Ayah 38:4140۔ ایوب (علیہ السلام) کا وطن علاقہ عوض میں تھا، جو فلسطین کا مشرقی حصہ حدود عرب سے متصل ہے۔ روایات یہود سے معلوم ہوتا کہ آپ نے 210 سال کی عمر پائی، اور آپ کا زمانہ فرزند ان یعقوب کے خروج (یعنی مصر سے بنی اسرائیل کی رہائی) تک کا عہد ہے۔ توریت میں آتا ہے۔ ” عوض کی سرزمین میں ایوب نامی ایک شخص تھا اور وہ شخص کامل اور صادق تھا، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا (ایوب 10۔ 10) پھر خداوند نے شیطان سے کہا کہ کیا تو نے میرے بندے ایوب کے حال پر غور کیا کہ زمین پر اس سا کوئی شخص نہیں ہے۔ وہ کامل اور صادق ہے، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہے (1:۔ 8) آپ حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔
41۔ (یعنی مجھے آلام دماغی وجسمانی میں مبتلا کردیا ہے) (آیت) ” انی ..... عذاب “۔ برائی کو بجائے حق تعالیٰ کے شیطان کی جانب منسوب کرنا یہ عین خاصان حق کے آداب میں داخل ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ غیر معصیت میں شیطان کا تسلط کاملین پر بھی ممکن ہے۔ انبیاء پر شیطان کا تسلط معصیت کے باب میں ممکن نہیں، باقی اور ہر باب میں ممکن ہے۔ (آیت) ” بنصب و عذاب “۔ نصب سے مراد عام دکھ اور تکلیف ہے اور عذاب سے مراد بیماری ہے۔ نصب ھو المشقۃ والتعب والعذاب الالم یرید مرضہ (کشاف)
Ayah 38:4242۔ دعا جو غایت تضرع وابتہال کے ساتھ کی گئی تھی، قبول ہوئی، حکم ملا کہ زمین پر ٹھوکر لگاؤ، چشمہ شفا یہیں جاری ہوجائے گا، آپ اس پانی سے نہائے بھی اور اسے پیا بھی۔ بالکل اچھے ہوگئے، روایتوں میں آتا ہے کہ یہ دو چشمے تھے۔ پہلا چشمہ امراض جلدی کے حق میں شافی تھا۔ دوسرا چشمہ چند قدم آگے بڑھ کر تھا۔ اس کا پانی امراض اندرونی کے حق میں آب حیات تھا۔ (آیت) ” ارکض برجلک “۔ یہ جو ایک سخت مریض کو پیر زمین پردے پٹخنے کا حکم مل رہا ہے، اس سے (جیسا کہ تفسیر قرطبی میں نقل ہوا ہے) بعض جاہل صوفیہ نے جواز رقص نکالا ہے ! اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ دین و شریعت کے ساتھ تلاعب و تمسخر کوئی چودھویں صدی ہجری کی نئی ایجاد ہیں ایجاد ہے۔ استغفر اللہ۔
Ayah 38:4343۔ یعنی تاکہ اہل عقل یاد رکھیں کہ حق تعالیٰ صابروں کو کیسی جزا دیتا ہے۔ (آیت) ” ووھبنا لہ اھلہ ومثلھم معھم “۔ توریت میں آتا ہے :” اور خداوند نے ایوب کو آگے کی نسبت سے دونی دولت عنایت کی اور اس کے بھائی اور سب بہن اور اس کے اگلے سب جان پہچان کے اس کے پاس آئے، اور اس کے گھر میں انہوں نے اس کے ساتھ کھانا کھایا، اور اس پر افسوس کیا۔ اور ان ساری بلاؤں کے لیے جو خداوند نے اس پر نازل کی تھیں تسلی دی، اور ان میں سے ہر ایک نے اسے ایک قسیط اور ہر ایک نے اسے سونے کا ایک کرن پھول بخشا۔ اور خداوند نے ایوب کے آخرعمر میں ابتداء کی نسبت سے بہت برکت عطا کی، اور وہ چودہ ہزار بھیڑوں اور چھ ہزار اونٹوں اور ایک ہزار جوڑے بیل اور ایک ہزار گدھوں کا مالک ہوا “۔ (ایوب۔ 42: 12)
Ayah 38:4444۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے حالت مرض میں، جوش غیرت دین میں آکر قسم کھالی تھی کہ بعد صحت اپنی نافرمان اور کمزور عقیدہ والی بیوی کو سو تازیانے لگائیں گے، اب آپ خاص رعایت وکرم کے مورد قرار پائے، اور حق تعالیٰ نے بطور خاص آپ کے لیے یہ راہ کشائش کی پیدا کردی۔ لیکن یہ خصوصیت تنہا حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تھی۔ اس سے عامہ مومنین کے لیے قسم کے پوری طرح پوری نہ کرنے کا جواز نہیں نکل آتا۔ آئمہ سلف اور فقہاء مفسرین سب نے اس کی تصریح کردی ہے۔” اس طرح سے قسم پورا ہوجانا یہ مخصوص تنہا حضرت ابویوب (علیہ السلام) کے ساتھ، اب اگر کوئی قسم کھاوے تو بدون معنی متبادر کے واقع کیے ہوئے قسم پوری نہ ہوگی۔ البتہ جہاں سزا دینا واجب نہ۔ وہاں قسم توڑ دیناجائز، اور جہاں جائز نہ ہوگا وہاں وجب ہوگا ا۔ اور اس قصہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ احکام میں ہر جگہ حیلہ جائز ہے، اس میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس حیلہ سے کسی حکمت شرعیہ وغرض شرعی کا ابطال مقصود ہو وہ حرام ہے، اور جس میں یہ امر نہ ہو بلکہ کسی امر مطلوب شرعی کی تحصیل مقصود ہو وہ جائز ہے (تھانوی (رح) عن ابن عباس ؓ لایجوز ذلک لاحد بعد ایوب لا الانبیاء (علیہ السلام) (روح) محققین نے یہ تصریح بھی کردی ہے کہ احکام شرعی کے ابطال کے لئے جواز حیلہ کی کوئی سزا اس آیت سے نہیں نکلتی، وکثیر من الناس استدل بھا علی جواز الحیل وجعلھا اصلا نصحتا وعندی ان کل حیلۃ او جبت ابطال حکمۃ شرعیۃ لاتقبل کحیلۃ سقوط الزکاۃ وحیلۃ سقوط الاستبراء (روح) بہت سے لوگوں نے اسے احکام میں حیلہ پیدا کرنے کی اصل و مدار ٹھہرا لی ہے، حالانکہ ہر ایسا حیلہ ناجائز ہے جس سے حکم شرعی کا ابطال ہو، مثلا حیلہ سقوط زکوٰۃ، حیلہ سقوط استبراء وغیرہا۔ (آیت) ” فاضرب بہ “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ استدلال کیا ہے کہ شوہر بغرض تادیب بیوی کو سزائے جسمانی دے سکتا ہے۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان للزوج ان یضرب امراتہ تادیبا (جصاص) تضمنت ھذہ الایۃ جواز ضرب الرجل امرأتہ تادیبا (قرطبی) لیکن یہ بھی محققین نے قصہ ہی سے نکالا ہے کہ سزا محض ہلکی اور تادیب بھر کی ہو اس سے زیادہ نہ ہو، وذلک انہ لیس للزوج ان یضرب امرأتہ فوق حدالادب (قرطبی) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے اس قصہ پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔
45۔ توریت میں جو مناجات ایوبی نقل ہوئی ہے۔ اس کے آخری الفاظ یہ ہیں :” میں اپنے ہی سے بیزار ہوں اور خاک اور راکھ پر بیٹھا توبہ کرتاہوں “ (ایوب۔ 42: 6) (آیت) ” نعم العبد “۔ توریت میں ہے ” اور خداوند نے ایوب کی طرف توجہ کی “ (ایوب 42: 9) جیسے میرے بندے ایوب نے میری بابت حق باتیں کہیں، تم نے نہیں کہیں (ایوب : 42: 8)
Ayah 38:4546۔ یعنی قوت عملی کے بھی مالک تھے اور قوت علمی کے بھی ..... انبیاء کرام عموما اپنے تمام قوائے علمی ونظری، عملی، جسمی کے لئے ممتاز رہے ہیں۔ (آیت) ” عبدنا “۔ اضافت تشریف و تکریم کی ہے، اور عبدیت خالصہ وخاصہ پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” الایدی والابصار “۔ دونوں اپنے مطلق مفہوم میں ہیں، اور ہر قسم کی قدرت اور ہر قسم کی بینائی کو شامل ہیں، جو شایان بشر اور سزاوار پیغمبر ہو۔ بعض نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ صاحب قوت تھے، نفس اور شیطان اور شیطانی قوتوں کے مقابلہ میں، اور صاحب بصیرت تھے۔ نفس اور فعل اور قلب اور روح کے معاملات میں، اور بعض نے اعمال ظاہری وباطنی کی جامعیت مراد لی ہے۔ اے اولی الاعمال الظاہرۃ والفکر الباطنۃ (مدارک)
Ayah 38:4647۔ خاصان خدا اور مقبولین حق کی اصلی اور امتیازی خصوصیت ان کی ہی یاد آخرت اور اس کا استحضار ہوتا ہے۔ (آیت) ” الدار “۔ سے مراد دارالآخرت ہے کہ وہی دار حقیقی ہے۔ وتعریف الدار للعبد فیہ اشعار بانھا الدار فی الحقیقۃ وانھا الدنیا مجاز (روح) فقہاء اور متکلمین نے آیت سے مسائل ذیل کا بھی استنباط کیا ہے۔
1۔ (آیت) ” انااخلصنھم “۔ سے ظاہر ہورہا ہے کہ فضائل نبوت وہبی ہیں، کسبی نہیں، (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ “۔ اس پر دلیل ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ معصیت کی ہلکی سی آمیزش سے بھی خلوص کامل میں نقص آجاتا ہے۔
2۔ (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “۔ سے یہ نکلتا ہے کہ انبیاء مخصوص ومامور ہدایت وحق نمائی ہی کے لئے ہوتے ہیں، دوسرے فنون کا ان سے استفادہ محض ایک ضمنی امر ہے۔
Ayah 38:4748۔ یعنی منتخب مقبولان حق کی صف میں بھی افضل واعلی۔ علماء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ انبیاء بہترین خلق اللہ ہیں۔ (آیت) ” ابرھیم، اسحق، یعقوب “۔ سب پر حاشیے گزر چکے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ حضرت اسحاق ویعقوب (علیہ السلام) کا ذکر انتہائی مدح کے موقع پر ایک اسمعیلی نبی کی زبان سے ادا کرنا بجائے خود ایک دلیل آنحضرت ﷺ کی صداقت کی ہے۔
Ayah 38:4849۔ (نہ کہ جیسا ان کے دشمنوں نے انہیں بدنام کرکے اسرائیلی نوشتوں میں لکھ دیا ہے) اسمعیل (علیہ السلام) پر حاشیہ سورة البقر (پ 1) میں اور الیسع پر سورة الانعام (پ 7) میں اور ذوالکفل پر سورة الانبیاء (17) میں گزر چکا۔ الیسع میں ال تعریف کا ہے اصل اسم یسع پر داخل ہوا ہے۔
Ayahs 38:49–5050۔ جنتوں کے دروازے جنتیوں کے انتظارواشتیاق میں پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے، انہیں کسی انتظار یا تقاضہ کی نوبت نہ آئے گی۔
Ayahs 38:51–5251۔ یعنی حوریں، اور ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں بھی مراد ہوں، غرض یہ کہ اہل جنت کیلئے مادی عیش و راحت کے بھی کل سامان موجود ہوں گے۔ اور اس پر عقل سلیم کو اعتراض کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ مادی لذتوں سے لطف اٹھانا بجائے خود ہرگز شریعت اور قانون فطرت کی نظر میں معیوب نہیں۔ مذموم تو ان کی صرف ناجائز صورتیں ہیں۔ (آیت) ’ فاکھۃ “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا، کھانے پینے کی ہر لذیذ و مرغوب چیز مراد ہے۔ (آیت) ” قصرت الطرف “۔ یعنی بجز اپنے مردوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں، دنیا میں یہ وصف خاص طور پر محمود سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس کا ذکر جنت کی نعمتوں کے سلسلہ میں بھی کردیا گیا۔ (آیت) ” اتراب “۔ محض ہم عمری یا سن وسال میں مطابقت مقصود نہیں۔ بلکہ شوق وپسند میں ہم آہنگی، عادات وجذبات میں یکسانی، غرض ہر ایسی باہمی مناسبت مراد ہے جو از دیاولطف وموانست کا باعث ہوسکے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عین موقع ترغیب میں یہ ذکر اس کی دلیل ہے کہ مباح عورتوں کی جانب رغبت نہ حب الہی کے منافی ہے نہ کسی اور کمال کے، جیسا کہ صوفیہ ناقص یا بعض اہل باطل نے سمجھ رکھا ہے۔
Ayahs 38:53–5452۔ (آیت) ” لرزقنا “۔ میں رزق کی اضافت اپنی جانب کرنا اظہار تکریم و فضائل کیلئے ہے، یعنی یہ خاص ہمارا عطیہ ہوگا۔ جسے کسی طرح فنا وزوال نہیں۔ جتنا چاہوکھاؤ پیو۔ جس قدر چاہوصرف کرو، اڑاؤ، ان نعمتوں کے ذخیرے کم ہی نہ ہونے پائیں گے تو ان کین ختم ہونے کا ذکر ہی کیا، جنت کی نعمتیں جس طرح مقدار میں بےنہایت اور تعداد میں بیشمار وعدد ہوتی ہیں، اسی طرح ہر نعمت ابدی دائمی اور غیر منقطع بھی ہوگی۔
Ayah 38:5553۔ یعنی یہ بشارتیں اہل سعادت سے متعلق بیان ہوچکیں، اب آگے ذکر اہل شقاوت کا آتا ہے۔ ھذا خبر والمبتدأ محذوف۔ اے الامر ھذا او ھذا کما ذکر (مدارک)
Ayahs 38:56–5854۔ یعنی ایسی ہی ناگوار وموجب آزار چیزیں فقرہ کی ترکیب اصل قاعدہ نحوی کے اعتبار سے یوں ہوگی۔ ھذا حمیم وغساق فلیذوقوہ۔ (آیت) ” غساق “۔ اس کا ترجمہ پیپ قول اکثریت کے مطابق درج کردیا گیا۔ لیکن اس کے ایک معنی ناقبال برداشت حد تک سرد کے بھی ہیں۔ غساق الزمھریر (ابوالبقاء) اور چونکہ معا قبل ذکر حمیم (انتہائی گرم) کا آچکا ہے، اس لئے یہاں چسپاں بھی انتہائی سرد، کے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ؛ چناچہ ابن جریر نے بھی اس معنی کا ذکر کیا ہے، اور بعض تابعین سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ھو البارد الذی لایستطاع من بردہ (ابن جریر) بارد لایستطاع اوبرد لایستطاع (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابرد البرد (ابن جریر۔ عن ضحاک) گویا یہ دونوں صفات پانی ہی کی بیان ہوئیں کہ یا تو وہ انتہائی گرم اور یا انتہائی سرد، غرض دونوں صورتوں میں ایک ناقابل برداشت عذاب۔ قیل الحمیم یحرق بحرہ والغساق یحرق ببردہ (کشاف) قال مجاھد ومقاتل ھو الثلج البارد الذی قد انتھی بردہ وقال غیرھما انہ یحرق ببردہ کمایحرق الحمیم بحرہ (قرطبی) اور عجب نہیں کہ گرمی اور سردی کی ان انتہائی صورتوں کے لانے سے اشارہ اہل جہنم کی دنیا میں عادات افراط وتفریط کی جانب ہو۔ (آیت) ” ازواج “۔ یہاں اجناس کے معنی میں ہے۔ اے اجناس (کشاف) اے اصناف والوان من العذاب (قرطبی) (آیت) ” من شکلہ “۔ یعنی اس ناقابل برداشت مشروب یا اس عذاب شدید وناقابل برداشت ہی کی طرح۔ اے من مثل ھذا المذوق اوالعذاب فی الشدۃ والفظاعۃ (روح) شکلہ۔ ضمیر حمیم وغساق کے مجموعہ کی جانب ہے، اور اس لئے بجائے تثنیہ کے واحد ہے۔
Ayah 38:5955۔ یہ کافروں کے سرغنہ اور سردار کہیں گے، جب وہ جہنم میں اپنے پیرو وں کی کسی ٹکڑی کو آتے دیکھیں گے۔
Ayah 38:6056۔ (اور تمہیں نے تو ہمیں بہکایا) یہ مقلدین اور عوام اپنے سرداروں سے کہیں گے۔
Ayahs 38:61–6357۔ دوزخیوں کو اپنے اصل عذاب کے علاوہ ایک عذاب حسرت یہ بھی ہوگی کہ جب دوزخ میں کہیں اہل ایمان کا پتہ نشان نہ پائیں گے جنہیں دنیا میں مستحق صدتحقیر و استہزاء سمجھتے رہتے تھے، تو آپس میں کہیں گے کہ وہ لوگ تو کہیں دیکھ نہیں پڑتے جنہیں ہم دنیا میں اتنا برا سمجھا کرتے تھے، کہیں ہماری ہی ہنسی تو سراسر بیجانہ تھی، یا یہ بات ہے کہ وہ ہیں یہیں لیکن ہماری نظر ان پر نہیں جمتی !
Ayah 38:6458۔ یہ سرتاسر حقائق ہیں، انہیں شاعری یا انشاپردازی سمجھ کر نظر انداز نہ کرو، اور ہلکا نہ سمجھو، (آیت) ” ذلک “۔ یعنی اہل جہنم کے درمیان منازعہ ومخاصمہ۔ اے الذی حکینا عنھم (مدارک)
Ayah 38:6559۔ (نعوذ باللہ مجھ میں کوئی شائبہ الوہیت تھوڑے ہی ہے، اور میں کیا دعوی کسی معنی میں بھی اپنی خدائی کا کرتا ہوں، معبود تو وہی ایک سب پر غالب ہے، اور میں اس کی طرف سے محض تنبیہ کرنے والا) (آیت) ” من الہ “۔ من زائدہ، استغراق نفی کیلئے ہے۔ (آیت) ” الواحد “۔ وہ جس طرح اپنی صفات میں یکتا ہے، عددی حیثیت سے بھی یکتا ہے، نہ کوئی اس کا ثانی نہ کوئی اس کا اقنوم یا مظہر (آیت) ” القھار “۔ وہی سب پر حاکم و غالب، اس پر کوئی بھی حاکم و متصرف نہیں۔ اے ھو وحدہ قد قھر کل شیء و غلبہ (ابن کثیر) القھر الغلبۃ والتذلیل معا ..... واقھرہ سلط علیہ (راغب) اسم ” قھار “ کو بعض لوگوں نے اردو کے ” قہار “ پر بڑے غصہ ور کے معنی میں لیا ہے جو سرتاسر مہمل ہے۔
Ayah 38:6660۔ وہ اپنے ہر ارادہ پر قادر ہے، نیز ہر ایک کی مغفرت پر کوئی قید، کوئی شرط، نہ اس کی قوت وقدرت پر عائد ہوتی ہے نہ اس کی صفت غفاری پر، یہ رد ہے ان گمراہ قوموں کا جنہوں نے خدا کی قدرت وقوت کو محدود سمجھا ہے۔ اور یہ عقیدہ پھیلا یا ہے کہ وہ ” کرم “ (مکافات) کے قاعدہ کے آگے خود مجبور ہے کسی کو اپنی طرف سے معاف کر ہی نہیں سکتا اور یہ کہ بغیرعوض وکفارہ کے وہ مغفرت سے معذور ہے۔
Ayahs 38:67–6861۔ (اور یہ بےپروائی تمہارے ہی آگے آئے گی) (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہی مضمون توحید و رسالت یمکن ان یکون المراد ان القول بان الالہ واحد نباعظیم ویمکن ان یقال المراد القولبالنبوۃ نبا عظیم (کبیر) بعض نے ھو سے مراد قرآن بھی لیا ہے۔
Ayahs 38:69–7062۔ (اور مجھے اب جو اس کی خبر ہوئی ہے وہ محض وحی کے ذریعہ سے) (آیت) ” یختصمون “۔ اللہ سے فرشتوں کی گفتگو میں سوال و جواب تو بہرحال واقع ہوا ہی تھا اس کی اختصام سے تعبیر ای ظاہری مشابہت کی بناء پر ہے۔ لاشک ان جری ھناک سوال و جواب وذلک یشابہ المخاصمۃ والمناظرۃ والمشابھۃ علۃ لجواز المجاز فلھذا السبب حسن اطلاق لفظ المخاصمۃ علیہ (کبیر)
Ayahs 38:71–7263۔ خلق آدم، گفتگوئے ملائکہ وغیرہ پر تفصیلی حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے اور اس کے بعد بھی سورة الاعراف وغیرہ میں۔ (آیت) ” سجدین “۔ سجدہ کے معنی یہاں بطور تواضع محض کے بھی کیے گئے ہیں، اور سجدۂ تعظیمی کے بھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ قیل کان انحناء یدل علی التواضع وقیل کا سجدۃ للہ اوکان سجدۃ التحیۃ (مدارک) (آیت) ” من روحی “۔ میں اضافت یا تو تملی کی ہے، یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص یا اضافت تشریفی، یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مکرم ومشرف ہے۔ یا تخصیصی، یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ من روحی میں اللہ نے روح کو اپنی جانب نسبت دے کر اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روح ایک جو ہر شریف ومعظم ہے۔ ولما اضاف الروح الی نفسہ دل علی ان جوھر شریف علوی قوی (کبیر) امام رازی (رح) نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلقت انسانی کی تکمیل دوامور پر موقوف ہے، پہلے تسویہ جسد اور پھر نفخ روح پر۔ (آیت) ” من طین “۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب کہیں صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادۂ قریبہ بتلادیا کہیں مادہ بعیدہ “ (تھانوی (رح) المادۃ البعیدۃ ھو التراب واقرب منہ الطین واقرب منہ الحمأ المسنون واقرب منہ الصلصال فثبت انہ لامنافاۃ بین الکل (کبیر) توریت میں ہے :” اور خداوند خدا نے زمین کی خاک سے آدم کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا۔ سو آدمی جیتی جان ہوا “۔ (پیدائش 2: 7)
Ayahs 38:73–7464۔ (اس صریح نافرمانی کے نتیجہ کے طور پر) عزازیل جس کا لقب بعد کو ابلیس پڑا فرشتہ نہ تھا، جن تھا، جیسا کہ سورة الکہف میں بصراحت مذکور ہے۔ تعظیم آدم کا حکم جب فرشتوں کو ہوا جو اشرف واعلیٰ تھے تو جنات جو ان سے پست وفروتر تھے اس حکم کے مخاطب بدرجہ والی ہوئے۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ابلیس پر مفصل حاشیے سورة البقر (پ 1) اور سورة الکہف (پ 16) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فسجد الملئکۃ “۔ حکم سجدہ سے ضروری نہیں کہ یہی متعارف واصطلاحی سجدہ مراد ہو۔ ہوسکتا ہے کہ مطلق انحناء اور محض تعظیم مراد ہو۔ حاشیے پہلے گزر چکے۔
Ayah 38:7565۔ یعنی اس کی ایجاد کی طرف خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، یہ تو اس کا شرف فی نفسہ ہوا۔ اور پھر اس کے روبرو سجدہ کرنے کا حکم بھی مل چکا (تھانوی (رح) (آیت) ” بیدی “۔ ید کے معنی یہاں قدرت کے بھی کیے گئے ہیں اور نعمت کے بھی، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ جب کوئی سلطان اعظم کسی عمل کو اپنے دست خاص کی جانب منسوب کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد عنایت خاص ہوتی ہے، تخلیق آدم براہ راست اور بلاواسطہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ قیل لما خلقت بغیر واسطۃ (قرطبی) یدی کے صیغہ تثنیہ کی توجیہ میں بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ مراد صفات جمال و جلال ہیں، اور یہ ام الصفات ہیں، صفات لطف وقہر ہی کی ایک تعبیر قوائے ملکوتی وقوائے حیوانی سے بھی کی جاسکتی ہے۔
66۔ (جسے سجدے کا حکم ملنا ہی نہ تھا) (آیت) ” استکبرت “۔ استکبار سے مراد یہ ہے کہ واقع میں تو بڑا نہیں تھا۔ لیکن اپنے کو بڑا سمجھ لیا۔
Ayah 38:7667۔ (اور آگ اس کے مقابلہ میں عالی ولطیف ہے، تو سافل وکثیف کے روبرو عالی ولطیف کیسے جھکے ؟ ) ابلیس احمق اتنا نہ سمجھا کہ اول تو مٹی پر آگ کی ہر جہتی افضیلت واشرفیت ہی مسلم نہیں۔ اور بالفرض ہو بھی تو کیا کسی مصلحت سے افضل کو غیر افضل، اشرف کو غیر اشرف کے آگے نہیں جھکایا جاسکتا ؟ ایک مفسر نے اس حقیقت سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ ابلیس جب اتنا کج فہم ہے تو انسان کو اس سے درنا ہی کیا، بجز اس کے کہ انسان اپنی قوت ارادی سے کام نہ لے کر خود ہی اپنے کو نور عقل سے محروم کردے ! مناظرہ ابلیس حضرت حق پر اور ابلیسی منطق کی سفاہت پر حاشیے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔
Ayahs 38:77–7868۔ (اور جو اس وقت تک ملعون رہا، اس کے لیے اس کے بعد مغفوریت کا احتمال ہی نہیں) (آیت) ” الی یوم الدین “۔ محاورۂ زبان میں دوام اور ہمیشگی کے اظہار کیلئے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ قیامت کے بعد ملعونیت مغفوریت سے بدل جائے گی، ولا یظن ان لعنتہ غایتھا یوم الدین ثم تنقطع لان معناہ ان علی اللعنۃ فی الدنیا وحدھا فاذا کان یوم الدین اقترن بھا العذاب (مدارک) (آیت) ” منھا “۔ ضمیر مؤنث غائب جنت کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور سماوات کی طرف بھی۔ اے من الجنۃ اومن السموت (مدارک)
Ayah 38:7969۔ (موت سے) اتنی طویل مہلت زندگی ابلیس نے یہ خیال کرکے مانگی کہ اس وقت تک خوب آدم واولاد آدم سے اپنے مردود ہونے کا انتقام لیتا رہوں۔