Ayah 72:2629 ۔ عالم غیب صرف اللہ ہے سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے غیب کو جاننے والا۔ اس لئے اس کے سوا کسی اور کو عالم الغیب ماننا شرک و گا، اسی لئے قرآن پاک نے اس حقیقت کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا ہے اور اس کو ادوات حصر و تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے، مثلاً سورة انعام میں فرمایا گیا وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو (الانعام -59) سورة ہود میں فرمایا گیا وللہ غیب السموات ولارض والیہ یرجمع الامر کلہ الایہ (ھود ۔ 123) اور سورة کہف میں فرمایا گیا۔ لہ غیب السموات ولارض ابصربہ و اسمع الایۃ (الکہف :26) اور سورة نمل میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو آسمان اور زمین (کی اس پوری کائنات) میں کوئی غیب نہیں جانتا سوائے ایک اللہ کے قل لا یعلم من فی السموات ولارض الغیب الا اللہ (النمل 65) وغیرہ وغیرہ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ پیغمبر عالم الغیب ہوتے ہیں، اس سے بڑھ کر سینہ زوری اور تحریف اور کیا ہوگی ؟ والعیاذ باللہ العظیم، اس موضعو پر شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدر و دامت برکاتہم کی مشہور علمی اور تحقیقی کتاب ازالتہ الریب عن عقیدۃ علم الغیب بڑی جامع مفصل اور ایک فیصلہ کن کتاب ہے، اگر اللہ پا کی توفیق و عنایت سے مفصل تفسیر لکھنے کے اپنے ارادہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع ملا تو انشاء اللہ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی، ان مختصر حواشی میں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں، بہرکیف یہاں پر اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہی عالم غیب ہے، غیب کے سب علوم اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جب چاہے اور جتنا چاہے عطاء فرمائے، سبحانہ و تعالی۔ سو علم غیب خاصہ خداوندی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ
Ayah 72:2730 ۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا علم ان کے منصب رسالت کے مطابق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مطلع نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو مگر اپنے جس رسول کو چن لے غیب کی کسی خبر یا اخبا رکے لئے۔ سو اس کو غیب کے اتنے علم سے نوازتا ہے جس کی نبوت و رسالت کے منصب مقدس کے لئے اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے توسط سے ملنے والا دین سارے کا سارا غیب سے ہوتا ہے، جو وحی کے ذریعے حق تعالیٰ شانہ اپنے پیغمبر پر نازل فرماتا ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے حضور کو غیب کے جتنے علوم سے نوازا گیا وہ دیگر تمام انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کے علوم اور غیوب سے کہیں بڑھ کر ہے اور اتنا کہ جس کا احاطہ و ادراک بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لئے ممکن نہیں۔ کیونکہ ہمارے نبی نبیوں کے امام نبی ہیں۔ (علیہ السلام) ۔ مگر اس سب کے باوجود عالم الغیب بہرحال اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بس، کہ اصل، حقیقی، کامل اور ذاتی علم، اسی وحدہ لاشریک کا خاصہ اور امتیاز ہے اس کے سوا کسی اور ہستی کو عالم غیب ماننا جائز نہیں اسی لئے صحیح حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا من زعم انہ ای النبی ﷺ یعلم مافی غد فقد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول قل لایعلم من فی السموات ولارض الغیب الا اللہ (یعنی جس نے یہ دعویٰ کیا اور گمان رکھا کہ نبی ﷺ یہ جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے، تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اور افتراء کیا، کیونکہ اللہ یہ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین (کی اس پوری کائنات) میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے) (صحیح بخاری و مسلم، ترمذی، نسائی، مسند امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم غیرہ) سو جس طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ میں لا اور الا کے کلمات حصر کے ساتھ اللہ پاک کی الوہیت و وحدانیت کو بیان فرمایا گیا ہے، اسی طرح سورة نمل کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں لا اور الا کے انہی کلمات حصر کے ساتھ اللہ پاک کی صفت علم کے بارے میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے سوا غیب کا علم کسی کو بھی نہیں، جس طرح کہ اللہ پاک کے سوا الوہیت اور معبودیت اور کسی کے لئے ممکن نہیں اسی طرح عالم غیب بھی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ لا اور الا کے جو کلمات حصر کلمہ، طیبہ میں موجود ہیں، وہی سورة نمل کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ارشاد فرمائے گئے ہیں اور اہل بدعت کی ذاتی اور عطائی وغیرہ کی خانہ ساز منطق جس طرح کلمہ طیبہ میں نہیں چل سکتی، اسی طرح اس آیت کریمہ میں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ لا اور الا کا حصر دونوں جگہ بالکل ایک جیسا ہے، سبحانہ و تعالیٰ پس علم غیب خاصہ خداوندی ہے اور عالم غیب وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اس کی اس صفت میں اور کسی کو بھی شریک ماننا شرک ہوگا۔
31 ۔ وحی کی حفاظت و نگہبانی کے لئے حفاظت انتظام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پورے کے پورے پہنچا دیئے۔ یعنی تاکہ پیغمبر یہ جان کہ رب تعالیٰ نے اس کے لئے جو پیغام نازل فرمایا تھا، فرشتوں نے اسے بلاکم وکاست پورے کا پورا صحیح وسالم مجھ تک پہنچا دیا یا اس ضمیر کا مرجع حضرت حق جل مجدہ ہے، یعنی تاکہ جان لے اللہ تعالیٰ اپنے علم ظہور وقوع کے اعتبار سے کہ فرشتوں نے پیغمبر تک وہ پیغام پورا پورا اور محفوظ طور پر پہنچا دیا، یا یہ کہ پیغمبروں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو اس کی مخلوق تک پوری طرح اور صحیح طور پر پہنچا دیا، یہ سب ہی احتمال اس ارشاد ربانی میں موجود ہیں اور ہر صورت میں معنی صحیح اور درست ہے (ابن کثیر، مدارک، محاسن، جامع اور صفوہ وغیرہ) بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر غیب داں تو نہیں ہوتے، کہ سب غیبوں کو جاننا ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا، البتہ فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے جتن اور جس قدر علوم غیب کی ضرورت ہوتی ہے ان سے اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی ان کو نواز دیتا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے وہ خاص اہتمام فرماتا ہے، اور اس کے آگے اور پیچھے ایسے خاص محافظ اور پہرے دار مقرر فرماتا ہے جو اس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں، والحمد للہ جل و علا،
Ayah 72:2832 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس نے ہر چیز کو محفوظ کر رکھا ہے گن کر۔ پس مخلوق کی کوئی چیز نہ اس کے علم وقدرت سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ اس کی پکڑ اور گرفت سے اور وحی کا ہر ہر جز اس کے علم اور احاطہ میں ہے اس کے لئے کسی نسیان یا چوک وغیرہ کا بھی کوئی خدشہ و امکان نہیں، وماکان ربک نسیا سو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی تحویل میں اپنے دین اور اپنی وحی کی جو امانت دیتا ہے، اس کی پوری طرح نگرانی رکھتا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو گن رکھا ہے، مجال نہیں کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے شمار سے رہ جائے یا کسی حرف تک کی اس میں کوئی کمی بیشی ہوجائے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی البشیر النذیر النبی الامی الکریم الھادی الی الصراط المستقیم الذی بلغ الرسالہ وادلامانۃ ونصح الامۃ حتی اتاہ الیقین فجزاہ اللہ تعالیٰ عنا خیر ماجوزی بہ نبی عن امتہ نبینا محمد و علی الہ وصحبہ وسلم ومن اھتدی بھدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین