38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 38:80–81

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

ارشاد ہوا جا تجھے مہلت دے دی جائے گی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

روز موعود تک،70۔

70۔ (کہ تو بھی اپنے دل کے حوصلے نکال دیکھ)
Ayahs 38:82–83

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

بولا کہ مجھ کو بھی تیری ہی عزت کی قسم کہ میں سب کو بہکاؤں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

بجز ان میں سے ان بندوں کے جو منتخب کرلئے گئے ہیں،71۔

71۔ ابلیس اپنے سارے دم خم، اور اتنے بلند بانگ دعو وں کے باوجود حق تعالیٰ کے ان بندوں کے سامنے شروع ہی سے ہار مانے ہوئے ہے جو اپنے کو اس کے اثرات سے بچانے کی فکر واہتمام میں لگے ہوتے ہیں اور ان کے حق میں اسے اغواء تک کی ہمت نہیں ہوتی۔ (آیت) ” الا ...... المخلصین “۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ کہا ہے کہ ابلیس نے یہ استثناء کرکے اپنی سچائی کو قائم رکھا، یعنی اندھا دھند یہ دعوی نہیں کر بیٹھا کہ میں سارے ہی انسانون کو بہکالوں گا، بلکہ اللہ کے نیک وپارسا بندوں کو اس سے مستثنی کردیا، تو جھوٹ ایسی گندی چیز ہے جس سے ابلیس تک حیا آئی، تو اس مسلمان کی حالت پر حیف ہے جو مومن ہو کر جھوٹ سے پرہیز نہ کرے ! وعند ھذا یقال ان الکذب شحتیء یستنکف منہ ابلیس فیکف یلیق بالمسلم الاقدام علیہ (کبیر) (آیت) ” لاغوینھم اجمعین “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ شیطان اس فقرہ میں اغواء کو اپنی ذات کی جانب منسوب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں وہ حیران ومترددہی ہے، وھذا یدل انہ متحیر فی ھذہ المسلہ (کبیر) (آیت) ” لاغوینھم “ لفظ اغواء پر خوب غور کرلیا جائے، اغواء کی حقیقت صرف وسوسہ اندازی کی ہے، ابلیس کے میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ وہ معصیتوں اور نافرمانیوں کو خوشنما اور خوش رنگ بنا کر پیش کردے، وہ زیادہ بس یہی کرسکتا ہے، اور اس سے آگے اپنے فخریہ اور تعلی آمیز دعو وں کے وقت بھی نہیں بڑھتا۔
Ayahs 38:84–85

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ سچ یہ ہے اور سچ تو میں (ہمیشہ) کہتا ہی ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں بھی تجھ سے اور ان میں سے جو تیرا ساتھ دیں ان سب سے دوزخ کو بھردوں گا،72۔

72۔ یعنی تو اگر اپنے دعوے میں کامیاب ہو بھی گیا، تو اس میں حق تعالیٰ کا کیا ضرر، تو خود اور تیرے چیلے چانٹے، جو بھی تیرا دم بھریں گے خود ہی سزا بھگتیں گے۔ (آیت) ” منک “۔ مراد جنس شیطانی سے ہے۔ اے من جنسک وھم الشیاطین (کبیر) اس سے ملتا ہوا مضمون سورة الاعراف (پ 8) میں اور سورة ہود (پ 11) میں آچکا ہے، وہاں کے حاشیے بھی ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 38:86

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی بھی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں،73۔

73۔ (کہ اپنی عادت تصنع کے مطابق جھوٹا دعوئے نبوت کررہا ہے) جھوٹے دعوئے نبوت کے محرک دو ہی ممکن تھے، یا جاہ ومال کے قسم سے کسی معاوضہ کا خیال تو اس کی نفی (آیت) ” مااسئلکم علیہ من اجر “۔ میں آگئی۔ اور یا محض عادت یا اقتضاء طبعی۔ سو اس کی نفی (آیت) ” وما انا من المتکلفین “۔ سے ہورہی ہے۔
Ayahs 38:87–88

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو دنیا جہاں والوں کے لئے ایک نصیحت ہے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تھوڑے ہی دن بعد تم اس کا حال معلوم کرکے رہو گے،74۔

74۔ یعنی مرنے کے ساتھ ہی حقیقت کھل جائے گی، لیکن اس وقت نفع کچھ بھی نہ ہوگا۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا کہ اس سورت میں قرآن مجید کی مدح تین جگہ آئی اور تینوں جگہ اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ شروع میں ذی الذکر سے، درمیان میں ” لیتذکر “ سے اور آخر میں (آیت) ” ذکر للعلمین “۔ سے۔ (آیت) ” ان ..... للعلمین “۔ یعنی یہ کلام تو تمہارے ہی نفع کے لیے ہے اور میں اس کی تبلیغ پر مامور۔