77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 77:41

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

(اس کے برعکس) پرہیزگار لوگ (اس دن) ٹھنڈی چھاؤں اور طرح طرح کے عظیم الشان چشموں میں ہوں گے

31 ۔ پرہیزگاروں کے انعامات کا ذکر وبیان : سو منکرین و مکذبین کے انجام کو بیان کرنے کے بعد متقی اور پرہیزگاروں کے انعامات کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ متقی اور پرہیزگار لوگ گھنے سایوں اور عظیم الشان چشموں کے اندر ہوں گے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی معصیت اور نافرمانی سے بچے رہے ہوں گے۔ سو تقوی و پرہیزگاری باعث نجات و سرفرازی ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد والثبات علی الصراط مستقیم فانک انت مولا نا ونعم المولی ونعم النصیر و انک علی کل شیء قدیر وبالا جابۃ جدیر و اوپر مجرموں کا فیصلہ بیان فرمایا گیا تھا، اس کے مقابلے میں یہ ان خوش نصیبوں کا انجام بیان فرمایا جا رہا ہے، جنہوں نے تقوی اور پرہیزگاری کی زندگی گزاری ہوگی، اور ان کے ان انعامات کا ذکر وبیان فرمایا جا رہا ہے جن سے ان کو حضرت واہب مطلق کی طرف سے نوازا جائے گا سو اوپر مجرموں کے انجام کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ایک شعلہ بار آگ اور ایسے ہولناک دھوئیں کی طرف جانے کو کہا جائے گا جو ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا۔ اس کے مقابلے میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کے انعام و اکرام کے بین کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹھنڈے گہرے سایوں اور عمدہ عظیم الشان چشموں کے اندر ہوں گے۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین۔
Ayah 77:42

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور قسما قسم کے ان پھلوں میں جن کو وہ خود چاہیں گے

32 ۔ اہل جنت کے لئے من پسند میووں کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے وہاں پر ایسے میوے ہنگے جن کی وہ خواہش کریں گے۔ سو دنیا میں ان خوش نصیبوں نے چونکہ اپنی من چاہی زندگی ترک کر کے خدا چاہی زندگی گزاری تھی۔ اس لئے اس کے بدلے میں وہاں پر ان کو ان کے رب غفور و شکور کی طرف سے من چاہی زندگی کی اس عظیم الشان نعمت وسعادت سے نوازا گیا ہوگا، جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ فسبحان اللہ من الہ قادر قیوم سمیع بصیر شکور کریم جل و علا۔ سو اہل جنت کی وہاں پر ہر خواہش پوری کی جائے گی اور ان کو ان کی خواہش سے بھی بڑھ کر مزید انعامات سے نوازا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " لہم مایشاء ون فہا ولدینا مزید " (ق 35) نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو اے ایمان و استقامت والو ! وہاں پر ہر وہ چیز ملے گی جو تمہارے جی چاہیں گیا اور تمہارے لئے وہاں پر وہسب کچھ موجود ہوگا جو تم مانگو گے ایک عظیم الشان مہمانی کے طور پر رب غفور و رحیم کی طرف سے " حم السجدۃ 21-32) اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 77:43

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ اور پیؤ تم لوگ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے (اپنی زندگی میں)2

33 ۔ اہل جنت کے لئے ایک اور عظیم الشان انعام کا ذکر : سو اس سے حق تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کے لئے ایک اور عظیم الشان انعام و اکرام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جنت کو ان کے اعمال کا بدلہ قرار دیا جائے گا سو یہ اس اکرم الاکرمین رب نعمتوں کو جو اس نے محض اپنی رحمت و عنایت اور کرم و احسان سے ان کو بخشی ہوں گی، ان کو اس کی طرف سے اہل جنت کے اعمال کا صلہ اور بدل ہقرار دیا جائیگا تاکہ اس سے ان کا سرور دوبالا ہو، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ونودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون (الاعراف۔ 43) سو جنت تو انسان کو محض اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے ملے گی، نہ کہ اپنے عمل کے بدلے میں، جیسا کہ حضرت نبی، معصوم علیہ الصلوۃ السلام نے اس کی تصریح فرمائی ہے، لیکن اللہ پاک کی اس رحمت و عنایت کا سبب و ذریعہ ایمان و عمل کی وہ دلوت ہی ہوگی جس کی کمائی انسان نے اپنی اس دنیاوی زندگی میں کی ہوگی اور جب حق تعالیٰ کی طرف سے جنت اور اس کی نعیم مقیم کو اہل جنت کے اعمال کا بدلہ قرار دیا جائے گا تو اس وقت اس کی بناء پر جو خوشی اور مسرت ان کو نصیب ہوگی اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 77:44

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اسی طرح (صلہ و) بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

34 ۔ صفت احسان کی عظمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو جن کے کام بھی صحیح ہوں اور ان کی نیتیں اور ارادے بھی درست ہوں، اللہ ہم سب کو انہی میں سے بنائے آمین، اوپر آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا گیا تھا (ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں) سو اس کے مقابلے میں اب یہاں پر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور یہی عدل و انصاف کا تقاضہ ہے اور اسی لیے قیامت کے اس یوم عظیم کو بپا کیا جائے گا، تاہ عدل و انصاف کے یہ تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو صفت احسان ایک ایسی عظیم الشان صفت ہے جو انسان کے اجر وثواب کی محافظ اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی صفت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس حقیقت کو طرح طرح سے اور تاکیدی الفاظ کے ساتھ واضح فرمایا گیا ہے۔ بطور نمونہ و مثال اس بارے چند آیات کریمات ملاحظہ ہوں " ان اللہ لایضعیم اجر المحسنین " (توبہ :130) نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " واصبرفان اللہ لایضیع اجرالمحسین " (ہود :) نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " انہ من یعق و یصبرفان اللہ لاضیع اجرالمحسنین " اللہ ہمیشہ صفت احسان سے سرفراز و سرشار رکھے، آمین ثم آمین باللہ التوفیق۔
Ayah 77:45

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

35 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے ان سب تنبیہات و تذکیرات کے باوجود کوئی سبق نہیں لیا اور انہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہونے کی بجائے الٹا اہل ایمان کا مذاق اڑایا ان پر آواز کسے، ان کو دقیانوسی رجعت پسند وغیرہ جیسے طعنے دیئے، یہاں تک کہ انہوں نے تکذیب حق کے جرم کے ساتھ ہی دنیا سے کوچ کیا اور دائمی عذاب کا لقمہ بن گئے، جب کہ وہی اہل ایمان جن کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہ آج ان کی آنکھوں کے سامنے جنت کی ان عظیم الشان اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہو رہے ہوں گے، جس سے ان مکذبین کا عذاب اور بھی زیادہ اور دو چند ہوجائے گا مگر اب اس عذاب سے بچنے اور نکلنے کی کوئی صورت بہرحال ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم سو انکار اور تکذیب حق محرومیوں کی محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 77:46

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

(آج دنیا میں تم کچھ) کھا پی لو اور تھوڑے دن مزے اڑا لو (اے بدبخت منکرو ! کہ) تم بہرحال ہو پکے مجرم (اور عذاب کے مستحق)

36 ۔ منکرین و مکذبین کے مغالطے کا ازالہ : سو اپنے دنیاوی عیش کی بنا پر منکرین کو جو مغالطہ لگا ہوا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں اس کے ازالہ و تردید کے لئے فرمایا گیا کہ تم لوگ کھا پی لو اور تھوڑا عرصہ مزے کرلو تم بہرحال پکے مجرم ہو اور تم نے اپنے جرم کی سزا بہرحال بھگتنی ہے، سو جب کوئی شخص عدالت عالیہ سے مجرم قرار پاء جائے اور اس کو اس کے جرم کی آخری سزا دینے کی بات طے ہوجائے، تو پھر اس کا کھانا کیا کھانا اور اس کا پینا کیا پینا، جیسا کہ پھانسی پانے والے کسی شخص سے کہہ دیا جائے کہ کھا پلی لو، اب تو تمہیں پھانسی پر لٹکایا جانے والا ہے، تو ایسے میں وہ کیا خاک کھائے گا، سو یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اپنی آخرت اور اپنی حقیقی اور دائمی زندگی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی حیات دنیا کے لئے جی رہے ہیں اور وہ اس کی فانی لذتوں ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا کی یہ زندگی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، آخرت کی لامحدود زندگی کے مقابلے میں یہ ایک دو منٹ کے برابر بھی نہیں بنتی، بھلا کسی محدود اور معدود شئی کی کسی لامحدود لامعدود شئے کے مقابلے میں حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور وہاں ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف اس اشاد سے ان منکرین کر تردید فرما دی گئی جو اپنے دنیاوی مال و دولت وغیرہ کی بنا پر اس مغالطے میں مبتلا ہیں کہ ہم لوگ ٹھیک ہیں اور اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہماری کامیابی ہوگی۔ سو ان لوگوں کا ایسا سوچنا اور کہا ماننا سرا سر دھوکہ ہے والعیاذ باللہ
Ayah 77:47

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

37 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی اور ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی و ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے الوں کے لئے جو ایسے مغالطوں کی بناء پر نور حق و ہدایت سے محروم رہے اور جن ہو نے ترغیب و ترہیب کے کسی اسلوب سے بھی کوئی اثر نہ لیا اور وہ برابر تکذیب ہی کرتے رہے، اور دائمی عذاب کے مستحق بن گئے کہ ان کی شقاوت و بدبختی اور حرمان نصیبی کا کوئی ٹھکانا نہیں والعیاذ باللہ العظیم کہ تکذیب اور انکار حق بیماریو کی بیماری اور خرابیوں کی خرابی ہے، جس سے آگے طرح طرح کی برائیاں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں، سو جو لوگ ان کار اور تکذیب حق کی اس ام الامراض کے ساتھ اس دارالعمل سے عالم آخرت کو سدھا رہے اور وہاں پر ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ سو ان سے بھڑ کر محروم اور بدبخت اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم دنیاوی مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا یہ پہلو بڑا ہولناک اور نہایت ہی خطرناک ہوتا ہے کہ اس کی بنا پر منکرین و مکذبین اپنی روش اور اپنے کفر و انکار کو حق بجانب سمجھنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس حد تک محروم و بدبخت اور لاپروا اور ڈھیٹ بن جاتے ہیں کہ صاف کہنے لگتے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہمارے ہی مزے ہوں گے۔ " ولئن نوددت الی ربی لاجدن خیرا منہا منقلبا " (الکہف :36) حالانکہ دنیاوی مال و دولت انعام نہیں، آزمائش کا سامان ہوتا ہے کہ دنیا ہے ہی دارالامتحان، نہ کہ دارو الخبری کہ وہ تو آخرت ہی ہے۔
Ayah 77:48

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ جھک جاؤ (اپنے اللہ کے آگے) تو یہ نہیں جھکتے ہیں

38 ۔ خالق کے حضور جھکنے کی سعادت سے محرومی ہر خبر سے محرومی ہے : والعیاذ باللہ سو ان کی محرومی اور بدبختی کے ایک اور مظہر اور ان کی محرومی کے اصل سبب کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ جھک جاؤ اپنے خالق ومالک کے حضور، تو یہ نہیں جھکتے۔ اپنے کبر و غرور کی بناء پر، والعیاذ باللہ حالانکہ اس وحدہ لاشریک کے حضور جھکنا اور سجدہ ریز ہونا اس کا حق بھی ہے کہ ہم سب اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں، نیز اس کے حضور یہ رکوع و سجود بندے کے لئے عظیم الشان شرف و اعزازھی ہے اور دارین کی سعادت و سخروئی کا ذریعہ و وسیلہ بھی، سو بڑے محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے کے اس شرف سے محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو کبر و غرور اور اعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی اور ہولناک ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپن رضا و خوشنودی کی راہوں پ چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayahs 77:49–50

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

تو آخر کس کلام پر ایمان لائیں گے یہ لوگ اس (قرآن حکیم کے) کلام (معجز نظام) کے بعد ؟3

39 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خربای اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جو اپنے کبر و غرور کے باعث اپنے رب کے حضور نہیں جھکتے اور جو بار بار کی تنبیہات اور طرح طرح کی دعوت کے باوجود اپنے رب کے حضور جھکنے کے شرف اور اس سعادت سے محروم رہے جو کہ درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، العیاذ باللہ، جیسا کہ پہلے بھی گزارا اس آیت کریمہ کو اس سورة کریمہ میں دس بار دہرایا گیا ہے۔ قرطبی وغیرہ بعض ثفہ مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ محض تکرار نہیں، بلکہ اس میں ہر مرتبہ اس سے ایک نیا مفہوم مراد ہے اور یہی قرآن حکیم کی شان عالی کے لائق بھی ہے، گویا کہ ایک بات کر کے فرمایا گیا ہلاکت ہے ان کے لئے جو اس کو جھٹلاتے ہیں پھر دوسری بات ذکر کر کے فرمایا گیا کہ ہلاکت ہو ان کے لئے جو اس کو جھٹلاتے ہیں، اسی طرح یہ سلسلہ کلام آخر تک چلا جائے گا (قرطبی وغیرہ) مگر ان حضرات نے بالعموم اسی طرح کے اجمال ہی سے کام لیا ہے، ہر موقم پر اس کی اس طرح تشریح و تفصیل بیان نہیں کی، جس طرح کہ اس بندہ نایچز راقم الحرومف نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت سے بیان کی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ سو بندہ ناچیز نے ان دس مواقع میں سے ہر ایک میں اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس کی وضاحت کی ہے۔ فالحمد اللہ علی ھذا الفتح والعنایۃ فانہ لا تتم الصالحات الا بتوفیق منہ جل وعلا۔ ۔ ہوھو الھادی الی الحق والرشاد و ملھم الصدق والصواب، والیہ المرجمع و المآب۔ اللہ تعالیٰ ہمیش اور ہر حال میں اپنی خاص رحمتوں عنایتوں کے سائے میں رکھے آمین۔