10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو جب وہ تمہیں پہنچ گیا ؟ کیا یہ (واقعی) جادو ہے ؟ درآنحالیکہ جادوگر فلاح نہیں،116۔

116۔ فلاح۔ یعنی آخری اور مستقل کامیابی ساحروں، شعبدہ بازوں کے نصیب میں کہاں ؟ ذرادیر کے لئے وہ گرمی محفل جیسی بھی پیدا کردیں، لیکن کمالات اخلاق سے وہ عاری اور تصرفات روحانی سے ان کا دامن خالی، دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلی مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ (آیت) ” اسحرھذا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال حیرت وحیرانی سے فرما رہے ہیں کہ تم نے یہ کیا کہا ؟ ایسی کھلی ہوئی صداقتوں کے لئے تمہارے پاس لفظ ” سحر “ کا ہے ؟ جو تمہارے نزدیک بھی ایک بےحقیقت سی شے ہے۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

پاتے، وہ بولے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہٹا دے اس (طریقہ) سے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادا) کو پایا تھا اور ملک میں بڑائی تم دونوں کے لئے ہوجائے تو ہم تو تم دونوں کو (کبھی) ماننے والے نہیں،117۔

117۔ مصری مذہب کے ” ہزار دیوتا “ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ ہندی مشرکوں کی طرح مصریوں میں حیوان پرستی بھی جاری تھی، بندر، کتا، بلی وغیرہ ان کے مقدس جانور تھے۔ اپنے بادشاہ کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔ تناسخ ارواح کے قائل تھے۔ وقس علی ہذا۔۔ تبلیغ موسوی سے ان سارے عقائد پر ضرب کاری لگ رہی تھی، موسیٰ (علیہ السلام) محض قومی لیڈر نہ تھے جو اپنی قوم اسرائیل کو ” سوراج “ دلانے کے لئے مصری گورنمنٹ سے نامہ وپیام کررہے تھے وہ سب سے پہلے توحید وعقیدۂ آخرت کے مناد تھے، اور پھر کچھ اور۔ (آیت) ” تکون لکما الکبریآء فی الارض “۔ دنیا پرست مادی زاویہ نظر رکھنے والا اپنے نفس پر قیام کرکے دوسروں کو بھی اسی عینک سے دیکھتا ہے۔ (آیت) ” لکما بمومنین “۔ ایمان یہاں شرعی اصطلاحی معنی میں نہیں، مراد صرف بات کا ماننا یا تسلیم کرنا ہے۔ صلہ بھی اسی لئے ب کے بجائے ل کے ساتھ آیا ہے۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ لاؤ میرے پاس سارے ماہر جادو گروں کو،118۔

118۔ یہ بادشاہ نے اپنے اہل دربار وعمال سلطنت کو حکم دیا۔ تشخیص چونکہ یہی ٹھیری تھی کہ یہ دونوں نئے مبلغ بڑے ماہر ساحر ہیں اس لئے ان کا زور توڑنے، ان سے مقابلہ کرنے، انہیں نیچا دکھانے کے لئے اجتماع بھی ماہرین فن ساحروں کا کیا جائے !
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب جادو گر آگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال چکو،119۔

119۔ (اپنے جادو کے سامان میں سے) (آیت) ” فلما جآء السحرۃ “۔ یعنی میدان مقابلہ طے پا گیا اور جادوگر وہاں جمع ہولئے۔ امام رازی (رح) فراء نحوی ولغوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ پہلے فرعون اور فرعونیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیام کو سن کر کہا تھا ہذا سحر۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) اس قول کے جواب میں کہہ رہے ہیں کہ سحر وہ تو نہیں تھا یہ البتہ ہے۔ (آیت) ” ماجئتم بہ السحر “۔ اسی لئے سحر (نکرہ) کو یہاں الف لام کے ساتھ لا کر السحر (معرفہ) کردیا گیا۔ انما قال السحر بالالف واللام لانہ جواب کلام سبق (کبیر)
Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے (رسے) ڈال دیئے تو موسیٰ (علیہ السلام) بولے جادو یہ ہے جو کچھ تم (بنا کر) لائے ہو یقیناً اللہ اسے ابھی توڑ پھوڑ دے گا یقیناً اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا،120۔

120۔ (جبکہ وہ بنیادی معجزات انبیاء سے معارضہ کو کھڑے ہوتے ہیں) (آیت) ” قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر “۔ موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سحر میری وہ دعوت حق نہ تھی جسے فرعون اور فرعونی سحر سے موسوم کررہے تھے، البتہ سحر تو یہ ہے جسے تم لے کر آئے ہو ! (آیت) ” السحر “۔ یہاں ال کے ساتھ معرفہ کی صورت میں لانا اسی لئے ہے کہ وہ قول فرعون (آیت) ” ھذا سحر “۔ (نکرہ) کے جواب میں ہے۔ قال الفراء انما قال السحر بالالف واللام لانہ جواب کلام سبق (کبیر) قال الفراء وانما قال السحر بالالف واللام لان النکرۃ اذا اعیدت اعیدت بالالف واللام (بحر) قال ابن عطیۃ والتعریف ھنا فی السحر ارتب لانہ قد تقدم منکرا فی قولھم ان ھذا لسحر فجاء ھنا بلام بلام العھد (بحر)
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ حق کو سچ کردکھاتا ہے اپنے وعدوں کے موافق خواہ مجرموں کو (کیسا ہی) ناگوار گزرے،121۔

121۔ حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کو جو کچھ مدنظر ہے وہ بہرحال و صورت واقع ہو کر رہے گا، منکرین خواہ کچھ بھی کرڈالیں، (آیت) ” بکلمۃ “۔ کلمات کے مفہوم میں کلام اور دلائل و شواہد سب داخل ہیں، اے بحجۃ التی جعلھا اللہ تعالیٰ لکم علیھم سلطانا مبینا (راغب) اے بکلامہ وحججہ وبراھینہ (قرطبی) یہاں مراد وعدہائے نصرت سے لی گئی ہے۔ اے بوعدہ النصر لمن جاء بہ (روح۔ عن الحسن)
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی ہر بات کسی (اور) نے نہ مانی بجز ان کی قوم کے تھوڑے سے لوگوں کے، فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف سے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے اور واقعی فرعون ملک میں زور رکھتا تھا اور واقعی وہ زیادتی کرنے والوں میں سے تھا،122۔

122۔ (اس لئے لوگوں کا اتنا ڈر بےجا تھا بھی نہیں) (آیت) ” فما امن لموسی “۔ امن “۔ امن کا صلہ یہاں بجائے ب کے ل (مکسور) کے ساتھ آرہا ہے۔ معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی بات کی تصدیق نہ کی۔ (آیت) ” ذریۃ “۔ یہاں قلت عدد کے اظہار کے لئے ہے۔ جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ بس مٹھی بھر لوگ۔ ھھنا معناھا تقلیل العدد (کبیر) ابن عباس ؓ کا قول منقول ہوا ہے کہ یہ لفظ جب کسی قوم پر بولا جاتا ہے تو مقصود اس کی تحقیر یا تصغیر ہوتی ہے۔ قال ابن عباس لفظ الذریۃ یعبر بہ عن القوم علی وجہ التحقیر والتصغیر (کبیر) اور چونکہ یہاں تحقیر کا کوئی قرینہ ہے نہیں، اس لئے مقصود تصغیر عددی ہی ہے۔ (آیت) ” من قومہ “۔ کی ضمیر نے دو بالکل مختلف معنی پیدا کردیئے ہیں۔ مراد قوم موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوسکتی ہے اور قوم فرعون بھی، پہلی صورت میں مراد یہ لی جائے گی کہ فرعون اور فرعونیوں کے ڈر سے شروع شروع اسرائیلوں کو بھی بہت ہی تھوڑی تعداد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی، اور دوسری شق کو مان کر اشارہ ان چندفرعونی ساحروں کی طرف سمجھا جائے جو بعد مقابلہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ اس عاصی کا ذوق پہلی شق کو ترجیح دیتا ہے۔ سلف سے منقول دونوں قول ہیں۔ الھاء عائدۃ علی موسیٰ (قرطبی) اے طائفۃ من ذراری بنی اسرائیل (کشاف) والضمیر لموسی کما ھو احدی الروایتین عن ابن عباس ؓ (روح) (آیت) ” علی خوف “۔ خوف کی تنوین شدت خوف کے لئے ہے۔ التنوین للتعظیم اے کائنین مع خوف عظیم (روح)
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میری قوم والو ! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو بھروسہ بھی اسی پر کرو اگر تم فرمان بردار ہو،123۔

123۔ (اور خواہ مخواہ زیادہ حیران پریشان نہ ہو۔ وہی تمہاری مدد کرے گا) یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب دیکھ لیا کہ حکومت فرعونی کے مظالم سے اسرائلی بلبلائے اٹھتے ہیں۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار ہم کو تختہ مشق نہ بنا ظالم لوگوں کا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہم کو اپنی رحمت سے نجات دے کافر لوگوں سے،124۔

124۔ اسرائیلی مومنین جواب دیتے ہیں کہ بیشک ہمارا بھروسہ تو حق تعالیٰ ہی پر ہے۔ اور پھر معا مناجات کرنے لگتے ہیں کہ یا الہی، جب تک ان کی حکومت مقدر ہے، وہ ہم پر ظلم نہ کرنے پائیں، اور پھر ان کی حکومت ہی کے دائرہ سے ہم کو نکال دے !
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم لو اپنے گھروں ہی کو نماز گاہ قرار دے لو،125۔ اور نماز کی پا بندی رکھو اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجیے،126۔

125۔ آیت میں (آیت) ” قبلۃ “۔ کا لفظ قرآن کا ایک دشوار ترین لفظ ہے۔ بہرحال قبلۃ کے ایک مشہور معنی اس مکان کے ہیں جس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے، فی المتعارف صار اسما للمکان المقابل المتوجہ الیہ للصلوۃ (راغب) یہ معنی لے کر مراد یہ ہوگی کہ گو امت میں یک جہتی پیدا کرنے کے لئے کسی ایک متعین مکان کی طرف عبادت کا رخ ضروری ہے۔ لیکن تمہارے لئے حالات موجودہ میں یہی کافی ہے کہ اپنے گھروں میں انہی کی طرف رخ کرلیا کرو، لیکن یہاں معنی علی العموم ” نماز کی جگہ “ یا مصلی کے لئے گئے ہیں۔ اے مصلی (بیضاوی۔ روح) اور مراد حکم سے یہ ہے کہ نمازیں اپنے اپنے گھروں ہی میں پڑھ لیا کرو۔ اے صلوا فی بیوتکم (کبیر) کانوا خائفین فامروا ان یصلوا فی بیوتھم (ابن کثیر) اور عجب نہیں جو مظالم فرعونی میں سے ایک چیز یہ بھی رہی ہو کہ بنی اسرائیل اپنی اپنی عبادت گاہوں تک نہ پہنچنے پائیں۔ 126۔ (اے موسیٰ کہ اب وقت مخلصی کا نزدیک آگیا) (آیت) ” واقیموا الصلوۃ “۔ کہ اقامت نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ جلد ترا پنا فضل کرے گا اور تمہیں جلد سے جلد اس مصیبت سے نجات دلائے گا۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو (سامان) تجمل اور (طرح طرح کے) مال دنیوی زندگی میں دیئے ہی تھے اس نتیجہ کے ساتھ کہ اے پروردگار وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں،127۔ اے ہمارے پروردگار ان کے مالوں کو نابود کردے اور ان کے دلوں کو (اور زیادہ) سخت کردے، سو یہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ عذاب درد ناک کو دیکھ لیں،128۔

127۔ (آیت) ” لیضلوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی تیری ان بخششوں اور انعامات کا نتیجہ یہ ہوا۔ یہ مطلب نہیں کہ تیری بخشش وانعام سے مقصود ہی یہ تھا۔ اگرچہ یہ مفہوم بھی تکوینی اعتبار سے بالکل درست ہوسکتا ہے۔ واضح ماقیل فیھا ھو قول الخلیل وسیبویہ انھا لام العاقبۃ والصیرورۃ (قرطبی) اللام لام العاقبۃ لما کانت عاقبۃ قوم فرعون ھو الضلال وقد اعلمہ اللہ تعالیٰ لا جرم عبر عن ھذا المعنی بھذا اللفظ (کبیر) 128۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب ہدایت ان کے مقدر میں نہیں اور جو حکمت تھی وہ حاصل ہوچکی تو اب ان کے نفوس کو باقی ہی کیوں رکھا جائے یہ کفر میں ترقی ہی کرتے جائیں تاآنکہ عذاب الہی کے پوری طرح مستحق ہو کر اس سے ہلاک ہوجائیں۔ ایسے بدبختوں کی ہلاکت و بربادی کی تمنا کرنا ایسا ہی ہے جیسے موذی جانوروں، سانپ، بچھو وغیرہ کے ہلاک کی تمنا کرنا، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تو ان کا انجام مکشوف ہی ہوچکا تھا، ان کے لئے دعائے ہلاکت میں اور بھی کوئی مضائقہ نہیں رہ گیا تھا، اپنی دعوت وتبلیغ اور کوشش واصلاح سو وہ آخر تک جاری رہی۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(اور اللہ نے) فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوگئی،129۔ سو تم دونوں (بدستور) قائم رہو، ان لوگوں کی راہ نہ چلنے لگنا جو علم نہیں رکھتے،130۔

129۔ (اور اب یہ نافرمان ہلاک ہی ہو کر رہیں گے) اس جواب کے صیغہ تثنیہ سے معلوم ہوا کہ دعاء میں حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی شریک تھے۔ بلاغت قرآنی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو چیزیں سیاق سے از خود روشن ہوجائیں قرآن ان کی صراحت غیرضروری سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ 130۔ (ہمارے دعو وں کے برحق اور قطعی ہونے کا، گوان کا ظہور بہ توقف وبتا خیر ہو) (آیت) ” فاستقیما “۔ یعنی اپنے فرض منصبی پر قائم رہو اور دعوت وتبلیغ میں بدستور لگے رہو۔ (آیت) ” لایعلمون “۔ یعنی ہماری حکمت تاخیر ومصالح توقف سے بیخبر ہیں۔ لایعلمون صدق الاجابۃ و حکمۃ الامھال (مدارک)
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم و زیادتی (کے ارادہ) سے ان کا پیچھا کیا،131۔ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا،132۔ میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں بجز اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں،133۔ اور میں مسلموں میں (داخل ہوتا) ہوں،134۔

131۔ (کہ انہیں پکڑیں، سزا دیں، قتل کریں) بنی اسرائیل کے اس سفر بحری اور فرعون کی غرقابی پر مفصل حاشیے سورة بقرہ الم میں گزر چکے۔ (آیت) ” بغیاوعدوا “۔ یعنی جو سرتا سر ناحق پر تھا، کیا از روئے قول اور کیا از روئے عمل بغی کا تعلق قول سے ہے، اور عدو کا عمل سے، قال المفسرون بغیا طلبا للاستعلاء بغیر حق فی القول وعدوا فی الفعل (قرطبی) قیل بغیا فی القول وعدوا فی الفعل (معالم) 132۔ (بدحواس وسراسیمہ ہو کر اور ملائکہ عذاب کو معاینہ کرنے کے بعد جیسا کہ ہر کافر ومنکر کو موت کے وقت فرشتگان عذاب کا معاینہ ہوتا رہتا ہے) (آیت) ” حتی اذا ادر کہ الغرق “۔ اس میں بیان اس امر کا آگیا کہ عمل غرقابی شروع ہوچکا تھا اور ڈوبنے والے کو اب عالم برزخ کا مشاہدہ ہورہا تھا۔ فامن حیث لاینفعہ الایمان (ابن کثیر) تراکمت الامواج فوق فرعون وغشیتہ سکرات الموت فقال وھو کذالک (ابن کثیر) 133۔ (اور توحید کا اقرار کرتا ہوں، اور رسالت موسوی کی تصدیق کرتا ہوں) (آیت) ” امنت بہ بنوا سرآء یل “۔ ” بنی اسرائیل کے خدا “ کی تصریح اس لئے کہ وہی تو ایک قوم توحید کی قائل تھی، دوسرا نکتہ یہ بھی کہ وہی قوم جو آج تک نظر میں اس قدر حقیر و ذلیل تھی، آج تصدیق اسی کے برسر حق ہونے کی کرنا پڑرہی ہے ! محض یہ کہنے میں کہ ” میں خدائے واحد پر ایمان لایا “۔ یہ بات کہاں تھی، خدائے واحد کی تصدیق میں بڑی رکاوٹ اب تک فرعون اور اس کے ہم قوموں کو یہی تھی، کہ ہم اعلی برتر اور حاکم قوم کے افراد ایسے خدا کا اقرار کیونکر کرلیں جو ہمارے محکوموں اور ہماری رعایا کا خدا ہے۔ 134 ۔ (تو اب مجھے نجات ملے اس غرق سے بھی اور عذاب آخرت سے بھی)
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(یہ) اب ! حالانکہ تو تو سرکشی ہی کرتا رہا قبل تک اور تو مفسدوں (ہی) میں شامل رہا،135۔

135۔ (سو اب نہ ایمان مقبول، نہ نجات آخرت کی کوئی صورت) (آیت) ” آلئن “۔ یہ اب ! جبکہ انکشاف آخرت شروع ہوچکا اور قبول ایمان کا وقت نہیں رہا۔ اتؤمن بالساعۃ فی وقت الاضطرار حین ادرکک الغرق وائست من نفسک (مدارک) (آیت) ” وقد عصیت قبل “۔ یعنی عین اس لمحہ سے قبل تک تیری ساری عمر تو ہماری مخالفت وسرکشی ونافرمانی میں گزری اور اب جب مشاہدہ ہمارے عذاب کا ہونے لگا اقرار کو چلا ہے۔ انما تؤمن عند نزول العذاب والایمان فی ھذا الوقت غیر مقبول (کبیر) (آیت) ” من المفسدین “۔ مفسد یہاں منکر اور باغی، گمراہ کرنے والے کے معنی میں ہے۔ اے الذین اضل الناس (ابن کثیر) حیرت ہے کہ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود بھی صوفیہ غیر محققین کو فرعون کی نجات اور صحت ایمان پر اصرار ہے۔ ” اور بعض اکابر سے جو فرعون کے ایمان کی صحت منقول ہے وہ کسی شخص نے ان کی تصنیف میں الحاق کردیا ہے۔ چناچہ الیواقیت والجواہر میں اس میں تفصیل موجود ہے۔ “ (تھانوی (رح)
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

سو آج ہم تیرے جسم کو نجات دے دیں گے تاکہ تو ایک نشان (عبرت) پیچھے آنے والوں کے لئے رہے،136۔ اور بےشبہ بہت سے لوگ ہماری (ایسی) نشانیوں سے غافل ہیں،137۔

136۔ (اور تیرے لئے مزید رسوائی وتفضیح کا سامان بنا رہے) فرعون کا ایمان جس طرح عالم یاس میں تمامتر ظاہری وصوری تھا، معنی و حقیقت سے خالی، اسی طرح اور اسی مناسبت سے اس کے جسم مردہ کی نجات بھی اس کے حق میں تمامتر بےسود رہی۔ (آیت) ” ایۃ “۔ یہاں عبرۃ کے مرادف ہے۔ اے عبرۃ وعظۃ (معالم) عبرۃ (جلالین) عبرۃ ونکالا من الطغیان (روح) ایک غرق شدہ فرعون مصر کی نعش ماہرین اثریات کو مدت ہوئی قدیم مصری شہر تھیبس (THEBES) میں مل گئی تھی اور آج قاہرہ کے عجائب خانہ میں محفوظ ہے اور مؤرخین وماہرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون رعمیس ثانی تھا۔ رعمیس ثانی یا تو وہی قرآنی فرعون ہے۔ اور یا فرعون مغروق، اگر کوئی اور ہوا ہے تو ماہرین فن کو اس نعش کی شناخت میں دھوکا ہوا ہے یہ نعش اسی کی ہے نہ کہ رعمیس ثانی کی ، 137۔ (اور خود اپنی غفلتوں اور طغیانیوں میں مبتلاان چیزوں سے ذرا بھی اثر نہ قبول کرنے والے، اے لایتعظون بھا ولا یعتبرون بھا (ابن کثیر)
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور ہم نے انہیں نفیس چیزوں کا رزق عطا کیا،138۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم (حق) آگیا،139۔ یقیناً آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان ان امور میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کردے گا،140۔

138۔ (اسی ملک اور وطن میں) مراد فلسطین وشام کے سرسبز و شاداب علاقے ہیں اور ذکر اب بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے بعد کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” مبوا صدق “۔ کے لفظی معنی منزل حسن اور مکان خوب ودلپسند کے ہیں۔ محاورۂ عرب میں صدق کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر اچھی چیز کو اسی صفت سے ظاہر کرتے ہیں۔ اے کانا محمودا (کبیر) منزلا صالحا مرضیا (کبیر) لان عادۃ العرب انھا اذا مدحت شیئا اضافتہ الی الصدق تقول رجل صدق وقدم صدق (کبیر) وفی العباب کل مانسب الی الصلاح والخیر اضیف الی الصدق (تاج) مراد شام وارض فلسطین سے قدیم مفسرین نے بھی لی ہے۔ ھو الاردن والشام (بحر۔ عن ابن عباس ؓ المراد بہ الشام وبیت القدس (بحر، عن قتادہ وابن زید والضحاک) (آیت) ” ورزقنھم من الطیبت “۔ ملک شام اور اس کے ملحق علاقے اپنی سرسبزی، شادابی، خوش پیداواری کے لئے شروع سے آج تک مشہور چلے رہے ہیں، تو ریت موجودہ میں ہے :۔ ” میں نازل ہوا ہوں کہ انہیں مصریوں سے چھڑاؤں اور اس زمین سے نکال کے اچھی وسیع زمین جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے۔ کنعانیوں۔۔ کی جگہ میں لاؤں۔ (خروج 30: 8) آج بھی جغرافیہ کی جن کتابوں اور جن سیاحت ناموں میں چاہیے یہی تفصیلات پڑھ لیجیے۔ 139۔ (پہلے انہی کے پیغمبروں کے ذریعہ سے اور پھر آخر میں نبی آخر الزمان ﷺ کے ذریعہ سے) (آیت) ” فما اختلفوا “۔ یعنی راہ حق سے انحراف نہیں کیا، مطلب یہ ہوا کہ ان نعمتوں کا مقتضاء تو یہ تھا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ سپاس گزاررہ کر توحید و رسالت کے عقائد پر مضبوطی سے قائم رہتے۔ اس کے برعکس انہوں نے دین حق سے اختلاف و انحراف شروع کردیا۔ اور وہ بھی پیامات نبوت سننے کے بعد۔ 140۔ اور وہ فیصلہ عملی، مشاہد ومرئی ہوگا۔ علمی، عقلی تحقیقی فیصلہ تو اب بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر (بالفرض) آپ کو شک ہو ان (مضامین) کے باب میں جو ہم نے آپ پر نازل کئے ہیں،141۔ تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو آپ سے پہلے کی کتابوں کو پڑھتے رہتے ہیں،142۔ بالیقین آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے سچی (کتاب) آچکی ہے سو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہوں،143۔

141۔ (اسرائیلیوں، فرعونیوں وغیرہ کی حکایات اور تاریخ سے متعلق) ذکر ابھی بالکل متصل اسرائیلی تاریخ کے بعض اجزاء اور فرعونیوں کی سرگزشت کا آیا ہے۔ اس لئے مماانزلنا الیک کا تعلق بھی انہی قصص و حکایات ہی سے متعلق معلوم ہوتا ہے اور مفسرین قدیم بھی یہی سمجھے ہیں۔ اے من القصص (بیضاوی) اے من القصص المنزلۃ الیک التی من جمل تھا قصۃ فرعون وقومہ واخبار بنی اسرائیل (روح) لیکن اگر یہ محدود معنی نہیں بلکہ وہ وسیع معنی مراد لئے جائیں جو ظاہر الفاظ سے نکلتے معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی کل مضامین کتاب میں شک جب کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ قرآن نے تو یہ بات محض بہ طور فرض واحتمال کے کہی ہے اور قرآن نے اس سے بڑھ بڑھ کر احتمالات، یعنی محال محض چیزوں کے امکانات، اسی ترکیب کلام کے ساتھ پیش کئے ہیں، مثلا خدائے قدوس کا صاحب اولاد ہونا، ان کان للرحمن ولد، ان کنت فی شک۔ لازمی نہیں کہ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ ہی کے ساتھ سمجھا جائے، مخاطب اگر محض انسان سمجھا جائے تو اس کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔ اور بعض اہل علم نے تقدیر کلام یوں ہی فرض کی ہے۔ اے ان کنت ایھا الانسان فی شک مما انزلنا الیک من الھدی علی لسان رسولنا محمد (معالم) یہ تقدیر کلام بھی بڑے بڑے ائمہ ادب ولغت سے منقول ہے کہ اے محمد ﷺ آپ کافر سے کہیے کہ اگر تجھے شک ہو تو الخ۔ قال ابو عمر محمد بن عبدالواحد الزاھد سمعت الامامین ثعلبا والمبرد یقولان اے قل یا محمد للکافر فان کنت فی شک الخ (قرطبی) 142۔ (ان کی اصلی، غیر محرف صورتوں میں) مراد یہ ہے کہ قدیم آسمانی کتابوں کی اصلی عبارتیں، انسانی تصرف وتحریف سے الگ کرکے اگر دیکھی جائیں تو وہ بیانات قرآنی کی تمام ترتصدیق وتائید ہی کریں گی ، 143۔ (اس کے کسی مضمون سے متعلق بھی) نزول قرآن کے زمانہ میں علم وتحقیق کی اجارہ داری گویا یہود ہی کی تھی اور نمبر دوم پر عیسائی تھے، یہ دونوں رسول اللہ ﷺ امی کی تکذیب وتضحیک پر بات بات پر تیار وآمادہ رہتے تھے۔ اوپر قرآن انہی اہل علم کے مذہب اور تاریخ سے متعلق پوست کندہ حالات اسی رسول ﷺ امی کی زبان سے دھڑلے سے ادا کرا رہا تھا۔ بشر کوئی سا بھی ہو، یہاں تک کہ سید البشر بھی، اس کا ایسے موقعوں پر رکنا، جھجکنا، بالکل ایک امر طبعی تھا خلق سے بالکل بےجھجک، بےدھڑک ہو کر حقائق کو بےتکان ادا کرنا یہ تو صرف حق تعالیٰ ہی کا خاصہ ہوسکتا تھا۔ اور اسی سے ملتی ہوئی وہ توجیہ ہے جو فخر المفسرین رازی (رح) نے اسی آیت کی تفسیر میں الوجہ الثالث کے ماتحت کی ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہوجائیے جنہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا ورنہ آپ بھی تباہ کاروں میں (شامل) ہوجائیں گے،144۔

144۔ (اے مخاطب ! ) خطاب یہاں عام انسان سے ہے۔ اوالخطاب لکل سامع یجوز علیہ الشک (مدارک)
Ayahs 10:96–97

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے حق میں آپ کے پروردگار کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

خواہ ان کے پاس نشانیاں ساری (کی ساری) آجائیں جب تک کہ وہ عذاب دردناک (نہ) دیکھ لیں گے،145۔

145۔ (اور اس وقت ” معائنہ “ عذاب کے بعد ایمان لانا بھی بےسود ہوگا) (آیت) ” حقت علیھم کلمت ربک “۔ کلمۃ رب ” پروردگار کی بات “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم تکوینی ہے۔ اے وعیدہ انھم یصیرون الی العذاب (بحر) اے حکمہ وقضاء ہ المفسر عند الاشاعرۃ بارادتہ تعالیٰ (روح) (آیت) ” کل ایۃ “۔ یعنی توحید و رسالت کے کل شواہد و دلائل۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

چناچہ کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ اس کا ایمان لانا اسے نفع پہچاتا بجز قوم یونس (علیہ السلام) کے،146۔ جب وہ (لوگ) ایمان لے آئے ہم نے ان پر سے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں دور کردیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کیلئے خوشی عیشی دی،147۔

146۔ (کہ صرف وہی وقت کے وقت ایمان لے آئی اور عذاب دنیوی سے نجات پاگئی) (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “۔ ذکر ان بستیوں کا ہورہا ہے جو تکذیب انبیاء کی بنا پر ہلاک وبرباد ہوئیں۔ (آیت) ” فنفعھا ایمانھا “۔ یعنی وقوع عذاب سے قبل وہ ایمان لے آتی اور تائب ہوجاتی۔ (آیت) ” قوم یونس “۔ یونس سے مراد پیغمبر برحق یونس (علیہ السلام) بن متی ہیں۔ توریت میں ان کا نام (JONAN) یایوناکر کرکے آیا ہے ان کا زمانہ آٹھویں صدی ق، م، کے وسط کا ہے۔ ان کا معاصر اسرائیلی بادشاہ یربعام تھا۔ جس کا زمانہ 781 ؁ ق، م ہے۔ باشندہ شہر نینوا کے تھے۔ جو اپنے زمانہ میں اسیر یا کی پر قوت سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ اور آج ملک عراق میں جہاں موصل ہے اس کے مقابل دریائے دجلہ کے بائیں کنارہ پر واقع ہے۔ اس وقت شہر کا رقبہ 1800 ایکڑ تھا۔ اس کی قدامت اس سے ظاہر ہے کہ اس کا ذکر حمورابی کے نوشتوں میں ملتا ہے۔ 2285 ؁ ق، م میں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 147۔ یعنی موت کے وقت تک دنیا میں بہ اطمینان وبہ فراغت رہنے دیا۔ (آیت) ” لما امنوا “۔ یعنی وہ ایمان لے آئے ایسے وقت کہ ابھی نزول عذاب نہیں ہوا تھا۔ صرف نزول عذاب کی علامتیں دور سے نظر آتی تھیں۔ قال الزجاج انھم لم یقع بھم العذاب وانما رأوالعلامۃ التی تدل علی العذاب ولو رأو اعین العذاب لما نفعھم الایمان وقلت قول الزجاج حسن (قرطبی) اے عندما رأو امارات العذاب ولم یوفروا الی حلولہ (روح) (آیت) ” کشفنا۔۔۔۔ الدنیا “۔ یہ نجات کی صراحت صرف عذاب دنیوی سے متعلق ہے۔ باقی ایمان کے بعد نجات اخروی کا مفہوم خود بخود متوقع ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” لمآ امنوا کشفنا “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ مرید پر کوئی ایسا فیضان ہو جس کی خبر شیخ کو نہ ہو گو وہ فیضان شیخ ہی کی برکت سے ہو۔ جیسا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اپنی امت کے ایمان کی اطلاع نہ ہوئی، حالانکہ خود وہ ایمان حضرت یونس نبی (علیہ السلام) ہی کی برکات سے تھا۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو روئے زمین پر جتنے بھی لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے،148۔ سو کیا آپ لوگوں پر جبر کرسکتے ہیں جس میں وہ ایمان لے ہی آئیں،149۔

148۔ (لیکن بیشمار تکوینی مصلحتوں اور حکمتوں سے مشیت الہی نے اس عالم کو عالم ابتلاء ہی رکھا ہے اور کسی کو بھی ایمان لانے پر مضطر ومجبور نہیں کیا ہے) للاشاعرۃ لکونہ مخالفا للحکمۃ التی علیھا بناء اساس التکوین والتشریع (روح) اے لاضطرھم الیہ (قرطبی) (آیت) ” کلھم “۔ تاکید کے لئے ہے۔ بعض کے نزدیک من فی الارض کی تاکید کے لئے اور بعض کے نزدیک (آیت) ” جمیعا “ کی تاکید کے لئے۔ 149۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ آپ سب کے ایمان نہ لانے سے مغموم ومحزون نہ ہوں۔ یہیں سے بعض علماء محققین نے یہ نکالا ہے کہ کافی تبلیغ کے بعد پھر نتائج کے درپے ہونے اور ثمرات تبلیغ کے انتظار کی ضرورت نہیں۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کو (یہ قدرت حاصل) نہیں کہ وہ ایمان لے آئے بجز اللہ کی مشیت کے،150۔ وہ گندگی (کفر کی) واقع کراتا ہے انہی لوگوں پر جو عقل سے کام ہی نہیں لیتے،151۔

150۔ اذن آیت میں مشیت وتوفیق کے معنی میں ہے۔ اے بمشیتہ اوبقضاۂ اوبتوفیقہ (مدارک) الابقضاۂ وقدرہ ومشیئتہ وارادتہ (قرطبی) 151۔ یعنی اس کی مشیت صرف انہی لوگوں کے ایمان لانے سے غیر متعلق رہتی ہے، جو اپنی عقل وفہم کی آیتوں نے بار بار اسی حقیقت کو صاف کردیا ہے کہ کسی کے ایمان وہدایت کی راہ میں اصلا رکاوٹ حق تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں ہوتی صرف انسان کی اپنی کج نظری اور بدنفسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” الرجس “۔ (یعنی کفر وبدعقیدگی کی گندگی) رجس یہاں ایمان کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے اس کے معنی کفر کے ہیں۔ الرجس الذی یقابل الایمان لیس الا الکفر (کبیر)
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم دیکھو تو کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں،152۔ اور کوئی بھی نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لاتے،153۔

152۔ (حق تعالیٰ کی توحید اور قدرت اور صنعت پر دلالت کرنے والی) (آیت) ” انظروا “۔ یعنی چشم بصیرت سے دیکھو، سوچو اور غور کرو، دوسرے مذہبوں کے برعکس جہاں ایمان اور عقل کو ایک دوسرے کے منافی سمجھا گیا ہے، قرآن تو خود دعوت تکوینیات میں غور وفکر کرتے رہنے کی دیتا رہتا ہے۔ اے تفکروا (بیضاوی) امر بالنظر والا ستدلال فی الدلائل حتی لایتوھم ان الحق ھو الجبر المحض (کبیر) (آیت) ” انظروا ما ذا فی السموت والارض “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں سے معلوم ہوا کہ خلق پر حق کے لیے نظر کرنا نظر الی الحق کا منافی نہیں۔ 153۔ یعنی ایمان لانا چاہتے نہیں، مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ دلائل حق پر سرے سے غور ہی نہیں کرتے ان کے حق میں سارے ہی ترغیبی وترہیبی دلائل و شواہد لاحاصل ہیں۔ (آیت) ” النذر “۔ نذر جمع نذیر کی ہے اور نذیر یہاں معہ مصدر انذار کے مرادف ہے۔ النذر الرسل المنذرون اوالا نذارات (کبیر) والنذر جمع نذیر بمعنی منذر اوبمعنی انذارای الانذارات (روح) جمع کا صیغہ اس لیے لایا گیا کہ انواع و اقسام کے ارادے اس میں شامل ہوجائیں۔ جمع لارادۃ الانواع (روح) (آیت) ” من قبلھم۔ خلوا “۔ کے لفظ میں قبلیت کا مفہوم تو خود ہی شامل ہے۔ پھر جو (آیت) ” من قبلھم “۔ کا اضافہ آیا ہے اس سے مقصود ایک تو تاکید ہے دوسرے یہ اشارہ بھی کہ یہ موجودہ منکرین بھی عنقریب اس طرح گزر جائیں گے جیسے ان کے قبل کے لوگ گذر چکے ہیں۔ متعلق بخلوا جئی بہ للتاکید والایماء بانھم سیخلون کما خلوا (روح)
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو وہ تو بس ان لوگوں کے لئے حوادث کا جو ان کے قبل گزر چکے ہیں انتظار کررہے ہیں،154۔ آپ کہہ دیجیے کہ اچھا تم انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں،155۔

154۔ یعنی ان موجودہ منکروں اور معاندوں کے وجود سے تو بس یہ ظاہر ہورہا ہے کہ یہ لوگ سابق ہلاک شدہ قوموں کے وقت کا انتظار کررہے ہیں ! (آیت) ” ھل ینتظرون “۔ یعنی دلالت حال سے تو ایسا ہی ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” ایام “۔ محاورۂ عرب میں ایام کا اطلاق اہم ترین شدید ترین واقعات و حوادث پر ہوتا ہے۔ الایام ھنا بمعنی الوقائع والحرب تسمی العذاب ایاما والنعم ایاما کل ما سعی لک من الخیر اوالشر فھو ایام (قرطبی) ای وقائع اللہ تعالیٰ فیھم (کشاف) ومنھا استعمال الایام فی الوقائع کقولھم ایام العرب وھو مجاز مشھور من التعبیر بالزمان عما وقع فیہ (روح) (آیت) ” الذین خلوا من قبلھم “۔ یعنی وہ پر قوت و شوکت ونافرمان و سرکش قومیں جو ان سے قبل عذاب سے ہلاک وبرباد ہوچکی ہیں، ان میں سے بہتوں کا ذکر خود قرآن مجید میں موجود ہے، قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون وغیرہا۔ المراد المشرکون من الامم الماضیۃ (روح) 155۔ (عنقریب یہ واضح ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے) ۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان والے تھے بچا لیتے تھے، اسی طرح ہم (سب) مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں (یہ) ہمارے ذمہ ہے،156۔

156۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار مختلف پیرایوں میں واضح کیا ہے کہ عذاب الہی جب آتا ہے صرف کافروں اور منکروں پر آتا ہے۔ اور مومنین اس سے بچا لئے جاتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ تکوینی حادثے جن میں مومن و کافر سب بلاامتیاز وتفریق یکساں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مثلا قحط، سیلاب، وباء یہ ہرگز صحیح معنی میں ”’ عذاب الہی “ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ انہیں نمونہ عذاب الہی کہا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” ثم “۔ ربط کلام انہیں پچھلی ہلاک شدہ قوموں سے ہے۔ (آیت) ” ننجی “۔ یعنی اس عذاب سے نجات دے دیتے ہیں۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے اشتباہ میں ہو،157۔ سو میں ان (معبودوں) کی عبادت نہیں کرتا، جن کی عبادت تم کرتے رہتے ہو اللہ کے سوا بلکہ میں (تو) اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے،158۔ اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں بھی ایمان لانے والوں میں ہوں

157۔ (اور تم پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ جس دین کی دعوت میں دے رہا ہوں وہ اصلا اور اپنی روح ومغز کے اعتبار سے ہے کیا) 158۔ یہاں داعی اسلام کی زبان سے اصلی و اساسی فرق دین اسلام ودین جاہلیت کے درمیان بیان کردیا ہے۔ ارشاد یہ کرایا جارہا ہے کہ اگر اب بھی ابہام و اشتباہ باقی ہے تو سن لو کہ بنیادی فرق میری دعوت اور تمہارے دین جاہلیت کے درمیان یہ ہے کہ تم سب شرک میں مبتلا ہو اور کسی نہ کسی صورت میں غیر اللہ کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور میری دعوت خالص توحید کی ہے، میں اس خدا کی عبادت کی طرف بلارہا ہوں جو مطلق الاختیار ہے، تمہاری موت وزندگی دونوں پر حاکم ہے۔ (آیت) ” اللہ الذی یتوفکم “۔ بہت سی مشرک جاہلی قوموں نے خالق کسی اور کو سمجھا ہے۔ اور موت وہلاکت کا دیوتا کسی اور کو، عجب نہیں کہ مشرکین عرب بھی کچھ اسی قسم کے عقائد میں مبتلا ہوں، اور یہ نہ ہو جب بھی (آیت) ” یتوفکم “۔ یہ پہلو نمایاں طور پر سامنے لارہا ہے کہ موت تمام تراسی خدائے برحق کے ہاتھ میں ہے۔ سابقہ اسی سے پڑنے والا ہے، ڈرنا اسی سے چاہیے۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنا رخ دین کی طرف خالصۃ کرلینا اور کہیں مشرکوں میں نہ ہوجانا،159۔

159۔ (آیت) ” ان اکون “ سے لے کر (آیت) ” من المشرکین “۔ تک برابر اسی مضمون کا بیان رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ہے کہ میری حیثیت واضع قانون کی نہیں صرف حامل قانون کی ہے، جو قانون حیات لیکر میں آیا ہوں خود بھی اس کے دائرہ نفاذ سے مستثنی اور مافوق نہیں ہوں۔ بلکہ سب سے پہلے تو خود ہی اس کے آگے سرجھکانے والا ہوں، (آیت) ” ان اکون من ال مومنین “۔ سے بہ قاعدۂ اشارۃ النص علماء نے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ ایمان وہی متعبر ہے، جو معیت مومنین میں اتباع نبی سے حاصل ہو، نہ وہ جو محض استدلال نظری وفلسفی سے حاصل ہوجائے۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے علاوہ کسی (اور) کو نہ پکارنا جو تجھے نہ نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے پھر اگر تو نے (ایسا) کیا تو یقیناً تو ظالموں میں ہوجائے گا،160۔

160۔ (اے مخاطب) خطاب یہاں عام ہے ہر ناظر قرآن سے۔ (آیت) ” مالا ینفعک ولا یضرک “۔ اس کے تحت میں ساری مخلوقات آگئیں۔ نفع رسانی وضرر رسانی حقیقۃ غیر اللہ میں سے کسی کے ہاتھ میں بھی نہیں۔ (آیت) ” الظلمین “۔ یعنی اپنی جانوں پر آپ ظلم کرنے والے۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں بجز (خود) اسی کے اور اگر وہ تجھے کوئی راحت پہنچا نا چاہے نہ کوئی اس کے فضل کا ہٹانے والا نہیں، وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے کردے، اور وہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،161۔

161۔ اللہ کے یہ صفات کمال جو ہر مسلمان کے نزدیک ایک معلوم ومعروف ومسلم حیثیت رکھتے ہیں، غیر مسلم ہمیشہ انہی صفات کے باب میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ اور آج بھی خدا معلوم کتنے انہی چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے اے لوگو، تمہارے پاس حق تمہارے پروردگار کی طرف سے پہنچ چکا،162۔ سو (اب) جو کوئی راہ ہدایت پر آجائے گا سو وہ بس اپنے ہی لیے ہدایت پائے گا اور جو کوئی بھٹکا رہے گا اس کے بھٹکنے کا (وبال) بھی اسی پر رہے گا اور میں تمہارے اوپر ظمہ دار (بنا کر) نہیں (بھیجا گیا) ہوں،163۔

162۔ (دلائل و شواہد کے ساتھ) (آیت) ” الحق من ربکم “۔ یعنی یہی پیام قرآنی اور وحی الہی (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب ایک بار پھر عام نسل انسانی سے ہے۔ پیام قرآنی کی عالمگیری پر ایک مزید دلیل۔ 163۔ شخصی ذمہ داری اور انفرادی جواب دہی کی ایک اور تاکید۔ کفارہ، توسل وغیرہ جو دوسرے مذاہب کی عین جان ہیں، ان پر ایک اور ضرب۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور آپ اس کی پیروی کئے جائیے جو آپ پر وحی کیا جاتا ہے اور صبر کئے رہے، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ صادر کردے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے،164۔

164۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) دنیا میں اس نے یہ فیصلہ آگے چل کر حکم جہاد و قتال کی صورت میں صادر کردیا۔ (آیت) ” واصبر۔ یعنی منکرین مکذبین کی اذیب رسانی پر صبر کرتے رہیے۔