Ayah 21:81105۔ یعنی ملک شام کی طرف کہ وہ جب کبھی باہر جاتے تو واپس ہوا کے ذریعہ سے آتے تھے، حضرت داؤد (علیہ السلام) کے معجزہ تسخیر جبال کا ذکر ابھی گزر چکا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزہ تسخیر ہوا کا ذکر اب آیا۔ امام رازی (رح) نے یہ لطیفہ خوب لکھا ہے کہ باپ کا مسخر کثیف ترین جسم کیا گیا یعنی پتھر اور چٹان اور بیٹے کا مسخر لطیف ترین جسم کیا گیا یعنی ہوا۔
106۔ (سو ہم جانتے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوت دینا کس قدر مفید اور موافق مصالح ہوگا)
Ayah 21:82107۔ (سمندر اور دریا میں کہ موتی نکال نکال کرلائیں) فیخرجون من البحر الجواھر (ابن عباس ؓ شیطان سے مراد یہاں جن ہیں۔ (آیت) ” الشطین “۔ مراد جن ہیں جو اغلبا کافر تھے۔ شیطان کے لفظی مفہوم میں تو انسان، حیوان، جن ہر وہ مخلوق شامل ہے جو سرکش وخبیث ہو، ابوعبیدہ لغوی کا قول نقل ہوا ہے۔ الشیطان اسم لکل طارم من الجن والانس والحیوانات (راغب) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اصل ہے اس قول کی کہ :۔
ع :۔ ہر کہ ترسید از حق وتقوی گزید ترسید ازوے جن وانس وہر کہ دید :
اور اگر اس کے خلاف کہیں واقع ہو تو وہ کسی عارض کی بنا پر ہوگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تسخیر جنات و شیاطین کا ذکر روایات یہود میں بھی ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
108۔ مثلا یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تعمیری خدمات انجام دیں جیسا کہ کلام مجید ہی میں تصریح ہے (آیت) ” یعملون لہ ما یشآء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب قدوررسیت “ (سبا)
109۔ ایک تو جن، اور پھر سرکش شیطانی قسم کے۔ ارشاد فرمایا کہ ان کے سنبھالنے والے، انہیں قابو میں رکھنے والے، سلیمان (علیہ السلام) نامے انسان نہیں بلکہ ہم خود تھے ....... اللہ اللہ ! توحٰد کی تاکید و حفاظت کا کس درجہ اہتمام قرآن مجید کو رہتا ہے !
Ayah 21:83110۔ ایوب (علیہ السلام) اسرائیلی تو نہ تھے، اسحاقی وابراہیمی تھے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پانچویں پشت میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادہ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بڑے بھائی عیص کی اولاد میں تھے۔ توریت میں ہے کہ ” عوض کی سرزمین کے رہنے والے تھے۔ اور عوض سے متعلق علماء فرنگ کی تحقیق ہے کہ یہ عرب کے شمال ومغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب کا ملک تھا۔ زمانہ آپ کا متعین نہ ہوسکا۔ علماء یہود کا بیان ہے کہ آپ کی عمر 210 سال کی ہوئی، اور آپ فرزندان یعقوب کے ہمعصر ہیں۔ پیغمبر ہونے کے ساتھ ہی آپ امیر کبیر بھی تھے اور کثیر الاولاد بھی، توریت میں ہے :۔” عوض کی سرزمین میں ایوب نامے ایک شخص تھا۔ اور وہ شخص کامل اور صادق تھا۔ اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس کے مال میں سات ہزار بھیڑیں اور تین ہزار اونٹ اور پانچ سو جوڑے بیل اور پانچ سو گدھیاں تھیں، اور اس کے نوکر چاکر بہت تھے۔ ایسا کہ اہل مشرق میں ایسا مالدار کوئی نہ تھا۔ “ (ایوب۔ 1: 1۔ 3)
111۔ (سو تو میری تکلیف کو بھی دور کردے) توریت میں آتا ہے کہ شیطان نے ایک روز دربار خداوندی میں عرض کیا کہ ایوب کے جس صبر وشکر کی اتنی دھوم مچی ہوئی ہے وہ تو بس اسی نعمتیں چھن جائیں تو حال معلوم ہوجائے، حکم ہوا، اچھاتجھے اختیار ہے۔ جا اور جس طرح چاہے ان کی آزمائش کر دیکھ۔ چناچہ شیطان نے آکر ان پر طرح طرح کی مصیبتوں کے پہاڑ توڑنے شروع کئے۔ کہاں آج امیرکبیر تھے، کہاں دفعۃ مفلس قلاش ہوگئے۔ ساری کھیتیاں جل گئیں۔ سارے گلے مرگئے، سارے نوکروں چاکروں کو دشمنوں نے مار ڈالا، ساری اولاد اکبارگی مکان میں دب کر مرگئے ،
ان ناقابل یقین مصائب کے بھی یک بیک ٹوٹ پڑنے پرایوب (علیہ السلام) نے کہا تو صرف اتنا کہا کہ ” اٹھ کے اپنا پیراہن چاک کیا اور سرمنڈایا اور زمین پر جھک پڑا اور سجدہ کیا اور کہا، اپنی ماں کے پیٹ سے میں ننگا نکل آیا اور پھر ننگا وہاں جاؤں گا، خداوند نے دیا اور خداوند نے لیا خداوند کا نام مبارک ہے۔ اس سارے مقدمہ میں ایوب نے گناہ نہ کیا اور نہ خدا پر بےوقوفی کا عیب لگایا۔ “ (ایوب۔ 1: 21، 22) اس کے بعد شیطان نے ان پر پھوڑوں کی گندی بیماری مسلط کی اور سر سے پیر تک پھوڑوں میں لد گئے، توریت میں ہے :۔ ایسا کہ تلوے سے لے کر چاندی تک اسے جلتے پھوڑے ہوئے اور وہ ایک ٹھیکرا لے کے اپنے تئیں کھجلانے لگا اور راکھ پر بیٹھ گیا۔ “ (ایوب۔ 2: 7، 8)
Ayah 21:84112۔ یعنی تاکہ اہل تقوی و عبادت یاد رکھیں کہ صابروں کو کیسے کیسے صلے ملتے ہیں۔ (آیت) ” رحمۃ وذکری “۔ رحمت اور ذکری دونوں بطور سبب بیان ہوئے ہیں، فرق یہ ہے کہ رحمت کی حیثیت علت فاعلی مؤثر کی ہے۔ اور وہ زمانا متقدم ہے۔ اور (آیت) ” ذکری “۔ حیثیت علت غائی مؤخر کی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ماجرا رحمت تھا خود حضرت ایوب کے حق میں اور یادگار ان کے بعد والوں کے لئے کہ وہ بھی انکے نقش قدم پر چل کر ان کے سے مرتبے حاصل کریں، یعنی رحمۃ لایوب وتذکرۃ لغیرہ من العابدین لیصبروا کصبرہ (مدارک) توریت میں ہے :۔” اور خداوند نے ایوب کی طرف توجہ کی ...... اور خداوند نے ایوب کو آگے کی نسبت سے دونی دولت عنایت کی۔ اور اس کے سب بھائی اور سب بہن اور اس کے اگلے سب جان پہچان اس کے پاس آئے اور اس کے گھر میں انہوں نے اس کے ساتھ کھانا کھایا ..... اور خداوند نے ایوب کے آخر عمر میں ابتدا کی نسبت سے بہت برکت عطا کی، اور وہ چودہ ہزار بھیڑوں اور چھ ہزار اونٹوں اور ایک ہزار جوڑے بیل اور ایک ہزار گدہوں کا مالک ہوا۔ “ (ایوب۔ 42: 10۔ 13) آیت سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ دعا صبر کے منافی نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے دو مسئلے نکلتے ہیں ایک یہ کہ دعا منافی توکل نہیں، دوسرے احساس حاجت مندی سے (جو غلبہ عبدیت سے پیدا ہوتی ہے) اللہ سے شکوہ کرنا رضا کے منافی نہیں۔
Ayah 21:85113۔ (احکام تشریعی پر بھی اور تکوینی پر بھی) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر تو بار بار آچکا ہے اور حضرت ادریس پر بھی حاشیے پ 16 سورة مریم میں گزر چکے۔ حضرت ذوالکفل سے متعلق مختلف اقوال ہیں، ترجیحی قول یہ ہے کہ آپ انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے اور توریت میں آپ کا نام حزقیل نبی آیا ہے۔” اور تیسویں برس کے چوتھے مہینہ کی پانچویں تاریخ میں ایسا ہوا کہ جب میں نہر کبار کے کنارہ پر اسیروں کے درمیان تھا تو آسمان کھل گیا اور میں نے خدا کی رویتیں دیکھیں اور اس مہینہ کے پانچویں دن یعنی سبوسکین بادشاہ کی اسیری کے پانچویں برس میں ایسا ہوا کہ خداوند کا کلام بوزی کاہن کے بیٹے حزقی ایل کو جو کسوبون کے ملک میں نہرکبار کے کنارہ پر تھا پہنچا اور وہاں خداوندکاہاتھ اس پر تھا۔ “ (حزقی ایل۔ 1: 1۔ 3) بخت نصر تاجدار اسیر یا جب یروشلم پر حملہ شدید کر کے ہزار ہا اسرائیلوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ 597 ق، م میں تو ان میں سے ایک آپ بھی تھے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 21:86114۔ مسلمان کے لئے تو یہ عقیدہ کافی ہے کہ یہ حضرات کافی ہے کہ یہ حضرات جب نبی تھے تو صالح بدرجہ اولی ہوں گے۔ لیکن اسے کیا کیجئے کہ بائبل والوں نے اپنے پیغمبروں کو بری طرح گناہوں میں مبتلا دکھایا ہے۔ نبوت ان کے ہاں گویا محض ایک قسم کی کہانت یا اشراقیت تھی اور اس کا تعلق اخبار بالغیب سے تو تھا لیکن تزکیہ نفس یا تطہیر اخلاق سے بالکل نہیں۔
Ayah 21:87115۔ (اپنی قوم سے جب کہ وہ لوگ ایمان نہ لائے) مغاضبا لقومہ (بیضاوی) اے غضبان علی قومہ (روح) بعض صحابہ وتابعین سے جو تفسیر مغاضبالربہ منقول ہے سو یہ تفسیر خود تشریح طلب ہے۔ لربہ کے معنی یہاں کئے جاویں گے لاجل ربہ وحمیۃ لدینہ یعنی اپنے پروردگار کی خاطر، اور اپنی غیرت دینی کے باعث اور کلمہ لہ کو موصولہ نہیں بلکہ لام علت کے معنی میں لیں گے۔ لم یفعلہ الا غضبا للہ وانفۃ لدینہ وبغضا للکفر (کشاف (
116۔ (ان کے بلاانتظار وحی چلے جانے پر) حضرت یونس (علیہ السلام) اپنے اجتہاد سے یہ سمجھے کہ جب قوم پر سے عذاب ٹل گیا گو اب یہاں ٹھہرنا ضروری نہیں اور نہ میرے چلے جانے میں کوئی ہر ج ہے۔ اس لئے بلاانتظار وحی کیا جاتا۔ (آیت) ” لن نقدر “۔ قدر بمعنی استطاعت وقابو نہیں، ضیق وتنگی کے مفہوم میں ہے۔ قدرت سے نہیں تقدیر سے ہے۔ فسرت بالتضئیق علیہ (کشاف) اے ان لن نضیق علیہ (کبیر) ذوالنون حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کا لقب ہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) پر حاشیے پارہ 11 سورة یونس میں گزر چکے۔
117۔ پارہ 23 میں یہ قصہ ذرا تفصیل سے آئے گا۔ مختصر یہ کہ آپ جس جہاز پر تھے اس کے جہاز رانوں نے آپ کو مجرم سمجھ کر طوفان کے وقت سمندر میں پھینک دیا، کوئی ایک مچھلی شارک یا وہیل کے قسم کی آپ کو نگل گئی۔ یہ مناجات آپ شکم ماہی سے فرما رہے ہیں۔ ظلمت۔ صیغہ جمع ہے دریا کے نیچے کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کے اندرکا اندھیرا۔ صیغہ جمع سے متعدد تاریکیاں مراد ہیں۔
118۔ (کہ میرے منصب کے مناسب وحی الہی کا انتظار کرنا تھا، میں بغیر اس انتظار کے نکل کھڑا ہوا) آپ کا اپنے کو ظالم کہنا اسی معنی میں ہے کہ میں ترک عزیمت وافضلیت کا مرتکب ہوا، ہر نعمت ایک خاص مقام عبودیت کو مقتضی ہوتی ہے اور ایک خاص درجہ ادائے حقوق کا چاہتی ہے۔ اس درجہ و مرتبہ کے ادائے حقوق میں کمی یا کوتاہی راہ جانا ظلم ہے۔ آپ ظلم کا اطلاق اپنے حق میں اسی معنی میں کررہے ہیں۔
Ayah 21:88119۔ یعنی ایک یونس ہی پر کیا موقوف ہے جو مومن بھی ہم سے دعا کرے اسے غم سے نجات دے دی جاتی ہے۔ بشرطیکہ اسے غم میں رکھنا ہی مصلحت نہ ہو۔
Ayah 21:89120۔ حضرت زکریا پر حاشیے سورة آل عمران پارہ سوم میں گزر چکے۔
121۔ یعنی حقیقی وارث تو اللہ ہی ہے جسے کبھی فنا نہیں لیکن میں جو ظاہری اور مادی وارث کو مانگ رہا ہوں وہ اس لئے جو خدمت دین کی کر رہا ہوں ان کا سلسلہ اس کے ذریعہ سے چلتا رہے اور میرے بعد ہی بندنہ ہوجائے۔
Ayah 21:90122۔ (بطور فرزند صالح اور وارث کے) یحییٰ (علیہ السلام) پر بھی حاشیے گزر چکے۔
123۔ (کہ وہ عاقر تھیں اب انہیں قابل اولاد بنا دیا) اے اصلحھا للولادۃ (کبیر) بان جعلھا ولودا (ابن جریر) سعید ابن ابن جبیر قتادۃ وغیرہ تابعین سے مروی ہے کہ بیوی صاحبہ کا شباب لوٹا دیا گیا تھا۔ برد شبابھا الیھا وجعلھا ولودا کما روی عن ابن جبیر وقتادۃ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس تفسیر سے یہ نکلتا ہے کہ استجابت دعا کے وقت اکثر عادت الہی یہ ہے کہ جو چیزیں عموما وعادۃ جن اسباب سے پیدا ہوتی ہیں اکثر ان کے لئے وجود میں لانے کے لئے وہی اسباب مہیا کردیئے جاتے ہیں گو وہ قادر مطلق بلااسباب ہی تکوین پر قادر ہے۔
124۔ (کہ اس سے ان کی کمال عبدیت و عبودیت اور ہماری کمال عظمت ومعبودیت ثابت ہوتی ہے) اہل خشوع اہل تواضع کی مدح سے توریت وانجیل بھی لبریز ہیں۔ مثلا ” خداوندا انہیں جو نہرا گئے ہیں۔ سیدھا کھڑا کرتا ہے۔ “ (زبور۔ 146: 8) ” خداوند حلیموں کو سنبھالتا ہے۔ پر شریروں کو زمین پر پٹک دیتا ہے۔ “ (زبور۔ 147: 6) ” خداوند اپنے لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔ وہ حلیموں کو نجات کی زینت بخشتا ہے۔ “ (زبور۔ 149: 4) مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہی زمین کے وارث ہوں گے۔ “ (متی۔ 5: 5) لانھم سے مراد وہ سب لوگ ہیں جن کا ذکر اسی سورت میں آچکا ہے۔ (آیت) ” رغب اور ھبا “۔ یعنی عبادت کمال امید وبیم کے ساتھ کرتے رہتے ہیں جو عین علامت ہے ایمان کامل کی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں (آیت) ” انھم کانوا یسرعون فی الخیرت “۔ سابق نعمتوں کی علت کے موقع پر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ طاعت نعمت دنیوی کا بھی سبب بن جاتی ہے۔
Ayah 21:91125۔ (مردوں سے تمامتر یعنی نکاح سے بھی اور ناجائز صورتوں سے بھی) مراد مریم بنت عمران (علیہا السلام) ہیں۔ حاشیے سورة آل عمران پ 3 میں گزر چکے۔ یہود جو گندے الزامات آپ پر لگا چکے تھے اور جو آج تک ان کی کتابوں میں منقول چلے آتے ہیں ان کے پیش نظرایسی ہی وضاحت وتصریح سے آپ کی صفائی پیش ہونے کی ضرورت تھی ،
126۔ (بہ واسطہ جبرئیل اور اس سے ان کو بےشوہر حمل رہ گیا) (آیت) ” نفخنا فیھا من روحنا “۔ نفخ روح تو ہر انسان کے لئے ہوتا رہتا ہے، یہ نفخ روح ایک خاص طریقہ پر، معمول عام سے الگ، بہ واسطہ جبرئیل کیا گیا، اس کی تفصیلی کیفیت نہ معلوم ہوسکتی ہے، نہ معلوم کرنے کی ضرورت۔ یہاں تفہیم قرآنی کے سلسلہ میں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ نفخ روح کی اضافت حق تعالیٰ کی طرف صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اظہار عظمت کے لئے ہے۔ والا ضافۃ الیہ تعالیٰ لتشریف عیسیٰ (علیہ السلام) (مدارک)
127۔ (اپنی کمال قدرت کا کہ ہم پر چیز کی تکوین پر قادر ہیں، اسباب عادیہ کے واسطہ سے بھی اور بلاواسطہ بھی) (آیت) ” ابنھا “۔ فرزند مریم سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ........ عقیدۂ ابن اللہ کی تردید میں ابن مریم کی تصریح بار بار ضروری تھی۔
Ayah 21:92128۔ (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں اور جس پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے) اے ان ملۃ التوحید التی یجب ان تکونوا علیھا فکونوا علیھا (بیضاوی) اے یجب ان تکونوا علیھا (جلالین) طریقہ سے مراد عقیدۂ توحید۔ البتہ گفتگو اس میں ہے کہ یہاں خطاب کس سے ہے ایک جماعت کا خیال ہے کہ مسلمانوں سے اور (آیت) ” ھذہ “ سے مراد امت مسلمہ ہے۔ والظاھر ان خطاب لمعاصری الرسل ﷺ وھذہ الی ملۃ الاسلام (بحر) دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ خطاب عام ہے ساری نسل انسانی کے لئے۔ اور طریقہ سے مراد ہے طریق انبیاء جن کا ذکر اوپر ہوتا چلا آتا ہے۔ ویحتمل ان تکون ھذہ اشارۃ الی الطریقۃ التی کان علیھا الانبیاء المذکورون من توحید اللہ تعالیٰ (بحر) (آیت) ” امۃ واحدۃ “۔ یعنی وہ طریقہ جس کے اندر کسی شریعت کا اختلاف نہیں۔ غیر مختلفۃ فیما بین الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام (بیضاوی)
Ayah 21:93129۔ (اور آکر دین اصلی سے اپنے انحراف کا نتیجہ دیکھ لیں گے) آیت عام ہے تمام اہل زیغ وضلال کے لئے جو توحید کی صراط مستقیم سے الگ ہٹ ہٹ گئے ہیں۔
Ayah 21:94130۔ (سو ایک ذرہ بھی مومن کے عمل کا ضائع نہ جائے گا اور بلااجر نہ رہے گا) (آیت) ” وھو مومن “۔ ایمان ہر حسن عمل کے لئے بنیادی شرط ہے۔ (آیت) ” انا لہ کتبون “۔ فرشتوں کی کتابت اعمال کے فعل کو یہاں اپنی جانب منسوب کرکے فرمایا ہے۔
Ayah 21:95131۔ (اس دنیا میں، حساب کتاب کے لئے) (آیت) ” قریۃ۔ قریۃ بہ “۔ معنی اھل قریہ ہے۔ یعنی جو مرچکے ہیں، ان کے لئے اب قیامت تک واپسی ممکن نہیں، لایرجعون الی الدنیا (کبیر۔ عن قتادۃ ومقاتل) لایرجعون الی الدنیا قبل یوم القیمۃ (ابن کثیر، عن ابن عباس ؓ وابو جعفر الباقر، وقتادۃ وغیرواحد) آیت کی ایک تفسیر یہ بھی آئی ہے کہ جن قوموں کے لئے ہلاکت علم الہی میں مقدر ہوچکی ہے وہ تو ہدایت کی جانب کسی طرح بھی رجوع نہ کریں گے۔ لایرجعون عن الشرک ولا یتولون عنہ (کبیر، عن الحسن ومجاہد) (آیت) ” اھلکنا “۔ اس دوسری تفسیر کی صورت میں اھلاک سے مراد صرف عزم اہلاک ہوگا اور (آیت) ” یرجعون “ میں رجوع سے مراد کفر سے ایمان کی طرف رجوع ہوگا۔ ومعنی اھلکنا عزمنا علی اھلاکھا اوقدرنا اھلاکھا ومعنی الرجوع الرجوع من الکفر الی الاسلام (کشاف)
Ayah 21:96132۔ یعنی ہلاک شدہ قوموں کا عدم رجوع ایک خاص وقت تک کے لئے ممنوع وممتنع ہے۔ البتہ قیامت کے وقت سب از سر نو زندہ ہو کر سامنے آئیں گے اور اس وقت موعود کے قرب کی ایک خاص علامت یہ ہوگی کہ یاجوج وماجوج سد ذوالقرنین سے رہائی پاجائیں۔ چھوٹ کر نکلیں اور ہر بلند مقام سے دندناتے ہوئے ابل پڑیں، انجیل کی عبارت ابھی آگے آرہی ہے کہ ” ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا۔” یاجوج وماجوج “۔ یاجوج ماجوج “ پر حاشیے سورة الکہف پ 16 میں گزر چکے۔ یاجوج وماجوج کا خروج انجیل میں بھی قرب قیامت کی علامت بتایا گیا ہے۔ چناچہ مکاشفہ یوحنا میں ہے :۔” اور جب ہزار برس پورے ہوچکیں گے تو شیطان قید سے چھوڑ دیا جائے گا، اور ان قوموں کو جو زمین کے چاروں طرف ہوں گی یعنی یاجوج وماجوج کو گمراہ کرکے لڑائی کے لئے جمع کرنے کو نکلے گا، ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا، اور وہ تمام زمین پر پھیل جائے گی اور مقدسوں کی لشکر گاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور آسمان پر سے آگ نازل ہو کر انہیں کھا جائے گی اور ان کا گمراہ کرنے والا ابلیس آگ اور گندھگ کی اس جھیل میں ڈالا جائے گا جہاں وہ حیوان اور جھوٹا نبی بھی ہوگا اور وہ رات دن ابدالآباد عذاب میں رہیں گے۔ “ (20: 8)
Ayah 21:97133۔ جب وہ وقت موعود کافروں کے خیال کے مطابق بےشان و گمان اور اچانک آپڑے گا، تو ان کی آنکھیں فرط دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، اور یہ پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری کیسی شامت تھی کہ ہم اس گھڑی کی طرف سے غفلت میں پڑے رہے۔ اور غفلت کیسی، غفلت تو جب ہوتی جب کسی نے ہم کو آگاہ نہ کیا ہوتا۔ سچی بات یہ ہے کہ قصور سرتاسر ہمارا ہے۔ ہم تنبیہ کرنے والوں کے باوجود بھی بیدار نہ ہوئے !
Ayah 21:98134۔ یہ اس وقت مشرکین سے کہا جائے گا۔ (آیت) ” ماتعبدون من دون اللہ “۔ کے عموم سے وہ ہستیاں ظاہر ہے کہ مستثنی رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں اصلا دخل نہیں۔ مثلا ملائکہ وانبیاء معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔
Ayahs 21:99–100135۔ (اپنے شوروغل، چیخ پکار میں) دوزخیوں کی خود ہی چیخ پکار اتنی ہوگی کہ کسی دوسرے کی کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی، اہل دوزخ کو دوزخ میں رہنا ہی نہیں ہمیشگی کے لئے رہنا ہوگا۔
Ayahs 21:101–102136۔ (اس لئے کہ وہ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ سے بالکل الگ اور فاصلہ پر ہوگی) (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا لحسنی “۔ سے معنی بعض صوفیہ نے یہ لئے ہیں کہ سبقت محبتنا ایاہ فی الازل یعنی ہماری محبت ان کے ساتھ ازل میں سابق ہوئی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی وہ استعداد سابق ہے جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ محبت کی ابتداء محبوت کی جانب سے ہوتی ہے۔
137۔ جنت کی ایک خاص اور امتیازی خصوصیت یہاں بہ کمال بلاغت ایک مختصر فقرہ میں بیان کردی گئی۔ یعنی وہ جگہ ایسی ہوگی جہاں سب کچھ انسان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوگا۔ جو ہوا بھی چلے گی اس کی مرضی کے موافق، جو موسم بھی وہ چاہے گا وہی پیدا ہوجائے گا، جو غذا وہ چاہے گا وہی حاضر ہوگی، جو مشغلہ اسے پسند ہوگا وہی اس کے لئے موجود ہوگا، جو پڑھنا وہ چاہے گا وہی کتابیں اس کے لئے فراہم ہوجائیں گی، وقس علی ھذا۔ دنیا کی مختصر سی زندگی میں اپنے کو قوانین الہی کے ماتحت کردینے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جنت میں سارے قوانین تکوینی خود اسی کے ماتحت و محکوم ہوں گے اور پھر یہ کیفیت عارضی نہیں، وقتی نہیں، دائمی، لازوال، غیر منقطع ہوگی ! کوئی انسانی دماغ پورا تصور بھی ان راحتوں اور مسرتوں کا نہیں کرسکتا۔
Ayah 21:103138۔ یہ وہی استقبال کرنے والے فرشتے مومنین سے کہیں گے۔ دہشت اور ہول کا وہ انتہائی وقت یقیناً ہوگا لیکن اہل ایمان کو دہشت کیوں ہونے لگی۔ انہیں تو خواب موت سے جاگتے ہی تسکین، تشفی، دلدہی کے لیے فرشتے مل جائیں گے، جو اعزاز واکرام سے انہیں ہاتھوں ہاتھوں لیں گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں سے تائید ہوتی ہے اس مقولہ کی کہ اہل اللہ کو فرح دائم میسر رہتا ہے اور عظمت کبریا سے جو خوف ان کے دلوں پر طاری رہتا ہے وہ اس کے منافی نہیں بلکہ وہ تو عین مقتضاعبدیت کا ہے۔
Ayah 21:104139۔ قرآن مجید وقوع قیامت اور اس روز کی ہولناکیوں اور بشارتوں دونوں کا ذکر اسی کثرت اور اسی قطعیت کے ساتھ اسی لیے کرتا ہے کہ مخاطبین کے دل میں عقیدہ آخرت راسخ ہوجائے۔ ساری نیکیوں کی جڑ اور بنیاد یہی ہے کہ عقیدہ آخرت محض ایک نظریہ یا وہم و گمان کی طرح نہ رہے بلکہ جزم کا مل ووثوق کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے اور قال حال بن جائے۔
Ayah 21:105140۔ زبور کہتے ہیں ہر لکھی ہوئی کتاب کو اور الزبور اسم جنس ہے ہر کتاب آسمانی کے لیے۔ لغت کے حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوپ 6 حاشیہ نمبر 35 یہاں بھی محققین نے مراد (آیت) ” الزبور “ سے کل کتب آسمانی بہ طور اسم جنس لی ہیں۔ عنی بالزبور کتب انبیاء کلھا التی انزلھا علیھم (ابن جریر) مجاہد نے کہا ہے کہ (آیت) ” الزبور “ کتاب ہے۔ الزبور الکتاب (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابن زید تابعی سے منقول ہے کہ (آیت) ” الزبور “ کتب آسمانی ہیں۔ الزبور الکتب التی انزلت علی الانبیاء (ابن جریر۔ عن ابن زید)
141۔ ذکر کے معنی حدیث صحیح میں لوح محفوظ کے آچکے ہیں۔ ایک حدیث کے درمیان آتا ہے کان اللہ ولم یکن شیء قبلہ وکان عرشہ علی الماء وکتب فی الذکر کل شئی وخلق السموت والارض (صحیح بخاری کتاب بدء الخلق) یہی حدیث خفیف تغیر کے ساتھ کتاب التوحید میں بھی نقل ہوئی ہے۔ جہاں ذکر کے صریح معنی لوح محفوظ کے ہیں۔ اے فی محل الذکر اے فی اللوح المحفوظ (فتح الباری) اے اللوح المحفوظ (عینی) اے فی اللوح المحفوظ (مجمع البخار) آیت میں بھی مراد اس نوشتہ سے لی گئی ہے جو آسمان پر ہے یعنی وہی لوح محفوظ۔ عنی بالذکر ام الکتاب التی عندہ فی السماء (ابن جریر) ابن زید تابعی مجاہد تابعی اور سعید بن جبیر تابعی سے بھی یہی معنی منقول ہے۔ الذکر الذی فی السماء (ابن جریر۔ عن سعید) الذکرام الکتب الذی تکتب فیہ الاشیاء قبل ذلک (ابن جریر۔ عن ابن زید) الذکرام الکتب عن اللہ (ابن جریر۔ عن مجاہد) خود امام جریر نے بھی ترجیح اسی معنی کو دی ہے۔ واولی ھذہ الاقوال عندبالصواب فی ذلک ماقالہ سعید بن جبیر و مجاھد۔ اور ثوری نے صراحت کے ساتھ اس کے معنی لوح محفوظ کے بتائے ہیں، ھو اللوح المحفوظ (ابن کثیر۔ عن الثوری)
142۔ قرآن میں الارض کا اطلاق ارض جنت پر بھی ہوا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں (آیت) ” الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشآء (الزمر) چناچہ یہاں بھی یہی معنی محققین سے منقول ہیں اور اس طبقہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے لے کر اکابر تابعین تک سب ہی شامل ہیں۔ قال ابن عباس ؓ ارض الجنۃ وکذا قال ابو العالیۃ و مجاھد و سعید بن جبیر والشعبی وقتادۃ والسدی وابوصالح والربیع بن انس والثوری (ابن کثیر) یعنی بذلک ان ارض الجنۃ یرثھا عبادی العاملون بطاعتہ (ابن جریر) الفاظ کی اس تشریح کے بعد مطلب بالکل صاف ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھ دینے کے بعد ہم نے کتب آسمانی میں بھی یہ قاعدہ لکھ دیا ہے کہ زمین بہشت کے مالک تو بندگان صالح شریعت پر چلنے والے ہی ہوں گے۔ گویا آیت تمامتر مومنین کے حق میں ایک بڑی بشارت اخروی ہے۔ لیکن یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ” ہم نے کتاب زبور (صحیفہ داؤد (علیہ السلام) نبی) میں لکھ رکھا ہے بعد نصیحت کے کہ زمین کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے “۔ چناچہ بہت سے اہل تفسیر ادھر بھی گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ آیت مومنین کے حق میں ایک بشارت دنیوی نعمت یعنی زمینی بادشاہت کی ہوگی۔ اور اگر الارض سے مراد ارض موعود لی جائے۔ یعنی ملک شام (جیسا کہ بہت سے اہل تفسیر نے مراد سمجھی ہے) جب تو یہ پیشگوئی عہد صحابہ میں پوری طرح پوری ہو کر رہی۔۔ صحیفہ زبور میں بھی یہ الفاظ ملتے ہیں :۔” صادق زمین کے وارث ہوں گے “ (37: 29)
Ayahs 21:106–107143۔ اور وہ رحمت ومہربانی یہی ہے کہ قرآن کے مخاطبین رسول کے پیام ہدایت کو قبول کریں اور اپنی زندگی کو انہی کے لائے ہوئے نظام کے سانچہ میں ڈھالیں۔ فلاح کو نین وسعادت دارین صرف رسول ﷺ کے اتباع میں ہے۔ یہاں تک کہ رسول کا غزواقتال بھی دنیا کے حق میں سرتاسر رحمت ہی ہوتا ہے۔ اقبال نے کتنا سچ کہا ہے۔
ع :۔ لفط وقہر او سراپا رحمتے آں بہ یاراں ایں بہ اعدارحمتے :
مرشد تھانوی (رح) نے آیت سے ایک نکتہ یہ بھی استنباط کیا ہے کہ مقبولین کی برکات ان کے قصد کے بغیر بھی عالم کو پہنچتی رہتی ہیں۔ جیسے آفتاب کی شعاعیں کہ بلا اس کے قصد وعلم کے سب کو پہنچتی رہتیں ہیں۔
Ayah 21:108144۔ (اہل توحید واہل شرک کے اختلافات کے باب میں)
Ayah 21:109145۔ (احکام الہی کی بھی، اور ان احکام کی عدم تعمیل کے نتائج کی بھی اس کے بعد اب نہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری باقی رہی، نہ تمہارے پاس کوئی عذر معذرت) (آیت) ” علی سوآء “ سے مراد ہے خوب مفصل ومدلل۔
146۔ پیغمبر کو قطعی علم صرف وقوع عذاب اور وقوع آخرت کا رہتا ہے۔ وقت وزمانہ کی تعیین کا علم اسے نہیں دیا جاتا۔ علم کامل کی نفی جب پیغمبر اور پیغمبر بھی کون ؟ اشرف الانبیاء سے کی جارہی ہے تو کسی مرشد یا ولی کے لیے علم غیب کا اعتقاد رکھنا ظاہر ہے کہ کیسی کھلی ہوئی نادانی وجہالت ہے۔
Ayah 21:110147۔ یعنی تاخیر عذاب۔
Ayah 21:111148۔ امتحان اس لحاظ سے کہ شاید اب یہ ایمان لے آئیں۔ یہ ظہور رحمت ہے۔ عارضی مہلت اس اعتبار سے کہ غفلت اور بڑھتی جائے، اور تحقق عذاب کے اسباب اور بڑھ لیں، یہ ظہور قہر ہے۔ پیغمبر کی زبان سے یہ کہلایا جارہا ہے کہ مجھے ان مصالح تکوینی کا علم نہیں، امتحان الہی سے مراد ہمیشہ دنیا کی نظروں میں امتحان ہوگا۔ ورنہ علم الہی میں تو ظاہر ہے کہ سب ہی کچھ موجود ہے۔
Ayah 21:112149۔ یہ اس وقت کہا، جب تبلیغ کے سارے مرتبے ختم ہوچکے اور اصلاح خاطرخواہ نہ ہوئی۔
150۔ فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ جو اندھوں کو بھی نظر آجائے۔ یعنی کافروں کی شکست وتباہی باوجود ہر ساز و سامان کے۔
151۔ (مثلا یہی کہ ہم عنقریب مسلمانوں کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیں گے، یا اور کلمات کفر والحاد)