Ayah 15:8169۔ یعنی ہمارے رسولوں نے معجزات و دلائل ہر طرح کے پیش کر کرکے انہیں راہ راست پر لانا چاہا، لیکن وہ برابر ہٹ اور انکار ہی پر قائم رہے :۔
Ayah 15:8270۔ (ہر قسم کی سختیوں اور تکلیفوں سے محفوظ ہوکر) قوم ثمود بڑی صناع قوم تھی۔ ہر قسم کے انجینئر اور ماہرین ریاضیات وتعمیرات ان میں موجود تھے۔ قوم ثمود پر حاشیے سورة الاعراف میں گزر چکے۔
Ayah 15:8371۔ (اور ساری قوم زلزلہ سے ہلاک ہو کر رہ گئی)
Ayah 15:8472۔ یعنی ان کے دنیوی علوم وفنون، ان کی ہنر مندی اور صناعیاں، ان کی ہندسہ دانی اور انجینئری، کوئی چیز بھی انہیں خدائی قانون کی گرفت سے پناہ نہ دے سکی۔
Ayah 15:8573۔ (ان کی شرارتوں سے۔ اور ان کا فیصلہ ہمارے اوپر حشر میں چھوڑے رہیے) اب خطاب درمیان میں پھر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوگیا ہے (آیت) ” وما خلقنا۔۔ بالحق “۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ عقلوں کو دنگ کردینے والا اور دماغوں کو چکر میں لے آنے والا عظیم الشان نظام کائنات، آسمان و زمین، سورج اور چاند، یوں ہی بےمقصد اور خود بخود نہیں، یہ سب ایک حکیمانہ نظم کے ماتحت ایک متعین مقصود کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور وہ منزل آخرت کی ہے جب سب کا حساب کتاب، امتحان یقینی ہے۔ (آیت) ” ان الساعۃ لاتیۃ “۔ یعنی ان سب کے آخری فیصلہ کا دن آرہا ہے، آپ ان کے عناد ومخالفت سے زیادہ غم میں نہ پڑیئے۔ (آیت) ” الصفح الجمیل “۔ صفح (درگزر) یہ کہ غم وتردد میں نہ پڑا جائے۔ اور اس کی خوبی (الصفح الجمیل) یہ کہ شکوہ وشکایت بھی نہ کیا جائے۔
Ayah 15:8674۔ (جس کے احاطہ علم سے نہ آپ کا صبر و تحمل باہر رہ سکتا ہے نہ ان معاندین کی شقاوتیں اور شرارتیں) (آیت) ” الخلق “۔ جزو وکل “۔ صغیر وکبیر۔ جو ہر وعرض، سب ہی کا خالق۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی وجود ہو اور وہ وجود اپنی تخلیق میں اس سے بےنیاز ہو۔ اس قسم کے تمام صفات کے اثبات سے ایک مقصود اہل شرک کے شرک فی الصفات کی ترید ہوتی ہے۔
Ayah 15:8775۔ (تو جب اتنی بڑی نعمت آپ ﷺ کو مل چکی ہے، تو بس ہمارے ہی لطف و عنایت پر نظر رکھیے، اور کافروں کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہے اسے خیال میں بھی نہ لائیے) سبعا من المثانی “۔ یعنی وہ سات آیتیں جو بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہیں۔ مراد سورة الفاتحہ ہے۔ جو حقیقۃ اپنی عظمت واہمیت خصوصی کے لحاظ سے مستحق اسی کی تھی کہ اس کا ذکر مستقلا بھی کیا جائے، سبع المثانی کی تفسیر سورة الفاتحہ سے حدیث صحیح میں خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید الخدری ؓ کی روایتوں سے اور عینی کی عمدہ القاری میں یہی قول صحابیوں میں حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا اور تابعیں میں حسن بصری (رح) اور مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) اور ربیع (رح) اور کلبی (رح) کا نقل ہوا ہے ائمہ تفسیر بھی کثرت سے اسی طرف گئے ہیں۔ وھو قول اکثر المفسرین انہ فاتحۃ الکتب وھو قول عمر وعلی وابن مسعود وابی ہریرہ والحسن وابی العالیۃ و مجاھد والضحاک و سعید بن جبیر وقتادۃ وروی ان النبی ﷺ قرأالفاتحۃ وقالھی السبع المثانی رواہ ابوہریرہ ؓ (کبیر) (آیت) ” من المثانی “ من تبعیض کے لئے بھی ہوسکتا ہے، اور محض بہ طور صلہ کے بھی کام دے سکتا ہے۔ قال الزجاج فیھا وجھان احدھما ان تکون للتبعیض من القران ویجوز ان تکون من صلۃ والمعنی اتیناک سبعاھی المثانی (کبیر)
Ayah 15:8876۔ (اور عنقریب ان سے جدا کرلی جائیں گی) یہ چند روزہ عیش (اور وہ بھی تلخیوں سے ملا ہوا) چیز ہی کونسی ایسی ہے، جسے ایک دولت عظیم سمجھا جائے ؟ (آیت) ” متعنابہ “۔ صاف اشارہ ادھر ہوگیا کہ یہ کافر ان نعمتوں کے کہیں مالک تھوڑے ہی کردیئے گئے ہیں، یہ تو سرتاسر عارضی اور فانی چیزیں انہیں مستعار عنایت ہوئی ہیں۔ (آیت) ” ازواجا منھم “ کافروں کی مختلف قسمیں۔ یہود، نصرانی، مجوس، مشرکین، وغیرہا۔ (آیت) ” لاتمدن عینیک “۔ رسول اللہ ﷺ ان ظاہری نعمتوں پر شوق والتفات کی نظریں تو ڈال سکتے ہی نہ تھے۔ البتہ یہ ہوسکتا تھا کہ آپ بغض فی اللہ کے ماتحت غصہ سے نظر فرماتے کہ یہ دشمنان خدا اور ایسی نعمتوں سے لذت یاب ہوں ! دوسری صورت رنج وتاسف کے نقطہ نظر سے ممکن تھی کہ کہیں یہی چیزیں تو انہیں ایمان سے مانع نہیں ہورہی ہیں۔ یہ ان کے پاس سے ہٹ جائیں تو ممکن تھا کہ یہ ایمان لے آتے ! آیت میں آپ ﷺ کو غیظ وغم کی ان دونوں صورتوں سے نظر کرنے کی ممانعت کردی گئی۔
77۔ (کہ آپ کی شفقت اور فکر مصلحت کے محل صحیح یہی اہل ایمان ہیں اور یہی نفع بھی حاصل کریں گے) (آیت) ” ولا تحزن علیھم “ ان پر غم وتاسف نہ کیجئے کہ یہ کافر ومعاند سرے سے آپ ﷺ کی شفقت وفکر مصلحت کے محل ہی نہیں۔ (آیت) ” واخفض جناحک “۔ خفض جناح کے لفظی معنی بازو جھکانے کے ہیں۔ محاورہ میں اس سے مراد ہوتی ہے، شفقت ونرم خوئی سے پیش آنے کے۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ اپنی شفقت کو تمامتر مرمنین پر متوجہ رکھیے۔ وخفض الجناح کنایۃ عن اللینۃ والرفق والتواضع والمقصود انہ تعالیٰ لمانھاہ عن الاالتفات الی اولئک الاغنیاء من الکفار امرہ بالتواضع لفقراء المسلمین (کبیر) کنایۃ عن التواضع لھم والرفق بھم (روح)
Ayah 15:8978۔ (تم منکروں کو) ارشاد یہ ہورہا ہے کہ آپ معاند کافروں کے ساتھ اپنا فرض تبلیغی بس ادا کردیجئے، باقی ان کا دل پھیر دینا تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں ذرا سا بھی نہین۔ آگے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔
Ayahs 15:90–9179۔ (اور بعض ٹکڑوں کو جو اپنی مرضی کے مطابق ہوتے تھے، لے لیتے تھے، اور جن حصوں کو اپنے لیے ناخوشگوار پاتے تھے، ان سے انکار کردیتے تھے) یہ حال شروع شروع میں سب ہی منکرین قرآن کا تھا۔ اس کی صداقت کے وہ سو فیصدی منکر نہ تھے، جن حصوں کو چاہتے مان لیتے اور جسے نہ چاہتے نہ مانتے۔ یہاں انہی کا ذکر ہے کہ بالآخر وہ کیسے پارہ پارہ اور معذب ہو کر رہے۔ آیت اگر مدنی ہے جب تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ صاف منکرین تباہ شدہ وہلاک شدہ کے انجام کی جانب اشارہ ہے۔ لیکن اگر مکی ہے تو مستقبل کا جو واقعہ یقنی طور پر قطعی ہوتا ہے۔ اس کے لیے عربی اسلوب بیان میں ماضی کا صیغہ لانا عام ہے اور قرآن مجید میں اس کی مثالیں ایک آدھ نہیں، بہ کثرت موجود ہیں۔ (آیت) ” انزلنا “۔ مراد حسب سیاق ” نازل کرچکے ہیں “۔ (بہ صیغہ ماضی) بھی ہوسکتی ہے۔ اور ” نازل کرکے رہیں گے “ (بہ صیغہ مستقبل) بھی ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” المقتسمین “۔ قسم سے مشتق ہے، اور اس کے معنی حلف اٹھانے والوں کے ہیں، یعنی وہ دشمنان اسلام جنہوں نے مکہ معظمہ میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں باہم سازش کرکے حلف اٹھائے تھے، اے الذین تقاسموا شعب مکۃ وقیل الذین تحالفوا علی کیدہ (علیہ السلام) (راغب) قال ابن عرفۃ ھم الذین تقاسموا وتحالفوا علی کید الرسول ﷺ (تاج) اے الذین حلفوا (بخاری کتاب التفسیر) قال مجاہد تقاسموا وتحالفوا (بخاری) قوم تحالفوا علی عضہ النبی ﷺ وان تذیعوا ذالک بکل طریق (ابن قتیبہ) (آیت) ” عضین “۔ یعنی متفرق۔ پارہ پارہ۔ تعضیہ کے معنی حصوں کے الگ الگ کرنے کے ہیں۔ اے مفترقا والتعضیۃ تجزیۃ الاعضاء (راغب)
Ayahs 15:92–9380۔ ( اور انہی اعمال کے مطابق انہیں سزائیں دیں گ ے) یہ سوال قیامت میں بہ طور عتاب ومواخذہ ہوگا نہ بہ طور استفسار۔
Ayah 15:9481۔ (یہ نہ مانیں گے اور مخالفت میں طرح طرح کی شرارتیں کرتے رہیں گے) (آیت) ” فاصدع “۔ صدع کے معنی تفصیل سے بیان کردینے کے ہیں۔ صدع الامر اے فصلہ (راغب)
Ayah 15:9582۔ مکہ زندگی میں جہاں رسول اللہ ﷺ کو ایک طرف ہر طرح کی جسمانی وروحانی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں وہاں دوسری طرف طنز و تمسخر واستہزاء کا بھی ایک بےپناہ طوفان برپا تھا۔ بعض مفسرین ان جزئیات کی طرف چلے گئے ہیں کہ مستہزئین کون کون تھے، اور ان کا طریق استہزاء کیا کیا تھا۔ لیکن جیسا کہ امام المفسرین (رح) نے فرمایا ہے، مفسر کو اس کا زیادہ کھوج لگانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا جان لینا کافی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک پورا طبقہ صاحب اثر ووجاہت مستہزئین کا تھا۔ ولا حاجۃ الی شیء منھا والقدر المعلوم انھم طبقۃ لھم قوۃ وشوکۃ وریاسۃ (کبیر)
Ayah 15:9683۔ (کہ تمسخر وشرک کا کیا انجام ہوتا ہے) (آیت) ” سوف “۔ یعنی فردائے قیامت میں۔
Ayah 15:9784۔ اور یہ دل کی تنگی ایک بالکل امر طبعی ہے۔ بلکہ اگر بغض فی اللہ سے عقلا پیدا ہو، تو عین عبادت ہے۔ (آیت) ” بمایقولون “۔ یعنی وہی کفر وشرک انکار و استکبار، طنز و تمسخر کی باتیں۔ اے بما یقول ھؤلاء المشرکون من قومک من تکذیبھم ایاک واستھزاء ھم بک وبما جئتھم بہ (ابن جریر)
Ayah 15:9885۔ (کہ ان مشاغل ذکر و عبادت میں انہماک ضیق صدر سے بھی نجات دلا دے گا) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ ان مشاغل ذکر و عبادت میں لگ جانے سے عالم قدس کے انوار کا فیضان شروع ہوجاتا ہے، اور اس سے دنیا بالکل حقیر وہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ اور اسی لیے غم والم کی طرف سے بھی طبیعت ہلکی اور بےفکر ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” السجدین “۔ یعنی نماز پڑھنے والے۔ اے من المصلین (بیضاوی) والمراد واللہ اعلم من المصلین فکنی بالسجود عن الصلاۃ (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں غم وضیق صدر کا علاج بتا دیا گیا ہے، اور وہ ذکر و توجہ الی الحق ہے۔
Ayah 15:9986۔ اسی حالت ذکر و عبادت میں) گویا ارشاد یہ ہورہا ہے کہ منکرین سے خفگی وبیزاری، جو بعض فی اللہ کا نتیجہ ہے، گوخود بھی ایک عبادت لیکن ذکروتسبیح الہی کی مداومت اس بھی افضل ہے۔ وقت وفات آئے تو اسی نام جاں بخش پر آئے (آیت) ” الیقین “۔ یقین یہاں بمعنی موت ہے۔ اے حتی یاتیک الموت (لسان) الیقین الموت لانہ تیقن لحاقہ لکل مخلوق حی (تاج) اکثر ائمہ لغت کے نزدیک، موت اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں اور بعض کے نزدیک مجازی، مال کثیرون الی انہ حقیقی وصوب بعضھم الی انہ مجازی (تاج) خود قرآن مجید میں ایک جگہ اور بھی یقین موت ہی کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” وکنا نکذب بیوم الدین حتی اتنا الیقین (مدثر) اور حدیث میں بھی حضرت عثمان ؓ بن مظعون صحابی کی شہادت کے سلسلہ میں لفظ یقین اسی معنی میں آیا ہے۔ اما ھو فقد جاء ہ الیقین وانی لارجوالہ الخیر (صحیح البخاری کتاب الجنائز) حضرت عبداللہ بن عمر صحابی ؓ اور تابعین میں مجاہد، معالم، حسن بصری، ابن زید، قتادہ، وغیرہ سب اسی طرف گئے ہیں۔ اے الموت کماروی عن ابن عمر والحسن وقتادۃ وابن زید (روح) اور جمہور مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ والجمھور علی ان المراد بالیقین الموت (بحر) انما المراد بالیقین ھھنا الموت (ابن کثیر) محققین نے لکھا ہے کہ یہ رد میں ان مدعیان باطل کے ہے جو کہتے ہیں کہ سلوک میں کوئی مرتبہ ایسا آتا ہے، جس میں تکلیفات شرعی ساقط ہوجاتی ہیں، اور یہ اعتقاد الحاد محض ہے۔ ویستدل بھا علی تخطءۃ من ذھب من الملاحدۃ الی ان المراد بالیقین المعرفۃ فمتی وصل احدھم الی المعرفۃ سقط عنہ التکلیف عندھم وھذا کفر وضلال وجھل (ابن کثیر)