Ayah 10:3761۔ کوئی غیر اللہ یعنی کوئی مخلوق، ایسے بےمثل وبیمثال کلام پر جو عبارت اور معنی دونوں کے اعتبار سے بےنظیر ہے، قادر ہی کب ہوسکتا ہے ؟ ایسی تصنیف کو کسی انسان کی جانب منسوب ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟
62۔ یہاں قرآن مجید کے خصوصیات مختصرا گنا دیئے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ سابق کتابوں اور کلاموں کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس میں احکام مکتوبہ ومفروضہ کی تفصیل ہے۔ تیسری یہ کہ اس کے اندر کہیں شک وشبہ کا گزر نہیں۔ ہر چیز اس کی یقینی ہے اور چوتھی یہ کہ یہ کتاب سارے عالم کے پروردگار کی جانب سے ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ یہاں احکام مکتوبہ ومفروضہ کے معنی میں ہے۔ اراد بتفصیل الکتاب مابین فی القران من الاحکام (قرطبی) اے ما کتب اثبت من الحقائق والشرائع (روح) اے ما کتب وفرض من الاحکام والشرائع (مدارک)
Ayah 10:3863۔ (اپنے اس دعوی میں کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے) جواب کا حاصل یہ ہے کہ قرآن اگر ایک انسانی دماغ تیار کرسکتا ہے تو کئی بلکہ سب انسانی دماغ مل کر تو اس سے کہیں چھوٹی چیز یعنی اس کی ایک سورة تو بہرحال تیار ہی کرسکتے ہیں۔ پھر ہمت ہو تو یہی کردکھاؤ ! (آیت) ” افترہ “۔ افتری میں ضمیر فاعلی رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے یعنی اس شخص محمد ﷺ نامی نے یہ کتاب اپنے ذہن سے گڑھ لی ہے۔ (آیت) ” سورة “۔ پر حاشیہ شروع تفسیر میں گزر چکے۔ (آیت) ” مثلہ “۔ مثلیت لفظی ومعنی ہر اعتبار سے مراد ہے۔ مثلہ فی البلاغۃ وحسن الارتباط وجزا لۃ ال معنی (روح) قرآن مجید کی معنوی حیثیت سے یہ مستقل تحدی تو سارے عالم کے لئے ہے۔ یعنی قرآن کی معنوی بلندی اور جامعیت کے لحاظ سے کوئی ایسی کتاب بھلا تیار تو کردکھائے۔ لیکن جہاں تک اس چیلنج کے ظاہری جزو کا تعلق ہے۔ یعنی فصاحت وبلاغت اور ادب وانشاء کی خوبیوں کا اس کے مخاطب صرف اہل زبان عرب ہیں، خصوصا نزول قرآن کے وقت کے عرب، جو ادبیت کے نشہ میں جھومتے رہتے تھے، اور جن کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا کمال ادبیت ہی کا کمال تھا۔
Ayah 10:3964۔ یعنی بجائے اس کے کہ ٹھنڈے دل سے اس کی اعجازی خصوصیات پر غور کرتے اور پوری تحقیق سے کام لیتے، چٹ اس کی تکذیب پر مستعد ہوگئے۔ المراد انہم سارعوا الی تکذیبہ من غیران یتدبروا ما فیہ (روح) (آیت) ” ولما یاتھم تاویلہ “۔ تاویل کے معنی اصل حقیقت کی طرف رجوع کے بھی ہیں اور مآل علمی وفعلی کے بھی، الرجوع الی الاصل (راغب) رد الشیء الی الغایۃ المراد ۃ منہ علما کان اوفعلا (راغب)
65۔ یہاں مراد مآل فعلی یا انجام سے لی گئی ہے۔ اور وہ عذاب الہی ہی ہے۔ اے ولم یاتھم حقیقۃ عاقبۃ التکذیب من نزول العذاب بھم (قرطبی) جو زان یراد بالتاویل وقوع مدلولہ وھو عاقبتہ (روح) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی ایسے ہی بےسوچے سمجھے تکذیب کرنے لگے تھے۔ ؛ اے مثل تکذیبھم من غیر تدبر وتامل (روح) (آیت) ” کذب الذین من قبلھم “۔ منکرین سابق نے اپنے اپنے زمانے کے انبیاء کی تکذیب اسی طرح کی تھی۔
Ayah 10:4066۔ یعنی ان سے جو ایمان لانے والے نہیں۔ اے من یصر علی کفرہ (قرطبی) اے بالمعاندین اوالمصرین (مدارک)
Ayah 10:4167۔ (تو جس طریقہ پر چاہو، قائم رہو) یہ آخری اور انقطاعی جواب ہے اس موقع کے لئے، جب سب دلائل پہلے پیش ہوچکے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل طریق اسی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ مخاطب محض ضد اور ہٹ سے کام لے رہا ہے۔ برخلاف اہل ظواہر کے کہ وہ مناظرہ کے موقع پر کبھی ایسی بات نہیں کہتے بلکہ ایسا کہنے میں اپنی شکست اور کسر شان سمجھتے ہیں۔
Ayah 10:4268۔ (یعنی ان کے دل ارادۂ ایمان وطلب حق سے بالکل خالی ہوں) (آیت) ” ومنھم من یستمعون الیک “۔ یعنی بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی بات سنیں گے اور سوچ سمجھ کر مان بھی لیں گے۔ آج یہ تصویر بہت سے ” مستشرقین “ یورپ پر، سیرت نبوی ﷺ اور شریعت اسلامی پر قلم اٹھانے والوں پر صادق آتی ہے۔ ان کی کتاب کی تمہیدوں، مقدموں، دیباچوں کو پڑھیے تو اپنے کو ظاہر کریں گے کہ یہ کسیے بےتعصب، انصاف پسند، تحقیق دوست ہیں، اور جوں جوں آگے بڑھتے جائیے، زہر ہلاہل کے انبار درانبار انہی اوراق میں ملتے جائیں گے۔
Ayah 10:4369۔ اندھے انہیں اسی لحاظ سے کہا گیا ہے کہ ان کے دل قصد ایمان اور حق طلبی سے خالی ہیں اور وہ دلائل حق کا مطالعہ ہی نہیں کرنا چاہتے۔ (آیت) ” ومنھم من ینظر الیک “۔ یعنی ان کے دیکھنے سے بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے کمالات، فضائل، معجزات کے مشاہدہ کے بعد ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 10:4470۔ (کہ اپنی فطری صلاحیتوں کو ضائع کردیتے ہیں اور ان سے کام نہیں لیتے) (آیت) ” ان۔۔۔۔ شیئا “۔ یعنی یہ کہ اللہ پہلے تو خود ہی انہیں صلاحیت ہدایت سے محروم رکھے اور پھر ان سے مؤاخذہ کرنے لگے۔
Ayah 10:4571۔ (اس دنیا میں) یعنی باوجود دنیا میں بڑی بڑی طویل عمریں پانے کے جب وہ حشر میں اٹھائے جائیں گے اور خواب برزخ وخواب ناسوت دونوں سے بیدار ہوں گے، تو اب انہیں اپنے اندازہ میں جو زمان حشر کے مطابق وماتحت ہوگا، ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے وہ دنیا میں کچھ رہے ہی نہیں۔ بہت رہے تو بس ایک گھڑی بھر۔ راوا ان طول اعمارھم فی مقابلۃ الخلود کساعۃ (قرطبی عن ابن عباس ؓ یعنی تقلیل لبثھم وذلک لھول ما یعاینون من شدائدالقیامۃ (بحر) یوم حشر چونکہ مدید بھی ہوگا اور شدید بھی، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا (تھانوی (رح) (آیت) ” ساعۃ “۔ بعض نے کہا کہ کوئی متعین مقدار مدت نہیں، بلکہ صرف قلت مدت بتانا مقصود ہے اور گھڑی بھر سے کنایہ تقلیل مدت ہی کا ہوتا ہے۔ اے شیئا قلیلا منہ فانھا مثل فی غایۃ القلۃ (روح) الوقت القلیل من الزمان (راغب) آج بھی انسان حالت نوم میں خواب کیسے بڑے بڑے دیکھتا ہے اور ان خوابوں میں کیسی کیسی طویل مدتیں طے کرتا ہے لیکن جب بیداری تام کے عالم میں آجاتا ہے تو احساس یہ ہوتا ہے کہ ابھی دم بھر ہی سویا تھا۔ احساس زمان ہر عالم میں دوسرے عالم سے مختلف اور اپنے مخصوص ماحول کا تابع ہوتا ہے۔ امام رازی (رح) نے اس مقام پر ایک مفصل کلام کرکے جو اصل تفسیر کبیر ہی میں قابل ملاحظہ ہے، آخر میں لکھا ہے۔ فنقول انہ متی قوبلت الخیرات الحاصلۃ بسبب الحیاۃ العاجلۃ بالافات الحاصلۃ للکافر وجدت اقل من اللذۃ بالنسبۃ الی جمیع العالم فقولہ کان لم یلبثوا الاساعۃ من النھار اشارۃ الی ما ذکرناہ من قلتھا وحقار تھا فی جنبہ ماحصل من العذاب الشدید (کبیر)
72۔ (اور اس پر بھی ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے) وقت ہی ایسا نفسی نفسی کا ہوگا۔ آج بھی انتہائی کرب واذیت میں ابتلاء کے وقت نہ بھائی بھائی کو پوچھتا ہے نہ باپ بیٹے کے کام آتا ہے، ہر ایک کو بس اپنی ہی فکر پڑجاتی ہے۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید کی دوسری آیتیں ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ حشر میں کوئی ایک دوسرے کو پوچھے گا بھی نہیں۔ وہ آیتیں اس آیت کے معارض نہیں بلکہ اور اسکا تکملہ کرتی ہیں۔
73۔ (اور اسی لئے اپنی زندگی واشغال زندگی کے سارے پروگرام میں کوئی دفعہ یاد آخرت کی آنے ہی نہ دی)
Ayah 10:4674۔ (اور اس لئے اگر انہیں دنیا میں پوری سزا نہ بھی ملی، جب بھی اس آخری موقع پر تو ضرور ہی مل کررہے گی) (آیت) ” واما۔۔۔ نعدھم “۔ یعنی خواہ آپ ﷺ کی حیات ہی میں کچھ حصہ عذاب موعود کا ان منکرین ومکذبین پر آبھی جائے چناچہ معرکہ بدر، فتح مکہ وغیرہ متعدد واقعات آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ایسے پیش آکر رہے جن میں مکذبین منکرین کو ہر طرح ذلت، رسوائی، شکست نقصان جانی ومالی ہی نصیب رہا۔ (آیت) ” او نتوفینک “۔ یعنی اس نزول عذاب کے قبل ہی آپ ﷺ کو اٹھالیں اور اپنے وعدۂ فتح اسلام، ہزیمت کفار کی تکمیل آپ ﷺ کے بعد کریں، چناچہ خلفائے راشدین کے عہد میں یہ تکمیل ہو کر رہی۔ اعلم ان ھذا یدل علی ان تعالیٰ یری رسولہ انواعا من ذل الکافرین وخزیھم فی الدنیا وسیزید علیہ بعد وفاتہ ولا شک انہ حصل الکثیر منہ فی زمان حیاۃ رسول اللہ ﷺ وحصل الکثیر ایضا بعد وفاتہ (کبیر)
Ayah 10:4775۔ پوری طرح تبلیغ احکام اور اتمام حجت کے بعد سرکشوں اور باغیوں پر اجراء سزا میں کوئی سوال ہی ظلم اور زیادتی کا باقی نہیں رہ جاتا۔ (آیت) ” ولکل امۃ “۔ امت سے مراد امت مکلف ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر وہ امت جسے ارادۂ الہی نے مکلف بنانا چاہا، اسے پہلے تبلیغ ضرور کی گئی، وقد یقال ان المراد میں کل امۃ کل جماعۃ اراد اللہ تعالیٰ تکلیفھا (روح) اس تشریح کے بعد یہ سوال خود بخود ہوجاتا ہے کہ جو لوگ دور رفترۃ میں (یعنی نبی کے وجود سے پیشتر) گزرے ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا ؟۔۔۔ جواب بالکل ظاہر ہے کہ جب ان پر تبلیغ ہی نہیں ہوئی تو وہ لوگ مکلف ہی نہیں ٹھیرے۔ ان سے سوال صرف ان کی استعداد وفہم وبصیرت کے مطابق ہوگا۔ (آیت) ” رسول “۔ رسول یہاں اصطلاحی معنی میں نہیں لغوی معنی میں ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے پیام حق پہنچا دینے والا اور اس عموم کے تحت میں رسول اصطلاحی اور اس کے نائب، شاگرد وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ محققین نے یہیں سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ جن ملکوں اور قوموں میں ” رسول “ (بہ معنی اصطلاحی) کے آنے کی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے احتیاط اسی میں ہے کہ وہاں کے مشہور ہادیوں اور رہبروں کے باب میں سکوت اختیار کیا جائے۔ احتمال ہے کہ وہ لوگ رسول ہی ہوں یا ممکن ہے کہ نائب رسول ہوں۔ اخذ منہ المحققون الاحتیاط بکف اللسان عن من لم یعلم حالہ من القرون الاولی فی اقالیم لم یعرف بعث الرسل فیھا لاحتمال کو نھم رسلا الی اھل تلک الاقالیم (روح) (آیت) ” قضی بینھم بالقسط “۔ اور وہ فیصلہ حق و انصاف کے مطابق یہی ہے کہ سرکشوں، باغیوں، طاغیوں کو مبتلائے عذاب کیا جائے۔ (آیت) ” قضی بینھم بالقسط “۔ اور (آیت) ” وھم لایظلمون “۔ دو دو فقروں کا لانا تاکید کلام کے لئے ہے۔ اور اس امر کے بالکل صاف کردینے کو کہ خدائی عدالت میں ظلم ممکن ہی نہیں۔ فالتکریر لاجل التاکید والمبالغۃ فی نفی الظلم (کبیر)
Ayah 10:4876۔ سوال بہ طور استفسار حال اور بہ غرض اظہار حقیقت نہیں بلکہ تعریض وتکذیب کی غرض سے ہے۔ (آیت) ” کنتم صدقین “۔ سوال کے مخاطب تنہا رسول اللہ ﷺ نہیں، بلکہ جماعت مومنین بھی ہے۔ چناچہ صیغہ جمع اسی لئے ہے۔
Ayah 10:4977۔ (اور بس اتنے ہی نفع ونقصان پر قادر ہوتا ہوں، تم پر عذاب لے آنا میرے اختیار میں کہاں) یہ بےاختیاری عین شان عبدیت کے مطابق، جب افضل البشر بلکہ افضل الرسل کی تھی تو مشائخ واولیاء امت کو اپنے اعتقاد میں مرتبہ خدائی پر پہنچا دینے والے حضرات ذرا اپنیا انجام پر غور کرلیں۔
78۔ (بلکہ وقت معین آجانے پر فورا ہی عذاب واقع ہوجاتا ہے) (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی نافرمان و سرکش ہر امت کے مٹنے اور برباد ہونے کا ایک معین ومقرر وقت علم الہی میں ہے۔ (آیت) ” امۃ “۔ کے عام لفظ سے مراد وہی عذاب زدہ امتیں ہیں۔ اے من الامم الذین اصروا علی تکذیب رسلھم (روح) (آیت) ” ساعۃ “۔ ساعت سے یہاں مراد کوئی متعین وقت ایک گھڑی یا گھنٹہ کا نہیں بلکہ زمانے کا مطلق چھوٹے سے چھوٹا وقت مراد ہے۔ اے شیئا قلیلا من الزمان (روح) الوقت القلیل من الزمان (راغب)
Ayah 10:5079۔ یعنی عذاب الہی تو بڑی سخت اور پناہ مانگنے کی چیز ہے یہ اس کے لئے جلدی مچانے کے کیا معنی ؟ عارفین نے یہیں سے یہ اشارہ نکالا ہے کہ معصیت سے توبہ و استغفار میں اور عمل خیر کے اختیار میں توقف بلاضرورت ایک دم کا بھی نہ کیا جائے اس لئے کہ وقوع عذاب کے لئے کوئی علامت اور مہلت شرط نہیں، معصیت کے صدور کے ساتھ ہی جس قدر جلد ممکن ہو تو بہ تدارک پر متوجہ ہوجائے۔ (آیت) ” منہ “۔ ضمیر عذاب کی طرف ہے والضمیر فی منہ قیل یعود علی العذاب (قرطبی)
Ayah 10:5180۔ (اور اس وقت کی تصدیق اضطراری کچھ نفع نہ دے سکے گی، اس وقت تو اپنے کو تصدیق پر مضطر ومجبور پاؤ گے (آیت) ” ثم “۔ کی ایک قراۃ (آیت) ” ثم “۔ (بالفتح) بھی آئی ہے۔ بہ معنی ھنالک۔
81۔ یعنی اب اتنا کیوں گھبرائے ہوئے ہو، اور بدحواس ہورہے ہو، تم تو خود اسی عذاب کی طنزا فرمائشیں کیا کرتے تھے !۔ شریعت کا یہ مسلم مسئلہ ہے کہ جب ملائکہ عذاب نظرآنے لگیں اور عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوجائے، تو بہ و ایمان مقبول نہیں۔ بہ تستعجلون علی سبیل السخریۃ والا ستھزآء (کبیر)
Ayah 10:5282۔ یہ کہنے والے عذاب کے فرشتے ہوں گے۔ اے تقول لھم خزنۃ جھنم (قرطبی) (آیت) ” للذین ظلموا “۔ یعنی مشرکین سے۔ (آیت) ” بما کنتم تکسبون “۔ یعنی تمہارے کفر وبے دینی کا بدلہ۔ اے جزاء کفرکم (قرطبی)
Ayah 10:5383۔ (کہ وہ تم کو عذاب کی گرفت میں لینا چاہے اور تم بچ جاؤ) (آیت) ” یستنبؤنک “۔ سوال اور اظہار حیرت واستعجاب سے مقصود دریافت حال نہیں، بلکہ تکذیب وتعریض تھی۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر عذاب کی طرف ہے۔ الضمیر عائد علی العذاب (بحر) اے العذاب الموعود (روح) (آیت) ” ای “۔ موقع اثبات میں تاکید وتحقیق کے مفہوم میں آتا ہے جیسے اردو میں زور دینے کے موقو پر ہاں، ہاں (ہاں مکرر) آتا ہے۔ کلمۃ تحقیق وایجاب وتاکید بمعنی نعم (قرطبی)
Ayah 10:5484۔ فیصلہ روز جزاء باوجود اپنی ساری ہولناکیوں کے بہرحال عادلانہ ہی ہوگا۔ یہ نہیں ہوگا کہ کسی کے حق میں سزا کی زیادتی ہوجائے جیسا کہ غضبناک دیوی، دیوتاؤں کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ولو ان۔۔۔ بہ “۔ یوم قیامت کے ہول وشدت کا بیان ہورہا ہے کہ بالفرض سارے روئے زمین کا خزانہ بھی مشرکوں کے پاس ہو۔ تو اپنی جان بچانے کو اس سب کے دے ڈالنے پر وہ آمادہ ہوجائیں گے۔ (آیت) ’ ’ کل نفس ظلمت “۔ یعنی ہر ہر مشرک۔ اے اشرکت وکفرت (قرطبی) (آیت) ” اسروالندامۃ “۔ یہ ندامت کا اخفاء مزید فضیحت ورسوائی کے خوف سے ہوگا۔ اور ندامۃ سے مراد ندامت کے آثار ظاہری ہیں، رونا دھونا، منہ پیٹنا وغیرہ۔ المراد اخفاء اثارھا کالبکاء وعض الید (روح) (آیت) ” لما راوالعذاب “۔ محققین نے یہاں یہ قید لگا دی ہے کہ یہ اخفاء ندامت شروع شروع ہوگا۔ ورنہ بعد کو جب عذاب میں پڑلیں گے تو اس پر بھی قادر نہ رہیں گے اور اس قید کے بعد اس آیت اور ان آیتوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا جن میں مشرکوں منکروں کے جزع وفزع کا بیان ہے۔ وھذا قبل الاحراق بالنار فاذا وقعوا فی النار الھتھم النار عن التصنع (قرطبی) (آیت) ” قضی بینھم بالقسط “۔ سے مفسرین نے یہ مراد بھی لی ہے کہ کافروں کے بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان سرداروں اور چیلوں کے درمیان فیصلہ حق و انصاف ہی سے ہوگا۔ اے بین الرؤساء والسفل بالعدل (قرطبی)
Ayah 10:5585۔ (چنانچہ وہ اپنی جس مخلوق کے ساتھ جو تصرف اور جو سلوک چاہے کرے، اس کا ہر عمل عادلانہ ہی ہوگا، خواہ انسانی معیار سے غیر عادلانہ ہی نظر آئے) (آیت) ” الا۔ حرف تنبیہ ہے۔ فقرہ کے شروع میں لایا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ آگے کوئی بہت اہم حقیقت بیان کی جارہی ہے جسے خاص توجہ سے سننا چاہیے۔ کلمۃ تنبیہ للسامع ترادفی اول الکلام اے انتبھوا لما اقول لکم (قرطبی)
86۔ یعنی ایسے قطعی اور یقینی حقائق سے بھی غافل وبے خبر ہیں۔ (آیت) ” ان وعد اللہ حق “۔ سو قیامت اپنے وقت معین پر ضرور واقع ہو کر رہے گی۔
Ayah 10:5687۔ (نہ کہ مسیح ابن اللہ کی طرف، اگنی دیوتا کی طرف یا کسی اور کی بھی طرف) کثرت سے جاہلی مذہبوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ موت کے بعد انسان کو مرجع کوئی اور ذات ہے، خالق کردگار کے علاوہ، یہاں اسی کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” ھو یحی ویمیت “۔ مشرکوں کی طرح یہاں یہ نہیں کہ خدا کی خدائی تین حصوں میں تقسیم ہو۔ ایک خدا پیدا کرنے والا ہو۔ ایک خدا قائم، سلامت رکھنے والا، اور ایک خدا موت وہلاکت لانے والا۔ یہاں پیدا کرنا، باقی رکھنا، فنا طاری کرنا سب ایک ہی خدائے واحد کا کام ہے۔
Ayah 10:5788۔ یہاں قرآن مجید کے چار اوصاف بیان ہوئے۔ (آیت) ” موعظۃ۔ شفآء۔ ھدی۔ رحمۃ “۔ یہ سب تنوین کے ساتھ صیغہ نکرہ میں ہیں یہ تنکیر ان کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ والتنکیر ھنا للتفخیم (روح) ان چار اوصاف کی تشریح میں صاحب روح نے بعض محققین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نفس انسانی کے لئے حصول کمال میں چار مرتبہ یا منزلیں ہیں اور ان میں سے ہر لفظ ایک ایک مرتبہ یا منزل کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ (1) پہلا مرتبہ، تہذیب ظاہر کا، یعنی معاصی سے اور اعمال بد سے بچنے کا ہے۔ موعظۃ اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے۔ (2) دوسرا مرتبہ تہذیب باطن کا، یعنی اخلاق ذمیمہ و عقائد فاسدہ سے بچنے کا ہے۔ اس کو (آیت) ” شفآء لما فی الصدور “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (3) تیسرا مرتبہ عقائد حقہ واخلاق فاضلہ سے آراستہ ہونے کا ہے۔ یہ منزل ھدی کی ہے۔ (4) چوتھا مرتبہ انوار الہی سے جگمگا اٹھنے کا ہے اور یہ حاصل ہے مقام رحمۃ کا۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب کا عموم ملحوظ رہے۔ یا ایھا العرب ارشاد نہیں ہورہا ہے مخاطب ساری دنیا ہے، کوئی مخصوص قوم وملک نہیں۔ (آیت) ” موعظۃ “۔ یعنی ایسی کتاب جو برائیوں سے روکنے اور نیکیوں کی ترغیب کے لئے ایک مکمل نصیحت نامہ ہے، افراد واشخاص کے حق میں بھی اوراقوام وجماعات کے حق میں بھی۔ (آیت) ” شفآء لمافی الصدور “۔ یعنی ایسی کتاب کہ اگر اس کی ہدایتوں پر عمل ہو تو ہر قسم کے امراض قلب اور عوارض باطن کو، خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی شفاء ہوجائے۔ (آیت) ” لل مومنین “۔ کی قید اس لئے کہ مومنین ہی تو اس کی ان صفات سے استفادہ کریں گے۔
Ayah 10:5889۔ دنیا کا نفع اول تو قلیل اور پھر فانی، قرآن کا نفع ایک تو کثیر اور پھر باقی۔ (آیت) ” بفضل۔۔۔ فلیفرحوا “۔ ذلک سے اشارہ اسی فضل ورحمۃ ہی کی جانب ہے۔ اور مقصود اس ترکیب کلام میں تاکید وزور ہے۔ ورنہ یہی مفہوم سادہ صورت میں (آیت) ” فبذلک “۔ کے بغیر بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ فقرہ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز پر اگر خوش ہونا ہی ہے تو وہ یہی ہے نہ کہ کچھ اور۔ ترکیب کلام نے معنی حصر کے پیدا کردیئے۔ والاصل ان فرحوا بشیء فبذلک لیفرحوا لا بشیء اخر (روح) قولہ فبذالک فلیفرحوا بقید الحصر یعنی یجب ان لا یفرح الانسان الا بذلک (کبیر) (آیت) ” بفضل اللہ وبرحمتہ “۔ فضل اور رحمۃ دونوں سے اشارہ یہاں قرآن مجید ہی کی جانب ہے اور اسی کے لئے حکم ہورہا ہے کہ جب ایسی نعمت مل گئی تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ لفظ چونکہ دو ہیں۔ اس لئے یہ قول بھی اکابر ہی سے منقول ہے کہ ایک یعنی فضل سے مراد قرآن ہے اور دوسرے یعنی رحمۃ سے مراد اسلام ہے۔ قال ابوسعید الخدری ؓ وابن عباس ؓ فضل اللہ القران ورحمتہ الاسلام (قرطبی) (آیت) ” فلیفرحوا “۔ فرح کی متعدد قسمیں ہیں، فرح حقیقی وکامل وہی کہی جائے گی جو اعلی فرحت روحانی ہے۔ اور یہاں وہی مراد ہے۔ ثبت ان الفرح بالذات الجسمانیۃ فرح باطل واما الفرح الکامل فھو الفرح بالروحانیات والجواھر المقدسۃ وعالم الجلال ونور الکبریاء (کبیر)
Ayah 10:5990۔ مشرک جاہلی قوموں نے ماکولات کے حرام و حلال کے باب میں بڑا گڑ بڑ کیا ہے۔ اس لئے قرآن مجید نے اس پر بار بار گرفت کی ہے۔ اور بار بار صراحت کی ہے کہ حرام تو بس وہی چیزیں ہیں جنہیں شریعت الہی حرام قرار دے نہ کہ وہ جنہیں تم اپنے دل سے گڑھ کر حرام ٹھیرا رہے ہو۔ اتنی دور رس اور دقیقہ رس نگاہ جو غذاؤں کے قرب وبعد، جلی وخفی، سارے فوائد ونقصانات پر محیط ہو، بجز شریعت الہی کے اور کہیں ممکن نہیں، بعض کج فہموں نے آیت کو نفی قیاس فقہی کے موقع پر پیش کیا ہے اور استنباط مسائل کو اس کی رو سے ناجائز ٹھیرانا چاہا ہے۔ حالانکہ فقیہ کی اصل دلیل تو نصوص ہی ہوتے ہیں وہ صرف اپنے فہم وذکاء سے ان چیزوں کو باہر نکال لیتا ہے جو ان کے اندر مخفی ہوتی ہیں۔ بنیاد تو بہرحال کلام باری ہی رہتا ہے۔ استدل بھذہ الایۃ من نفی القیاس وھذا بعید فان القیاس دلیل اللہ تعالیٰ فیکون التحریم والتحلیل من اللہ تعالیٰ (قرطبی) ربما احتج بعض من نفاۃ القیاس بھذہ الایۃ فی ابطالہ لانہ زعم ان القائس یحرم بقیاسہ ویحل وھذا جھل من قائلہ لان القیاس دلیل اللہ تعالیٰ کما ان حجۃ العقل دلیل اللہ تعالیٰ وکالنصوص والسنن کل ھذہ دلائل فالقائس انما یتبع موضع الدلالۃ علی الحکم فیکون اللہ ھو المحرم والمحلل بنصبہ الدلیل علیہ (جصاص) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ان غالی صوفیہ کا رد ہے، جو مباحات کو بر بناء تقشف وتزہد اپنے اوپر اعتقادا یا عملا حرام کرلیتے ہیں۔ ہاں بہ طور اپنے معالجہ کے کوئی شخص اپنے لئے کسی چیز کو ترک کردے تو وہ اس سے مستثنی ہے۔
Ayah 10:6091۔ (اور اس سے ڈرتے نہیں، تو کیا یہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت آئے ہی گی نہیں یا آئے گی مگر ان سے کچھ تعرض نہ کرے گی ؟ )
92۔ (چنانچہ سب سے بڑی ناشکری یہی ہے کہ اپنی اصلاح کرنا الگ رہا، اس خبر ہی پر نہیں یقین کرتے اور نہ اس پیش خبری کی کوئی قدر کرتے ہیں) (آیت) ” ان۔۔۔۔ الناس “۔ چناچہ اسی فضل کا مقتضاء یہ ہے کہ اس نے انہیں اتنے قبل سے وقوع قیامت کی اطلاع، اور منکرین کو توبہ واصلاح کی پوری مہلت دے دی۔
Ayah 10:6193۔ (تو ہم کو کسی کے بھی حال سے کسی حال میں غافل نہ سمجھنا) قرآن مجید کی متعدد آیتوں کی طرح یہ آیت بھی پوری طرح واضح اس وقت ہوتی ہے، جب اہل ضلال کے عقائد بھی پیش نظر ہوں، بعض جاہلی قوموں کا عقیدہ ہے کہ خدا تو ہے اور صفت علم سے متصف بھی ہے لیکن اس کا علم صرف قدیم ہے۔ اس کی واضح تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم اس وقت بھی ہوتا رہتا ہے، جو کوئی فعل واقعۃ وعملا وقوع میں آنے لگتا ہے۔ (آیت) ” وما تتلوا منہ من قران “۔ رسول اللہ ﷺ کے احوال تو سب ہی اعلی تھے لیکن قرآن مجید پڑھنا اور قرآن کے ذریعہ تبلیغ وہدایت کرنا ان میں بھی ایک درجہ امتیاز رکھتا تھا۔ اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا گیا۔ التلاوۃ اعظم شؤنہ ﷺ ولذاخصت بالذکر (روح) (آیت) ” منہ ضمیر شان کی طرف ہے۔ جن مفسرین نے قران کی بابت سمجھی ہے وہ ” من قران “ کی تکرار سے تعظیم وتفخیم مراد لیتے ہیں۔ والضمیر للشان (کشاف) قال الفراء والزجاج الھاء فی منہ تعود علی الشان (قرطبی) من قران اعاد تفخیما کقولہ انی انا اللہ (قرطبی) (آیت) ” ولا تعملون “ خطاب ابھی صیغہ واحد (آیت) (ما تکون۔۔۔ ما تتلوا “ ) میں رسول اللہ ﷺ کی جانب تھا۔ اب صیغہ جمع میں آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی ساری امت سے بھی ہوگیا۔
94۔ (شروع ہی سے مندرج) ایک گمراہی کا ابھی ابھی (آیت) ” شھودا اذ تفیضون فیہ “۔ سے سد باب ہوچکا ہے اور بتایا جاچکا ہے کہ حق تعالیٰ کا علم صرف قدیم ہی نہیں بلکہ عین حدوث واقعات کے وقت بھی ہوتا رہتا ہے۔ اب اس کے مقابل کی دوسری گمراہی کی تردید ہورہی ہے اور (آیت) ” فی کتب مبین “۔ لاکر یہ ارشاد ہورہا ہے کہ حق تعالیٰ کا علم صرف حدوث کے وقت نہیں ہوتا جیسا کہ اہل ضلال سمجھ رہے ہیں بلکہ روز ازل سے چھوٹی بڑی ہر شے لوح محفوظ میں ثبت ہے۔ یعنی اللوح المحفوظ مع علم اللہ تعالیٰ بہ (قرطبی) (آیت) ” وما یعزب۔۔۔ السمآء “۔ یعنی چھوٹی بڑی، ہر مقدار اور ہر بساط کی شے علم الہی میں موجود ہے۔ کوئی شے بھی اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔ جاہلی قومیں کثرت سے ایسی ہوئی ہیں جنہوں نے خدا کو تو مانا ہے لیکن محدود العلم، ناقص العلم اور یونان ومصر کے فلسفیوں تک کو یہ تسلیم کرنے میں باک نہیں رہا ہے۔ آیت انہیں گمراہیوں کی تردید کررہی ہے۔ (آیت) ” فی الارض ولا فی السمآء “۔ عرف عام میں اس سے مراد دائرہ وجود وامکان ہوتا ہے۔ اور قرآن بھی انسانی ہی محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کوئی چیز کہیں بھی ہو۔ اے فی دائرۃ الوجود والامکان والتعبیرعنھا بالارض والسماء لان العامۃ لا تعرف سواھما (ابوسعود)
Ayah 10:6295۔ یعنی نہ آنے والے مہلکات و حوادث کا کوئی اندیشہ اور نہ چھوٹ جانے والی چیزوں کا کوئی غم، صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ حزن (غم) پیدا ہوتا ہے ناکامی مدعا سے اور عاشقان سوختہ جان کوئی آرزو ہی نہیں رکھتے جو انہی نامرادی کا اندیشہ ہوسکے۔ اسی طرح خوف پیدا ہوتا ہے۔ امر مکروہ کے پیش آجانے سے۔ محبین عارفین تو بجز محبوب کے اور کسی کا وہم بھی نہیں رکھتے تو محبوب اور اس کے عشووں اور اداؤں سے خوف کے کیا معنی۔
Ayah 10:6396۔ (کفر ومعصیت سے) ابھی ابھی ذکر اولیاء اللہ کا آچکا ہے۔ اب ان کی پہچان بھی بتادی۔ وہ کیا ہے وہ صرف ایمان اور تقوی۔ آیت کو مکرر پڑھ کر غور کرلیا جائے، ولایت کی علامتیں کیا ارشاد ہورہی ہیں، نہ عوام کو خوش کرنے والی کرامتیں، نہ عامۃ الناس کو حیرت میں ڈال دینے والے خوارق بلکہ صرف ایمان اور تقوی ! اللہ کا ولی کون ہوتا ہے اور اللہ کس کا ولی ہوتا ہے۔ اس پر امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے۔
Ayah 10:6497۔ یعنی یہی مقبولیت یا دونوں جہانوں میں محفوظیت اور اس محفوظیت کا وعدہ۔ اے ما ذکران لھم البشری فی الدارین (روح) (آیت) ” البشری “۔ یہ خوشخبری اسی خوف وحزن سے محفوظ رہنے کی ہے۔ اور خوف وغم سے مراد دنیوی خوف وغم ہے جس سے مومنین کاملین اس لئے محفوظ ہوجاتے ہیں کہ وہ ہر ناگوار سے ناگوار واقعہ میں بھی حکمت الہی ہی کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 10:6598۔ وہ منکرین کے طنز وتعریض اور آپ کی تبلیغ وموعظۃ سب سن رہا ہے ان کی شرارت وعناد اور آپ کا تحمل اور درد اصلاح سب اس پر روشن ہے۔ (آیت) ” ولا یحزنک قولھم “۔ کفریات سے آپ ﷺ کا مغموم ہونا بالکل ایک امر طبعی تھا۔ آپ ﷺ کی اسی سے تسلی کی جارہی ہے۔ (آیت) ” ان العزۃ للہ جمیعا “۔ اور وہی اپنی قدرت سے آپ کی اور اسلام کی نصرت وحمایت کرے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کسی دوسرے میں جو عزت بہ ظاہر نظر آتی ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے اور وہ غیر اس کی عزت کا ایک مظہر ہے جیسے ضیاء درحقیقت آفتاب کی صفت ہے اور زمین پر ایک گونہ تعلق یا سبب اس کا ظہور ہوجاتا ہے۔
Ayah 10:6699۔ انسان، جنات، ملائکہ کوئی مخلوق کیسی ہی پر عظمت ہو بہرحال سب حق تعالیٰ ہی کے مملوک ہیں۔ اس کے وعدۂ حفاظت یا اس کے وعید مکافات کے درمیان کس کی مجال ہے جو حائل ہوسکے۔
100۔ حقایق کے حامل اور مالک تو صرف اہل ایمان ہیں، ایمانیوں کے علاوہ جو بھی ہیں، ان کے پاس بجز ادہام، ظنون، نظریات ومفروضات کے اور ہے کیا ؟ فقہاء نے لکھا ہے کہ اٹکل یا اندازہ کا درجہ شریعت میں تو بس اس قدر ہے کہ بندوں کے معاملات کے چکانے میں اس سے کام لے لیا گیا، باقی اثبات حق واسقاط حق میں ظن وتخمین کا کچھ دخل نہیں۔ (آیت) ” وما یتبع الذین “ الخ۔ یعنی ان کے پاس دلیل یا بنیاد ہے کیا ؟ قرآن مجید نے شرک پر یہ گرفت بار بار کی ہے۔ توحید پر تو ماشاء اللہ قوی سے قوی دلیلیں کثرت سے موجود ہیں۔ لیکن شرک پر آخر کونسی دلیل موجود ہے ؟
Ayah 10:67101۔ (حق تعالیٰ کی توحید اور صفت اور قدرت کا) (آیت) ” ھو الذی۔۔۔ مبصرا “۔ دن اور رات نہ کوئی دیوی دیوتا ہیں، نہ نور وظلمت کوئی دو خدا یا دو خداؤں کے مظہر یا دو خداؤں کی مخلوق ہیں، وقت کے یہ دونوں حصہ خدائے واحد کی اسی طرح مخلوق ہیں جس طرح اور سب مخلوقات ہیں اور دونوں کی خلقت کی غرض انسان ہی کے کام آنا ہے۔ (آیت) ” الیل لتسکنوا فیہ “۔ رات تو اسی کے لئے ہے کہ انسان اس میں آرام واستراحت کرے اور دن بھر کی مشقت کے بعد کسل دور کرکے دوسرے دن کے لئے تازہ دم ہوجائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صوفیہ عارفین نے اس سے یہ اشارہ نکالا ہے کہ بجائے ساری رات جاگنے کے کچھ دیر سورة نا بہتر ہے کہ اس میں مصلحت الہی اور ادب کی رعایت زیادہ ہے۔ (آیت) ” مبصرا “۔ یعنی جس کی روشنی میں انسان دیکھ بھال سکتا ہے۔ اے مضیئا لتھتدوا بہ فی حوائجکم۔ (قرطبی) (آیت) ” فی ذلک “۔ یعنی انہی حقائق میں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 10:68102۔ ساری موجودات بڑی ہو یا چھوٹی بشری ہو یا غیر بشری اللہ کے ساتھ نسبت صرف مخلوقیت اور مملوکیت کی رکھتی ہے نہ کہ معاذاللہ کسی طرح کی قرابت اور عزیز داری کی۔۔ دیوتاؤں کے ساتھ فوق البشر انسانوں کی قرابت عزیز داری مذاہب جاہلی کا بہت قدیم اور مشترک عقیدہ ہے قرآن بار بار مختلف طریقوں سے اس عقیدہ پر ضرب لگاتا رہتا ہے۔ (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ یہ کہنے والے اور عقیدہ رکھنے والے بت پرست مشرکین ہی تھے اور مسیح پرست مسیحیوں کے بعض فرقے بھی۔ اتخاذ ولد پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ پارہ اول آیت نمبر 116 میں اسی آیت پر گزر چکا ہے ضرور ملاحظہ فرمالیاجائے۔ (آیت) ” سبحنہ “۔ حق تعالیٰ پاک ومنزہ ہے مخلوقات کے ساتھ کسی قسم کی نسبت قرابت رکھنے سے ! للکارا اور پھٹکارا ہے اہل باطل کو کہ کیسے جہل وسفاہت میں مبتلاہو ایک طرف تو خدا کو خدا کہے جاتے ہو اس کی قدرت کا کلمہ بھی پڑھتے ہو اور پھر اسے اس کا محتاج سمجھتے ہو کہ وہ دنیا کے لاولد لوگوں اور لاولدی سے نقصان محسوس کرنے و انسانوں کی طرح کسی کو گود لے کر اپنی لاولدی کی تلافی کرے ! (آیت) ” ھوالغنی “۔ خدائے اسلام تو ہر ممکن احتیاج سے ماوراء ہے اسے اتخاذولد کی (بیٹا بنانے کی) ضرورت ہی بھلا کیا پیش آسکتی ہے ! (آیت) ” لہ مافی السموت وما فی الارض “۔ اس کا تو سب ہی کچھ ہے کچھ ہے اعلی وادنی جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا مالک سب اس کے مملوک جس سے جو چاہے کام لے ملک کا تعلق تو فرزندی وتبنیت کے تعلق سے کہیں زیادہ قوی موجود ہے آخر ممکن ہی اس کے لئے کون سا ارمان ہے جس کے پورا کرنے کے لے اسے کسی کو گود لینے یا متنبی بنانے کی ضرورت پیش آئے۔
103۔ (کسی دلیل سے بھی) قرآن مجید نے جہاں ایک طرف اثبات توحید پر بیسیوں دلائل قائم کئے ہیں وہاں اہل شرک سے بار بار مطالبہ کیا ہے کہ تم اپنی باطل پرستی پر آخر دلیل ہی کونسی رکھتے ہو ؟ تم تو سراسر ایک دعوی بےدلیل کی پیروی میں مبتلا ہو۔ (آیت) ” ان عندکم “۔ میں ان نافیہ ہے۔ (آیت) ” من سلطن “۔ یعنی کوئی بھی دلیل۔ بھذا یعنی ایسے لغو و باطل دعوی کی ، (آیت) ” اتقولون علی اللہ “۔ قال کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی گڑھ لینے، جھوٹ جوڑ لینے کے ہوجاتے ہیں۔ قال علیہ اے افتری (تاج)
Ayah 10:69104۔ فلاح۔ حقیقی فلاح کم ازکم جس معنی میں عربی میں مستعمل ہے تو وہی ہے جو مستقل دیرپا اور دائمی ہو اور یہ کسی منکر مکذب مشرک کے نصیب میں نہیں۔ عارضی چند روزہ دنیوی عیش وتنعم جس کا خاتمہ یقینی طور ذلت ومصیبت پر ہے اسے فلاح ہرگز نہیں کہہ سکتے۔
Ayah 10:70105۔ (آیت) ” متاع فی الدنیا “۔ کہہ کر قرآن مجید نے منکر ومکذب قوموں کی بالکل تصویر کھینچ دی ہے، تفصیل کے لئے مطالعہ ہو روس اور امریہ اور برطانیہ اور اور بڑی بڑی ” مہذب “ ” ترقی یافتہ “ اقبال مند قوموں کا حال ان کے آپس کے رشک وحسد کا حال، ان کی حرام کاریوں کا حال، ان کی شراب نوشیوں کا حال، ان کی سود خواریوں کا حال، ان کے جرائم کا حال، ان کے ہاں کے امراض خبیثہ کا حال، ان کے ہاں کی اسٹرائیکوں اور ہڑتالوں کا حال، ان کے ہاں کی کثرت طلاق اور کثرت فواحش کا حال، ان کے ہاں کی معاشی ابتری اور بیروزگاری کا حال، اور پھر فیصلہ کیجیے کہ متاع دنیا کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ رکھنے کے بعد بھی ان منکرین حق کو باوجود اپنی انتہائی ” ترقیوں “ کے فلاح کسی معنی میں بھی حاصل ہے ؟ اور آج جو کج فہم ” ہمدردان قوم “ قوم وملت کو انہی ” ترقی یافتہ قوموں “ کی روش پر چلانا چاہتے ہیں وہ ملت کو فلاح کی جنت کی طرف لئے جارہے ہیں یا دنیا ہی میں دوزخ کے عذاب کی طرف ؟ قرآن مجید تو ہر جگہ اور بار بار یہی بتا رہا ہے۔ اور ہمارے مشاہدہ سے اس کی تصدیق کرا رہا ہے کہ جو قومیں ایمان صحیح اور تقوی سے عاری ہیں وہ عیش ابدی سے تو خیر محروم ہی ہیں دنیا میں بھی ان کا تنعم محض ظاہری وسطحی ہوتا ہے، اندر سے بالکل کھوکھلا ! متاع ‘۔ میں تنوین تقلیل کی ہے۔ والتنوین للتحقیر والتقلیل (روح) یعنی متاع دنیوی تو خود ہی قلیل ہے پھر منکریں کے حصہ میں اور بھی قلیل تر۔
Ayah 10:71106۔ (جس کا مذہب شرک وبت پرستی تھا) حضرت نوح (علیہ السلام) جن کا شمار قدیم ترین انبیاء میں ہے ان کی شخصیت ان کے زمانہ ان کے ملک وغیرہ پر حاشیے پیشتر گزر چکے۔
107۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب مسلسل اور بہت طویل تبلیغ کے بعد اپنی قوم سے عاجز آگئے ہیں اور مایوس ہوچکے ہیں تو اب اس سے انقطاعی گفتگو اس رنگ میں فرما رہے ہیں۔ (آیت) ” مقامی “۔ بعض مفسرین نے لفظ مقام سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تبلیغی وعظ اور خطبہ کھڑے ہو کردیا کرتے تھے، وعظ وخطبہ کے وقت کھڑے رہنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت منقول ہے۔ (آیت) ” فعلی اللہ توکلت “۔ تو اب میں تمہاری یا کسی کی بھی مخالفت سے کیوں ڈرنے لگا۔ مخلوق سے خوف کا اصلی علاج یہی توکل علی اللہ ہے، (آیت) ” فاجمعوا امرکم “۔ یعنی میرے ضرر پہنچانے کی جو جو تجویزیں اور تمہارے منصوبہ تمہارے ذہن میں ہوں انہیں پختہ کرلو۔ اجماع کے معنی میں کسی امر کے پختہ اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ قال الفراء الاجماع العزم علی الامر والاحکام علیہ (تاج) قال ابن عرفۃ اے اعزموا علیہ (تاج) امر سے مراد کافروں کی سازش اور اسکیم کی پختگی ہے۔ والمعنی امرھم بالعزم والاجماع علی فصدہ والسعی فی اھلا کہ (روح) (آیت) ” وشرکآء کم “۔ یعنی جن جن کو تم شریک خدائی سمجھتے ہو، ان سب کو بھی اپنی سازشوں اور منصوبوں میں شریک کرلو۔ ان کی منتیں مان لو، ان سے فریاد کر دیکھو، فال اور شگون ان کے استھانوں سے حاصل کرلو۔ ویہاں مع کے مرادف ہے۔ قال ابو اسحاق والو او بمعنی مع (تاج) والواوبمعنی مع (کشاف) قال ابواسحاق الزجاج المعنی مع شرکائکم (قرطبی) (آیت) ” لایکن امرکم علیکم غمۃ “۔ یعنی جو کچھ کرنا ہے۔ آزاد انہ کھلم کھلا کرگزرو، چرانے چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔ یعنی ولا یکن قصدکم الی اھلا کی مستورا علیکم ولکن مکشوفا مشھورا تجاھروننی بہ (کشاف) (آیت) ” ثم اقضوا الی “۔ جو کچھ تمہیں میرے ساتھ کرنا ہے کر گزرو۔ المراد ان وجھوا کل تلک الشرورالی (کبیر) قصہ میں تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کے لئے کہ انبیاء سابقین کو بھی ہجوم مخالفت سے کیسا کیسا دو چار ہونا پڑا اور اس عالم میں بھی وہ کیسے صابر اور ثابت قدم رہے۔ (آیت) ” ولا تنظرون “۔ یعنی جو کچھ کرنا ہے۔ جلد سے جلد کرگزرو۔ مہلت مجھے اب ذراسی بھی نہ دو ، اے عجلوا ذلک باشد ماتقدرون علیہ من غیر انظار (کبیر) اس قطعیت کے لب و لہجہ میں دشمنوں سے گفتگو وہی کرسکتا ہے جس کا رشتہ اللہ سے تمامتر جڑا ہوا ہو اور جو خلق کی قوت ضرر رسانی وقوت نفع رسانی دونوں سے یکسر بےنیاز ہوچکا ہو۔
Ayah 10:72108۔ پیغمبر قانون الہی کی پابندیوں سے مافوق وم اورا نہیں ہوتا، بلکہ ساری امت کی طرح وہ خود بھی اس کا پوری طرح پابند ہوتا ہے اس میں رد ہے جاہلی قوموں کا جو اپنے دیوی دیوتاؤں کو ہر اخلاقی قانون سے ماورا سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” فان۔۔۔۔ اجر “۔ سو تم مجھے تبلیغ سے روکنے کا حق ہی کیا رکھتے ہو ؟ کیا میں تم سے اس کی کچھ فیس مانگتا رہتا ہوں جس کے رک جانے کا مجھے اب اندیشہ ہو، خوف خلق کی نفی اوپر کی آیت میں ہوچکی تھی، طمع خلق کی نفی اب ہوگئی۔ پیغمبر خلق کے خوف اور طمع دونوں سے یکسر بےنیاز رہتا ہے۔ (آیت) ” فما سالتکم من اجر “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ جو امر دین میں واجب ہے، اس پر اجرت جائز نہیں اور ظاہر ہے کہ تبلیغ رسالت حضرات انبیاء پر واجب ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ “۔ میرا معاوضہ تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور اس نے اپنے کرم سے اس کا وعدہ کرلیا ہے۔ سو اب مجھے غم وفکر ہی کیا ؟
Ayah 10:73109۔ (روئے زمین پر) (آیت) ” فنجینہ۔۔۔ الفلک “۔ یعنی نوح (علیہ السلام) اور ہمراہیان نوح (علیہ السلام) کو عذاب طوفان وسیلاب سے نجات مل گئی۔ اس طوفان عظیم کے آثار قدیم ماہرین سائنس کو آج بھی ارض نوح (علیہ السلام) میں مل رہے ہیں، یہ طوفان ملک عراق میں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیانی علاقہ میں آیا تھا۔ اس علاقہ کا رقبہ، موجودہ ماہرین اثریات کے تخمینہ کے مطابق 400 میل طول میں اور 100 میل عرض میں تھا۔ (آیت) ” الفلک “۔ کشتی نوح (علیہ السلام) کا طول حسب تصریح توریت 300 ہاتھ کا عرض 50 ہاتھ کا اور بلندی 30 ہاتھ کی تھی، گویا یہ کشتی اتنی ہی بڑی تھی جیسے آج کل کے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان چلنے والے مسافروں کے جہاز یا (LINERS) عموما ہوتے ہیں۔ غرقابی قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد آپ کے مخلص رفیق پھر اسی علاقہ میں آباد ہوئے اور انہی سے سلسلہ نسل آدم (علیہ السلام) چلا۔ نوع انسانی کی آبادی تاریخ کے اس ابتدائی دور میں صرف اسی سرزمین کے حدود تک محدود تھی۔
110۔ یہ بیان کہ خداوند تعالیٰ نے غصہ ہو کر ساری نسل انسانی کو ہلاک کر ڈالنا چاہا، قرآن کا نہیں، بائبل ہی میں یہ تصریحات ملتی ہیں کہ :۔ ” خداوندزمین پر انسان کو پیدا کرنے سے پچھتایا اور نہایت دلگیر ہوا۔ اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا انسان کو اور حیوان کو بھی اور کیڑے مکوڑے اور آسمان کے پرندوں تک، کیونکہ میں ان کے بنانے سے پچھتاتا ہوں۔ “ (پیدایش 60: 5۔ 7) اسلام میں تو یہ عقیدہ ہی سرے سے کفر ہے کہ حق تعالیٰ بھی اپنے کسی عمل سے پچھتاتا ہے اور غرقابی کو تو قرآن مجید صراحت کے ساتھ مکذبین حق (آیت) ” (الذین کذبوا بایتنا) “ تک محدود رکھتا ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ روئے زمین پر کوئی آبادی ہی اس وقت تک بجز قوم نوح (علیہ السلام) کے نہ تھی، حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ کو ابھی کل دس ہی پشتیں تو ہوئی تھیں، خاندان انسانی اتنے عرصہ میں کہاں تک پھیل جاتا ؟ ایک ہی ملک کے اندر سمٹا سمٹایا ہوا تھا۔ غرقابی عام وعالمگیر رہی ہے یا اسی امت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص۔ یہ سوال متقدمین مفسرین کے سامنے بھی آچکا ہے اور محققین کی اکثریت شق ثانی ہی کی طرف گئی ہے اور ظواہر قرآن و حدیث بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ ھل عم جمیع اھل الارض اوکان لبعضھم وھم اھل دعوتہ المکذبین بہ کما ھو ظاھر کثیر من الایات والاحادیث قال ابن عطیۃ الراجع عند المحققین ھو الثانی وکثیر من اھل الارض کا ھل الصین وغیرھم ینکرون عموم الغرق (روح)
111۔ یعنی وہ مکذبین منذرین عذاب الہی سے کس طرح مٹ کر اور ہلاک وبرباد ہو کر رہے ! (آیت) ” المنذرین “۔ کی یہ تصریح پھر اسی حقیقت کا اعادہ کررہی ہے کہ عذاب کی ہدف وہی سرکش ونافرمان قوم ہی تھی۔ (آیت) ” فانظر “ یعنی دیکھ اور سوچ سمجھ اے مخاطب ! دیکھنے سے مراد سیاق میں ظاہر ہے کہ ظاہر کی آنکھوں سے رؤیت کرنا نہیں، بلکہ دل کی آنکھوں سے سبق لینا اور عبرت حاصل کرلینا ہے۔ نظر کا لفظ عربی میں ظاہری بصارت اور باطنی بصیرت دونوں کے لئے عام ہے۔ النظر تقلیب البصر والبصیرۃ لادراک الشیء ورؤیتہ (راغب) قرآن مجید میں غور تامل تفحص و تدبر کے معنی میں اس کا استعمال بہ کثرت ہوا ہے اور اردو محاورہ میں بھی ” دیکھنا “ دونوں مفہوموں کے لئے آتا ہے۔
Ayah 10:74112۔ اہل ضلال کی یہ ذہنیت آج تک چلی آرہی ہے۔ جہاں ایک بار بھی شروع میں بےسوچے سمجھے زبان سے ” نہیں “ نکل گئی۔ بس آخر تک وہی قائم رہے گی، چاہے ہزار شواہد و دلائل نظر سے گزر جائیں۔ (آیت) ” رسلا الی قومھم “۔ یہ سب قومی انبیاء تھے یعنی ان کے مخاطب انہی کے وطن یا قوم کے لوگ تھے۔ انسانیت اس وقت تک یوں ہی مستقل قوموں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور رسائل ومواصلات کے موجودہ ذرائع اس وقت یکسرنا پید تھے۔ ایک عالمگیر پیام، ساری نوع انسانی کے نام کا وقت ابھی فطرت کی جنتری میں آیا نہ تھا۔ فیہ اشارۃ الی ان عموم الرسالۃ الی البشرلم یثبت لاحد من اولئک الرسل علیھم الصلوۃ والسلام ظاھر کلامھم الاجماع علی ان ذلک مخصوص بنبینا ﷺ ولم یثبت لاحد ممن ارسل بعد نوح (روح)
113۔ مراد یہ ہے (جیسا کہ پیشتر بھی کئی بار عرض ہوچکا ہے) کہ چونکہ وہ اپنے قصد کو طلب حق میں نہیں، بلکہ اس کی مخالفت میں استعمال کرتے رہتے ہیں، اس لئے ان سے توفیق بھی قبول حق کی سلب ہوجاتی ہے۔
Ayah 10:75114۔ یعنی شرک و مخلوق پرستی اور حق دشمنی ونفس پرستی میں مبتلا۔ (آیت) ” بایتنا “۔ ” نشانیوں کا لفظ دلائل ومعجزات دونوں کے لئے عام ہے۔ (آیت) ” الی فرعون وملاۂ “۔ بائبل میں اس کی تصریح کہیں پر نہیں کہ ان دونوں پیغمبران برحق نے اپنے پیام توحید کی تبلیغ میں مصریوں کو بھی مخاطب کیا تھا حالانکہ یہ کیونکر ممکن تھا کہ جو اللہ کی توحید کا منادی ہو وہ اصلاح عقائد کی کوشش سب سے پہلے ہی مرتبہ پر نہ کرے۔ اور کفر، شرک اور ضلالتوں کو اسی حال پر چھوڑے رکھے۔ یہیں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کا جو حصہ نسبۃ محفوظ ہے اس میں بھی کیسے کیسے تغیرات وتصرفات ہوچکے ہیں۔ اور قرآن کس طرح ضروری ضروری موقعوں پر اس کی فروگزاشتوں کی اصلاح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” فاستکبروا “۔ یعنی ان کی بڑائی انہیں اس سے مانع ہوئی کہ وہ پیغمبروں کی تصدیق کرتے۔ فرعون لقب تھا مصر کے قبطی شہنشاہ کا، موسیٰ وہارون اسی نسل بنی اسرائیل سے تھے جو ہر طرح اس کی محکوم اور رعایا تھی، اپنے محکوموں اور ” غلاموں “ کی زبان سے اتنے بڑے روحانی منصب کا دعوی سننا حاکم قوم کی رعونت گوارا کیسے کرسکتی تھی۔
Ayah 10:76115۔ جاہلی قومیں فضائل اخلاقی و کمالات روحانی کی قدر تو بھلا کیا کرتیں انبیاء کے خوارق حسی جب دیکھتیں تو انہیں سحر وکہانت پر محمول کرنے لگتیں ہے فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست۔ (آیت) ” الحق من عندنا “۔ یعنی دین حق کی تبلیغ جس کے اندر احکام، دلائل، خوارق سب کچھ آگیا :۔