15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 15:41

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا یہ سیدھا راستہ ہے مجھ تک (پہنچنے والا) ،34۔

34۔ وہ سیدھا راستہ ایمان و اطاعت واعمال صالحہ کا ہے کہ اسی پر چل کر بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ آیت سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جو کوئی راہ ہدایت پر چلنے کا واقعی قصد کرے، اسے وہ راہ مل ضرور جاتی ہے۔ حق علی ان اراعیہ (بیضاوی)
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک میرے بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا مگر ہاں بہکے ہوؤں میں سے جو بھی تیری پیروی کرنے لگیں،35۔

35۔ سو کوئی شخص گناہ پر مجبور ومضطر ہرگز نہیں۔ توفیق الہی ساتھ جب ہی چھوڑتی ہے، جب انسان خود شیطان کی جانب میل قوی رکھنے لگتا ہے۔ شیطان کا منتہائے قوت بس یہ ہے کہ دم دلاسا خوب دلا لیتا ہے، انسان کو فوری لذتوں کی چاٹ خوب دلا دیتا ہے، بس اس کے آگے کچھ بھی نہیں۔ فان منتھی تزیینہ التحریض والتدلیس (بیضاوی) ابلیس کے قول میں ابھی گزرا تھا کہ (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ حق تعالیٰ کے قول میں اب ارشاد ہورہا ہے (آیت) ” الا من اتبعک من الغوین “۔ مفسرین نے کلام کی اس ترتیب سے یہ نکتہ خوب نکالا ہے کہ جس کو جس چیز کا اہتمام ہوتا ہے وہ اسی کو مقدم رکھتا ہے چناچہ ابلیس نے اغواء کو مقدم رکھا اور حق تعالیٰ نے مخلصین کی حفاظت کو۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ شیطان نے اوپر جو دعوی کردیا ہے کہ میں لوگوں کو گمراہ کروں گا اور سبز باغ دکھاؤں گا تو اس سے یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ شیطان کو بھی کچھ قوت واقتدار حاصل ہے۔ آیت میں اسی غلط عقیدہ کی تردید ہے اور اعلان ہے کہ شیطان کا زور کسی بندہ پر بھی نہیں، خواہ وہ برگزیدہ ہو یا غیر برگزیدہ۔ ہاں البتہ جو بندہ خود ہی شیطان کی راہ چلنے لگے تو اسے اختیار ہے۔ غرض اس آیت سے حق تعالیٰ نے خود شیطان کی بھی ممکن غلط فہمی دور کردی ہے۔ الحاصل فی ھذا القول ان ابلیس اوھم ان لہ علی بعض عباد اللہ سلطانا فبین تعالیٰ کذبہ فیہ وذکر انہ لیس لہ علی احدمنھم سلطان ولا قدرۃ اصلا (کبیر)
Ayah 15:43

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور بیشک جہنم ان سب کی وعدہ گاہ ہے،36۔

36۔ یعنی خود شیطان، اس کی ذریات اور اس کے پیروؤں کی وعدہ گاہ، قال ابن عباس یرید ابلیس واشیاعہ ومن اتبعہ من الغاوین (کبیر)
Ayah 15:44

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کے لئے ان میں سے (وہاں کے) الگ الگ حصے ہیں،37۔

37۔ (کہ کوئی کسی دروازہ سے جائے گا کوئی کسی سے) دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ لان اھلھا سبع فرق (بیضاوی) اے سبعۃ اطباق (ابن جریر، عن عکرمہ) اے سبع طبقات ینزلونھا بحسب مراتبھم فی الغوایۃ والمتابعۃ (روح) یہ بھی ممکن ہے کہ محض خلود مراد ہو، اور اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو، قیل المرادان لھا سبعۃ ابواب یدخلونھا لکثرتھم والاسراع بتعذیبھم (روح) یدخلون منھا لکثرتھم (بیضاوی)
Ayahs 15:45–46

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں (بستے) ہوں گے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

تم داخل ہو ان میں سلامتی (اور) امن کے ساتھ،38۔

38۔ یعنی اہل ایمان سے ارشاد ہوگا کہ تمہیں اس وقت بھی ہر مکروہ سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شرکا اندیشہ نہیں۔ متقین “۔ متقی سے یہاں مراد وہ لوگ نہیں جو جمیع معاصی صغیر وکبیر سے بچے رہے ہوں (جیسا کہ معتزلہ نے سمجھا ہے) بلکہ صرف شرک وکفر سے بچنے والے مقصود ہیں۔ وھو قول جمھور الصحابۃ والتابعین وھو المنقول عن ابن عباس ان المراد الذین اتقوا الشرک باللہ تعالیٰ والکفر بہ واقول ھذا القول ھو الحق الصحیح (کبیر) یتناول جمیع القائلین بلاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ قولا واعتقادا سواء کانوا من اھل الطاعۃ اومن اھل المعصیۃ (کبیر)
Ayah 15:47

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور جو کچھ ان کے دلوں میں کینہ ہوگا اسے ہم دور کردیں گے،39۔

39۔ یعنی دنیا میں خود ان متقین میں باہم جو کچھ کینہ و کدورت طبعی اسباب سے ہوگی، اسے بھی قدرت الہی آخرت میں یک قلم محو کردے گی جس سے سب اہل جنت ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہو کر آپس میں شیروشکر ہو کر رہیں گے، اہل حق کے درمیان اگر طبعی اسباب سے ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں، غلط فہمیاں اور ناگواریاں پیدا ہوجائیں۔ تو یہ تقوی کے ذرا بھی منافی نہیں۔ جیسا کہ بعض اہل غلونے سمجھ رکھا ہے۔
Ayah 15:48

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

(سب) بھائی بھائی کی طرح رہیں گے آمنے سامنے تختوں پر،40۔

40۔ یعنی آپس میں مجالست ومخالطت غایت الفت و محبت کے ساتھ رکھیں گے۔
Ayah 15:49

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

اس کے اندر ان کو کوئی تکلیف چھوئے گی ہی نہیں، اور نہ وہ اس میں سے (کبھی) نکالے جائیں گے،41۔

41۔ اس میں یہ بتایا کہ جنت کی نعمتیں صرف کامل واکمل ہی نہ ہوں گی بلکہ دائم وقائم بھی۔ اس عالم ناسوت میں مداومت عیش کا ایک ضمیمہ تعب یا خستگی بھی ہے۔ عیش جنت کے لئے تصریح سے بتا دیا گیا کہ وہاں دوام کے باوجود تکان مطلق نہ ہوگا۔
Ayahs 15:50–51

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

میرے بندوں کو خبر کردیجیے کہ میں یقیناً بڑا مغفرت والا ہوں، بڑا رحمت والا ہوں

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے،42۔

42۔ مومن کی شان جو حدیث میں بتائی گئی ہے کہ اس کا قلب ہمیشہ بیم ورجا، خوف وامید کے درمیان رہتا ہے، اس کی بنیاد انہی صفات الہی پر ہے۔ بندہ جب خدائے آمرزگار کی رحمت بیکراں اور مغفرت بےپایاں پر نظر کرتا ہے تو اسے ہر طرف امید ہی امید نظر آتی ہے۔ لیکن جب نظر اپنی کو تاہیوں، لغزشوں، خطاؤں کی طرف جاتی ہے، تو قلب کا خشیت الہی سے تھراجانا بھی بالکل قدرتی اور صحیح ہے۔ عبادی میں بندوں کی اضافت اللہ کی طرف ان کی انتہائی قدرومنزلت کے لئے ہے۔ اضاف العباد الی نفسہ ھذا تشریف عظیم (کبیر) اس عموم بشارت کے تحت میں مومن متقی کے ساتھ مومن عاصی بھی آجاتا ہے۔ نبی کل من کان معترفا بعبودیتی وھذا کما یدخل فیہ ال مومن المطیع فکذلک یدخل فیہ المومن العاصی (کبیر) (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ رحمت ومغفرت پر زور وتاکید کے یہاں تین تین طریقے جمع کردیئے ہیں۔ ایک (آیت) ” انی “۔ دوسرے انا تیسرے ال غفور ورحیم پر۔ لماذکر الرحمۃ والمغفرۃ بالغ فی التاکید بالفاظ ثلاثۃ اولھا قولہ انی وثانیھا قولہ انا وثالثھا ادخال حرف الالف واللام علی قولہ الغفور الرحیم (کبیر)
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں (کے قصہ) کی خبر کردیجیے،43۔

43۔ سورة ہود (پ 12) میں اس قصہ پر حاشیے گزر چکے۔
Ayah 15:53

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

جب کہ وہ ان کے پاس آئے اور کہا (تم پر) سلام ہو (ابراہیم علیہ السلام) بولے ہم کو تم سے ڈرلگ رہا ہے،44۔

44۔ (کہ تم جو میرا پیش کیا ہوا ماحضر قبول نہیں کرتے ہو، تو کہیں دشمنی کے ارادہ سے تو نہیں آئے ہو) عرب، عراق وشام، کی قدیم تہذیب ومعاشرت میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ ڈاکو، چور یا غارتگر جب کسی کی مہمانی قبول کرلیتے تھے تو اس کے بعد اسے نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ اور اجنبیوں اور مسافروں کے لباس میں اکثر یہی غارتگرہی چھپے ہوتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان نوواردوں کی مہمانی کرنی چاہی، اور انہوں نے اس کے قبول کرنے میں تامل کیا، تو قدرۃ آپ (علیہ السلام) کا ذہن اس طرف منتقل ہوا، کہ کہیں یہ کوئی جرائم پیشہ تو نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان انسانی قالب میں آنے والے فرشتوں کو اب تک انسان ہی سمجھ رہے تھے۔ پیغمبری کا کوئی جزوغیب دانی ہرگز نہیں۔ حاشیے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔
Ayah 15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(فرشتے) بولے کہ آپ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو بشارت ایک صاحب علم فرزند کی دیتے ہیں،45۔

45۔ مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں، آپ نبی تھے اور اس لئے ؔ ظاہر ہے کہ بڑے صاحب علم بھی تھے۔ (آیت) ” لا تو جل “۔ یعنی ہم سے پریشان نہ ہوجیے۔ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں۔
Ayah 15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا کیا تم مجھے بشارت اس حال میں دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا سو بشارت کس چیز کی دیتے ہو،46۔

46۔ آپ (علیہ السلام) کا مطلب تھا کہ یہ امر آثار و علامات ظاہری اور اسباب عادی کے لحاظ سے تو مستعبد ہے۔ یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی قدرت سے بعید ہے۔
Ayah 15:56

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

وہ بولے ہم آپ کو امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں سو آپ ناامید نہ ہوں،47۔

47۔ یعنی اسباب عادی وظاہری پر نظر نہ کیجیے، ہم تو خالق کائنات کی طرف سے آپ کو خوشخبری سنا رہے ہیں۔
Ayah 15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا کہ اپنے پروردگار کی رحمت سے ناامید ہوتا ہی کون ہے بجز گمراہوں کے،48۔

48۔ قرآن مجید کی تعلیم رجائیت سے بھری پڑی ہے اور یاس وناامیدی کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ اسلام کی اس بنیادی حقیقت کا راز دان ابراہیم خلیل (علیہ السلام) سے بڑھ کر اور ہو کون سکتا تھا چناچہ آپ نے اسی کا یہاں اظہار کیا ہے۔
Ayah 15:58

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا اب تم کو کیا مہم درپیش ہے اے (اللہ کے) فرستادو ! ،49۔

49۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب ان آنے والوں کے فرشتے ہونے کا علم ہوگیا تو آپ (علیہ السلام) فراست نبوت سے یہ بھی سمجھے کہ ضرور ان کی تعیناتی محض اتنی بشارت کے لیے نہیں بلکہ کسی اور اہم مقصد کے لئے ہوئی ہے۔ خطب کہتے ہیں مقصد اہم کو ” مشن “ کو۔ الخطب الامر العظیم الذی یکثر فیہ التخاطب (راغب)
Ayah 15:59

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

وہ بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں بجز خاندان لوط (علیہ السلام) کے کہ ہم ان سب کو بچالیں گے،50۔

50۔ (عذاب وہلاکت سے، اور انہیں سزا پانے والے مجرموں سے الگ کردیں گے) (آیت) ” قوم مجرمین “۔ یعنی لوط پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ حاشیے اوپر گزر چکے ہیں۔
Ayah 15:60

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

بجز ان کی بیوی کے کہ اس کی نسبت ہم نے تجویز کر رکھا ہے کہ وہ ضرور پیچھے رہ جانے والوں میں رہے گی،51۔

51۔ (اس قوم معذب کے ساتھ۔ اور انہی لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوگی) حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی، اور یہ ضرور نہیں کہ آپ (علیہ السلام) کو اس کا علم بھی ہو۔ (آیت) ” قدرنا “۔ اس تجویز کے عمل کو فرشتوں نے منسوب اپنی جانب کیا، حالانکہ یہ فعل براہ راست حق تعالیٰ کا تھا۔ یہ نسبت مجازی عجب نہیں جو فرشتوں کے مرتبہ قرب واختصاص کے اظہار کے لئے ہو :۔
Ayahs 15:61–62

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب وہ فرستادے لوط (علیہ السلام) کے گھرانے میں آئے تو (لوط (علیہ السلام) نے)

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

کہا کہ تم تو اجنبی قوم کے لوگ (معلوم ہوتے) ہو،52۔

52۔ (اور ہمارے ملک کا دستور ہے کہ بیرونیوں اور پردیسیوں سے ہر طرح کی شرارت وبدسلو کی کرتے رہتے ہیں) ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Ayah 15:63

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے نہیں، بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ لے کر آئے ہیں جس کے باب میں یہ شک کیا کرتے تھے،53۔

53۔ یعنی عذاب وہلاکت بل میں یہ سارا مضمون آگیا کہ ہم انسان ہیں ہی نہیں، بلکہ فرشتے ہیں۔
Ayahs 15:64–65

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی ہونے والی چیز لے کر آئے ہیں، اور بیشک ہم بالکل سچے ہیں

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

سو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھروالوں کو لے کر چلے جائیے اور آپ ان کے پیچھے چلیے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں کا حکم تمہیں ملا ہے (سب) اسی طرف چلے جاؤ،54۔

54۔ یعنی ملک شام ہی کے کسی دوسرے شہر کی طرف، توریت میں اس شہر کانما ضغر بتایا گیا ہے (پیدائش 19: 22) موجودہ جغرافیہ میں تو کوئی شہر اس نام کا نہیں ملتا۔ لیکن بابل کے علماء کا خیال ہے کہ یہ شہر بحر مردہ کے جنوبی ساحل پر واقع تھا (آیت) ” فاسر باھلک “۔ یعنی اپنے گھر والوں کو راتی راتا نکال لے جائیے، ایسا کہ کوئی رہ نہ جائے۔ (آیت) ” واتبع ادبارھم “۔ یعنی بس سیدھے ان کا پیچھا لئے رہیے۔ یہ نہ ہو کہ کوئی راستہ سے پلٹ آئے۔ (آیت) ” ولا یلتفت منکم۔ یعنی یہ بھی نہ ہو کہ آپ لوگوں میں سے کوئی پیچھے پھر پھر کر دیکھے۔
Ayah 15:66

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کے پاس (اپنا) یہ فیصلہ بھیج دیا کہ صبح ہوتے ان لوگوں کی جڑ ہی (بالکل) کٹ جائے گی،55۔

55۔ یعنی صبح تڑکے سے ان بدبختوں پر عذاب ہلاکت نازل ہونا شروع ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقضینآالیہ “۔ یہ فیصلہ خداوندی حضرت (علیہ السلام) کے پاس انہیں فرشتوں کے ذریعہ سے پہنچا۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت میں پہلے اس فیصلہ کو مبہم رکھنا، اور پھر خود ہی اس کی تفصیل کردینا اس فیصلہ کی اہمیت و عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” وفی ابھامہ اولا وتفسیرہ ثانیا تفخیم للامر وتعظیم لہ (کبیر)
Ayah 15:67

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور شہر کے لوگ خوشیاں کرتے ہوئے آئے،56۔

56۔ (یہ سمجھ کر کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا) (آیت) ” اھل المدینۃ “۔ یعنی شہر سدوم والے (آیت) ” یستبشرون “۔ مسرت حیوانی وشیطانی اس کی تھی کہ اپنی گندہ مذاقی کی تسکین جی بھر کرہوسکے گی۔
Ayahs 15:68–69

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط (علیہ السلام) نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھے (عام لوگوں میں) فضیحت تو مت کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو اور مجھے (مہمانوں کی نظر میں) رسوا مت کرو،57۔

57۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ہر ہر طرف اپنی قوم والوں کو سمجھا رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ نووارد تو میرے مہمان ہیں، ان کی تم نے بےعزتی کی تو پہلے میری ہی عزت اتارلی، میں تو تمہاری بستی کا ہوں، میری ہی طرف دیکھو، کبھی فرماتے کہ ذرا اپنے دل میں خوف خدا لاؤ اور سوچو تو سہی کی کیسی گندہ حرکتوں میں مبتلا ہو، اور کبھی ارشاد فرماتے، کہ اپنے والوں کا خیال نہیں ہے تو نہ سہی، کم سے کم میرے مہمانوں کی نظر میں تو مجھے حقیر ورسوانہ ٹھیراؤ۔
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم نے تم کو دنیا بھر کے لوگوں سے منع نہیں کردیا تھا ؟ ،58۔

58۔ (کہ اجنبیوں اور پردیسیوں کے ٹھیرانے کے ہم روا دار نہیں، سو تم نے خود ہی ہماری اس مخالفت کی پروا نہ کرکے اور مہمانوں کو ٹھہرا کر اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کرائی ! ) کسی پہلے حاشیہ میں آچکا ہے کہ قوم لوط والے باہر والوں کو اپنے ہاں آنے ہی نہیں دینا چاہتے تھے اور اگر وہ آجاتے تو ان سے ہر طرح کی بیہودگی کے ساتھ پیش آتے۔ جو اس وقت کی شریفانہ تہذیب ومعاشرت اور آئین مہمانی کے قطعا منافی تھا :۔
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے) کہا یہ میری بیٹیاں بھی تو موجود ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے،59۔

59۔ بنات (بیٹیوں) پر حاشیہ سورة ہود (پ 12) میں گزر چکا۔ اہل امت کی بیٹیاں خود رسول امت کیلئے بہ منزلہ بیٹیوں ہی کے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” ان کنتم فعلین “۔ یعنی اگر تم میری بات ماننے پر، عقل و شرافت کے مقتضا پر عمل کرنے کو تیار ہو۔ قدرۃ آپ کو بہت شک تھا کہ وہ آبروباختہ لوگ آپ (علیہ السلام) کی نصیحت پر عمل کریں گے بھی ؟۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

آپ کی جان کی قسم وہ اپنی مدہوشی میں (بالکل) بہکے ہوئے تھے،60۔

60۔ (اور جذبات سفلی کی بدمستی میں کوئی بات عقل وفہم کی کیوں سننے لگے تھے (آیت) ” لعمرک “۔ عمر اور عمر عربی میں ہم معنی ہیں۔ لیکن قسم کھانے کے موقع پر عمر ہی آتا ہے۔ العمر والعمر واحد لکن خص القسم بالعمر دون العمر (راغب) العمر باالضم والفتح البقاء الا ان الفتح غلب فی القسم ولا یجوز فیہ الضم (ابو البقاء) ل قسم کا ہے۔ عربی اسلوب بلاغت میں قسم ایک ادبی صنعت وفنکاری ہے۔ اور بہترین ادیب وشاعر اس سے حسب موقع آزادی سے کام لیتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی قسمیں مذاق عرب پر بالکل گراں نہیں گزریں۔ اور جو اہل زبان مخالفت میں غرق اور اعتراض ونکتہ چینی کیلئے تلے ہوئے بیٹھے رہتے تھے ان میں سے بھی کسی نے یہ نہ پوچھا کہ خدا کے کلام میں یہ مخلوقات کی قسمیں کیسی ؟ اور قسموں کے فلسفہ یا ان کی توجیہات عقلی پر توجہ صرف عجمی اور ہندی اہل علم نے شروع کی ،۔ اس بحث پر تفصیلی نظر کے لئے سورة ہذا کا ضمیمہ ” قرآنی قسمیں “ ملاحظہ ہو۔ باقی یہاں رسول اسلام (علیہ السلام) کی زندگی کی صداقت اور پاکیزگی کو جو کافروں کو بھی مسلم تھی، بہ طور گواہ پیش کیا جارہا ہے، اور یہی مقصد قسم کا ہوتا ہے، اصل قصہ کے درمیان یہ اتنا جزو براہ راست رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے ارشاد ہوا ہے، اور یہ طریقہ عین خطبات عرب کے موافق ہے۔
Ayah 15:73

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک سخت آواز نے پکڑ لیا،61۔

61۔ گویا جو کام فجر کے وقت شروع ہوا تھا، جیسا کہ آیت 66 میں لفظ مصبحین سے واضح ہے، وہ وقت اشراق تک اپنی تکمیل کو پہنچ گیا، توریت میں ہے :۔” جس وقت لوط ضغر میں داخل ہوا سورج کی روشنی زمین پر پھیلی “ (پیدائش 19: 23)
Ayah 15:74

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

چناچہ ہم نے اس (بستی) کا اوپر کا تختہ نیچے کردیا اور ان لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسا دیئے،62۔

62۔ اور تاریخ آج تک ان کی اس ہلاکت و بربادی پر گواہ ہے۔ توریت میں ہے :۔” تب خداوند نے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ خداوند کی طرف سے آسمان پر سے برسائی اور اس نے ان شہروں کو اور اس سارے میدان کو اور ان شہروں کے سب رہنے والوں کو اور سب کچھ جو زمین سے اگا تھا نیست کیا۔ “ (پیدائش۔ 19: 24، 25)
Ayah 15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ) میں اہل بصیرت کے لئے نشانیاں ہیں،63۔

63۔ (اللہ کی قدرت وحاکمیت کی، اور بدی کی مکافات کی) (آیت) ” للمتوسمین “۔ وسم وتوسم کے معنی فراست وفہم کے ہیں۔ وھذا التوسم ھوالذی سماہ قوم الزکانۃ وقوم الفراسۃ وقوم الفطنۃ (راغب) اور متوسمین وہ لوگ ہیں جو نصیحت قبول کریں اور اہل عبرت وعرفان میں سے ہوں، اے للمعتیرین العارفین المتعظین (راغب) اے للمتفرسین المتاملین (کشاف)
Ayah 15:76

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ (بستی) تو ایک آباد راستہ پر (ملتی) ہے،64۔

64۔ یعنی عرب وشام کے درمیان خوب چلتے ہوئے راستہ پر۔ سدوم وعمورہ کے برباد شدہ شہر، بحرلوط یا بحر مردہ کے کنارے عین اسی راستہ پر واقع تھے، جس پر حجاز وشام کے درمیان قافلے برابر آتے جاتے رہتے تھے اور جس سے قرآن مجید کے مخاطبین اول، اہل عرب خوب واقف ومانوس تھے۔ (آیت) ” مقیم “۔ وہ راستہ ہے جو خوب چلتا ہوا ہو۔ ثابت یسل کہ الناس (کشاف) (آیت) ” وانھا “۔ ضمیر ھا شہر قوم لوط (علیہ السلام) کی جانب ہے، الضمیر عائد الی مدینۃ قوم لوط (کبیر)
Ayah 15:77

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ) کے اندر ایمان والوں کے لئے نشانی ہے،65۔

65۔ کہ وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، اور اسے بخت واتفاق یا اسباب طبعی پر محمول نہیں کرتے)
Ayah 15:78

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بیشک بن والے بھی (بڑے) ظالم تھے،66۔

66۔ (جو مدین سے متصل رہتے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی کی امت میں تھے) (آیت) ” اصحب الایکۃ “۔ نولڈی کی وغیرہ اہل فرنگ نے اصحاب ایکہ کو اصحاب مدین ہی قرار دیا ہے۔ ہمارے ائمہ تفسیر کی ہاں یہ دو قومیں الگ الگ تھیں گومتقارب، لیکن بعض اقوال ہمارے ہاں بھی ایسے ملتے ہیں کہ ان دو ناموں کی قومیں دو تھیں، ایک ہی نہیں۔ وھم قوم شعیب (علیہ السلام) (مدارک) (آیت) ” ان “۔ اور ل دونوں تاکید کے لئے ہیں۔
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

سو ہم نے انہیں بھی ٹھیک کردیا، اور دونوں بستیاں شاہراہ پر (واقع) ہیں،67۔

67۔ (جن سے اہل عرب کے قافلہ اکثر گزرتے رہتے ہیں) (آیت) ” انھما “۔ دونوں بستیاں، یعنی قوم، لوط اور اصحب الایکہ کی بستیاں یعنی قری قوم لوط والایکۃ (کشاف) (آیت) ” لبامام مبین “۔ امام کہتے ہیں وسیع راستہ یا شاہراہ کو۔ اور طریق کو امام عجب نہیں کہ اس لیے کہا گیا ہو کہ اس کا اتباع کیا جاتا ہے۔ الامام الطریق الواسع (تاج) قال الفراء جعل الطریق امام لانہ یؤم ویتبع (تاج) الامام اسم لما یؤتم بہ فسمی بہ الطریق (کشاف)
Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور بالیقین حجر والوں نے (بھی ہمارے) فرستادوں کو جھٹلایا،68۔

68۔ (آیت) ” الحجر “۔ شمالی عرب اور شام کے درمیان کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت قوم ثمود کا مسکن تھا۔ شام سے مدینہ کو آنے لگئے تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی، پھر سر زمین شیعب (علیہ السلام) (مدین) ملے گی اور سب سے آخر میں علاقہ حجر یا مسکن قوم ثمود۔ تینوں عبرت انگیز خطے باہم متصل ہیں۔ اور شاید اسی مناسبت سے تینوں کا ذکر بھی یہاں ایک ساتھ ہے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع سے متعلق امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ ممکن ہے یہ قوم ہندی برہمنوں کی طرح کل سلسلہ رسالت ہی کی منکر ہو۔ لعل القوم کانوا براھمۃ منکرین لکل الرسل (کبیر)