Ayah 18:4161۔ (چہ جائیکہ اسے حاصل کرسکے) یعنی پڑوس کی جس نہر پر تجھے بڑا ناز ہے، خود اسی کا پانی بالکل خشک ہوجائے، اور باغ وکاشت سب کا ستیاناس ہوجائے۔
Ayah 18:4262۔ یہ قول ندامت ضرر کی بناء پر تھا، اس سے عقیدہ کفر پر ندامت لازم نہیں آتی۔ اس حسرت وندامت سے بھی مقصود تمامتر دنیا ہی تھی، اس لیے یہ قول نجات کے لئے کافی نہ ہوا۔ انما رغب فی التوحید والرد عن الشرک لاجل طلب الدنیا فلھذا السبب ماصار توحیدہ مقبولا عند اللہ (کبیر) (آیت) ” یقلب کفیہ “۔ محاورہ میں تقلیب کفین سے مراد حسرت وندامت ہوتی ہے۔ تقلیب الکفین کنایۃ عن الندم والتحسر (کشاف) وھو کنایۃ عن الندم والحسرۃ (کبیر) ۔
Ayah 18:4363۔ اپنے جس مجمع اور جتھے پر اسے ناز تھا اور وہ فخر کے ساتھ کہتا تھا۔ انا اعزمنک مالا و اکثر نفرا اس کی حقیقت و بساط اس نے یہیں دنیا میں دیکھ لیا ! (آیت) ” ینصرونہ۔۔۔ منتصرا “۔ منتصر کے معنی بچا لینے والے کے بھی ہیں۔ اور (آیت) ” ینصرونہ “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اسے بچا لے۔ ینصرونہ اے ینجونہ من عذاب اللہ وما کان منتصرا اے ممتنعا من عذاب اللہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) مطلب یہ ہوا کہ بجز اللہ کے کوئی بھی نصرت پر قادر نہیں۔ نصرت صرف اسی کی ہے۔ اے ھو اللہ تعالیٰ وحدہ القادر علی نصرتہ ولا یقدر احد غیرہ ان ینصرہ (کبیر)
Ayah 18:4464۔ یعنی اللہ ہی کی مدد دنیا وعقبی دونوں جگہ کام آتی ہے اور اس کے مقبولوں کا کوئی ظاہری نقصان ہوتا بھی ہے تو اس کا ثمرہ نیک مل کر رہتا ہے۔ (آیت) ” الولایۃ “۔ ولایۃ (بالفتح) کے معنی کارسازی وانصرام امور کے ہیں۔ اور ولایۃ (بالکسر) کے معنی مددونصرت کے۔ الولایۃ النصرۃ والولایہ تولہی الامر (راغب) اور ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں کارسازی کے معنی میں مرادف ہیں۔ قیل الولایۃ والولایۃ واحدۃ وحقیقۃ تولی الامر (راغب) ابن جریر نے لکھا ہے کہ بصرہ اور کوفہ و مدینہ کے بعض قاریوں کی زبان پر ولایۃ (باالفتح) ہے، جس کے معنی دوستی یا مدد کے ہیں۔ اور کوفہ کے عام قاریوں کی قرأۃ ولایۃ (بالکسر) ہے۔ جس کے معنی حکومت و غلبہ کے ہیں۔
Ayah 18:4565۔ (اور خوب سرسبز و شاداب) دنیا کے مال وجاہ کے حقیر، فانی اور بےحقیقت ہونے پر ایک تمثیل ابھی اوپر گذر چکی، مذاق وفہم عرب کے خاص طور پر موافق، اور دوسری تمثیل اب بیان ہو رہی ہے۔ (آیت) ” کمآء “۔ ک حرف تشبیہ ہے۔ اس کا تعلق محض لفظ ماء سے نہیں، بلکہ آگے کی پوری عبادت سے ہے۔
66۔ ایجاد واعدام، ابقاء وافناء سب پر یکساں قادر، جب اور جیسے چاہے، ہست سے نیست کردے اور نیستی سے ہستی میں لے آئے۔ (آیت) ” کمآء۔۔ الریح “۔ سو یہی حال دنیا کا بھی ہے ابھی ہری بھری نظر آرہی ہے، اور عنقریب ہلاک وبرباد ہو کر رہے گی ،
Ayah 18:4667۔ نفس اعمال تو ظاہر ہے کہ آنی وفانی بلکہ سریع الفناء چیزیں ہیں۔ لیکن ہر عمل خیروشر سے جو اثر انسان پر مرتب ہوتا ہے اس کا نام ثواب و عذاب ہے اور وہ ایک دائمی اور ثابت وقائم رہ جانے والی حقیقت ہے اور چونکہ ثواب و عذاب کا رشتہ اعمال کے ساتھ غیر منفک ہے اس لیے مجازا اعمال صالحہ ہی کو باقیات ارشاد فرمادیا گیا۔ لماکانت الاعمال اسبابا فی الثواب والعقاب کان الثواب والعقاب کان الثواب والعقاب دائمین لاینقطعان وباقیین لایفنیان وصفت الاعمال بالبقاء عملا مجازیا علیھا (ابن العربی) (آیت) ” البقیت الصلحت “۔ محققین نے کہا ہے کہ ہر وہ عمل یا قول جو معرفت الہی یا محبت الہی یا طاعت الہی کی طرف لے جانے والا ہو وہ اسی باقیات صالحات کی فہرست میں داخل ہے۔ کل عمل وقول دعا ک الی الاشتغال بمعرفۃ اللہ وبمحبتہ وخدمتہ فھوالباقیات الصالحات (کبیر) عن قتادۃ ھو کل ماارید بہ وجہ اللہ (بحر) (آیت) ” زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی مال واولاد اسی دنیوی زندگی کی ایک بہار اور اس کا ایک ضمیمہ ہیں۔ تو جب خود دنیا ہی کو ثبات نہیں تو اس کے تابع وضمیمہ کی بےثباتی تو اور بھی بڑھ کر ہوگی، یہ مال واولاد کو تحقیرا محض زینت حیات دنیوی کہنا خود ان کے مال، اولاد ہونے کے اعتبار سے ہے لیکن اگر انہی کو خدا پرستی اور دین طلبی کا ذریعہ بنا لیا جائے، اور ان سے طاعت الہی و خدمت دین کا کام لیا جانے لگے تو یہی مال واولاد مقصود ومطلوب بن جاتے ہیں اور ان کا شمار بھی عین باقیات صالحات میں ہونے لگتا ہے۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ چونکہ خود باقی اور قائم اور لایزال ہیں، ان کی رضا وطاعت کے لئے جو کام بھی کا جاتا ہے وہ خود بھی حیات ابدی حاصل کرلیتا ہے اور مخلوق چونکہ خود فانی ہے اس لئے رضائے مخلوق والے سارے کام خود ہی زودفنا ہوتے ہیں۔
Ayah 18:4768۔ یعنی پہاڑ، دریا، ٹیلے، عمارتیں، درخت سب ناپید ہوچکے ہوں گے۔
69۔ یعنی سارے کے سارے انسان بلااستثناء قبروں سے اٹھا اٹھا کر میدان حشر میں۔
Ayah 18:4870۔ (اور تم باوجود اپنے خلق اول کے علم ویقین کے اپنی خلق ثانی کے معتقدو قائل نہ ہوئے) یہ سب کچھ منکروں، ملحدوں سے خطاب کرکے ارشاد ہوگا، والخطاب لکفار المنکرین البعث علی سبیل تقریعھم وتوبیخھم (بحر) (آیت) ” لقد۔۔۔ مرۃ “۔ یعنی آئے بھی تو مال، جاہ، اولاد اور اپنی ہر اس چیز سے خالی ہاتھ ہو کر جس پر دنیا میں فخر وناز کیا کرتے تھے۔ (آیت) ”ؔ بل “۔ کا ترجمہ، بلکہ، اور ’ لیکن ‘ دونوں سے ہوسکتا ہے۔ بل للاضراب بمعنی الانتقال من خبر الی خبر (بحر)
Ayah 18:4971۔ منکروں کے حق میں منظر حشر کی یہ کس درجہ مؤثر وپر حسرت تصویر ہے ! (آیت) ” صغیرۃ ولا کبیرۃ “۔ یعنی کوئی بھی معصیت چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی سی بڑی ایسی نہیں جو اس میں درج نہ ہو۔ اے لا یترک شیئا من المعاصی سواء کانت صغیرۃ اوکبیرۃ الاوھی مذکورۃ فی ھذا الکتاب (کبیر)
72۔ (کہ کسی کی ادنی سی نیکی بھی لکھنے سے رہ جائے یا حقیر سی بدی بھی کسی کے نامہ اعمال میں بڑھا دی جائے۔ ) (آیت) ” ووجدوا ما عملوا حاضرا “۔ بعض اہل کشف نے لکھا ہے کہ یہ اعمال لکھی ہوئی صورت میں نہیں، بلکہ اپنی اصلی صورت میں پیش ہوں گے، یعنی ہر عامل اپنے کو بعینہ وہی عمل کرتا ہوا پائے گا جو اس نے دنیا میں کیا تھا۔
Ayah 18:5073۔ (آیت) ” للملٓئکۃ۔ اسجدوا لادم۔ ابلیس “۔ اور سارے واقعہ آدم، ابلیس پر حاشیے سورة بقرہ اور سورة اعراف دونوں میں گزر چکے۔
74۔ (جیسا کہ ایک جنی سے مستبعد بھی نہیں) (آیت) ” کان من الجن “۔ اس میں صراحت کے ساتھ تردید ہے اس یہودی اور نصرانی عقیدہ کی کہ ابلیس کا شمار فرشتوں میں تھا۔ اور حیرت ہے کہ قرآن مجید کی اتنی واضح تصریح کے بعد بھی ہزاروں پڑھے لکھے مسلمان اب تک ابلیس کو فرشتہ ہی سمجھے جارہے ہیں ! فیہ بیان انہ لیس من الملئکۃ لانہ اخبر انہ من الجن فھو جنس غیرجنس الملائکۃ (جصاص) والظاھر میں ھذہ الایۃ انہ لیس من الملائکۃ وانما ھو من الجن (بحر) ابلیس کے جنی ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک ناری مخلوق تھا اس لئے سرکشی تو اس کے عنصر غالب کا عین مقتضا تھا۔ لیکن اگر وہ اپنی قوت ارادہ واختیار سے صحیح کام لیتا تو اپنے اس مقتضائے طبعی کو بہ آسانی روک سکتا تھا اس لئے اسے معذور سمجھنا قطعا غلط ہے۔ (آیت) ” ففسق “ میںفاء سبیہ ہے یعنی جن ہونے ہی کی بناء پر تو اس نے سرکشی کی۔ فرشتہ ہوتا تو اس سے عصیان ممکن ہی کیونکر تھا۔ والفاء للسبب وفیہ دلیل علی ان الملک لایعصی البتۃ وانما عصی ابلیس لانہ کان جن یا فی اصلہ (بیضاوی) والفاء للسبب ایضا جعل کونہ من الجن سببا فی فسقہ یعنی انہ لوکان ملکا کسائر من سجد لادم لم یفسق عن امر اللہ لان الملائکۃ معصومون البتۃ (بحر) فسق اب جس معنی میں چل گیا ہے۔ یعنی سرکشی اور طاعت حق سے نافرمانی۔ یہ زبان عرب میں تمامتر قرآن مجید کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ نزول قرآن سے قبل یہ معنی شائع ورائج نہ تھے۔ وقال ابوعبیدۃ لم تسمع ذلک فی شیء من اشعار الجاھلیۃ ولا احدیثھا وانما تکلم بہ العرب بعد نزول القران ووافقہ المبرد علی ذلک (روح) قال ابن العربی لم یسمع الناس فی وصف الانسان فی کلام العرب (راغب)
75۔ (جن کا کام ہی تمہیں بھڑکانا، ضرر پہنچانا ہے) (آیت) ” اولیآء من دونی “۔ یعنی میرے مقابلہ پر، شیطان اور شیطان زادوں کو اپنا دوست اور کار سازو چارہ ساز سمجھتے ہو۔ (آیت) ” ذریتہ “۔ ذریت کے معنی نسل یا اولاد کے ہیں۔ اور سلسلہ نسل جس طرح انسانوں میں چل رہا ہے۔ جنات میں بھی قائم ہے۔ ابلیس کے فرشتہ نہ ہونے پر محققین نے اس لفظ ذریت سے استشہاد مزید کیا ہے کہ سلسلہ نسل توجنات ہی میں قائم ہے۔ نہ کہ فرشتوں میں۔ واستدل نافی ملکیتہ بظاہر الایۃ حیث افادت انہ لہ ذریۃ والملائکۃ لیس لھم ذلک (روح) (آیت) ” افتتخذونہ “۔ میں حرف ہمزہ انکار وحیرت کے لئے ہے جیسے اردو میں کہیں ارے یہ غضب کرتے ہو ! الھمزہ للانکار والتعجب (بیضاوی) الھمزہ للتوبیخ والانکار والتعجب (بحر)
76۔ (آیت) ” بدلا “۔ بدل کے معنی اگر عوض کے لئے جائیں جب تو ظاہر ہی ہے کہ ظالموں یعنی کافروں اور منکروں کو معاوضے کیسے برے برے ملیں گے، لیکن فقرہ کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ظالم خدا ناشناس کیسے احمق ہیں کہ دوست اور کارساز سمجھنا تو چاہیے حق تعالیٰ کو اور یہ بجائے اس کے دوست و کارساز ابلیس وذریات ابلیس کو بنائے ہوئے۔ (آیت) ” للظلمین “۔ یعنی مشرکین جو شیطانوں کے ساتھ تعلق کتنا غلط اور بےجا قائم کئے ہوئے ہیں۔ صیغہ مخاطب سے آیت میں دفعۃ صیغہ غائب کی طرف التفات میں اشارہ کمال ناگواری کی جانب ہے۔
Ayah 18:5177۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق تعالیٰ ان گمراہ کن شیطانوں کو کسی معاملہ میں کسی حد تک بھی اپنا معین یا مشیر بناتا۔ (آیت) ” مااشھدتھم خلق السموت والارض “۔ یعنی آفریشن کائنات کے وقت ان کا وجود ہی سرے سے کہاں تھا ؟ یہ تو بہت بعد کی مخلوق ہیں۔ پھر اس کارخانہ ایجاد تکوین کے کسی شعبہ میں بھی ان کی شرکت، مشورہ کی حدتک بھی کیونکر ممکن تھی، (آیت) ” ولا خلق انفسھم “۔ یعنی جن ” معبودوں “ کو تم شریک خدائی ٹھہرا رہے ہو، یہ کسی اور معاملہ میں مشیر وشریک تو کیا ہوتے، خود اپنے وجود کے باب میں یہ کب کوئی سا بھی مشورہ دے سکتے تھے ؟ (آیت) ” وما کنت۔۔ عضدا “۔ بعض فقہاء مفسرین نے اس جزء سے یہ نکالا ہے کہ کافروں سے اموردین میں مدد لینا جائز ہے۔ واستدل بھا علی انہ لا ینبغی الاستعانۃ بالکافر وھو فی امور الدین کجھاد الکفار و قتال اھل البغی واما الاستعانۃ بھم فی امور الدنیا فالذی یظھر انہ لاباس بھا (روح)
Ayah 18:5278۔ یعنی اپنی امداد واعانت کے لئے بلاؤ (آیت) ” شرکآء ی “۔ یعنی وہ تمہارے پندار کے مطابق میرے شریک خدائی تھے۔
79۔ (جس سے بالکل ہی مایوسی ہوجائے گی) (آیت) ” بینھم “۔ یعنی مشرک انسانوں اور ان کے معبود شیطانوں کے درمیان۔
Ayah 18:5380۔ اور اس وقت کی شدت یاس ! معاذ اللہ ! (آیت) ” فظنوا “۔ ظن یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ اے ایقنوا (بیضاوی) قال ابن عطیۃ اطلق الناس ان الظن ھنا بمعنی التیقن (بحر) ۔
Ayah 18:5481۔ یعنی ہر ایسی مخلوق سے بڑھ کر جو ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے یعنی ان جدل الناس اکثر من جدل کل شیء (بحر) (آیت) ” الانسان “۔ یعنی سرکش، نافرمان انسان، محاورۂ قرآنی میں الانسان اکثر موقع ذم ہی پر آیا ہے۔ وکثیرا ما بذکر الانسان فی معرض الذم (بحر)
Ayah 18:5582۔ مطلب یہ ہے کہ جب صاف ہدایت آچکی اور تبلیغ کے سارے مراتب پورے ہوچکے تو اب بھی جو یہ کافر ایمان نہیں لاتے تو کیا یہ اس کا انتظار کررہے ہیں کہ یہ بھی وہی اگلوں کی طرح ہلاک کئے جائیں۔ (آیت) ” الھدی “۔ یعنی رسول اور قرآن مع دلائل و شواہد کے وھو الرسول الداعی والقران المبین (بیضاوی) (آیت) ” سنۃ الاولین “۔ جو کچھ اگلی قوموں کو مسلسل نافرمانی کی پاداش میں پیش آچکا تھا۔ یعنی عذاب ہلاکت واستیصال، وھو عذاب الاستیصال (کبیر) (آیت) ” قبلا “۔ جمع ہے قبیل کی اور اس کے معنے جھنڈ جھنڈ کے یا متواتر ومسلسل انواع عذاب کے ہیں۔ قال مجاھد جماعۃ جماعۃ فیکون جمع قبیل (راغب) وھو جمع قبیل بمعنی ضروب من العذاب تتواصل مع کو نھم احیاء (کبیر)
Ayah 18:5683۔ (اور جتنے دلائل و شواہد اس منصب کے لئے ضروری ہوتے ہیں وہ انہیں دے دیتے ہیں۔ ) آیت سے دو مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ ہر پیغمبر کی حیثیت محض مبشر ومنذر کی ہوتی ہے اس کا کام محض تبشیر وانذار ہے۔ نتائج کی ذمہ داری اس پر ذرا سی بھی نہیں۔ دوسرے یہ کہ پیغمبر سے خواہ مخواہ معجزات وخوارق کی فرمائشیں کرتے رہنا ایک امر لغو ہے۔
84۔ یعنی تذکیر عذاب کا مقتضا تو یہ تھا کہ ان کے قلوب لرز جاتے لیکن اس کے برعکس سنگدل منکروں نے الٹا اسی کو ہدف تمسخر بنالیا ! کیا حد ہے کہ ان کی ذہنیت کی مسخ شدہ کیفیت کی ! (آیت) ” وما انذروا “۔ یعنی میرے عذاب کو۔ (آیت) ” ویجادل۔۔ الحق “۔ یعنی طرح طرح کی کٹ حجتی کرکے چاہتے ہیں کہ حق کو ڈگمگادیں، یجادل کے باب مفاعلۃ سے ایک فرع یہ نکالی گئی ہے کہ حضرت انبیاء بھی ان سے بحث و مباحثہ کرتے رہتے تھے۔ وھذا یدل علی ان الانبیاء کانوا یجادلونھم لما بینا انالمجادلۃ انما تحصل من الجانبین (کبیر)
Ayah 18:5785۔ (آیت) ” ماقدمت یدہ “۔ یعنی اپنی عصیان کاری کو۔ (آیت) ” نسی “۔ نسیان سے یہاں غیر ارادی سہومراد نہیں۔ بلکہ ارادی تغافل مراد ہے۔ والمراد من النسیان التشاغل والتغافل عن کفرہ المتقدم (کبیر)
86۔ (اس کے سننے سے) (آیت) ” یفقھوہ میں ضمیر ہ الحق کی طرف ہے جو ایک آیت قبل (آیت) ” لیدحضوا بہ الحق “۔ میں گزر چکا۔ (آیت) ” علی قلوبھم اکنۃ۔ فی اذانھم وقرا “۔ دلوں پر پردہ پڑنے اور کانوں میں ڈاٹ دے رکھنے پر حاشیے کئی بار پہلے گزر چکے۔ بندہ جب اپنے قصد واختیار سے کام لے کر حق کی مخالفت عرصہ تک کرتا رہتا ہے کہ نتیجہ کے طور پر اس سے توفیق ہی حق کے سمجھنے اور سننے کی سلب ہوجاتی ہے۔ حق تعالیٰ کی طرف سے یہ فعل ابتداء نہیں ہوتا۔ قلوب اور اذان دونوں کے غیرمتاثر رہنے کے معنی یہ ہوئے کہ یہ ایمان نہ تحقیق کی راہ سے لائیں گے اور نہ تقلید ہی کی راہ سے۔
87۔ (سو آپ کا ان پر زیادہ غم کرنا بھی بےفائدہ ہی ہے) (آیت) ” اذا “ یعنی جب کہ انکے دل اور ان کے کان، ان کی ارادی بےتوجہی اور عناد کی بنا پر قبول حق کی استعداد بھی ضائع کرچکے ہیں۔
Ayah 18:5888۔ چناچہ اس صفت غفر کے تقاضہ سے اب بھی باوجود اس ہجوم عصیان وکفر کے اگر راہ راست پر آجائیں تو توبہ قبول ہوسکتی اور مغفرت حاصل ہوسکتی ہے۔ اور صفت رحمۃ کے تقاضہ سے اس نے انہیں اتنی مہلت دے رکھی ہے۔
89۔ اس حقیقت کو ایک بار پھر دہرادیا گیا ہے کہ عذاب الہی فورا نہیں آتا بلکہ بڑے سے بڑے مجرموں کو بھی مہلت ضرور ملتی رہتی ہے۔ (آیت) ” من دونہ “۔ ضمیر موعد کی طرف ہے۔ یعنی اس یوم موعود کے ادھر یاقبل یہ کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکتے کہ پیشتر ہی سے اس میں چھپ چھپا کر اپنے کو محفوظ کرلیں۔ والضمیر المجرور عائد علی الوعد کماھو الظاہر (روح) یہ بھی جائز ہے کہ رب کی طرف سمجھی جائے۔ قیل یعود علی اللہ تعالیٰ وھو مخالف للظاھر (روح)
Ayah 18:5990۔ (چنانچہ وہ اپنے اسی وقت معین ومقرر پر ہلاک ہوئیں) (آیت) ” تلک القآی “۔ یعنی ان بستیوں کے باشندے۔ والکلام علی تقدیر مضاف اے اھل القری (روح) اشارہ ان سرکش ونافرمان پر قوت قوموں کی جانب ہے جن کی ہلاکت کا بیان قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے۔ اور جو ہر قرآن خوان کیلئے معلوم ومعروف ہیں۔ اے قری عاد وثمود وقوم لوط واشباھھم (روح)
Ayah 18:6091۔ (جہاں کا پتہ مجھے ایک برگزیدہ بندۂ حق سے ملاقات کا بتایا گیا ہے) توریت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس سفر کا کوئی ذکر نہیں۔ اور اسی سے ظاہر ہے کہ توریت موجودہ ومروجہ بہ حیثیت تاریخ و تذکرہ کے بھی نامکمل وناقص ہے۔ (آیت) ” لفتہ “۔ فتی کے لفظی معنی نوجوان کے ہیں اور مجازی معنی غلام یا خادم کے۔ الفتی الطری من الشباب والانثی فتاۃ ویکنی بھما عن العبد والامۃ (راغب) والعرب تسمی الخادم فتی لان الخدم اکثر مایکونون فی سن الفتوۃ (روح) قیل للخادم فتی علی جھۃ حسن الادب (بحر) مراد حضرت یشوع بن نون سے ہے۔ حدیث بخاری میں یہ تصریح موجود ہے اور مفسرین بھی تقریبا سب اس پر متفق ہیں۔ حضرت یشوع حضرت موسیٰ کے عزیز خاص و خادم خاص تھے۔ بعد کو خود بھی نبوت سے مشرف ہوئے۔ وانطلق معہ بفتاۃ یوشع بن نون (بخاری، کتاب التفسیر) توریت میں ان کا ذکر متعدد مقامات پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم کی حیثیت سے ملتا ہے۔” موسیٰ کے خادم نون کے بیٹے یشوع نے جو اس کے برگزیدوں میں سے تھا ،” موسیٰ نے کہا “۔ (گنتی۔ 11: 28) ” اور موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے خادم یشوع آئے (خروج۔ 13: 24) ” اور وہ لشکر گاہ کو پھر ا۔ پر اس کا خادم نوجوان یشوع بن نون خیمہ میں سے نہ نکلا “ (33: 11) حسب روایت توریت 110 سال کی عمر میں وفات پائی۔” اور ایسا ہوا کہ بعد ان باتوں کے نون کا بیٹا یشوع خداوند کا بندہ جو ایک سودس برس کا بوڑھا تھا رحلت کرگیا “ (یشوع۔ 24: 29) (آیت) ” مجمع البحرین “۔ اس مقام کی تعیین جزم کے ساتھ مشکل ہے۔ یہ سفر اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوران قیام مصر میں پیش آیا تھا تو دریائے نیل کی دونوں شاخوں کے ملنے کی جگہ مراد ہوسکتی ہے اور اگر جیسا کہ اغلب ہے، سفر جزیرہ نمائے سینا کے دوران قیام میں پیش آیا تو عجب نہیں کہ جو بحر قلزم کے شمالی دوشاخہ کے اتصال کی جگہ مراد ہو۔ یعنی خلیج عقبہ یا خلیج سویز۔ مشائخ صوفیہ نے آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مریدوں یا شاگردوں سے کام لینا اور انہیں سفر میں رفیق رکھنا سنت انبیاء میں سے ہے۔
92۔ (تاآنکہ منزل مقصود تک پہنچ جاؤں اور مقصد سفر حاصل ہوجائے) محققین نے لکھا ہے کہ اس سے طلب علم میں ہر قسم کے صعوبات برداشت کرنے کی فضیلت نکلتی ہے۔ ذلک تنبیہ علی ان المتعلم لوسافر من المشرق الی المغرب لطلب مسئلۃ واحدۃ لمن لہ ذلک (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کامل کی طلب میں سعی بلیغ چاہیے جب تک کہ اس سے کوئی واجب نہ فوت ہونے لگے۔
Ayah 18:6193۔ یعنی اس مچھلی کو جو بطور ناشتہ ان کے ساتھ ناشتہ دان میں رکھی ہوئی تھی۔ فاخذحوتا فجعلہ فی مکتل ثم انطلق (بخاری۔ کتاب التفسیر) (آیت) ” نسیاحوتھما “۔ یعنی اس مچھلی کا انہیں خیال ہی نہ آیا جس برگزیدہ بندہ سے ملنے کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نکلے تھے۔ اس کے ملنے کی جگہ کا پتہ یہ بتایا کہ طویل سنگم پر جس مقام پر وہ ساتھ مچھلی پھر سے پانی میں چلی جائے گی وہی جگہ ان بزرگ کی ہے۔ (آیت) ” نسیاحوتھما “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ زاد راہ کا جو کہ اسباب میں سے ہے سفر میں ساتھ رکھنا توکل کے منافی نہیں۔
94۔ روایتوں میں آتا ہے کہ وہ مچھلی تلی ہوئی تھی۔ اور بطور خارق عادت زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی تھی، (آیت) ” سربا “۔ یعنی سرنگ کی طرح راستہ بنالیا۔ السرب الذھاب فی دروب (راغب) یا محض راستہ پکڑ لیا۔ امام بخاری (رح) سے یہ معنی مروی ہیں سربا اے مذھبا۔ یسرب اے یسلک
Ayah 18:6295: بالکل جائز ہے بلکہ منافی کمال بھی نہیں۔ البتہ بےصبری و شکوہ وشکایت ممنوع ہے۔ یدل علی اباحۃ اظھار مثل ھذ القول عن ما یلحق الانسان نصب اوتعب فی قریۃ وان ذلک لیس بشکایۃ مکروھۃ (جصاص) آیت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ پیغمبر بھوکے بھی ہوتے ہیں۔ زادراہ بھی ساتھ رکھتے ہیں، تھکن بھی محسوس کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی شے کمال ولایت کیا معنی، کمال نبوت کے بھی منافی نہیں آیت میں بڑا سبق ہے ان ” خوش عقیدہ “ مریدوں اور معتقدوں کے لئے جو ” بزرگوں “۔ کی جانب بھوک، پیاس یا اور بشری ضرورتوں کا انتساب تمامتر بےادبی سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” فلما جاوزا “۔ یعنی جس مقام کی نشان دہی انہیں کی گئی تھی، اس سے دور نکل آئے۔
Ayah 18:6396۔” عجب طرح “ یوں کہ زندہ ہو کر خشکی سے دریا تک راہ پاگئی۔ (آیت) ” ارء یت “ کلمہ تعجب ہے اور محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں ” ارے ! “ یا ” یہ لیجئے “ یا ” یہ ملاحظہ ہو ! “ (آیت) ” نسیت الحوت “۔ یعنی مچھلی کے عجیب قصہ کا ذکر کرنا بھی بھول گیا۔ (آیت) ” وما انسنیہ الا الشیطن “۔ مذہب کی زبان میں ہر بری بات کا انتساب شیطان ہی کی جانب کیا جاتا ہے جس کی ذات مرکز ساری برائیوں کی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت ہے اس امر پر کہ شیطان کے اثر سے وسوسہ ونسیان کا پیش آجانا ولایت بلکہ نبوت کے بھی منافی نہیں۔
Ayah 18:6497۔ یعنی وہی مقام تو ہماری منزل مقصود تھا۔ وہی کا پتہ تو ہمیں بتایا گیا تھا۔
Ayah 18:6598۔ حدیث بخاری اور دیگر احادیث میں ان عبد مقرب ومقبول کا نام حضر آیا ہے۔ (آیت) ” رحمۃ من عندنا “۔ اس خصوصی (آیت) ” رحمۃ “۔ سے مراد مقبولیت کا ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ البتہ یہ لازمی نہیں کہ نبوت ہی کی شکل میں ہو۔ چناچہ حضرت خضر کی نبوت ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ فالجمھور علی انہ (علیہ السلام) نبی ولیس برسول وقیل ھو رسول وقیل ھو ولی وعلیہ القشیری وجماعۃ (روح) ولم یکن الخضر نبیا عند اکثر اھل العلم (معالم) (آیت) ” علمنہ من لدنا علما “۔ یہ علم بلاواسطہ اسباب واکتساب وتعلیم براہ راست حضرت حق سے عطا ہوا تھا۔ اور یہ علم اسرار کونیہ کا تھا۔ محققین نے کہا ہے کہ جس علم پر قرب الہی مرتب ہوتا ہے وہ علم اسرار کونیہ نہیں، علم اسرار الہیہ یا شرعیہ ہے۔ اس پر بھی اظہار حیرت کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو خود ایک پیغمبر جلیل القدر اور اس لیے لازمی طور پر اپنے وقت کے اعلم الناس تھے، انہیں کسی اور کے پاس کیسے تعلم کے لئے بھیجا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ امام رازی (رح) نے ارشاد فرمایا ہے، یہ بہ آسانی ممکن ہے کہ ایک شخص بہت سے علوم میں عالم ترین ہو پھر بھی بعض علوم سے ناواقف ہو۔ اور اس کے سیکھنے کے لئے وہ کہیں اور بھیج دیا جائے۔ لایبعد ان العالم الکامل فی اکثر العلوم یجھل بعض الاشیاء فیحتاج فی تعلمھا الی من دونہ وھذا امر متعارف معلوم (کبیر) (آیت) ” عبدا من عبادنا “۔ وہ بزرگ بایں مرتبہ کمال بہرحال اللہ کے ایک بندہ ہی تھے۔” بندہ “۔ سے ذرہ بھر بھی زائد نہ تھے اور بندہ بھی کیسے ؟ حق تعالیٰ کے بہت سے بندوں میں سے ایک ! اللہ اللہ ! قرآن مجید کو کس درجہ اہتمام تحفظ توحید کا اور شائبہ شرک سے احتراز و احتیاط کا ہے ! (آیت) ” من عبادنا “۔ حق تعالیٰ کا ایسے بندہ کی اضافت اپنی جانب کرنا اس کے اکرام و تخصیص کیلئے ہے۔ ھذہ اضافۃ تشریف واختصاص (بحر)
Ayah 18:6699۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہ ای جلالت مرتبہ ودرجہ نبوت ان بزرگ سے درخواست کررہے ہیں کہ اجازت ہو تو آپ کے ساتھ رہوں اور آپ کے علم خصوصی سے کچھ میں بھی کسب واکتساب کروں ؟ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر کے ساتھ اپنی گفتگو میں کس قدر تواضع اور ادب ولطف کی رعایتیں جمع کررہے ہیں۔
Ayah 18:67100۔ (بلکہ آپ میرے بعض افعال کو ظاہر شریعت کے خلاف پاکر ان پر روک ٹوک ضرور کریں گے) حضرت خضر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے پیغمبر جلیل القدر کے جوش ایمانی کا پورا اندازہ رکھتے تھے اور خوب جانتے تھے کہ آپ احکام شریعت کی خلاف ورزی پر (خواہ وہ محض ظاہری ہی ہو) ہرگز تحمل نہ کرسکیں گے۔
Ayah 18:68101۔ یعنی وہ افعال بظاہر خلاف شریعت ہوں گے، اور آپ کو جب ان کے منشاء صحیح کی اطلاع نہیں تو آپ ان منکرات پر بغیر روک ٹوک کئے کیسے رہ سکتے ہیں ! یہ صاف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے عذر خواہی بھی خود ہی کردی ہے اور آپ کو داروگیر پر معذور قرار دے دیا ہے۔
Ayah 18:69102۔ یعنی نہ آپ کی نافرمانی کروں گا اور نہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ پر کوئی روک ٹوک کروں گا۔ (آیت) ” صابرا “۔ کا مفہوم یہاں ہے ضبط کرجانے والا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایسے مقبول بزرگ کوئی حرکت خلاف شریعت کریں گے، اسی لئے انہوں نے مطیع رہنے کی حامی بھر لی گویا حالا ان کا وعدہ یہ تھا کہ امور مباح میں آپ کا ساتھ دیتا رہوں گا اس پر بھی اتنی احتیاط رکھی کہ لفظ انشاء اللہ ملائی جس سے اقرار عہد و پیمان پیدا نہیں ہونے پایا اور اس لئے ان دونوں باتوں کی بناء پر آیندہ نقض عہد کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آیت سے استنباط کیا گیا ہے کہ متعلم کے لئے پہلی چیز یہ ہے کہ استاد کے احکام کی اطاعت اور اس پر ترک اعتراض ومخالفت کی عادت اختیار کرے اور اپنی طرف سے انتہائی فروتنی اور تذلل برتے۔ ھذا یدل علی ان المتعلم یجب علیہ فی اول الامر التسلیم وترک المنازعۃ والاعتراض (کبیر) وقول موسیٰ لہ تواضع شدید واظھار للتحمل التام والتواضع الشدید وکل ذلک یدل علی ان الواجب علی المتعلم اظھار التواضع باقصی الغایات (کبیر)
Ayah 18:70103۔ یہ شرط حضرت خضر (علیہ السلام) کی طرف سے زائد ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وعدہ اس حد تک کے لئے نہ تھا۔ نہ آپ کی زبان سے اب بھی اس کا اقرار منقول ہے۔
Ayah 18:71104۔ کوئی ایسا مقام سفر میں آگیا تھا جس کے آگے کشتی کی ضرورت پڑجاتی تھی اور اب سفر بحری شروع ہوا۔ سمندر یا دریا کے کنارے کنارے تو یوں بھی چل رہے تھے۔
105۔ (جس پر سکوت کرنا میرے حد عہد سے خارج ہے) (آیت) ” امرا “ کہتے ہیں امر منکر ومعیوب کو۔ (آیت) ” لتغرق “ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی ایسا فعل جس کا نتیجہ بھی مرتب ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے دو امر ثابت ہوئے ایک یہ کہ اکابر سے بھی ایسے امور صادر ہوسکتے ہیں جن کا ظاہر خلاف شریعت ہو۔ (گوحقیقت یہ نہ ہو) دوسرے یہ کہ اولیاء میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو باذن حق تکوینیات میں تصرف کرتے رہتے ہیں۔ صوفیہ کی زبان میں انہیں کو قطب التکوین یا صاحب خدمت کہتے ہیں۔
Ayah 18:72106۔ (سودیکھئے وہی بات آگے آئی) اس نباہ نہ کرسکنے سے جس کا مبنی ومنشاء تمامتر غیرت دینی وجوش ایمانی تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منقصت نہیں اور مدح ومنقبت ہی نکلتی ہے۔
Ayah 18:73107: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے عمل کو دیکھ کر جو ظاہرا یکسر معصیت تھے قدرۃ اتنا متاثر ہوئے کہ حضرت خضر کی ہدایت کا بھی پاس ولحاظ نہ رہا۔ ذہن سے ان کی ہدایت نکل گئی اور آپ ٹوک بیٹھے۔ عدم مخالفت کا وعدہ بھی آپ نے وفور شوق ہی میں کیا تھا لیکن اب جن افعال کو خلاف رضائے محبوب (کہ اسی کا دوسرا نام حکم شریعت ہے) پاتے تھے، بلاتامل اور بےدھڑک ٹوک بیٹھتے تھے۔ سکوت محض کا اول تو آپ کی طرف سے وعدہ ہی نہ تھا۔ وعدہ صرف عدم مخالفت کا تھا۔ اور بالفرض ہوتا بھی تو خلاف شریعت معاہدہ کی پابندی ہی روا نہیں۔ (آیت) ” لاتؤاخذنی بمانسیت “۔ اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ سہو ونسیان پر مؤاخذہ نہیں۔ ذکر ان النسیان الیقتضی المؤاخذۃ وھذا یدل علی ماقدمناہ من انہ لایدخل تحت التکلیف (ابن العربی)
Ayah 18:74108۔ نکرا کے معنی ہیں امر عظیم کے۔ ایسا امر جس سے سب کا نوں پر ہاتھ رکھیں۔ نکرا اے واھیۃ (بخاری) قال ابو عبیدہ نکرا اے عظیما (فتح الباری) النکر الدھاء والامرالصعب الذی لایعرف (راغب قال اللیث الدھاء والنکر لغت للامر الشدید (تاج) نکر کا درجہ قبح میں امر سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ النکر اعظم من الامر فی القبیح (کبیر) وقیل النکر ماانکرتہ العقول ونفرت منہ النفوس وھو ابلغ فی تقبیح الشیء من الامر (کبیر) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو مامور ہی تھے امر بالعروف ونہی عن المنکر پر۔ اب کی آپ کے ٹوکنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ کی پہلی ہی حرکت کیا کم تھی کہ اب کی تو آپ اس سے بھی کہیں بڑھ کر بےجا حرکت کر گزرے۔ کشتی کے نقصان کا تدارک تو بہرحال ممکن بھی تھا یہ تو جان کا معاملہ ہے اس کی تلافی کی تو کوئی صورت ہی نہیں۔ اے ان کر من الاول لان ذلک کان غرقایمکن تدار کہ بالسد وھذا لاسبیل الی تدار کہ (کشاف) (آیت) ” اقتلت۔۔ نفس “۔ یعنی ایک تو وہ لڑکا یوں ہی نابالغ۔ قابل قصاص نہیں چہ جائے کہ بالکل بےقصور قتل ہو ! بحمد اللہ آج سہ شنبہ 29 اپریل 1947 ء مطابق 6 جمادی الثانیہ کو بعد نماز ظہر اس پارۂ پانزدہم کی تفسیر نظر ثانی سے فراغت ہوئی۔
Ayah 18:75109۔ (اور اب اس کا ظہور پوری طرح ہونے لگا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلا سوال تو غالبا بےخیالی سے کر گزرے تھے جیسا کہ ان کے عذر (آیت) ” لا تؤاخذنی بما نسیت “ سے متبادر ہورہا ہے۔ لیکن یہ دوسرا سوال عمدا تھا چناچہ اب کی وہ اپنے سہوانسیان کا عذر بالکل نہیں پیش کرتے۔ احکام شریعت کی خلاف ورزی پر تحمل جب عام صالحین سے نہیں ہوسکتا تو موسیٰ (علیہ السلام) تو ظاہر ہے کہ پیغمبر برحق تھے۔ اور آپ کا کام ہی ہر قسم کی بدی کو روکنا اور نیکی کو پھیلانا تھا۔” موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کرکے پھر جو اعتراض فرمایا تو وجہ یہ کہ وہ وعدہ معنی مقید تھا عدم مخالفت شریعت کے ساتھ گوصورۃ مطلق تھا۔ پس اس کو خلف لازم نہیں آتا “۔ تھانوی (رح) ۔
Ayah 18:76110۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اچھا اب کی اور درگزر سے کام لیجئے۔ لیکن آپ بھی شرائط کی خلاف ورزی کو کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے عذر کی حد کو پہنچ گئے اب اگر میں آپ سے کوئی اور سوال کروں تو آپ بیشک معذور ہیں اور مجھے فورا اپنے ساتھ سے الگ کرسکتے ہیں۔ ” بعض کو اس قصہ سے یہ دھوکا ہوگیا ہے کہ پیرا گر کوئی خلاف شرع کام کرے اس پر انکار نہ کرے۔ چناچہ اسی قصہ میں حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اگر صبر کرتے تو خوب ہوتا۔ جواب یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) کا کمال نص سے معلوم تھا۔ اس لئے سکوت جائز تھا۔ دوسرے کا ان پر قیاس کرنا مع الفارق ہے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” عن شی ٗ “۔ یعنی ان چیزوں سے متعلق جو آپ سے بہ سلسلہ عجائب وخوارق سرزد ہوتی ہیں۔ اے عن شیء تفعلہ من الاعاجیب (روح)
Ayah 18:77111۔ (اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے وہ بات رفت وگزشت ہوجانے دی)
112۔ (کہ ہم اسی اجنبی شہر میں مہمان ہیں) قدیم زمانہ میں جب کہ نہ قدم قدم پر مہمان سراؤں کا رواج تھا۔ نہ ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں کا۔ مسافر اور نووارداپنا حق سمجھتے تھے کہ بستی والوں سے کھانا پانی طلب کریں اور بستی والے ان کی مہمانداری اپنا فرض سمجھتے تھے اور عموما اسے بڑی خوش دلی سے بجا لاتے تھے قرآن مجید سے اشارۃ یہ بات بھی نکل آئی کہ میزبانی اور مہمانی کا یہی جذبہ صحیح تھا۔
113۔ (جو اس قدیم تہذیب میں ایک بہت ہی قبیح جرم تھا)
114۔ (کہ ہم لوگوں کا کام بھی چل جاتا اور ان لوگوں کی تادیب بھی کسی قدر ہوجاتی) (آیت) ” یرید ان ینقض “۔ ارادۃ یہاں مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی قرب وقوع کو ارادہ وقوع سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ والمراد من ارادۃ السقوط قربۃ من ذلک علی سبیل المجاز المرسل (روح) استعیرت الارادۃ للمداناۃ والمشارفۃ (کشاف) زمخشری صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ عربی میں متعدد افعال ارادی کا انتساب مجازا جمادات لایعقل کے ساتھ ہوتا رہتا ہے مثلا ہم، عزم، قول، نطق، صدق، کذب، سکوت، تمردوغیرہا اور کلام عرب سے ان کی سندیں بھی پیش کی ہیں۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ کس معیشت اور اس کے اسباب کا اختیار کرنا منافی کمال نہیں۔
Ayah 18:78115۔ (جیسا کہ آپ خودہی طے کرچکے ہیں) مرشد تھانوی (رح) نے اس سے استنباط کیا کہ جب مرید سے خلاف ونزاع بار بار ظاہر ہونے لگے اور مرشد کو امید اس سے مناسبت وموافقت کی نہ باقی رہ جائے تو اسے جدا کردینا درست ہے۔
116۔ اس قصہ سے بعض کو دھوکا ہوگیا ہے کہ علم باطن علم شریعت سے افضل ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ علم باطن کے دو شعبہ ہیں۔ علم مرضیات الہی جو متعلق بالنفس ہیں اور علم اسرار کونیہ۔ پہلا تو شریعت کا ایک جزء ہے اور جزء کبھی کل سے افضل نہیں ہوسکتا اور دوسرا چونکہ قرب الہی میں میں کچھ دخل نہیں رکھتا اس لئے افضلیت کا احتمال بھی نہیں۔ دوسرا دھوکا یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں۔ جواب یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) کو علم باطن کا دوسرا شعبہ حاصل ہونا اس قصہ سے ثابت ہے اور ابھی سن لیا ہے کہ وہ علم شریعت سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حاصل تھا افضل نہیں ہے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” بتاویل “۔ تاویل سے یہاں مراد غایت ومصلحت یا مصلحت تکوینی ہے۔ التاویل رد الشیء الی مالہ والمراد بہ ھنا المال والعاقبۃ (روح)
Ayah 18:79117۔ (اس کے ذریعہ سے محنت مزدوری کرکے کچھ کما لیتے تھے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ آلات حرفہ وتجارت پر زکوۃ نہیں۔ چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان ملاحوں کو باوجود کشتی کے مالک ہونے کے مسکین ہی کہا۔ فقہاء مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مسکین کا اطلاق ہر اس شخص پر جائز ہے جو اگرچہ مال رکھتا ہو مگر وہ اس کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہو۔ وھو دلیل علی ان المسکین یطلق علی من یملک شیئا اذا لم یکفہ (بیضاوی) وفیہ دلیل علی ان المسکین وان کان یملک شیئا فلایزول عنہ اسم المسکنۃ اذا لم یعم مایملک بکفایتہ (معالم)
118۔ (آیت) ” ورآء “۔ یہاں بہ معنی امام (سامنے) کے ہے۔ اور (آیت) ” ورآء “۔ کے امام کے مترادف ہونے میں کسی لغوی کو اختلاف بھی نہیں۔ قالہ قتادۃ امامھم (ابن جریر) وھو قول قتادۃ وابی عبید وابن السکیت والزجاج (روح) ولا خلاف عند اھل اللغۃ فی مجیء وراء بمعنی امام (روح) بلکہ حضرت ابن عباس ؓ کی تو قرأت ہی بجائے (آیت) ” ورآء ھم “۔ کے امامھم کی ہے۔ وکان ابن عباس ؓ یقرأ وکان امامھم ذلک (فتح القدیر) مراد یہ ہے کہ وہ کشتی جدہر جارہی تھی، اسی طرف آگے بڑھ کر ایک ایسے ظالم وغاصب بادشاہ کی عملداری شروع ہونے والی تھی۔
119۔ (سو اگر میں اس کشتی میں سوراخ نہ کردیتا تو وہ بادشاہ اسے بھی پکڑ لیتا اور ان غریبوں کے ہاتھ سے ذریعہ سے معاش جاتا رہتا۔ اب یہ ہے کہ اس کی مرمت وہ لوگ تھوڑے میں کرالیں گے اور اس نقصان عظیم سے بچ جائیں گے)
Ayah 18:80120۔ (اور مجھ کو کشف تکوینی سے یہ علم ہوا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کافر ہوگا) یہ علم مکاشفہ وہی ہے جس کا ذکر اوپر (آیت) ” علمنہ من لدنا علما “۔ کے تحت میں موقع مدح پر آچکا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 65 اور حاشیہ نمبر 98 پارہ 15۔
121۔ (اور وہ دونوں اپنی طبعی محبت سے اس کا ساتھ بےدینی میں دینے لگیں گے) خشینا۔ خشیت یہاں خوف واندیشہ کے معنی میں نہیں علم ویقین کے معنی میں ہے۔ والخشیۃ والخوف تو جھھا العرب الی معنی الظن و توجہ ھذہ الحروف الی معنی العلم بالشیء الذی یدرک من غیر جھۃ الحس والعیان (ابن جریر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خشیت اپنے اصلی معنی پر رہے اور حق تعالیٰ نے جب خضر (علیہ السلام) کو پوری اطلاع اس لڑکے کی آیندہ صلاحیتوں سے متعلق دیدی تو آپ نے خود ہی آیندہ کے اندیشوں سے اسے قتل کردیا ہو۔ وانما خشی الخضر منہ ذلک لان اللہ تعالیٰ اعلمہ بحالہ واطلعہ علی من امرہ وامرہ ایاہ بقتلہ (کشاف) فقہاء نے یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ اولاد کے گناہ میں والدین بھی تغافل و رضاء عدم منع کی صورت میں ماخوذ ہوں گے۔