Ayah 22:34ہم نے منسک بنایا :
34: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ (اور ہر ایک امت کیلئے ایک جماعت مومنہ ہے جو تم سے پہلے ہوئے۔ جَعَلْنَا مَنْسَکًا (ہم نے ایک منسک بنایا)
قراءت : مَنِسکا جہاں بھی آئے وہاں سین کے کسرہ کے ساتھ آئے گا۔ معنی موضع ہوگا۔ علی و حمزہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ یعنی قربانی کی جگہ اور دیگر نے مصدر کیوجہ سے مفتوح پڑھا مَنْسَکًا خون بہانا۔ قربانی کو ذبح کرنا۔ لِّیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیں) اور کسی کا نہ لیں۔ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (جو چو پائے اللہ تعالیٰ نے ان کو عنایت فرمائے ہیں) ذبح اور نحر کرنے کے وقت فَاِلٰھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ (پس تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے) ذبح کے وقت فقط اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیاکرو۔ اس لئے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ ذبیحہ پر بوقت ذبح اللہ تعالیٰ کا نام لینا شرط ذبح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کیلئے یہ مقرر فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کیلئے قربانی کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تقریب کیلئے ذبح کریں اور اس میں علت ذبح قربانی کی اس کے نام لینے کو قرار دیا اللہ تعالیٰ کے نام کتنے مقدس ہیں۔ فَلَہٗ اَسْلِمُوْا (اور اسی کی فرمانبرداری اختیار کرو) اس کا خاص ذکر کرو اور اس ذکر کو ملاوٹ سے بچا کر رکھو۔ شراکت کی ملاوٹ اس میں نہ ملائو۔
مخبتکون ؟
وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ( اور تم خشوع و خضوع برتنے والوں کو خوشخبری دے دو ) الْمُخْبِتِیْنَ اللہ تعالیٰ کی یاد سے مطمئن نمبر 2۔ تواضع اور خشوع کرنے والے یہ الخبت سے نکلا ہے اچھی زرخیز زمین۔
قول ابن عباس ؓ : وہ جو ظلم نہیں کرتے جب ان پر ظلم کیا جائے تو بدلہ نہیں لیتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی تفسیر بعد والی آیت میں ہے۔
Ayah 22:3535: الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ (وہ لوگ کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں) ہیبت کی وجہ سے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَھُمْ (اور وہ صبر کرنے والے ہیں ان تکالیف پر جو ان کو پہنچتی ہیں) مصائب و مشقتیں وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ (اور وہ نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں) ان کے اوقات پر وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور جو رزق ہم نے دیا اس میں وہ خرچ کرتے ہیں) صدقہ کرتے ہیں۔
Ayah 22:3636: وَالْبُدْنَ (اور قربانی کے جانور) یہ جمع بدنۃ کی ہے اس کو بڑی جسامت کی وجہ سے بدنہؔ کہتے ہیں شرع میں اونٹ اور گائے ہر دو کو شامل ہے۔
قراءت : رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اور وہ اس ارشاد کی طرح ہے والقمر قدّرنٰہ ] یسنؔ: 39 [
جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے دین کے خاص نشانات میں سے بنایا ہے) اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نشانات میں سے۔
نحو : اسم اللہ کی طرف اضافت اس کی تعظیم و تکریم کیلئے ہے اور یہ جعلنا کا مفعول ثانی ہے۔ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ (تمہارے لئے اس میں خیر ہے) دنیا میں فائدہ اور آخرت میں اجر فَاذْکُرُ وا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا (پس تم ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لو) ذبح و نحر کے وقت صَوَآفَّ (جبکہ وہ صف بستہ ہوں) ھاؔ ضمیر سے حال ہے ای قائمات قد صففن ایدیھن وارجلھن اس حال میں کہ کھڑے کر کے صف میں ان کے اگلے اور پچھلے پائوں باندھ دیئے گئے ہوں۔ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا (جب ان کے پہلو زمین پر گرپڑیں) وجوب الجنوبؔ زمین پر گرنے کو کہتے ہیں۔ یہ وجب الحائط وجبۃ سے لیا گیا ہے جبکہ وہ گرجائے۔ جبکہ نحر کے بعد ان کے پہلو زمین پر آرہیں اور حرکت ختم ہوجائے۔ فَکُلُوْا مِنْھَا (پس تم ان میں سے کھائو) اگر تم چاہو۔ وَاَطْعِمُوْا الْقَانِعَ (اور قناعت کرنے والے سائل کو کھلائو) مراد سائل ہے یہ قنعت الیہ جب کہ عاجزی کی جائے اور سوال کیا جائے۔ قنوعاً سوال کرنا۔ وَالْمُعْتَرَّ (اور سوال کرنے والے کو) جو اپنا آپ تمہارے سامنے ظاہر کرے اور سامنے تو آئے مگر سوال نہ کرے۔ ایک قول جو کچھ اس کے پاس ہو اس پر راضی و خوش ہو۔ اور جو بلا سوال مل جائے اس پر اکتفاء کرے یہ قَنِعت قَنْعًا وقناعۃً سے ماخوذ ہے اور المعترّجو سوال کیلئے دست درازی کرے۔
کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰھَا لَعَلَّکُمْ (اسی طرح ہم نے ان کو تمہارے قابو میں دے دیا) جیسا کہ ہم نے ان کے ذبح کا حکم دیا اسی طرح ان کو تمہارے قابو میں دیا۔ نمبر 2۔ یہ ذٰلک من یعظم ] الحج : 30 [ کی طرح ہے پھر جملہ مستانفہ لائے اور فرمایا سَخَّرْنَا ھَا لَکُمْ یعنی ان کے عظیم الجثہ اور طاقتور ہونے کے باوجود ان کو تمہارے تابع کردیا ہے۔ تاکہ تمہیں ان کے ذبح پر قدرت حاصل ہو۔ لعلکم تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم شکریہ ادا کرو) تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے انعامات جو تم پر کئے گئے ہیں شکریہ ادا کرو۔
Ayah 22:37فلسفہ قربانی :
37: لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَاوَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ( ہرگز اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ گوشت و خون کو قبول نہیں کرتے بلکہ تقویٰ قبول کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ صدقہ کے گوشت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو نہیں پہنچتے۔ اور نہ ہی ذبح کے ذریعہ بہائے ہوئے خون۔ مراد یہ ہے کہ گوشت و خون والے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو گوشت و خون سے راضی نہیں کرسکتے جب تک وہ نیت کی نگہبانی اور اخلاص اور تقویٰ کی دیگر شروط کا لحاظ نہ کریں۔
ایک قول یہ ہے جب اہل جاہلیت اونٹوں کو ذبح کرتے تو خون بیت اللہ کے گرد انڈیلتے اور خون اس کی دیواروں پر لگاتے۔ جب مسلمانوں نے حج کیا تو اس کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ (اسی طرح ہم نے ان کو تمہارے قابو میں دے دیا) یعنی قربانی کے اونٹوں کو لِتُکَبِّرُوْا اللّٰہَ (تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑھائی بیان کرو) ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ نمبر 2۔ تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو۔ عَلٰی مَاھَدٰٹکُمْ (جیسا اس نے تمہیں توفیق دی) اس کی طرح کشاں کشاں چلا دیا۔ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ (اور مخلصوں کو خوشخبری دے دو ) ثواب کے ساتھ اس کے احکام کی تعمیل کرنے والے۔
Ayah 22:38مدافعت کا وعدہ :
38: اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہٹائے گا۔ )
قراءت : مکی و بصری نے یَدْفَعُ پڑھا اور دیگر نے یدافع پڑھا۔ جس کا معنی مدافعت میں مبالغہ کرے گا۔
عَنِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (ایمان والوں سے) یعنی مسلمانوں سے کفار کی دغا بازی کو اور اس کی مثل دوسری آیت ہے : انا لننصر رسلنا والذین امنوا ] غافر : 51 [ پھر اس ارشاد میں اس کی تعلیل بیان فرمائی۔
اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ (بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتے ہر خائن سے) جو اللہ تعالیٰ کی امانت میں خیانت کرنے والا ہو۔ کُفُوْرٍ (ناشکر گزار) اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کیونکہ وہ ان کے مخالف کو پسند نہیں کرتا اور وہ خائن کفار ہیں اور اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت برتنے والے اور اپنی امانات میں خیانت کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے منکر اور ناقدری کرنے والے ہیں۔
Ayah 22:3939: اُذِنَ (ان لوگوں کو اجازت دے دی گئی)
قراءت : مدنی، بصری، عاصم کی قراءت میں اسی طرح پڑھا گیا ہے۔
لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ (ان لوگوں کو جس سے لڑائی کی جاتی ہے) ۔
اجازتِ قتال اور اس کے اسباب :
قراءت : تائؔ کے فتحہ کے ساتھ مدنی، شامی، حفص نے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے ان کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی۔ جس کی اجازت دی اس کو حذف کردیا کیونکہ یقاتلون اس پر دلالت کررہا ہے۔
بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا (اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا) ان کے مظلوم ہونے کی وجہ سے اور اس سے مراد اصحاب رسول ﷺ ہیں۔ مشرکین ان کو بڑئی ایذائیں دیتے تھے۔ وہ رسول ﷺ کی خدمت میں مضروب، زخمی سر، مظلومیت کی فریاد کرتے ہوئے آتے۔ آپ ﷺ ان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے صبر کرو۔
ابھی تک مجھے قتال کی اجازت نہیں ملی۔ یہاں تک کہ ہجرت کا حکم ہوا۔ پھر یہ آیت اتری۔ یہ سب سے پہلی آیت ہے جس میں قتال کی اجازت مرحمت فرمائی گئی اس سے قبل ستّر سے زائد آیات میں ممانعت کی گئی تھی۔ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ (اور بیشک اللہ تعالیٰ کو ان کی مدد پر قدرت حاصل ہے) ایمان والوں کی مدد پر لَقَدِیْرُ (البتہ قدرت والے ہیں) قادر مطلق ہیں۔ اس میں ایمان والوں کی نصرت و مدد کی بشارت دی گئی ہے اور یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ ان اللہ یدافع عن الذین ٰامنوا ] الحج : 38 [
Ayah 22:4040: اَلَّذِیْنَ (وہ لوگ ): یہ محل جر میں للذینؔ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ اعنی کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ ھم مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے۔
اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ (جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا) مکہ سے بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہَ (ناحق سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے) یعنی اور کوئی وجہ نہیں سوائے توحید کے جو کہ اس لائق ہے کہ ان کو پکا ٹھکانہ دیا جائے نہ کہ ان کو نکال باہر کیا جائے۔ اور دوسری آیت اسی کی مثل ہے۔ ھل تنقمون منا الا ان اٰمناباللہ ] المائدہ : 59[
نحو : ان یقولوا محلاً مجرور ہے کیونکہ حقؔ سے بدل ہے مطلب یہ ہے ان کو ان کی بات کی وجہ سے گھروں سے نکالا گیا ہے۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ بعض کو دفع نہ کرتا)
قراءت : مدنی و یعقوب نے دفاع پڑھا ہے۔
النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ (بعض سے تو گرا دیئے جاتے)
قراءت : حجازی قراء نے ھُدِّمَتْ کو تخفیفِ دال سے پڑھا ہے۔
صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ (درویشوں کی خانقاہیں اور گرجے اور یہود کے عبادت خانے اور مساجد) یعنی اگر تسلیطِ مسلمین کفار پر جہاد کے ذریعہ نہ کیا جاتا تو مشرکین مختلف ادیان والے اپنے اپنے زمانہ میں عبادت گاہوں پر غلبہ پا کر ان کو گرا دیتے اور نہ کسی نصرانی کا گرجا بچتا اور نہ ان کے درویشوں کے گنبد باقی رہتے اور نہ ہی یہود کے تکیہ خانے اور کنائس چھوڑے جاتے بلکہ سب کو زمین بوس کر کے مٹا دیا جاتا۔
الکنیسۃ کو صلاۃ کہا کیونکہ اس میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ اور نہ مسلمانوں کی مساجد قائم رہ سکتیں۔ نمبر 2۔ امت محمد ﷺ میں مشرکین کو مسلمانوں پر غلبہ ملے گا اور ان اہل کتاب پر بھی جو ان کی ذمہ داری میں ہیں۔ اور فریقین کے عبادت خانے گر ائے جائیں گے۔ ( یہ گویا پیشینگوئی ہے) غیرمساجد کو مساجد سے مقدم اس لئے کیا گیا کیونکہ انکا زمانہ مقدم تھا نمبر 2۔ انکا گرایا جانے کا زمانہ قریب تھا۔
یُذْکَرُفِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا (ان میں اللہ تعالیٰ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے) مساجد میں نمبر 2۔ تمام میں اپنے اپنے زمانہ میں جبکہ صحیح تعلیمات ان کے ہاں تھیں ( ورنہ اب تو اللہ تعالیٰ کے ذکر ونام کی کوئی چیز وہاں نہیں) وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ (ضرور اللہ تعالیٰ ان کی امداد کریں گے جو اس کی مدد کرتے ہیں) جو اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے فرمانبرداروں کی مدد کرنے والے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌ (بیشک اللہ تعالیٰ طاقت ور ہیں) اپنے اولیاء کی مدد پر عَزِیْزٌ (زبردست ہیں) اپنے دشمنوں سے انتقام کے سلسلہ میں۔
Ayah 22:41مہاجرین کو اقتصادی خوشخبری :
41: اَلَّذِیْنَ ۔ نحو : یہ من یَنْصُرُہٗ سے بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ نمبر 2۔ للذین اُخْرِجُوْا کا تابع ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوْاالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ (وہ کہ جب ہم ان کو زمین میں اقتدار عطاء کریں گے تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے) اس آیت میں سیرت مہاجرین کے متعلق خبر دی کہ عنقریب ہم ان کو اقتدار دیں گے تو ان سے یہ اموروقوع پذیر ہونگے۔ اور ان کے لئے دنیا کے خزانے کھول دیئے جائیں گے اور وہ دین کے امور کو کس کیفیت سے انجام دیں گے۔
خلفائے راشدین کی خلافت کی حقانیت کی یہ دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمکین فی الارض عنایت فرمائی اور انہوں نے دین کو سیرت عادلہ کے ساتھ نافذ کیا۔ قول حسن (رح) : اس سے مراد امت محمد ﷺ (پھر بھی صحابہ کرام جو مقدمہ امت ہیں وہ اس کے اولین مصداق ہیں : مترجم) وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (اور تمام امور کا نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے) اس کے حکم کی طرف لوٹتا ہے اور اس کی تقدیر پر اختتام پذیر ہوتا ہے اولیاء کو غلبہ دینے اور ان کی بات کے بلند کرنے کی تاکیدمزید ہے۔
Ayah 22:4242: وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ (اور اگر وہ آپ کو جھٹلا دیں) اس میں آنحضرت ﷺ کو قریش مکہ کی مسلسل تکذیب پر تسلی دی یعنی آپ تکذیب میں اکیلے نہیں ہیں۔ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ (پس جھٹلایا ان سے قبل) قریش مکہ سے قبل قَوْمُ نُوحٍ (قوم نوح نے) نوح (علیہ السلام) کو وَّعَادٌ (قوم عاد نے) ہودعلیہ السلام کو وَّ ثَمُوْدُ (اور قوم ثمود نے) صالح (علیہ السلام) کو۔
Ayah 22:43سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت پکڑو :
43: وَ قَوْمُ اِبْرٰھِیْمَ (اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) نے) ابراہیم (علیہ السلام) کو وَقَوْمُ لُوْطٍ (اور قوم لوط نے) لوط (علیہ السلام) کو
Ayah 22:4444: وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ (اور اصحاب مدین نے) شعیب (علیہ السلام) کو وَکُذِّبَ مُوْسٰی (اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا) ان کو فرعون اور قبطیوں نے جھٹلایا۔
سوال : یہاں قوم موسیٰ نہیں کہا ؟
جواب : کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم بنی اسرائیل نے نہیں جھٹلایا قوم کے علاوہ دیگر قوم نے جھٹلایا۔ نمبر 2۔ گویا ہر قوم کی طرف سے تکذیب رسل کا ذکر کرکے فرمایا : وکذب موسیٰ ایضًا مع وضوح ایاتہ واضح آیات کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا۔ اور ان کے معجزات ظاہر ہوچکے مگر وہ جھٹلانے سے باز نہ رہے۔ پس اور کے متعلق کیا کہوگے ؟ خود سوچ لو۔ فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ (پس میں نے کفار کو مہلت دی) ان کی سزا کو مؤخر کیا اور ان کو مہلت دی۔ ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ (پھر میں نے ان کو پکڑا) ان کے کفر پر ان کو سز ادی فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پس میرا انکار کیا رہا۔ ) یعنی میرا انکار اور میری تبدیلی جبکہ میں نے انعامات کی جگہ عذاب اتارے اور دنیا کی زندگی میں ہلاکت دے دی اور آبادی کی جگہ بربادی بدل دی۔
قراءت : یعقوب نے وصل و وقف میں یاء کے ساتھ نکیری پڑھا ہے۔
Ayah 22:4545: فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا (بہت سی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا)
قراءت : بصری نے اھلکتُھا پڑھا ہے۔
وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (کیونکہ وہ ظالم تھیں)
نحو : یہ حال ہے یعنی ان بستیوں والے مشرک تھے۔ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ (پس وہ گرنے والی ہیں) یہ خوی النجمؔ سے بنا ہے جبکہ ستارہ گرے۔ عَلٰی عُرُوْشِہَا (اپنے چھتوں پر) یہ خاویۃ کے متعلق ہے مطلب یہ ہے وہ اپنی چھتوں پر گرنے والی ہیں۔ یعنی ان کی چھتیں زمین بوس ہوئیں پھر دیواریں گریں اور وہ چھتوں پر جا پڑیں۔
نحو : فھی خاویۃ اس کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ اس کا عطف اھلکنا ہا پر ہے اور یہ ایسا فعل ہے جس کا کوئی محل اعراب نہیں ہوتا۔ یہ ترکیب اس وقت ہے جبکہ کَاَیِّنْ کو محلاً منصوب مانیں اور تقدیر عبارت یہ ہو۔ کثیرًا من القریٰ اھلکنا ھا۔ بہت سی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔
وَبِئْرٍمُّعَطَّلَۃٍ (اور بیکار کنوئیں) ڈول و رسّی نہ ڈالنے کی وجہ سے متروک ہوچکے اور ان کی مرمت وغیرہ ترک کردی گئی۔ نمبر 2۔ ان میں پانی موجود اور آلات سقایہ بھی موجود ہیں مگر وہ معطل ہوچکے ان کو اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ ان کے آبادکار ہلاک ہوچکے۔ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ (اور مضبوط محلات) چونا گچ الشیدؔ چونے کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ ان کی عمارات بلند ہوں۔ اس صورت میں یہ شادالبناءؔ ای رفعہ اس نے عمارت کو بلند کیا سے لیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا اور کتنے کنویں بےکار کردیے گئے اور کتنے مضبوط محلات ہیں جن کو ان کے باسیوں سے ہم نے خالی کروا لیا۔ یعنی ہم نے ہلاکت میں شہری و دیہاتی کسی کو نہ چھوڑا۔ محلات اپنے سکان سے خالی اور کنوئیں اپنے گھاٹ پر اترنے والوں سے فارغ۔
قول فیصل یہاں قصرو بئر سے عام مراد لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ کسی تخصیص کی چنداں حاجت نہیں۔
Ayah 22:4646: اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں) اس میں سفر پر آمادہ کیا گیا تاکہ ان لوگوں کے بچھڑنے کے مقامات ملاحظہ ہوں جن کو کفر باللہ کی پاداش میں ہلاک کردیا گیا اور یہ لوگ ان آثار کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کریں۔ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْاٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (پس ان کے دل ایسے ہوتے جن سے وہ ان امور کو سمجھتے یا ان کے کان ہوتے جن سے وہ سنتے) یعنی ان باتوں کو سمجھتے جن کو توحید وغیرہ میں سے سمجھنا ضروری ہے اور ان باتوں کو سنتے جن کا وحی میں سے سننا لازم ہے۔ فَاِنَّھَا لَاتَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُوْرِ (وہ آنکھوں کے اندھے نہیں بلکہ وہ دل کے نابینا ہیں جو ان کے سینوں میں ہیں)
نحو : فانھاؔ میں ھاؔ ضمیرقصہ ہے یا یہ ضمیر مبہم ہے جس کی تفسیر الابصارؔ ہے۔ یعنی ماعمیت ابصارھم عن الابصار بل قلوبھم عن الاعتبار۔ ان کی صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں بلکہ ان کے دل عبادت سے خالی ہیں۔ ہر انسان کی چار آنکھیں ہیں۔ نمبر 1۔ دو آنکھیں اس کے سر میں اور دو آنکھیں اس کے دل میں۔ جب وہ دل کی آنکھ سے دیکھتا اور سروالی آنکھ سے نہیں دیکھتا تو اس کو نقصان نہیں پہنچتا۔ اور اگر سر والی آنکھ سے دیکھتا اور دل والی آنکھ سے نہیں دیکھتا تو اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
صدور کا ذکر اس بات کی وضاحت کیلئے ہے کہ علم کا محل قلب ہے اور تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ اس دل سے مراد اور کوئی عضو ہے جیسا کہتے ہیں القلب لبٌّ لکل شئی۔
Ayah 22:4747: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ (وہ آپ سے اس عذاب کا نزول جلد مانگتے ہیں) استہزاء کے طور پر مؤخر عذاب کو جلدی طلب کرتے ہیں۔ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ فرمائیں گے) گویا اس طرح فرمایا : لِمَ یستعجلونک بہٖ ؟ وہ آپ سے کیونکر جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ گویا وہ اس عذاب کے فوت ہونے کے قائل نہیں اور یہ بات تو اس کے متعلق جائز ہوسکتی تھی جو میعاد کی خلاف ورزی کرنے والا ہو حالانکہ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی ہرگز خلاف ورزی نہ فرمائیں گے) اور وہ عذاب جس کا اس نے ان سے وعدہ فرما لیا وہ ضرور ان کو پہنچے گا خواہ کچھ وقت کے بعد ہی آجائے۔
وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (اور بیشک ایک دن تیرے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی طرح ہے تمہاری گنتی کے مطابق) -
قراءت : مکی، کوفی سوائے عاصم کے یعدّون پڑھتے ہیں۔ یعنی وہ عذاب کس طرح جلدطلب کرتے ہیں۔ جس ذات کے ہاں دن ایام عذاب میں سے تمہارے سالوں کی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے کیونکہ تکالیف کے ایام طویل ہوا کرتے ہیں۔
Ayah 22:4848: وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَمْلَیْتُ لَھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (اور بہت سی بستیوں والوں کو میں نے مہلت دی اور وہ بےجا حرکات کرنے والے تھے) یعنی بہت سے بستیوں والے ایسے گزرے ہیں جو تمہاری طرح ظلم کرنے والے تھے میں نے ان کو ایک وقت تک مہلت دی۔ ثُمَّ اَخَذْتُھَا (پھر میں نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑا) وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ (اور میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے) یعنی لوٹنا
میری طرف ہی ہے مجھ سے کوئی چیز فوت نہ ہوگی۔
سوال : اس صورت میں وَکَاَیِّن وائو کے ساتھ ذکر کیا جبکہ پہلی صورت میں فَکَاَیِّن فاء کے ساتھ ذکر کیا ؟
جواب : کیونکہ پہلا کاینؔ فکیف کان نکیر ] الحج : 44 [ کا بدل تھا۔ اور یہ دوسرا پہلے دو جملوں کا حکم رکھتا ہے جن کا عطف وائو سے کیا گیا ہے وہ جملے یہ ہیں : ولن یخلف اللہ وعدہ اور ان یومًا عند ربک ] الحج : 47 [ ہے۔
Ayah 22:4949: قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَالَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (کہہ دیں ! اے لوگو ! بیشک میں تمہارے لیے کھلا ڈرانے والا ہوں )
یہاں بشیر و نذیر نہیں فرمایا کیونکہ فریقین کا تذکرہ بعد میں آرہا ہے کیونکہ سیاق کلام مشرکین کی طرف ہے اور یایھا الناس کہہ کر انہی سے تخاطب ہے اور انہی کے متعلق کہا گیا افلم یسیروا اور استعجال کے ساتھ ان کے حالات بیان کیے۔ اور ایمان والوں کے تذکرے اور ان کے ثواب کو درمیان میں گھسا دیا تاکہ وہ برانگیختہ ہوں۔ نمبر 2۔ تقدیر عبارت اس طرح مان لیں۔ نذیر مبین و بشیر۔ پھر خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 22:5050: فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ (پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے ان کے لئے بخشش ہے) گناہوں کی وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ (اور عمدہ روزی) اچھی شاندار۔ پھر ڈرایا فرمایا۔
Ayah 22:51طعن کے لئے دوڑ دھوپ :
51: وَالَّذِیْنَ سَعَوْا (اور وہ لوگ جو کوشش کرتے رہتے ہیں) سعی فی امرفلان : کسی معاملے میں دوڑ دھوپ کرنا تاکہ وہ اس معاملے کو بگاڑ دے جب کہ وہ اس کی کوشش سے بگڑتا ہو۔ فِیْ ٰایٰتِنَا (ہماری آیات کے متعلق) یعنی قرآن مجید کے متعلق مُعٰجِزِیْنَ (تاکہ وہ عاجز کردیں ہرا دیں) ۔
نحو : یہ حال ہے
قراءت : مکی، ابوعمرو نے معجزین پڑھا ہے۔ اور عاجزہؔ سے سبقت کرنا مراد ہے۔ گویا کہ ان میں سے ہر اک دوسرے کو ساتھ ملنے سے عاجز کرنے کا طلبگار ہے۔ جب ایک ان میں سے آگے بڑھ جاتا ہے تو کہتے ہیں اعجزہ، عجزہ، مطلب یہ ہے کہ وہ اسے معانی میں طعن وتشنیع کی خاطر بگھاڑنے کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں کہ کبھی تو سحر کہتے ہیں اور کبھی شعر اور باردیگر اساطیر کا نام دھرتے ہیں اور اپنے خیال میں اس اندازہ کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی توقعات یہ ہیں کہ اسلام کے سلسلہ میں ان کی تدابیر کا میاب ہونگی۔ اُوْلٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (یہ لوگ جہنمی ہیں) بھڑکتی آگ والے ہیں۔
Ayah 22:52تمنی قراءت کے معنی میں ہے :
52: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ (اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول ایسا نہیں بھیجا) منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ منؔ رسول میں مِنْ زائدہ ہے۔ جو تاکید نفی کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ وَّلَا نَبِیٍّ (اور نہ کوئی نبی )
مسئلہ : یہ آیت رسول اور نبی کے معنی میں تغایر کی دلیل ہے۔ بخلاف ان حضرات کے جو ان کو ایک کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق سوال کیا گیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ مائۃ الف واربعۃ عشرون الفاً پھر سوال کیا گیا ان میں رسل کی تعداد کتنی ہے۔ آپ نے فرمایا : ثلاث مائۃ وثلاثۃ عشر ] رواہ ابن حبان : 361۔ ابونعیم فی الحلیہ 1/166]
دونوں میں فرق یہ ہے کہ رسولؔ وہ ہے جس نے معجزہ اور کتاب منزل کو جمع کرلیا ہو۔ نبیؔ وہ ہے جس پر کتاب نہ اترے۔ اس کو پہلی شریعت کی طرف دعوت دینے کا حکم ہو۔ ایک اور قول یہ ہے رسول شرع کا واضع ہوتا ہے اور نبی دوسری شریعت کا حافظ ونگران ہوتا ہے۔
اِلَّا اِذَا تَمَنّٰی (مگر جب اس نے پڑھا) تمنّٰی کا معنی قراءت حضرت حسان بن ثابت کے اس شعر میں ہے۔
تمنٰی کتاب اللہ اول لیلۃ ٭ تمنی داود الزبور علی رِسْلِ
وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو شروع رات میں اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے جیسے دا وٗد زبور کی تلاوت کرتے تھے۔
اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ (تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں مداخلت کی) امنیتہٖ سے تلاوت مراد ہے مفسرین کرام نے کہا آپ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو آواز دی تاکہ سورة النجم کی تلاوت ان کو سنائیں۔ جب آپ ومناۃ الثالثۃ الاخری پر پہنچے تو زبان پر جاری ہوا۔ تلک الغرانیق العلی۔ وان شفاعتھن لترتجی۔ مگر آپ کو معلوم نہ ہوا یہاں تک کہ عصمت نے آلیا اور اس پر متنبہ کیا۔
ایک قول یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو متنبہ کیا آپ کو اطلاع دی کہ یہ شیطان کی شرارت تھی۔ مگر یہ قول درست نہیں ہے اس لئے کہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو آپ نے جان بوجھ کر یہ کلام کیا ہو اور یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ کفر ہے اور آپ کی بعثت بتوں کی مذمت کیلئے کی گئی نہ کہ ان کی تعریف کرنے والا بنا کر بھیجا۔ نمبر 2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شیطان نے نبی اکرم ﷺ کی زبان پر جبراً جاری کردیا ہو کہ آپ اس کو نہ روک سکے ہوں اور یہ بھی ناممکن ہے شیطان جبراً کسی بات کو دوسرے کی زبان پر بھی جاری نہیں کرسکتا۔ ارشاد الٰہی ہے۔ ان عبادی لیس لک علیھم سلطان ] الاسراء : 65 [ تو آپ ﷺ کے حق میں بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے۔
نمبر 3۔ تیسری صورت آپ کی زبان پر بھولو غفلت سے جاری ہوگئی ہو مگر یہ بھی مردود ہے کیونکہ اس قسم کی غفلت و بھول تبلیغ وحی کے موقع پر آپ کے متعلق جائز نہیں ہے اگر اس کو جائز قرار دے دیا جائے تو آپ کی بات پر اعتماد باطل ہوجاتا ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعلق خود فرمایا : لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ] فصلت : 42 [ اور فرمایا انا نحن نزلنا الذکرو انا لہ لحافظون ] الحجر : 9 [
جب یہ تمام وجوہ باطل ٹھہریں تو اب ایک صورت صرف باقی رہ گئی وہ یہ کہ آپ ﷺ و مناۃ الثالثۃ الاخری کہہ کر خاموش ہوگئے تو شیطان نے یہ کلمات نبی اکرم ﷺ کی قراءت سے متصلاً آواز ملا کر کہہ دیئے تو بعض کے خیال میں آیا کہ نبی اکرم ﷺ نے (نعوذ باللہ) یہ کلمات کہے ہیں۔ پس یہ القاء فی قراءۃ النبی ﷺ ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں شیطان کلام کرتا تھا اور اس کا کلام لوگ سنتے تھے روایت میں وارد ہے کہ شیطان نے احد کے دن آواز دی۔ الا ان محمدا قد قتل۔ اور اسی طرح بدر کے دن مشرکین کو سراقہ کی شکل میں تسلی دیتے ہوئے کہا۔ لاغالب لکم الیوم من الناس و انی جارٌ لکم
] الانفال : 48[
فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ (اللہ تعالیٰ شیطان کے شبہات کو نابود کردیتا ہے) ختم کردیتا اور بےکار کردیتا ہے اور اطلاع دے دیتا ہے یہ شیطان کی شرارت اور وسوسہ ہے۔ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ ٰایٰتِہٖ (پھر آیات کو قائم رکھتا ہے) اور شیطان کی طرف سے اس میں اضافہ ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ علم والے) جو ان سے اپنے پیغمبر ﷺ پر وحی اتاری ہوتی ہے اور جو شیطان کا مقصود ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اس حقیقت کو منکشف کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اور زائل کر کے ارادئہ شیطانی کو ناکام بنا دیتا ہے۔ پھر ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی آزمائش و امتحان ہے فرمایا۔
Ayah 22:5353: لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَہً (تاکہ شیطان کے شبہات کو اللہ تعالیٰ آزمائش بنا دے) آزمائش و مصیبت لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک و نفاق ہے۔ وَّالْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ (اور جن کے دل سخت ہیں) یعنی مشرک اور مکذب لوگ مراد ہیں۔ اس سے انکا شک اور ظلمت بڑھ جاتا ہے وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ (اور بلاشبہ ظالم) منافق و مشرک لوگ۔
نکتہ : یہ اصل میں اِنّھم تھا مگر ضمیر کی جگہ اسم ظاہر الظالمین لائے تاکہ ان کی ناحق کوشی کی صراحت ہوجائے اور ظالم ہونا پختہ ہوجائے لَفِیْ شِقَاقٍ (البتہ ضد میں ہیں) مخالفت بَعِیْدٍ (دور کی) جو حق سے بہت دور ہے۔
Ayah 22:5454: وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (اور تاکہ علم والے جان لیں) جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین اور آیات کا علم ملا ہے۔ اَنَّہٗ (کہ یہ) قرآن الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَیُؤْمِنُوْا بِہٖ (برحق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے پس وہ اس قرآن پر یقین کریں) فَتُخْبِتَ (پس عاجزی کریں) مطمئن ہوجائیں۔ لَہٗ قُلُوْبُھُمْ وَاِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اس کے لئے ان کے دل اور بیشک اللہ ایمان والوں کی راہنمائی کرنے والے ہیں سیدھے راستے کی طرف) پس وہ دین میں متشابہ آیات کی تاویلات صحیحہ کرتے ہیں اور جو ان پر اشکال پیدا کرے۔ اس کا صحیح محل تلاش کرتے ہیں۔ جس کا تقاضہ محکمات کے اصول کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کو کوئی حیرت بھی نہیں آئی اور نہ ان کو کوئی اشتباہ پیش آیا ہے۔
Ayah 22:55کفار کی ضدبازی :
55: وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ (اور کافر ہمیشہ شک میں پڑے رہیں گے) مِّنْہُ (اس کے متعلق) قرآن مجید کے متعلق یا صراط مستقیم کے متعلق حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً ( یہاں تک کہ قیامت ان کے پاس اچانک آن پہنچے۔ ) اور اَوْیَاتِیھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ یا ان پر کسی بےبرکت دن کا عذاب اتر پڑے) یعنی بدر کے دن، وہ عقیم اس لحاظ سے کہ کافروں کو اس میں کوئی
کشادگی میسر نہیں ہوئی یا راحت نہیں پہنچی جیسا کہ الریح العقیمؔ سے کوئی خیر فصلوں اور انسان کو نہیں ملتی۔ نمبر 3۔ عقیم کا معنی سخت دن تھا۔ اس میں رحمت نہ تھی۔ نمبر 4۔ معاملے کی شدت کی وجہ سے وہ دن بےمثل تھا۔ چونکہ ملائکہ بھی قتال میں شریک تھے۔ قول ضحاک (رح) : اس سے قیامت کا دن مراد ہے اور السَّاعۃ سے اس صورت میں مقدمات قیامت مراد لیے جائیں گے۔
Ayah 22:5656: اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ (بادشاہی اس دن) یعنی یوم سے قیامت کا دن مراد ہے اور تنوین اس کی جملہ کے عوض ہے ای یوم یومنون یا یوم تزول مریتھم اس دن یہ ایمان لائیں گے یا اس دن انکا شک دور ہوگا۔ لِّلّٰہِ (اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہوگا۔ ) اس میں کوئی بھی منازعت کرنے والا نہ ہوگا۔ (ظاہر بادشاہتیں بھی نہ ہونگی) یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ (وہ ان کے مابین فیصلے کرے گا) پھر ان میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس ارشاد میں ذکر فرمایا : فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے وہ نعمتوں والی جنتوں میں ہونگے)
Ayah 22:5757: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُوْلٰٓپکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ان کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے۔ )
ربط : پھر اللہ تعالیٰ نے فریق اول میں سے ایک فریق کو اپنے فضل سے خاص کیا اور فرمایا۔
Ayah 22:58بلا مثال پیدا کرنے والا بلا ملال دے گا :
58: وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی) وہ اپنے اوطان سے جہاد کرنے کیلئے نکلے ہیں۔ ثُمَّ قُتِلُوْا (پھر وہ قتل کردیئے گئے) جہاد میں۔
قراءت : شامی نے قُتِّلُوْا پڑھا ہے۔ اَوْمَاتُوْا (یا طبعی موت آگئی) لَیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًاحَسَنًا (اللہ تعالیٰ ضرور ان کو رزق حسن سے نوازیں گے) ایک قول یہ ہے رزق حسن وہ ہے جو کبھی بھی منقطع نہ ہو۔
وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی بہترین رزق عنایت فرمانے والے ہیں) کیونکہ وہ بلامثال مخلوق کو ایجاد کرنے والے ہیں۔ اور تمام کے رزق کی بلا ملال کفالت کرنے والے ہیں۔
Ayah 22:5959: لَیُدْ خِلَنَّھُمْ مُّدْخَلًا (ضرور وہ ان کو ایسے مقام میں داخل فرمائے گا)
قراءت : مدنی نے مَدْخلاً پڑھا ہے اس سے مراد جنت ہے۔ یَّرْضَوْنَہٗ (جس کو وہ پسند کرتے ہیں) کیونکہ اس میں وہ چیزیں ہیں جو نفس کو پسند ہیں اور جن سے آنکھیں لذت اندوز ہوتی ہے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ضرور جاننے والے ہیں) ان کے حالات کو جنہوں نے جہاد میں اپنا وقت پورا کیا اور وہ فوت ہونے والے جو آس لگائے بیٹھے تھے مگر زندگی نے وفاء نہ کی۔ حَلِیْمٌ (حوصلہ والے ہیں) اس کو بھی مہلت دیتے ہیں جو ان سے عناد کے ساتھ قتال کرتا ہے۔
شان نزول : روایت میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ لوگ جو شہید ہوگئے ان کے متعلق تو ہم جانتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا خیر ملے گی۔ اور ہم آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ہیں جیسے وہ شریک ہوتے تھے۔ اگر ہم مرجائیں تو ہمیں کیا ملے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ دو آیات اتار دیں۔
Ayah 22:6060: ذٰلِکَ ای الامرذٰلک (معاملہ یہی ہے۔ ) اس کے بعد والا جملہ مستانفہ ہے۔ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَاعُوْقِبَ بِہٖ (جو شخص دشمن کو اسی قدر تکلیف پہنچائے جتنی اس کو دی گئی) ابتدائے جزاء کو عقوبت سے تعبیر کیا کیونکہ وہ عقوبت سے سبب کی نسبت سے ملی ہوئی ہے اور یہ اس کے نتیجے میں ہوا۔ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنْصُرَ نَّہُ اللّٰہُ (پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور مدد دے گا) جس نے اتنی سزا دی جتنی زیادتی اس سے ہوئی۔ پھر اس کے بعد اس پر ظلم کیا گیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ حق بن گیا کہ اس کی مدد کرے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ(بےشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں) وہ گناہوں کے آثار کو بھی مٹا دیتے ہیں۔ غَفُوْرٌ (بخشنے والے ہیں) کہ متنوع اقسام کے گناہ و عیوب چھپاتے ہیں۔
آیت کے سیاق کے مطابق دو آیات میں تقریب اس طرح ہوسکتی ہے کہ معاقب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو پر مقرر کیا گیا ہے اور اسی طرح عقوبت اس ارشاد کے ساتھ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ ] الشوریٰ : 40 [
وان تعفوا اقرب للتقوٰی ] البقرہ : 237[ پس ان باتوں نے اس میں کوئی اثر نہ کیا اور اس نے بدلہ لیا تو وہ افضلیت کا تارک ہوگا۔ وہ دوسری مرتبہ میں اپنی نصرت کا ضامن ہے۔ جبکہ اس نے عفو کو ترک کیا اور باغی سے انتقام لیا اور اس کے باوجود اس پر جو بہتر ہے اس کو یہ دونوں صفات ذکر کر کے تعریض کی جائے گی۔ نمبر 2۔ عفو و مغفرت کا تذکرہ دلالت کر رہا ہے کہ اس کو سزا پر قدرت ہے عفو کی صفت اسی کیلئے ثابت اور بیان کی جاسکتی ہے جو اس کے عکس پر قدرت رکھتا ہو۔ جیسا محاورہ ہے : العفو عند۔
Ayah 22:61نمونہ ہائے قدرت :
61: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِیْ النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی اللَّیْلِ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ (اور یہ اللہ تعالیٰ کی مدد اس لئے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور دیکھنے والے ہیں) یعنی یہ مظلوم کی مدد اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور اس کی آیات قدرت میں سے یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی اس میں اس کا اضافہ کردیتا ہے۔ اور اس کا اس میں اضافہ نمبر 2۔ اس وجہ سے کہ وہ دن رات کا خالق ہے اور ان میں تصرف وہی کرنے والا ہے۔ آسمان و زمین کے مابین بندوں کے ہاتھوں سے جو خیر و شر انجام پاتا ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں اسی طرح انصاف و سرکشی بھی۔ اور بیشک وہ سمیع (سننے والا) ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں اس کو کسی بات کا سننا دوسرے کی بات سے مشغول نہیں کرسکتا خواہ ان میں آوازیں اور فنون و اقسام السنہ بھی مختلف کیوں نہ ہو۔ بصیر (وہ دیکھنے والے ہیں) ان تمام افعال کو جو وہ کرتے ہیں۔ راتوں میں کی جانے والی کوئی چیز اس سے چھپ نہیں سکتی۔ خواہ یہ درپردہ اندھیر کیوں نہ ہو۔
Ayah 22:6262: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَایَدْعُوْنَ ( اور یہ نصرت اس سبب سے یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہیں اور جن چیزوں کی) مِنْ دُوْنِہٖ ھُوَالْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (اللہ تعالیٰ کے سوا یہ عبادت کرتے ہیں وہ بالکل باطل و بےحقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ ہی عالیشان اور سب سے بڑا ہے۔ )
قراءت : ابوبکر کے علاوہ عراقی قراء نے مایدعون پڑھا ہے۔ ذلک الوصف یہ وصف اس وجہ سے یقینی ہے کیونکہ اس نے رات دن کو پیدا کیا اور جو کچھ ان میں ہورہا ہے اس کا وہ احاطہ کرنے والا ہے اور ان کے مابین مخلوق کے افعال واقوال کا اسے ادارک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت ثابت و حقیقی ہے اور جن کو لوگ آلھہ کے نام سے ذکر کرتے ہیں وہ تمام باطل ہیں اور شان کے اعتبار سے کوئی چیز اس سے اعلیٰ نہیں اور غلبہ کے اعتبار سے اس سے کوئی بڑا نہیں۔
Ayah 22:6363: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پانی اوپر سے اتارتا ہے) یعنی بارش کی صورت میں فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً (جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے) نبتات کے ذریعہ اس کے بعد کہ وہ سیاہ خشک تھی۔
لطیفہ نحویہ : تصبح صیغہ مضارع ہے۔ ماضی نہیں لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ بارش کا اثر زمانہ درزمانہ باقی رہتا ہے جیسا کہتے ہیں۔ انعم علی فلان فاروحُ واغدوشاکرًا لہٗ میں صبح و شام اس کا شکر گزار رہونگا۔ اگر تم یوں کہتے فرحت، و غدوت، یہ مفہوم ہرگز پیدا نہ ہوتا۔ البتہ تصبح کا لفظ مرفوع لایا گیا۔ استفہام کے جواب میں منصوب آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر منصوب لاتے تو مقصد باطل ہوجاتا ہے۔
وہ اس طرح کہ اس کا مطلب اخضرار کو ثابت کرنا ہے۔ اگر نصب لاتے تو اخضرار کی نفی ہوجاتی ہے جیسا تم اپنے دوست کو کہو : الم ترانی انعمت علیک فتشکرُ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے تم پر احسان کیا پس شکریہ ادا کرتے رہو۔ اور اگر تم متشکر نصب سے پڑھو تو تم نے اس کے شکریے کی نفی کی اور شکریہ نہ کرنے کی کوتاہی پر تم اس کا شکوہ کر رہے ہو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے تم پر احسان کیا پس تم شکر یہ کیوں ادا نہیں کرتے ؟
اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ (بیشک اللہ تعالیٰ لطف والے ہیں) اس کا عمل یا فضل ہر چیز تک پہنچنے والا ہے۔ خَبِیْرٌ (مطلع ہیں) اپنی مخلوقات کے مصالح اور منافع سے۔ نمبر 2۔ اللطیفؔ کا معنی دقیق تدابیر کے ساتھ خاص ہیں۔ اور الخبیر ہر قلیل و کثیر کا احاطہ کرنے والے ہیں۔
Ayah 22:6464: لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے) ملکیت اور حاکمیت کے لحاظ سے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لھُوَ الْغَنِّی (اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات سے بےنیاز ہے) آسمانوں اور زمین کے مابین سب کچھ فناء ہوجانے کے بعد اپنی کمال قدرت کے ساتھ وہ بےنیاز ہے۔ الْحَمِیْدُ وہ (مستحق ستائش ہے) آسمانوں اور زمین میں جو موجود ہیں ان سے قبل وہ اپنے انعامات کے سبب ذاتی طور پر محمود ہے۔ خواہ کوئی حمد کرنے والا ہو یا نہ ہو۔
Ayah 22:65قدرت کے مزید نمونے :
65: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا دیا جو کچھ کہ زمین میں ہے) خشکی میں چو پائے تمہاری سواریوں کیلئے مطیع کردیے گئے۔ وَالْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بَاَمْرِہٖ (اور سمندر میں کشتیاں اور جہاز اسی کے حکم سے چلتے ہیں) یعنی بعض سواریاں سمندر میں چلنے والی ہیں۔
نحو : الفلک کو منصوب پڑھا گیا ہے۔ اس کا عطف ماؔ پر ہے اور تجری اس کا حال ہے تقدیر کلام یہ ہے سخرلکم الفلک فی حال جریھا اور اس نے کشتیوں کو چلنے کی حالت میں مطیع کردیا۔ وَیُمْسِکُ السَّمَآ ئَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ (اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے) یعنی اس کی حفاظت فرمانے والے ہیں اس سے کہ وہ زمین پر گرے۔ اِلَّا بِاِذْنِہٖ (مگر اس کے اذن سے) اس کے حکم سے یا اس کی مشیئت سے اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ (بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر مہربان ہیں) کہ زمین کی تمام اشیاء اس کے کام میں لگا دیں۔ رَّحِیْمٌ (مہربان ہیں) آسمان کو روکنے میں تاکہ وہ زمین پر نہ گرپڑے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انعامات کو نام بنام شمار کیا تاکہ انسان انکا شکریہ ادا کریں اور اللہ تعالیٰ کو مختلف صفات سے یاد کریں۔
قول امام اعظم ابوحنیفہ m :
اسم اعظم ان آٹھ آیات میں ہے جو ان کو پڑھے گا اس کی دعا یقینا قبول ہوگی۔
Ayah 22:6666: وَھُوَ الَّذِیْ اَحْیَاکُمْ (اور وہی تو ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی) تمہاری مائوں کے رحموں میں ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (پھر وہ تمہیں موت دے گا) جب تمہاری اجل مقررہ ختم ہوجائے گی۔ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (پھر وہ تمہیں زندہ کریں گے) تاکہ تمہارا بدلہ دے اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ (بیشک انسان البتہ ناشکرا ہے) اس لئے کہ بیشمار قسم کی نعمتوں کا جو اس پر کی گئی ہیں شدت سے انکار کرنے والا ہے۔ اور بیشمار اقسام کے عذاب اس سے ہٹا لئے وہ پھر مرغ کی ایک ٹانگ ہانک رہا ہے۔
نمبر 2۔ یہ نعمت پیدائش کو نہیں پہچان رہا جو کہ اس کا ابتدائی وجود ہے اور نہ یہ فناء کو جان رہا ہے جو کہ وعدہ مقررہ سے اس کو قریب کرنے والا ہے اور نہ یہ دوبارہ زندگی کو پہچان رہا جو مقصود تک پہنچانے والی ہے۔
Ayah 22:67ہر امت کی ایک شریعت :
67: لِکُلِّ اُمَّۃٍ (اور ہر امت کیلئے) اہل دین کیلئے جَعَلْنَا مَنْسَکًا (ہم نے عبادت کا ایک طریق مقرر فرمایا) اس کی وضاحت اسی سورت میں گزری ہے یہاں دوبارہ اس کو ان لوگوں کی تردید کرنے کیلئے لایا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ ذبح کرنا اللہ تعالیٰ نے شروع نہیں فرمایا حالانکہ یہ تو ہر امت کی شریعت میں ہے۔ ھُمْ نَاسِکُوْہُ (جس کو وہ اختیار کرنے والے تھے) عمل کرنے والے تھے۔ فَلاَ یُنَازِعُنَّکَ (پس ہرگز وہ تم سے مجاد لہ نہ کریں) مطلب یہ ہے۔ ان کی بات کی طرف مت دھیان دیں اور نہ ان کو موقعہ دیں کہ آپ سے مجادلہ کریں۔ فِی الْاَمْرِ (اس معاملے میں) ذبائح کا معاملہ مراد ہے یا دین کا معاملہ۔
شان نزول : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے مسلمانوں پر یہ کہہ کر طعنہ زنی کی کہ تم تو اپنا مارا کھاتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا مارا نہیں کھاتے ؟ یعنی مردار وَادْعُ (اور تم دعوت دو ) لوگوں کو اِلٰی رَبِّکَ (اپنے رب کی طرف) اپنے رب کی عبادت کی طرف اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ (بیشک آپ ہی ہدایت کے سیدھے راستہ پر ہیں) مضبوط راستے پر۔
نکتہ : یہاں لکل امۃ کے ساتھ وائو نہیں لائے جبکہ پہلے ولکل امۃ وائو لائی گئی ہے کیونکہ وہ ان آیات کے ساتھ آئی ہے جہاں احکام حج کا تذکرہ ہے اس لئے ان پر عطف مناسب ہے اور یہ آیت ایسے مقام پر واقع ہے جو عبادات کے احکام سے متعلق نہیں۔ اس لئے عطف کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے وائو نہ لائی گئی۔
Ayah 22:6868: وَاِنْ جَادَلُوْکَ (اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں) ضدو تعنت کی بناء پر آپ سے جھگڑا کریں۔ جیسا کہ حمقاء کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود کہ آپ ان سے کبھی تنازع کی صورت نہ پیدا فرماتے تو حکم دیا۔ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے) ان سے جھگڑا میں نہ پڑیں بلکہ یہ بات کہہ کر مدافعت کریں۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی بخوبی خبر ہے اور جو بدلہ اس پر تمہیں ملنے والا ہے اس سے بھی واقف ہیں پس وہ خود تمہیں بدلہ دیں گے یہ درحقیقت وعید اور انذار ہے لیکن نرم و رقیق انداز میں۔
مسئلہ : اس میں یہ ادب سکھایا کہ ضدی آدمی سے کس طرح نپٹنا چاہیے۔ سبحان من ادب نبیّہ باحسن الآداب۔
Ayahs 22:69–7069: اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ تمہارے مابین ان باتوں میں قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے جن میں تم اختلاف کرتے تھے) اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمنین اور کفار کو خطاب کیا کہ ثواب و عقاب کا فیصلہ حقیقی قیامت کے دن ہوگا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ان تکالیف پر تسلی دی گئی جو کفار کی طرف سے روز پیش آتی تھیں۔
70: اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو آسمان اور زمین میں ہے جانتے ہیں) یعنی کس طرح تمہارے اعمال اس سے مخفی رہ سکتے ہیں۔ علماء کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ آسمان و زمین میں جو چیز پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو پہلے ہی جانتے ہیں۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک وہ) جو ان دونوں میں موجود ہے۔ فِیْ کِتٰبٍ (لوح محفوظ میں) مندرج ہے۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ (بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) یعنی ان تمام کا جاننا اس پر گراں نہیں بلکہ آسان ہے۔
Ayah 22:7171: یہاں سے کفار کی اس جہالت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ان کی عبادت کرتے ہیں جو عبادت کے حقدار ہی نہیں ہیں۔ فرمایا : وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا (اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی معبودیت کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری)
قراءت : یُنْزِلْ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔ سلطاناؔ حجت وبرہان کو کہتے ہیں۔
وَّمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہٖ عِلْمٌ (اور نہ ان کے پاس ان کی عبادت کے متعلق علم ہے) (یعنی عقلی دلیل نہیں ہے) یعنی عبادت میں نہ تو کسی آسمانی وحی کی دلیل سے استدلال کرنے والے ہیں اور نہ وہ کسی عقلی دلیل کو پیش کرسکتے ہیں۔ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ (اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں) اور نہ ہی ایسے ظلم کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کا کوئی مددگار ہے جو ان کے مذہب کی تصویب و تو ثیق کرے۔
Ayah 22:72تلاوت پر کفار کا غصہ :
72: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی قرآن مجید تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاالْمُنْکَرَ (تو تم کفار کے چہروں پر انکار کو پہچانو گے) انکار جو ترش روئی اور کراہت سے پہچانا جاتا ہے۔ المنکرؔ مصدر میمی ہے انکار کرنا۔ یَکَادُوْنَ یَسْطُوْنَ (قریب ہے کہ وہ حملہ آور ہوجائیں) یسطونؔ پکڑ لیں۔ السطو : (کو دنا اور پکڑنا) ۔ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْھِمْ ٰایٰتِنَا (ان لوگوں پر جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتے ہیں) یتلون کی ضمیر سے مراد نبی اکرم ﷺ
اور آپ کے صحابہ ؓ ہیں۔
قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْ (کہہ دیں کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار بتلا دوں) تمہارے اس غصہ سے جو تمہیں تلاوت کرنے والوں پر آتا ہے۔ اور ان پر حملہ آور ہونے سے یا جو تمہیں کراہت پہنچی ہے اور ضجر و اکتاہٹ اس تلاوت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اَلنَّارُ (وہ آگ ہے) یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے گویا کہ کوئی اس طرح کہہ رہا ہے کہ وہ ناگوار ترین چیز کیا ہے ؟ تو جواب آیا آگ یعنی وہ آگ ہے۔ وَعَدَھَا اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ فرمایا ہے) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) یعنی آگ۔