28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (قارون) کو مع اس کے مکان کے زمین میں دھنسا دیا، سو کوئی جماعت اس کے لئے ایسی نہ ہوئی جو اسے اللہ کے مقابلہ میں بچا لیتی اور نہ وہ خود ہی اپنے کو بچا سکا،108۔

108۔ یعنی نہ اس کی اپنی ہی ہنر مندی اور کا ردانی کام آئی، جس پر اسے ناز رہتا تھا۔ اور نہ ہمدردوں کا وہ جتھا ہی کام آسکا جو اس نے پیدا کرلیا تھا اور جس پر اسے گھمنڈ تھا۔ زمین میں دھنسنے کا ماجرا توریت میں ان الفاظ میں ہے :” تب خداوند کا جلال اس سارے گروہ کے سامنے ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمایا تم آپ کو اس گروہ سے جدا کرو تاکہ میں انہیں ایک پل میں ہلاک کروں ...... تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمایا کہ تو جماعت کو کہہ تم فرح اور دائن اور ابرام کے خیمہ کے گردا کرد سے دور ہو ...... تب موسیٰ نے کہا تم اس سے جانیو کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کروں اور کہہ میں نے کچھ اپنی خواہش سے کہا۔ اگر یہ آدمی اسی موت سے مریں جس موت سے سب مرتے ہیں یا ان پر کوئی حادثہ ایسانہ ہو وے جو سب پر ہوتا ہے تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں۔ پر اگر خداوند کوئی نئی بات پیدا کرے اور زمین اپنا منہ پھیلائے اور ان کو اس سب سمیت جو ان کا ہے نگل جائے اور وہ جیتے جی گور میں جائیں تو تم جانیو کہ ان لوگوں نے خدا کی اہانت کی ہے اور یوں ہوا کہ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) یہ سب باتیں کہہ چکا تو زمین جو ان کے نیچے تھی فورا پھٹی اور زمین نے اپنا منہ کھولا۔ اور انہیں اور ان کے گھروں اور ان سب آدمیوں کو جو فرح کے تھے اور ان سب کے مال کو نگل گئی سو وہ اور سب جو ان کے تھے جیتے جی گور میں گئے۔ اور زمین نے انہیں چھپا لیا۔ اور جماعت کے درمیان سے فنا ہوگئے۔ (گنتی۔ 16: 20۔ 33) مکانوں اور عمارتوں بلکہ پوری پوری آبادیوں کا زلزلہ وغیرہ کے اثر سے زمین میں دھنس جانا دنیا کی تاریخ میں نامعلوم نہیں اور پھر خدا اور بندوں کے ایسے مجرم کے لیے اس سزا سے دو چار ہونا تو کچھ ایسا غیر قدرتی بھی نہیں۔
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور کل جو لوگ اس جیسے ہونے کی تمنا کررہے تھے وہ (اب) کہنے لگے بس تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو اس کی مشیت ہوتی ہے خوب روزی دے دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) تنگی سے دیتا ہے، اگر ہم پر اللہ نے (اپنا) کرم نہ کیا ہوتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا بس تو معلوم ہوا کہ کافروں کو فلاح نہیں ہوتی،109۔

109۔ اب سب کے سب گھبرائے اور جو ابھی کل تک رشک کررہے تھے یہ منظر دیکھ کر بولے کہ بیشک یہ ہماری حماقت تھی جو ہم دولت کی کمی بیشی کو بدنصیبی وخوش نصیبی سے تعبیر کررہے تھے۔ یہ تقسیم تو سر تاسر حکمت تکوینی کے ماتحت ہے۔ حرص دنیا تو ہم پر بھی مسلط ہوچکی تھی۔ یہ کہو اللہ نے ہمیں بچا دیا ورنہ آج یہی حشر ہمارا بھی ہونا تھا۔ توریت میں ہے :۔” اور سارے بنی اسرائیل جو ان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر بھاگے کہ انہوں نے کہا، نہ ہو کہ زمین ہم کو بھی نگل جائے پھر خداوند کے حضور سے ایک آگ نکلی اور ان اڑھائی سو کو جنہوں نے بخور گزرانا تھا، کھاگئی “۔ (گنتی 16: 34، 35) (آیت) ” ویکانہ لایفلح الکفرون “۔ آخری اور اختتامی فلاح بیشک کافر کے نصیب میں نہیں۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ عالم آخرت تو ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کردیتے ہیں جو زمین پر نہ بڑا بننا چاہتے ہیں نہ فساد کرنا اور انجام (نیک) تو متقیوں ہی کا (حصہ) ہے،110۔

110۔ (آیت) ” علوا “۔ علو سے مراد معصیت نفسانی لی گئی ہے۔ اور فساد سے گناہ متعدی اور دوسرے معانی بھی منقول ہیں۔ علو اے بغیا (ابن جریر) وظلما (الضحاک) وکبیر (مدارک) فسادا اے عملا بالمعاصی (مدارک) ” یہ علو اور فساد اگر حد کفر تک ہے تو مطلقا مانع حصول ثواب آخرت ہے اور اگر حد کفر تک نہیں تو مانع حصول بھی معصیت ہے گو معصیت پر دسترس نہ ہو “۔ (تھانوی (رح) آیت قرآن کی ان آیات میں سے ہے جن میں چند مختصر الفاظ کے اندر گہرے اصول اور پورے پورے قانون بیان کردیئے گئے ہیں اور اس قابل ہے کہ ہر پڑھا لکھا شٰخص اپنے اپنے کمرہ میں اس کا کتبہ لگا کر ٹانگ دے کہ ہر وقت پیش نظر رہے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز اموی جنہیں پانچواں خلفیہ راشد سمجھا گیا ہے۔ ان کی بابت تاریخوں میں درج ہے کہ نزع کے وقت یہی آیت زبان پر تھی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آخرت سے جس طرح عمل بالمعاصی مانع ہے اور فساد سے یہی مراد ہے اس طرح کبیر بھی اس سے مانع ہے اور علو سے یہی مراد ہے۔ اسی لیے اہل طریق ترک معاصی ہی کا سا اہتمام ازالہ تکبر کا بھی کرتے ہیں۔ (آیت) ” العاقبۃ للمتقین “۔ جس طر کافر کی قسمت میں فلاح حقیقی سے محرومی ہے اس طرح حسن عاقبت متقین کے نصیب کے ساتھ مخصوص ہے۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو اس سے بہتر (بدلہ) ملے گا اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کے کام کرتے ہیں بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنا وہ کرتے تھے،111۔

111۔ یعنی عالم آخرت کا قانون یہ ہے بدی کا معاوضہ تو صرف اسی قدر ملے گا جتنا اس عمل بد کا مقتضا ہے اور نیکی کا معاوضہ اس کے اصل مقتضا سے کہیں زیادہ ملا کرے گا جس کا اقل درجہ حدیث نبوی کے مطابق دس گناہ ہے۔ قرآن کا خدا بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والا کریم ورحیم، تواب و غفار ہے مشین کی طرح بیجان، بےارادہ خدا نہیں۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

جس (خدا) نے آپ پر قرآن کو فرض کیا ہے، وہ آپ کو آپ کے وطن میں پھر پہنچا کررہے گا،112۔ آپ کہہ دیجیے میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون سچا دین لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں مبتلا ہے،113۔

112۔ (اور اس وقت ارشاد ہوا جب ہجرت کے بعد مفارقت وطن سے آپ کو طبعی صدمہ ہورہا تھا۔ (آیت) ” فرض علیک القران “۔ یعنی قرآن کو بہ طور حکم کے آپ پر اتارا ہے۔ اس پر عمل آپ پر واجب کیا ہے۔ اے اوجب علیک العمل بہ (راغب) 113۔ مطلب یہ ہے کہ میرے حق ہونے اور تمہارے باطل ہونے پر تو دلائل قطعی موجود ہیں۔ ادنی سے غور میں سمجھ میں آسکتے ہیں۔ جب ان سے کام ہی نہیں لیتے ہو تو خیر۔ اخیر جواب یہ ہے کہ اللہ ہی بتلا دے گا۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور آپ کچھ (اس کا) آسرا لگائے ہوئے نہ تھے کہ آپ پر (یہ) کتاب نازل کی جائے گی، مگر آپ کے پروردگار کی رحمت سے (نازل ہوئی) سو آپ (ان) کافروں کی ذرا بھی تائید نہ کیجیے گا،114۔

114۔ (جیسا کہ اب تک بھی ان سے الگ تھلگ ہی رہے ہیں۔ ) آیت میں تردید ان لوگوں کی ہے جو کہتے تھے کہ اپنی محنت و کوشش کے بعد آپ نے دعوی مرتبہ نبوت کا کردیا ہے۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوں تو ایسا نہ ہونے پائے کہ یہ ان سے آپ کو روک دیں اور آپ اپنے پروردگار کی طرف (لوگوں کو) بلاتے رہیے اور (ان) مشرکوں میں شامل نہ ہوجائیے،115۔

115۔ (بلکہ جیسا اب تک شرک سے معصوم رہے ہیں، آئندہ بھی رہیے) ” ان آیتوں میں کفار ومشرکین کو ان کی درخواستوں سے ناامید کرنا ہے اور روئے سخن انہیں کی طرف ہے کہ تم جو حضور ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں۔ مگر عادت ہے کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے اس سے بات نہیں کیا کرتے۔ اپنے محبوب سے باتیں کرکے اسی شخص کو سنایا کرتے ہیں “۔ (تھانوی (رح) مفسرین نے کہا کہ لفظ یہاں خطاب آپ ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی امت والے ہیں۔ الخطاب فی الظاھر للنبی ﷺ المراد بہ اھل دینہ (معالم۔ عن ابن عیاض) لعل الخطاب معہ ولکن المراد غیرہ (کبیر) وھذہ المناھی کلھا ظاھرھا انھا للرسول وھی فی الحقیقۃ لاتباعہ (بحر)
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارئیے، کوئی معبود نہیں اس کے سوا ہر شے فنا ہونے والی ہے بجز اس کی ذات کے،116۔ حکومت اسی (ایک) کی ہے اور اسی کی طرف تم (سب) لوٹائے جاؤ گے

116۔ اس میں رد آگیا ان ساری مشرک قوموں کا جنہوں نے صانع مطلق کے ساتھ ساتھ روح یا مادہ یا کسی اور چیز کو بھی ازلی وابدی تسلیم کیا ہے۔ وحدۃ الوجود کے ماننے والوں نے اس آیت سے اپنے عقیدہ پر بھی استدلال کیا ہے ان کی تقریریہ ہے کہ آیت میں (آیت) ” ھالک بصیغہ اسم فاعل ہے، نہ کہ یھلک بصیغہ مضارع وبمعنی مستقبل، گویا مراد یہ نہیں کہ عملی فنا آیندہ کسی زمانہ میں طاری ہوگا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ عملی فنا ہر موجود پر مستقلا طاری ہوتا ہی رہتا ہے۔ اور اس کا تحقق اسی صورت میں ممکن ہے جب ہالک کا کا لہا لک اور معدوم کو کالمعدوم کے معنی میں لیا جائے اور مراد یہ سمجھی جائے کہ موجودات کا وجود ذاتی نہ ہونے کے سبب سے ہر وقت قابل عدم ہے اور وجود مثل لاوجود کے ہے۔ (آیت) ” وجہہ “۔ سے مراد ذات باری ہے۔ اے الا ذاتہ (بیضاوی) الوجہ ھو الوجود والحقیقۃ (کبیر) والمراد کل شیء ھالک الاھو (کبیر) اے الاایاہ (ابن کثیر) الا ایاہ قالہ الزجاج (بحر) فالوجہ یعبربہ عن الذات (مدارک)