17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ سارے برے کام تیرے پروردگار کے نزدیک بالکل ناپسند ہیں،57۔

57۔ (اور ان کی ممانعت صراحۃ یا دلالۃ اوپر مذکورہوچ کی) (آیت) ’ مکروھا “۔ مکروہ کے معنی فعل ممنوع کے ہیں المراد من المکروہ المنھی عنہ (کبیر)
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ باتیں اس حکمت میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ پر وحی کی ہے اور اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا نہ ٹھہرا ورنہ تم جہنم میں ملامت زدہ (اور) راندہ کرکے جھونک دیا جائے گا،58۔

58۔ (اے مشرک ! ) قرآن مجید میں خطاب بار بار اور جلدجلد بدلتا ہے۔ اب خطاب مشرکین سے ہے۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

تو کیا تمہارے پروردگار نے تمہیں تو مخصوص کرلیا لڑکوں کے ساتھ اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنالیا ؟ بیشک تم (بڑی) سخت بات کہہ رہے ہو،59۔

59۔ یعنی ایک تو اللہ کا صحاب اولاد ہونا ہی کیا کم ہے اور پھر اس پر اولاد بھی اس کی محض لڑکیوں کو قرار دیتے ہو۔ جن کا انتساب خود اپنی جانب باعث ننگ وتحقیر سمجھتے ہو ! خطاب مشرکین عرب سے ہے ؛۔ جو ملائکہ کو دیویاں اور خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ اس عقیدہ پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔
Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں (مضمون توحید کو) طرح طرح بیان کیا ہے تاکہ اچھی طرح سمجھ لیں لیکن انہیں نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے،60۔

60۔ قرآن مجید کا اصلی، مرکزی، بنیادی موضوع تو ہی ہے، مذمت شرک ومدح توحید کی تکرار اور تصریحات سے قرآن مجید اسی لئے لبریز ہے کہ یہ خوب دلوں میں گھر کرجائے لیکن مشرکین کی ضد اور کج فہمی کا یہ عالم ہے کہ انہیں اور الٹی توحید سے نفرت وبیزاری ہی بڑھتی جاتی ہے !
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر اس (معبود برحق) کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے جیسا کہ یہ (مشرکین) کہتے ہیں تو اس وقت تک انہوں نے عرش والے تک راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا،61۔

61۔ (اور نوبت مقابلہ ومقاتلہ کی آگئی ہوتی، جس سے نظام عالم کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا ! آیت میں رد ان مذاہب جاہلی کا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ٰایک خدائے اعظم ہے جو عرش پر سریر آرا ہے۔ اور باقی اور دیوتا بھی بہت سے ہیں، ان کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے کہ جب کوئی اور بھی خدا ہے تو ہونے کی حیثیت سے اس کے لئے مستقلا صاحب قوت، صاحب ارادہ، خود مختار ہونا لازم ٹھہرا تو جب دو یا زاید خدا ہوئے تو ان میں ایک دوسرے کے مقابلہ میں قوت واختیار کا استعمال اور باہمی جدال و قتال لازم ٹھہرا (جیسا کہ جاہلی مذہبوں کی روایتوں میں کثرت سے آیا بھی ہے) پھر اس جدال و قتال کے بعد یہ نظم کائنات کیونکر برقرار رہ سکتا تھا ؟
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

پاک ہے، وہ (اللہ) اور کہیں برتر ہے اس سے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں،62۔

62۔ اس کی شان ربوبیت، اس کی شان الوہیت، اس کی شان حاکمیت اعلی میں کسی دیوی دیوتا کی شرکت کا گزر نہیں۔ وہ ہر ایسے انتساب سے کہیں ارفع واعلی ہے۔ !
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

اسی کی پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی بھی ان میں موجود ہیں اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو حمد کے ساتھ اس کی پاکی نہ بیان کرتی ہو البتہ تم ہی ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو،63۔ بیشک وہ بڑا حلم والا ہے بڑا مغفرت والا ہے،64۔

63۔ (اے مشرکو ! ) (آیت) ” ومن فیھن “۔ انسان، جنات، حیوان فرشتہ وغیرہ ساری ہی مخلوق اس میں آگئی۔ (آیت) ” تسبح۔ یسبح “۔ ہر ایک مخلوق اپنے خالق کی قدوسیت کا اعلان اپنے مرتبہ وجود کے متناسب ومطابق برابر کرتی رہتی ہے۔ خواہ زبان سے ہو یا زبان حال سے۔ موجودات عالم کا ذرہ ذرہ اپنے حدوث، وامکان کی بنا پر صانع مطلق کے نہ صرف وجوب وجود کی بلکہ یکتائی، صناعی قدرت کی بھی شہادت علانیہ دے رہا ہے۔ محققین عارفین نے تصریح کی ہے ( اور یہی بات دل کو بھی لگتی ہے) کہ آیت میں لفظ تسبیح اپنے عموم کے ساتھ تسبیح قالی اور حقیقی اور تسبیح حالی اور حکمی اندھا کرلیا ہے تو تمہاری سمجھ میں یہ دلالت حالی بھی نہیں آتی جو ہر مخلوق ہر وقت اپنے خالق وصناع عالم کی قدوسیت و توحید کے ثبوت میں پیش کررہی ہے ! ان الکفار ما کانوا یتفکرون فی انواع الدلائل (کبیر) 64۔ (اس لئے اگر اب بھی توبہ کرلو تو اس کی صفت غفراب بھی سارے قصور معاف کردے گی) اس کی اسی صفت حلم کا اثر ہے کہ مشرکانہ عقاید و اعمال پر فورا گرفت نہیں ہوتی بلکہ برابر مہلت ملتی رہتی ہے۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک چھپا ہوا پردہ حائل کردیتے ہیں،65۔

65۔ (اور وہ باریک پردہ عدم فہم وعدم ارادہ فہم کا ہے) مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ آخرت کے منکریا آخرت فراموش ہیں، یہ جب قرآن مجید سنتے ہیں تو بجائے اس سے متاثر ہونے کے یہ اپنے اور اس کے درمیان ایک حجاب حاجز سا محسوس کرتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قرأت القران “۔ یعنی جب آپ انہیں قرآن بغرض تبلیغ سناتے ہیں۔ (آیت) ’ جعلنا “۔ الخ۔ یہ ضمیر متکلم لاکر حق تعالیٰ کا اس فعل کا انتساب اپنی جانب کرنا تمام ترتکوینی حیثیت سے، اور بطور مسبب الاسباب کے ہے۔ جس سے اس کی رضا کو قطعا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” مستورا “۔ ایسا جو عام طور پر نظر نہ آتا ہو۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

یعنی ہم ان کے دلوں پر اس طرح سے حجاب ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دیتے ہیں،66۔ اور جب آپ قرآن میں تنہا اپنے پروردگار کا ذکر کرتے ہیں تو وہ لوگ اپنی پیٹھ پھیر کر نفرت کرتے ہوئے چل دیتے ہیں،67۔

66۔ حق تعالیٰ کے ضمیر متکلم لانے پر حاشیہ ابھی ابھی گزر چکا۔ (آیت) ” ان یفقھوہ “۔ ان یہاں نفی کے معنی دے رہا ہے۔ اے کراھۃ ان یفقھوہ (کشاف) 67۔ (کہ انہیں دلچپسی تو خدا سے نہیں بلکہ اس کے شریکوں دیویوں دیوتاؤں سے ہے) مشرک قومیں زبان سے تو خدا کا بھی اقرار کرتی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقۃ عملا ان کے قلب کا سارا تعلق جھوٹے خداؤں یعنی دیویوں دیوتاؤں سے رہتا ہے۔ اور سخت افسوس ہے کہ یہی حال مشرک صفت، مبتلائے بدعات کلمہ گوؤں کا بھی ہوگیا ہے۔ جن بزرگ سے جس کسی کو اعتقاد ہوگیا ہے بس ساری توجہ وعقیدت کا مرکز اسی کی ذات رہتی ہے اور حق تعالیٰ کے ساتھ تعلق برائے نام ہی رہ جاتا ہے۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ لوگ اسے سنتے ہیں جب یہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں،68۔ اور جس وقت یہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب کہ (یہ) ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم تو بس ایک سحرزدہ مرد کی راہ پر چل رہے ہو،69۔

68۔ (اور وہ غرض بھی عیب جوئی، اعتراض وطعن ہوتی ہے) (آیت) ” بما یستمعون بہ “۔ بہ مترادف لاجلہ بہ کے ہے۔ اے بسببہ ولا جلہ (بیضاوی) آج بڑے بڑے نامور ” مستشرقین “ کی بھی غرض قرآن پڑھنے یا اس کا ترجمہ کرنے سے بجز اپنے اسی معاندانہ شوق کے پورا کرنے کے اور کیا ہوتی ہے ؟ الا ماشاء اللہ۔ 69۔ (جو خبط مالیخولیا میں مبتلا ہے) (آیت) ” واذ ھم نجوی “۔ یعنی جب یہ قرآن سننے کے بعد آپس میں آپ کے متعلق سرگوشیاں کرتے ہیں۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

آپ دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں سو یہ گمراہ ہوگئے تو اب رستہ نہیں پاسکتے،70۔

70۔ (حق وصواب کا) یعنی قرآن کے ساتھ اور رسول کے ساتھ استہزاء کرکے انہوں نے اپنی استعداد اور صلاحیتوں کو بالکل ضائع کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت بھلا کیا ملے گی ! (آیت) ” فضلوا “۔ یعنی اب بالکل ہی گمراہ ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” کیف ضربوا لک الامثال “۔ چناچہ ان ” عقلاء “ قوم میں سے کوئی تو آپ کے لئے یہ رائے قائم کرتا کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور کوئی یہ کہتا کہ آپ ﷺ ساحر ہیں۔ کوئی روشن خیال صاحب یہ فرماتے کہ آپ ﷺ ” مجنون “۔ ہیں اور کوئی یہ گدا لگاتے کہ ہو نہ ہو آپ ﷺ کاہن ہیں۔ بیسویں صدی کے ” روشن خیال “ بھی تو کچھ ایسی ہی طبع آزمائیاں فرماتے رہتے ہیں۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہوجائیں گے تو ہم از سر نو پیدا اور جمع کئے جائیں گے،71۔

71۔ آج کے ” روشن خیالوں “ کی طرح جاہلیت عرب میں ” روشن خیالوں “ اور ماوئیین کا گروہ موجود تھا۔ جو امکان بعث وحشر کے منکر تھے۔ یہ قول انہیں کا نقل ہورہا ہے۔ (آیت) ” قالوا “ یہ وہ برسبیل انکار و استہزاء کہہ رہے ہیں۔
Ayahs 17:50–51

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا اور چیز جو تمہارے خیال میں بہت ہی بعید ہو،72۔ پھر وہ کہیں گے کہ ہم کو کون دوبارہ جلائے گا ؟ آپ کہیے کہ وہ وہی ہے جس نے تم کو اول بار پیدا کیا تھا،73۔ پھر وہ آپ کے آگے سرہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ (زندہ ہونا) ہوگا کب ؟ آپ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں یہ (وقت) قریب ہی آپہنچا ہو،74۔

72۔ (قبول حیات سے پھر بھی دو بار زندہ کئے ہی جاؤگے) ۔ یعنی اوخلقا مما یکبر عندکم عن قبول الحیوۃ ویعظم فی زعمکم علی الخالق احدا فانہ یحییۃ (کشاف) اے فافرضوا شیئا اخر بعد عن قبول الحیوۃ من الحجر والحدید (کبیر) یعنی تم ہڈیوں ہی کی حیات ثانی پر تعجب کررہے ہو۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز قبول حیات سے بعیدتر تصور کرلو، پھر بھی، بہرحال تم میں دوبارہ جان ڈالی ہی جائے گی۔ 73۔ (جب کہ تم معدوم محض تھے) یہ وہ گروہ تھا جو وجود باری کا نہیں، صرف امکان بعث وحشر کا منکر تھا۔ اسی سے جرح ہورہی ہے کہ تم جب اسے تسلیم کررہے ہو کہ صانع حقیقی کی قدرت تمہیں عدم محض سے وجود میں لے آئی، تو اب کیا اس کی قدرت اس سے سلب ہوگئی ہے جو اب وہ اس سے آسان تر چیز یعنی ایجاد معدوم کے بجائے اعادۂ معدوم پر بھی قادر نہیں رہا ہے ؟ 74۔ مطلب یہ ہوا کہ جب یہ امکان قیامت کے مسئلہ پر لاجواب ہوجائیں گے تو اب بحث یہ نکالیں گے کہ اچھا قیامت آئے گی کب ؟ (آیت) ” فسینغضون الیک رء و سھم “۔ سر کی یہ حرکت بہ طور اعراض و انکار ہوگی۔ اے یحرکون رء وسھم تکذیبا واستھزاء “ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) فسیحرکونھا تحرک تعجبا واستھزاء (کشاف) نغض کے لفظی معنی اوپر نیچے یانیچے اوپر حرکت دینے کے ہیں۔ النغض فی کلام العرب انما ھو حرکۃ بارتفاع ثم انخفاض اوانخفاض ثم ارتفاع (ابن جریر)
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

یہ اس روز ہوگا جب (اللہ) تمہیں پکارے گا سو تم اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم رہے تھے،75۔

75۔ (اس دنیا میں اور قبر کے برزخ میں) احساس کا یہ فرق اس روز کی ہیبت وہول سے پیدا ہوگا۔ مراد یہی ہوسکتی ہے کہ منکروں نے چونکہ یہاں سارا وقت سرکشی ونافرمانی میں صرف کیا، وہاں انکشاف حقائق کی گھڑی، یہ سارا وقت تمامتر ضائع شدہ اور معدوم معلوم ہوگا۔ (آیت) ” یوم یدعوکم “۔ یہ پکار فرشتہ کے ذریعہ سے میدان حشر میں جمع ہونے کہ ہوگی۔ (آیت) ’ فتستجیبون بحمدہ “۔ یعنی تعمیل ارشاد اور حمد الہی پر اپنے کو مجبور ومضطر پاؤ گے۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور آپ کہیے میرے بندوں کہ ایسی بات کہا کریں جو بہتر ہو،76۔ بیشک شیطان لوگوں میں فساد ڈلواتا ہے بیشک شیطان تو انسان کو صریح دشمن ہے ہی،77۔

76۔ (حسن اخلاق وشائستگی کے اعتبار سے) اے ولا یخائنوا المشرکین) (بیضاوی) (آیت) ” لعبادی “۔ عباد سے یہاں مراد مسلم ومطیع بندے ہیں۔ المراد بہ ال مومن ون (کبیر) آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ غیروں سے مناظرہ ومجادلہ میں حتی الامکان سب وشتم اور خشونت سے احتراز چاہیے۔ کاش ہماری مولوی صاحبان اور لیڈر صاحبان کی اکثریت اس تعلیم پر غور کرتی ! 77۔ (اس کا تو کام ہی لوگوں کو قبول حق سے دور کرنا اور باز رکھنا ہے) (آیت) ” ان الشیطن ینزغ بینھم “۔ شیطان تو مومنین مطعیین کی زبان سے ایسے پر خشونت الفاظ نکلوانے کی پوری کوشش کرے گا جو دلوں کو قبول حق سے اور دور کردیں اور غیروں میں عدوات اور قساوت اور زیادہ پیدا کردیں۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سب کا حال خوب جانتا ہے۔ وہ اگر چاہے تم پر فضل کردے اور وہی اگر چاہے تو تم کو عذاب دینے لگے اور ہم نے آپ کو ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے،78۔

78۔ (پھر آپ کو ان کے لئے اتنا زیادہ فکر مندرہنا کیا ضرور ہے) (آیت) ” ربکم اعلم بکم “۔ وہی سب سے خوب واقف ہے کہ کون کس قابل ہے۔ (آیت) ” ان یشایرحمکم “۔ اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوگی تو تمہیں توفیق ہدایت دے دے گا اور یہی تمہارے حق میں اس کا بڑا فضل ہے۔ (آیت) ” ان یشایعذبکم “۔ اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوگی تو تم سے توفیق ہدایت سلب ہوجائے گی، اور یہی تمہارے حق میں اس کا بڑا عذاب ہے۔ آیت میں ان اہل حق کیلئے تسکین کا بڑا سامان موجود ہے۔ جو اہل باطل سے مناظرہ ومذاکرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اور طبعا اس پر جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ اہل باطل کیسا حق صریح کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے راہ ہدایت پر آنے نہ آنے کی ذمہ داری جب رسول تک پر نہیں، تو آپ کے کسی بڑے یا چھوٹے نائب پر کیوں ہونے لگی !
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض (دوسرے) نبیوں پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی،79۔

79۔ (اور یہ فضیلت انہیں بہت سے دوسرے انبیاء سے ممتاز کرتی ہے) (آیت) ” وربک۔۔۔ الارض “۔ چناچہ اس نے ہر ایک کے حسب استعداد اور اپنے حسب مصلحت سب کو ایک ایک مقام اور درجہ پر رکھا۔ (آیت) ” ولقد۔۔۔ بعض “۔ پھر اگر ایک نبی سارے انبیاء کے کمالات کا جامع پیدا ہوگیا تو اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے (آیت) ” واتینا داؤد زبورا “۔ داؤد پیغمبر پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ زبور (تنکیر تنوین کے ساتھ) ہر کتاب عظیم کیلئے عام ہے۔ وکل کتاب غلیظ الکتابۃ یقال لہ زبور (راغب) فکان معناہ الکتب (کبیر) الزبور (بہ طور علم کے) وہ کتاب ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) نبی پر نازل ہوئی تھی۔ وخص الزبور بالکتب المنزل علی داؤد (علیہ السلام) (راغب) بعض نے زبور کی تنکیر سے اس کی تعظیم اور کاملیت کے معنی پیدا کئے ہیں۔ التنکیر ھھنا یدل علی تعظیم حالہ (کبیر) کان معنی التنکیر انہ کامل فی کونہ کتابا (کبیر)
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

آپ کہیے تم جن کو اللہ کے سوا (معبود) قرار دے رہے ہو ذرا ان کو پکاروتو سہی سو وہ نہ تم سے تکلیف دور ہی کرسکتے ہیں اور نہ (اسے) بدل سکتے ہیں،80۔

80۔ یعنی تمہارے دیوی دیوتا جن پر تم اتنا سہارا لگائے بیٹھے ہو، یہ اتنا بھی تو نہیں کرسکتے کہ تم سے کسی تکلیف کو دفع کردیں یا یہ کہ اس کی شدت میں خفت ہی پیدا کردیں !
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو یہ (مشرکین) پکار رہے ہیں (خودہی) اپنے پروردگار کا قرب ڈھونڈ رہے ہیں کہ (دیکھیں) ان میں کون زیادہ مرب بنتا ہے،81۔ اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک آپ کے پروردگار کا عذاب ہے بھی ڈرنے ہی کے قابل،82۔

81۔ یعنی خود ہی طاعت و عبادت کے ذریعہ سے اللہ کا قرب اور قرب مزید ڈھونڈر ہے ہیں۔ مراد یہاں ملائکہ وجنات اور بعض انبیاء لیے گئے ہیں جنہیں مشرکوں اور مبتلائے شرک اہل کتاب نے درجہ الوہیت دے رکھا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ بندگان صالح تو اپنے کمال عبدیت و عبودیت کی بناء پر خود ہی ہر طرح تلاش قرب وقرب مزید میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” الوسیلۃ “۔ وسیلۃ کے معنی قرب کے ہیں اور یہی یہاں بھی صحابہ، تابعین اور اکابر مفسرین سے مروی ہیں۔ الوسیلۃ القربۃ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ القربۃ والزلفی (ابن جریر۔ عن قتادۃ) القربۃ والزلفۃ (ابن جریر) 82۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ تمام گڑھے ہوئے خدا خود ہی ہر طرح محتاج ہیں اور معبودیت کی صلاحیت سے بالکل عاری۔ (آیت) ’ ویخافون عذابہ “۔ یعنی نافرمانی کی صورت میں اس کے عذاب سے بھی ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم روز قیامت سے قبل (یا) ہلاک نہ کردیں یا اس کے رہنے والوں کو عذاب شدید نہ دیں،83۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا (موجود) ہے،84۔

83۔ (قیامت کے دن) یعنی کوئی کافر اگر یہاں بچ بھی گیا تو قیامت کے دن تو بہرحال عذاب شدید سے نہیں بچ سکتا۔ (آیت) ” وان من قریۃ “۔ بستیوں سے کافروں اور معاندین حق کی آبادیاں مراد ہیں۔ قیل المراد قری الکفار (کبیر) (آیت) ” الا نحن مھلکوھا “۔ اھلاک سے یہاں مراد اہلاک بالعذاب ہے ورنہ نفس موت وہلاکت تو طبعی اسباب سے مومن و کافر سب کی ہوتی رہتی ہے :۔ 84۔ یعنی ہر کافر کے معذب ہونے کی (وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں) صراحت لوح محفوظ میں پہلے ہی سے درج ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد علم الہی کی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔ اے الکتاب الذی کتب فیہ کل ما ھو کائن وھو اللوح المحفوظ (ابن جریر)
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم کو معجزات (خاص) کے بھیجنے سے بس یہی امر مانع ہوا کہ پہلے لوگ ان کی تکذیب کرچکے ہیں،85۔ اور ہم نے (قوم) ثمود کو اونٹنی دی تھی بصیرت کے ذریعہ کے طور پر لیکن انہوں نے (بڑا) ظلم اس کے ساتھ کیا،86۔ اور ہم (ایسے) معجزات کو ڈرانے ہی کے موقع بھیجا کرتے ہیں،87۔

85۔ یعنی یہ موجودہ منکرین جو فلاں فلاں مخصوص و متعین معجزوں کی فرمائش کررہے ہیں ان معجزات کے نزول سے امر مانع بس یہ ہوا کہ ایسے فرمائشی معجزات پہلے، ایسے ہی منکرین کے اصرار پر نازل کئے جاچکے ہیں، لیکن وہ سب بےاثر رہے۔ (آیت) ” بالایت “۔ ایت سے مراد منکرین کے طلب کئے ہوئے، فرمائش معجزات ہیں۔ الایات التی اقترحھا قریش (بیضاوی) 86۔ یعنی اس سے بصیرت تو کچھ نہ حاصل کی بلکہ اور الٹا ظلم کرکے اسے مار ہی ڈالا (آیت) ” مبصرۃ “۔ کے معنی ایک تو خود روشن چیز کے ہیں، اور دوسرے اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس سے دوسری چیزوں پر روشنی پڑے۔ اے ذات بصیرۃ یبصرھا الغیر ویبصربھا (روح) (آیت) ” فظلموا بھا “۔ کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اس کے ساتھ کفر کیا اور یہ بھی کہ اس کے باعث اوپربڑا ظلم کیا۔ اے فکفروابھا اوفظلموا انفسھم بسبب عقرھا (بیضاوی) 87۔ (اور جب قوم ان پر بھی ایمان نہیں لاتی، تو بس معا عذاب الہی کی گرفت میں آجاتی ہے) (آیت) ” بالایت “۔ ایت سے مراد وہی فرمائشی معجزات ہیں۔ اے بالایت المقترحۃ (بیضاوی)
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کیجیے) جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے پروردگار نے تمام لوگوں کو گھیر کر رکھا ہے،88۔ اور ہم نے جو منظر آپ کو دکھلایا تھا اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کا سبب بنادیا،89۔ اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت آئی ہے،90۔ اور ہم لوگوں کو ڈراتے تو رہتے ہیں لیکن ان کی بڑی سرکشی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے،91۔

88۔ (اپنے احاطہ علم سے) حق تعالیٰ کی احاطت علمی اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ خدائے اسلام مشرکوں کے خدا کی طرح محدود علم والا نہیں۔ اسے بندوں کے سارے حالات کا علم ہے ان کے حال کا بھی، استقبال کا بھی۔ اے علما کما رواہ غیر واحد عن ابن عباس ؓ (روح) 89۔ اشارہ اس واقعہ اسراء یا معراج کی جانب ہے، جس کا ذکر سورة کے بالکل شروع میں آچکا ہے۔ یعنی وہ عجائب قدرت جو ہم نے آپ کو شباشب کے سفر بیت المقدس میں دکھا دیئے تھے۔ وھی مارای فی لیلۃ الاسراء من العجائب (بحر) المراد بھا ما اراہ اللہ تعالیٰ لیلۃ الاسراء وھو قول اکثر المفسرین (کبیر) المراد بالرؤیا ما عانیہ ﷺ لیلۃ اسری بی من العجائب السماویۃ والارضیۃ کما اخرجہ البخاری والترمذی والنسائی وجماعۃ عن ابن عباس ؓ (روح) (آیت) ” الرء یا “۔ رؤیا کے عام معنی تو خواب ہی کے ہیں۔ الرؤیا ما یری فی المنام (راغب) والمشھور اختصاصھا لفۃ بالمنامیۃ وبذلک تمسک من زعم ان الاسراء کان مناما (روح) الرویا مارایتہ فی منامک (قاموس۔ لسان) لیکن رویت مطلق بھی اس سے مراد ہوسکتی ہے۔ جس کے تحت میں چشم بیداری کے منظر بھی آجاتے ہیں اور جمہور کے خیال میں وہی یہاں مراد ہیں۔ وھی عند کثیر بمعنی الرویۃ مطلقا (روح) قال الجمھورھی رؤیا عین ویقظۃ (بحر) (آیت) ” فتنۃ للناس “۔ یعنی کسی نے تصدیق کیا، اور کسی نے خارق عادت جان کر تکذیب کی ، 90۔ یعنی شجر زقوم جو دوزخ میں ہوگا۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم، طلعھا کانہ رء وس الشیاطین۔ روی عن ابن عباس والحسن والسدی وابراھیم و سعید بن جبیر و مجاھد وقتادۃ والضحاک انہ اراد شجرۃ الزقوم (جصاص) والمراد بھا کما روی البخاری وخلق کثیر عن ابن عباس شجرۃ الزقوم (روح) (آیت) ” الملعونۃ “۔ لعنت سے مراد ہے مذمت، العرب تقول لکل طعام مکروہ ضارانہ ملعون (کبیر) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملعون سے مراد اس کا ثمر ملعون ہے یا وہ معلون کافر ہیں جو اس پھل کو کھائیں گے۔ (آیت) ” فاراد انہ ملعون اکلھا (جصاص) المراد لعن الکفار الذین یاکلونھا (کبیر) والمراد یلعنھا لعن طاعمھا من الکفرۃ (روح) 91۔ چناچہ 2 محمدی کی پہلی صدی کے بڑے روشن خیال ابوجہل نے (ٹھیک آج کے ” روشن خیالوں “ کے انداز میں) شجر زقوم کا ذکر سن کر تمسخر و استہزاء کے لہجہ میں کہا تھا کہ آگ کے شعلوں کے درمیان کوئی درخت رہ کیسے سکتا ہے ؟۔ گویا عالم آخرت اور جہنم کے قوانین طبعی بھی بالکل عالم ناسوت کے قوانین کی نقل ہوں گے ! (آیت) ’ ونخوفھم “۔ یعنی انہیں آیات و احکام قرآنی کے ذریعہ سے ہم ڈراتے رہتے ہیں۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے آگے جھکو سو وہ (سب) جھکے ہاں ابلیس نہ جھکا وہ بولا کہ کیا میں اس کے آگے جھکوں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟ ،92۔

92۔ (درآنحالیکہ مٹی کا بنا ہوا مخلوق مجھ سے جیسے آتشیں مخلوق سے کہیں پست ہوتا ہے) اس ابلیسی منطق کی پردہ دری ان تفسیری حاشیوں میں بیشتر کی جاچکی ہے۔ اس کے استدلال منطقیانہ کے صضری کبری دونوں غلط ہیں۔ نہ تو یہی ثابت ہے کہ مٹی ہر حال میں آگ سے پست تر ہے اور نہ یہ مسلم ہے کہ افضل ہے کسی حال میں بھی غیر افضل کے آگے نہ جھکے ! (آیت) ” اذقلنا للمآئکۃ ملائکہ جو افضل ترین مخلوق اس وقت تک تھے ان کے ضمن میں دوسری مخلوق کا بھی آجانا۔ (آیت) ” اسجدوا “۔ سجدہ سے یہاں لغوی نہ کہ اصطلاحی معنی کا مراد لیاجانا۔ (آیت) ” لادم “۔ آدم کا کعبۃ اللہ کی طرح صرف سمت سجدہ ہونا نہ کہ مسجود ہونا۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ابلیس کا مخلوق ناری وجنی ہونا، ان سب پر مفصل حاشیے سورة البقرۃ وسورۃ الاعراف میں گزر چکے۔
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

(اور) وہ بولا بھلا دیکھ تو یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فوقیت دے رکھی ہے اگر تو نے مجھے مہلت دے دی روز قیامت تک تو میں اس کی (ساری) اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا بجز ایک قدرے قلیل (گروہ کے) ،93۔

93۔ (اور وہ گروہ مومنین مخلصین کا ہے) یہ ساری گفتگو اس وقت کی ہے، جب ابلیس نافرمانی کی پاداش میں مردود ومطر ود ہوچکا ہے۔ اسی لئے اس کے آغاز میں یہ جتانے کو کہ یہ مستقل کلام ہے لفظ قال الگ آیا ہے۔ حالانکہ اوپر سے بھی قول ابلیس ہی کا چلاآرہا ہے۔ (آیت) ” لئن اخرتن الی یوم القیمۃ “۔ ابلیس اس کی درخواست کرچکا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ درخواست منظور ہوجائے گی، (آیت) ” لاحتنکن۔۔ قلیلا “۔ انسان کی جسمانی ساخت اور دماغی ترکیب پر نظر کر کے شیطان اپنی فراست سے ابتداہی میں سمجھ گیا تھا کہ میں اپنی کوشش اغوا واضلال میں کامیاب ہوجاوں گا۔ (آیت) ” لاحتنکن “۔ حنک کے معنی پوری طرح چھا جانے اور چھاپ بیٹھنے کے ہیں۔ عبارۃ عن الاخذ بالکلیۃ (کبیر) تفسیر احتواء استیلاء یعنی اپنے ڈھب میں کرلینے ان کے اوپر چھا جانے سے آتی ہے۔ اور اہلاک واستیصال سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اے لاستولین (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اے لاحتوینھم (ابن جریر۔ عن مجاہد) لاستاصلنھم بالاغواء (کبیر)
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

ارشاد ہوا چل نکل، جو کوئی بھی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا سو بیشک تم (سب) کے لئے سزائے جہنم سزا ہے پوری،94۔

94۔ (تو چاہیے کہ اس سزا کو سن کر اب تو اہل باطل اپنے دلوں میں ڈریں) (آیت) ” جزآؤ کم “۔ کم کے صیغہ جمع میں شیطان خود اور اس کے سارے پیرو آگئے۔ اے جزاءک وجزاء ھم (روح) فاذھب۔ ذھاب سے یہاں مراد پیروں سے جانا (” آنے “ کے مقابل) نہیں۔ بلکہ محاورہ میں مراد یہ ہے کہ جا، جو کچھ تیرے بس میں ہے کہ دیکھ۔ وھذا لیس من الذھاب الذی ھو نقیض المجیء وانما معناہ امضی الشانک الذی اخترتہ والمقصود التخلیۃ وتفویض الامر الیہ (کبیر) لیس المراد بہ حقیقۃ الامر بالذھاب ضد المجیء بل المراد تخلیۃ، وما سولتہ نفسہ اھانۃ لہ کماتقول لمن یخالفک افعل ما ترید (روح)
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے تو اپنی پکار سے اس کا قدم اکھاڑ دیکھ اور ان پر اپنے سوار اور پیدادے چڑھا لا اور ان سے اپنا ساجھا کرلے مال اور اولاد میں اور ان سے وعدہ کرلے (خوب جھوٹے جھوٹے) اور شیطان تو ان سے بس جھوٹے ہی وعدے کرتا ہے،95۔

95۔ (تو چاہیے کہ انسان اب اس کے ہتھکنڈوں کو سمجھ کر اس کے دام میں پھنسنے سے باز رہے) (آیت) ” بصوتک “۔ یعنی اپنے اغواء اور وسوسہ اندازی سے اپنے مخفی پروپیگنڈے سے۔ صوت کا خاص تعلق گانے اور کھیل تماشہ کی آواز سے بھی سمجھا گیا ہے۔ روی عن مجاھد انہ الغناء واللھو (جصاص) قیل اراد بصوتک الغناء واللھو (جصاص) قیل اراد بصوتک الغناء واللھو واللعب (کبیر) یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو آواز بھی معصیت وفسق کی جانب لائے یا بلائے وہ سب شیطان ہی کی آواز ہے۔ قال ابن عباس ؓ ھو الصوت الذی یدعوابہ الی معصیۃ وکل صوت دعی بہ الی النساء فھومن صوت الشیطان (جصاص) وصوتہ دعاء ہ الی مصیۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” واجلب علیھم بخیلک ورجلک “۔ یعنی ان پر تو اپنا حملہ ہر طرح کر دیکھا۔ خیل اور رجل کے لفظی معنی مقصود نہیں بلکہ محاورہ میں ان سے مراد مطلق لشکر سے ہوتی ہے المراد منہ ضرب المثل کماتقول للرجل المجد فی الامر جئتنا بخیلک ورجلک ورجلک وھذا الوجہ اقرط (کبیر) گو اگر کوئی یہی سمجھے کہ شیطان سوار ہو کر بھی آتا ہے تو اس کیا انتفاء پر بھی کوئی دلیل نہیں، یہ تفسیر بھی صحابہ وتابعین سے منقول ہے کہ دنیا میں جو سوار اور جو پیادے بھی معصیت کی راہ میں چلتے ہوئے ملیں، یہ سب شیطان ہی کے سوار اور پیادے ہیں۔ روی عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ کل راجل اوماش الی معصیۃ اللہ من الانس والجن فھو من رجل الشیطان وخیلہ (جصاص) فعلی ھذا التقدیر خیلہ ورجلہ کل من شار کہ فی الدعاء الی المعصیۃ (کبیر) (آیت) ” وشارکھم فی الاموال والاولاد “۔ یعنی ان کے مال اور اولاد کو بھی ذریعہ گمراہی بنا دیکھ۔ (آیت) ” وعدھم “۔ یعنی ان کو جھوٹے وعدوں کے خوب سبز باغ دکھا۔ مثلا یہی کہ فلاں فلاں بات سے کوئی گناہ نہ ہوگا یا یہ کہ ابھی گناہ کرتے ہو تو بےکھٹکے کرتے رہو، بس مرتے وقت توبہ کرلینا۔ پروپیگنڈے کے فن کا تو شیطان استاد اعظم ہے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

بیشک جو میرے (خاص) بندے ہیں ان پر تیرا ذرا قابو نہ چلے گا اور آپ کا پروردگار ہی کافی کارساز ہے،96۔

96۔ (تو ایسوں کو فکر وتردد ہی کیا، بس وہ اپنا تعلق عبدیت ہمارے ساتھ جوڑے رکھیں، ہم خود ہی ان کی ہر حفاظت شیطان کے حملوں سے کرتے رہیں گے اس مردود میں قوت ہی کتنی ہے) آیت سے ضمنا ان مذاہب کی بھی تردید ہوگئی جنہوں نے شیطان کو بھی خدا ہی کی طرح قوت و طاقت کا مستقل مالک سمجھا، اور اہرمن نام دے کر اسے بدی کا خدا مانا ہے۔ (آیت) ” ان۔۔۔ سلطن “۔ مومنین مخلصین کی تسکین و تسلی کیلئے ایک بار پھر اس حقیقت کی وضاحت کردی گئی کہ ڈرنے کے قابل تو صرف خالق ومالک کی نافرمانی ہے، شیطان مردود میں قوت ہی کتنی ہے۔ (آیت) ” عبادی “۔ یعنی وہ بندے جو اپنے تعلق عبدیت کو اللہ کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ المراد اھل العقل والعلم والایمان (کبیر) عباد کی اضافت جو ضمیر متکلم حق تعالیٰ کی جانب ہے، بندوں کی عزت افزائی کیلئے ہے۔ الاضافۃ للتعظیم (روح)
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو وہی ہے جو تمہارے لئے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو بیشک وہ تمہارے حق میں بڑی رحمت والا ہے،97۔

97۔ (چنانچہ یہ سامان بھی تمہارے نفع و آسائش کیلئے کردیا ہے) (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی تجارت بحری سے نفع کرو۔ بحری تجارت کا اگر وجوب نہیں تو استحسان تو اس آیت سے صاف نکل رہا ہے۔ بحری تجارت کا تعلق ذاتی ثروت اور ملی خوشحالی دونوں سے بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو جنہیں تم پکارا کرتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں بجز اللہ کے پھر جب وہ تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم (پھر) پھرجاتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے،98۔

98۔ (کہ ایسی جلدی منعم کا انعام و احسان اور اپنا عجز والحاح سب بھول جاتا ہے) (آیت) ” ضل من تدعون “۔ یعنی وہ دیوی دیوتا جن پر تمہیں اتنا بھروسہ ہوتا ہے۔ اور جنہیں مدد کے لیے پکارتے رہتے ہو، سب گئے گزرے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کام نہیں آتا۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ تم کو خشکی کی طرف لاکر زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی تند ہوا بھیج دے تو تم کسی کو (بھی) اپنا کارساز نہ پاؤ،99۔

99۔ یعنی ایسا جو اللہ کے مقابلہ میں تمہاری حمایت ونصرت کچھ اور کسی درجہ میں بھی کرسکے (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “۔ ایسی تند ہوا یا طوفانی آندھی چلا دے یا تم پر کنکر پتھر برسا دے۔ (آیت) ” افامنتم۔۔۔ حاصبا “۔ یعنی یہ تمہاری کیسی غفلت ونادانی ہے کہ تم خدا کو شاید صرف سمندرہی پر قادر سمجھتے ہو، یہ خیال نہیں کرتے کہ عذاب الہی کا خشکی میں بھی تو ہر وقت آجانا ممکن ہے، خواہ نیچے سے یا اوپر سے۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

کیا تم اس سے کھٹکے ہوگئے کہ وہ تمہیں ایک بار پھر اسی (یعنی سمندر کی) طرف لے جائے اور تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کردے اور تم کو اس بات پر ہمارا کوئی پیچھا کرنے والا نہ ملے،100۔

100۔ یعنی تمہارے اس غرقابی پر ہم سے نہ بدلہ لے سکے نہ کوئی باز پرس کرسکے۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے،101۔ اور ہم نے انہیں خشکی اور دریا (دونوں) میں سوار کیا اور ہم نے ان کو نفیس چیزیں عطا کیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر بڑی فضیلت دی ہے،102۔

101۔ (اور اسے ایک معزز مخلوق بنایا ہے) بعض ادیان باطل خصوصا یہودیت ونصرانیت کی طرح اسلام کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ انسان ایک ذلیل ترین مخلوق ہے، جسے پید اکرکے اس کا خالق خود پچھتایا ! ملاحظہ ہوتوریت :۔” اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال روز بروز صرف بد ہی ہوتے ہیں۔ تب خداوند زمین پر انسان کے پیدا کرنے سے پچھتایا اور نہایت دلگیر ہوا۔ اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔ انسان کو بھی اور حیوان کو بھی اور کیڑے مکوڑے اور آسمان کے پرندوں تک، کیونکہ میں ان کے بنانے سے پچھتاتا ہوں “۔ (پیدائش۔ 6: 6) آیت نے یہ بات صاف کردی کہ خلقۃ وفطرۃ ہر انسان معزز ومکرم ہی بنا کر دنیا میں بھیجا جاتا ہے اور اب یہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ کفر ومعصیت کی راہ اختیار کرکے اپنے انتہائی پستیوں میں ڈال دے۔ امام شافعی (رح) نے یہیں سے یہ استدلال کیا ہے کہ آدمی موت سے نجس نہیں ہوجاتا۔ ولذا استدل الامام الشافعی بالایۃ علی عدم نجاسۃ الادمی بالموت (روح) 102۔ انسان بجائے خود ایک معزز ومکرم ہستی ہے۔ اور بیشتر مخلوقات سے افضل، یہ تو نص قرآنی ہی سے ثابت ہوگیا، لیکن بعض نے کثیر کو کل کے معنی میں لے کر انسان کو حق تعالیٰ کی افضل ترین مخلوق ہونے پر بھی استدلال کیا ہے۔ (آیت) ” حملنھم فی البر والبحر “۔ یعنی جانوروں پر اور کشتیوں پر دونوں پر سوار کرایا اور جاندار وبے جان دونوں طرح کی سواریاں اسے عنایت کیں۔ الفاظ قرآنی کا عموم جاندار اور بےجان، ہر قسم کی سواری، ہر قسم کے مشینی آلہ نقل و حرکت موٹر، لاری، ریل موٹر کشتی، دخانی جہاز وغیرہ سب کو شامل ہے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

یاد رکھو) وہ دن جب ہم تمام انسانوں کو ان کے نامہ اعمال سمیت بلائیں گے،103۔ سو جس کسی کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں ملے گا سو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال پڑھنے لگیں گے اور ان کا نقصان ذرہ بھر بھی نہ کیا جائے گا،104۔

103۔ (میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے) امام کی تشریح یہاں عام طور پر یہی سمجھی گئی ہے۔ الامام ماعمل واملی فکتب علیہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اے بکتابھم الذی فیہ اعمالھم (ابن جریر، عن الحسن) قال ابن عباس والحسن والضحاک امامہ کتاب عملہ (جصاص) لیکن دوسرے معنی یہ بھی اکابر ہی سے مروی ہیں کہ انسان گروہ در گروہ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں یا اپنے زمانہ کے انبیاء کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ قال مجاھد وقتادۃ امامہ نبیہ (جصاص) قال ابوعبیدۃ بمن کانوا یاتمون بہ فی الدنیا (جصاص) اور امام ابن جریر نے ترجیح اسی دوسرے مفہوم کو دی ہے۔ فان الاغلب من استعمال العرب الامام فی ما ائتم واقتدی بہ (ابن جریر) ۔ 104۔ یعنی ان کے ایمان و اعمال کے اجر میں کمی ذرا بھی نہ کی جائے گی چاہے زیادتی جتنی بھی کردی جائے (آیت) ” فمن۔۔۔ کتبھم “۔ حدیث میں تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ میدان حشر میں لوگوں کے نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں اڑ اڑ کر پہنچیں گے۔ جنتی کے داہنے ہاتھ میں اور جہنمی کے بائیں ہاتھ میں۔ تو داہنے ہاتھ میں پانے والے جلدی جلدی انہیں پڑھنے ہی لگیں گے خوش ہو کر کہ اب پروانہ مغفرت تو مل ہی گیا۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی اس (دنیا) میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور راہ سے بالکل بھٹکا ہوا،105۔

105۔ یہاں ایک بار اور اس حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے کہ حشر میں جو کچھ بھی ہوگا، اسی دنیا ہی کے اعمال کا پورا ظہور اور صرف نتائج وثمرات کا تحقق ہوگا۔ کوئی اور نئی بات نہ ہوگی۔ آخرت ناسوت ہی کے تکملہ کا نام ہے۔ (آیت) ” ومن کان فی ھذہ اعمی “۔ یعنی جو کوئی اس دارالعمل میں اپنی آنکھیں راہ نجات کی طرف سے اندھی رکھے گا۔ (آیت) ” فھو فی الاخرۃ اعمی “۔ سو ایسا شخص دارالجزاء میں جمال حق کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور یہ (کافر) آپ کو اس سے بچلایا ہی چاہتے تھے جو ہم آپ پر وحی کرچکے ہیں تاکہ آپ اس (حکم وحی) کے سوا ہم پر کوئی بات گڑھ لیں اور وہ اس حالت میں آپ کو گاڑھا دوست بنالیتے،106۔

106۔ (گو اس صورت میں آپ حمایت الہی ونصرت الہی کے دمن سے نکل جاتے) روایتیں اپنی تفصیلات میں مختلف ہیں، لیکن اتنا جزء سب میں مشترک ہے کہ قبیلہ بنی ثقیف یا کہیں اور کے کچھ کافروں نے آکر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ فلاں فلاں احکام میں ہمارے لیے تخفیف کردیں تو ہم ابھی مسلمان ہوئے جاتے ہیں۔ آپ کو ان کے ایمان کی طمع سے خیال کچھ ایسا ہی پیدا ہوچلا تھا کہ اتنے میں نزول وحی نے فیصلہ ان کے برخلاف صادر کردیا۔
Ayah 17:74

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ قریب تھا کہ ان کی طرف قدرے قلیل جھک چلتے،107۔

107۔ (اس لیے کہ وہ طمع ایمان لانے کی دلا رہے تھے۔ اور آپ اس کے حریص ہیں) (آیت) ” لولاان ثبتنک “۔ خطاب نبی معصوم سے ہورہا ہے کہ اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا۔ لیکن ثابت قدم کیسے نہ رکھا ہوتا۔ یہ ثابت قدمی تو فرع ہے معصومیت کی، اور معصومیت لازمہ نبوت ہے۔ (آیت) ” لقد کدت۔۔۔ قلیلا “۔ بعض نے آیت کو کسی درجہ میں قادح عصمت سمجھا ہے۔ حالانکہ آیت کے الفاظ اس کے عکس پر دلالت کررہے ہیں۔ آپ کا رکون (جھکاؤ) اول تو ہوا ہی نہیں۔ صرف قرب رکون (کدت ترکن) مذکور ہے اور وہ بھی صرف مرتبہ اولین (آیت) ” شیئا قلیلا “۔ کے لحاظ سے۔ گویا رکون ہی نہیں صرف وسوسۂ رکون ! اور پھر وہ بھی ہونے کہاں پایا ؟ (آیت) ” لولاان ثبتنک “۔ کی زنجیر عصمت نے اتنا بھی ہلنے کا موقع کب دیا ؟ غرض یہ کہ یہ ارشاد الہی بطور الزام نہیں بلکہ یہ تو آپکی صرف کمال حرص ایمانی کا مظہر ہے، اور بہ قول مفسر تھانوی (رح) ” یہ ارشاد عتاب نہیں بلکہ اظہار محبوبیت ہے کہ آپ ایسے محبوب ہیں کہ ہم نے رکون قلیل کے قرب سے بھی آپ کو بچا لیا “۔ فقہاء نے آیت سے متعدد مسئلوں کا استنباط کیا ہے، مثلا یہ کہ (1) شرذریعہ خیر نہیں بن سکتا خیر کے ذرائع ووسائل کو بھی خیر ہی ہونا چاہیے۔ (2) احکام شریعت کسی قیمت پر بھی نرم نہیں کیے جاسکتے ورنہ شریعت خداوندی کا مصلحت انسانی کے تابع ہوجانا لازم آتا ہے۔ (3) ارتکاب شر بشر ہی کی شامت سے ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا تم جھکنے کے قریب تھے (آیت) ” لقد کدت ترکن الیھم (4) توفیق خیر حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہم نے ثابت قدم رکھا (آیت) ” ثبتنک “۔ (5) انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ ان کا محافظ رہتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اس باب میں نص ہے کہ حضرات انبیاء کا بھی محافظ حق تعالیٰ ہی ہے۔ محض ان کی قوت قدسیہ کافی نہیں تو دوسروں کو اپنی محفوظیت اور اپنی نسبت باطن کی قوت پر کب اعتماد ہوسکتا ہے، جب کہ ان کی خود نسبت ہی کے وجود میں گفتگو کی گنجائش ہے۔
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس حالت میں ہم آپ کو دوگنا عذاب چکھاتے زندگی میں بھی اور (بعد) موت بھی پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کسی کو بھی مددگار نہ پاتے،108۔

108۔ (مگر آپ چونکہ معصوم ہیں اور ثابت قدم رہے اس لیے قرب میلان بھی نہیں ہوا۔ اور ان وعیدوں سے بھی بالکل بچ گئے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ علماء و خواص پر جاہل عوام سے سخت تر گرفت ہوگی، مباح ان کی شان سے بعید اور مکروہ ان کے حق میں سزا واروعید ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” اذا یعنی اگر اس میلان ورجحان کا ترتب وتحقق ہوجاتا جو کہ نہیں ہوا۔ وہ صورت حال اگر ہوجاتی جس کی ابھی نفی کی جاچکی ہے۔ اردو مصرعہ ” جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے “ اور فارسی مقولہ ” نزدیکاں رابیش بود حیرانی “ ان ہی مقامات کے ترجمان ہیں۔ رسول کا مرتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے، اسی نسبت سے گرفت بھی سخت تر رکھی گئی ہے۔ والسبب فی تضعیف ھذا العذاب ان اقسام نعم اللہ تعالیٰ فی حق الانبیاء (علیہ السلام) اکثر فکانت ذنوبھم اعظم فکانت العقوبۃ المستحقۃ علیھا اکثر (کبیر)
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ (کافر) اس سرزمین سے آپ کے قدم اکھیڑ دیں تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں اور اس حالت میں یہ بھی آپ کے بعد بہت کم ٹھہرنے پاتے،109۔

109۔ یعنی انہیں بھی مہلت نہ ملنے پاتی، اور یہ بھی زمانہ قریب میں عذاب الہی کی گرفت میں آجاتے (آیت) ” وان۔۔ من الارض “۔ ملک عرب میں آپ کے قدم اکھیڑ دینا خواہ جبر سے ہوتا یا مکر سے۔ بعض نے یہاں کافروں سے مراد یہود سے لی ہے۔ انہوں نے آپ سے کہنا شروع کیا تھا کہ انبیاء کی سرزمین تو شام ہے، یہ آپ حجاز میں کیسے پڑے ہوئے ہیں۔ وہیں چلے جائیے۔ اور بعض نے مراد قریش سے لی ہے کہ وہی مکہ معظمہ سے آپ کے اخراج کے درپے تھے۔ بہرحال وہ مخالفین معاندین میں سے خواہ مشرکین خواہ یہود، دیکھا تو یہ گیا، اور یہ کوئی بہت بڑی مدت کے بعد نہیں، چند ہی سال کے اندر، کہ سارے جزیرۃ العرب میں اس سرے سے اس سرے تک نہ کوئی مشرک رہ گیا نہ یہودی۔ سب کے سب امی محمد کی رسالت کے کلمہ پڑھنے والی والے رہ گئے۔ (آیت) ” اذا “۔ یعنی اگر ایسا کافروں کے حسب خواہش واقع ہوگیا ہوتا، جو نہیں ہوا۔ (آیت) ” خلفک “۔ خلاف یہاں بعد کے معنی میں ہے۔ اے بعدک (روح) زعم الاخفش ان خلفک فی معنی خلفک (کبیر) 110۔ یعنی جب ان کی قوم نے ان پیغمبروں برحق کو اپنے اور ان کے وطن سے نکال دیا، تو خود ان منکروں کو بھی چین سے رہنا نصیب نہ ہوا۔ (آیت) ” سنۃ “۔ جملہ کی ترکیب مقدر یوں سمجھی گئی ہے۔ سن اللہ ذلک سنۃ اور سنۃ کا نصب مصدر تاکیدی کا نصب مانا گیا ہے نصبت المصدر المؤکد اے سن اللہ ذلک سنۃ (کشاف)
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جیسا کہ ہمارا) دستور ان کے باب میں رہا ہے جنہیں آپ کے قب ہم نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا،110۔ اور آپ ہمارے (اس) دستور میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے،111۔

111۔ یعنی صابرین مطیعین کی مدد ونصرت اور منکرین کی مغلوبی وپامالی تو ہماری قطعی قانون ہے۔ آپ اس باب میں کوئی شک وتردد لائیں ہی نہیں۔ (آیت) ” لسنتنا “۔ یہ سنت ہے سنت الہی ہی، جیسا کہ اس جزء میں بالکل صاف ارشاد ہوا ہے اور اس کے قبل جو (آیت) ” سنۃ “ کی اضافت (آیت) ” رسلنا “۔ کے ساتھ آئی ہے تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ یہ سنت الہی رسولوں کے باب میں ہے۔ فالسنۃ للہ عزوجل واضیفت للرسل (علیہ السلام) لانھا سنۃ لاجلھم (روح)