Ayah 18:81122۔ (اور اس لڑکے کا ہم کام ہی تمام کردیں) (آیت) ” زکوٰۃ “۔ پاکیزگی میں یعنی دین واخلاق میں۔ اے طھارۃ من الذنوب والاخلاق الردیۃ (بیضاوی) (آیت) ” رحبا “۔ محبت کرنے میں، یعنی ماں باپ سے محبت کرنے میں۔ (آیت) ” رحما “۔ رحم سے ہے اور معنی میں زور وقوت رحمت سے زیادہ رکھتا ہے۔ رحما من الرحمۃ وھی اشد مبالغۃ من الرحمۃ (بخاری) ابوعبیدہ لغوی کا قول ہے کہ رحم رحم سے ہے جس کے معنی قرابت کے ہیں اور رحمت سے زیادہ زور دار ہے۔ جس کے معنی محض رقت قلب کے ہیں وحاصل کلامہ ان رحما من الرحم التیھی القرابۃ وھی ابلغ من الرحمۃ التیھی رقۃ القلب (فتح القدیر) اقرب رحمااے ابر لوالدیہ (ابن جریر عن قتادۃ) (آیت) ” خشینا۔۔ اردنا “۔ بعض محققین نے یہاں یہ نکتہ بھی کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نکیر چونکہ اسی واقعہ قتل سے متعلق بہت شدید تھی اس لئے جواب میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے بھی اپنے ارادہ کی قوت ظاہر کرنے کو صیغہ جمع متکلم تعظیمی استعمال کیا۔
Ayah 18:82123۔ (جوان کے باپ سے ان کو میراث میں پہنچا ہے) (آیت) ” کنز “۔ یہاں اصطلاح فقہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے عام لغوی معنی میں خزانہ یا مال عظیم کے مرادف ہے۔ (آیت) ” المدینۃ “۔ وہی شہر ہے جس کا ذکر ابھی قریہ کے نام سے اوپر آچکا۔ گویا قرآن مجید نے دونوں لفظ کو مرادف قرار دیا ہے، محققین نے کہا ہے کہ پہلا ذکر موقع ہجو ومذمت پر تھا (بہ سلسلہ بخل اہل قریہ) اس لئے لفظ بھی ہلکا لایا گیا اور یہاں محل مدح وتحسین کا ہے (بہ سلسلہ صالحیت یتیمین) اس لئے لفظ بھی اونچا لایا گیا۔
124۔ (سو اس کی برکت سے اللہ نے اس کے مال کو اس کی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہا) (آیت) ” صالحا “۔ یہاں محل تعلیل میں وارد ہوا ہے یعنی مال کے غیبی تحفظ میں دخل والدین کی صالحیت کو بھی تھا۔ اس سے علماء محققین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ والدین کی صالحیت اولاد کو فائدہ پہنچاتی ہے بشرطیکہ اولاد خود بھی صالح ہو اور پسر نوح (علیہ السلام) کی سی نہ ہو۔ فیہ دلالۃ علی ان اللہ یحفظ الاولاد لصلاح الاباء (جصاص) فیہ دلیل علی ان الرجل الصالح یحفظ فی ذریتہ وتشمل برکۃ عبادتہ لھم فی الدنیا والاخرۃ (ابن کثیر) یدل علی ان صلاح الاباء یفید العنایۃ باحوال الابناء (کبیر)
125۔ (تو میں نے دیوار کو درست کرکے دفینہ کو محفوظ کردیا ورنہ دیوار گر جانے سے لوگ اس مال کو لوٹ کرلے جاتے) (آیت) ” کنز “ کی متعدد تفسیریں مروی ہوئی ہیں لیکن عکرمہ وقتادۃ نے اس کے وہی معنی لئے ہیں جو لغت میں عام ہیں یعنی مال مکنوز (ابن جریر) بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ دیوار کی بلااجرت درستی پر چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض بہت ہلکا تھا اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب بھی بہت ہلکے انداز میں دیا اور ارادہ عمل میں اپنے نفس کی آمیزش بالکل نہیں آنے دی۔
126۔ (بلکہ سارے کام بالہام الہی سرانجام دیئے) مطلب یہ کہ ان افعال خلاف شریعت ظاہر میں سے کوئی سا عمل بھی میری ذاتی رائے یا اجتہاد کا نتیجہ نہیں، سب الہامات الہی ہی کی تابع ہوئے ہیں۔
127۔ مافعلت مارأیت عن اجتھادی ورائی وانما فعلتہ بامر اللہ (کشاف) نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے سے بڑا صاحب باطن بھی احکام شریعت ظاہری کے خلاف نہیں جاسکتا تاآنکہ الہام صریح اپنی تائید میں نہ رکھتا ہو۔ ؛ لیکن خود الہام صریح ہی پر اب بعد ختم نبوت کیا دلیل قائم ہوسکتی ہے ؟ بعض کو یہاں یہ دھوکا ہوا ہے کہ الہام پر خلاف شرع عمل جائز ہے۔ جواب یہ ہے کہ یا تو وہ نبی ہوں گے اور یا یہ کہ شریعت سابقہ ہوگی۔ مگر اس شرع میں یہ جائز نہیں “۔ (تھانوی (رح) مشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ جس طرح انبیاء امر نبوت میں اپنے دل سے کچھ نہیں کرتے۔ اولیاء اہل خدمت بھی مدارج خدا مت میں تابع حکم رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کا اجتجاج ساقط ہوگیا جو کاملین کے لئے امور خلاف شرع فی الواقع کا صدور جائز رکھتے ہیں، وجہ سقوط ظاہر ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے یہ سب افعال بالکل مامور بہ من اللہ تھے اور یہی مامور بہ شرع ہے۔ اگر وہ نبی تھے تب تو یہ افعال شرع جزئی کی طرف مستند ہیں اور اگر نبی نہیں تھے تو شرع کلی کی طرف کسی اصل غامض کے ذریعہ اسنتباط ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے اطلاع نہیں ہوئی کہ ان پر وہ مصالح خاصہ منکشف نہیں ہوئے اس لئے وہ استنباط نہ کرسکے۔
Ayah 18:83128۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اسی درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی، (آیت) ” تعلمن مماعلمت “ گونمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں وہ غالبا مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ حاصل ہوتا۔ اور گویہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو کیونکہ قابل اتباع نہیں۔ تاہم اس معنی کو مفید خاص کر ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں۔ گواجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں یہ نہ کہا کہ تم خلاف شرع کرتے ہو۔
وجہ یہ کہ بعد غصہ فرو ہوجانے کے اجمالا سمجھ گئے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس بھیجا ہے تو ان کا فعل موافق ہوگا “ (تھانوی (رح) سارے قصہ سے ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لئے شرط علوم متعلقہ نبوت سے اطلاع ہے نہ کہ تمام علوم سے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس علم سے جس کے لئے اتنابڑا سفر کیا تھا اور جس کے سیکھنے کے لئے اس شوق سے آئے تھے دست برداری گوارا کرلی مگر یہ گوارا نہ کیا کہ خلاف منصب نبوت ایسے منکر افعال پر (ان کے منشائے باطن کچھ بھی سہی) سکوت گوارا کرلیں۔ اسی لئے محققین کا بالاتفاق فیصلہ ہے کہ کوئی شغل، کوئی کسب اپنے آثار روحانی ولطائف نورانی کے لحاظ سے کیسا ہی مزکی نفسی ومجلی قلب ہو اگر احکام شریعت ظاہری کے خلاف ہوگا۔ ہرگز جائز و حلال نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسے مغیبات پر مطلع ہوجانا یا ان کا منکشف ہوجانا مقاصد میں سے نہیں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ قطعی نبی اور اولوالعزم اور صاحب شریعت مستقلہ ہونے کے خضر (علیہ السلام) سے اکمل ہیں۔ پھر بھی ان واقعات سے متعجب رہے۔
،129۔ یہ سوال کرنے والے قریش تھے بہ مشورہ یہود۔ بعض روایتوں میں صرف مشرکین کا ذکر ہے اور بعض میں صرف اہل کتاب کا۔ لیکن قول مشہور ومحقق یہی ہے۔ السائلون فی المشھور قریش بتلقین الیھود (روح) (آیت) ” ذوالقرنین “۔ طرز سوال سے یہ خود ہی نکل آیا کہ ذوالقرنین کے لفظی معنی ہوئے ” دو سینگوں والا “ اور ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔ قیل القرن القوۃ (ھنا یہ لسان) قرآنی تصریحات سے اتنا تو بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیندار اور بڑے فاتح کشور کشا تھے مگر اس سے زیادہ تعیین قرآن میں نہیں۔ آگے شارحین ومفسرین کے قیاسات ہیں غالب خیال یہ ہے کہ مراد مشہور تاریخی فاتح سکندر یونانی (متوفی 323 ق۔ م) سے ہے۔ والمشہور انہ الا سکندر (بحر) یعنی اسکندر الرومی (بیضاوی) الاسکندر الذی ملک الدنیا (مدارک) اسمہ سکندر (جلالین) وجب القطع بان المراد بذی القرنین الاسکندر بن فیلقوس الیونانی (کبیر) اور اہل لغت نے یہ تشریح بطور ایک مسلمہ کے نقل کردی ہے۔ وذوالقرنین المذکور فی التنزیل ھو اسکندر الرومی (قاموس۔ تاج) وذوالقرنین الموصوف فی التنزیل لقب لاسکندر الرومی (لسان) اس قول کے تسلیم کرنے میں دقت یہ پڑتی ہے کہ سکندر کے موحد و مومن ہونے کا کوئی ثبوت تاریخ میں موجود نہیں۔ یہود، عبادت یہود اور معبد یہود کے ساتھ اس کے ہمدردانہ برتاؤ سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اسے دین توحید سے کوئی عناد وتنفرنہ تھا جیسا کہ عموما مشرک بادشاہوں کو رہا کیا ہے۔ دوسرے اقوال جو ایران کے بادشاہ عظیم سایرس یا فورس یا کخیسر و (متوفی 539 ق، م) وغیرہ سے متلق ہیں۔ ان کے ماننے میں تاریخی دقتیں کچھ کم حائل نہیں۔ قرن یا سینگ توریت کی اصطلاح میں شوکت واقتدار کے معنی میں آیا ہے۔ اور روایات یہود میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور سے توریت لیکر واپس ہوئے ہیں تو آپ کے سر پر بھی یہی دو سینگ نمودار تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ ذو القرنین کی وجہ تسمیہ سے متعلق متعدد قول اور روایتیں منقول ہیں۔ ایک مشہور ومرفوع روایت یہ ہے کہ مشرق سے مغرب تک سیر کی تھی اس لئے ذوالقرنین مشہور ہوئے۔ انہ طاف قرنی الدنیا اے شرقھا وغربھا وروی ذلک مرفوعا (روح) سمی بذلک لانہ ملک الشرق والغرب (ہنایہ)
Ayah 18:84130۔ (حسب وحی الہی) منہ میں مضاف خبر محذوف ہے۔ منہ اے من خبرہ (ابن عباس ؓ
Ayah 18:85131۔ (جس سے وہ اپنے شاہی ارادوں اور منصوبوں کی تکمیل کرسکیں) اے من اسباب کل شیء ارادہ من اغراضہ ومقاصدہ فی ملکہ (کشاف) مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک بڑے بادشاہ اور جلیل القدر فرمانروا تھے۔ (آیت) ” سببا “ سبب کے معنی ذریعہ، واسطہ سامان کے ہیں، جس سے مقصد پورا ہوسکے۔ کل ما یتوسل بھا الی شیء (راغب) مایتوسل بہ الی المقصود من علم اوقدرۃ اوالۃ (کشاف) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مال کا حاصل ہونا یہاں تک کہ خزائن اور جاہ کا حاصل ہونا یہاں تک کہ سلطنت کمال کے منافی نہیں۔
Ayah 18:86132۔ (جانب مغرب، بارادہ فتوحات) سبب کے معنی جس طرح سازوسامان کے ہیں اسی طرح راہ، منزل، طریق کے بھی ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں، یعنی بالسبب المنزل (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ سببا اے منزلا وطریقا (ا بن جریر۔ عن مجاہد) اے منازل الارض ومعالمھا (ابن جریر عن قتادۃ) سکندر اعظم کی ابتدائی فوجی مہمات شمال اور مغرب ہی کی جانب تھیں۔
133۔ (جیسا کہ سمندر کے کنارہ کھڑے ہوئے ہر شخص کو سورج سمندر میں ڈوبتا دکھائی دیتا ہے) (آیت) ” مغرب الشمس “ یعنی جہت مغرب میں منتہائے آبادی پر۔ الغرب، والمغرب دونوں سے مراد پچھم کی سمت ہی ہوتی ہے۔ اے منتھی الارض من جھۃ المغرب (روح) (آیت) ” وجدھا “۔ وجد کے دومختلف مفہوم لغت عرب میں ہیں۔ ایک معنی تو ہیں ” پایا “ ” معلوم کیا “۔ دریافت کیا۔ “ گویا اس معنی میں واقعیت یا واقعہ کے ساتھ مطابقت کا پہلو بھی شامل ہے اور دوسرے معنی ہیں۔” محسوس کیا “۔ مشاہدہ کیا “ گویا اس کا تعلق محض وجدان وادراک سے ہے واقعہ سے مطابقت ہرگز ضروری نہیں۔ اور یہاں یہی آخری معنی مراد ہیں۔ المراد وجدھا فی نظر العین (روح) (آیت) ” عین حمءۃ “۔ یعنی گندے سیاہ کیچڑ میں۔ اے فی طین اسود (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ ذات حماۃ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ الحمءۃ الحماالسوداء (ابن جریر۔ عن قتادۃ) اب تاریخ وجغرافیہ کی شہادت یہ ہے کہ ابتدائی فتوحات کی سمت (یعنی سمت مغرب) میں ایک جھیل آکریڈا (OCHRIDA) کے نام سے جنوبی سرویا (موجودہ یوگوسلیویا) میں واقع ہے، مناستر سے کوئی 50 میل جانب مغرب۔ اس کا پانی جن زمین اور چشموں سے آتا ہے وہ بڑے گندلے یا سیاہی مائل ہیں یہاں تک یہ جو دریا اس جھیل سے نکلا ہے اس کا نام ہی دریائے سیاہ (Black River) ہے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
134۔ (جو کافر تھی، جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے) قوما کفارا (ابن عباس ؓ یہاں وجد اپنے پہلے معنی میں ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 133 یعنی اس گندے چشمہ کے کنارے ایک قوم آباد تھی۔
Ayah 18:87135۔ سزا دو تو ان کے کفر سابق کی بنا پر وہ بھی ٹھیک ہے اور انہیں نرمی سے دعوت ایمان دو تو وہ بھی ان کی توقع ایمان کی بنا پر مناسب ہے۔ اس کا فیصلہ ذوالقرنین ہی پر چھوڑدیا گیا جیسا کہ ہر ایسے موقع پر امام مسلمین یا امیر المومینن پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (آیت) ” ھذا التخییر علی معنی الاجتھاد فی اصلح الامرین (کبیر) (آیت) ” قلنا “۔ یہ ارشاد خداوندی خواہ براہ راست الہاما ہوا ہو خواہ بالواسطہ نبی وقت کے ذریعہ سے۔
Ayah 18:88136۔ (آخرت میں) ذوالقرنین نے کہا کہ اچھا تو میں وہی نرمی کا طریقہ اختیار کرتا ہوں اور پہلے ان لوگوں کو دعوت ایمان ہی دیتا ہوں۔ (آیت) ” من ظلم “۔ ظلم یہاں کفر کے اور ظالم کافر کے معنی میں ہے۔ ظلم اے کفر باللہ (ابن عباس ؓ الظلم العظیم الذی ھو الشرک (روح) یعنی آپ نے فرمایا کہ جو میری دعوت ایمان کے بعد بھی کافر رہے گا۔ اے استمر علی کفرہ واشر کہ بریہ (ابن کثیر) (آیت) ” نعذبہ “۔ اس عذاب کے تحت میں قتل وغیرہ سب کچھ آگیا۔ (آیت) ” نکرا “۔ ملاحظہ ہو حایشہ نمبر 108، پ 15۔
Ayah 18:89137۔ یعنی فعلی سختی تو کیا قولی سختی بھی مومنین کے ساتھ روانہ رکھی جائے گی (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “۔ یعنی آخرت میں اس کے لئے عیش ہی عیش ہے۔
Ayah 18:90138۔ یعنی سمت مشرق میں، سکندر کی فوجی مہمات بعد کو مشرق ہی کی سمت ہوئیں،
9 13۔ یعنی وہ وحشی اور غالباخانہ بدوش قوم مکان و لباس وغیرہ کی صنعتوں سے نا آشناتھی۔ دھوپ سے بچنے کو نہ مکان تھا نہ کپڑا (آیت) ” مطلع الشمس “۔ یعنی سمت مشرق میں منتہائے آبادی پر۔ اے غایۃ الارض المعمورۃ من جھۃ المشرق (روح) (آیت) ” وجدھا “۔ وجد کے معنی یہاں بھی وہی معلوم ہونے، محسوس کرنے کے ہیں۔ (آیت) ” سترا “۔ ستر کے لفظی معنی ہیں وہ چیز جو ڈھانکے۔ ھو ما یستربہ (تاج) یہاں مراد ہر ایسی چیز سے لی گئی ہے جو دھوپ سے بچانے اور محفوظ رکھنے کا کام دے سکے اور اس میں مکان اور لباس دونوں آگئے۔ لم یبنوا فیھا بناء قط ولم یبن علیھم فیھا بناء قط (ابن جریر، عن قتادۃ) الستر الذی جعلنا لکم من الجبال والحصون والابینۃ والاکنان من کل جنس والثیاب من کل صنف (کشاف) المراد لاشیء لھم یسترھم من اللباس والبناء (روح) معناہ انہ لا ثیاب لھم ویکونون کسائر الحیوانات عراۃ ابدا (کبیر)
Ayah 18:91140۔ (آیت) ” کذلک “۔ تحقیق وتاکید کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ ہم بیان کررہے ہیں یہی اصل حقیقت اور واقعہ ہے اور ہم کو ذوالقرنین اور اس کے سازوسامان کی پوری اطلاع ہے۔
Ayah 18:92141۔ (اور اب کی بھی سمت مشرق ہی میں) قرآن مجید میں اس سمت کی بابت کوئی اشارہ نہیں۔ قدیم مفسرین نے اپنے وقت کی جغرافیائی معلومات پر اعتماد کرکے لکھ دیا ہے کہ سمت شمال مراد ہے۔ لیکن اس پر کوئی دلیل نقلی یا عقلی قائم نہیں کی ہے۔ ان کے قیاس کی بنیاد تمامتریہ ہے کہ قدیم جغرافیہ میں انسانی آبادی عموما شمال ہی کے سمت میں دکھائی گئی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اس تیسرے جنگی سفر کی سمت بھی مشرق ہی تھی۔ اور چونکہ سمت مشرقی کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔ اس لئے اب کسی مزید تصریح وتعیین کی ضرورت نہ تھی۔
Ayah 18:93142۔ یعنی ذوالقرنین اور اس کے لشکروں کی زبان ان کے لئے بالکل اجنبی تھی۔ ماکانوا یفھمون اللسان الذی یتکلم بہ ذوالقرنین (کبیر) عجب نہیں جو یہ ترکستانی قبائل ہوں، جن کی زبان، تلفظ، لب و لہجہ سب یونانیوں کے لئے اجنبی تھا۔ (آیت) ” بین السدین “۔ سد کے اصلی معنی دو چیزوں کے درمیان اوٹ یا رکاوٹ کے ہیں۔ الحاجزبین الشیئین (ابن جریر) اور اس کے عموم میں پہاڑ درہ وغیرہ سب شامل ہیں، یہاں مراد پہاڑ لی گئی ہے۔ السدین الجبلین (ابن عباس ؓ یعنی بین جبلین (ابن جریر۔ عن ضحاک) وھما جبلان (ابن جریر۔ عن قتادۃ)
Ayah 18:94143۔ (تاکہ وہ پھر ہمارے ملک میں نہ آنے پائیں) (آیت) ” یاجوج وما جوج “۔ ب ظاہر یہ وہ منگولی قبیلے معلوم ہوتے ہیں، جو پہاڑوں کی دوسری طرف آباد تھے، اور کبھی کبھی موقع پاکر یلغار کرتے ہوئے ترکوں کے درمیان گھس آتے تھے۔ یاجوج اور جاجوج کا اشتقاق اہل لغت نے مادہ اج سے کیا ہے۔ جس کے معنی آگ کے شعلہ مارنے اور پانی کے تموج وتلاطم کے ہیں۔ ان کے یہ نام ان کی شدت شورش کی بنا پر پڑے۔ شبھوا بالنار المضطربۃ والمیاہ المضمرجۃ لکثرۃ اضطرابھم (راغب) بعض نے انہیں اسماء عجمی بھی کہا ہے اسمان اعجمیاں بدلیل منع الصرف (کشاف) بائبل کی کتاب خرقی ایل کے باب 38، 39 میں یاجوج وماجوج کا ذکر بار بار آیا ہے۔ اور پیشگوئیاں بھی درج ہیں۔ لیکن کچھ تفصیلات بیان نہیں ہوئی ہیں۔ بائبل کے شارحین بھی آج تک ان کی تعیین میں مضطرب ہیں۔ کوئی ماجوج وماجوج کو دو قومیں قرار دیتا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ ماوجوج قوم کا نہیں مقام کا نام ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ موجوج یافث بن نوح کی نسل سے ہے، عام طور پر ان لوگوں کی سکونت ایشیائے کو چک اور آرمینیا میں سمجھی گئی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ وہی قومیں ہیں جو (سیتہین SAythiAns) کہلاتی ہیں، بہرحال بائبل اور اس کی شروح سے قرآنی یاجوج وماجوج پر کچھ زیادہ روشنی نہیں پڑتی، قرآنی اشاروں سے تو بس اتنا پتہ چلتا ہے کہ کوئی شورہ پشت وشورش پسند پہاڑی قبیلے تھے اور جو آبادیاں ان کی تاخت کی زد میں تھیں انہوں نے ذوالقرنین سے عرض کی کہ ہم ان سے سخت پریشان ہیں۔ کہیے تو ہم چندہ فراہم کردیں اور آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایسی حد فاصل قرار دیدیں جسے توڑ کر یہ حملہ آور نہ ہوسکیں۔ (آیت) ” سدا “۔ یعنی روک۔ اے حاجزا یمنعھم من الوصول الینا (روح)
Ayah 18:95144۔ ذوالقرنین نے ان لوگوں کی درخواست کے جواب میں کہا کہ مال وخزانہ تو میرے پاس خدا کا دیا ہو اخود ہی بہت کافی ہے۔ مجھے تمہاری مالی مدد کی ضرورت نہیں البتہ تم ہاتھ پیر سے میری مدد کرو۔ مجھے ضرورت مزدوروں اور کاریگروں کی ہے۔ ماجعلنی فیہ مسکینا من المال والملک خیر مما تبذلون لی من الخراج ولا حاجۃ لی الیہ (بیضاوی) اے مابسط اللہ لی من القدرۃ والملک خیر من خرجکم (بحر) فقہاء نے یہاں دو مسئلہ مستنبط کئے ہیں ایک یہ کہ بادشاہ کو جائز ہے کہ رعایا کی درخواست پر اس کی رفاہ عام و تحفظ کے سامان بہ معاوضہ واجرت درست کردے۔ دوسرے یہ کہ معاوضہ اجرت جس طرح مال سے صحیح ہے محنت یا کام سے بھی صحیح ہے چناچہ ذوالقرنین نے کہا کہ کام تم کرو دیوار میں بنوائے دیتا ہوں۔ اس میں معاوضہ کی صورت کام سے بھی آگئی اور مال سے بھی۔
145۔ (جس سے وہ پھر آہی نہ سکیں) (آیت) ” ردما “۔ ردم کہتے ہیں بہت پختہ اور سنگین اور مضبوط قسم کے حجاب کو، سد الثلمۃ بالحجر (راغب) حاجزا حصینا موثقا (کشاف) اور محاورہ میں ردم سد سے کہیں بڑے حجاب کو کہتے ہیں۔ والردم اکبر من السد (کشاف)
Ayah 18:96146۔ (اور سب سامان جمع کرو) چناچہ سامان جمع ہوگیا اور کام شروع ہوگیا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ بنیادیں وغیرہ تو پتھر سے بھری گئی ہوں گی اور اوپر سے اس درہ کو لوہے کی چادروں کے دروازہ سے بند کیا گیا ہوگا۔ صدیوں بعد سیاحوں کے مشاہدہ میں ایک آہنی دیوار مقام دربند میں نظر آئی اور اس کا نام سد سنکدری ہی مشہور تھا اور وہ پھاٹک باب الحدید ہی کہلاتا تھا۔ یہ دربند وہ نہیں جو بحر قزوین کے مشرقی ساحل پر علاقہ قفقاز میں واقع ہے، جیسا کہ بعض مفسرین جدید کو دھوکا ہوا ہے۔ بلکہ یہ وہ دربند ہے جو علاقہ ایشیا کے مشرقی حصہ میں ضلع حصار میں واقع ہے۔ بخارا سے کوئی 150 میل جنوب مشرق میں۔ 38 درجہ شمال عرض البلد اور 67 درجہ مشرق طول البلد ہے۔ اس کا ذکر مشہور یورپین سیاح مارکوپولو نے اپنے سفر نامہ میں بھی کیا ہے۔ نیز انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا طبع یازدہم جلد 13 میں صفحہ 526 پر ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ و تفسیر انگریزی۔
147۔ (مزید استحکام کے لیے) ظاہر ہے کہ یہ سارے کام آلات جرثقیل وغیرہ اعلی درجہ کی مشینوں کی مدد سے انجام پائے ہوں گے اور ذوالقرنین کے تحت میں بڑے بڑے ماہرین فن انجینئر اور مہندس ہوں گے۔ (آیت) ” ساوی بین الصدفین “۔ یعنی جو خلادونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان رہ گیا، اسے پیاڑوں کے برابر کردیا۔ الصدفان اے جانبا الجبلین (کشاف) (آیت) ” جعلنہ نارا “۔ یعنی خوب لال انگارہ کردیا جیسا کہ لوہا تپنے کے بعد ہوجاتا ہے۔
Ayah 18:97148۔ (اور اس دیوار کی بلندی و استحکام کے باعث ان وحشی وجنگجو قوموں کی تاخت و تاراج سے امن ہوگیا) (آیت) ” ان یظھروہ “ کے لفظی معنی یہ ہیں کہ اس پر غالب نہ آسکے، اور اس پر غالب آنے سے مراد یہاں اس پر چڑھ سکنا ہے۔ ان یظھروہ اے ان یعلوہ (کشاف)
Ayah 18:98149۔ (کہ میرے ہاتھوں سے ایسا مہتم بالشان کام انجام دلا دیا) ذوالقرنین نے یہ بات بہ طور شکر وتحدیث نعمت کے کی جو شیوہ ہے اہل حق کا۔ (آیت) ” ھذا “۔ میں اشارہ اس سد کی تعمیر کی جانب ہے یا اس تعمیر پر اقتدار وقوت کی جانب۔ اشارۃ الی السد او ھذا الاقتدار والتمکین من تسویتہ (کشاف)
150۔ (جو بہر نوع وبہر صورت پورا ہو کر ہی رہتا ہے) ذوالقرنین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ سردست تو میں نے ان موذیوں کے شر سے تم کو محفوظ کردیا ہے۔ باقی جب اس کے فنا کا وقت آئے گا تو یہ دیوار سنگ وآہن بھی باوجود اس استحکام کے زمین دوز ہو کر نیست ونابود ہوجائے گی۔ اور جس طرح ہر شے فانی ہے یہ بھی اپنے وقت پر فنا ہو کر رہے۔ (آیت) ” وعدربی “۔ پروردگار کا وعدہ “ یعنی اس وعدہ کے پورا ہونے کا وقت۔ اے وقت وعدہ تعالیٰ (روح)
Ayah 18:99151۔ یہ کس روز ؟ (آیت) ” یومئذ “۔ سے کس روز کی طرف اشارہ ہے ؟ ظاہرا مراد اس دیوار کے عدم کے دن سے ہے یا اس وقت کے قرب سے ہے، الاقرب ان المراد الوقت الذی جعل اللہ ذلک السد دکاء (کبیر) اے یوم اذا جاء الوعد بمجئی بعض مبادیہ (روح) اے یوم یدک ھذا السد (ابن کثیر) قیل ھذا عند فتح السد (معالم) لیکن بعض نے اس سے یوم قیامت مراد لی ہے۔ اور یہ مفہوم بھی سیاق قرآنی سے کچھ زیادہ بعید نہیں۔ اس صورت میں (آیت) ” بعضھم اے بعض الخلق (کشاف) ” یومئذ “ کی جو دونوں تعبیریں نقل ہوئیں۔ ان میں باہم کوئی منافات نہیں۔ ہدم دیوار کا وقوع عین قرب قیامت ہی میں تو ہوگا۔ (آیت) ” ترکنا “۔ یہاں جعلنا کے مرادف ہے۔ (کشاف۔ بیضاوی)
152۔ اب بیان قیامت کا شروع ہوگیا۔ ہر اہم دنیوی واقعہ وحادثہ میں آخرت کی یاد دلادینا عین دستور قرآنی کے مطابق ہے۔
Ayahs 18:100–101153۔ (اب بعض وعناد کی بنا پر جو انہیں اسلام و رسول اسلام سے تھا) یہ ذکر دنیا کا ہے کہ جب کافر دنیا میں تھے تو نہ دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔ (آیت) ” ذکری “۔ کے لفظی معنی تو ” میری یاد “ کے ہیں مراد اللہ کی توحید اور اللہ کی کتاب سے لی گئی ہے۔ اے عن توحیدی وکتابی (ابن عباس ؓ یعنی عن الایمان والقران وقیل عن رؤیۃ الدلائل (معالم) (آیت) ” کانوا لایستطیعون سمعا “۔ اس عدم استطاعت سے مراد کوئی اضطرار یا معذوری نہیں۔ بلکہ کافروں کے عناد ارادی ہی کی جانب اشارہ ہے۔ قال القاضی المراد منہ نفرتھم عن سماع ذلک الکلام واشتغالھم ایاہ (کبیر) اے سمع القبول والا یمان لغلبۃ الشقاوۃ علیھم (معالم)
Ayah 18:102154۔ (اور جو ہر طرح میرے مملوک و محکوم ہیں، انہیں معبود و حاجت روا سمجھنے لگیں) عبادی اے الذین ھم تحت ملکی وسلطانی (روح)
1۔ ف۔ یعنی جب کفر اتنی شدید وعید کا مستحق بنا دیتا ہے۔ استفہام بطور زجر وملامت کے ہے وھو استفھام علی سبیل التوبیخ (کبیر) (آیت) ” اولیآء “۔ کا لفظ بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اور اسی کے اظہار کے لئے یہاں آلہہ کے بجائے اولیاء لایا گیا ہے۔ تجارت میں، زراعت میں، بیماری سے صحت دینے میں، اولاد بخشنے میں، مقدمات میں کامیاب کرنے میں، غرض زندگی کی کے کسی شعبہ میں بھی جب اصلی تکیہ بندوں پر اور بندوں کی بنائی ہوئی تدبیروں پر کیا جانے لگے تو یہ سب غیر اللہ کو کار ساز ہی ٹھہرالینا ہے۔
Ayahs 18:103–104155۔ (جو ان کی مستقل فلاح کے لیے کافی ہوجائیں گے) (آیت) ” الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی ایسے لوگ جن کی ساری جدوجہد، تگ ودو، کاوش و کوشش کا مدعا، اولا بھی اور آخر ا بھی یہی دنیا اور اس کے محظوظات رہتے ہیں ! بینک کے بڑے بڑے کھاتے، اونچے اونچے عہدہ اور خطابات، اونچی اونچی کوٹھیاں، نام ونمود، شہرت و اعزاز ،” علمی ترقیاں “ ، معاشی فلاح یابیان۔۔ رضائے الہی و فلاح آخرت کا خیال بھی کبھی نہیں آتا ! (آیت) ” ضل “۔ کا لفظ بہت قابل غور ہے۔ ایسے لوگوں کی ساری کوششیں بس اسی دنیا کے پیچھے ختم ہوجاتی، غارت جاتی ہیں ! (آیت) ” یحسبون “۔ یعنی محض اپنے پندار باطل اور ہوائے نفس کے موافق، بغیر کسی دلیل شرعی کے، اپنے مسلک اور روش کو بہتر سمجھے بیٹھے ہیں ! پورا رکوع اگر ذرا بھی خیال کرکے پڑھا جائے تو مومن کے دل کو تھرا دینے اور لرزا دینے کے لئے کافی ہے۔ آہ، کہ آج ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جن کی صبح وشام، رات اور دوپہر، سب اسی دنیا کے اڈھیربن میں، رضائے مولی سے بالکل منہ موڑے ہوئے گزررہی ہے، اور اپنے زعم وپندار میں اپنے کو محقق ومصلح، شاعر وادیب، رومانس نگار اور آرٹسٹ، اور خدا معلوم روشن خیالی کے ایجاد کیے ہوئے کیسے کیسے خوشنما القاب سے اپنے کو آراستہ سمجھتے رہتے ہیں، تاآنکہ جب موت آجاتی ہے، اس وقت آنکھیں کھلتی ہیں کہ ارے ہم کس دھوکے میں پڑے رہے، یہاں تو پرسش ان ” علوم و ” فنون “ و ” صناع “ میں سے کسی کی بھی نہیں ! اللھم احفظنا “۔ (آیت) ” الذین ضل سعیھم “۔ متعدد صحابیوں اور تابعین کا خیال ہے کہ الفاظ سے اشارہ خصوصی اہل کتاب کی جانب ہے۔ المراد بھم اھل الکتابین وروی ذلک عن ابن عباس ؓ وسعد ابن ابی وقاص ؓ و مجاھد (روح) اور بعض اقوال میں تصریح اہل صومعہ یعنی مسیحیوں کی آگئی ہے، یقال اصحاب الصوامع (ابن عباس ؓ
Ayah 18:105156۔ بعض اعراض جو اس عالم ناسوت میں مجردات سے منفک ہیں، آخرت کے بدلے ہوئے ماحول میں مشکل ومرئی ہوجائیں گے اعمال خود وہاں مادی پیکر اختیار کرلیں گے۔ اور اعمال کے ساتھ، علاوہ دوسرے اعراض وصفات کے ان کا وزن بھی مادی ہو کر نظر آنے لگے گا لیکن جو عمل فی نفسہ کوئی وزن رکھتا ہی نہیں، وہ وہاں کے ماحول میں جو سرتاسر آئینہ حقیقت ہوگا، تمامتر بےوزن نظرآئے گا۔ (آیت) ” اولئک۔۔ لقآۂ “۔ بدبختی کی اصلی اور قطعی علامتیں یہی ہیں کہ حق تعالیٰ کی شریعت اس کے انبیاء اور وقوع آخرت سے انکار کردیا جائے۔ (آیت) ” ایت ربھم “۔ یعنی حق تعالیٰ کے احکام، اس کے انبیاء، اس کی کتابوں سے۔ (آیت) ” لقاۂ “۔ یعنی یوم آخرت کے وقوع سے۔ (آیت) ” اعمالھم “۔ یعنی وہ اعمال جو اپنے نزدیک وہ بہت نیک سمجھتے تھے اور جن پر انہیں ناز تھا۔
Ayah 18:106157۔ کفر و طغیان میں جب ترقی ہوجاتی ہے تو انسان محض انکار ہی پر بس نہیں کرتا بلکہ تکذیب کے ساتھ ساتھ تمسخر بھی حق تعالیٰ کی کتابوں، پیغمبروں اور احکام کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
Ayahs 18:107–108158۔ یعنی جنت کی ان لازوال اور نت نئی نعمتوں میں رہنے والوں کو نہ کوئی بےدخل کرسکے گا اور نہ وہ از خود کبھی وہاں سے نکلنے کی خواہش کریں گے۔ (آیت) ” نزلا۔ نزلا کے لفظ نے ادھر اشارہ کردیا کہ مومینن کا یہ اعزاز واکرام بہ طور ان کے استحقاق کے ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اہل کفر کا حق جہنم پر ہوگا (آیت) ” الفردوس “۔ فردوس جنت کے وسط میں واقع ہے۔ اور اس کی بہترین وبلند ترین منزل کا نام ہے، اور وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ فانہ اعلی الجنۃ واوسط الجنۃ ومنہ تفجرانھار الجنۃ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لفظ کے اخذ واشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عربی الاصل ہے اور بعض کا قول ہے کہ رومی زبان یاسریانی زبان سے آیا ہے۔ (آیت) ” واختلف فی لفظۃ الفردوس فقبل عربیۃ وھو الفراء اور ومیۃ نقلت الی العربیۃ نقلہ الزجاج وابن سیدہ وھو قول الفراء اور ومیۃ نقلت الی العربیۃ نقلہ الزجاج وابن سیدہ اوسریانیۃ نقلہ الزجاج ایضا (تاج) بہرحال اب عربی میں اس کے معنی چمن وگلشن کے ہیں۔ قال الزجاج حقیقۃ الفردوس انہ البستان الذی یجمع کل مایکون فی البساتین قال وکذلک ھو عند کل اھل لغۃ (تاج) (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یعنی ان کا علم بھی صحیح ہوگا، اور اسی کے مقتضا سے عمل بھی صحیح۔ (آیت) ” لایبغون عنھا حولا “۔ جنت اپنی ان گنت نعمتوں، راحتوں، لذتوں کے ساتھ ان کے لیے ہر لمحہ اور ہر آن ایک نئی کشش رکھے گی، اس لیے اہل جنت اپنی تبدیلی چاہیں گے بھی تو آخر کیوں ؟
ع۔ ہر لحظہ جمال خود نوع دگر آرائی شورد گر انگیزی شوق دگر افزائی “۔
Ayah 18:109159۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی کلمات الہی کا احاطہ کرنا چاہے تو بھی ممکن نہیں۔ سارا سامان تحریر وتسوید ختم ہوجائے گا اور نامتناہی کسی طرح متناہیوں کی گرفت میں نہ آسکے گا۔ سمندر لاکھ وسیع ہو بہرحال محدودہی ہے۔ صفات نامتناہی وغیر محدود ومتناہی ہستی اپنی گرفت میں لاہی کیونکر سکتی ہے ؟ (آیت) ” البحر “۔ مراد کوئی متعین سمندر نہیں۔ جنس بحریا سارے سمندر مراد ہیں۔ والمراد بالبحر الجنس (کشاف) اے جنس البحر (روح) فاضل محقق علامہ مناظر احسن گیلانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں :۔ ” مطلب یہ ہے کہ فردوسی زندگی سے لوگ منتقل اسی لیے نہیں ہونا چاہیں گے کہ اس زندگی میں لامحدود کمالات رکھنے والی ذات اپنے انہیں لامحدود کمالات کو لامحدود کلمات کے ذریعہ سے ظاہر کرتی رہے گی۔ انسانی احساسات اپنے اردگرد، پس وپیش، اندروباہر، ہر لمحہ، ہر لحظہ ایسے نت نئے تجلیات کو مسلسل بغیر کسی انقطاع کے چاہتے چلے جائیں گے جن کی نہ کوئی حد ہوگی نہ انتہاء اور یوں لامحدود ومطالبات والی فطرت کو لامحدود مطلوبات سے متمتع اور لذت گیر ہونے کا موقع ابد الآباد تک ملتا جائے گا۔ اس وقت تک جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اور جس کا کوئی اختتامی نقطہ نہیں ہے۔ “ (اسلامی معاشیات صفحہ 141) (آیت) ” قبل “۔ سے یہ مراد نہیں کہ کوئی امکان مزید امداد پہنچ جانے کے بعد کلمات رب کے پورے لکھ لیے جانے کا ہے۔ (آیت) ” قبل “۔ کا ایک مفہوم غیر یادون کا بھی ہے اور وہی یہاں مراد ہیں۔ اے من غیر ان تنفد (ابوسعود) قبل ھنا بمعنی غیر او بمعنی دون (جمل)
Ayah 18:110160۔ یعنی امتیازی چیز میرے پاس صرف یہ ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے جو دوسروں کے پاس نہیں آتی، میں صرف وصف رسالت میں دوسروں سے ممتاز ہوں۔ (آیت) ” انما “۔ اول تو خود ہی کلمہ حصر ہے۔ پھر (آیت) ” مثلکم “۔ میں اس کی مزید تصریح کہ میں بشر ہی نہیں ہوں بلکہ تم ہی جیسا بشر ہوں۔ صفات بشری میں تم ذرا الگ نہیں ہوں۔ (آیت) ” انما ....... واحد “۔ میرا پیام توحید ہی ہے۔
161۔ اور شرک کے اندر شرک جلی اور شرک خفی دونوں آگئے (آیت) ” فلیعمل عملا صالحا “۔ عمل صالح کا معیار یہ ہے کہ عمل شریعت اسلامی کے مطابق ہو۔ (آیت) ” ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا “۔ یعنی علم کا نقطہ آغاز تو کم از کم صحیح ہو۔ ایمانیات کا جو اقل قلیل مطالبہ ہے، وہ تو بہرحال موجود ہو۔