن عاصی کی توبہ اس وقت بھی انشاء اللہ ضرور قبول ہوجائے گی۔ وھذا الحکم خاص بایمان الباس واما توبۃ الباس فھی مقبولۃ نافعۃ بفضل اللہ تعالیٰ وکرمہ والفرق ظاہر (روح) (آیت) ” ھنالک “۔ ہے تو ظرف مکان کے لئے، لیکن یہاں وقت کے لئے آیا ہے، بطور ظرف زمان، مکان مستعار للزمان (مدارک) اسم مکان قد استعیر للزمان (روح)