28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں (ایسا) پیشوا بنا دیا تھا جو (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے رہے، اور قیامت کی دن کوئی ان کا ساتھ نہ دے گا،56۔

56۔ اس زندگی میں تو ضلالت کے لیڈر رہے، اور بیشمار مخلوق ان کے اشاروں پر حرکت کرتی رہی۔ قیامت کے روز ایسے بےکس رہ جائیں گے کہ کوئی پوچھے گا بھی نہیں۔ (آیت) ” جعلنھم “۔ میں حق تعالیٰ کا انتساب فعل اپنی جانب کرنا اپنی تمامتر تکوینی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہے، نہ کہ اظہار رضامندی کے لیے۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی،57۔ اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں ہوں گے

57۔ چناچہ آج انہیں اچھا کہنے والا کوئی بھی نہیں۔ سب کی زبان سے برائی ہی نکلتی ہے۔ (آیت) ” لعنۃ “ کے معنی رحمت خداوندی سے مہجوری اور محرومی کے پیشتر بیان ہوچکے ہیں۔ ان شامت زدوں کا دنیا ہی میں فضل خداوندی سے مہجور و محروم ہوجانا ایک مشاہدواقعہ ہے۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اگلی امتوں کے ہلاک کئے پیچھے جو لوگوں کے لئے ذریعہ تھی دانش مندیوں اور ہدایت اور رحمت کی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں،58۔

58۔” دانشمندیوں اور ہدایت اور رحمت کا ذریعہ “ ہونا یہ سب صفت بیان ہوئی کتاب موسیٰ یعنی توریت کی (آیت) ” بصآئر۔ ھدی۔ رحمۃ “۔ طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے۔ یہ بصیرت ہے۔ پھر احکام قبول کرتا ہے، یہ ہدایت ہے۔ پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” القرون الاولی “۔ اگلی امتوں سے مراد اگلے پیغمبروں کی نافرمان امتیں ہیں، قوم نوح۔ قوم لوط، قوم ہود، قوم صالح (علیہم السلام) وغیرہا۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور آپ (پہاڑ کے) مغربی جانب موجود نہ تھے،59۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو (اس وقت) موجود تھے،60۔

59۔ جس چوٹی کا نام طور ہے وہ کوہستان سینا کی جانب مغرب میں واقع ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر نزول وحی و کتاب کے وقت اے رسول آپ وہاں موجود نہ تھے۔ 60۔ یعنی یہ امور آپ کو مشاہدہ سے تو معلوم ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ ہماری وحی ہی سے معلوم ہورہے ہیں۔ نہ آپ کو جسما وہاں حضوری حاصل۔ نہ یہ چیزیں آپ کے مشاہدہ میں آئیں۔ پھر آپ جو انہیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو بجز وحی کے اور کیا ذریعہ ہے ؟
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے (بہت سی) نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر زمانہ درازگزر گیا،61۔ اور نہ آپ اہل مدین میں قیام پذیر تھے کہ ہماری آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر سنا رہے ہوں، لیکن ہم آپ ہی کو رسول بنانے والے تھے،62۔

61۔ (اور دنیا پھر نئے سرے سے ہدایت کی محتاج ہوگئی) اور خاتم الکتب قرآن کے نزول سے قبل ہر دور میں کچھ کچھ وقفہ کے بعد یہی ہوا بھی کرتا تھا۔ 62۔ (اس لیے آپ کو یہ سب صحیح صحیح خبریں وحی سے بتا دیں) (آیت) ” مرسلین “۔ جمع تعظیمی ہے۔ یا تقدیر کلام یوں رکھی ہے۔ مرسلین فی کل زمان رسولا (بحر وغیرہ)
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ آپ طور کے پہلو میں اس وقت موجود تھے، جب ہم نے (موسی (علیہ السلام) کو) آواز دی تھی لیکن آپ اپنے پروردگار کی رحمت سے (نبی بنائے گئے) تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں،63۔

63۔ (اور آپ کے اس دعوی نبوت پر دلیل قائم کرنے کو آپ کو یہ تمام علوم صحیح عطا کردیئے گئے ہیں) (آیت) ” قوما ...... قبلک “۔ مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گو توحید کی تعلیم ان کو بھی بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔” ان آیات میں اولا نفی کی گئی حضور عند عطاء التوراۃ کی جس کا وقوع سب کے بعد ہوا۔ پھر نفی کی گئی حضور وقت قیام مدین کی جو سب سے پہلے واقع ہوا پھر نفی کی گئی حضور وقت النداء کی جو درمیان میں واقع ہوئی۔ اس ترتیب بدلنے میں یہ نکتہ ہے کہ ہر موقع میں آپ کا تشریف نہ رکھنا مستقل دلیل ہو صاحب وحی ہونے، ورنہ اگر وقوع کے موافق ذکر میں ترتیب ہوتی تو مجموعہ دلیل واحد سمجھا جاتا۔ اور گومنفی ثالث میں ترتیب وقوعی کے موافق ترتیب ذکری ہے مگر منفی اول وثانی میں ترتیب بدلنے سے اشارہ ہوگیا تعدد دلائل کے قصد کی طرف “ (تھانوی (رح)
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (ہم رسول نہ بھی بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان (بدبختوں) پر ان کے کرتوتوں کے سبب کوئی مصیبت نازل ہوجاتی تو یہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیج دیا کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں ہوتے،64۔

64۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو ان کے حق میں رحمت مزید و عنایت خاص ہوئی کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول بھی آگیا ورنہ گرفت کے وقت (اور گرفت تو اس لیے ہوتی کہ ان کے کرتوت عقلا بھی قبیح ہیں) انہیں یہ حسرت بھی رہ جاتی کہ کوئی پیغمبر ہمارے پاس کیوں نہ آگئے، آجاتے تو ہم ضرور ان کے متبع ہوجاتے۔ (آیت) ” لولا “۔ کا جواب محذوف ہے جو قوسین میں بڑھا دیا گیا ہے۔ والمعنی لولا قولھم ..... ماارسلنک (بیضاوی) اے انما ارسلنک قطعا لعذر ھم والزاما للحجۃ علیھم (بیضاوی) عربی اسلوب بیان میں ایسے موقع پر حذف وتقدیر کلام عیب نہیں، عین حسن اور داخل فصاحت ہے۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

سو جب ان لوگوں کے پاس ہماری طرف سے امر حق پہنچا تو یہ کہنے لگے اس رسول کو وہ رسول کو وہ کیوں نہ ملا جیسا موسیٰ (علیہ السلام) کو ملا تھا کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو ملا تھا اس کے قبل یہ لوگ اس کے منکر نہ ہوئے،65۔ یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ دونوں جادو ہیں ایک دوسرے کے مددگار، اور کہتے ہیں کہ ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں،66۔

65۔ (آیت) ” مااوتی موسیٰ “۔ کے تحت میں کتاب توریت اور معجزات سب آگئے۔ معجزات مادی وحسی آپ کو بہت نہیں ملے تھے اور کتاب بھی آپ کو یکجائی نہیں ملی تھی۔ من الکتب جملۃ والید والعصا وغیرھا (بیضاوی) من الکتاب المنزل جملۃ واحدۃ ومن سائر المعجزات (کبیر) یہ موجودہ منکرین کہتے ہیں کہ یہ جو ہمارے زمانہ میں رسول بن کر آئے ہیں، ان کے پاس نہ تو موسیٰ کی طرح عصا اور یدبیضا کی طرح کھلے ہوئے مادی معجزے ہیں اور نہ اک بارگی لکھی لکھائی ہوئی تیار کتاب۔ (آیت) ” قالوا “ یہ کہنے والے رسول ﷺ کے معاصر مشرکین مکہ تھے۔ اے اولئک القوم والمراد بھم ھنا اھل مکۃ الموجودین عن البعثۃ (روح) (آیت) ” اولم ... قبل “۔ جواب یہ ملتا ہے کہ اچھا موسیٰ کو یہ کچھ ملا تو نتیجہ کیا ہوا ؟ آخر ان کی قوم نے بھی تو ان چیزوں کے باوجود انکار ونافرمانی کی۔ وہ چیزیں کہیں نافرمانی سے روک تھوڑے ہی بن گئیں۔ 66۔ یہ مقولہ مشرکین کا تھا جو قرآن وتوریت دونوں کے بلکہ سارے ہی سلسلہ وحی کے یکساں منکر تھے۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

آپ کہئے کہ اچھا تو کوئی کتاب اللہ کے پاس سے ایسی لے آؤ جو ہدایت میں ان دونوں سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا، اگر تم سچے ہو،67۔

67۔ گویا کتاب الہی کا اہم ترین جوہر اس کا ہادی ہونا، اس کے مضامین کا پر ہدایت ہونا اور اس کے قانون کا دنیا کے حق میں بہترین ہونا ہے۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ کا یہ کہنا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیجیے کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں،68۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو شخص محض اپنی نفسانی خواہش پر چلے بغیر اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا،69۔

68۔ یعنی اگر آپ کا یہ چیلنج یہ لوگ نہ قبول کرسکیں، اور یقیناً نہ کرسکیں گے تو آپ یقین کرلیجئے کہ ان کے انکار کا منشا کوئی اشتباہ عقلی کوئی نادانستہ غلط فہمی نہیں بلکہ محض ان کی خواہش نفس ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے بس انکار ہی کیے جانا چاہیے۔ 69۔ ظالم لوگوں کو یعنی ایسے لوگوں کو جو اپنی ضلالت پر مصر ہیں اور قصد ہی ہدایت پانے کا نہیں کرتے۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم نے (اس) کلام کو ان لوگوں کے لئے یکے بعد دیگرے بھیجا تاکہ یہ لوگ نصیحت مانیں،70۔

70۔ یعنی بار بار تازہ بتازہ سننے سے امید ان کے قبولیت ایمان کی زیادہ بڑھتی ہے اور اس لیے یہ کلام تھوڑا تھوڑا کرکے وقتا فوقتا نازل کیا گیا لیکن یہ بدبخت خود اپنی مصلحت کی بھی قدر نہیں کرتے اور الٹا اسی کو بنائے اعتراض قرار دے رہے ہیں۔ (آیت) ” وضلنا لھم القول “۔ توصیل قول کے معنی ہیں بات کو بار بار اور مسلسل بیان کرتے رہنا وتوصیل القول ھو اتیان بیان بعد بیان (کبیر) وصلنا لھم القول اے اکثرنا لھم القول موصولا بعضہ ببعض (راغب) یہاں مراد یہ ہے کہ ہم قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے مسلسل نازل کرتے رہے اور اس کے نظم کو نہایت مرتبط رکھا۔ اے اتبعنا بعضہ بعضا فی الانزال لیتصل التذکیر او فی النظم لتنقرر الدعوۃ بالحفۃ والمواعظ بالمواعید والنصائح بالعبر (بیضاوی) المراد منہ انا انزلنا منجما مفرقا یتصل بعضہ ببض لیکون ذلک اقرب الی التذکیر والتنبیہ (کبیر) اور ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہمارا سلسلہ وحی برابر شروع سے چلا آرہا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا پیغمبر آتا رہا۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب اس (قرآن) کے قبل دے رکھی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،71۔

71۔ یعنی وہ جو ان میں سے منصف مزاج اور اپنے دین صحیح پر قائم ہیں۔ نزلت فی اناس من اھل الکتب کانوا علی شریعۃ حقۃ متمسکون بھا (کبیر) مفسرین نے مختلف طبقات وافراد کے نام گنائے ہیں لیکن بقول صاحب بحر کے یہ سب نمونے اور مثالیں ہیں ان کل اہل کتاب کی جو بالآخر قرآن پر ایمان لائے۔ الظاہر انما امثلۃ لمن امن منھم (بحر) والضمیر فی بہ عائد علی القول وھو القران (بحر) اور امام رازی (رح) نے فرمایا کہ کسی خصوصی سبب نزول سے کیا ہوتا ہے اعتبار تو عموم عبارت کا کیا جائے گا بس جس کسی میں بھی یہ صفات پائے جائیں گے وہ آیت کے حکم میں داخل ہوگا۔ وقد عرفت ان العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب فکل من حصل فی حقہ تلک الصفۃ کان داخلا فی الایۃ (کبیر)
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار کی طرف سے اور ہم تو اس سے پہلے بھی (اسے) مانتے تھے،72۔

72۔ (اپنی کتابوں کی بشارتوں کی بنا پر۔ اور اب بعد نزول اپنے اس ایمان کی تجدید کرتے ہیں) (آیت) ” مسلمین “ کے لفظ پر حیرت نہ کی جائے ہر وہ شخص جو توحید وسلسلہ وحی کا قائل ہو، مسلم کہا جاسکتا ہے۔ الاسلام صفۃ کل موحد مصدق بالوحی (بحر)
Ayahs 28:54–55

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو ان کا اجر دہرا ملے گا اس لئے کہ یہ پختہ رہے اور یہ لوگ بدی کا دفعیہ نیکی کے ساتھ کرتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے رہتے ہیں،

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں۔ کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے تم پر سلام ہو ہم بےسمجھ لوگوں سے (تعلقات) نہیں چاہتے،73۔

73۔ (ہمیں ایسی صحبتوں سے تو معاف ہی رکھو) اے لانطلب مخالطتکم (بحر) (آیت) ” لنا ...... الجھلین “۔ اس پورے فقرہ سے مقصود ان کی سلامت روی کا اظہار ہے۔ یہ مقصود نہیں کہ یہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” سلم علیکم “۔ سلام متارکت و علیحدگی مقصود ہے۔ سلام متعارف مراد نہیں۔ قال الزجاج سلام متارکۃ لاسلام تحیۃ (بحر) قال ابوبکر ھذا سلام متارکۃ ولیس بتحیۃ (جصاص) ومن الناس من یظن ان ھذا یجوز علی جواز ابتداء الکافر بالسلام ولیس کذلک لما وضعنا عن ان السلام ینصرف علی معیین احدھما المسالمۃ التیھی المتارکۃ والثانی التحیۃ التیھی دعاء بالسلامۃ والامن (جصاص) (آیت) ” اللغو “۔ سے مراد ہے ایسا قول جس کے سننے سے انہیں تکلیف ہوتی ہو قال مجاھد الاذی والسب (بحر) (آیت) ’ یدرء ون .... ینفقون “۔ مفسر تھانوی نے لکھا ہے کہ یدرء ون میں حب جاہ سے اور (آیت) ” مما رزقنھم “ میں حب مال سے ان کے خالی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

جس کو آپ چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لئے اس کی مشیت ہوتی ہے، اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے،74۔

74۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے عزیزوں قریبوں کے ایمان نہ لانے پر رنج قدرۃ اور زیادہ تھا اور شوق واہتمام بھی انہیں کے ایمان لانے کا طبعا زیادہ تھا۔ یہ آیت آپ کی تسلی کے لیے ہے کہ ہدایت کا تعلق تو مشیت تکوینی سے ہے اس میں آپ کی مرضی اور پسند کو دخل نہیں۔ (آیت) ” لا تھدی “۔ ہدایت کے ایک معنی تو راہ دکھانے، اراء ۃ طریق کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کی نفی پیغمبر کی ذات سے نہیں ہورہی ہے۔ وہ تو پیغمبر کے عین فرائض میں داخل ہے۔ دوسرے معنی ہدایت کے منزل مقصود تک پہنچا دنیا۔ اور ایصال الی المقصود ہے، یہاں نفی اسی کی کی جاری ہے کہ یہ رسول کے بس کی چیز نہیں تمامتر مشیت تکوینی کے تابع ہے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت پر چلنے لگیں تو اپنی سرزمین سے مار کر نکال دیئے جائیں،75۔ کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں ہمارے پاس سے بطور کھانے کے لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اتنی بات بھی) نہیں جانتے،76۔

75۔ (جیسے اور بہت سے مسلمان مارے نکالے جاچکے ہیں) آپ کے بعض کمزور معاصرین کا ایک عذر اپنے ایمان نہ لانے سے متعلق یہ تھا۔ 76۔ یعنی اس پر غور نہیں کرتے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ ہماری قدرت اور رزاقی پر غور نہیں کرتے کہ کہاں تو انہیں ایسے ویران اور بہیڑسر زمین پر پیدا کیا اور پھر ایک دن کے لیے بھوکا نہ رکھا، رزق کی ہر قسم کی افراط بھی رکھی اور ان کے وطن کو حرم قرار دے کر کشت وخون تک سے اسے محفوظ کردیا۔ ایسے قادر ورزاق مطلق کے لیے مشکل کیا ہے جو اپنے ایمان والے بندوں، اپنے اطاعت شعار غلاموں کو اپنے افضال خاص سے مستفید اور تنگی وہلاکت سے برابر محفوظ رکھے ؟
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم کتنی ہی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جنہیں اپنی خوش عیشی پر ناز تھا یہ ان کے گھر (اجڑے ہوئے پڑے) ہیں کہ ان کے بعد آباد ہی نہ ہوئے مگر تھوڑی دیر کیلئے اور ہم ہی مالک رہے،77۔

77۔ (اور کوئی ان کا ظاہری وارث بھی نہ رہا) اس میں ڈرایا ہے مکہ والوں کو کہ اپنی خوش عیشی و خوشحالی پر نازاں نہ ہوں، مکہ والوں کی خوشحالی آج بہت سے لوگوں کو ایک عجیب سی بات معلوم ہوگی، دماغ انہیں غربت زدہ، مفلوک الحال ونیم فاقہ کش سمجھتے رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ان کی یہ تصویر واقعہ کے بالکل خلاف ہے، مکہ کی منڈی اپنے زمانہ کی یوں بھی بہت بڑی تجارتی منڈی تھی، اس پر اضافہ تاجران مکہ کے شمالی اور جنوبی تجارتی سفر، ایک موسم میں شام اور دوسرے میں یمن کی جانب۔ اس صورت حال نے مل ملا کر اہل جاہلیت کے تاجروں کو امیر کبیر بلکہ کہنا چاہیے کہ لکھ پتی بنا دیا تھا۔ اور چونکہ تجارت میں شرکت اور حصہ داری کا طریقہ منافع سے محروم رہتا ہو۔ اور منافع کا اوسط اصل رقم پر 4 یا 5 فیصدی نہیں، اکثر 50، 50، فیصدی ہوتا رہتا ایسی حوشحال آبادی کے سامنے عبرت و تخویف کے لیے مثال بھی قدرۃ کسی متمول وخوشحال ہی قوم کی پیش کرنی مناسب تھی۔ ایک طرف ہندوستان، ایران و عراق کے مال کی اور دوسری طرف مصر شام اور رومی ملکوں کی ساری تجارت اس وقت کہنا چاہیے کہ عربوں ہی کے ہاتھ میں تھی۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ ان کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے بجز اس حال کے کہ وہاں کے باشندے شرارت کرنے لگیں،78۔

78۔ یہ قہر الہی کا ایک عام قانون بیان ہورہا ہے۔ یعنی اول تو کسی آبادی پر عذاب آتا نہیں جب تک پہلے اس کے صدر مقام میں خوب تبلیغ نہ ہولے۔ اور پھر وہاں کے باشندے ایک مدت مدید تک مسلسل نافرمانیاں نہ کرلیں۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کو برتنے کیلئے ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار تر بھی، سو کیا تم لوگ نہیں سمجھتے ؟ ،79۔

79۔ یعنی اس دنیا کی لذتوں اور آخرت کی راحتوں کا مقابلہ ہی کیا ؟ اس دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی محض عارضی وچند روزہ۔ بخلاف عیش آخرت کے کہ وہ بلحاظ نوعیت وکیفیت بھی کہیں اعلی اور بلحاظ بقا تو دائم وقائم ہے۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ رکھا ہے اور وہ اسے پالینے والا ہے اس جیسا ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے اور وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے لائے جائیں گے،80۔

80۔ یعنی وہ متاع دنیوی میں بھولا رہنے والا کافر جو مجرم کی طرح قیامت میں پکڑ کر لایا جائے گا اور وہ مومن جس سے جنت کا وعدہ اور قطعی ایفا ہو کر رہنے والاوعدہ ہے، یہ دونوں کہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟
Ayahs 28:62–63

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور وہ دن (بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب (اللہ) ان سے پکار کر کہے گا کہ کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے باب میں تمہارا زعم (ہی) تھا

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

(اس پر) وہ لوگ کہیں گے جن پر (اللہ کا) فرمودہ ثابت ہوچکا ہوگا،81۔ اے ہمارے پروردگار یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں بہکایا تھا ہم نے انہیں (بیشک) بہکایا تھا جیسا کہ ہم خود بہکے تھے،82۔ ہم تیری پیشی میں دستبردار ہوتی ہیں،83۔ (اور) یہ لوگ کچھ ہم کو تو پوجتے نہ تھے،84۔

81۔ یعنی فرمودۂ عذاب۔ اے حق علیہ مقتضاہ (کبیر) وھو قولہ تعالیٰ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین وغیرہ من ایات الوعید (بیضاوی) (آیت) ” شرکآء ی ... تزعمون “۔ مراد ان شرکاء مستحق عذاب شیاطین ہیں۔ 82۔ یعنی جس طرح ہم پر کسی نے جبر نہیں کیا تھا ہم اپنے ہی ارادہ سے بہکے، ہم نے بھی ان لوگوں پر جبر نہیں کیا، یہ لوگ بھی اپنے ہی ارادہ سے بہکے ہیں۔ 83۔ (اپنے ان کے تعلقات سے) مقصود یہ ہے کہ آج جن کی شفاعت پر مشرکوں کو بھروسہ ہے، کل وہ خود ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر علیحدہ ہوجائیں گے۔ 84۔ (بلکہ اپنے نفس و خواہش کے اشاروں پر چل رہے تھے)
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے (ان) شریکوں کو بلاؤ، چناچہ وہ انہیں پکاریں گے سو وہ انہیں جواب بھی نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب کو دیکھ لیں گے،85۔ کاش یہ لوگ (دنیا میں) راہ راست پر رہے ہوتے

85۔ (اس وقت اپنی آنکھ سے) منکرین کے سامنے ان کے حشر کی یہ تفصیلات لے آنے سے مقصود ان کے دلوں میں ان کے انجام کی ہیبت اور ہول کا اتارنا ہے۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن (اللہ) ان سے پکار کر پوچھے گا کہ تم نے کیا جواب پیغمبروں کو دیا تھا ؟ ،86۔

86۔ سوال کے اندر خود متعدد علامتیں پوشیدہ ہیں کہ تبلیغ تو تم پر ہوچکی، رسول تو تمہارے پاس آچکے، اپنی بیخبر ی کا عذر تو پیش کرسکتے ہی نہیں ہو۔ اب یہ بتاؤ کہ تم نے تبلیغ سے اثر کیا قبول کیا ؟
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اس روز ان (کے دل) سے (سارے) مضامین گم ہوجائیں گے اور آپس میں پوچھ پاچھ بھی نہ سکیں گے،87۔

87۔ اپنے انجام کو سامنے دیکھ کرمارے ہول کے ان کی عقلیں معطل ہوجائیں گی، دماغ جواب دے دیں گے اور کچھ بنائے نہ بن پڑے گی۔ نہ خود ہی جواب سوجھے گانہ دوسروں سے صلاح ومشورہ کرسکیں گے۔
Ayahs 28:67–68

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جو کوئی توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو عجب نہیں کہ (ایسے لوگ) فلاں پانے والوں میں ہوں

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار پیدا کرتا ہے جس چیز کو بھی اس کی مشیت ہوتی ہے اور جو (حکم بھی) وہ پسند کرے ان لوگوں کو تجویز کا کوئی حق نہیں،88۔ اللہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے،89۔

88۔ سارے تکوینی وتشریعی اختیارات اس کو اور صرف اس کو حاصل ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اپنے ارادہ اختیار کے غیر مستقل ہونے کا علما وعملا استحضار رکھنا جبریت محمود ہے۔ 9 8۔ (بلحاظ ذات بھی، بلحاظ صفات بھی) یونان کے ” حکماء “ بھی اکثر مشرک ہوئے ہیں۔ خدا کا وجود تسلیم کرنے کے بعد بھی عجیب عجیب قیود سے اسے مقید مانا ہے۔ آیت توحید کامل کی شارح ان سب شرکوں کی جڑکاٹ رہی ہے۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار سب کی خبر رکھتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے رہتے ہیں،90۔

90۔ کھلا ہوا کفر اور چھپا ہوا نفاق سب اس پر روشن وآشکار ہے۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (سب) تعریف اسی کی ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور حکومت بھی اسی کی ہے اور اسی کے پاس تم (سب) لوٹ کر جاؤ گے،91۔

91۔ تاکید ہے اس کے اکیلے ہونے کی۔ اور دوسرے خداؤں کی نفی قطعی کی، یہ نہیں کہ منجملہ اور معبودوں کے ایک وہ بھی ہو۔ اتنا تو مشرکین بھی مانتے تھے۔ حکومت آج بھی حقیقۃ اسی کی ہے۔ آخرت میں چونکہ بالکل بلاوسائط ہوگی، عیاں وظاہر اور ہر ایک پر منکشف ہو کر رہے گی۔ محققین نے (آیت) ” لہ الحمد “۔ الخ سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل بالآ خیر محض ہی ہے۔ ورنہ ہر حال میں حمد اس کے لیے ثابت نہ ہوتی۔
Ayahs 28:71–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

آپ کہیے بھلا یہ بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی کردے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

آپ کہیے بھلا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک دن ہی رہنے دے تو اللہ کے علاوہ کون معبود ہے جو تمہارے لئے رات کو لے آئے جس میں تم آرام پاؤ ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور یہ اس کی رحمت ہی تو ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنادیئے کہ تم اس میں آرام (بھی) کرو اور تاکہ اس کی روزی (بھی) تلاش کرتے رہو، اور تاکہ تم شکر کرتے رہو،92۔

92۔ (اس کی دونوں نعمتوں کا) ” رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے یا اس کا نور سلب کرلے اور دن کا ہمیشہ ہونا کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے یا بلاشمس یا ایسا نور پیدا کردے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولتبتغوا من فضلہ “۔ روزی کمانے کے دھندے کو (آیت) ” من رحمتہ “۔ رحمت الہی کے تحت میں لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشغلے اسلام میں کتنی فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیر و ذلیل نہیں معزز ومکرم ہیں۔ وفیھا اشارۃ الی مدح السعی فی طلب الرزق وقد ورد الکاسب حبیب اللہ وھو لاینا فی التوکل (روح) (آیت) ” من رحمتہ “۔ میں من سببیہ قرار دیا گیا ہے۔ من ھھنا للسبب اے وبسبب رحمتہ ایاکم (بحر)
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس روز اللہ انہیں پکار کر کہے گا کہ کہاں ہیں (اب) وہ جنہیں تم میرا شریک قرار دیتے تھے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ہر امت سے ایک ایک گواہ نکال کر لائیں گے،93۔ پھر ہم کہیں گے کوئی دلیل اپنی پیش کرو سو (اس وقت) وہ (بالیقین) جان لیں گے کہ سچی بات اللہ کی تھی،94۔ اور جو کچھ گڑھا کرتے تھے وہ سب ان سے کنارہ کرجائے گا،95۔

93۔ مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔ حجت تو کافروں پر خود انہیں کے قول سے پوری ہوجائے گی، اہتمام مزید کے طور پر بیرونی شہادتیں بھی مہیا کردی جائیں گی۔ 94۔ (جو انبیاء کے ذریعہ سے ان تک پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی اپنی حماقت سے اسے جھٹلاتے رہے تھے) کافروں سے کہا جائے گا کہ کوئی عذر، کوئی جواب رکھتے ہو تو اب پیش کرونا، انکشاف کامل ہوچکے گا، سب خاموش ولا جواب رہ جائیں گے۔ 95۔ جتنے سہارے انہوں نے گڑھ رکھے تھے کوئی ان میں سے ذرا بھی کام نہ آئے گا۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا،96۔ سو اس نے ان کے مقابلہ میں گھمنڈ اختیار کیا،97۔ اور ہم نے اسے کتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اس کی کنجیاں زور آوروں کی ایک جماعت کو گرانبار کردیتی تھیں،98۔ جب کہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترا مت بیشک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا،99۔

96۔ یعنی اسرائیلی تھا، قبطی نہ تھا۔ اور صرف اسرائیلی ہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم جد اور عزیر قریب بھی تھا۔ توریت میں نام قرح کرکے آیا ہے اور نسب نامہ یوں درج ہے۔ قرح بن اظہار بن قحات بن لادی بن اسرائیل۔ ہمارے ہاں کے نسب ناموں میں املاء یوں آیا ہے۔ قارون بن یصہر بن تاہث بن لادی بن یعقوب، تاہث پر جاکر موسیٰ بن عمران کا بھی نسب نامہ مل جاتا ہے اور تاہث بن لادی جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جدامجد تھے اسی طرح قارون کے بھی تھے۔ اس رشتہ سے قارون آپ کے سگے چچا کا لڑکا ٹھہرتا ہے۔ 97۔ (اپنی دولت وتمول کی بناء پر) یعنی اس نے جماعت اسرائیل کے مقابلہ میں شیوۂ تمردو طغیان اختیار کیا اپنی دولت پر نازاں ہوکر۔ بکثرۃ مالہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) بغی علی کے ایک معنی حسد کرنیکے بھی آتے ہیں۔ چناچہ یہاں یہ معنی بھی لیے گئے ہیں۔ توریت میں ہے کہ اس کو اصلی حسد وعناد حضرت ہارون وحضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور اسرائیلیوں کی ایک چھوٹی سی ٹکڑی، کوئی 250 افراد کی اس کے ساتھ بھی تھی، اور وہ اور بنی اسرائیل میں سے بعض لوگ یعنی اڑھائی سو شخص جو سرگروہ اور نامی اور جماعت کے مشہور تھے، موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اٹھے اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی مخالفت پر جمع ہوئے (گنتی۔ 16: 2، 3) 98۔ یعنی وہ اتنا بڑا سرمایہ دار اور مہاجن تھا کہ ایک مستقل عملہ اس کے ہاں کنجی برداروں ہی کا تھا۔ مختلف تہ خانوں، چور دروازوں، کمروں، الماریوں، ان کے مختلف خانوں، تجوریوں، صندوقچیوں کی کنجیوں کی تعداد اگر پچاسوں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ہو تو اس میں استبعاد ذرا سا بھی نہیں آج بھی ہر کروڑ پتی سیٹھ ساہوکار کے ہاں منشیوں، خزانچیوں، سیاہہ نویسوں، محاسبوں اور ان کے نائبوں، مددگاروں، چپراسیوں، پہرہ داروں کا کتنا بڑا عملہ کام کرتارہتا ہے۔ کنجیاں ظاہر ہے کہ مختلف اہل کار مزدوروں کی طرح سر پر رکھ کر تو چلتے نہ ہوں گے، جیبوں ہی میں رکھتے یا کمر میں باندھتے ہوں گے، پھر اگر سو دو سو کنجیاں دس بیس آدمیوں کے عملہ پر تقسیم ہوں تو اس میں استبعاد کا شائبہ ہی کیا ہے ؟ روایات یہود میں آتا ہے کہ یہ کنجیاں تین سو خچروں پر لد کر چلتی تھیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” مفاتح “۔ کے اصلی معنی تو کنجی ہی کے ہیں۔ جمع مفتح وھو ما یفتح بہ (بیضاوی) وھو الذی یفتح بہ الابواب (ابن جریر) لیکن بعض نے اس سے مراد خزانہ بھی لی ہے۔ وقال بعضھم عنی بالمفاتح فی ھذا الموضع الخزائن لتثقل العصبۃ (ابن جریر) قیل بل عنی بالمفاتح الخزائن انفسھا (راغب) (آیت) ” مفاتح “ کے اگر یہ مجازی معنی لیے جائیں تو مراد یہ ہوگی کہ اس کے خزانہ کے حسابات، حفاظت وانتظام کے ماہرین (اولو القوۃ) کا ایک بڑا عملہ موجود تھا۔ 99۔ اتراہٹ یہی ہے کہ گھمنڈ کے نشہ میں انسان خدا اور بندوں کے حقوق واجب کی ادائی میں غافل ہوجائے اور یہاں تو اس کی کم ضرفی اسے پیغمبر برحق سے سرکشی پر ابھار لائی تھی۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو کچھ تجھے اللہ نے دے رکھا ہے اس میں عالم آخرت کی بھی جستجو کر اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ فراموش مت کر،100۔ اور جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ حسن سلوک کیا ہے تو بھی (بندوں کے ساتھ) حسن سلوک سے پیش آ، اور روئے زمین پر فساد مت پھیلا بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،101۔

100۔ یعنی یہ کوئی نہیں کہتا کہ ساری کی ساری دولت بندگان خدا کو دے ڈال، فراغت سے کھا، پی، عیش کر، لیکن اپنے حدود کے اندر رہ۔ حقوق واجب کی ادائی پر توجہ کرکے اسی سرمایہ کو توشہ آخرت بھی بنا لے۔ ولا تنس نصیبک من الدنیا وھو ان تحصل بھا اخر تک وتاخذ منھا ما یکفیک (بیضاوی) اے لاباس بالتمتع بالوجوہ المباحۃ (کبیر) اے مااحل اللہ لک منھا (ابن جریر۔ عن الحسن) معنی ذلک لاتترک ان تطلب فیھا حظک من الرزق (ابن جریر) 101۔ راہ کفر ومعصیت کے ساتھ ساتھ بار بار فساد فی الارض کو لاکر قرآن نے بتا اور جتلا دیا ہے کہ غیر اسلامی طریقے اس دنیا کے بھی امن ونظام کے برہم زن ہیں۔ (آیت) ” ولا تبغ الفساد فی الارض “۔ معاشیات کا ہر طالب علم آج یہ جانتا ہے کہ ہر سرمایہ پرست معاشی توازن کو بگاڑ کر دنیا میں کتنی تباہی و بربادی کا باعث ہوسکتا ہے۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

اس نے کہا مجھ کو تو یہ سب میری ہنر مندی سے ملا ہے،102۔ کیا اسے یہ خبر نہ تھی کہ اللہ اس کے قبل کی امتوں میں ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں بھی اس سے بڑھے ہوئے تھے اور مجمع بھی (ان کا) زیادہ تھا،103۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی بابت سوال نہیں کرنا پڑتا،104۔

102۔ (اس میں کسی کے احسان کی کیا بات اور اس میں کسی کا استحقاق کیسا ؟ ) ” روشن خیال “ قارون نے جواب دیا کہ جو کیا دقیانوسیوں کی سی باتیں ہیں۔ میں مالیات ومعاشیات کا ماہر ہوں۔ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے، یہ میں نے اپنی قوت بازو سے، اپنے علم وہنر کے زور سے کمایا ہے۔ نہ میرے اوپر کوئی احسان غیبی، نہ میری کمائی میں دوسروں کا حق۔ علی علم، قیل علم التجارۃ والا متعۃ وسائر المکاسب (بیضاوی) عارفین نے کہا ہے کہ علم وفضل، فن وہنر کو اپنی جانب منسوب کرنا، اپناذاتی کمال سمجھنا اور اسے اللہ کا عطیہ نہ جاننا بھی اصل جڑ ہے مغضوبیت ومخذولیت کی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح طریقت میں بھی ثمرات کو بجائے فضل وانعام خداوندی کے اپنی سعی و مجاہدہ کی جانب منسوب کرنا مذموم ہے۔ 103۔ قارون کی حماقت وکج فہمی کا بیان ہورہا ہے۔ اس کے اتنی عقل نہ آئی کہ اگر دولتمندی، ہنر مندی اور فن دانی ہی کا نتیجہ ہوتی تو پرانے بڑے بڑے سرمایہ دار اور ساہوکار اپنے کو تباہ ہی کیوں ہونے دیتے، اپنے کو ہمیشہ بربادی سے بچائے ہی کیوں نہ رکھتے ؟ 104۔ یعنی ان جرائم کی تحقیقات سے متعلق کہ وہ تو خدا کو معلوم ہی رہتے ہیں۔ کسی پوچھ پاچھ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اس کی ضرورت نہیں۔ ہاں اس کی رسوائی وتفضیح کے لیے اور اس پر مزید حجت قائم کرنے کی غرض سے سوالات کئے جائیں تو اور بات ہے۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر وہ اپنے قوم والوں کے سامنے اپنے (تجمل و) آرائش کے ساتھ نکلا، جو لوگ دنیوی زندگی کے طالب تھے،105۔ بولے کاش ہم کو بھی ویسا ہی (سازوسامان) ملا ہوتا جیسا قارون کو ملا ہے بیشک وہ بڑا خوش نصیب ہے،106۔

105۔ یعنی ان کے اوپر محبت اسی دنیا اور اس کی مادی زیب وزینت کی غالب تھی۔ (آیت) ” یریدون الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی اسی زندگی کے زیب وزینت کو اپنا مقصد وجود بنائے ہوئے اور اپنا اصلی مطمح نظر قرار دیئے ہوئے تھے۔ 106۔ دوسروں کے ظاہری سازوسامان یا ٹیپ ٹاپ پر پھسل پڑنا فطرت بشری میں ہمیشہ سے داخل رہا ہے۔ یہاں اہل ایمان بنی اسرائیل کی زبان پر اس کلمہ رشک کا آنا۔ اسی فطرت بشری کا ظہور تھا (آیت) ” یلیت ..... قارون “۔ یہ تمنا حرص کی بنا پر تھی۔ اس سے کافر ہونا لازم نہیں آتا۔ جیسا اب بھی بعضے آدمی باوجود مسلمان یہود میں مریدین کی ایک بڑی جماعت کا ذکر ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” وقال الذین اوتوالعلم “۔ کے مقابلہ میں یہ (آیت) ” وقال الذین یریدون الحیوۃ الدنیا “۔ اس پر دال ہے کہ علم متعبر وہ ہے جس سے دنیا مقصود نہ ہو۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (دین کی) فہم عطا ہوئی تھی وہ بولے تمہارے اوپر نیکی پڑے اللہ (کے ہاں) کا ثواب کہیں بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور وہ تو صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملتا ہے،107۔

107۔ اسرائیلیوں میں جو صاحب فہم وتقوی تھے انہوں نے اپنی قوم والوں کو سمجھایا کہ اس دنیوی ٹیپ ٹاپ میں کیا رکھا ہے، اصل شے تو خدا کے ہاں کا اجر ہے اور وہ مشروط ہے ایمان وطاعت کے ساتھ اور اجر میں بھی درجہ کامل کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو دنیوی حرص وطمع سے روکے رہے۔ (آیت) ” ویلکم “۔ سے مقصود یہاں بددعا نہیں۔ عربی محاورہ میں ترحم یا تنبیہ کے موقع پر بھی آتا ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ولا یلقھا الا الصبرون “ دال ہے مطلوبیت مجاہدہ پر۔