21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور یقیناً آپ سے پہلے بھی جو پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا جاچکا ہے پھر جن لوگوں نے ہنسی اڑائی تھی ان کے اوپر وہی (عذاب) آ واقع ہوا جس پر وہ تمسخر کر رہے تھے،56۔

56۔ ساری تاریخ انبیاء مکذب، منکر، معاند قوموں کی تباہی و بربادی سے بھری پڑی ہے۔ اور ہر دنیوی ومادی عذاب تو محض ایک ہلکا سا نمونہ ہے آخرت کے اشد العذاب کا۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

آپ کہیے وہ کون ہے جو تمہاری حفاظت کرتا رہتا ہے رات اور دن میں خدائے رحمن سے ؟ لیکن نہیں وہ اپنے پروردگار کے ذکر کی طرف سے رو گرداں ہی ہیں57

57۔ (اس لئے دلائل توحید پر غور ہی نہیں کرتے) (آیت) ” من ...... الرحمن “۔ یعنی اگر خدائے رحمن تمہیں گرفت میں لینا ہی چاہے تو دن رات میں کون اتنی مجال رکھتا ہے جو تمہارے بچاؤ میں کام دے سکے ؟ یعنی عارفین نے لکھا ہے کہ اپنے نفس کی حفاظت کی طرف سے بےاختیاری میں تو مومن و کافر سب برابر ہیں البتہ فرق یہ ہے کہ مومن کی تائید، حفاظت ونصرت من اللہ ومع اللہ ہوتی رہتی ہے۔ اور کافر کی آس ادھر سے ٹوٹی رہتی ہے۔
Ayahs 21:43–44

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہمارے سوا (کوئی اور) معبود ہیں جو ان کی حفاظت کرلیتے ہو ؟ وہ تو خود اپنی نصرت کی بھی قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہمارے مقابلہ میں ان کا ساتھ ہی دیا جاسکتا ہے

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

لیکن نہیں ہم نے تو انہیں اور انکے باپ (دادوں) کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا،58۔ سو کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم (ان کی) زمین کو (برابر) اس کی ہر طرف سے گھٹاتے ہی چلے آتے ہیں،59۔ بھلا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں ؟

58۔ (اور انہوں نے اپنے عیش و عشرت میں کوئی خلل پڑتے نہ دیکھا) سو ان کے اصرار علی الکفر اور جمود کی اصل بنیاد ان کی طویل غفلت ہے۔ 59۔ (فتوح اسلامیہ کے ذریعہ سے) سو ان کی بیداری اور تنبیہ کے لئے اور انہیں غفلت کی نوم طویل سے چونکا نے کے لئے تو یہی امر کافی ہوجانا چاہیے۔ ” ابتدا میں اسلام کا مغلوب ہونا اس کی اشاعت میں مخل تھا اور اس کی تبلیغ و اشاعت کافی ہوچکی جو اصل مقصود تھی، اب مغلوب ہونے سے وہ مفقود نہیں ہوسکتا چناچہ مشاہد ہے۔ “ (تھانوی (رح )
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ میں تو وحی کے ذریعہ سے تمہیں صرف ڈراتا ہوں،60۔ اور بہرے تو پکار سنتے ہی نہیں جب ڈرائے جاتے ہیں،61۔

60۔ (باقی عذاب لانا نہ لانا میرے اختیار میں بالکل نہیں) 61۔ سو یہ بہرے جنہوں نے ہر دعوت حق کی طرف سے اپنے کان بہرے کر رکھے ہیں، ان پر بھلا میری تنبیہ کا کیا اثر ہوگا ؟ )
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو آپ کے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھوجائے تو یوں کہنے لگیں ہائے ہماری کم بختی، بیشک ہم ہی خطاوار تھے،62۔

62۔ یعنی پورا عذاب تو الگ رہا، اس کا ایک شمہ بھی اگر ان پر نازل ہوجائے ہوجائے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں، ہوش درست ہوجائیں، اور ساری غفلت اور تعلی رفو چکر ہوجائے۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن میزان عدل قائم کریں گے،63۔ سو کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا، اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی (کسی کا کوئی) عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لاحاضر کریں گے اور حساب لینے والے ہم ہی کافی ہیں،64۔

63۔ (اور اعمال کا وزن کریں گے) وزن اعمال پر حاشیہ سورة اعراف رکوع اول کے تحت گزر چکا۔ (آیت) ” الموازین “۔ موازین کا جمع لانا یا تو اس وجہ سے ہے کہ ہر شخص کے لئے جدا میزان عمل ہو، یا چونکہ ایک میزان میں بہت سے لوگوں کے اعمال کا وزن ہوگا اس لئے وہ ایک قائم مقام متعدد کے ہوگی۔ “ (تھانوی (رح) موازین کے صیغہ جمع کے ظاہری اقتضاء سے بعض نے یہ کہا ہے کہ قیامت میں میزانیں متعدد ہوں گی، مثلا ہر امت کے لئے الگ الگ، ہر مکلف کے لئے الگ الگ۔ وجمع الموازین ظاہر فی تعدد المیزان حقیقۃ (روح) لیکن قول معتبر یہ ہے کہ یہ تعدد حقیقی نہیں مجازی ہے۔ اور صیغہ جمع محض اظہار عظمت کے لیے ہے۔ والاصح الاشھرانہ میزان واحد لجمیع الامم ولجمیع الاعمال والتعدد اعتباری وقد یعبر عن الواحد بما یدل علی الجمع للتعظیم (روح) انما جمع الموازین لکثرۃ من توزن اعمالھم وھو جمع تفخیم (کبیر) الاکثر علی انہ انما ھو میزان واحد وانما جمع باعتبار تعدد الاعمال الموزونۃ فیہ (ابن کثیر) 64۔ (بغیر میزان وغیرہ کی مدد کے بھی) مطلب یہ ہے یہ یہ سارے انتظامات تو تمہارے مزید اطمینان کے لیے ہوں گے، رونہ رتی رتی کے حساب کے لئے تو ہم خود ہی بلاان آلات ووسائط کی مدد کے کافی ہیں، بعض مشرک قوموں (مثلا اہل مصر) نے ایک الگ ” دیوتا “ دنیا کے حساب کتاب کے لئے بھی گڑھ رکھا تھا۔ آیت میں ضمنا ان مشرکانہ توہمات کی بھی تردید آگئی۔
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور بالیقین ہم موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کو عطا کرچکے ہیں ایک چیز فیصلہ کی اور روشنی کی اور نصیحت کی پرہیزگاروں کیلئے،65۔

65۔ (آیت) ” الفرقان “ سے مراد کتاب توریت ہے۔ اس کا نزول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اصالتا ہوا، حضرت ہارون (علیہ السلام) پر بطور ان کے نائب وشریک کے۔ (آیت) ” ضیآء وذکر ا “۔ بھی اسی کی صفات ہیں۔ الفرقان یعنی بہ الکتاب یفرق بین الحق والباطل (ابن جریر) ھو التور اۃ فکان فرقانا اذا کان یفرق بین الحق والباطل وکان ضیاء اذا کان لغایۃ وضوحہ یتوصل بہ الی طرق الھدی وکان ذکری اے موعظۃ (کبیر) والمراد بالفرقان التوراۃ وکذا بالضیاء والذکر (روح)
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ قیامت سے بھی ڈرتے رہتے ہیں،66۔

66۔ متقین کے دو وصف خصوصی بیان ہوئے ہیں، ایک ان کی خشیت رب، دوسرے یوم حشر سے ان کا خوف۔ کاش ہمارے بےقید اور ” آزاد “ صوفیہ ومشائخ اس پر غور کرتے، نصیحت سے نفع یاب ہونے کا راز اسی دل کھٹک میں ہے۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) ایک برکت والی (کتاب) نصیحت ہے کہ ہم نے اس کو اتارا ہے سو کیا تم اس کے منکر ہو ؟ ،67۔

67۔ یعنی تم ایسی کتاب کے منکر ہو جس کا نصیحت نامہ ہونا توریت سے بھی روشن تر ہے ! (آیت) ” مبرک “۔ یعنی جس کا نفع بہت کثیر ہو۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور بالیقین ہم (اس سے بھی) پہلے ابراہیم کو خوش فہمی عطا کرچکے تھے،68۔ اور ہم ان کو خوب جانتے تھے،69۔

68۔ (ان کے مرتبہ وحیثیت کے لائق ومتانب) رشد سے مراد ہدایت بھی ہے اور مرتبہ نبوت بھی۔ فی الرشد قولان الاول انہ النبوۃ والثانی انہ الاھتداء لوجوہ الصلاح فی الدین وفیہ قول ثالث وھو ان تدخل النبوۃ والاھتداء تحت الرشد (کبیر) (آیت) ” من قبل “۔ کھلا ہوا تعلق دور موسوی سے قبل کا ہے۔ اے من قبل موسیٰ وھرون (ابن جریر۔ کشاف) بعض نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا دور قبل بلوغ یا قبل ولادت مراد لیا ہے۔ ؛ اے ھداہ صغیرا (ابن جریر۔ عن مجاہد) وقیل من قبل ان یولد (روح) 69۔ (کہ وہ کیسی سعادتیں اور صلاحیتیں اور کیسے کمالات علمی وعملی رکھنے والے ہیں) خدا کی بخششیں اندھا دھند اور اٹکل پچو نہیں ہوتیں۔ تمامتر ظرف ومحل کی حکیمانہ رعایتوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اشیاء جو اپنے کمالات کے ساتھ مرتبہ علم الہی میں متصف رہتی ہیں۔ ان کا نام اصطلاح صوفیہ میں اعیان ثابتہ ہے۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب انہوں نے باپ سے اور اپنی قوم والوں سے کہا یہ کیا (واہیات، خرافات) مورتیں ہیں جن پر تم جمے بیٹھتے ہو،70۔

70۔ ملک بابل (موجودہ عراق) کی قدیم قوم شرک وبت پرستی میں مبتلا تھی، مظاہر پرستی، کواکب پرستی وغیرہ کے علاوہ مورتی پوجا کا بھی رواج ان میں پھیلا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسی قوم کے درمیان پیدا ہوئے۔ آپ (علیہ السلام) کے والد تارح (عربی تلفظ میں آزر) ایک بڑے صناع بت تراش وبت فروش تھے۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ شیخ اسمعیل شہید (رح) نے اس آیت سے صوفیہ کے تصور شیخ کے ناجائز ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) کی تحقیق ہے جو تصور شیخ غالی صوفیوں میں چلا ہوا ہے وہ تو بیشک ممنوع ہے لیکن اگر تصور شیخ ایسا ہو کہ نہ وہ بالا ستقلال مقصود ہو اور نہ اس پر عکوف ہو، بلکہ محض غلبہ محبت سے مثل دوسرے محبوبات کے وہ بھی ذہن کے سامنے آجائے اور جب وہ ذہن سے غائب ہونے لگے تو اہتمام اس کے باقی رکھنے کا بھی نہ کیا جائے تو ایسے تصور شیخ میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے تو اپنے باپ (دادوں) کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے،71۔

71۔ (تو اصلی اور قدیم دین اور اس لئے صحیح دین تو ہمارا ہی ہے تم البتہ خواہ مخواہ ایک نئی بات لے کر اٹھے ہو) جاہلی مذہبوں کا بڑا سہار ہمیشہ یہی رہا ہے۔
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا یقیناً صریح گمراہی میں مبتلا رہے تم (بھی) اور تمہارے باپ (دادا) بھی،72۔

72۔ یعنی مجرد تقلید آباؤ و اجداد بھی بھلا کوئی دلیل ہے ؟ آیت میں رد ہے جاہل مریدین ومقلدین کا جو اکابر کی تقلید واتباع میں غلو رکھتے ہیں۔
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم سنجیدگی سے ہمارے سامنے پیش کررہے ہو یا دل لگی کررہے ہو،73۔

73۔ مشرک قوم توحید سے اس درجہ ناآشنابیگانہ ہوچکی تھی کہ اسے یہ آواز بھی بالکل عجیب و غریب اور افسانہ نما معلوم ہوئی، اور وہ لوگ یہی سمجھے کہ معلوم ہوتا ہے یہ ہمارے ساتھ ہنسی دل لگی کررہے ہیں، ورنہ سنجیدگی سے تو کوئی ایسا انوکھا پیام پیش ہی نہیں کرسکتا۔ بالحق اے بجد (ابن عباس ؓ اے بالجد (روح)
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ارے (دل لگی کیسی) تمہارے پروردگار تو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان (سب) کو پیدا کیا اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں،74۔

74۔ یعنی میں اس عقیدہ توحید پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور بخدا میں تمہارے بتوں کی گت بنا ڈالوں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے،75۔

75۔ یہ ضرور نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فقرہ مجمع عام کو مخاطب کرکے اور پکار کر کہا ہو۔ اغلب ہے کہ زیر لب کہا ہو اور صرف آس پاس کے دو ایک شخصوں نے سن لیا ہو، فقہاء نے لکھا ہے کہ دشمن کو مغالطہ دینا جائز ہے۔ بشرطیکہ اس سے نقض عہد وتائید باطل لازم نہ آجائے۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ آپ نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر بھی ڈالا بجز ان کے بڑے (بت) کے تاکہ وہ لوگ اسی کی طرف رجوع کریں،76۔

76۔ (اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان پر تشنیع وتعریض اور گرفت کا پورا موقع ہاتھ آجائے) (آیت) ” الیہ میں ضمیر کا مرجع اکثر نے اس بڑے بت ہی کو لیا ہے۔ اے الی کبیرھم (کشاف) والضمیر الیہ عند الجمھور عائد علی ابراہیم (علیہ السلام) (روح) اے الی الکبیر (جلالین) لیکن اگر اس کا مرجع خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانا جائے جب بھی نتیجہ وہی رہے گا کہ جب میری طرف تحقیق حال کی طرف رجوع کریں گے اس وقت موقع مجھے قائل کرنے کا مل جائے گا۔ یحتمل رجوعھم الی ابراہیم (علیہ السلام) ویحتمل رجوعھم الی الکبیر (کبیر)
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ لوگ (آکر) بولے یہ (حرکت) کس نے ہمارے ٹھاکروں کے ساتھ کی ہے ؟ بیشک اس نے تو بڑا ہی غضب کردیا،77۔

77۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ادھر اپنے ارادہ کو قوت سے فعل میں لاچکے ہیں اور اب منظر یہ ہے کہ مندر میں پوجا پاٹ کرنے والے جب پوجا کے لئے جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنی مورتیوں کی یہ گت بنی دیکھی۔ سناٹے میں آگئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسی شدید گستاخی کی جرأت آخر ہوئی کس کو ؟
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(بعض ان میں سے) بولے کہ ہم تو ایک نوجوان کو جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے ان کا ذکر برائی سے کرتے سنا تھا،78۔

78۔ یہ اکا دکا کہنے والے وہی تھے جنہوں نے اس روز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ فقرہ سن لیا تھا۔ (آیت) ” یذکرھم “۔ کے معنی ہی ہیں بتوں کا ذکر برائی سے کرنا۔ یذکرھم بالکسر ویعیبھم (ابن عباس ؓ
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ لوگ) بولے تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ دیکھیں،79۔

79۔ (اور گواہی دیں) (آیت) ” یشھدون “۔ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہی کہ سب لوگ مشاہدہ کریں۔ یعنی یہ آکر دیکھیں کہ ہم ایسے مجرم کو کیسی سخت سزا دیتے ہیں۔ یحضرون عقابتنا (کشاف) اور دوسرے یہ کہ لوگ اس مجرم کے اقرار جرم کو سن کر ان کے گواہ بن جائیں۔ یشھدون علیہ بما سمع منہ (کشاف)
Ayahs 21:62–63

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

وہ بولے ارے تم ہی وہ ہو جس نے ہمارے ٹھاکروں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے اے براہیم (علیہ السلام) ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

آپ نے) کہا کہیں اس نے نہ کی ہو ان کے اسی بڑے نے سو انہیں سے پوچھ دیکھو اگر یہ بولتے ہوں،80۔

80۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے اس وقت بھی فرمایا کہ ” جی اور کیا اور کہیں ان سے بڑے ٹھاکر جی ہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ انہیں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟” حدیث صحیح میں ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے اس قول کو کذب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اس سے منکرین حدیث کو بخاری، مسلم، ترمذی کے خلاف ایک طومار کذب باندھنے کا موقع مل گیا ہے۔ حالانکہ بالکل صاف ظاہر ہے کہ یہ کذب صرف صورۃ تھا۔ نہ حضرت (علیہ السلام) کی نیت کسی غلط بات کہنے کی تھی نہ اس کلام سے اس بڑے مجمع میں کسی ایک متنفس کو بھی دھوکا یا مغالطہ ہوا۔ مقصود تمامتر مشرکین پر حجت الزامی قائم کرنا تھی، اور اس کے لئے آپ اعلان پیشتر سے کر بھی چکے تھے۔ (آیت) ” تاللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “۔ یہ تو صرف ایک بلیغ، مؤثر، خطیبانہ پیرایہ گفتگو تھا موقع کے مناسب حال، ایسا کذب (اور کذب عربی میں ہرگز اردو کے جھوٹ کے مترادف نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع معنی رکھتا ہے) ہرگز عصمت انبیاء کے منافی نہیں۔ امام رازی (رح) نے ایک توجیہ یہ بھی نقل کی ہے کہ فاعل (آیت) ” کبیرھم ھذا “۔ کو نہ ماناجائے بلکہ بجائے اس کے تقدیر کلام یوں مانی جائے۔ فعلہ من فعلہ یعنی یہ حرکت تو کی جس نے کی اور (آیت) ” کبیرھم ھذا “ کا تعلق صرف عبادت اللہ سے جوڑا جائے۔ انہ کنایۃ عن غیر مذکور اے فعلہ من فعلہ (کبیر) اور کسائی نحوی سے منقول ہے کہ وہ (آیت) ” بل فعلہ “۔ پر پورا وقف کرلیتے تھے۔ اور (آیت) ” کبیرھم ھذا “۔ سے نیافقرہ شروع کرتے تھے۔ یروی عن الکسائی انہ کا یقف عند قولہ بل فعلہ ثم یبتدی کبیرھم ھذا (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کسی مصلحت دینی کے سبب سے بعض بزرگوں سے جو کلام بطور تو ریہ منقول ہے۔ اس کی اصل یہی آیت ہے۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

اس پر وہ لوگ اپنے جی میں سوچنے لگے پھر بول اٹھے بیشک تم ہی (سر تا سر) ناحق پر ہو،81۔

81۔ یعنی سوچنے کے بعد جی میں تو قائل ہی ہوگئے کہ بیشک غلطی ہماری ہی ہے اور آپس میں کہنے بھی لگے۔ اے تتفکروا وتدبروا تذکروا (روح)
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر اپنے سروں کو جھکا لیا،82۔ (اے ابراہیم) تمہیں تو خوب معلوم ہے کہ یہ (ٹھاکر) کچھ بولتے نہیں،83۔

82۔ (جیسا کہ شرمندگی کے وقت انسان سرجھکا ہی لیتا ہے) لفرط اطرافھم خجلا وانکسارا (کشاف) 83۔ (سو ان سے پوچھنا ہی کیا) یہ جواب ظاہر ہے کہ بالکل مغلوبانہ لہجہ میں تھا۔
Ayahs 21:66–67

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

) آپ نے) کہا تو کیا تم اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکیں اور نہ تمہیں نقصان ہی پہنچا سکیں

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر بھی جنہیں تم اللہ کے سو پوجتے ہو،84۔ تو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ؟

84۔ تف ہے تمہاری مورتیوں کی بےبسی اور بیچارگی پر اور تف ہے تمہاری عقل و دانش پر کہ ایسوں کو اپنا خدا مانے ہوئے اور بنائے ہوئے ہو۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مبغوضین فی اللہ کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی جو عادت بعض بزرگوں کی ہوتی ہے اس کا ماخذ یہی آیت ہے۔
Ayah 21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(وہ لوگ) بولے انہیں جلا دو اور اپنے ٹھاکروں کا بدلہ لے لو اگر تمہیں (کچھ) کرنا ہے،85۔

85۔ مجرمین کو آگ میں ڈال کر جلادینے کی سزا اس وقت مختلف قوموں کے قانون میں عام تھی۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ بادشاہ بابل نے ایک خاص بھٹی اس کے لئے تیار کرائی۔ پانچ پانچ گز کے دور میں لکڑی کا دھیر لگا کر اس میں آگ لگائی گئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینکا گیا۔
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا اے آگ تو ٹھنڈی اور بےگزند ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں،86۔

86۔ جو خدا آگ کو جلانے کا حکم دیتا رہتا ہے، وہ اس پر بھی اسی آسانی سے قادر ہے کہ اسے نہ جلانے کا حکم دے دے، یہ کہنا کہ آگ تو جماد ولا یعقل وبے شعور ہے، اس سے خطاب کیونکر ہوگا۔ عجیب احمقانہ اعتراض ہے۔ آگ کی جمادیت، بےشعوری وغیرہ اگر ہے تو ہماری نسبت سے ہے یا خود خالق کائنات کی نسبت سے بھی ؟ (آیت) ” علی ابراہیم “۔ کی قید سے قرینہ اس کا نکلتا ہے کہ آگ کی تبدیل ماہیت نہ ہوئی ہو، وہ وہی بدستور آگ ہی ہو البتہ موذی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں نہ رہی ہو یا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت فرض کی جائے، واقعہ خارق عادت تو بہر حال وبہر صورت تھا۔ (آیت) ” سلما “۔ حذف مضاف کے ساتھ ہے۔ یعنی سلامتی والی والمعنی ذات برد وسلامۃ (کشاف) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض اولیاء امت سے جو اسی قسم کی کرامتیں منقول ہیں وہ اسی قصہ کی نظیر ہیں۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) ان کے ساتھ برائی کرنا چاہی تھی سو ہم انہیں (لوگوں) کو ناکام کردیا،87۔

87۔ (کہ ان کا مقصود یعنی ہلاکت ابراہیم (علیہ السلام) تو حاصل نہ ہوا۔ بلکہ الٹی حقانیت ابراہیم اور زیادہ روشن ہوگئی)
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور لوط (علیہ السلام) کو ایسی سرزمین کی طرف بھیج کر بچالیا جس کو ہم نے دنیا جہان والوں کے واسطے بابرکت بنایا ہے،88۔

88۔ مراد ہے سرزمین شام جو دینی ودنیوی برکتوں اور رحمتوں کی جامع ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ حضرات انبیاء کثرت سے اس سرزمین پر آئے اور دنیا کے پھیلے ہوئے شرک کے مقابلہ میں یہاں توحید کی اشاعت خوب ہوئی۔ اور دنیوی برکتوں سے اس ملک کی خوشگوار وصحت بخش آب وہوا اور اس سرزمین کی سرسبزی وشادابی ہے۔ توریت میں بھی شام کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ (آیت) ” ولوطا “۔ حضرت لوط (علیہ السلام) آپ کے بھتیجے تھے، اور آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ فریق مخالف کے ملک کو چھوڑ کر ہجرت کرجانا تو کل کے منافی نہیں، بلکہ سنت انبیاء کے موافق ہے۔
Ayah 21:72

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) ” پوتا “ عطا کیا اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا،89۔

89۔ یعنی صالحیت کے درجہ کمال پر تھے۔ اس تصریح کی ضرورت اس لئے پڑی کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب میں عجیب عجیب گندے الزامات ان مقدس حضرات پر لگا رکھے ہیں۔ قرآن ان سب سے ان حضرات کی تبری کرتا ہے۔ (آیت) ” نافلۃ “۔ کے معنی علاوہ، زیادہ اور عطیہ کے پوتے کے بھی آئے ہیں۔ الولد الولد (کشاف) وھو ولد الولد (راغب)
Ayah 21:73

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے ان (سب) کو پیشوا بنایا، ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم سے،90۔ اور ہم نے ان کے پاس وحی سے حکم بھیجا نیک کاموں کے کرنے کا اور نماز کی پابندی کا اور ادائے زکوٰۃ کا اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے،91۔

90۔ (خلق کو) (آیت) ” صلحین “۔ میں ابھی یہ بیان آچکا ہے کہ یہ حضرات تکمیل نفس کے مدارج طے کئے ہوئے تھے۔ اب بیان اس کا ہورہا ہے کہ دوسروں کی بھی تکمیل کردیتے تھے۔ گویا اعلی درجہ کے صالح ہی نہ تھے۔ اعلی درجہ کے مصلح بھی تھے۔ 91۔ (آیت) ” عبدین “۔ کی تقدیم ” لنا “۔ پر تاکید و تخصیص کی مقتضی ہے، یعنی وہ بس ہماری ہی عبادت کرتے تھے، (آیت) ” صلحین “۔ میں کمال نبوت کی طرف اور (آیت) ” اوحینا الیھم فعل الخیرت “۔ میں کمال علم کی طرف اور (آیت) ” کانوا لنا عبدین “۔ میں کمال عمل کی طرف اور (آیت) ” ائمۃ یھدون “۔ میں تکمیل للخیر کی طرف اشارہ ہے۔ “ (تھانوی (رح) توریت موجودہ میں انبیاء کرام کو عموما بس اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک قسم کے کاہن یا پیشگوئیاں کرنے والے تھے۔ قرآن مجید کو اس کی تردید میں بار بار یہ وضاحت کرنی پڑی کہ پیغمبروں کا اصلی کام ہدایت خلق ہے اور اپنے تزکیہ نفس کی تکمیل کے بعددوسروں کے تزکیہ نفس کی تکمیل ہے۔
Ayah 21:74

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا،92۔ اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے کام کرتے رہتے تھے بیشک وہ لوگ بڑے ہی بدکار تھے،93۔

92۔ (ان کے مرتبہ وشان کے متناسب) (آیت) ” حکما وعلما “۔ دونوں پر تنوین مرتبہ حکمت وعلم کی تعظیم وشان کے لئے ہے۔ اعلم ان ادخال التنوین علیھما یدل علی علوشان ذلک العلم وذلک الحکم (کبیر) 93۔ لوط (علیہ السلام) پر اور ان کی امت کی بدکاریوں پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے۔ ان کی اصلی اور سب سے بڑی بدکاری کا شارح تو خود لفظ لواطت ہے۔ باقی وہ قوم اور بھی اخلاقی پستیوں میں پڑی ہوئی تھی۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ خیر و خیرات کرنا غریبوں کو کھلانا پلانا ان کی سوسائٹی میں ایک شدید جرم تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” قریۃ “ سے مراد اہل قریہ ہیں (ابن عباس ؓ
Ayah 21:75

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا بیشک وہ بڑے نیک کاروں میں تھے،94۔

94۔ (جیسا کہ ایک پیغمبر کو ہونا ہی تھا، نہ کہ معاذ اللہ حرامکار وشہوت پرست، جیسا کہ یہود نے ان کے متعلق اپنی روایات میں گڑھ رکھا ہے، اور توریت تک میں ان کی زندگی کو شرمناک جرائم سے داغدار کرکے دکھایا ہے) ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ رحمۃ سے مراد لی گئی ہے اہل رحمت۔ فی رحمتنا اے فی اھل رحمتنا (کشاف)
Ayah 21:76

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) (کا تذکرہ کیجیے) جب کہ (اس سے) قبل،95۔ جب کہ انوں نے (ہم کو پکارا تھا سو ہم نے ان کی سن لی اور انہیں اور ان کے گھروالوں کو بہت بڑے غم سے نجات دی،96۔

،95۔ یعنی زمانہ ابراہیم، لوط سے بھی قبل۔ 96۔ (جس میں وہ کافروں کی تکذیب وایذاء سے مبتلا تھے) کرب عظیم سے مراد طوفان و غرقابی بھی ہوسکتی ہے۔ وھو الطوفان اواذیۃ قومہ (روح) اھل سے مراد نوح کے خاندان والے نہیں، دین والے ہیں۔ فالمراد بالاھل ھھنا اھل دینہ (کبیر)
Ayah 21:77

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان کا بدلہ لے لیا ایسے لوگوں سے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا بیشک وہ لوگ بہت ہی برے تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا،97۔

97۔ (ان کی بدکاری کی بناء پر) ایات سے مراد احکام بھی ہوسکتے ہیں، (آیت) ” من القوم “۔ یہاں مرادف ہے علی القوم کے (ابن عباس ؓ اور (آیت) ’ ’ من “۔ یہاں علی کے معنی میں ہے۔ قبیلہ ہذیل کی زبان سند ہے۔ زمخشری نے لکھا ہے کہ میں نے ایک ہذیلی کو علی کے موقع پر من بولتے سنا ہے، وہ چور کو بددعا دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا اللہم انصرھم منہ اے اجعلھم منتصرین منہ (کشاف) اور یہی قول ابوعبیدہ لغوی کا ہے۔ قال ابوعبیدہ من بمعنی علی (کبیر)
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد (علیہ السلام) وسلیمان (علیہ السلام) (کا بھی ذکر کیجیے) جب وہ کھیت کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے جب کہ اس میں لوگوں کی بکریاں رات کو جا پڑی تھیں،98۔ اور ہم ان لوگوں سے متعلق فیصلہ کو دیکھ رہے تھے،99۔

98۔ (اور کھیت کو چر گئی تھیں) حضرت داؤد (علیہ السلام) و حضرت سلیمان (علیہ السلام) دونوں پر مفصل حاشیے گزر چکے ہیں۔ یہ دونوں حضرات پیغمبر ہونے کے ساتھ ہی حاکم وفرمانروا بھی تھے اور قدرتی طور پر مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ (آیت) ” نفشت “۔ نفش رات میں جاپڑنے اور حملہ کرنے کو کہتے ہیں۔ قال الزھری النفش لایکون الا باللیل (جصاص) آیت سے صاف ظاہر ہے کہ فرماں روا اور حکمراں ہونا نبوت تک کے منافی نہیں چہ جائیکہ ولایت کے۔ 99۔ حکمھم میں ضمیر جمع قوم کی جانب ہے یا اس کے مفہوم مقدر پر اھل الحرت واھل الغنم کی جانب۔ یا پھر داؤد وسلیمان (علیہ السلام) اور قوم تینوں کی جانب۔ اے لحکم داؤد وسلیمن والقوم الذین حکما بینھم (ابن جریر)
Ayah 21:79

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

سو ہم نے اس فیصلہ کی سمجھ سلیمان (علیہ السلام) کو دے دی،100۔ اور حکمت وعلم تو ہم نے ہر ایک دیا تھا،101۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ وہ اور پرندے تسبیح کیا کرتے تھے اور (یہ) کرنے والے ہم تھے،102۔

100۔ یہاں یہ ارشاد نہیں کہ صحیح فیصلہ بذریعہ وحی حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر القاء کیا گیا تھا، متبادر یہ ہوتا ہے کہ اصابت رائے وصحت فہم کی قوت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زائد عطا ہوئی تھی اور اس میں کیا شک کہ سلیمان (علیہ السلام) کی حکمت و دانائی، خوش فہمی اور قوت فیصلہ آج تک یہود ومسیحی اقوام میں بہ طور ضرب المثل کے چلی آتی ہے۔ عارفین نے یہاں سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ صحت نظر وجودت قیاس بھی محض فضل ربانی ہے۔ چناچہ اسے اپنی طرف منسوب کرکے فرمایا کہ ہم نے سجادیا، سمجھا دیا۔” صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت برابر تھی، داؤد (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوادیں اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا۔ جس میں مدعی یا مدعا علیہ کی رضا بھی شرط نہیں۔ مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان تھا اس لیے بکریاں تو کھیت والے کو دی جائیں کہ دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جائے کہ اس کی خدمت آبپاشی وغیرہ سے کریں۔ جب کھیت پہلی حالت پر آجائے تو کھیت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو دے دی جائیں۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مقتضی ہو۔ اس لیے (آیت) ” کلا اتینا حکما وعلما “۔ بڑھا دیا گیا “۔ (تھانوی (رح ) 101۔ (دونوں میں سے) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ بھی غلط یا علم و حکمت سے خالی نہ تھا البتہ فیصلہ سلیمانی اس سے بہتر رہا۔ فقہاء نے اس سے متعدد مسائل مستنبط کیے ہیں، مثلا یہ کہ (1) اظہار حق میں شرم وادب نہ چاہئے۔ ورنہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کبھی اپنے والد بزرگوار کے فیصلہ کے خلاف زبان نہ ہلاتے (2) اظہار حق بہ مصلحت شرعی کبھی واجب ہوجاتا ہے اور کبھی مستحب (3) ایک قاضی کا فیصلہ دوسرے قاضی کے فیصلہ کو منسوخ کرسکتا ہے۔ (4) ایک مجتہد کو چاہئے کہ اپنے فیصلہ سے رجوع کرلے جب اسے دوسرا فیصلہ اپنے فیصلہ سے ارجح نظر آئے۔ 102۔ (ان خوارق کے، نہ کہ کوئی اور۔ تو پھر ان کے واقع ہونے میں کوئی تعجب کیوں کرے ! ) (آیت) ” سخرنا “۔ جبال ‘ کے یہ معنی کرنا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جب پہاڑوں میں تسبیح میں مشغول ہوتے تھے تو پہاڑ ان کی آواز سے گونجنے لگتے تھے، قرآن کی تفسیر نہیں قرآن کی تحریف ہے۔ اول تو یہ کہیں سے نہیں سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) تسبیح وتہلیل کے وقت اپنے قصر وایوان ومسجد کو چھوڑ کر پہاڑوں کے اوپر یا پہاڑ کی کسی کھوہ میں تشریف لے جاتے تھے، دوسرے پہاڑ پر آواز گونجنے ہی کیوں لگی، اس کے لیے تو لازمی تھا کہ آپ تسبیح بآواز بلند کرتے۔ تیسرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ قرآن کی کہنے والی ہی کون سی بات خصوصا محل مدح و اظہار نعمت میں۔ بلند آواز کی گونج تو پہاڑوں میں نبی غیر نبی، مومن و کافر ہر انسان بلکہ ہر جانور کی بھی ہوتی ہی رہتی ہے۔ (آیت) ” مع “۔ تسخیر سے مراد محض تبعیت جو اقتداء فی التسبیح ہے نہ یہ کہ ان کے فرمانے سے تسبیح کرتے تھے، گوممکن یہ بھی ہے مگر محتاج دلیل ہے “۔ (تھانوی (رح) توریت کی کتاب زبور میں داؤد (رح) کی زبان سے ہے :۔” پہاڑ اور سارے نیلے میوہ دار درخت اور سارے دیودار، جنگلی جانور اور سارے مواشی اور کیڑے مکوڑے اور پرندے ...... وہ خداوند کے نام کی پرستش کریں، کہ اس کا نام اکیلا عالی شان ہے، اسی کا جلال زمین اور آسمان کے اوپر پھیلا ہے۔ “ (زبور 148: 9۔ 13)
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں زرہ کی صنعت تمہارے (نفع کے) لئے سکھلا دی تھی تاکہ وہ تم کو تمہاری لڑائی میں بچائے،103۔ سو کیا تم شکر ادا کرو گے ؟ ،104۔

103۔ (ایک دوسرے کی زد سے) قرآن کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) زرہ کے موجد بھی ہوں اور یہ صنعت آپ سے قبل نامعلوم ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے دو مسئلہ ثابت ہوتے ہیں، ایک دستکاری سے معاش حاصل کرنا، دوسرے اسباب عادیہ کا استعمال توکل کے منافی نہ ہونا۔ 104۔ (اس نعمت کا) صنعت زرہ سازی کو قرآن نے خاص محل نعمت میں بیان کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ فنون وصنائع حرب مطلق صورت میں حرام نہیں، بلکہ انہیں حرام ولغو مقاصد کے لئے نہ استعمال کیا جائے تو عین مستحسن وقابل قدر ہیں، (آیت) ” ھل “۔ کلمہ استفہام ہے۔ لیکن کام امر کا دے رہا ہے۔ استفھام بمعنی الامر اے فاشکرواللہ علی ذلک (مدارک)