40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 40:41–42

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میرے بھائیو یہ کیا ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور ایسی چیز کو اس کا شریک کروں جس کے (شریک ہونے) پر میرے پاس کوئی دلیل نہیں درآنحالیکہ میں تمہیں (خدائے) غالب و غفار کی طرف بلاتا ہوں،41۔

41۔ خدائے غالب وزبردست ایسا کہ وہ گرفت کرے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور غفار ایسا کہ وہ مغفرت کرنا چاہے تو کوئی اس میں حائل نہ ہوسکے۔ (آیت) ” مالی “۔ کلمہ استعجاب ہے، مطلب یہ کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میں تو تمہیں راحت ابدی اور حقیقۃ الحقائق کی طرف بلارہا ہوں اور تم اس کے بالکل برعکس مجھے عذاب دائمی اور باطل محض کی طرف لے جانا چاہتے ہو۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یہ یقینی بات ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ پکارے جانے کے قابل نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں اور یہ بھی کہ ہم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور یہ بھی کہ حد سے نکل جانے والے سب دوزخی ہی ہوں گے،42۔

42۔ یعنی تمہاری دعوت تو حقیقت سے بالکل معرا ہے ..... آخر شرک پر بڑی چھوٹی، عقلی، نقلی کوئی سی بھی دلیل قائم ہے ؟ (آیت) ” المسرفین “۔ مسرفین۔ یہ عبودیت سے نکل جانے والے مشرکین ہوتے ہیں۔ قال قتادۃ وابن سیرین یعنی المشرکین (قرطبی) (آیت) ” لیس ...... الاخرۃ “۔ یعنی ان تمام تمہاری مورتیوں اور دیوی دیوتاؤں میں تو سرے سے صلاحیت ہی نہیں کہ اپنی معبودیت کا دعوی پیش کرسکیں۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سوعنقریب تم میری بات کو یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ تو اللہ کے سپرد کئے ہوئے ہوں، بیشک اللہ بندوں کا خوب نگراں ہے،43۔

43۔ (اس کی نظر سے کسی کے قول یا عمل کا پوشیدہ رہ جانا کیونکر ممکن ہے) (آیت) ” فستذکرون “۔ س سے مراد ہے نزول عذاب کے وقت خواہ وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ اے عند نزول العذاب (مدارک) عند معاینۃ العذاب (بیضاوی) اذا حل بکم العذاب (قرطبی)
Ayahs 40:45–46

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس (مومن) کو ان لوگوں کی مضر تدبیروں سے محفوظ رکھا اور اہل فرعون کو موذی عذاب نے گھیرلیا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کرو،44۔

44۔ یہ آیت اثبات عذاب قبر ووجود برزخ میں ایک نص صریح ہے۔ دل علی ان المراد النار یعرضون علیھا قبل القیامۃ (جصاص) ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر (جصاص) والجمھور علی ان ھذا العرض فی البرزخ (قرطبی) ھذہ الایۃ دلیل علی عذاب القبر (مدارک) وفیہ دلیل علی بقاء النفس و عذاب البرزخ (بیضاوی) احتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی اثابات عذاب القبر (کبیر) ذالک یدل علی اثبات عذاب القرب فی حق ھؤلآء واذا ثبت فی حقھم ثبت فی حق غیرھم لانہ لاقائل بالفرق (کبیر) وھذہ الایۃ اصل کبیرفی استدلال اھل السنۃ علی عذاب البرزخ فی القبور (ابن کثیر) ھذہ الایۃ تمسک بھا اھل السنۃ فی اثبات عذاب القبر صرح بذالک فی علم الکلام وکتب التفاسیر جمیعا (احمدی) لیکن مفسر ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے برزخ میں صرف ارواح پر عذاب ثابت ہوتا ہے باقی ان روحوں کے سبب سے قبور میں جسموں کا بھی معذب ہونا، تو اس کا ثبوت احادیث نبوی سے ہوتا ہے۔ اور آگے احادیث نقل کی ہیں :۔ الجواب ان الایۃ دلت علی عرض الارواح علی النار غدوا وعشیا فی البرزخ ولیس فیھا دلالۃ علی اتصال تألمھا باجسادھا فی القبور اذ قد یکون ذلک مختصا بالروح فاما حصول ذلک للجسد فی البرزخ وتالمہ بسببہ فلم یدل علیہ الا السنۃ فی الاحادیث المرضیۃ الاتی ذکرھا۔ اور احادیث اس باب میں بکثرت ہیں۔ و احادیث عذاب القبر کثیرۃ جدا (ابن کثیر) (آیت) ” غدواوعشیا “۔ ایک معنی تو یہی صبح وشام کے ہیں یعنی ایسے اوقات میں جو ہمارے عالم ناسوت کے صبح وشام کے مقابل ہوں گے۔ قال الفراء فی الغداۃ والعشی بمقادیر ذلک فی الدنیا (قرطبی) دوسرا مفہوم ” ہمیشہ “ کا بھی ہوسکتا ہے۔ جوز ان یکون المراد بالتابید اکتفاء بالطرفین المحیطین عن الجمیع (روح) لایمتنع ان یکون ذکر الغدوۃ والعشیۃ کنایۃ عن الدوام (کبیر) اے مادامت الدنیا کذالک قال مجاھد وعکرمہ (قرطبی)
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جبکہ (کافر) دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو ادنی درجہ کے لوگ بڑے درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ہی تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جز ہٹا سکتے ہو ؟ ،45۔

45۔ یعنی دنیا میں جن کی حیثیت پس روؤں اور تابعین کی تھی، وہ اپنے سرداروں، رئیسوں سے دوزخ میں کہیں گے کہ دنیا میں تو آپ ہم پر حاکم وبالا دست تھے۔ اب یہاں بھی اپنے اثر واقتدار سے کام لے کر کچھ ہماری مصیبت ہلکی کرائیے۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی اس میں (پڑے) ہیں اللہ تو اب بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا،46۔

46۔ وہ بڑے لوگ جواب میں کہیں گے کہ واہ، جہاں تم وہاں ہم، ہم میں اگر کچھ قدرت ہوتی تو ہم اپنے ہی کو بچانے کی فکر نہ کرتے اور اب تو حق تعالیٰ کا آخری اور قطعی فیصلہ صادر ہوچکا، اب ہو ہی کیا سکتا ہے ؟
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں (پڑے) ہوں گے وہ دوزخ کے پہرہ داروں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کردے،47۔

47۔ (کہ ہم کو تو ایک ہی دن کے عذاب میں تخفیف انتہائی نعمت معلوم ہوگی) خزنۃ جھنم۔ جہنم کے پہرہ دار ظاہر ہے کہ فرشتے ہوں گے۔ مفسرین نکتہ رس نے کہا ہے کہ اس موقع پر خزنتھا بھی کافی ہوسکتا تھا کہ اسم نار تو معا قبل موجود ہی ہے لیکن قرآن مجید بکمال بلاغت (آیت) ” جھنم “ کا نام تصریحا لایا تاکہ تہویل وتخوفی کا مقصد زیادہ حاصل ہو، وانما لم یقل لخزن تھا لان فی ذکر جہنم تھویلا وتفظیعا (مدارک) المقصود من ذکر جھنم التھویل والتفظیع (کبیر)
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے اچھا تو کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانات لے کر نہیں آتے رہے تھے ؟ ،48۔ (دوزخی) بولیں گے کیوں نہیں (فرشتے) کہیں گے تو پھر تم ہی دعا کرلو اور کافروں کی دعا تو بس بےاثر ہی ہے،49۔

48۔ (اور انہوں نے تمہیں دوزخ سے بچے رہنے کے طریقے نہیں بتائے تھے ؟ (آیت) ” بالبینت “۔ بینات کے تحت میں معجزات، دلائل عقلی وغیرہ ہر وہ چیز آئے گی جو ایمان ویقین پیدا کرسکتی ہے۔ 49۔ (آخرت میں) ایمان اجابت دعا کی شرط ہے اور اس کا موقع اس دنیا کے دار العمل میں تھا۔ آخرت کے دارالجزاء میں اس کا امکان ہی نہیں۔ فرشتے دعاء سے اس لئے انکار کریں گے کہ ایمان سے محروموں کے حق میں دعاء کا اذن ہی نہیں۔ لم یؤذن لنا فی الدعاء لامثالکم (بیضاوی) (آیت) ” وما ..... ضلل “۔ دعاء کی اس بےاثری کا تعلق کافروں کی دعاؤں سے اور وہ بھی دنیا میں نہیں قیامت کی دن کا ہے۔ والحق بان الایۃ فی دعاء الکفار یوم القیامۃ (روح)
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بیشک ہم مدد کرتے رہتے ہیں اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی اور اس روز بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے،50۔

50۔ یعنی قیامت کے دن۔ (آیت) ” الاشھاد “۔ گواہوں سے یہاں مراد نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے ہیں، وہی قیامت میں اس کی بھی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے تبلیغ کی اور کافروں نے اس کی تکذیب، انبیاء وعامہ مومنین بھی اس کے تحت میں آسکتے ہیں۔ قال مجاھد الاشھا دالملائکۃ (ابن کثیر) والمراد بھم من یقوم یوم القیامۃ للشھادۃ علی الناس من الملائکۃ تشھد للانبیاء بالابلاغ وعلی الامم بالتکذیب وقال قتادۃ الملائکۃ والانبیاء (قرطبی) (آیت) ” فی الحیوۃ الدنیا “۔ مومینن کی منصوریت، حشر میں ہونا ظاہر ہی ہے۔ باقی دنیا میں بھی جہاں تک دلائل سے غلبہ کا تعلق ہے بالکل ظاہر ہے، اب لے دیکر دنیا میں غلبہ مادی رہ جاتا ہے۔ سو اس حیثیت سے بھی اہل حق انجام کار میں عموما کامیاب ہی ہوتے ہیں اور ان کی کوششیں بالآخر رائیگاں نہیں جاتیں۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

(یعنی) اسی دن جب کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس عالم میں خرابی ہوگی،51۔

51۔ (اور آپ اور آپ کے پیرو منصور رہیں گے۔ سو آپ تسلی رکھئے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالمین سے جیسا کہ قرآن کی عام اصطلاح ہے یہاں بھی کافر ہی مراد ہیں۔
Ayahs 40:53–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم بالیقین موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ دے چکے ہیں اور ہم نے بنی اسرائیل کو

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

ہدایت ونصیحت کی کتاب پہنچائی اہل عقل کے لئے،52۔

52۔ یعنی نفع اس کتاب سے وہی اٹھاتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور جو عقل سے کام نہیں لیتے وہ نفع سے محروم رہ جاتے ہیں۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجئے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے،53۔ اور معافی مانگئے اپنی کوتاہی کی اور اپنے پروردگار کی تسبیح وحمد شام اور صبح کرتے رہئے،54۔

53۔ (اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات سے تسلی حاصل کیجئے) (آیت) ” وعدہ اللہ “۔ وعدہ سے مراد وعدہ نصرت الہی ہے یہ (آیت) ” انا لننصر رسلنا “۔ میں ابھی مذکور ہوچکا ہے۔ 54۔ (کہ یہ مشغولیت ذہن کو امور ملال انگیز کی طرف التفات کا موقع ہی نہ دے گی) (آیت) ” لذنبک “۔ عربی زبان میں ذنب اور اثم کے درمیان فرق ہے اردو میں ذنب کا مفہوم کوتاہی ہی سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ نحملہ علی التوبۃ عن ترک الاولی والافضل (کبیر) (آیت) ” بالعشی والابکار “۔ محاورہ میں اس سے مراد دوام یا ہمیشگی بھی ہے۔ اے دوم علی عبادۃ ربک (کشاف) عبربالطرفین وارید جمیع الاوقات (روح) وبالجملۃ فالمراد منہ الامر بالمواظبۃ علی ذکر اللہ (کبیر)
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ جھگڑے نکالتے رہتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر اس کے کہ کوئی سند ان کے پاس موجود ہو ان کے دلوں میں نرمی بڑائی ہی (بسی ہوئی) ہے کہ وہ اس تک پہنچنے والے نہیں،55۔ سو آپ اللہ کی پناہ مانگتے رہئے بیشک وہی (سب) سننے والا ہے (سب) دیکھنے والا ہے،56۔

55۔ یعنی یہی اپنے کو بڑا سمجھنا ہی تو سبب مجادلہ باطل کا ہے دوسرے کے اتباع سے عار آتا ہے، سیادت کے مرتبہ پر خود ہی قائم رہنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جس بڑائی کی ہوس میں ہیں وہ انہیں نصیب ہونا نہیں۔ عنقریب ذلیل و خوار ہوں گے۔ (آیت) ” یجادلوں .... اتھم۔ یعنی بغیر اس کے کہ کوئی بھی وجہ یا بنیاد اشتباہ کی موجود ہو۔ 56۔ (اور آپ کی نصرت وحمایت پر ہر طرح قادر ہے) (آیت) ” فاستعذ باللہ “۔ یعنی اللہ سے پناہ مانگتے رہئے ان معاندین وحاسدین کے شروفتنہ سے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے یقیناً بڑھ کر (کام) ہے لیکن اکثر آدمی (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے،57۔

57۔ اشارہ منکرین قیامت کی طرف ہے۔ جس خالق اکبر کے لئے زمین و آسمان کا پیدا کرنا انہیں مسلم ہے اس کی بابت اس پر استعجاب کرنا کہ وہ انسانوں کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا کیسی کم عقلی اور نافہمی کی بات ہے !
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اور نہ وہ (برابرہوسکتے ہیں) جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور بدکار تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو،58۔

58۔ (ورنہ اب تک نابینا وفسق پیشہ نہ رہتے، سب کے سب بینا وباایمان ہوگئے ہوتے) (آیت) ” المسی ٓ ء “۔ لفظی معنی تو بدکار یا بدعمل کے ہیں، یہاں مراد کافر ہے۔ لا یستوی ال مومن ون الابرار والکفرۃ الفجار (ابن کثیر)
Ayahs 40:59–60

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت ضرور ہی آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا،59۔ جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے

59۔ (خواہ عاجلا خواہ آجلا اپنے قانون حکمت ومشیت کے ماتحت) خطاب یہاں عام نسل انسانی سے ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے عبدیت کی فضیلت اور اس کا منافی توکل ورضا ہونا ثابت ہے۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور (اس نے) دن کو روشن بنایا بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں ادا کرتے،60۔

60۔ (اور شکرگذاری کی بڑی فرد منعم حقیقی کی توحید کا اقرار کرنا ہے) عوام کا ذکر نہیں، یونان، مصر، ہندو وغیرہ کے بڑے بڑے ” فلاسفہ “ و ” حکماء “ تاثیر کواکب، تصرفات افلاک، تعدد آلہہ، عقل کل، رب النوع وغیرہ خدا معلوم کن کن خرافات کے قائل ہوئے ہیں، (آیت) ” الذی ...... مبصرا “۔ مشرک وجاہلی قوموں نے ” دن “ اور ” رات “ کو بھی بجائے مخلوق ہونے کے مستقل معبود مان کر ان کی پرستش کی ہے۔ قرآن مجید ان احمقوں کی برابر تردید کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” الیل لتسکنوا فیہ “۔ رات کا عام مخلوق کے لئے تو زمان استراحت ہونا ظاہر ہی ہے۔ رہے اہل ریاضات ومجاہدات تو ان کے تو عین لذت وحلاوت کی چیزیں یہی مشغلہ عبادت و مجاہدہ ہے اور وہ اپنی راتیں انہیں میں گذارتے ہیں۔ (آیت) ” ان .... الناس “۔ اس کا صاحب فضل عمیم ہونا اسی سے ظاہر ہے کہ وہ مخلوق کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایتیں ملحوظ رکھتا ہے۔
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہی تو اللہ ہے تمہارا پروردگار ہر شے کا پیدا کرنے والا اس کے سوا کوئی خدا نہیں سو تم لوگ کہاں بھٹکے جارہے ہو،61۔

61۔ (کہ اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کئے جاتے ہو) (آیت) ” اللہ ..... ھو “۔ خدائے واحد کی یہاں پہلی صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ ساری مخلوق کا پروردگار، یاپالنہار ہے۔ دوسری صفت یہ کہ موجودات میں سے بڑی، چھوٹی، بلااستثناء ہر چیز کو عدم سے وجود میں لانے والا وہی ہے اور تیسری صفت یہ کہ معبودیت میں کوئی بھی کسی جہت سے اس کا شریک نہیں۔
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھی بھٹکتے رہے ہیں جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے رہتے تھے،62۔

62۔ یعنی کچھ تم ہی پر موقوف نہیں، تم سے قبل بھی بہت سی قوموں نے تعصب وعناد سے یہی راہ تکذیب اختیار کی ہے۔ (آیت) ” بایت اللہ “۔ ایات سے یہاں تکوینی وتشریعی دونوں قسم کی آیات یا معجزات و دلائل اور احکام دونوں مراد ہیں۔ (آیت) ” یجحدون “۔ جحد پر اوپر کہیں حاشیہ گذر چکا ہے کہ اس سے مراد اس انکار سے ہوتی ہے جو ہٹ دھرمی پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت اور تمہارا نقشہ بنایا سو تمہارا عمدہ نقشہ بنایا اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں یہی تو ہے اللہ تمہارا پروردگار سو اللہ سارے عالم کا پروردگار بڑا عالی شان ہے،63۔

63۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ اللہ کائنات کا صرف خالق ہی ہو کر اب معطل نہیں ہوگیا ہے (جیسا کہ بعض جاہلی قوموں کا خیال ہے) بلکہ منتظم، مدبر، رازق بھی ہے۔ (آیت) ” جعل ...... بنآء “۔ یہ زمین و آسمان سب اسی کا خالق بھی وہی ہے۔ جوہر وعرض سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ (آیت) ” فاحسن صورکم “۔ ترکیب انسانی کے بہترین ہونے اور اس کے قوی واعضاء کے تناسب کی طرف اشارہ ہے۔ صوفیہ نے یہیں سے یہ رمز سمجھا ہے کہ انسان جمال و کمال خداوندی کا آئینہ ہے۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں سو تم اسی کو پکارا کرو خالص اعتقاد کرکے ساری خوبیاں اللہ پروردگار عالم ہی کے لئے ہیں،64۔

64۔ (اور مخلوق کا ہر ظاہری کمال حقیقتہ اسی کمال خداوندی کا پر تو ہے) (آیت) ” ھوالحی ........ ھو۔ یعنی صفت حیات صرف اسی مالک، مولی کا خاصہ ہے۔ حیات ازلی وابدی میں اس کا کوئی شریک نہیں نہ مسیح نہ کوئی اور۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس حی وقیوم کو کبھی فناء نہیں اسے کہیں مشرک جاہلی قوموں کی دیویوں دیوتاؤں پر نہ قیام کربیٹھنا، جن کا حادث وفانی ہونا خود انہیں مسلم ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان (شریکوں) کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے پروردگار کی نشانیاں آچکیں اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں (صرف) پروردگار عالم کے آگے گردن جھکاؤں،65۔

65۔ (تو میں اس مسلک توحید سے کہیں بال بھر بھی ادھر ادھر کیسے ہوسکتا ہوں) (آیت) ” البینت “۔ بینات کا عموم ہر قسم کے دلائل و شواہد پر شامل ہے۔
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہ وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر تم کو بچہ کرکے نکالتا ہے پھر (مہلت دیتا ہے جب تک) تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر (مہلت دیتا ہے جب تک کہ) تم بوڑھے ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور (مہلت دیتا ہے جب تک کہ) تم سب اپنے وقت مقرر تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم لوگ سمجھ لو،66۔

66۔ یعنی اپنے وجود کے ان پر حکمت اور تدریجی انقلابات وادوار پر غور کرکے حق تعالیٰ کی حکمت، عظمت، توحید پر ایمان لے آؤ اور بعث وحشر کی حکمتوں اور مصلحتوں کے قائل ہوجاؤ (آیت) ” لتبلغوا۔ لتکونوا۔ لتبلغوا۔ ل ان سب مقامات پر عاقبت کا ہے۔ من قبل۔ یعنی جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں پر پہنچنے سے قبل ہی۔ (آیت) ” ولتبلغوا اجلا مسمی “۔ یعنی کسی کی موت خواہ بڑھاپے میں آئے یا جوانی میں یا اس سے بھی قبل، بہرحال سب کی اسی وقت مقرر پر آتی ہے جو حکیم مطلق کی مشیت اس کے لئے طے کئے ہوتی ہے۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس کی نسبت کہتا ہے کہ ہوجا، سو وہ ہوجاتا ہے،67۔

67۔ اس بنیادی حقیقت توکوینی کو عمل تخلیق کی تدریج کے مسئلہ سے نفیایا اثباتا کوئی تعلق نہیں، آیت کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ ارادہ الہی اور عمل تخلیق کے درمیان چھوٹی بڑی کوئی دوسری شے حائل نہیں ہوسکتی نہ ارادۂ الہی پر کوئی دوسری شے ذرا سی بھی قید لگا سکتی ہے۔ (آیت) ” یقول لہ کن فیکون “۔ یہ مضمون کئی بار قبل آچکا ہے۔ حاشیے وہیں گزر چکے۔ (آیت) ” ھو الذی یحی ویمیت “۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی وموت دونوں تمامتر اسی کے ہاتھ میں ہیں ...... یہ نہیں کہ زندگی بخشنے والے دیوتافلاں ہیں اور موت لانے والے دیوتافلاں۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے رہتے ہیں، یہ کہاں پھرے چلے جارہے ہیں،68۔

68۔ (حق کو چھوڑے ہوئے) (آیت) ” یجادلون فی آیت اللہ “۔ اللہ کے کھلے ہوئے احکام کو جو پیغمبروں کی معرفت حاصل ہوں تسلیم کرنے سے انکار کرنا، اور واقعات تکوینی سے ایمان و توحید کا درس حاصل نہ کرنا، یہ سب آیات الہی سے مجادلہ کرنے میں داخل ہے۔
Ayahs 40:70–72

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی جسے دے کر ہم نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا تھا، سو ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے،

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جبکہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گے، ان کو گھسٹیتے ہوئے کھولتے ہوئے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

پانی میں لے جایا جائے گا پھر یہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے،69۔

69۔ یہ نقشہ ہے حشر میں قابل صد تحقیر وموجب صد ہزار تعزیر مجرموں کے ساتھ برتاوے کا۔ (آیت) ” بما ارسلنا بہ رسلنا “۔ اس عموم کے اندر معجزات، احکام، دلائل سب آگئے۔
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ غیر اللہ کہاں گئے جن کو تم شریک (خدائی) ٹھہراتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے بلکہ ہم تو کسی کو بھی اس کے قبل نہیں پکارتے تھے اللہ اسی طرح کافروں کو گمراہی میں رکھتا ہے،70۔

70۔ (انکی زندگی بھر ان کے کفر اختیاری کی پاداش میں) (آیت) ” بل ..... شیئا “۔ یعنی یہ حقیقت تو ہم پر اب منکشف ہوئی کہ ہم دنیا میں جن چیزوں کی عبادت کرتے تھے وہ تو نفی محض تھیں، ہم نے درحقیقت نفی محض کی عبادت میں اپنی عمریں گنوادیں۔ ولیس ھذا انکار العبادۃ الاصنام بل ھو اعتراف ان عبادتھم الاصنام کانت باطلۃ (قرطبی)
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ (سزا) اس کی ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشی مناتے تھے اور اس کی کہ تم اترایا کرتے تھے،71۔

71۔ (اپنی حقیقت اور حقوق الہی کو بھول کر) مطلب یہ ہوا کہ متاع دنیا کو اصل مقصود سمجھ کر اس کے حصول پر دل میں بھی خوب خوش ہوتے تھے اور ظاہر میں بھی اس کے آثار خوب نمودار ہوتے تھے۔ (آیت) ” تفرحون۔ تمرحون “۔ فرح کا تعلق قلب سے ہے اور مرح کا جسم سے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فرح یا خوشی اپنی مطلق صورت میں ممنوع ہے۔ مذمت صرف اس فرح کی وارد ہوئی ہے جو آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کا نتیجہ ہو یا اہل ایمان کے مصائب پر بطور نعمتوں پر یا اللہ کی رحمت کو یاد کرکے ہو وہ تو بجائے خود ایک عبادت ہے اور ہر طرح سے محمود ومستحسن۔
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

(اب) گھسو دوزخ کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ پڑے رہنے کو، سو وہ برا ٹھکانا ہے متکبرین کا،72۔

72۔ (جن کے قبول حق کی راہ میں ان کا تکبر ہی مانع رہتا ہے) (آیت) ” ابواب جھنم “ جن ہم کے دروازے متعدد ہوں گے اور ہوسکتا ہے کہ ہر ہر طبقہ کے منکرین کے لئے الگ الگ دروازہ ہو۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو آپ صبرکیجئے، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اگر اس میں سے کچھ تھوڑا ہم آپ کو دکھلا دیں یا آپ کو وفات دے دیں سو (بہرحال) ہمارے ہی پاس انہیں آنا ہوگا،73۔

73۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کا وعدہ تو ان کافروں سے مطلق صورت میں ہے کہ کفر فی نفسہ موجب تعذیب ہے۔ باقی اگر اس میں کچھ عذاب کا نزول آپ کی حیات ہی میں دنیا میں ان پر ہوجائے یا ان نزول کے قبل ہی آپ کی وفات ہو اور عذاب بعد میں نازل ہو یا نہ ہو، ہر حال میں اور ہر احتمال پر انہیں لوٹناتو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور اس وقت یقیناً عذاب واقع ہوگا۔ (آیت) ” ان وعداللہ حق “۔ وعدہ سے مراد وعید عذاب ہے۔ (آیت) ” فاما “۔ مازائد شرط کے موقع پر تاکید کلام کے لئے ہے۔ اور نون ثقیلہ بھی اسی لئے ہے۔ وما مزیدۃ لتوکیدمعنی الشرط (مدارک) وما زائدۃ للتوکید وکذا النون (قرطبی)
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پیشتر بہت سے پیغمبر بھیجے جن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ سے بیان کیا ہے اور کسی رسول کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی معجزہ بدون اذن الہی کے ظاہر کرسکے،74۔ پھر جس وقت اللہ کا حکم آپہنچے گا، ٹھیک ٹھیک فیصلہ ہوجائے گا، اور اس وقت اہل باطل بڑے گھاٹے میں رہیں گے

74۔ (سو آپ سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ آپ ان کے فرمائشی معجزات کو اپنے آپ سے پورا کرسکیں گے) (آیت) ” منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک “۔ رسول جتنے دنیا میں آچکے ان کی صحیح تعدادتو اللہ ہی کے علم میں ہے۔ یہاں یہ اصولی حقیقت بیان کردی ہے کہ جتنے پیغمبروں کا ذکر قرآن مجید میں لانا قرین مصلحت تھا۔ ان کے علاوہ بھی ایک تعداد پیغمبروں کی ہوئی ہے۔ (آیت) ” وما کان ..... اللہ “۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ ظہور معجزات وخوارق پیغمبر کے اختیار کی چیز نہیں ہوتی۔ یہ تمامتر تصرف خداوندی ہی ہے کہ جب کسی خارق یا معجزہ کا ظہور قرین حکمت ہوتا ہے، کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر کردیا جاتا ہے، اس سے وہ گروہ سبق لے جو ” کرامات “ و ” خوارق “ کو اولیاء اللہ ومقبولین حق کے لئے لازمی سمجھتا اور ان کے اختیار کی چیز مانتا ہے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تصرفات مستقل پر اولیاء کے قادر ہونے کا رد آیت سے بدرجہ اولی نکل آیا۔
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور تم ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو،75۔

75۔ غرض یہ کہ حیوانات کو تمہارے خادم ہی کی حیثیت سے پیدا کیا کہ کہیں تو ان سے سواری کا کام لو اور کہیں انہیں اپنی غذا کے کام میں لاؤتویہ کس درجہ شدید حماقت اور جہالت ہے کہ تم الٹا انہیں کو اپنا مخدوم بلکہ معبود ماننے لگتے ہو اور انسان خلیفۃ اللہ و اشرف الخلائق ہو کر حیوان پرستی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ! حیوان پرستی، شرک کا ایک بہت بڑا مظہر دنیا میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ گاؤ پرستی کے منظر سے ہندوستان میں کون ناواقف ہے ؟ ناگ پنچمی، ہنومان مندر وغیرہ کے قسم کی چیزیں ان کے علاوہ جنوبی ہند کے بعض علاقوں میں بھینس ایک ” مقدس “ جانور ہے، اور ہندوستان کے علاوہ بابل، مصر وغیرہ میں بھی حیوان پرستی کی بلاعام رہی ہے، ملاحطہ ہو حاشیہ تفسیر القرآن انگریزی۔ (آیت) ” لکم “۔ ل تعلیل کا ہے۔ یعنی تمہاری مصلحت ونفع کی غرض سے۔ واللام للتعلیل اے خلقھا لاجلکم ولمصلحتکم “۔ (روح) (آیت) ” ھنالک “۔ ظرف مکان، یہاں بطور ظرف زمان آیا ہے۔ اسم مکان استعیر للزمان (روح)
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور تاکہ تم ان پر (سوار ہوکر) اپنے دلوں کے مقصد تک پہنچو اور تم ان پر اور کشی پر لدے لدے پھرتے ہو،76۔

76۔ (اپنے مقاصد دنیوی کیلئے) (آیت) ” منافع “۔ اس کے تحت میں اگر ایک تجارت ہی کی مد کو لیجئے تو خدا معلوم اس کی کتنی شاخیں نکلتی چلی آئیں۔ کچے گوشت کی تجارت، خشک شدہ محفوظ گوشت کی تجارت، اون کی تجارت، کھالوں کی تجارت، آنت کی تجارت ہڈی کی تجارت، دانت کی تجارت، دودھ، دہی، پینر، گھی، مکھن، کریم، بالائی کی تجارت، وقس علی ہذا ..... اور طبی فوائد کو کوئی گنانا چاہے تو وہ اس کے علاوہ ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے ان جاہل صوفیہ کا بھی رد نکل آیا جو اسباب معیشت سے نفع اٹھانے کو طریق و سلوک کے منافی سمجھتے ہیں، (آیت) ” حاجۃ فی صدورکم “۔ اس کے تحت میں تفریحی سفر، تجارتی سفر، جنگی سفر، خانگی سفر، مذہبی سفر سب آجاتے ہیں۔