17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

نماز ادا کیا کیجیے آفتاب ڈہلنے (کے بعد) سے رات کے اندھیرے ہونے تک،112۔ اور صبح کی نماز بھی،113۔ بیشک صبح کی نماز حضوری کا وقت ہے،114۔

112۔ وقت کی قدرتی تقسیم حرکت آفتاب کے تابع ہے، اور قرآن مجید نے اس کو اوقات عبادت کے لیے معیار قرار دیا ہے۔ قرآن کا ” اسٹینڈرڈ ٹائم “ یہی ہے، ہر ” گرنیچ ٹائم “۔ ،” مدراس ٹائم “ سے بےنیاز۔ (آیت) ” الصلوۃ “ سے مراد ظاہر ہے کہ نماز مفروضہ ہے اور اسی نماز فرض کے اوقات کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” دلوک “۔ کے مطلق معنی جھکاؤ یا میلان کے ہیں۔ معنی الدلوک فی کلام العرب ھو المیل (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ وابی برزۃ الاسلمی و جابر وابن عمر دلوک الشمس میلھا وکذلک روی عن جماعۃ من التابعین قال ابوبکر ھؤلآء الصحابۃ قالوا ان الدلوک المیل وقولھم مقبول فیہ لانھم من اھل اللغۃ (جصاص) وقال ابن عباس ؓ وابن عمر و جابر ھو زوال الشمس وھو قول عطاء وقتادۃ و مجاھد والحسن و اکثر التابعین (معالم) دلوک الشمس ھو زوالھا من کبد وھو اختیار الاکثرین من الصحابۃ والتابعین (کبیر) (آیت) ” دلوک الشمس “۔ آفتاب ڈھلنے کے دو درجہ ہوتے ہیں۔ ایک تو اس کا عروج نصف النھار سے پستی کی طرف مائل ہونا، جسے عام بول چال میں دوپہر کہتے ہیں۔ دوسرے اس کا بالکل ڈھل کر افق پر نظر کے مقابل آجانا جسے عام بول چال میں سہ پہر کہتے ہیں۔ اوقات کی اسی قدرتی تقسیم کی مناسبت سے دو نمازیں ظہر وعصر کی تجویز ہوئیں۔ (آیت) ” غسق الیل “۔ ٹھیک اسی طرح شب کے اندھیرے کے بھی دو درجہ ہیں۔ ایک یہ کہ سورج افق سے غائب ہوجائے، خواہ روشنی باقی ہو۔ دوسرے یہ کہ تاریکی خوب اچھی طرح پھیل جائے، انہیں دو قدرتی وقتوں کی مناسبت سے رات کی نمازیں بھی دو یعنی مغرب و عشاء کی قرار پائیں۔ غسق اللیل ھو اقبالہ ودنوہ بظلامہ (ابن جریر) (آیت) ” لدلوک “ میں ل سببیت کا ہے بعض نے بعد کے معنی میں بھی لیا ہے۔ قال الواحدی اللام لام الاجل والسبب (کبیر) واللام فی لدلوک قالوا بمعنی بعد (بحر) ” لدلوک۔۔۔ الیل “۔ چاروں نمازوں کے وقت کی ابتداء اور انتہاء آغاز وختم دونوں کا بیان اس میں آگیا۔ بیان لمبدأ الوقت ومنتھاہ (بیضاوی) کانت الایۃ جامعۃ لمواقیت الصلاۃ کلھا فدلوک الشمس یتناول صلاۃ الظھر والعصر والی غسق اللیل یتناول المغرب والعشاء وقران الفجر ھو صلاۃ الصبح (معالم) 113۔ (آیت) ” قران الفجر “۔ قران یہاں نماز کے معنی میں۔ اور اس سے مراد نماز ہی ہے۔ یعنی صلاح الصبح (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اے صلاۃ الصبح (ابن جریر۔ عن مجاہد) صلاۃ الفجر سمیت قرانا (مدارک) اجمعوا علی ان المراد منہ صلاۃ الصبح (کبیر) تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ اقم قران الفجر۔ وانتصابہ بالعطف علی الصلاۃ والتقدیر اقم الصلاۃ واقم قران الفجر (کبیر) 114۔ (فرشتوں کی) یہ تفسیر تو دو حدیث میں آگئی ہے کہ یہ وہ نماز ہے کہ اس کے وقت رات کے فرشتوں اور دن کے فرشتوں دونوں کی حاضری ہوتی ہے۔ عن النبی ﷺ قال تشھدہ ملائکۃ اللیل وملائکۃ النھار (ابن جریر۔ عن ابی ہریرہ ؓ)
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصہ میں بھی، سو اس میں تہجد پڑھ لیا کیجیے (جو) آپ کے حق میں زائد چیز ہے،115۔ عجب کیا کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود میں جگہ دے،116۔

115۔ یعنی یہ ان پانچ نمازوں کے علاوہ۔ فرض یہ نہیں، ہے زائد ہی لیکن آپ اسے بھی پڑھتے رہیے۔ (آیت) ” نافلۃ لک “۔ قال قتادۃ تطوعا وفضیلۃ (جصاص) قال مجاھد وانما کانت نافلۃ للنبی ﷺ لانہ قد غفرلہ ماتقدم من ذنبہ وما تاخر فکانت طاعاتہ نافلۃ اے زیادۃ فی الثواب ولغیرہ کفارۃ لذنوبہ (جصاص) (آیت) ” فتھجد “۔ تہجد وہ نماز ہے جو شب میں سوتے سوتے اٹھ کر پڑھی جائے۔ التھجد فی اللغۃ السھر للصلاۃ اولذکر اللہ وقیل التھجد التیقظ بما ینفی النوم (جصاص) التھجد التیقظ والسھر بعد نومۃ من اللیل (ابن جریر) (آیت) ” من اللیل “۔ من تبعیضیہ ہے۔ یعنی رات کے کچھ حصہ میں۔ اے بعض اللیل (کشاف) نماز تہجد کا پر مشقت ہونا ظاہر ہی ہے لیکن اجر وصلہ بھی اسی درجہ کا ہے۔ احادیث اس کی فضیلتوں سے لبریز ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تو اس حکم کے بعد یہ نماز تہجد لازمی ہوگئی تھی۔ خواہ بہ طور فرض زائد کے، خواہ بطور نفل کے والمعنی ان التھجد زیدلک علی الصلوات المفروضۃ غنیمۃ لک اوفریضۃ علیک خاصۃ دون غیرک لانہ تطوع لھم (مدارک) (آیت) ” بہ “۔ ضمیرہ القرآن کی جانب ہے۔ الھاء فی بہ کنایۃ عن قران الفجر (جصاص) والتقدیر فتھجد بالقران فی الصلوۃ (بحر) 116۔ احادیث میں آتا ہے کہ یہ مقام شفاعت کبری کا ہے۔ مقام الشفاعۃ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اے مقام الشفاعۃ یوم القیامۃ (ابن جریر۔ عن الحسن) وھو الشفاعۃ عند الجمھور (مدارک) وعن ابی ہریرہ عن النبی ﷺ قال ھو المقام الذی اشفع لامتی فیہ (ابن کثیر عن الامام احمد) عسی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تو اس کے معنی میں شک نہیں تیقن پیدا ہوجاتا ہے۔ عسی من اللہ تعالیٰ واجب (معالم)
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور آپ کہتے رہیے کہ اے میرے پروردگار مجھے پہنچائیو پہنچانے کے وقت کے ساتھ،117۔ اور مجھے نکالتے وقت خوبی سے نکالیو،118۔ اور مجھے اپنے پاس سے غلبہ دیجیو (اپنی) نصرت کے ساتھ ملا ہوا،119۔

117۔ یعنی جب ہجرت کا وقت آئے تو مجھے اس دارالہجرت میں خیر و راحت کے ساتھ اتارئیو۔ (آیت) ” ادخلنی “۔ واخرجنی “۔ کی تفسیر حدیث ترمذی میں ہجرت ہی کے ساتھ آئی ہے۔ (آیت) ” مدخل صدق “۔ سے مراد مدینہ منورہ لی گئی ہے۔ ایالمدینۃ حین ھاجر الیھا (ابن جریر، عن ابن زید) 118۔ (سرزمین مکہ سے) یعنی ہجرت کے وقت یہاں سے خیروخوبی کے ساتھ نکالیو۔ مخرج صدق “۔ یعنی مکہ معظمہ۔ اے مکۃ حین خرج منھا (ابن جریر) مفہوم میں توسیع پیدا کرکے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ ہمیں قبر میں داخل کیجیوا ایمان وصدق کے ساتھ اور خیر سے باہر نکالیو قیامت کے دن ایمان وصدق کے ساتھ۔ اے ادخلنی فی القبر مدخل واخرجنی من القبر یوم القیمۃ مخرج صدق (ابن عباس ؓ 119۔ (کہ وہی غلبہ حقیقی اور پائدار ہوتا ہے ورنہ عارضی اور ظاہری غلبہ تو کسی مصلحت تکوینی سے کافروں کو بھی ہوجاتا ہے)
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ حق (بس اب) آہی گیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل تھا ہی نمٹنے والا،120۔

120۔ آیت کے آخری ٹکڑے نے یہ حقیقت صاف کردی کہ پائداری اور قیام باطل کے نصیب میں نہیں (آیت) ” الحق۔ الباطل “۔ حق سے مراد ہے دین توحید اور باطل اس کی ضد ہے اور ہر قسم کے کفر اور غیر پرستی پر شامل ہے۔ حدیث وسیر کی روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ فتح مکہ کے بعد جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے اندر کے بتوں اور مورتیوں کو توڑتے جاتے تھے اور زبان سے یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے۔ محققین صوفیہ نے الفاظ آیت کے عموم سے فائدہ اٹھاکرحق کے تحت میں نور باطن اور حب الہی کو بھی داخل کیا اور باطل کے تحت میں ظلمت اور حب خلق کو۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں اور ظالموں کا اس سے اور نقصان ہی بڑھتا ہے،121۔

121۔ یعنی جو لوگ قرآن کے باب میں ظالم ہیں اس کے حقائق کو بہ نظر انصاف نہیں دیکھتے ان کے کام اشاعت قرآنی کے عموم سے اور بگڑتے ہی جاتے ہیں۔ (آیت) ” شفآء “۔ یعنی عقاید فاسد اور اعمال فاسد سے نجات (آیت) ” رحمۃ “۔ یعنی احکام الہی پر عمل خود رحمت الہی کا جاذب ہوجائے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصطلاح سلوک میں (آیت) ” شفآء “۔ سے اشارہ ہے تخلیہ کی طرف اور (آیت) ” رحمۃ “۔ سے اشارہ ہے تجلیہ کی جانب۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنی کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے،122۔

122۔ (اپنی کامیابی اور ہماری رحمت وفضل کی طرف سے) (آیت) ” الانسان “۔ سے مراد یہاں کافر اور ناشکر گذار انسان ہے۔ یعنی الکفر من کثرۃ مالہ ومعیشتہ (ابن عباس ؓ (آیت) ” اعرض ونا “۔ یہ منہ موڑ لینا اور کروٹ پھیرلینا اللہ اور احکام الہی کی جانب سے ہوتا ہے۔ (آیت) ” اذا انعمنا۔ واذا مسہ الشر “۔ اول الذکر سے مراد انعامات تکوینی، صحت، عافیت، مال واولاد وغیرہ ہیں اور آخر الذکر سے مراد انہیں سے محرومی۔ یہ اعراض ویاس دونوں نتیجہ ہوتی ہیں حق تعالیٰ سے بےتعلقی رکھنے کا۔ (آیت) ” اعرض “۔ کے بعد (آیت) ” نابجانبہ “۔ کا اضافہ تاکید اور زور کے لئے ہے۔ تاکید للاعراض (کشاف)
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون صحیح تر راستہ پر ہے،123۔

123۔ (اور وہی سب کو ان کے موافق حال جزادے گا) آیت میں یہ بتایا کہ کسی کو حق نہیں کہ یونہی بلادلیل شرعی اپنے کو راہ حق پر سمجھ لے۔ (آیت) ” قل کل یعمل علی شاکلتہ “۔ یعنی ہر شخص کی ایک خاص افتاد طبیعت ہوتی ہے۔ اور وہ اسی کے مطابق عمل کرتا ہے خواہ وہ عمل نیک ہو یا بد مقتضا ہو علم صحیح کا یا جہل قبیح کا۔ (آیت) ” علی شاکلتہ “۔ یعنی اپنی افتاد طبیعت کے مطابق۔ اے علی مذھبہ وطریقتہ التی تشاکل کل مالہ فی الھدی والضلالۃ (کشاف) اے علی نیتہ وامرہ ھو علیہ (ابن عباس ؓ قال مجاہد علی طبیعتہ وقیل علی عادتہ التی الفھا (جصاص) الشاکلۃ الطریقۃ والمذھب الذی قیل علیہ قالہ الفراء (بحر)
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور آپ سے یہ روح کی بابت پوچھتے ہیں،124۔ آپ کہہ دیجیے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے (ہی) ہے،125۔ اور تمہیں علم تو بس تھوڑا ہی دیا گیا ہے،126۔

124۔ (کہ اس کی حقیقت وماہیت کیا ہے) یہ سوال کرنے والے یا تو مشرکین قریش تھے (جیسا کہ نسائی وترمذی کی روایتوں میں آیا ہے) اور یا یہود مدینہ تھے (جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے) بہر صورت سائل جو بھی ہوں سوال سے مقصود استفادہ اور اپنے جہل کا دور کرنا نہ تھا بلکہ مقصود امتحان تھا۔ 125۔ (اور اس لیے تمام دوسری مخلوقات کی طرح حادث وفانی ہے) قرآن کی اس مختصر وحکیمانہ، جامع ولفظی جواب نے ان تمام لاطائل بحثوں کی بےحاصلی ظاہر کردی جو صدیوں سے جاہلی فلاسفہ کے درمیان چلی آرہی تھیں۔ مثلا یہ کہ روح مجرد ہے یا مادی ؟ بسیط ہے یا مرکب ؟ جو ہر ہے یا عرض ؟ وغیرہا۔ روح کی حقیقت بھی منجملہ ان مسائل کے ہے جن کے باب میں اکثر مذاہب باطلہ کو ٹھوکر لگی ہے اور روح کا قدیم وغیرفانی ہونا تو بہت مشرکانہ مذاہب میں مسلم رہا ہے۔ چناچہ ہندوستان میں آریہ سماجیوں کے نام سے جو فرقہ انیسویں صدی مسیحی کی پیداوار ہے اور جو بت پرستی کا دشمن اور عقیدہ توحید کا مدعی ہے وہ بھی روح کی قدامت ہی کا قائل ہے۔ وہ خدا کی طرح پرش (روح) اور ہر کرنی (مادہ) کو بھی قدیم مانتا ہے۔ قرآن کا اصل مقصود اسی عقیدۂ روح پرستی پر ضرب لگانا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ 126۔ (اور حقیقت روح کا علم نہ تمہارے حدود فہم کے اندر ہے اور نہ تمہاری ضروریات دینی وعلمی میں داخل ہے۔ اس لئے تمہیں عطا بھی نہیں ہوا)
Ayah 17:86

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف کی ہے وہ سلب کرلیں پھر اس کے لئے آپ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی بھی نہ ملے،127۔

127۔ اس میں رد ہے اس خیال کا کہ آپ قرآن اپنے اختیار و ارادہ سے تصنیف کرلیتے یا کرسکتے تھے۔ یہ حق تعالیٰ کی کمال عظمت کا بیان ہے کہ وہ رسول سے اس کا کمال وحی بھی سلب کرسکتا ہے۔
Ayah 17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر یہ (آپ پر) رحمت ہی ہے آپ کے پروردگار کی،128۔ بیشک اس کا آپ پر بہت بڑا فضل ہے،129۔

128۔ (کہ اس نے ایسا نہیں کیا اور وہ رحمت آپ پر قائم ہی رہنے والی ہے) 129۔ (سو وہ آیندہ کبھی اس کی نوبت ہی کیوں آنے دے گا۔ آپ اللہ کے اس فضل و رحمت کو یاد کرکے خوش رہیے اور کسی کی مخالفت وغیرہ کا غم نہ کیجئے)
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر (کل) انسان وجنات اس بات کے لئے جمع ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لے آئیں (جب بھی) اس جیسا نہ لاسکیں گے اور خواہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں،130۔

130۔ یہ دنیا کے سامنے کس زور وقوت کے ساتھ تحدی ہے کہ سارے کے سارے انسان ہر دور اور ہر ملک کے، بڑے بڑے باکمال اور فضلاومحققین سب مل کر بھی اور اپنے ساتھ ایک دوسری صنف مخلوق (جنات) کو ملا کر بھی (جو بعض قوتوں کے لحاظ سے انسان سے افضل ہے) اگر پورا زور لگا دیں جب بھی دوسرا قرآن نہیں تیار کرسکتے۔ (آیت) ” بمثل ھذا القران وبمثلہ “۔ اس ” مثلیت “ میں مضامین کی جامعیت، مطالب کی کاملیت، حسن ادا، حسن انشاء کے سارے پہلو آگئے۔ ویستدل علی ذلک تجدید فی ھذہ الایۃ العرب والعجم والجن والانس ومعلوم ان العجم لایتحدون من طریق النظم فوجب ان یکون التحدی لھم من جھۃ المعانی (جصاص)
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کا اعلی مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے لیکن اکثر لوگ بےانکار کئے نہ رہے،131۔

131۔ (جو دلیل ہے ان کے ناشکرے پن کے کمال کی) (آیت) ” صرفنا “۔ یعنی ایک ایک مضمون بار بار مختلف طریقوں سے سہولت تفہیم کے لئے کھول کھول کر بیان کیا ہے (آیت) ” للناس “۔ یعنی لوگوں کے سمجھانے کے لئے، ان کی نصیحت کیلئے۔ (آیت) ” مثل “۔ کے معنی ہیں۔ ہر وہ مضمون جو ندرت یا حسن رکھتا ہو یا کلمہ پر تاثیر ہو، من کل وجہ من العبر والاحکام والوعید والوعید وغیرھا (معالم) اے بینالھم الحجج والبراھین القاطعۃ ووضعنا لھم الحق وشرحناہ وبسطناہ (ابن کثیر)
Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کردو گے،132۔

132۔ یہ کہنے والے مشرکین مکہ تھے اعجاز قرآنی کے اس کھلے ہوئے ثبوت کو چھوڑ کر الٹا آپ سے مطالبہ متعین حسی خوارق اور مادی معجزات کا کیا کرتے تھے۔۔ لیکن پیغمبروں کی تاریخ میں یہ کوئی انوکھا مطالبہ نہیں بلکہ مشرکانہ مذاق کے عین مطابق ہے۔ اور قدیم قومیں بھی اپنے اپنے وقت کے داعیان حق سے برابر ایسے ہی فرمایشی معجزات چاہتی رہی ہیں۔
Ayahs 17:91–92

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا خود تمہارے لئے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا (پیدا) ہوجائے پھر اس کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ نہریں جاری کردو

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تم ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو جیسا کہ تم دعوی رکھتے ہو،133۔ یا تم اللہ اور فرشتوں ہی کو (ہمارے) سامنے لاکھڑا کرو

133۔ خلاصہ ان تمام فرمائشوں کا یہ کہ ہم تو تمہارے دعوائے رسالت ونبوت میں تمہیں سچا اس وقت سمجھیں گے جب ایسے عجیب و غریب حسی ومادی خوارق سے ہمیں دوچار کردو۔ نبوت و رسالت کی کل کائنات ان ” عقلاء “ کے ذہن میں یہ تھی کہ نبی و رسول کو (نعوذباللہ) اعلی درجہ کا بازیگر یا شعبدہ باز ہونا چاہیے ! (آیت) ” جنۃ من نخیل وعنب “۔ کھجور اور انگور کے باغ اہل عرب کے نزدیک بہت ہی بڑی نعمت تھے۔ (آیت) ” فتفجر۔۔۔ تفجیرا “۔ پھر ان باغوں میں نہروں ندیوں کا چلنا اہل عرب کے نزدیک خوشحالی اور راحت کی آخری معراج تھی۔ (آیت) ” تسقط السمآء “۔ یہ آسمان کے ٹکڑوں کا گرانا اہل عرب کے نزدیک انتہائی قدرت کی دلیل تھی۔ (آیت) ” تاتی۔۔۔ قبیلا “۔ یعنی آسمانی اور فرشتوں کو رو دررو ہمارے سامنے لاکھڑا کرو۔ (آیت) ” یکون۔۔۔ زخرف اوترقی فی السمآء یہ سونے کا مکان ہونا یا آسمان پر چڑھ جاناسائلین کی نظر میں آخری اور انتہائی عجائب وخوارق تھے۔
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا پھر تمہارے لئے کوئی گھر ہی سونے کا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تو تمہارے (آسمان پر) چڑھ جانے پر بھی ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ تم (وہاں سے) ہمارے لئے ایک نوشتہ نہ اتارلاؤ جسے ہم پڑھ لیں آپ کہہ دیجیے کہ پاک ہے اللہ میں بجز ایک آدمی (اور) رسول کے اور کیا ہوں،134۔

134۔ (اور ہر بشر کی طرح میں بھی خوارق ومعجزات پیش کرنے سے معذور ہوں) جواب ان خرافی مطالبات کا رسول برحق کی زبان سے یہ ادا کردیا گیا کہ معاذ اللہ میں تو محض بشر ہوں۔ میرے اختیار میں یہ عجائب نمائی کہاں ہے۔ ہاں اتنی بات ہے کہ بشر ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں۔ لیکن رسول کے کام کا پہنچا دینا ہے۔ اور بس ! میری صداقت کا دار و مدار معجزات پر ہرگز نہیں۔ (آیت) ” سبحان ربی “۔ مشرکین کی درخواست کی تہ میں یہ شے تھی کہ جیسے کوئی آپ بھی نیم دیوتا سے تھے اور قوت وقدرت میں حق تعالیٰ کے کسی درجہ میں شریک ! (آیت) ” سبحان ربی “۔ میں یہی اشارہ ہے، کہ اس ذات پاک کی توحید مطلق ہر قسم اور ہر درجہ کی شرک کی آلودگی سے پاس ہے ! محققین نے یہیں سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ مقبولین کو یہ قدرت حاصل نہیں ہوتی کہ ان سے جو درخواست کی جائے وہ اسے پورا کردیں یاکرا دیں۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب (ان) لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی تو ان کو ایمان لانے سے اور کوئی چیزمانع نہیں ہوئی بجز اس کے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے رسول بنا کر کیا بشر کو بھیجا ہے ؟ ،135۔

135۔ مشرکین اپنی بدعقلی اور کج فہمی سے بشریت اور رسالت میں تنافی سمجھ رہے تھے اور بےیقینی کے لہجہ میں پوچھ رہے تھے کہ کیا اتنا بڑا منصب ایک بشر محض کے سپرد ہوا ہے ؟ جو دیوتاؤں کی پرستش کے لئے بآسانی آمادہ ہوجاتے ہیں۔ انہیں ایک انسان کی تصدیق رسالت کرتے ایسی ہی دشواری نظر آتی ہے ! (آیت) ” اذ جآء ھم الھدی “۔ ھدی سے مراد اس سیاق میں قرآں اور حقانیت قرآن کے دلائل ہیں۔ (آیت) ” قالوا “۔ ان کا یہ کہنا بہ طور استفہام واستفسار کے نہیں، تعجب و انکار کے لہجہ میں تھا۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر زمین پر فرشتہ ہوتے کہ چلتے بستے،136۔ تو البتہ ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو بہ طور رسول کے اتارتے،137۔

136۔ یعنی اس زمین کے باشندے ہوتے جیسے کہ انسان ہیں۔ فرشتہ موجود تو زمین پر آج بھی ہیں۔ مقصود کلام یہ ہے کہ انسانوں کے بجائے اگر دنیا انہیں ہی سے اسی طور پر آباد ہوتی اور انہیں بھی ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کی ضرورت ہوتی۔ 137۔ (کہ وہ اپنے ہم جنسوں میں تبلیغ کرتا) یہیں سے یہ ایک اہم اصل ہاتھ آتی ہے کہ ہدایت کے لئے مناسبت باہمی شرط ہے، اور مناسبت کا سبب قوی مجانست ہے۔ ایک جنس کی مخلوق دوسری جنس والی سے بآسانی نہیں سیکھ سکتی۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بہ طور گواہ کے میرے اور تمہارے درمیان کافی ہے بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے خوب دیکھتا ہے،138۔

138۔ (سو وہی تمہارے مفاد کو بھی خوب جان رہا ہے اور تمہاری ہٹ دھرمی کو بھی خوب دیکھ رہا ہے کہ باوجود وضوح دلائل اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو) (آیت) ” شھیدا بینی وبینکم “۔ اللہ کی گواہی سے اس سیاق میں مراد یہ ہے کہ وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ اثبات نبوت محمدی وحقانیت قرآن پر کتنے دلائل واضح جمع ہیں۔ لیکن اہل فساد اپنی ضد وجہل سے انکار کئے چلے جارہے ہیں۔ اور اللہ کی شہادت عقلی یہ تھی کہ ہر طرح کی بےسروسامانی کے باوجود نصرت الہی علانیہ داعی اسلام (علیہ السلام) ہی کا ساتھ دے رہی تھی۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جسے اللہ راہ پر لاتا ہے وہی راہ پاتا ہے اور جسے وہ بےراہ کردے تو آپ ایسوں کو مددگار کسی کو بھی اللہ کے سوا نہ پائیں گے،139۔ اور ہم قیامت کے دن انہیں ان کے منہ کے بل چلائیں گے اندھا اور گونگا اور بہرا کرکے،140۔ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب وہ (آگ) ذرا بھی دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے،141۔

139۔ یعنی مدد اگر ممکن تھی تو حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ممکن تھی لیکن اس کی مدد سے تو ان کا کفر انہیں محروم ہی رکھے گا۔ پھر ان کے مدد پانے کی اور کیا صورت ہے ؟ کوئی نہیں ! (آیت) ” ومن یھد۔۔ دونہ “۔ تکوینی حیثیت سے ہدایت وضلالت دونوں کے اسباب کا آخری سرا بس اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” ومن یضلل “۔ یعنی جو کوئی اپنے عناد وتعنت کی راہ سے اپنے کو گمراہ ہی رکھتا ہے۔ 140۔ (جیسا کہ یہاں دنیا میں انہوں نے اپنے کو حق کی طرف سے اندھا اور گونکا اور بہرا کرلیا تھا) 141۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ آگ ایک مرتبہ جلنے کے بعد رفتہ رفتہ سرد پڑجائے گی، بلکہ دوزخ کی آگ ایسی ہوگی کہ اس کی تیزی برابر بڑھتی ہی رہے گی۔ عذاب نار کے ابدی اور غیر منقطع ہونے پر ایک اور دلیل۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ سزا ہے ان کی اس سبب سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا تھا اور کہا تھا کہ جب ہم ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو بھلا کیا اس وقت ہم از سر نو پیدا کئے جائیں گے،142۔

142۔ مذہب مادیت کوئی آج کی نوپیدائشی نہیں۔ یونان قدیم میں بڑے بڑے ” روشن خیال “” عقل پرست “ پیدا ہوچکے تھے اور اس کی صدائے بازگشت عرب میں بھی پہنچ چکی تھی۔ عرب ظہور اسلام سے قبل جس طرح یہودیت، نصرانیت، مجوسیت، صابیئت، بت پرستی، ہر مذہب وملت کانمائندہ تھا۔ مذہب، مادیت، روشن خیالی وعقلیت کانمائندہ بھی تھا۔ تو اس قسم کی کج بحثیاں اسی فریق کے لوگ کیا کرتے تھے اور اپنے زعم میں عقلیت کی کوڑی بہت دور سے لاکر کہتے تھے، کہ یہ ممکن کیونکر ہے کہ جب ہڈیاں تک چور چور اور ریزہ ریزہ ہوچکیں گی اور سارے جسم سڑگل چکیں گے اسکے بعد از سرنو پیدا کئے جائیں گے !
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر رکھا ہے وہ اس پر (بھی) قادر ہے کہ ایسوں کو (پھر) پیدا کردے،143۔ اور اس نے ان کے لئے ایک میعاد معین کر رکھی ہے کہ اس میں ذرا شک نہیں اس پر بھی ظالم لوگ بےانکار کئے نہ رہے،144۔

143۔ یعنی اتنی موٹی اور سیدھی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جس قادر علی الاطلاق نے زمین و آسمان جیسی عظیم الشان ہستیوں کو بلاکسی سابق مادہ کے نیست سے ہست کردیا، اس کے لئے انسان جیسی نسبۃ حقیر مخلوق کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ! (آیت) ” اولم یروا “۔ کیا یہ لوگ اتنی بات پر غور نہیں کرتے ؟ 144۔ (باوجود حشر وبعث پر دلائل قوی کے قیام کے) (آیت) ” وجعل لھم اجلا “۔ کائنات انسانی کے حشر وبعث کے لئے تو ایک وقت معین وموعود ہے، اس لئے یہ سوال ہی بےمعنی ہے کہ حشر وبعث اب تک کیوں نہیں ہوا ؟ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اس میعاد مقرر کے آجانے پر بعث ثانی نہیں۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر (کہیں) تم میرے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت ضرور تم (اس کے) خرچ ہوجانے کے اندیشہ سے (ہاتھ) روک لیتے انسان ہے ہی بڑا تنگ دل،145۔

145۔ (چنانچہ اس موقع پر بھی انسان بخل وتنگ دلی ہی سے کام لیتا) (آیت) ” لوانتم۔۔۔ ربی “۔ یعنی پروردگار عالم کی رحمتوں کی ذخیرہ کا جو غیر محدود ہے، مالک انسان ہوتا اور ان کی تقسیم اس کے اختیار میں ہوتی۔ (آیت) ” خزآئن رحمۃ ربی “۔ لفظ عام ہے۔ ہر قسم کے کمالات اور جملہ اقسام نعمت پر شامل۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ اشارہ نعمت نبوت کی جانب ہے۔ آیت میں فطرت بشری کا بیان ہے کہ انسان تو حرص وبخل کا پتلا ہے، یہاں تک کہ یہ نعمتیں غیر محدود ہیں ان کے بھی تقسیم میں اسے ڈرلگا رہتا ہے کہ یہ کہیں ختم نہ ہوجائیں۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نوکھلی ہوئی نشانیاں دی تھیں جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ ان سے پوچھ دیکھئے،146۔ پھر فرعون نے ان سے کہا میں تو تمہیں اے موسیٰ (علیہ السلام) سحر زدہ سمجھتا ہوں،147۔

146۔ ان کے متدین اہل علم سے اس کی تصدیق وتحقیق کرلیجئے۔ (آیت) ” تسع ایت بینت “۔ ملاحظہ ہو پارہ 9 رکوع کی آیت اول۔ 147۔ (اور اس لئے عقل وہوش سے عاری) سحر مصری کا ذکر پیشتر آچکا ہے۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائب بس آسمانوں اور زمین کے پروردگار ہی نے بھیجے ہیں اور میں تجھے اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں،148۔

148۔ یعنی تیری ہلاکت کا وقت آپہنچا۔ اب اس میں زیادہ دیر نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب قول فرعون (آیت) ” انی لاظنک یموسی مسحورا “۔ عین مقابل ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جواب ترکی بہ ترکی۔ ، جب کہ تسامح ورعایت میں کوئی مصلحت نہ ہو، کرم اور کمال اخلاق کے منافی نہیں۔ (آیت) ” قال لقد علمت “۔ یعنی اے فرعون تیرا یہ انکار دانستہ اور عمدا ہے۔ تو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں۔ دل میں تو خوب میری صداقت کو سمجھ گیا ہے۔ انکار زبان ہی کئے چلی جارہی ہے۔ بائبل کے بیانات سے بھی قرآن ہی کی تائید ہوتی ہے۔ (آیت) ” رب السموت والارض “۔ حق تعالیٰ کا نام فرعون کے سامنے اسی حیثیت سے لینے میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ مصر میں اصلی حکومت جن دو بڑے دیوی دیوتاؤں کی تھی، ان میں سے ایک آسمان تھا دوسری زمین۔۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیرالقرآن۔ (آیت) ” بصآئر “۔ یعنی وہ چیزیں جو نبوت موسوی کی تصدیق کررہی تھیں۔ اے علامۃ لنبوتی (ابن عباسؓ) (آیت) ” مآانزل۔۔ بصآئر “۔ یعنی یہ بات تو تجھ پر بھی خوب منکشف ہوچکی ہے کہ یہ عجائب وخوارق نہ میرے اپنے پیدا کئے ہوئے ہیں نہ کسی سحر کا نتیجہ ہیں نہ کسی دیوی دیوتا کی قوت کے نتائج ہیں۔ بلکہ تمامتر حق تعالیٰ ہی کے نازل کئے ہوئے معجزات میری نبوت کی تائید میں ہیں۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

سو اس نے چاہا کہ ان کا قدم (اس) سرزمین سے اکھاڑ دے سو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا،149۔

149۔ یعنی قبل اس کے کہ وہ خدا پرستوں کو مٹا سکے وہ خود ہی ملیامیٹ کردیا گیا، فرعون کی غرقابی پر مفصل چاشیے پارہ اول میں گزر چکے۔ (آیت) ” یستغفزھم “۔ ضمیر بنی اسرائیل کی جانب ہے۔ آیت میں اشارہ فرعون کی اس کوشش کی جانب ہے کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ملک بدر کردے۔
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے (غرق ہونے کے) بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ روئے زمین پر رہو بسو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا ہم تم (سب) کو سمیٹ لائیں گے،150۔

150۔ (جس میں مومن ومنکر، مطیع وفاسق سب ہی ملے جلے ہوں گے) والمعنی جئنا بکم من قبورکم الی المحشر اخلاطا یعنی جمیع الخلق المسلم والکافر والبروالفاجر (کبیر) (آیت) ” اسکنوا الارض “۔ یعنی اب تم فرعون مصر کی محکومی وغلامی سے آزاد ہو، جہاں چاہورہو بسو۔ (آیت) ” من بعدہ “۔ یعنی غرقابی فرعون کے بعد۔ اے من بعد فرعون علی معنی من بعد اغراقہ (روح)
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس (کلام) کو حق کے ساتھ نازل کیا اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوگیا اور ہم نے آپ کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے،151۔

151۔ (اس لئے آپ پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ آپ کو کسی کے ایمان نہ لانے پر زیادہ غم وتردد کی کوئی وجہ ہے) (آیت) ” وبالحق “۔ یعنی بلاتحریف و ترمیم وتصرف بعینہ اپنی اصلی حالت میں۔ (آیت) ” وبالحق انزلنہ وبالحق نزل “۔ یعنی یہ کلام جس طرح اپنے مرسل کے پاس سے چلا تھا اسی طرح بلاتغیر و تصرف مرسل الیہ تک پہنچ بھی گیا۔ فھذا الکتاب کتاب تکفل اللہ بحفظہ عن تحریف الزائغین وتبدیل الجاھلین فکان ھذا الکتاب حقا من کل الوجوہ (کبیر) (آیت) ” انزلنہ “۔ ضمیر قرآن کی طرف ہے۔ ضمیر الغائب للقران (روح) محققین نے کہا ہے کہ اس آیت کا ربط آیت نمبر (88) لئن اجتمعت الانس والجن الخ سے ہے۔ فھو مرتبط بقولہ تعالیٰ لئن اجتمعت الانس والجن۔ اہل عرب کے ادب وانشاء میں یہ طریقہ عام تھا کہ ایک ذکر میں دوسرا اور پھر تیسرا اور پھر چوتھا ذکر نکالتے چلے آتے، اور پھر اسی پہلے ذکر کی طرف رجوع کرتے۔ وھکذا طریقۃ العرب فی کلامھا تاخذ فی شیء وتستطرد منہ الی اخرثم الی اخرثم الی اخر تعود الی ماذکرتہ اولا (روح)
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور قرآن ! تو ہم نے اسے جداجدا رکھا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کے سامنے ٹھہرٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے اتارا بھی تدریج سے ہے،152۔

152۔ (تاکہ اس کے حفظ اور فہم دونوں میں سہولت رہے) (آیت) ” فرقنہ “۔ یعنی اسے سورتوں، آیتوں وغیرہ کے ذریعہ سے الگ الگ رکھا گیا ہے۔ اے انزلناہ مفرقا (راغب) اے جعلنا نزولہ مفرقا منجما (کشاف) اس کی دوسری تفسیر بیناہ سے بھی آگئی ہے۔ یعنی ہم نے اسے کھول کر صاف صاف بیان کیا ہے۔ یا یہ کہ اس میں حق کو باطل سے ممتاز کردیا ہے۔ اے بینا فیہ الاحکام وفصلناہ (راغب) یعنی فرقناہ بالبیان عن الحق من الباطل (جصاص) (آیت) لتقراہ علی الناس علی مکث “۔ یعنی تاکہ آپ کے اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے سے لوگ بہ آسانی فہم مطالب واستخراج مسائل کرسکیں۔ یعنی علی تثبت وتوفقف لیفھموہ بالتامل ویعلموا مافیہ بالتفکر ویتفقھوا باستخراج ماتضمن من الحکم والعلوم الشریفۃ (جصاص) فانہ ایسر للحفظ واعون فی الفھم (بیضاوی)
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (بہرصورت) جن لوگوں کو اس سے قبل علم دیا جا چکا ہے جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں،153۔

153۔ (بہ طور ادائے شکر واعتراف حقیقت کے) مطلب یہ ہوا کہ جو اہل علم قبل نزول سے موجود تھے وہ تو اس کتاب اور آخری نبی کے منتظر ہی تھے وہ اس کلام کو سن کر اپنی اگلی کتابوں کی پیشگوئیوں اور پیش خبر یوں کی تصدیق پاتے ہیں اور قرآن کو پا کر سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں۔ (آیت) ” یخرون للاذقان “۔ سجدہ کی اصل ہئیت کو محاورہ عرب کے مطابق ” ٹھوڑیوں کے بل سجدہ “ سے ادا کیا ہے۔ عن ابن عباس ؓ قال للوجوہ (جصاص) عن قتادۃ قال للوجوہ (جصاص) الخرور للذقن اے السقوط علی الوجہ (کشاف) العرب تقول اذا خر الرجل فوقع علی وجھہ خر للذقن (کبیر) (آیت) ” الذین۔۔۔ قبلہ “۔ یعنی حق یسر علماء اھل کتاب۔ قال مجاھدھم ناس من اھل کتاب (کبیر) ھم العلماء الذین قروا الکتب السابقۃ (بیضاوی) (آیت) ” قبلہ “۔ ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ اے من قبل نزول القران (کبیر) (آیت) ” امنوا بہ اولاتؤمنوا “۔ مشرکین کی جانب اس میں اشارہ حقارت ہے۔ یعنی تم ایمان لاؤیا نہ لاؤ اس سے ہوتا کیا ہے۔
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے،154۔

154۔ (سوجس کتاب کے نازل کرنے کا وعدہ اس نے جس نبی پر کیا تھا، اس کو پورا کردیا) (آیت) ” سبحن ربنا “۔ یعنی ہر عیب سے پاک ہے۔ وعدہ خلافی کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ (آیت) ” یقولون سبحن ربنا “۔ قرآن مجید نے اس تسبیح سجودی کو محل مدح میں بیان کیا ہے اور یہیں سے فقہاء نے یہ استدلال کرلیا ہے کہ سجدہ میں ذکر مسنون تسبیح ہی کا ہے۔ فھم بھذا القول عند السجود فدل علی ان المسنون فی السجود من الذکر ھو التسبیح (جصاص)
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ (قرآن) ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے،155۔

155۔ خشیت حق سے گریہ طاری ہوجانا بہت سے لوگوں کے لئے ایک امر طبعی ہے اس کا محل فضیلت میں بیان ہونا بجائے خود ایک دلیل اس کے محمود ومطلوب ہونے پر ہے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نماز میں خوف خدا سے گریہ طاری ہونے سے نماز ٹوٹتی نہیں۔ فیہ الدلالۃ علی ان البکاء فی الصلوۃ من خوف اللہ لایقطع الصلوۃ لان اللہ تعالیٰ قدمدحھم بلابکاء فی السجود ولم یفرق بین سجود الصلاۃ و سجود التلاوۃ وسجدۃ الشکر (جصاص) حضرت عمر ؓ ایک بار صبح کی نماز میں سورة یوسف پڑھ رہے تھے۔ جب آیت کریمہ انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ پر پہنچے تو شدت گریہ سے سسکیاں لینے لگے۔ یہاں تک کہ آخری صف میں آواز پہنچی۔ نمازیوں میں صحابہ تھے، کسی نے انکار نہ کیا، اس سے ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ فضیلت گریہ اجماعی ہے۔ عن عبداللہ بن شداد قال سمعت تشیج عمر ؓ وانی لفی اخر الصفوف وقرأ فی صلاۃ الصبح سورة یوسف حتی اذا بلغ انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ تشج ولم ینکر علیہ احد من الصحابۃ وقد کانوا خلفہ فصاراجماعا (جصاص) (آیت) ” یزیدھم خشوعا “۔ یعنی یہ قرآن کا سننا ان میں اور خشوع بڑھا دیتا ہے یا یہ مراد ہو کہ ان کا حالت سجدہ میں یہ گریہ وبکا ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے اور اسی سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ خوف خدا سے گریہ کا طاری ہونا عین طاعت واخلاص کی دلیل ہے، یعنی بہ ان بکاء ھم فی حال السجود یزید ھم خشوعا الی خشوعھم وفیہ الدلالۃ علی ان مخافتھم للہ تعالیٰ حتی تو دبھم الی البکاء داعیۃ الی طاعۃ اللہ واخلاص العبادۃ (جصاص) اور احادیث نبوی تو فضائل گریہ خشیت الہی سے لبریز ہیں۔ وقد جائے فی مدح البکاء من خشیتہ تعالیٰ اخبارکثیرۃ (روح)
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

آپ کہیے اللہ (کہہ کر) پکارویا رحمن (کہہ کر) پکارو جس نام سے بھی پکارو اس کے اچھے ہی اچھے نام ہیں،156۔ اور آپ (جہری) نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھئے اور نہ (بالکل) چپکے ہی چپکے پڑھیے اور ان دونوں کے درمیان ایک (متوسط) طریقہ اختیار کیجیے،157۔

156۔ (تو اسے جس پاکیزہ نام سے بھی پکارو، مقصود ومطلوب وہی رہے گا) عرب میں حق تعالیٰ کے لئے اللہ کا لفظ بطور اسم ذات کے شروع سے چلا آرہا تھا۔ یہود کے ہاں اسم الرحمن کا استعمال جاری تھا۔ اسلام نے دونوں الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو بعض ” دانش مند “۔ مشرکین نے کہنا شروع کیا کہ توحید کامل کے دعوے کے ساتھ یہ دو دو خدا کیسے ؟ جواب ملا کہ دو خدا کیسے ! یہ تو صرف دونام ہیں، ہستی اور ذات تو ایک ہی ہے اور نام اس کے پاک وپاکیزہ دو کیا معنی اور بھی بہت سے ہیں۔ 157۔ جس سے نہ کوئی ضروری منفعت فوت ہونے پائے اور نہ کوئی لازمی مضرت مرتب ہونے پائے) شروع شروع میں نماز جہری میں قرآن مجید کی قرأت بلند سے مشرکین معاندین چڑتے تھے اور طرح طرح کے خرافات بکنے لگتے تھے جس سے نمازیوں کے قلب میں بھی تشویش پیدا ہوجاتی تھی، اس لئے آپ کو ہدایت کی گئی کہ نماز میں جہری میں قرآن مجید کی قرأت بلند سے مشرکین معاندین چڑتے تھے اور طرح طرح کی خرافات بکنے لگتے تھے جس سے نمازیوں کے قلب میں بھی تشویش پیدا ہوجاتی تھی، اس لئے آپ کو ہدایت کی گئی کہ نماز میں جہر صرف اس حد تک رکھیے کہ بس نمازیوں کے کان تک آواز پہنچ جائے اور ان کی تعلیم میں کمی نہ رہ جائے۔ باقی اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور آپ کہیے کہ ساری حمد اسی اللہ کے لئے ہے جو نہ اولاد رکھتا ہے،158۔ اور نہ حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے،159۔ اور نہ کوئی اس کا مددگار ہے کمزوری کی وجہ سے،160۔ اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیجیے،161۔

158۔ (جیسا کہ مسیحیوں نے اور بہت سے مشرکوں نے سمجھ رکھا ہے) 159۔ (نہ کوئی دیوی نہ دیوتا، جیسا کہ جاہلی مذہبوں نے قرار دے رکھا ہے) 160۔ (جیسا کہ بعض جاہل قوموں نے فرض کر رکھا ہے) غرض یہ کہ حق تعالیٰ کی نہ کوئی اولاد ہے، نہ کوئی اس کا شریک، سہیم و مساوی ہے، اور نہ کوئی اس کا حافظ وناصر ہے۔ شرک کی ہر ممکن صورت اس سے منتفی ہے۔ 161۔ اسی کے دین توحید کو پھیلائے، اسی کی ذات وصفات کی تبلیغ کرتے رہیے، محققین نے کہا ہے کہ عربی زبان میں مفہوم تعظیم واجلال کیلئے لفظ تکبیر سے بڑھ کر اور جامع تر کوئی لفظ نہیں اور جب اس فعل کا امر مصدر اور پھر صیغہ نکرہ کے ساتھ مؤکد ہو کر آئے تو زور اور وسعت کی انتہاہی نہیں رہ جاتی۔ والتکبیر ابلغ بلفظۃ للعرب فی معنی التعظیم والا جلال وفی الامر بذلک بعد ماتقدم مؤکدا بالمصدر المنکر من غیر تعیین اشارۃ الی انہ مما لاتسعہ العبارۃ ولا تفی بہ قوۃ البشریۃ (روح)