Ayah 22:73معبودانِ باطلہ کی تحقیر :
73: جب انکا دعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شرکاء تو عجیب و غریب اور مشہور ہونے میں ضرب الامثال کی طرح مشہور ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ (اے لوگو ! بیان کی جاتی ہے) واضح کی جاتی ہے۔ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ (ایک مثال تم اس کو غور سے سنو ! ) ہم یہ مثال بیان کرتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ (بیشک وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ )
قراءت : یعقوب اور سہل نے یدعون پڑھا ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) بطور معبود لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا (وہ ہرگز مکھی پیدا نہ کرسکیں گے)
نحو، صرف : نفی و تاکید مستقبل کیلے لنؔ استعمال ہوتا ہے اور اس کی مزیدتاکید اس طرح بھی ہے کہ تخلیقِ ذباب ان سے ناممکن ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے محال ان یخلقوا انکا مکھی پیدا کرنا ناممکن ہے۔
سوال : یہاں مکھی کی تخصیص کیوں کی گئی ؟
جواب : ان کی توہین، تذلیل اور ضعف و کمزوری اور انتہائی گندگی ظاہر کرنے کیلئے لائے۔ جو ایسی حقیر ذلیل چیز پر قدرت نہیں رکھتے وہ بڑی اعلیٰ چیز کیا بنا سکیں گے پس وہ معبود بننے کے حقدار نہیں ذباب کو ذباب کہنے کی وجہ جب اس کی گندگی کی وجہ سے اس کو بھگایا جائے تو استکبار کرتے ہوئے یہ واپس لوٹ آتی ہے۔ وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ (اگرچہ وہ تمام اس کے لئے جمع ہوجائیں) مکھی کو پیدا کرنے کیلئے۔ یہ جملہ محل نصب میں ہے کیونکہ حال ہے گویا تقدیر کلام یہ ہے مستحیل منہم ان یخلقوا الذباب مشروطًا علیھم اجتماعہم جمیعًا لخلقہٖ و تعاونہم علیہ ان سے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ مکھی کو پیدا کریں ان کے ذمہ شرط یہ ہے کہ وہ اس کی پیدائش کیلئے تمام جمع ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تب بھی تعاون کے باوجود وہ پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ آیت قریش کی تجھیل کیلئے انتہائی بلیغ ہے جب انہوں نے الوہیت کو تصا و یروتماثیل کے ساتھ موصوف کیا جن کو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے قلیل ترین پر بھی قدرت نہیں اگرچہ وہ تمام جمع ہوں۔ (حالانکہ الوہیت کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام مقدورات پر اقتدار و قبضہ اور ان کے متعلق تمام معلومات کا احاطہ ضروری ہے) اسی لئے فرمایا وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا (اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے)
نحو : شیًٔا یہ یسلبھم کا دوسرا مفعول ہے۔
لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہٗ (وہ اس سے چھڑوا نہیں سکتے) یعنی یہ چھوٹی اور حقیر مخلوق اگر ان سے کوئی چیز اچک کرلے جائے اور وہ تمام اس کے لئے جمع ہوں تاکہ اس سے وہ چیز واپس چھڑوائیں تو اس پر ان کو قدرت نہ حاصل ہوگی۔
قول ابن عباس ؓ : وہ اپنے بتوں پر زعفران ملتے اور ان کے سروں پر شہد جب مکھی اس سے لے جاتی تو وہ اس کے لینے سے تمام مل کر بھی عاجز تھے۔ ضَعُفَ الطَّالِبُ (کمزور ہے چاہنے والا) یعنی بت کیونکہ اس سے وہ مانگا جاتا ہے جو اس سے چھین لیا گیا۔ وَالْمَطْلُوْبُ (اور مطلوب) مکھی اس چیز کو طلب کرتی ہے جو اس نے چھیننا ہے۔ یہ اس طرح فرمایا گویا کہ کمزوری میں وہ اور مکھی برابر ہیں۔ اور اگر تحقیق کی نگاہ ڈالی جائے تو طالب بہت ہی زیادہ کمزور ہے بلکہ کمزور ترین ہے۔ اس لئے کہ مکھی تو حیوان ہے۔ اور وہ جماد اور وہ مغلوب مکھی غالب ہے۔
Ayah 22:74عاجز و عزیز کا مقابل کیسے ؟
74: مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے) انہوں نے اس کو اس طرح نہیں پہچانا جیسا پہچاننا چاہیے تھا۔ وہ اس طرح کہ اس کمزور بت کو اس طرح شریک بناڈالا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ البتہ زبردست قوت والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور قادر مطلق ہیں پھر کس طرح عاجز و مغلوب کو اس کے مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ اپنے اولیاء کی نصرت کی طاقت رکھتے ہیں۔ عزیز یعنی وہ زبردست ہیں ان کے دشمنوں سے انتقام لے سکتے ہیں۔
Ayah 22:75اصطفائے الٰہی :
75: اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ (اللہ تعالیٰ منتخب کرلیتا ہے) چنائو کرلیتا ہے۔ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا (ملائکہ میں سے رسولوں کا) جیسے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل ( علیہ السلام) ۔ وَّ مِنَ النَّاسِ (اور انسانوں میں سے) رسول جیسے ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ و محمد ﷺ وغیر ہم الصلاۃ والسلام۔ یہ درحقیقت اس بات کی تردید ہے جس کا انہوں نے انکار کیا تھا کہ رسول انسانوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ اور اس میں یہ بھی بیان فرمایا کہ رسولوں کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر 1۔ فرشتے۔ نمبر 2۔ انسان
دوسرا قول یہ ہے کہ اسوقت نازل ہوئی جب کفار نے کہا : اء نزل علیہ الذکر من بیننا ] ص : 8[ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والے ہیں۔ ) بَصِیْرٌ (دیکھنے والے ہیں) اس کو جس کو اس نے اپنے پیغامات کے لیے منتخب کرنا ہے۔ یا رسولوں کے اقوال کو سننے والے ہیں۔ جس کو عقلیں قبول کرتی ہیں۔ بصیرؔ وہ دیکھنے والے ہیں امتوں کے حالات کو قبولیت وردّ کے سلسلہ میں۔
Ayah 22:7676: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ (وہ جانتے ہیں اس کو جو ان کے سامنے ہے) یعنی گزر چکا وَمَاخَلْفَھُمْ (اور جو ان کے پیچھے ہے) جو
ابھی نہیں آیا۔ یا نمبر 2۔ جو اعمال وہ حال میں کر رہے ہیں۔ اور جو مستقبل میں کریں گے۔ نمبر 3۔ ان کی دنیا کے معاملے کو اور انکی آخرت کے متعلق وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (اور تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) یعنی اس کی طرف تمام امور کا لوٹنا ہے اور وہ ذات جس میں یہ صفات پائی جائیں لا یسئل عما یفعل ] الانبیاء : 23] اس سے اس بات کا سوال نہیں کیا جاسکتا جو وہ کرے۔ اس کے فیصلوں میں کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں اور اس کی تدابیر اور اختیار رسل پر کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔
قراءت : شامی، حمزہ، علی نے تَرْجِعُ پڑھا ہے۔
Ayah 22:77اصولِ کامیابی :
77: یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا (اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو) اپنی نمازوں میں جب پہلے پہلے اسلام لائے تو وہ بلارکوع و سجود کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر ان کو حکم ہوا کہ رکوع و سجود کیا کریں۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں ہیں۔ اور یہ سجدہ نماز کا ہے۔ سجدہ تلاوت نہیں ہے۔
وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ (اور تم اپنے رب کی عبادت کرو) تم اپنے رکوع و سجود سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا قصد کرو۔ نہ کہ بتوں کا وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ (اور بھلائی کے کام کرو) ایک قول یہ ہے جبکہ ذکر کو دیگر طاعات پر مقام و مرتبہ حاصل ہے تو اولاً ایمان والوں کو نماز کی طرف بلایا کہ نماز خالص ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واقم الصلوۃ لذکری ] طہ : 14[ پھر نماز کے علاوہ عبادت کی طرف بلایا۔ مثلاً روزہ، حج وغیرہ۔ پھر تمام دیگر طاعات کی طرف دعوت دی۔ دوسرا قول یہ ہے اس سے مراد صلہ رحمی اور مکارم اخلاق ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو) نمبر 1۔ تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔ نمبر 2۔ تم یہ تمام اعمال کرو اس حالت میں کہ تم فلاح کی امیدرکھنے والے ہو۔ یقین کر کے نہ بیٹھ جانے والے ہو۔ اور نہ تم اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے بیٹھنے والے ہو۔
Ayah 22:7878: وَجَاھِدُوْا ( اور تم جہاد کرو) اس میں غزوہ کا حکم دیا۔ نمبر 2۔ نفس و خواہشات سے جہاد کرو اور یہ جہاد اکبر ہے۔ نمبر 3۔ سچی بات ظالم حکمران کے سامنے کرنا۔ فِی اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی خاطر) اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اور اسی کے سبب سے۔ حَقَّ جِھَادِہٖ جیسا جہاد کا حق ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرا جائے محاورہ میں کہا جاتا ہے : ھو حق عالم وجدّ عالم ای عالم حقًا وجدًا ( وہ زبردست عالم ہے) حق جھادہٖ اسی سے ہے قیاس کا تقاضا یہ تھا حق الجھاد فیہ یا حق جھادکم فیہ۔ حقیقی جہاد تمہارا اس میں ہے۔ لیکن اضافت ادنیٰ ملا مست کی وجہ سے کردی جاتی ہے۔ اور اختصاص کی وجہ سے کردی جاتی ہے۔ جبکہ جہاد اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کیلئے کیا جانا خاص تھا اور اس کی وجہ سے تھا تو اس کی اضافت اس کی طرف درست ہوئی اور ظروف کے اندر وسعت ہے جیسا کہتے ہیں : ویوم شھدناہ سلیمًا و عامرًا۔ جس دن کہ ہم اس میں سلیم و عامر کے ساتھ حاضر ہوئے۔
ھُوَ اجْتَبٰکُمْ (اسی نے تمہیں چنا ہے) تمہیں اپنے دین اور اس کی مددو نصرت کیلئے چنا ہے۔ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (اور اس نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں مقرر کی) حرجٌ کا معنی تنگی۔ بلکہ اس نے تمام مکلفہ امور میں سہولیات فراہم کی ہیں۔ جیسے کہ طہارت، نماز، روزہ، حج، تیمم، ایمائ، قصر، افطار جو سفر و مرض سے ہو۔ اور سواری نہ ہونے کی حالتوں وغیرہ میں آسانیاں ہیں۔
مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ (یہ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے) تم اس کی اتباع کرو اپنے باپ کی ملت کی۔ نمبر 2۔ اختصاص کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے اعنی بالدین ملۃ ابیکم۔ میرے دین سے مراد تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو باپ کہا اگرچہ وہ تمام امت کے باپ نہیں ہیں کیونکہ وہ رسول ﷺ کے جدامجد ہیں۔ اور آپ امت کے بمنزلہ باپ ہیں۔ کیونکہ امت رسول اولاد کے حکم میں ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انما انا لکم مثل الوالد (احمد، نسانی، ابن ماجہ) میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں۔
ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ (اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے۔ اس کی دلیل ابی بن کعب ؓ کی قراءت ہے : اللہ سما کم۔ مِنْ قَبْلُ (اس سے پہلے) پہلی کتب میں وَفِیْ ھٰذَا (اور اس میں) قرآن میں یعنی تمہیں تمام امتوں پر فضیلت دی اور تمہارا یہ معزز نام رکھا۔
لِیکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ (تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں) کہ انہوں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ وَتَکُوْنُوْاشھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ( اور تم لوگوں پر گواہ بنو) رسولوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو اپنی امتوں تک پہنچا دیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت تمہارے ساتھ مخصوص کی ہے۔ اور تمہیں سب پر ترجیح دی ہے۔ تو فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (تو تم نماز کو اس کے فرائض کے ساتھ ادا کرو) ۔ وَاٰتُوا الزَّکٰوَ ۃَ (اور زکوۃ کو اس کی شرائط کے ساتھ ادا کرو)
وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ (اور مضبوطی سے اللہ تعالیٰ کو تھام لو) یعنی اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور توکل کرو۔ نہ کہ نماز و زکوۃ پر۔ ھُوَ مَوْلٰکُمْ (وہی تمہارا کارساز ہے) تمہارا مالک ہے اور مددگار اور تمہارے معاملات کا والی ہے۔ فَنِعْمَ الْمَوْلٰی (وہ خوب کارساز ہے) تمہارے گناہوں کے باوجود رزق کو بند نہیں کیا۔
فاء ؔ سبلبیہ ہے جب اس کا کارساز ہونا ثابت ہو اتو بس وہی سب سے اعلی کار ساز ہے۔ وَنِعْمَ النَّصِیْرُ (اور خوب مددگار ہے) یعنی مددگار وہی ہے کہ تمہاری اطاعت پر وہ اعانت فرمائے گا۔ اور وہ آدمی یقینا کامیاب ہے جس کا وہ مولیٰ اور ناصر ہو۔
الحمد للہ آج بروز جمعۃ المبارک 8 شوال 1423ھ بوقت نماز مغرب ترجمہ سورت حج تکمیل پذیر ہوا۔