68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ایسے ہیں (جنہوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہو) سو ایسا ہے تو پھر یہ لے آئیں اپنے ان (خود ساختہ) شریکوں کو اگر یہ لوگ سچے ہیں

32 منکرین کو انکے مزاعم کے بارے میں ایک چیلنج : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے کوئی ایسے شریک ہیں جن کے بارے میں انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ ان کو خدا کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچالیں گے ؟ سو اگر ایسے ہے تو یہ لے آئیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ لوگ سچے ہیں۔ اپنے دعاوی باطلہ اور مزاحم کا سدہ میں ‘ کہ ہمارے شرکاء و شفغاء ہمیں خدا تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے چھڑا اور بچالیں گے ‘ سو فرمایا گیا کہ ذرا ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن اور کفیل بنتا ہے کہ ان کیلئے خدا نے نجات فلاح کا غیر مشروط اور ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے ‘ کہ یہ جو بھی کرتے جائیں ان کی کوئی پوچھ اور پرسش نہیں ہوگی ؟ اگر ان کے کچھ ایسے شرکاء ہیں جن کے بارے میں ان کا یہ زعم اور گھمنڈ ہے کہ وہ ان کے اوپر خدا کو ہاتھ نہیں ڈالنے دیں گے تو یہ ان کو پیش کریں ‘ اگر یہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں ‘ یعنی ان کو دکھائیں یا کم از کم ان کے نام ہی لیں ‘ تاکہ دوسروں کو بھی ان کی حماقت و جہالت بھی۔ الحمدللہ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبے سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

(اور یاد رکھنے کے لائق ہے وہ دن کہ) جس دن تجلی فرمائی جائے گی ساق کی اور بلایا جائے گا ان لوگوں کو سجدے کی طرف تو (اس روز) یہ لوگ سجدہ نہیں کرسکیں گے

33 کشف ساق کا ذکر اور اس کا معنی ومطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا اور جس دن تجلی فرمائی جاء گی ساق کی۔ بعض حضرات مفسیرن نے محاورہ کی زبان میں کشف ساق کو شدت اور سختی سے کنایہ قرار دیا ہے کہ وہ بڑا سخت اور ہولناک دن ہوگا ‘ اس لئے اس کو یاد کرکے اپنی اصلاح کی فکر کرو ‘ کما قال ابن عباس وغیرہ (رواہ ابن جریر ‘ محاسن التاویل وغیرہ) اور بعض نے اس کو کشٰ و ظہور حقائق غیبۃ سے کنایہ قرار دیا ہے (جامع البیان ‘ المراغی اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور بعض حضرات نے اس کو اپنے ظاہر پر رکھا ہے جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن رب تعالیٰ کشف ساق فرمائے گا (جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے) تو اس وقت ہر مومن مرد و عورت اس کے حضور سجدے میں گرجائے گا ‘ مگر کافر و منافق لوگ جو کہ دنیاوی زندگی میں سرے سے سجدہ نہیں کرتے تھے ‘ یا ریاکارانہ سجدہ کرتے تھے ‘ وہ اس سے محروم ہوجائیں گے (والعیاذ باللہ العظیم) ان کی پیٹھ تختے کی طرح سخت ہوجائے گی ‘ جس سے وہ کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کرسکیں گے ‘ سو سجدے کی یہ دعوت ان کی تخجیل و تقریع اور توبیخ و تذلیل کیلئے ہوگی ‘ کہ یہ لوگ جب دنیا میں اپنے رب کے حضور اپنے طوع و اختیار سے سجدہ ریز ہونے کے شرف سے محروم رہے تھے تو آج یعنی قیامت کے دن یہ اس شرف سے مشرف نہیں ہوسکیں گے ‘ ورنہ سجدے کی یہ دعوت تکلیف و تعبد کے طور پر نہ ہوگی کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا ‘ لہٰذا ابو مسلم اصفہانی کا یہ کہ نا کہ اس آیت میں مشرکین کیلئے دنیوی وعید ہے نہ کہ اخروی کہ قیامت کے دن کوئی تعبد و تکلیف نہیں ہوگی ‘ صحیح نہیں ‘ کیونکہ یہ دعوت تکلیف و تعبد کیلئے سرے سے ہوگی ہی نہیں ‘ بلکہ یہ ان کی توبیخ و تقریع اور تحقیر و تذلیل کیلئے ہوگی ‘ اس لئے اس بارہ اس تاویل و توجیہہ کی ضرورت ہی نہیں جس کو ابو مسلم نے اختیار کیا ہے (کبیر ‘ و محاسن التاویل وغیرہ) سو آج اس دنیاوی زندگی میں اپنے رب کے حضور اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے سجدہ ریز ہونا ایک عظیم الشان سعادت اور قرب خداوندی کا عظیم الشان ذریعہ ہے ‘ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدو ھو الہادی الی سواء السبیل۔ جل جلالہ۔ 34 منکرین و مکذبین کی تذلیل و تحقیر کے ایک منظر کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ان کو سجدے کیلئے بلایا جائے گا لیکن یہ لوگ سجدہ نہیں کرسکیں گے کہ ان کی پیٹھیں اکڑ کر تختے بن چکی ہوں گی ‘ اور یہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریزی کے شرف سے محروم ہوجائیں گے ‘ اور میدان حشر میں موجود سب خلائق کے سامنے ننگے اور ذلیل ہوجائیں گے ‘ والعیاذ باللہ اور یہ ان کیلئے صلہ و ثمر ہوگا ان کے اس کفر و انکار کا ‘ جس کو انہوں نے دنیا میں اپنا رکھا تھا ‘ اور جس کی بناء پر یہ دنیا میں بلائے اور پکارے جانے کے باوجود اپنے رب کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے تھے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح اس دن اس مقام پر منکرین و مکذبین کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور منظر سامنے آجائے گا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کی سعادت کتنی بڑی دولت اور کس قدر عظیم الشان سعادت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

(اور اس روز ان کا حال یہ ہوگا کہ) جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں اور چھا رہی ہوگی ان پر ذلت (و رسوائی) اور (یہ اس لئے کہ دنیا میں) ان کو سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (مگر یہ انکار کرتے تھے) جب کہ یہ صحیح وسالم ہوتے تھے

35 اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی سے محرومی سعادت دارین سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا اور سجدہ ریز ہونا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کیونکہ دنیا میں جو لوگ اس معبود برحق کے حضور سجدہ ریز نہیں رہے ہوں گے اس روز جو اس کے حضور سجدہ کر ہی نہیں سکیں گے ‘ جس کے نتیجے میں ان کی ذلت و رسوائی سب کے سامنے آشکارا ہوجائے گی اور وہ ذلت و رسوائی کی تصویر بنے کھڑے ہوں گے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نگاہیں اس روز جھکی ہوئی ہوں گی۔ اس شرم و عار کی بناء پر جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں اور اس موقع پر ان کو اپنے خالق ومالک اور مسجود حقیقی کے حضور سجدہ ریزی سے محرومی پر لائق ہوگی ‘ والعیاذ باللہ سو کیسی نحوست اور محرومی کی چیز ہے یہ کفر و شرک ‘ اور نفاق و ریاکاری ‘ اور کتنے محروم و بدبخت ہیں کفر و شرک اور نفاق و ریاکاری کے مارے ہوئے یہ لوگ ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ‘ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہ پر چلنا نصیب فرمائے ‘ آمین ثم آمین۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہونے میں بندے کی اصل اور حقیقی عزت ہے کہ یہی چیز اس کی شان عبدیت کے لائق اور اس کے رب کا اس پر حق ہے اور اسی میں اس کی حقیقی عزت و عظمت ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کہ دنیا میں اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے والی پیشانی اور کہیں بھی اور کسی کے آگے بھی نہیں جھکے گی اور آخرت میں یہ سب کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک کر سچی عزت اور ہمیشہ کی کامیابی سے سرفراز ہوگی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید علی سبیل الدوام والتایید۔ بہر کیف اس کے منکرین و مکذبین کی ذلت و رسوائی کو واضح فرما دیا گیا کہ اس روز ان پر چھا رہی ہوگی ذلت و رسوائی یعنی کفر و شکر اور نفاق و ریاکاری کی وہ ذلت و رسوائی اور روسیاہی و بدبختی جو دنیا میں ان کے بواطن میں پوشیدہ تھی ‘ کشف حقائق کے اس جہاں میں وہ ظاہر ہو کر ان کے چہروں پر چھا جائے گی ‘ والعیاذ باللہ اور اس وقت ابناء کفر و باطل پر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ جس کفر و باطل کو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اپنا رکھا تھا ‘ اور جس کو وہ بہت کچھ سمجھتے تھے وہ کوئی عزت کی چیز نہ تھی ‘ بلکہ وہ سراسر زلت و رسوائی کا سامان تھا اور عزت و عظمت صرف دولت ایمان و یقین میں تھی ‘ سو سجدے کا یہ حکم جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ‘ محض اتمام حجرت اور ان لوگوں کی تذلیل و تخجیل کیلئے دیا جائے گا ‘ تاکہ اس طرح ان کی سرکشی اور ان کی محرومی پر خود ان کا وجود ایسی گواہی ثبت کردے جس کا وہ انکار نہ کرسکیں ‘ والعیاذ باللہ۔ سو اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی کے شرف سے محرومی۔ والعیاذ باللہ باعث ذلت و رسائی ہے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ کیونکہ اس دنیا میں جو لوگ اللہ وحدہ کے حضور اور اس کی رضا کیلئے نہیں جھکتے وہ جگہ جگہ اور طرح طرح کی عاجز و بےبس مخلوق بلکہ فرضی اور وہمی چیزوں کے آگے جھکتے اور اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں اور پھر آخرت کے اس یوم حساب میں ایسے لوگوں کو اولین و آخرین کے اس عظیم الشان اور بےمثال اجتماع میں سب کے سامنے یہ ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی اور اس کے بعد یہ بدبخت ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر ہوجائیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 36 منکرین کی تذلیل اور ان کی محرومی کے سبب کا ذکر وبیان : سو منکرین کی اس تذلیل و تحقیر اور محرومی کے سبب کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ یہ صحیح وسالم تھے۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اپنے کفر وعناد اور غرور استکبار کی بناء پر ‘ اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوا کرتے تھے ‘ سو آج ان کو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے کی یہ سعادت نصیب نہیں ہوسکے گی ‘ ان کی پیٹھیں تختے بن کر اکڑ چکی ہوں گی ‘ تاکہ یہ سب مخلوق کے سامنے کھڑے کے کھڑے عبرت کا نمونہ بن جائیں ‘ سو اس دنیا میں اپنے رب کے حضور اپنے شوق و ایمان کی بناء پر سجدہ ریز ہونا ایک عظیم الشان سعادت اور ذریعہ قرب خداوندی ہے ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا واسجدو اقترب (العلق۔ 19) یعنی سجدہ کرتے جاؤ اور اپنے رب کے حضور قرب حاصل کرتے جاؤ ‘ سو اس سے قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں علی الاعلان اور سب کے سامنے عملی طور پر یہ واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں کون لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہونے والے تھے اور کون اس سے محروم و منحرف تھے۔ اور اس طرح کھرا کھوٹا سب نکھر کر سب کے سامنے آجائے گا۔ سو وہ سعادت مند جو جو دنیا میں رب کیع بادت سے سرشار تھے وہ وہاں سجدے میں گرجائیں گے اور جو دنیا میں اس سے محروم تھے وہ وہاں بھی محروم ہوں گے۔ اور ایسے کہ ان کی محرومی اور بدبختی سب کے سامنے آشکارا ہوجائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

پس چھوڑ دو تم مجھے اور ان لوگوں کو جو جھٹلاتے ہیں اس کلام (برحق) کو ہم ان کو آہستہ آہستہ (اور کشاں کشاں) لئے جا رہے ہیں (ان کی ہلاکت اور آخری انجام کی طرف) اس طرح کہ ان کو خبر بھی نہیں

37 منکرین کیلئے تہدید و وعید اور پیغمبر (علیہ السلام) کیلئے تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ چھوڑ دو ان لوگوں کو اور میرے حوالے کردو ان کا معاملہ میرے حوالے کردو اور ان لوگوں کو جو جھٹلاتے ہیں اس کلام حق ترجمان کو۔ اور ان کی فکر مت کرو ‘ ان سب سے میں خود ٹھیک ٹھیک اور نہایت مناسب طریقے سے اور صحیح وقت پر پوری طرح نبٹ لوں گا ‘ اور میں ہی جانتا ہوں کہ کس کا جرم کتنا ہے اور کون کتنی اور کس طرح کی سزا کا مستحق ہے ‘ اور کس کو کتنی ڈھیل دی جائے ‘ وغیرہ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو ان منکرین و مکذبین کیلئے سخت دھمکی ہے اور دوسری طرف اس میں پیغمبر ﷺ کیلئے بہت تسلی بھی ہے کہ ان مکذبین قرآن کا معاملہ اب مجھ پر چھوڑ دو ‘ کہ آپ ﷺ پر اے پیغمبر تبلیغ حق کی جو ذمہ داری تھی وہ آپ ﷺ نے پوری کردی ‘ اور آپ ﷺ کا ذمہ اب فارغ ہوگیا ‘ اب آپ ﷺ بیچ سے ہٹ جائیں اور مجھے تنہا ان سے نمٹ لینے دیں ‘ میں ان کو آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ وہاں سے ہلاکت کے کھڈے میں لے جاؤں گا جہاں ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 38 منکرین استدراج خداوندی کی زد میں۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ استدراج کی زد میں ہیں۔ یعنی یہ کہ اپنے حلم بےپایاں اور رحمت بیکراں کی بناء پر ہم ان کو ان کے کفر و سرکشی کے باوجود جو مہلت پر مہلت دیئے جارہے ہیں ‘ ان کو مال و دولت سے جو نؤازے جا رہے ہیں ‘ اس سے یہ لوگ اپنی اس غلط فہمی میں اور پکے اور پختہ ہوتے جا رہے ہیں ‘ کہ ہم لوگ ٹھیک ہیں ‘ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ‘ اور وہ نہیں سمجھ رہے کہ یہ سب کچھ استدراج ہے اور آخری اور بڑے عذاب کا پیش خیمہ ‘ والعیاذ باللہ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین ٭ نسارع لھم فی الخیرات بل لا یشعرون٭ (المومنون 55 ۔ 56) نیز دوسری جگہ فرمایا گیا انما نملی لھم لیزدادوا اثما ولھم عذاب مھین (آل عمران۔ 178) سو کفر و انکار اور معاصی وذنوب کے باوجود اللہ پاک کی نعمتوں کا ملتے رہنا ‘ اور بڑھتے جانا ‘ انعام نہیں امہال و استدراج ہے ‘ جس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی بھیانک ہے ‘ والعیاذ باللہ ‘ اسی لئے کہا جاتا ہے کم من مستدرج بالاحسان الیہ و کم من مفتون بالثناء علیہ و کم من مغرور بالستر علیہ یعنی کتنے ہی ایسے ہیں جن کا احسان کے ذریعے استدراج ہو رہا ہوتا ہے اور کتنے ہی ایسے ہیں جو تعریف و توصیف کی بناء پر فتنے میں مبتلا ہوتے ہیں ‘ اور کتنے ہی ایسے ہیں جو پردہ پوشی کے باعث دھوکے میں پڑے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو مال و دولت وغیرہ کی جس کثرت وبہتات کو یہ لوگ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اور جس پر یہ پھولے نہیں سماتے اور جس کی بنا پر یہ لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتے وہ ان کی کامیابی نہیں بلکہ موت کا پھندا اور عذاب مہین کا جال ہے جس میں یہ بدبخت اپنے اعراض و استکبار اور کفر و انکار کی بنا پر مزید از مزید پھنستے اور الجھتے جا رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دیئے جا رہا ہوں بلاشبہ میری چال بڑی ہی سخت ہے1

39 اللہ کی چال بڑی ہی مضبوط ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ میری چال بڑی ہی مضبوط ہے۔ اتنی مضبوط اور ایسی سخت کہ کسی کے بس میں نہیں کہ اس کا مقابلہ کرسکے ‘ اور مقابلہ کرنا تو درکنار کسی کے بس میں یہ تک بھی نہیں کہ وہ اس کا احاطہ و ادراک ہی کرسکے ‘ اور اس کو تو اس کا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے ‘ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ جل و علائ ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں اس استدراج کے دوران میں ان کو ڈھیل دیئے جا رہا ہوں ‘ کہ یہ اپنی جولانیاں دکھا لیں ‘ اپنا زور صرف کرلیں ‘ اور اپنے ارمان نکالیں ‘ اور ان کی رسی دراز کرنے میں مجھے اس طرح کا کوئی اندیشہ نہیں کہ یہ میرے قابو سے باہر نکل جائیں گے ‘ نہ یہ لوگ میرے احاطہ قدرت سے نکل سکتے ہیں اور نہ میرے دائرہ گرفت و پکڑ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ " فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون " (الاعراف :99) ۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔
Ayahs 68:46–47

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

تو کیا آپ ان سے کوئی اجر مانگ رہے ہیں کہ یہ لوگ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے چلے جا رہے ہیں ؟2

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ خود لکھ لیتے ہیں ؟

41 منکرین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب : سو منکرین و مکذبین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہوں ؟ اور اس کی بناء پر یہ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی پیش کردہ فرمودہ وحی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے ‘ اور آپ ﷺ سے اور اس قرآن حکیم سے یہ اعراض اور لاپرواہی برتتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ اس کا بھی کوئی امکان نہیں تو کوئی بھی ایسی وجہ موجود نہیں جو ان کے اس کفر و انکار اور اعراض و استکبار کیلئے وجہ جواز بن سکے ‘ بجز ان کی غفلت و لاپرواہی اور عناد و ہٹ دھرمی کے والعیاذ باللہ العظیم۔ اس میں ابھی ان کے اعراض و روگردانی پر اظہار تعجب الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ جل و علائ ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں اس استدراج کے دوران میں ان کو ڈھیل دیئے جا رہا ہوں ‘ کہ یہ اپنی جولانیاں دکھا لیں اپنا زرو صرف کرلیں ‘ اور اپنے ارمان نکال لیں ‘ اور ان کی رسی دراز کرنے میں مجھے اس طرح کا کوئی اندیشح نہیں کہ یہ میرے قابو سے باہر نکل جائیں گے ‘ نہ یہ لوگ میرے احاطہ قدرت سے نکل سکتے ہیں اور نہ میرے دائرہ گرفت و پکڑ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ فلایامن مکر اللہ الا القوم الخاسرن (الاعراف :99) ۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

پس آپ صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم (و فیصلہ) تک اور نہیں ہوجانا مچھلی والے کی طرح (جس کا وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) کہ جب اس نے پکارا (اپنے رب کو) اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا

42 پیغمبر کو صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیں اپنے رب کے حکم و فیصلہ تک کہ نہ ان کی نصح و خیر خواہی اور وعظ و تبلیغ سے ہاتھ کھینچیں ‘ اور نہ ان کیلئے کوئی بددعا کریں ‘ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ آپ نے باوجود اپنی عظیم الشان رحمۃ اللعالمینی کے بعض قبائل پر ان کی مسلسل شرانگیزی کی وجہ سے بددعا کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا ‘ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو اس سے منع فرما دیا گیا (جامع البیان ‘ المراغی وغیرہ) بہرکیف اس میں آپ ﷺ کو یہ تعلیم ارشاد فرمائی گئی کہ آپ ﷺ کفار و مشرکین کی ایذا رسانیوں اور ان کی تکذیب و انکار ‘ اور اعراض و استکبار پر صبر و برداشت ہی سے کام لیتے رہیں اور اپنے رب کے حکم و ارشاد کا انتظار کریں۔ سو راہ حق و صواب پر صبر و ثبات اور تحمل و برداشت وسیلہ ظفر و فلاح ہے۔ اللھم ثبتنا علی الصراط المستقیم و وفقنا لما تحب و ترضیٰ من القول والعمل یہاں پر چونکہ صبر کے بعد ل کا صلہ آگیا ہے ‘ اس لئے اس میں انتظار کا مفہوم پیدا ہوگیا ‘ سو اس ارشاد میں صبر و ثبات کی تلقین کے ساتھ ساتھ پیغمبر کیلئے تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدیم رہیں اور اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کریں۔ سو راہ حق پر صبر و ثبات ذریعہ نجات اور وسیلہ ظفر ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدو ہوالہادی الی سواء السبیل۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے آمین۔ 43 بےصبری اور جلدی بازی سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور مچھلی والے کی طرح نہیں ہوجانا جب اس نے (اپنے رب کو) پکارا اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔ یعنی حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) کی طرح ‘ جو اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے ‘ جس کے نتیجے میں آنجناب کو مچھلی کے پیٹ میں جانا پڑا تھا جو کہ آپ (علیہ السلام) کیلئے ایک طرح کا قید خانہ تھا ‘ یہاں پر آنجناب (علیہ السلام) کیلئے صاحب الحوت فرمایا گیا ہے اور دوسری جگہ ذوالنون اس کی معنی ببھی یہی ہیں یعنی مچھلی والا ‘ سو اس لقب سے ان کو ملقب کرنے اور اس سے یاد کرنے میں ایک قسم کا پیار بھی ہے ‘ اور اس آزمائش کی طرف اشارہ بھی جس میں آنجناب (علیہ السلام) کو مبتلا ہونا پڑا تھا ‘ کہ آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کی تکذیب و توہین اور بےقدری و ناشکری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے ‘ اس پر ان کو عتاب ہوا ‘ جس کے نتیجے میں ان کو مچھلی والا امتحان پیش آیا ‘ جس کو دوسرے مختلف مقامات پر تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ‘ سو اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت خاتم الانبیاء کو صبر و ثبات کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ کہیں آپ (علیہ السلام) مچھلی والے کی طرح نہیں ہوجانا ‘ جنہوں نے بےصبری اور جلد بازی سے کام لیا جس سے ان کو اولوالعزم رسولوں کی فہرست سے نکال دیا گیا (تفسیر مظہری) اس لئے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر سے کام لینے اور جلد بازی سے باز رہنے کی تعلیم و تقلین فرمائی گئی۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد ہوتا ہے اور صاف وصریح طور پر ارشاد ہوتا ہے فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل ولا تستعجل لہم الایۃ (الاحقاف :35) یعنی آپ اسی طرح صبر سے کام لو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر سے کام لیا اور ان (منکرین) کے بارے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا۔ سو اس سے راہ حق پر استقامت کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ بہرکیف اس سے حضرت یونس (علیہ السلام) کے رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب اس نے پکارا اپنے رب کو اس حال میں کہ وہ غم سے گھٹا ہوا تھا۔ اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے (المراغی) نیز دوسرا معنی مکظوم کا محبوس بھی ہوسکتا ہے کہ کظم بمعنی حبس بھی آتا ہے ‘ یعنی جب کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں محبوس تھا ‘ (الطبری) سو اس میں اجمالاً اس رویے کی طرف اشارہ ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) نے امتحان کے بعد اختیار فرمایا تھا ‘ کہ آپ (علیہ السلام) فوراً اپنی غلطی پر متنبہ ہوگئے اور نہایت شدید قسم کی گھٹن میں مچھلی کے پیٹ کے اندر سے اپنے رب کو پکارا اور اس کے حضور فریاد کی ‘ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ولا تکن و کصاحب الحوت کے الفاظ سے کسی کو حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے ‘ بلکہ اس کی طرف اشارہ فرما دیا گیا تاکہ ان کی شان عبدیت و اوابیت کا یہ پہلو واضح ہوجائے کہ شدت تاثر کی بناء پر اگرچہ ان سے ایک غلطی سرزد ہوگئی ‘ لیکن انہوں نے فوراً ہی اس کی اصلاح فرما لی ‘ اور اللہ نے آپ (علیہ السلام) کو پھر برگزیدگی سے نواز دیا ‘ جیسا کہ آگے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اس واہب مطلق کی تو شان ہی نوازنا ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو حضرت یونس نے اپنی شان انابت و اوانھت کی بنا پر فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کیا صدق دل سے اسی کے آگے اپنی فریاد پیش کی ‘ اور وہ عظیم الشان اور زندئہ جاوید کلمات کہے جو قیام قیامت تک دنیا کی رہنمائی کرتے رہیں گے ‘ جس کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے فنا دی فی الظلمت ان لا الٰہ انت سبحانک انی کنت من الظالمین (الانبیائ : 87) یعنی انہوں نے تہ در تہ اندھیروں میں پکار کر اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے تیرے اے میرے مالک تو پاک ہے یقینا میں ظالموں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ‘ آمین۔
Ayahs 68:49–50

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

(اور) اگر دستگیری نہ کی ہوتی اس کی اس کے رب کی (عنایت و) مہربانی نے تو یقینا اس کو پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں بڑی بدحالی کے ساتھ

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

مگر اس کو چن لیا اس کے رب نے (مزید عنایات کے ساتھ) اور شامل فرما دیا اس کو (اپنے قرب خاص کے) سزاواروں میں

44 توبہ کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) پر نئی عنایات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر انکے رب کا فضل نہ ہوتا تو ان کو نہایت بدحالی میں کھلے میدان میں ڈال دیا جاتا لیکن ان کو چن لیا ان کے رب نے اور ان کو شامل فرما دیا زمرئہ صالحین میں۔ اول ان کو توبہ کی توفیق دے کر ‘ اور پھر ان سے اس توبہ کو قبول فرما کر ‘ سو نعمت سے یہاں پر مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل و کریم ہے جو ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضہ رسالت کی ادائیگی پر ماموریت کی شکل میں آنجناب کو حاصل ہوا ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا ‘ وہ اسی پر نہایت مذموم حالت میں پڑے رہ جاتے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان کو اپنی رحمت سے نواز دیا ‘ اور اس نے ان کو اپنے مشن کی تکمیل کیلئے ازسرنو برگزیدہ کیا اور ان کو زمرہ صالحین میں شامل فرما دیا یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں یعنی صالحین کے گروہ میں شامل ہوگئے۔ سو صبر و استقامت اور رجوع وانابت الی اللہ ذریعہ فوز و فلاح اور وسیلہ نجات و اصلا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے ‘ آمین۔ بہرکیف اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ توبہ وانابت ذریعہ نجات و فلاح ہے ‘ چناچہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو ان کی سچی توبہ اور انابت کے نٹیجے میں ان کے رب نے پھر چن لیا اپنی خاص عنایتوں سے نؤازنے کیلئے اور ان کو شامل فرما دیا صالحین میں۔ یعنی بامرادوں اور قرب خاص کے سزاواروں میں شامل فرما دیا اور ایسے قرب سے نواز دیا جیسا قرب کہ حضرات انبیاء کرام کی شان عالی کے لائق ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس وحدہ لاشریک کی تو شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ سو حضرت یونس (علیہ السلام) کو جیسا کہ علامہ قاشانی نے فرمایا ان کی سلامتیٔ فطرت بقائِ نور استعداد ‘ ہیئت غضبیہ کی عدم رسوخ ‘ صدق توبہ اور انابت و رجوع الی اللہ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت و عنایت کیلئے چن لیا (محاسن التاویل وغیرہ) سو توبہ وانابت اور رجوع الی اللہ ذریعہ نجات و سرفرازی اور وسیلہ فوذ و فلاح ہے اور اس سے محرومی۔ والعیاذ باللہ۔ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر لوگ جب اس ذکر (قرآن) کو سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسا کہ اکھاڑ دیں گے یہ لوگ آپ کے قدم اپنی (ٹیڑھی ترچھی) نگاہوں سے اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو پکا دیوانہ ہے

45 منکرین کے ‘ پیغام حق سے نفرت اور بغض وعناد کی تصویر کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے منکرین کے پیغام حق و ہدایت سے نفرت اور ان کے بغض وعناد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کو اس طرح کی ٹیڑھی ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کے شدت بغض وعناد کی وجہ سے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو آپ کی طرف اس طرح گھورتے اور ایسی تیزی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ‘ جس سے یوں لگتا ہے کہ یہ اپنی ان تیز نگاہوں کے زور سے آپ ﷺ کو دھکیل کر آپ کے مقام سے پھسلا دیں گے ‘ سو اس آیت کریمہ کا تعلق بھی صبر و ثبات کے اسی مضمون سے ہے ‘ جو اوپر فاصبر لحکم ربک میں بیان ہوا ہے ‘ یعنی حالات اگرچہ نہایت سخت ہیں اور ان لوگوں کے بغض وعناد کا حال ایسا اور ایسا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ پھر بھی صبر و ثبات اور عزم و استقامت ہی سے کام لیں ‘ اور اپنے موقف پر ڈٹے اور پکے رہیں ‘ کہ آپ تو بہرحال حق پر ہیں۔ سو اس سے دشمنان حق کی اسلام اور حآملین اسلام سے دشمنی اور ان کے بغض وعناد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ گویا کہ یہ لوگ اکھاڑ دیں گے آپ کے قدم ‘ اپنی ٹیڑھی ترچھی نغا ہوں سے جیسا کہ اردو محاورے میں بھی استعمال ہوتا ہے کہ فلاں شخص ایسے دیکھتا ہے جیسا کہ کھاجائے گا ‘ علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں نظر لگنے اور اس کی تاثیر کی صریح دلیل موجود ہے ‘ جیسا کہ یہ بات بہت سی صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے ‘ پھر آپ نے ایسی تمام روایات کو تفصیل کے ساتھ اپنی تفسیر میں ذکر فرما دیا ‘ تفصیل کے طالب وہاں دیکھ سکتے ہیں ‘ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ جس کو نظر لگ جائے تو اس کو یہ آیت کریمہ پڑھ کر دم کیا جائے تو اس کا اثر جاتا رہے گا (خازن ‘ مظہری ‘ معارف وغیرہ) بہرکیف اس سے منکرین کی حادسانہ تیز نگاہی کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ‘ آمین۔ 46 منکرین کا پیغمبر پر جنون کا الزام۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص پکا دیوانہ ہے۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جنہوں نے دنیا کے سامنے اس کتاب حق و ہدایت اور نور مبین کو پیش فرمایا۔ ﷺ مگر ان بدبختوں کا آپ ﷺ کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ شخص پکا دیوانہ ہے کہ یہ ایسی باتیں کہتا ہے جو ہماری عقل میں آنے والی نہیں ہیں ‘ مثلاً یہ کہ جب ہم مرمٹ کر ہڈیوں کا چورا بن کر رہ جائیں گے ‘ تو ہمیں ازسرنو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ‘ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ وغیرہ ‘ سو یہ قرآن حکیم جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سب سے بڑٔ نعمت ہے ‘ وہ منحوس لوگ اسی کی بناء پر آپ کو پکار کر مجنوں کہتے تھے ‘ والعیاذ باللہ۔ چناچہ دوسرے مقام پر ان کی اس یا وہ گوئی اور بیہودہ کلامی کو اسطرح نقل فرمایا گیا ہے : " وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون " (الحجر۔ 6) والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہیں سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب اللہ کے نبی ‘ اور نبیوں کے امام نبی بھی لوگوں کے طعن وتشنیع اور ایسی دل آزار و دکھ دہ باتوں سے نہیں بچ سکے تو پھر اور کون بچ سکتا ہے ‘ پس اس بات کی کبھی فکر و کوشش نہیں ہونی چاہئے کہ مجھے سب اچھا کہیں کہ ایسا نہ کبھی ہوا ہے ‘ نہ ہوسکتا ہے ‘ بلکہ فکر و کوشش ہمیشہ اس بات کی ہونی چاہئے کہ میرا راستہ صحیح ہو اور میرا تعلق اپنے خالق ومالک سے درست ہو ‘ اور اس کی خاطر رحمت و عنایت مجھ پر سایہ فگن رہے اس کے بعد مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ‘ ولی مایحب ویرید وھو الباری الی سواء السبیل۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ (قرآن) تو محض ایک عظیم الشان نصیحت ہے سب جہان والوں کے لئے1

47 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو پیغمبر کو مجنون اور دیوانہ کہتے ہیں حالانکہ یہ قرآن ایک عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے سب جہانوں کیلئے۔ اور ایسی عظیم الشان نصیحت کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ‘ پس اس کے پیش کرنے والے کو مجنون اور دیوانہ کہنا خود پرلے درجے کا جنون اور نری حماقات و دیوانگی ہے ‘ اور اس کتاب حکیم اور ذکر عظیم سے منہ موڑنا ہر خیر سے محرومی اور ابدی و دائمی خسارہ ہے ‘ کیونکہ یہ کتاب حکیم ایسی عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے اس کے مقصد حیات اور اس کے مال و انجما سے اور اس کو اس راہ حق و صواب سے آگہی بخشنے والی ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔ سو اس سے اعراض و روگردآنی دارین کی ہلاکت اور محرومی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ‘ آمین۔